Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

خاطرؔ غزنوی کا ’ایک کمرہ‘: ادبیات سرحد کا ایک انمول تذکرہ – خالد محمودسامٹیہ

by adbimiras مئی 31, 2021
by adbimiras مئی 31, 2021 0 comment

صوبہ خیبرپختونخوا میں جن ادبی شخصیات نے اردوادب کو پروان چڑھایا ان میں ایک اہم نام خاطرؔ غزنوی کا ہے۔ خاطرؔ غزنوی (1925ء تا 2008ء)نے عملی زندگی کا آغاز ریڈیو اسٹیشن پر معمولی کلرک کی حیثیت سے کیا لیکن قیام پاکستان کے بعد انہوں نے سب سے پہلے اپنی تعلیم مکمل کی اور اس کے بعد ترقی کرتے کرتے پشاور یونیورسٹی میں صدر شعبہ اُردو مقرر ہوئے۔ 1984ء میں اکادمی ادبیات اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل بنے۔ اصل نام مرزا ابراہیم بیگ تھا۔ پشاور یونیورسٹی ہی سے اُردو میں پی ایچ ڈی کیا۔ آپ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے آپ کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ آپ اپنے ادبی سفر کے دوران دو ادبی جرائد ’’سنگ میل‘‘ اور ’’احساس‘‘ سے منسلک رہے۔

خاطرؔ غزنوی جدید اُردو اور ہندکو شاعری اور اُردو نثر میں ایک منفرد حیثیت کے حامل تخلیق کار تھے۔ ان کی شاعری میں انسان بولتا ہے۔ وقت اپنی راگنی سناتا ہے‘ ماحول اپنے نغمے الاپتا ہے۔ آپ کی شعری تصانیف میں ’’روپ رنگ‘ خواب در خواب‘ شام کی چھتری‘ کونجاں‘‘ جبکہ نثری تصانیف میں اُردو زبان کا ماخذ ہندکو‘ زندگی کے لیے پھول‘ پھول اور پتھر‘ چٹانیں اور رومان‘ رزم نامہ‘ سرحد کے رومان‘ دستارنامہ‘ پٹھان اور جذبات لطیف‘ خوشحال نامہ‘ چین نامہ‘ اصناف ادب‘ ایک کمرہ اور جدید اُردو ادب شامل ہیں۔

خاطرؔ غزنوی کثیر الجہت شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے کئی ادبی حوالے ہیں۔ انہوں نے جس صنف ادب کو اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا‘ اس کا دامن اپنے تخلیقی جوہر سے وسیع کر دیا۔ خاکہ نگاری میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کیا اور کئی شاہکار خاکے اُردو ادب کو دیئے۔ سیّد ضیاء جعفری‘ قتیل شفائی‘ فارغ بخاری‘ رضا ہمدانی‘ غنی خان‘ مرتضیٰ جعفری پر لکھے خاکے یادگار ہیں۔ خاطرؔ غزنوی کا مطالعہ و مشاہدہ بڑا گہرااور وسیع اور مردم شناسی کا جوہر بڑا پختہ تھا۔ انہوں نے جن شخصیات کے ساتھ وقت گزارا‘ ان کے ایک ایک عمل اورقول و فعل کو اپنے گہرے مشاہدے میں رکھا اور پھر جب ان کا خاکہ لکھا تو اس میں رنگ بھر دیئے اور اسے زندئہ جاوید بنا دیا۔ ان کے خاکوں میں یاد نگاری کا عنصر غالب ہے۔ خاکہ نگاری میں اُن کی خاص جہت یہ ہے کہ کسی ادبی شخصیت کا تذکرہ کرتے وقت اس وقت کے تمام ادبی منظرنامے کو پیش کرتے ہیں۔ ( خالد محمود سامٹیہ کی تنقیدنگاری – ڈاکٹرفرید حسینی )

بعض شخصیات کے ظاہری خال و خد کو اس طرح واضح کرتے ہیں کہ صورت اور سیرت دونوں سامنے آ جاتے ہیں جیسے قتیل شفائی کے تعارفی خاکے ’’یہی اک شہر میں قاتل رہا ہے‘‘ میں ان کے متعلق لکھتے ہیں:

’’اس کی آواز میں گھنگرئوں کی موسیقی اور گلے میں ساغروں کی کھنک تھی۔ اس کا چہرہ مکھن کی طرح سفید اور چمکتا تھا اور اس کے گھنگھریالے بال اس کے ذہن میں خیالات کے الائو کا بل کھاتا ہوا دھواں لیے ہوئے تھے۔ اس قاتل اور بسمل کرنے والے نوجوان کا نام اپنی شخصیت کے برعکس قتیل شفائی تھا۔‘‘

نذیر تبسمؔ کے خاکے میں اس کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’اسے آج سے چار برس پہلے ایم فل اور تین برس پہلے پی- ایچ- ڈی ہونا چاہئے تھا لیکن اپنے زوردار قہقہوں کی رُو میں بہہ کر کھڑی ہوئی اسٹارٹ ڈیزل بس بننا قبول کیا اور بدن کو زلزلوں سے آشنا کرکے ماحول کو زلزلوں سے آشنا کرنے کی کوشش نہیں کی۔‘‘

ان دو اقتباسات کے ذریعے جہاں ان کے خاکہ نگاری کے اسلوب سے ہم روشناس ہوتے ہیں‘ وہاں ان کے اختصار اور گہرے مشاہدے کوبھی داد دینا پڑتی ہے۔ انہوں نے چھوٹے چھوٹے جملوں میں بڑی باتیں کہی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اُن کا اسلوب بھی سادہ ہے۔ انہوں نے موقع کی مناسبت سے زبان استعمال کی ہے۔

خاطرؔ غزنوی کی ایک اہم اور نمائندہ تصنیف ’’ایک کمرہ‘‘ ہے۔ یہ کتاب پہلی بار اکتوبر 2001ء میں سنڈیکیٹ آف رائٹرز پشاور نے شائع کی۔ مصنف نے اس کا انتساب ’’بزم ِسخن اور دائرہ ادبیہ‘‘ کے نام کیا ہے جو خیبرپختونخوا میں ادبی دانش گاہوں کا درجہ رکھتی تھیں۔ ’’ایک کمرہ‘‘ کی فہرست ’’دیوار و در‘‘ کے عنوان کے تحت درج کی ہے اور اس میں مندرجہ ذیل عنوانات کے تحت مضامین شامل کئے گئے ہیں:

-1      ایک کمرہ

-2      ایک جدید کمرہ

-3      ادبی انجمنیں اور صوبہ سرحد

-4      صوبہ سرحد کی نئی نسل اور شاعری

-5      جشن مہتاب

مصنف خاطرؔ غزنوی نے اس کتاب کا دیباچہ ’’درِ مے خانہ وا کرو‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا ہے۔ ’’ایک کمرہ‘‘ کے نفس مضمون سے آگاہ کرتے ہوئے فارغ بخاری لکھتے ہیں:

’’ایک کمرہ… محض ایک کمرہ نہیں‘ یہ ابتداء ہے‘ عروج ہے‘ منبع ہے‘ سرچشمہ ہے ادب و شعر کا‘ تہذیب و تمدن کا‘ ثقافت کا۔ سرحد میں اُردو ادب کا‘ اور پھر یہ کمرہ ایک تحریک بن جاتا ہے‘ ادبی تحریک جو آج تک رواں دواں ہے۔ اس وقت تک تین نسلوں نے اس تحریک کا جزو بن کر آگے بڑھنے کی سعی کی ہے۔‘‘

’’ایک کمرہ‘‘ درحقیقت خیبرپختونخوا کے ادیبوں کا ایک تذکرہ ہے‘ ایک تاریخ ہے‘ ایک محفل ہے۔ اس تصنیف میں خاطرؔ غزنوی نے اپنے قلم کا ایجاز دکھایا ہے اور پشاور کے ادیبوں کے زندہ مرقعے پیش کئے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سب زندہ ہوں اور زندگی کے اسٹیج پر اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہوں جنہیں ہم دیکھ ’’ایک صفحہ ‘‘ کے صفحات پر چلتے پھرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ اس لحاظ سے ’’ایک کمرہ‘‘ مولانا محمد حسین آزاد کی شاہکار تصنیف ’’آب حیات‘‘ کی یاد دلاتا ہے۔ اس تصنیف میں مصنف نے آزاد کی مانند اپنے عہد کی ادبی محفلوں کی جاندارمنظرکشی کی ہے۔ یہ کمرہ محض ایک کمرہ نہیں بلکہ پشاور کے ادیبوں کی ادبی بیٹھک ہے‘ ٹی ہائوس ہے۔ ان کی ادبی محفل ہے۔ نئے ادیبوں کی تربیت کے لیے ایک درس گاہ ہے۔ ایک ادبی مرکز ہے۔ یہ کمرہ خیبرپختونخوا میں اُردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کا ضامن ہے‘ تاریخ ہے‘ تحریک ہے۔ خیبرپختونخوا کے تہذیب و تمدن اور ثقافت کا عکاس ہے۔ یہ کمرہ ایک نہیں‘ دو نہیں تین نسلوں کی کہانی ہے۔ ان کی تربیت گاہ ہے اور انہیں باہم جوڑنے کا ایک مضبوط ذریعہ ہے۔ دوسری طرف یہ نوحہ ہے ان ادبی محفلوں کا جو کبھی یہاں وہاں برپا رہتی تھیں۔ یہ نوحہ ہے پشاور شہر کا جو اَب پہلے سے کہیں زیادہ پھیل چکا ہے اور ‘ فصیلیں جو اس کی حفاظت کے لیے بنائی گئی تھیں‘ ٹوٹ گئی ہیں اور کئی قریبی مضافات بھی شہر میں شامل ہو گئے ہیں۔

’’ایک کمرہ‘‘ میں صوبہ خیبرپختونخوا کے ان تمام مقامات کی یاد کو تازہ کیا گیا ہے جہاں شعر و ادب پروان چڑھے ہیں۔ یہ اسی ادبی تحریک کی ایک داستان ہے‘ روداد ہے اور سب سے بڑھ کر ایک تاریخی دستاویز ہے۔ ادبی تاریخ ہے اور شعر و ادب کا تاریخی جائزہ ہے۔ یہ ایک خاکہ ہے اہل پشاور کے شعر و ادب کا اور خود یہ کمرہ عظیم شخصیتوں کے رنگ برنگے خاکوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس کتاب میں شامل پہلے مضمون میں جس کمرے کا خاکہ پیش کیا گیا ہے وہ ایک عام سا کمرہ ہے جس کی دیواریں کچی ہیں اور ان پر چونے کی تہوں نے ایک اور دیوار کھڑی کر دی ہے۔ گلی کی جانب ننھا سا دروازہ ہے جس میں سے سر جھکا کر گزرنا پڑتا ہے۔ ورنہ یہ مزاج شریف پوچھ بیٹھتا ہے۔ نیچی سی چھت ہے جس کے وسط میں بجلی کے تار کے سرے پر ایک بلب لٹک رہا ہے اور دروازے میں داخل ہوتے ہی دائیں ہاتھ کوئی پانچ فٹ اونچی ایک چوکور الماری رکھی ہے جس میں کوئی بھی کام کی چیز موجود نہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک کرسی پر ایک ریڈیو پڑا ہوا ہے جو ہر شخص کے ہاتھ پہنچتا ہے۔ سوائے میزبان فارغ بخاری اور مہمانوں میں سیّد ضیا جعفری کے۔

کمرے کی اندرونی ترتیب سال میں دو مرتبہ بدلتی ہے۔ سردیوں اور گرمیوں میں موسم بدلنے کے ساتھ۔ سردیوں میں زمین پر گھاس ڈال دی جاتی ہے اور اس پر قالین بچھا دیا جاتا ہے۔ دیواروں کے ساتھ گائو تکیے لگا دیئے جاتے ہیں اور کمرے کے مرکز میں دہکتے کوئلوں سے بھری ہوئی ایک انگیٹھی رکھ دی جاتی ہے۔ گرمیوں میں قالین کے نیچے سے گھاس ہٹا دی جاتی ہے اور قالین کے نیچے دری بچھا دی جاتی ہے‘ دروازے کی طرف پانچ چھ کرسیاں ڈال دی جاتی ہیں۔ سامنے دیوار کے ساتھ دُنیا کا سب سے پہلا صوفہ رکھ دیا جاتا ہے۔ یہ صوفہ نہیں بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حضرت نوح کی کشتی ہے اور اس میں انسان و جانور دونوں قسم کی چیزیں دستیاب ہو جاتی ہیں۔ اب اس صوفے کی اصل جگہ تو عجائب گھر میں ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف عوام کو دُنیا کے اس پہلے صوفے کو دیکھنے اور محظوظ ہونے کا موقع ملے گا اور تفریح کا ایک موقع ہاتھ آجائے گا بلکہ صوفے اور مکان کی بہتری بھی اسی میں ہے۔ گرمیوں میں انگیٹھی کی جگہ ایک ننھا سا پنکھا لے لیتا ہے جس کی توجہ حاصل کرنے کی ہر شخص کوشش کرتا ہے مگر یہ پنکھا بڑے وقار اور بے توجہی سے اپنی دلربا رفتار کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں شدت احساس کا شاعر: شکیل جمالی (’’کٹورے میں چاند‘‘ کی روشنی میں) – پروفیسر خالد محمود )

یہ کمرہ عام کمروں کی مانند نہیں جو ایک ہی جگہ قائم و دائم رہتے ہیں بلکہ یہ اپنی جگہ بدلتا رہتا ہے۔ مصنف اس بابت ہمیں بتاتے ہیں کہ دیکھنے کو تو یہ’’ ایک کمرہ ‘‘ہے لیکن اگر مسئلہ تناسخ کی رُو سے دیکھا جائے تو اس کمرے نے کئی جونیں بدلی ہیں۔ پہلے اس کمرے نے کوچہ رسالدار میں غلام حسین مسگر کی دکان کی صورت اختیارکی جہاں خیبرپختونخوا کی ہندکو زبان کے غالب اُستاد احمد علی سائیں‘ اُستاد جگر کاظمی‘ خان محمد عاصی‘ مسجدی شاہ خادم اور خود غلام حسین مسگر نے یکجا ہو کر پشاور میں ادب و شعر کے ذوق کو پروان چڑھانے کی ابتداء کی۔ کوچہ رسالدار ہی میں اس کمرے نے جعفر علی جعفری کی دکان کو اپنا مسکن بنایا جہاں میر عباس میر‘سید جعفری اور قمر علی قمر سرحدی شعرو سخن کے ہنگامے جگاتے رہے۔ یہی وہ کمرہ تھا جہاں سردار عبدالرب نشتر کی شاعری نے جنم لیا اور جہاں نشتر صاحب کے بزرگ انہیں تلاش کرتے کرتے دکان کے کنویں سے باہر نکالتے۔ کوچہ رسالدار ہی وہ پہلا میدان تھا جہاں بزم سخن اور لطف سخن کے ادبی معرکے ہوئے اور جہاں قمر سرحدی نے اس غرض کے لیے اپنا الگ ریستوران کھولا۔ یہاں آغا میر عباس میر کے قہوہ خانوں نے ادب و شعر کی اشتہاء بڑھائی۔ پھر یہ کمرہ شاہ ولی قتال کا مجاور بنا اور دائرہ ادبیہ کہلایا پھر یہ بوژوا ہو گیا اور محلہ خداداد کے ایک بالاخانے پر جا پہنچا اور ایک قدیم ترین پیپل کے درخت کی ہمسری کرنے لگا۔ پھر یہ پرولتاری ہو گیا اور زمین پر اُتر آیا اور جہاں ایک چھوٹے سے تالاب کے کنارے بکائن واقع ہے وہاں اس کی چھائوں میں آباد ہو گیا۔

’’ایک کمرہ‘‘ دراصل ایک استعارہ ہے‘ اس کمرہ سے مراد وہ کمرہ نہیں جو عام معنوں میں مستعمل ہے۔ یہ ادبی بیٹھک ہے اور اس کمرے کا لوکیل پورا پشاور شہر ہے۔

الغرض! یہ کمرہ جو خیبرپختونخوا کے ادیبوںکی ادبی بیٹھک ہے اپنا مقام و قیام بدلتا رہتا ہے۔ کہیں زیادہ عرصے کہیں کم لیکن یہ ایک جگہ پر فکس ہو کر نہیں رہتا۔ کبھی یہ شاہ ولی قتال میں عبدالودود قمر کے گھر میں قیام پذیر ہوتا ہے تو کبھی سیّد مظہر گیلانی کی رہائش گاہ ضیغم لاج میں۔ کچھ عرصہ اس کا ٹھکانا النشاط ہوٹل کا بڑا ہال ہے تو کبھی اس کا ٹھکانہ شاہی مہمان خانہ ہے۔ کبھی پشاور یونیورسٹی تو کبھی محمد شاہ برق کوہاٹی (احمد فراز کے والد) کی رہائش گاہ اس کا مرکز و محور ہے۔ آگے چل کر مصنف لکھتے ہیں:

’’اس وقت میں اس کمرے کا ذکر کرنے لگا ہوں جسے سرحد کی ادبیات میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یعنی شاہ ولی قتال کے دروازے کے ساتھ والا کمرہ!‘‘

یہ کمرہ فن تعمیر کا کوئی شاہکار نہیں ہے‘ نہ اس کی آرائش و زیبائش میں کوئی خاص بات یا سلیقہ ہے اور نہ اس میں کسی بڑے مصور کی کوئی شاہکار تصویر آویزاں ہے۔ اس کمرے کی ایک ہی خاص بات ہے اور وہ بات یہ ہے کہ یہاں بڑے بڑے عالی دماغ اور بڑی بڑی ادبی شخصیتیں جمع ہوتی رہتی ہیں۔ شاعر‘ ادیب‘ مصور‘ موسیقار‘ صداکار‘ ڈاکٹر‘ حکیم‘ پروفیسر‘  ماہر فن تعلیم‘ سرکاری افسر‘ صحافی‘ وکیل‘ تاجر اور سیاستدان۔

اس کمرے کی ایک خاص روایت یہ ہے کہ یہاں آکر بڑے بڑے آدمی بھی اپنے کپڑوں پر گرد جمنے کی فکر نہیں کرتے۔ وہ کسی چھوٹے آدمی کے پاس بیٹھنے میں گھن محسوس نہیں کرتے‘ اور نہ وہ اپنے کردار‘ شخصیت یا فن پاروں پر تنقید کو اپنی بے عزتی خیال کرتے ہیں۔ اس کمرے کی خاص پہچان یہ ہے کہ یہاں لوگ خلوص لے کر آتے ہیں اور محبت لے کر جاتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں ہندوستانی حج ناموں میں جزیرہ نمائے عرب کے تہذیبی نقوش- پروفیسر خالد محمود )

مصنف نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ اس کمرے کی رونقیں کس وقت بڑھتی ہیں۔ پشاور شہرمیں جب ہر سو شام کا دھندلکا پھیل جاتا ہے‘ دن بھر کی مصروفیات سے پشاوری فارغ ہو جاتے ہیں تو آسودگی‘ سکون اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو جلاء بخشنے کے لیے شاعر‘ ادیب‘ فن کار‘ آرٹسٹ‘ صوفی‘ پروفیسر اور ایڈیٹر اور ان ادبا کے مداحین اس کمرے کا رُخ کرتے ہیں اور کمرے کی رونق دوبالا ہونے لگتی ہے۔ بس پھر کیا ہوتا ہے‘ یہ کمرہ جو دن بھر بے رونق تھا‘ اب بھانت بھانت کی بولیوں سے گونج اُٹھتا ہے۔ یہ کمرہ ایسی کتنی ہی گزشتہ حسین یادوں اور انمول لمحوں کا امین ہے۔ اس کمرے میں جو ادبی محفلیں برپا رہتی ہیں‘ کمرے کی دیواریں اس کی عینی شاہد ہیں۔

بقول خاطرؔ غزنوی:

’’حفیظ جالندھری کی دستکیں‘ احمد ندیم قاسمی کے لطیفے‘ ن- م راشد کی نظمیں‘ قتیل شفائی کے گیت‘ ادیب سہارن پوری کا ترنم‘ ظہیر کاشمیری کی تنقیدیں‘ مجید لاہوری کا مزاح‘ انصار ناصری کی باتیں‘ یاس یگانہ چنگیزی کا اُردو اور فارسی کلام‘ حسرت موہانی کی غزلیں اور علامہ تاجور نجیب آبادی کی بذلہ سنجیاں… اسے اب تک سب کچھ یاد ہیں۔‘‘

جس دور / زمانے کا ذکر خاطرؔ نے ’’ایک کمرہ‘‘ میں کیا ہے اس زمانے میں یہاں کی ادبی محفلوں میں اُردو کے بڑے بڑے نام شریک ہوتے جن میں بطور خاص زیڈ اے بخاری (ذوالفقار علی بخاری پطرسؔ بخاری کے بڑے بھائی)‘ پطرس بخاری‘ فارغ بخاری شریک ہوتے۔ ان کا تعلق پشاور سے تھا‘ ان کے علاوہ اُردو ادب کی کئی قدآور شخصیات اس وقت ریڈیو پاکستان پشاور سے منسلک تھیں۔ وہ ان محفلوں میں شریک ہو کر ان کی شان بڑھاتیں جن میں بطور خاص احمد ندیم قاسمی جیسے اُردو کے بڑے افسانہ نگار و شاعر اور ن- م- راشد جیسے آزاد نظم کے بڑے شاعر، شامل ہیں۔ یہ کمرہ ان جملہ احباب کی شرکت کے باعث ایک ادبی درسگاہ بن جاتا تھا جو نئے شعرا و ادباء کے لیے تربیت کا نادر ذریعہ تھا۔ اس کمرے کی ایک خاص بات یہ تھی کہ یہاں جو احباب شریک ہوتے وہ سب اپنے ادبی مقام و مرتبہ سے ہٹ کر سب کے ساتھ گھل مل جاتے۔ کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں تھی۔ پشاور کے ادیبوں کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں سے بھی شعرا و ادباء یہاں تشریف لاتے اور اس کمرے کی رونقیں دوبالا کرتے۔ (یہ بھی پڑھیں قدیم حس کا جدید شاعر: صابر گودڑ – پروفیسر محمد کاظم )

خیبرپختونخوا میں اُردو ادب کی ترویج و ترقی کے لیے وہاں کی جن دو ادبی شخصیات کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا‘ وہ فارغ رضا بخاری اور رضا ہمدانی ہیں۔ رضاہمدانی فارغ رضا بخاری کے برادر ِنسبتی بھی تھے اور یار ِغار بھی۔ ان دونوں نے مل کر خیبرپختون خوا میں اُردو ادب کو ایک تحریک کی صورت دی۔ یہاں کے ادبی سرمائے کو محفوظ کیا‘ ادبی محافل منعقد کیں۔ نوجوان شعرا و ادباء کی تربیت اور حوصلہ افزائی کی۔ ’’سنگ میل‘‘ جیسا شاہکار ادبی جریدہ شائع کیا جس میں یہاں کی تخلیقات شائع ہونے لگیں۔ ’’سنگ میل‘‘ خیبرپختونخوا کے ادیبوں کو باقی ادبی دُنیا سے متعارف کرانے کا ایک بڑا ذریعہ بن گیا۔

فارغ بخاری اور رضاہمدانی نے اُردو اور پشتو ادبیات پر تحقیقی و تنقیدی کتب لکھیں۔ انہوں نے کئی ادبی اصناف میں طبع آزمائی کی اور سب اصناف کو اپنے تخلیقی جوہر اور ارفع تخیل کے باعث ثروت مند کیا۔ اس کے علاوہ ان کا ایک اور بڑا ادبی کارنامہ ’’ادبیات سرحد‘‘ ہے جو خیبرپختونخوا کی ادبی تاریخ ہے۔ ادبیات سرحد چار جلدوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ قدیم پشتو ادب سے متعلق ہے اور دوسرا حصہ جدید پشتو ادب سے متعلق ہے۔ یہ دونوں حصے رضاہمدانی نے ترتیب دیئے جبکہ دوسرے دو حصے فارغ بخاری نے ترتیب دیئے جن میں اُردو ادب اور فارسی ادب شامل ہیں۔ جلد سوم اُردو ادب سے متعلق ہے۔ ان دونوں احباب کی بے مثل خدمات کو یاد کرتے ہوئے خاطر غزنوی اپنے خوبصورت اور شگفتہ اسلوب میں لکھتے ہیں:

’’لیجئے ریڈیو کے پاس رضاہمدانی نیم دراز ہے جس کے بال سفید ہوتے جا رہے ہیں اور جس کے چہرے پر ابھی جوانی کے گلاب کھل رہے ہیں۔ اس کے پاس ہی فارغ بخاری بیٹھا ہے‘ جی یہ برمی نہیں لیکن برما میں کافی عرصہ رہ چکا ہے۔ رضا اور فارغ دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کرکے نہ دیکھا اور نہ پرکھا جا سکتا ہے البتہ تیسرا شخص ان کے درمیان آئے تو چکی کے دونوں پاٹوں میں دانہ گندم کی طرح شاید پس جائے۔ یہ ایک دوسرے کے ازلی اور ابدی سہارے ہیں۔ سرحد میں ان دونوں نے مل کر اپنے خون جگر سے ادب کی آبیاری کی‘ سنگ میل ان کی کاوشوں کی حسین یادگار اور ٹھوس حقیقت ہے جسے کوئی نہیں جھٹلا سکتا۔‘‘

اس طویل اقتباس میں جہاں مصنف نے خیبرپختونخوا میں ادب کے ان تابندہ ستاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے‘ وہاں ان احباب سے اپنی دلی وا بستگی کو بھی بیان کیا ہے۔ مصنف کو ان سے جو عقیدت ہے وہ بھی ان کے اسلوب میں جھلکتی ہے۔ اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ کیسے مصنف نے کمال ہنرمندی سے ان دونوں احباب کی طبع‘ مزاج اور خدمات کو چھوٹے چھوٹے جملوں میں پرو دیا ہے جیسے موتی جڑ دیئے ہوں۔

خاطرؔ غزنوی نے فرداً فرداً خیبرپختونخوا میں اردو ادب کی کہکشاں کے جھرمٹ میں شامل تمام بڑے ادباء کو یاد کیا ہے۔ رضاؔ اور فارغؔ کے بعد جس بڑے افسانہ نگار کا اس کمرے میں آنا جانا ہے وہ ہے شمیم بھیروی۔ شمیم بھیروی کا بھی خیبرپختونخوا کے جدید ادب کی نشوونما میں کلیدی کردار ہے۔ شمیم بھیروی فقط افسانے نہیں لکھتا بلکہ مقالہ‘ نظم‘ غزل‘ قطعہ‘ رباعی‘ تنقید‘ ترجمہ غرض ادب کے تقریباً سبھی شعبوں پرحاوی ہے اور قلم برداشتہ ہر موضوع پر لکھ سکتا ہے۔ خود بھی بھاری بھرکم ہے اور بھاری بھرکم الفاظ کا دلدادہ ہے۔ کچھ عرصہ بمبئی کی فلم انڈسٹری سے بھی منسلک رہا۔ بمبئی کی ادبی محفلوں میں اس کے اشعار آج بھی گونجتے ہیں۔ بنگال میں بھی زندگی کا کچھ حصہ گزار چکا ہے۔ خاطرؔ غزنوی جب شمیم کا تعارف کراتے ہیں تو دیکھئے کیسے کمال انداز میں مکمل تصویر ہمارے سامنے پیش کر دیتے ہیں:

’’تاریخ سے ذرا ہٹ کر شمیم بھیروی آلتی پالتی مارے بیٹھا ہے اور اپنا پیٹ تھپ تھپا رہا ہے۔ بالکل نیاز فتح پوری جیسی وضع قطع اور ڈیل ڈول!‘‘

گویا شمیم بھیروی خیبر پختون خواکا ’نیاز فتح پوری ‘ہے۔ضیاء جعفری بھی خیبرپختونخوا کے ادیبوں میں ایک اہم نام ہے۔ انہوں نے ادب کو نئے الفاظ‘ نئی ترکیبیں‘ نئی تراشیں اور نیا درد دیا۔ ضیاء نے رُباعی کو اپنایا تو اسے بھی اپنے تخلیقی جوہر سے انفرادیت بخشی۔ رباعی چار مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے لیکن ضیاء کی رباعی کا امتیاز یہ ہے کہ یہ صرف چار مصرعوں پر مشتمل نہیں ہوتی بلکہ ایک بیکراں سمندر اور ایک لامحدود دُنیا کا افسانہ ہے جس میں آپ جو چاہیں تلاش کر سکتے ہیں۔ ’’صبوحی‘‘ ان کی رباعیات کا مجموعہ ہے۔ ان کی اُردو اور فارسی غزلوں کی بھی اپنی انفرادی شان ہے۔ ان میں زندگی کا رس ہے‘ شیریں اور زندگی آموز۔ ان میں حساس اور جواں دلوں کی تیز دھڑکنیں ہیں اور حافظؔ‘ سعدیؔ اور خیام کی بولتی ہوئی روحیں‘ خیام فارسی ادبیات میں رباعی کا ایک بہت بڑا شاعر ہے۔ خیام سرحدیؔ خیبرپختونخوا کا ایک اور شاعر بے بدل ہے خیام اور ضیاء کے بارے میں مصنف لکھتے ہیں:

’’خیام سرحدیؔ کی عمر ڈھل چکی ہے لیکن ان کا دل اور دماغ جوان ہے۔ ان کے اعضاء میں شباب ہلکورے لیتا رہا ہے اور ان کے چہرے پر جوانی کی چکاچوند برقرار رہی ہے۔ ضیاء اس کمرے کی جان ہیں جن کے دم سے اس فضاء میں قہقہے پھلجھڑیوں کی طرح پھوٹتے ہیں اور ان کا ہلکا ہلکا زندہ مزاج اور ان کی جواں جواں شرارتیں… سدا اس محفل کی رونقیں بڑھاتی رہی ہیں۔ وہ اس مجلس کے روشنی کے مینار ہیں اور اب یہ روشنی کا مینار ایک مزارکی صورت میں حضرت شیخ جنید صاحب رحمتہ اﷲعلیہ کے مزار کے بالمقابل مرجع خلائق ہے۔‘‘

ادبیات خیبرپختونخوا کا ایک اور اہم نام عبدالودود قمر ہے۔ عبدالودود قمر کی کئی جہات ہیں۔ وہ شاعر‘ ادیب‘ صحافی اور مراسلہ نگار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک بہترین منتظم ہے۔ عبدالودود قمر اور ادبیت خیبرپختونخوا لازم و ملزوم ہیں۔ ان دونوں کا ذکر ایک ساتھ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ قمر ادیب نہیں خود ادب ہے‘ وہ شاعر نہیں خود شاعری ہے۔ اس نے ادیبوں اور شاعروں کو چراغ بخشے ہیں کہ وہ راستے سے بھٹک نہ جائیں۔ انہوں نے نوجوان ادباء کی رہنمائی کی ہے۔ میڈیکل کی تعلیم ادھوری رہنے کے باوجود دوستوں نے ہمیشہ انہیں ڈاکٹر صاحب کہا۔ ڈاکٹر صاحب کا محبوب مشغلہ انگریزی اخبارات میں مکتوب نگاری ہے جو آخری عمر تک جاری رہا۔ یہ خطوط محض خطوط نہیں بلکہ اس کی تیزتنقیدی حس کا بھی بین ثبوت ہیں۔

جس شاعر نے خیبرپختونخوا میں اُردو نظم کی ’’طرح نو‘‘ ڈالی‘ وہ نذیر مرزا برلاس ہیں۔ ان کی پیاری پیاری اوردلکش رومانی نظموں نے نوجوانوں کے رجحانات کو جدیدیت سے آشنا کیا۔ ان کی نظموں میں جوانی کے دور کا رومان بھی ہے‘ شفق کی رنگینیاں بھی ہیں‘ اُفق کے پار کی خواب ناک بستیاں اور قصہ خوانی کی رونقیں بھی ہیں۔ الغرض ان کی شاعری میں سب کچھ ہے‘ ان کی نظموں نے ادبیات خیبرپختونخوا کو ایک نئے اور واضح موڑ سے آشنا کیا ہے۔ نذیر مرزا برلاسؔ کا شعری مجموعہ ’’طرح نو‘‘ کے نام سے مکتبہ اُردو لاہور سے شائع ہوا۔

یہ تمام عظیم لوگ جن کا سطوربالا میں ذکر کیا گیا ہے‘ ان سب نے ابتداء ہی سے اس کمرے کا ساتھ دیا ہے۔ دائرہ ادبیہ سے ادبستان اور ادبستان سے انجمن ترقی اُردو تک اور پھر انجمن ترقی اُردو سے ترقی پسندمصنّفین کی تحریک تک۔ انہی لوگوں کے دم قدم سے یہاں کے ادب کا چراغ اب تک صرف روشن ہی نہیں جگمگا کر ماحول میں اُجالے پھیلا رہا ہے۔

ادبیات خیبرپختونخوا میں اس کمرے کی اہمیت مسلم ہے۔ اس ادبی بیٹھک نے اَن مٹ نقوش مرتسم کئے ہیں۔ ادب کی تحریک پیدا کی اور کئی ناموں کو متعارف کرایا جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر اُردو کا نام روشن کیا اور ادبیات اُردو میں گراں قدر اضافہ کیا۔

خاطرؔ غزنوی‘ مجید شاہد‘ احمد فراز‘ محسن احسان‘ یوسف رجا‘ فریدعرش‘ یعقوب نظر‘ اختر جعفری‘ مسعود اور شفیقی‘ تاج سعید‘ مظہر گیلانی اور اس قبیل کے دیگر بڑے نام‘ یہ سب اسی کمرے کی دین ہیں۔ اسی کمرے کی رونقوں سے خود مصنف نے شعر کہنا سیکھا۔ مجید شاہد نے اپنی غزلوں سے عوام کو چونکایا اور احمد فرازکو ادبی بلند قامتی حاصل ہوئی۔ تاج سعید نے اُردو ادب کے چمن میں آب یاری کا حوصلہ پایا۔ یہ وہی تاج سعید ہے جس نے آگے چل کر ادبی رسالے ’’قند‘‘ کی ادارت سنبھالی اور اُردو کے نامور ادباء کی ادبی خدمات کے اعتراف کے لیے خصوصی نمبر شائع کئے جو ادبی تاریخ میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ مجید امجدؔ کی کلیات بھی ’’لوح ِدل‘‘ کے عنوان سے ترتیب دی ۔’قند‘ کا مجید امجد نمبر‘ بھی مجید امجد شناسی میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

مظہر گیلانی ادبیات خیبرپختونخوا کا ایک اور البیلا شاعر ہے جس نے اپنی غزلوں میں ساغر چھلکائے اور جس نے مخمور ہو کر اکثر ساقی کو بھی سنبھالا دیا۔ مظہر کا ڈراما ’’تسلیم‘‘ اور افسانے ’’رنگین مشاہدے‘‘ اور ’’بدنصیب سارہ‘‘ شائع ہو کر عوام سے تحسین حاصل کر چکے ہیں۔ پھر اس کو نجانے کیا ہوا کہ ادب کو چھوڑ کر سیاست دان بن گیا لیکن کمرہ اس کی یادوں کو کبھی نہیں بھلا سکتا۔

اس کمرے میں اپنی آمد کا ذکر مصنف اس دلکش انداز میں کرتا ہے:

’’باہر سائیکل رکھنے کی آواز آتی ہے۔ وہ لیجئے دروازہ کھلتا ہے… اور خاطرؔ سرد ہاتھوں پر پھونکیں مارتا داخل ہوتا ہے۔ سلام دعا… گلے شکوے… تازہ خبریں… اور پھر وہ گوشے میں پڑے ہوئے ریڈیوکے سرہانے بیٹھ جاتا ہے۔‘‘

کمرے میں شیخ ثناء اﷲ کی آمد بارے مصنف لکھتے ہیں:

’’لیجئے پھر دروازہ کھلتا ہے۔ یہ شیخ ثناء اﷲ ہیں‘ سرحد کے واحد انگریزی روزنامے ’’خیبرمیل‘‘کے ایڈیٹر اور ’’خیبرمیل‘‘ کے مالک… ان کے بال دھنکی ہوئی روئی کی طرح سفید ہیں اور چہرہ یوں دھک رہا ہے جیسے یہ ابھی گرمی کی دوپہر کی دھوپ سے اُٹھ کر آئے ہیں اور دھوپ میں ان کے بال سفید ہو گئے ہیں اور چہرہ تمازت سے سرخ!‘‘

اس کمرے کی ایک اور خصوصیت جس سے خاطرؔ غزنوی نے ہمیں آگاہ کیا ہے‘ وہ یہ ہے کہ یہ کمرہ اکثر منتقل ہوتا رہتا ہے مثلاً تین دن سے خاطرؔ نہیں آیا۔ اُڑتی سی ایک خبر آئی کہ بیمار ہے اور اس کمرے کے سارے بیٹھنے والے یعنی یہ کمرہ اُٹھ کر خاطرؔ غزنوی کے گھر اس کی عیادت کے لیے جا پہنچا ہے۔ جس دوست کی شادی ہو یہ سارا کمرہ اس کے گھر منتقل ہو جاتا ہے۔ لالہ مضمر اس کمرے کا ایک اور مکین ہے جس کی شادی کے لیے کمرے کے سارے مکین بے چین رہتے ہیں اور ہر وقت دُعائیں کرتے ہیں۔ اس کے باوجود لالے کی شادی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ پھر بھی ایک موہوم اُمید کی کرن ہر دل میں فروزاں ہے کہ شاید لالے کی شادی ہو جائے۔ بعض دوست لالے کے صاف‘ بے بال و ایال سر کا حوالہ دے کر کہتے ہیں جس دن اس کے سر پر کوئی بال اُگ آیا‘ لالے کی شادی ہو جائے گی اور جب تمام اُمیدیں بر آتی ہیں اور سچ مچ لالے کی شادی ہو جاتی ہے تو سب گنگنا اُٹھتے ہیں:

گوشے گوشے میں منادی ہو گئی

ہو گئی لالے کی شادی ہو گئی

اور ضیاء جعفری صاحب اپنے صبوحی رنگ میں رُباعیاں کہہ رہے ہیں:

کس وقت ترا عقدہ کھلا ہے لالے

کس وقت ترا جام بھرا ہے لالے

لائے گا کہاں سے رنگ و بو کا احساس

کس وقت تجھے پھول ملا ہے لالے

احیائے جوانی کی تجھے حسرت ہے

اس عمر میں لالے یہ تری ہمت ہے

اﷲ نے کیں ساری مرادیں پوری

لالے تری قسمت بھی عجب قسمت ہے

یہ کمرہ اہل پشاور کے لیے ایک ادبی بیٹھک ہی نہیں بلکہ تہذیبی علامت ہے۔ یہ کمرہ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا اکثر منتقل ہوتا رہتا ہے۔ خاطرؔ غزنوی لکھتے ہیں:

’’یہ کمرہ جو دائرہ ادبیہ ہے‘ بزم سخن ہے‘ انجمن ترقی اُردو ہے‘ ادبستان ہے‘ انجمن ترقی پسند مصنّفین ہے… اُردو سبھا ہے‘ اُردو مرکز ہے اور بزم علم و فن بھی ہے جسے ایبٹ آباد سے تاریخ کے اُستاد شوکت واسطی نے پشاور درآمد کیا۔‘‘ (یہ بھی پڑھیں جمالیات کیا ہے؟ – شازیہ بتول )

اس کتاب کا دوسرا مضمون’’ایک جدید کمرہ‘‘ ایک مختصر مضمون ہے جس میں جدید دور کے پشاور کے ادبی ماحول کو یاد کیا گیا ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ پشاور شہر میں تبدیلی آ چکی ہے پشاور آپے میں نہیں سمایا‘ دیہات کی آبادی بھی پشاور میں ہجرت کر آئی ہے یعنی پشاور شہر پھیل چکا ہے نہ صرف رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے بلکہ علم و ادب کے لحاظ سے بھی۔ یونیورسٹی کے قیام نے جہاں مختلف شعبہ ہائے علوم کی ترویج و ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے‘ وہاں ادب کے شعبے میں بھی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اُردو شعر و ادب کی ایک نئی کھیپ تیار ہو گئی ہے‘ سنڈیکیٹ آف رائٹرز کا قیام عمل میں آ چکا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ مردوں کی دیکھا دیکھی سرحد کی خواتین کو ادبی دُنیا میں اپنا مقام حاصل کرنے کا خیال آیا تو انہوں نے اپنی خواتین کی ادبی انجمن ’’وویمن رائٹرز فورم‘‘ کا سنگ بنیاد رکھا اور کئی جلسے اور مشاعرے برپا کئے ہیں۔ بقول خاطرؔ غزنوی:

’’یوں کہئے کہ انہوں نے اپنا ایک کمرہ بلکہ ایک چادر دیواری تعمیر کر لی ہے جہاں مردوں کے داخلے پر پابندی نہیں ہے۔ یہ ادبی کمرہ دوسری خواتین کو بھی متعارف کرا رہا ہے۔‘‘

آگے چل کر جدید کمرہ کے حوالے سے خاطرؔ لکھتے ہیں:

’’تو یہ ہے نوجوانوں کا جدید کمرہ‘ ایک کمرہ‘ ایک تحریک‘ ایک تاریخ‘ اس کمرے کی ایک اور صورت اباسین آرٹس کونسل ہے جو فنون لطیفہ کی سرپرستی کرتی ہے۔ ادبی محفلیں برپا کرتی ہیں اور ادبی کتب پر انعامات تقسیم کرتی ہیں۔‘‘

’’سرحد کی ادبی انجمنیں‘‘ کے زیر عنوان انہوں نے خیبرپختونخوا کی ادبی انجمنوں کے قیام اور ان کے ادبی اثرات وثمرات کو بیان کیا ہے۔ خیبرپختونخوا میں 1897ء سے قبل مشاعروں کی کسی روایت بارے کوئی معلومات دستیاب نہیں ہوتیں۔ البتہ 1897ء کے بعد ان کا رواج ہونے لگتا ہے لیکن باقاعدہ مشاعروں کی صورت میں نہیں بلکہ انفرادی ذوق شوق کا نتیجہ تھا۔ اس دور میں شعرا کی زیادہ تر محفلیں غلام حسین مسگر کی دکان پر ہوتیں۔

1903ء میں انجمن ’’بزم سخن‘‘ کی بنیاد سائیں احمد علی نے رکھی۔ بزم سخن کے زیرِ سایہ شاعری کے پروانے اس کی روشنی میں اکٹھے ہوتے رہے۔ یہ انجمن ایک کلاسیکی انداز کی حامل تھی اور اس کے اراکین بھی کلاسیکی شعری ادب کے دیوانے تھے۔ اس لیے ان کی اس ادارے پر اجارہ داری سترہ برس تک قائم رہی۔ 1920ء میں ایک شعلہ مستعجل ایسا اُٹھا کہ اس کی جوانی اور عملی قوت نے بزم سخن پر ایک کاری ضرب لگائی۔ یہ فعال جوان قمر علی قمر سرحدی تھا جس نے کوچہ رسالدار میں ایک ہوٹل کھول کر شعراکو اپنی طرف کھینچا۔ بزم سخن سے بعض اختلافات کے پیش نظر قمر سرحدی نے خالص مکی اور چند دوسرے ساتھیوں کی معیت میں ’’لطف سخن‘‘ کے نام سے ایک نئی انجمن کی بنیاد ڈالی۔ اس انجمن کا کوئی خاص نقطئہ نظر نہ تھا‘ محض بزم سخن کی مخالفت کے تحت اسے نیچا دکھانے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ ’’لطف سخن‘‘ کے حملوں نے ’’بزم سخن‘‘ کو پھر سے فعال بنا دیا اور دونوں انجمنوں کے درمیان تقابلی جنگ پانچ چھ برس تک جاری رہی۔ 1925ء کے لگ بھگ شاہد کیانی ’’لطف سخن‘‘ کے رکن بنے اور انہوں نے آکر یہ کرشمہ دیکھایا کہ لطف سخن کا نام بدل کر ’’بزم ادب‘‘ کر دیا لیکن بزم سخن کی رقابت کو برقرار رکھا۔

’’لطف سخن‘‘ (نیا نام ’’بزم ادب‘‘) بعض محققین کے خیال میں پشاور کا پہلا ادبی ادارہ تھا جس نے 1920ء میں بزم سخن کی اجارہ داری پر ضرب لگائی۔

1936ء میں پشاور چھائونی میں ایک نئی انجمن ’’بزم افکار‘‘ کے نام سے وجود میں آئی۔ اس میں پشاور سے باہر سے آئے ہوئے شعراخصوصی طور پر اہل زبان شعراشامل تھے جن میں رسا بریلوی‘ عزیز صہبائی‘ عباس اثر اور مقامی شعرامیں سے ناطق درانی اور سیّد ذوالفقار علی بخاری جیسے شعرا شامل تھے۔

’’بزم افکار‘‘ کے مقابلے میں ’’بزم سخن‘‘ اور ’’بزم ادب‘‘ دونوں نے مل کر ’’انجمن ترقی اُردو‘‘ کی بنیاد ڈالی۔ اس کے کرتا دھرتا بھی قمر سرحدی تھے۔انہوں نے مولوی عبدالحق کی صوابدید سے انجمن ترقی اُردو (دکن) اورنگ آباد سے الحاق کر لیا۔

1933ء میں خیبرپختونخوا کے باشعور اور جدید تعلیم سے آراستہ نوجوانوں اﷲ بخش یوسفی اور نذیر مرزا برلاس نے محمد علی کلب کی بنیاد ڈالی اور چند بہت اچھے مشاعرے کرائے لیکن یہ کلب زیادہ دیر نہ چل سکا۔ اﷲ بخش یوسفی تحریک خلافت کے سرگرم کارکن تھے اور انہیں مولانا محمد علی جوہر سے قریبی ربط تھا۔ یہ کلب انہی کے نام سے قائم ہوا تھا۔ اس ادارے نے نوجوان اہل قلم کی سرپرستی کی اور ایک کتب خانہ بھی قائم کیا۔ اس سے ان نوجوان اہل قلم کے دلوں میں علم و ادب کی محبت کے جذبے کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اﷲ بخش یوسفی خیبرپختونخوا کی جدید صحافت میں اولیت کا درجہ رکھتے ہیں اور بابائے صحافت کہلاتے ہیں۔

پشاور کی ادبی انجمنوں کی آپس کی چپقلشوں سے ایک مثبت نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے اراکین فعال ہو گئے اور شعر و ادب کا ذوق پھیلا اور کئی ایسے نئے شعراو ادباء اُبھرے جو بعد میں ملک گیر شہرت کے مالک بنے۔

1935ء میں دائرہ ادبیہ کی تشکیل ہوئی‘ یہ ایسے نوجوانوں کا ادارہ تھا جو بزم سخن کے قدیم فکر و نظر اور خیالات کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہوئے اور نئے اور ترقی پسندانہ رجحانات لے کر آئے۔ اس ادارے کے بانیوں میں سیّد ضیاء جعفری‘ نذیر مرزا برلاس‘ عبدالودود قمر‘ اسیر انور ضیائی‘ حبیب ایشیائی‘ فارغ بخاری‘ رضا ہمدانی‘ سیّد مظہر گیلانی‘ لالہ مضمر تاتاری تھے۔

دائرہ ادبیہ کی شہرت دور دور تک پھیل گئی‘ پشاور میں ہر شخص جانتا تھا کہ دائرہ ادبیہ اہل قلم کا ایک ’ٹھیہ‘ ہے جو شاہ ولی قتال میں واقع ہے اور سارا سال بغیر ناغہ کئے شعر و ادباء اور اہل ذوق کو خوش آمدید کہتا ہے۔ برصغیر کے کونے کونے سے بڑے بڑے صاحبان علم و دانش یہاں آئے۔ مقامی اہل قلم باہر کے باکمال اہل دانش مہمانوں کی باتیں اور ان کے شہ پارے سنتے اور بہت کچھ سیکھتے۔

قیام پاکستان سے پہلے اوربعد میں‘ لاہور میں جو ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا، شعراء اور ادباء ہوٹلوں میں ہی بیٹھتے اور ادبی بحثیں‘ تنقیدی محفلیںبرپا کرتے اور سخن آرائی کرتے۔ عرب ہوٹل‘ نگینہ بیکری‘ پاک ٹی ہائوس‘ کافی ہائوس وغیرہ ادیبوں کی مستقل نشست گاہیں رہیں۔ کراچی میں بھی ادباء کا ٹھکانہ زیادہ تر ہوٹل اور کافی ہائوس رہے۔ لیکن پشاور میں لاہور اور کراچی کے برعکس شخصی و نجی بیٹھکوں میں ادبی محفلیں جمتیں۔

1938ء میں پشاور کے نوجوان شعرائنے ’’ادبستان‘‘ کے نام سے ایک ادبی انجمن کی بنیاد ڈالی۔ اس انجمن کے بانیوں میں سیّد مظہر گیلانی‘ رضا ہمدانی‘ فارغ بخاری‘ شمیم بھیروی‘ مضمر تاتاری اور عشرت ملک شامل تھے۔ ادبستان کی بھی بزم سخن سے ٹھن گئی۔ شاعری میں ادبستان‘ دائرہ ادبیہ اور بزم سخن دونوں کے مقابلے میں ایک بہت ہی جدید ذہنی شعور اور انقلابی ارادے لے کر سامنے آئی۔

یہ تو تھیں خیبرپختونخوا اور بالخصوص پشاور کی ادبی انجمنوں کی باتیں‘ اب ’’سرحد کی نئی نسل کی شاعری‘‘ کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس مضمون کا آغاز خاطرؔ غزنوی ان الفاظ سے کرتے ہیںجو اُن کی تنقیدی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

’’شاعری جوانی سے عبارت ہے‘ بوڑھے شاعر تجربے اور مشاہدے کے بل بوتے پر آگے بڑھتے ہیں۔ فن پر قدرت ان کی شاعری کا طرئہ امتیاز بنتی ہے لیکن شاعری جذبے کا دوسرا نام ہے اور جذبہ جوانی کی روح ہے۔ جوانوں کی شاعری جذبے کی شاعری ہوتی ہے‘ خلوص کی شاعری ہوتی ہے‘ قوت کی شاعری ہوتی ہے‘ ارتقاء کی شاعری ہوتی ہے۔ہر دور میں نئی نسل نے جوانی کے حوصلوں کے ساتھ زمانے کے تقاضوں کا ساتھ بھی دیا ہے اور پرانی قدروں کے خلاف جہاد بھی کیا ہے۔ اس جہاد کے لیے زبان یا ملک کی تخصیص نہیں کی جا سکتی۔ اُردو زبان ہی کا جائزہ لیجئے۔ یہ ہر دور میں نئی نسل‘ نئے خیالات‘ نئے انداز اور نیا شعور لے کر آئی‘ نئے تجربات نے ادب کا دامن وسیع تر کیا۔ یہ دوسری بات ہے کہ روایت پسندوں نے ہر زمانے میں ہر جگہ مزاحمت کا پرچم بلند کیا لیکن کامیابی سدا نئے اور گرم خون کا مقدر بنی۔‘‘

صوبہ خیبرپختونخوا شعر و ادب کے میدان میں ایک الگ دبستان اور الگ رنگ کا حامل رہا‘ یہاںکی پشتو‘ فارسی‘ اُردو اور ہندکو زبان نے برصغیر میں لازوال شعرا کو متعارف کرایا۔ تاریخ کی آغوش میں ایسے جواں فکر اہل قلم کی آواز سدا زندہ و تابندہ رہے گی۔

اس مضمون میں جہاں خاطرؔ نے نئی نسل کے ادبی ذوق و شوق کو بیان کیا ہے وہاں نئی نسل کے اہم شعرا کے فکر و فن کے حوالے سے اپنی تنقیدی آراء کا اظہار کیا ہے جو کافی اہمیت کا حامل ہے اور خاطرؔ کے تنقیدی نقطئہ نظر کا عکاس ہے۔

قتیل شفائی بارے لکھتے ہیں:

’’قتیل شفائی نظم‘ غزل اور گیت کا شاعر ہے‘ قتیل نے عنفوان شباب میں اپنی شاعری کو جوانی کی رعنائیوں سے بھر دیا۔ اس کے گیتوں میں رم جھم کے نغمے اور ہریالی کی لہریں فردوس گوش اور فردوس نظر بنتی ہیں‘ اس کی نظم میں زندگی تلخ‘ ترش اور شیریں تجربے انگڑائیاں لیتے نظر آتے ہیں اور اس کی غزل میں ایک کھنک اور ترنم رقص کرتا محسوس ہوتا ہے۔ نغمگی ان کی شاعری کا عنوان ہے۔‘‘

رضا ہمدانی بارے لکھتے ہیں:

’’رضا ہمدانی نے ہر شعری صنف میں طبع آزمائی کی ہے لیکن اس کی غزل ایسے نرم و نازک جذبات کی حامل ہے‘ جو صرف جوانی کی دین ہے۔ رضا کی غزل میں نئے لہجے کی جدت اور نیا آہنگ روایت کے حسن کے ساتھ ملتا ہے۔‘‘

مجید شاہد بارے لکھتے ہیں:

’’مجید شاہد نے غزل میں ایک مقام حاصل کیا اور اپنی شاعری کو غزل تک محدود رکھا‘ اس کی غزل روایت میں جدت اور جدت میں روایت کے امتزاج کی علامت ہے‘ اس کی غزل میں فلسفیانہ رنگ نمایاں رہتا ہے۔ اس کا رنگ پختہ اور خیالات گہرائی کے حامل ہیں۔‘‘

محسن احسان کی شعری جہت کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’محسن احسان نے بھی شاعری کی ساری اصناف میں طبع آزمائی کی ہے لیکن اس کی غزل میں ایک نئی اور جواں کیفیت ملتی ہے‘ محسن کی غزل بھی محبت کی دلفریبیوں کا آئینہ ہے لیکن اس نے غزل میں جدیدیت کے سارے پہلو سموئے ہیں۔ منظرنگاری‘ حقائق‘ خزاں‘ بہار‘ رنگ‘ خوشبوئیں… لیکن ان ساری کیفیتوں کے پس منظر میں تجربہ روشنیاں بکھیرتا نظر آتا ہے۔‘‘

خاطرؔ نے خاور احمد کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا ہے‘ لکھتے ہیں:

’’خاور احمد سرحد کے جدید تر دور کے خوبصورت غزل گو سعید احمد اختر کا بیٹا ہے لیکن بیٹے کی پہچان اس کا والد نہیں‘ وہ خود ہے۔ والد کے دور‘ خیالات اور فن سے الگ جدیدیت کے حسن اور ماحول کی خوشبوئوں میں سجی ہوئی بالکل نئی اور بالکل اچھوتی غزل کہنے والا خاور…

؎اپنی حالت دیکھ کے پوچھوں‘ کھڑکی دیر سے کیوں کھولی تھی

اس کی مجبوری سوچوں تو اپنے سوال پہ دُکھ ہوتا ہے

؎پھول پر آ کے بیٹھی تو خود پر اترانا بھول گئی

ایسی مست ہوئی وہ تتلی پر پھیلانا بھول گئی

؎ساجن کی یادیں بھی خاورؔ کیسے وقت پہ آ جاتی ہیں

گوری آٹا گوندھ رہی تھی‘ نمک ملانا بھول گئی

خاور احمد کی شاعری کی تازگی میں پھولوں کے رنگوں کی رعنائی‘ تتلیوں کی اُڑانوں کا وقار‘ خوشبوئوں کے رواں دواں قافلوں کی پھیلتی دھول اور ان سب سے بڑھ کر جوانی کے جذبوں کی دھوپ چھائوں کا تقدس ملتا ہے۔

جو بھی رنگ دیکھوں سوچتا ہوں میں

تجھ پہ یہ رنگ جانے کیسے لگے

خاور احمد والد کی راہ پر رواں ہے‘ زندگی کرنے اور زندگی کا رس نچوڑنے اور ریشمی خیالات کی سیج سجانے کے معاملے میں دونوں ایک سا مقدر لے کر آئے ہیں لیکن بیٹا تازہ دم نظر آتا ہے۔ دراصل جوانی اور طاقت کا احساس ہر نئی نسل کو اُڑنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔‘‘

مجموعی طور پر خاطرؔ غزنوی کی یہ بے مثال کتاب ’’ایک کمرہ‘‘ خیبرپختونخوا میں اُردو ادب کے آغاز و ارتقاء کا ایک بھرپور تذکرہ بلکہ تاریخ ہے۔ اس ادبی شہ پارے میں خاطرؔ نے پشاور کی ادبی محفلوں‘ انجمنوں اور ادبی شخصیات کو اپنے خوبصورت اسلوب سے زندہ جاوید بنا دیا ہے۔پشاور کی تہذیبی و تمدنی روایات کو تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا ہے۔ ’’ایک کمرہ‘‘ جہاں ادبیات سرحد کی ایک نایاب تاریخ ہے وہاں اُس دور کی معاشرت کا بھی عکاس ہے۔ خاطر کے شگفتہ اور لطیف اسلوب نے اسے زندہ جاوید بنادیا ہے۔اس کتاب کو ایک بار پڑھنا شروع کیجیے ،اس کا پُر اثراسلوب اور اس کے صفحات پر چلتے پھرتے ادباو شعرا کی سحر انگز گفت گوآپ کو ایسی گرفت میں لے گی کہ آپ اسے ادھورا نہیں چھوڑ پائیں گے۔

khalidghalibi7@gmail.com…..

Address: Chak no. 272/TDA,

 P/O   chak no. 273/TDA (TAIL INDUS) Tehsil Karor,

District Layyah.

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

خاطر غزنویخالد محمود سامٹیہ
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مردانی – راجیو پرکاش ساحر
اگلی پوسٹ
لسانی تاریخ نویسی اور محمود خاں شیرانی (’پنجاب میں اردو‘کے حوالے سے) – پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں