شکیل جمالی ہمارے عہد کے منفرد شاعر ہیں۔ ان کی آواز اپنا علیحدہ وجود رکھتی ہے اور دور سے پہچان لی جاتی ہے۔ طنز ان کے کلام کی اساس ہے اور ان کی قوت بھی ہے۔ ان کا طنزیہ لہجہ دوسروں سے مختلف ہے۔ اس کی انفرادیت یہ ہے کہ کاٹ دار ہونے کے باوجود اس میں سختی، کرختگی، برہنہ گفتاری اور جارحیت نہیں جیسا کہ بہت سے شعرا کا دستور ہے، بلکہ شائستگی، ملائمت اور نرم گفتاری کے اطوار پائے جاتے ہیں۔ ان کے نرم و دلآویز لہجے میں اگرچہ کہیں کہیں تلخی ضرور اتر آتی ہے مگر اپنی اثر انگیزی میں ان کے اشعارکا جادو کسی بھی ناملائم طرز گفتار سے زیادہ زور اثر گہرا اور دیرپا ہوتا ہے جو ان کی دردمندی، خلوص اور شدت احساس کا مظہر ہے۔ بلاشبہ طنز کو ان کی شاعری میں مرکزی حیثیت حاصل ہے تاہم وہ طنز کا استعمال برائے طنز نہیں، برائے اصلاح کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا طنز انفرادی نہیں اجتماعی ہوتا ہے یعنی وہ کسی کی ذات کو ہدف بنانے کی بجائے معاشرے کو ہدف بناتے ہیں۔مثلاً جہاں وہ اس قسم کے شعر کہتے ہیں ؎
ہمارا حق دبا رکھا ہے جس نے
سنا ہے حج کو جانا چاہتا ہے
شہر میں دو چار کمبل بانٹ کر
وہ سمجھتا ہے مسیحا ہوگیا
تو ان کا روئے سخن کسی ایک یا دو افراد کی جانب نہیں ہوتا بلکہ سماج کے اس طبقے کی جانب ہوتا ہے جو اس منافقانہ روش پر گامزن ہے۔ ان کے اشعار کی زد میں وہ افراد بھی آجاتے ہیں جو اس طبقۂ منافقین کی اخلاقی برائیوں سے چشم پوشی کرتے ہیں۔ اپنے ان اشعار میں شکیل جمالی سماج کے منافقت بیزار طبقے کی صدائے احتجاج بن گئے ہیں۔
زیر نظر مجموعہ ’’کٹورے میں چاند‘‘ خوبصورت اور خوش آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ بلیغ استعارہ بھی ہے۔ یعنی اسے ہم کوزے میں دریا بھی کہہ سکتے ہیں۔ کٹورا اور کوزہ ایک ہی شے کے دو نام ہیں ۔ کوزے کا رشتہ پانی سے ہے اور پانی کا دریا سے ۔ دریا کو وسعت دے کر بہ آسانی سمندر کیا جاسکتا ہے۔ سمندر جو سارے دریائوں کا جامع ہے۔ اب رہا چاند تو چاند کاسمندر سے جو تعلق ہے وہ جگ ظاہر ہے۔ وہ چاند ہی تو ہے جو سمندر میں مدو جزر پیدا کرتا ہے۔ ان رعایتوں کے ساتھ شکیل جمالی کے کٹورے کا چاند زندگی کے وسیع سمندر کی ہلچلوں کو اپنے اندر اتارنے والے شعری مجموعے کے طورپر سامنے آتا ہے۔
شکیل جمالی، صاحب اسلوب شاعر ہیں جو ایک بڑی بات ہے۔ صاحب اسلوب یا صاحب طرز ہونا آسان نہیں۔ اس راہ میں عمریں تلف ہوجاتی ہیں۔ اس کے باوجود گل مراد ہاتھ نہیں آتا۔ شکیل جمالی نے جلد ہی یہ معرکہ سر کرلیا ۔ ان کا لب و لہجہ اور رنگ تو ہر جگہ ایک ہی ہے، مگر کہیں کہیں آہنگ تبدیل ہوجاتا ہے اور وہ غزل کی ایمائی اور اشاراتی زبان کو چھوڑ کر واشگاف لہجہ اختیار کرلیتے ہیں۔ جس میں تیزی، تندی اور کبھی کبھی زہرناکی پیدا ہوجاتی ہے۔ ان کا یہ لہجہ جسے عموماً راست بیانیہ ہی راس آتا ہے عوام میں بہت مقبول ہے۔ عصر حاضر کے مشاعروں میں یہی سکّہ رائج الوقت ہے۔ اس پر خوب داد ملتی ہے۔ اس لہجے میں وہ ایسے شعر کہتے ہیں ؎
غزل عصمت بچائے پھر رہی ہے
کئی شاعر ہیں بیچاری کے پیچھے
غزل اسیر ہوگئی قلم غلام ہوگیا
مگر ہماری روٹیوں کا انتظام ہوگیا
دلوں کے بیچ ظالموں نے پھر لکیر کھینچ دی
کسی غریب بستیوں میں قتل عام ہوگیا
یہاں انصاف نے آنکھوں پہ پٹی باندھ رکھی ہے
شرافت قید میں سڑتی ہے غنڈہ چھوٹ جاتا ہے
اگر ہم لوگ تھوڑی دیر لڑنا بھول جاتے ہیں
سیاسی سورمائوں کا پسینہ چھوٹ جاتا ہے
ذرا سنبھل کے عشق کر ذرا سنبھل کے دل لگا
منافقت کا ان دنوں خلوص نام ہوگیا
دوسرا لہجہ اس سے مختلف ہے اس میں بھی طنز ہے مگر اتنا واشگاف نہیں ۔ ان کا یہ انداز گفتگو، رمز و کنایہ، ایجاز، اشارہ اور ایمائیت سے عبارت ہے۔ سادگی ، روانی، بے ساختگی، بے تکلفی اور ندرت بیان اس لہجے کی پہچان ہے۔ مثلا یہ اشعار ؎
قریب آنے نہیں دیتی کسی کو
بہت مغرور ہے تنہائی میری
کھانے کو تو زہر بھی کھایا جاسکتا ہے
لیکن اس کو پھر سمجھایا جاسکتا ہے
اس دنیا میں ہم جیسے بھی رہ سکتے ہیں
اس دلدل میں پائوں جمایا جاسکتا ہے
تمہارے بعد بڑا فرق آگیا ہم میں
تمہارے بعد کسی پر خفا نہیں ہوئے ہم
تری گلی کے سوا اور کیا ٹھکانہ ہے
یہیں ملیں گے اگر لاپتہ نہیں ہوئے ہم
تری ہنستی ہوئی آنکھوں میں آنسوں
خوشی دیکھی ہے پہلی مرتبہ کیا ؟
خدا تجھ کو سننے کی توفیق دے
میری خاموشی میرا اظہار ہے
شکیل جمالی نہایت ذہین شاعر ہیں۔ انھوں نے ذہن رسا پایا ہے۔ وہ شعرکہتے کہتے اچانک بات کا رخ نہایت سادگی سے اس طرف موڑ دیتے ہیں جہاں ہر کسی کی نگاہ نہیں جاتی۔ کوئی نہیںکہہ سکتا کہ دوسرے مصرعے میں وہ اپنے شعر کوکہاں لے جائیں گے۔ عموماً ہوتا یہ ہے کہ پہلا مصرع سنتے ہی دوسرا مصرع یا کم از کم قافیہ فوراً ذہین سامع کے ذہن میں آجاتا ہے ۔ مشاعروں میں یہ تماشا اکثر دیکھا گیا ہے لیکن ان اشعار میں آپ ایسا نہیں کرسکتے۔
چاند ستارے گود میں آکر بیٹھ گئے
سوچا یہ تھا پہلی بس سے نکلیں گے
یہاں سے قصہ شروع ہوتا ہے قتل و خوں کا
یہاں سے یہ داستاں مزیدار ہو رہی ہے
اک حماقت اور کی جائے محبت کی طرح
ایک نقصاں اور ہوجائے تو کیا نقصان ہے
حالات ہی ایسے ہیں کہ تکلیف نہ ہوگی
اب بھی وہ اگر غیر کے پالے میں چلا جائے
میں کوئی دنیا سے ہارنے والا تھا
بلّی کی تقدیر سے چھینکا ٹوٹ گیا
یہ کیسے علاقے میں ہم آگئے
گھروں سے نکلتے ہی بازار ہے
ان اشعار میں صرف یہی ایک خوبی نہیں کہ بحیثیت سامع اس کا مصرع اولی سن کر مصرع ثانی آپ کے ذہن میں نہیں آتا ۔ یہ معاملہ تو کمزور اشعار کے ساتھ بھی پیش آسکتا ہے۔ ان اشعار کی بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کا معنیاتی نظام فکر انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ حسرت آمیز اور عبرت خیز بھی ہے۔ انسان کی سماجی، سیاسی ، معاشی، معاشرتی اور تہذیبی لاچاری ، بے بسی اور مجبوری کی کئی صورتیں ہیں جو ان اشعار کے استعاروں، تشبیہوں، اشاروں اور کنایوں میں سما گئی ہیں۔ پہلے شعر میں جب بچے گود میں آکر بیٹھ گئے جنھیں استعارے کی زبان میں بڑی خوبی سے چاند ستارے کہا گیا ہے تو محبت اور مصروفیت میں جس کا تعلق فرض منصبی سے بھی ہوسکتا ہے۔ کشمکش شروع ہوئی چاند ستاروں کو گود سے علیحدہ کرنا ممکن نہ ہوسکا۔ پہلی بس نکل گئی ، محبت غالب آگئی اور وقت پرکہیں پہنچنے کا خواب چکنا چور ہوگیا ۔اس شعر میں کام کی نوعیت، اہمیت اور ترجیحات کا فرق مخفی ہے یعنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ احساس ذمہ داری محبت پر غالب آجائے۔ ( یہ بھی پڑھیں جوہر کی غزلوں میں دینی جمالیات کا پرتو – پروفیسر کوثر مظہری )
دوسرے شعر میں قتل و خون کی داستان کو طنزاً ’’مزیدار‘‘ کہا گیا ہے اور شقی القلب ، سیاست زدہ نیز متعصب انسانوں کی فطرت کی عکاسی کی گئی ہے۔ اسے پڑھ کر غالب کا ’’زودپشیماں‘‘ والا شعر یادآجاتا ہے ؎
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زودپشیماں کا پشیماں ہونا
تیسرے شعر نے کر میردرد کی یادتازہ کردیمگر ان کا شعر بے پناہ ہے ؎
اے دل تمام نفع ہے سودائے عشق میں
اک جان کا زیاں ہے سو ایساں زیاں نہیں
چوتھے شعر کا غیر، صرف رقیب روسیاہ یا سیاسی غیر نہیں۔ ایک انبوہ اغیار ہے جس پر اعتبار کرنا فی زمانہ مشکل ہوگیا ہے۔ کوئی کسی بھی وقت کسی کے پالے میں بھی جاسکتا ہے۔ چنانچہ اب ناقابل یقین واقعات پر بھی نہ حیرت ہوتی ہے نہ تکلیف ۔ اس شعر میں انسانی نفسیات کی سچی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ یہاں پالے کا استعمال بھیخوب ہوا ہے ۔ یہ اصطلاح کثیر المعنی ہے۔ اس رعایت سے شعر کثیر الابعاد ہوگیا ہے۔ پانچویں شعر میں ضرب المثل کے برجستہ اور برمحل استعمال نے اپنی شکست کو اتفاقیہ شکست اور تقدیر کا ایک کھیل بنا دیا ہے۔ اس میں انسانی عزم و ہمت کی حوصلہ افزائی اور مثبت انداز فکرکی پذیرائی کی گئی ہے۔ آخری شعر میں مٹتی ہوئی تہذیب کا نوحہ ہے اور خوب ہے۔ شکیل جمالی نے اس موضوع کو چھیڑ کرتہذیب کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے ۔ شعر ہے ؎
یہ کیسے علاقے میں ہم آبسے
گھروں سے نکلتے ہی بازار ہے
یہ شعر جوبظاہر بہت نرم، ٹھنڈا اور سیدھا سادا معلوم ہوتا ہے مگر اس کے اندرون میں بڑی تلخی ہے ۔ اس شعر کے بازار میں نکلنے سے پیشتر شعر میں مستعمل لفظ ’’بازار‘‘ میں اتر کر دیکھیے کیسی گرم بازاری ہے، اور پھر اس بازار کے کردار کو اپنی تہذیب کے آئینے میں ملاحظہ کیجیے تو آپ پر کھلے گا کہ ماضی میں شرفا بازار میں نکلتے ہوئے گھبراتے تھے۔ نکلتے بھی تھے تو محتاط ہو کر ۔ سہمے سہمے جسم سمیٹے ہوئے بدن چرائے ہوئے چلتے تھے۔ بازار لفنگوں اور اوباشوں کی گزرگاہ تھی۔ بازار میں کھانا پینا تو کجا باتیں کرنا تک معیوب سمجھا جاتا تھا۔بازار سے ’’بازاری‘‘ اور ’’بازاری پن‘‘ کی اصطلاحات وضع کی گئی تھیں، جنھیں تہذیب و شائستگی کی ضد کہا جاسکتا ہے ۔ کسی شخص کو بازاری کہنا گالی کے مترادف تھا۔ اب وہی بازار اپنے تمام تر بازاری پن کے ساتھ گھروں سے نکلتے ہی قدم لیتا ہے بلکہ گھروں کے اندر بھی داخل ہوگیا ہے۔ انسان کے تہذیبی، معاشرتی اور معاشی عروج و زوال کا سب سے طاقتور ذریعہ بازار ، جس نے گھروں کے چولھے ٹھنڈے کردیے ہیں۔ اب کھانے پینے کی ہر چیز بازار سے آجاتی ہے۔ زندگی کی ساری رونق ہوٹلوں میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔ بازار میں بازاریوں کا وہ اژدہام رہتا ہے کہ خدا کی پناہ! ماڈرن شرفا مع خواتین دکانوں کے سامنے جہاں فقرا بیٹھ کر کچھ کھاپی رہے ہوں کھڑے ہو کر کھانے پینے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ ( یہ بھی پڑھیں نسخۂ حمیدیہ میں غالب کے مقطعے ردیف الف تک -سید ثاقب فریدی )
شکیل جمالی نہایت باریک بیں شاعر ہیں۔ انھوں نے گھریلو زندگی اور روزمرہ کی ضروریات انسانی، معاملات و معمولات سے تعلق رکھنے والے غیر شاعرانہ الفاظ، غیر ادبی زبان اور گھسی پٹی باتوں کو بھی اس خوبی اور خوش سلیقگی سے شعر کے سانچے میں ڈھالا ہے کہ ان کے یہ اشعار بیک وقت دل اور دماغ دونوں پراثر انداز ہوتے ہیں۔ فن پر اگر ان کی گرفت مضبوط نہ ہوتی تو یہ مضامین مضحکہ خیز بن جاتے ، مگر ان کی ہنر مندی نے انھیں طنزو تلخی کی راہ پر ڈال دیا ۔ مثلاً یہ اشعار جن میں دال ، سبزی جیسی اشیائے خوردنی کو بطور تشبیہ ایک شعر میں باندھا گیا ہے اور دوسرے شعر میں دسترخوان کودل چاول کو خلوص اور کنکر کو غرض مندی اور مطلب برآری کا استعارہ بنا دیاہے۔
رات بے لطف ہے پرہیز کے سالن کی طرح
دن بھکاری کے کٹورے کی طرح خالی ہے
بہت چھوٹا ہے دسترخوان میرا
مگر کنکر نہیں ہیں چاولوں میں
زندگی دینے لگی پرہیزگاری کا سبق
اب تو ہم جیسے بھی سبزی دال کھانے لگ گئے
سبزی دال کے ساتھ پرہیز گاری اور پرہیز کی رعایت اور ’’ہم جیسے بھی‘‘ کی جتنی داد دی جائے کم ہے۔ ’’لگ گئے‘‘ اس پر مستزاد ہے۔ شکیل جمالی اپنی تہذیبی اقدار کے زوال پر ماتم کناں ہیں مگر اس طرح کہ نہ ماتم کی آواز سنائی دیتی ہے نہ آنسو نظر آتے ہیں۔ عصر رواں پر ان کے تبصروں کا لب و لہجہ درد مندی اور حقیقت پسندی اور فکر مندی سے عبارت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر ملال و اضمحلال کی ایک دھند سی چھائی رہتی ہے۔ جیسے یہ اشعار ؎
اب کھیل کے میدان سے لوٹو مرے بچو!
تا عمر بزرگوں کے اثاثے نہیں چلتے
غیبت میں نکل جاتے ہیں تفریح کے لمحے
اب محفل یاراں میں لطیفے نہیں چلتے
اجداد نے رشتوں کو سنبھالا بھی بہت ہے
اور شہر بھی کچھ دور ہے قصبے سے ہمارے
عصر حاضر کے مسائل، مجبوریاں،محرومیاں، معذوریاں ، شب و روز کے چھوٹے بڑے قصے، حکایتیں، شکایتیں ان کے یہاں سبھی کچھ ہے۔ شکیل جمالی نے سچی سچی شاعری کی ہے ؎
بے ضمیری مرے حالات کی مجبوری ہے
ورنہ مجھ ساکوئی خوددار نہیں ہوسکتا
نگاہیں پارسائوں پر لگی تھیں
مگر نیکی گنہگاروں میں نکلی
موت تو پھر بھی اپنے وقت پر آتی ہے
موت کا آدھا کام تو غم کردیتا ہے
شکیل جمالی اگر یہ دعویٰ کریں کہ ’’لگا رہاں ہوں مضامین نو کے پھر انبار‘‘تو کچھ ایسا غلط نہ ہوگا۔ انھوں نے اگر بڑے بڑے موضوعات کو اپنے اشعار میں جگہ دی ہے غزل کے روایتی مضامین کو تازہ تشبیہات و استعارات سے سجایا اور سنوارا ہے ۔ اپنے جذبات و احساسات کو نئے اسلوب میں ادا کیا ہے۔ تو روزمرہ کے واقعات انسانی رشتے، ان رشتوں کے نشیب و فراز اور اپنے تلخ و شیریں تجربات و مشاہدات کو بھی نہایت خوش اسلوبی سے اپنی شاعری میں پیش کیا ہے۔ بڑی ذہانت، ہنرمندی ، جاں سوزی اور سلیقے سے شاعری بنایا ہے۔ ایسی شاعری جو دل سے نکلتی ہے اور دل میں بیٹھ جاتی ہے۔ یا وہ شاعری جو دماغ کو اپنی گرفت میں لے کر دیر تک اور دور تک سوچنے پر مجبور کردیتی ہے۔ شکیل جمالی کے ان متفرق اشعار سے میری بات کی تصدیق ہوسکتی ہے ؎
ہر چاک میں پیوند لگانے کے لیے ہم
کھانے کے لیے آپ کمانے کے لیے ہم
اب ملیں تو کہاں ملیں اس سے
آج سے بند ہوگیا اسکول
میں چاہتا ہوں نہ ہو میری ذات کی تقسیم
وہ چاہتی ہے مجھے اوڑھنے بچھانے لگے
لڑکے یہ بھی بھول گئے نادانی میں
سب ہیں سی سی ٹی وی کی نگرانی میں
ترے بیمار موسم دیکھ کر گھر سے نکلتے ہیں
یہاں کچے گھڑوں پر کون دریا پار کرتا ہے
بلا بلا کے تھک گئے ہم اہل دل مگر اسے
کبھی بخار آگیا کبھی زکام ہوگیا
بس اک دھن ہے کہ اس کو ڈھونڈنا ہے
نہیں معلوم کیسے ڈھونڈنا ہے
ہر کسی کو اپنی مظلومی کا قصہ مت سنا
لوگ ظالم کی حمایت میں کھڑے ہوجائیں گے
شدید گرمی میں کیسے نکلے وہ پھول چہرہ
سو اپنے رستے میں دھوپ دیوار ہو رہی ہے
دماغ کو بھی دیا کر کبھی کبھی زحمت
دماغ دل کی طرح بائولا نہیں ہوتا
یہ تم کس عارضے میں مبتلا ہو
یہ کیسا غم لگا رکھا ہے جی سے
میں ساری عمر اکیلے گزار سکتا ہوں
مجھے تو صرف تمہارا خیال آتا ہے
اگر ہمارے ہی دل میں ٹھکانہ چاہیے تھا
تو پھر تجھے ذرا پہلے بتانا چاہیے تھا
اسے مشورے کی ضرورت نہیں
وہ تم سے زیادہ سمجھدار ہے
میں اس بھیڑ میں پیدل چلتے ڈرتا ہوں
لڑکے بالے کار اٹھائے پھرتے ہیں
ایسا ہی نہیں میرا ہی نشہ ٹوٹ رہا ہو
تم سے بھی تو اب سوئی میں دھاگا نہیں پڑتا
میری مٹھی میں ہے تعبیر تیرے خوابوں کی
بولی کیا چاہیے تجھ کو مری تنخواہ کہ میں؟
ان اشعار کی روشنی میں شکیل جمالی کا یہ دعویٰ صحیح معلوم ہوتا ہے کہ ؎
سب سمجھ بھی نہیں سکتے مرے جذبے کی تڑپ
سب اٹھا بھی نہیں سکتے مرے اشعار کا بوجھ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

