سائنس صرف ایٹم بنانے، جوہری توانائی حاصل کرنے، چاند پرکمندیں ڈالنے اورمختلف قسم کی ایجادوں کا نام نہیں بلکہ آج سائنس انسانی زندگی کے مختلف شعبوں پر حاوی ہے۔ لائبریری سائنس اور گھریلوسائنس ایسی اصطلاحوں سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جدید ٹکنالوجی نے تمام شعبوں میں ترقی کے سامان پیدا کیے ہیں۔ زراعت بھی ایساہی شعبہ ہے جو سائنسی ایجادات کے فیضان سے انقلاب سے ہم کنار ہوا۔ زرعی ترقی کے لیے مختلف قسم کی مشینیں وجود میں آئیں، اور ان کے استعمال سے حقیقتاً ترقی ہوئی۔ ہندوستان ایک زرعی ملک ہے اس کی معاشی بنیاد زراعت ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پچھتر فی صد کسان گاؤں میں رہتے ہیں، کسانوں کو جدیدایجادات سے آشناکرانے کے کئی طریقے ہیں جن میں بنیادی طور پرتین طریقے زیادہ کارگر ثابت ہوئے ہیں۔ان تین طریقوں میں پہلا نمبر ریڈیو کاہے، ریڈیوپر زرعی پروگرام نشرکرکے کسانوں کو کھیتی باڑی کے متعلق معلومات پہچانا، دوسرے گائوں کی پنچایت، پٹواری اور تحصیل کے دیگر کارکنان کے ذریعے، تیسرے کتب اور رسائل ذریعے۔ زرعی بیداری پیدا کرنے کے لیے کتابوں اور رسائل سے بھی بیش بہاکام لیاگیااور ان کی اہمیت وافادیت کوخاص طور پر محسوس کیاگیا، لہذا بہت سے رسائل خاص زرعی مسائل پر گفت وشنید کے لیے وجود میں آئے۔ ہندوستان میںاس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اردو سے بہتر کوئی اور زبان ذریعہ نہیں بن سکتی تھی۔ لہذا، اردو میں زرعی اصلاحات کونشر کرنے اور تمام فوائد کے حصول کے لیے زرعی معلوماتی رسالہـ’’ہل‘‘ الہٰ آباد سے شائع ہوا، یہ رسالہ حکومت یوپی کے محکمۂ گاؤں سدھارکاخاص رسالہ تھا۔
اس رسالے کا مقصد کسانوں کو جدید زرعی اصلاحات، مویشی بانی اور مویشیوں کی بیماری کا علاج بہترین بیجوں کاعلم، فصل کو نقصان پہچانے والے کیڑوں اور ان سے بچاؤ کے طریقوں پر مضامین شائع کرناتھا۔ اس رسالے کے تقریباًتمام شماروں میں ایک مضمون بعنوان’گاؤں سدھار ‘ مسلسل شائع ہوتاتھا۔ یہ مضامین دراصل گاؤں سدھار ہفتے کے موقع پر آل انڈیا ریڈیو لکھنؤ سے نشر کی گئی تقریروں کی تحریری شکل ہوتے تھے۔اس رسالے کی سب سے اہم بات یہ ہوتی تھی کہ اس شمارے میں اس بات کا خاص خیال رکھا جا تا تھا کہ موسم کے لحاظ سے جس فصل کی بوائی یا کٹائی کا وقت ہوتا اس کے متعلق مضامین کی تعداد زیادہ ہوتی۔ ( یہ بھی پڑھیں سلطنت خداداد کی تجارتی و زرعی پالیسیاں – ڈاکٹر عادل حیات)
نئے بیج اور جدید کھاد کے علاوہ بنجر زمین کو کاشت کے قابل بنانے کے طریقوں پر بھی مضامین شائع کیے جاتے۔ بنجر زمین پر کاشت ہونے سے ظاہر ہے کسان کی حالت بہتر ہو جاتی ہے۔ بنجر زمین پر کاشتکاری کاری کو ممکن بنانے کے لیے دیسی قدیم طریقوں کے علاوہ جدید کھاد کی افادیت اور موثر کردار کو شرح وبسط کے ساتھ سمجھایاجاتاتھا۔ یہاں دو مثالیں پیش کی جاتی ہیں:
جولائی سے نومبر تک محدود رقبے پر جانوروں کو چرانا اور وہیں پر رکھنااور اسی طرح ایک کے بعد دوسرے رقبے پر یہی طریقہ عمل میں لانا شیرہ کی کھاد کے استعمال کے ذریعے سے جو فی ایکڑ بارہ ٹن تک ڈالی جاسکتی ہے۔
مذکورہ بالا طریقوں میں اول الذکر قدیم؍دیسی طریقہ ہے جس میں کسان اپنی بنجر زمین پر اپنے جانور چراکر زمین کو قابل کاشت بناسکتاہے،دوسرے کھاد کے ذریعے۔ بنجر زمین ایک ایسامسئلہ ہے جس کو حل کرنے کے لیے سائنس دانوں نے مسلسل کام کیاہے۔ موجودہ دور میں بنجر زمین کی مٹی سائنس لیب میں جانچ کر اس میں جن چیزوں کی کمی یا زیادتی ہوتی ہے وہ دواؤں کے ذریعے پوری کی جا سکتی ہے، لیکن جس دور میں یہ رسالہ نکلتاتھا اس وقت ہندوستان میں اس طرح کی تجربہ گاہیں نہیں تھیں۔ اسی مضمون میں یہ طریقہ بھی لکھا ہے کہ بنجر زمین کی کچھ مٹی نکال کر اس میں تالاب یا زرخیز زمین کی مٹی ڈال دی جائے اس طرح بھی مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ تجربہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ طریقہ ایساموثر ہے کہ اس کے مقابلے میں دواؤں کا طریقہ اتنا کارگر نہیں۔ دوائیں مستقل علاج نہیں ہیں بلکہ وہ ایک یا دو فصل تک ہی اثر کرتی ہیں اس کے بعد دوبارہ دواؤں کااستعمال کرنا ہوتاہے،جن کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔
چوں کہ یہ رسالہ حکومت اتر پردیش سے شائع ہوتاتھا ، اتر پردیش ہندوستان میں سب سے زیادہ گنا پیدا کرنے والا صوبہ ہے اور گنا یہاں کی اہم فصل ہے۔ رسالہ ہل میں گنے کی کاشت، گنے کے بیج ، گنے کی فصل میں ہونے والی بیماریاں اور ان کے علاج کے متعلق اہم مضامین شائع ہوتے تھے۔ گنے کو کاٹ کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے بوائی کی جاتی ہے، اکثر ان ٹکڑوں میں دیمک لگ جاتی ہے جس سے فصل کو بہت نقصان ہوتا ہے۔ اس عیب کو دور کرنے کے لیے بہت سے طریقے رائج ہیں،گنے کے بیجوں کو دیمک کی تباہ کاری سے بچانے کے لیے ــــ’’ہل‘‘ نے جو تجاویز پیش کی ہیں وہ حسب ذیل ہیں:
گنے کے ٹکڑوں پر اکثر دیمکیں لگ جاتی ہیں اس لیے بوائی کرنے کے پہلے اس کاعلاج کر لیناچاہیے۔ اس کے لیے دس قطرے تارکول کو ایک گیلن پانی میں ڈال کر ٹکڑوں کو اسی میں ڈبو دیتے ہیں۔ استعمال کرنے کے پہلے اسے ابال لیتے ہیں۔ ٹھنڈے ہونے پر ٹکڑوں کو اس میں ڈبو کر رکھتے ہیں۔ اس میں یہ احتیاط رکھنی چاہیے کہ تارکول الگ نہ رہ کر خوب مل جائے ورنہ آنکھوں ]انکھوؤں[ کو نقصان پہنچائے گا۔
موجودہ دور میں دواؤں کو پانی میں ملا کر گنے کو ڈبویا جاتا ہے اور بعد میں بوائی ہوتی ہے۔ پانی میں ملائی جانے والی یہ دوائیں بازار میں دوہزار روپیے کی ۲۵۰ گرام ملتی ہیں۔ مذکورہ بالا طریقہ بھی دیمک سے بچاؤ کا ہے اور سستا بھی ہے، جس سے کسان کا خرچ بھی زیادہ نہیں ہوتا۔ جہاں تک دیمکوں پر اثر انداز ہونے کا معاملہ ہے، میرے تجربے کے مطابق دونوں ہی طریقے یکساں طور پر کارگر ہیں کسی کو دوسرے پر فوقیت حاصل نہیں۔ الا یہ کہ اول الذکر قدیم طریقہ ارزاں ہے۔
گنے کی فصل بوائی سے کٹائی تک نو یا دس ماہ میں تیار ہوتی ہے۔ گنے کی کاشت سے متعلق مضامین میں گنے کی بوائی سے کٹائی تک کے عرصے میں کسان کو کن خاص باتوں کا دھیان رکھنا ہے اور فصل کاتحفظ کیسے کرنا ہے وغیرہ مسائل پر اظہار خیال کیا جاتا تھا۔گنے کی کاشت کو بہتر بنانے کے لیے ’’گنے کی کاشت‘‘ کے متعلق مضامین میں کچھ ذیلی عنوانات بھی ہوتے تھے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
۱۔ آب و ہوا کی موافقت
۲۔ گنوں کی صوبہ وارانہ پیداوار
۳۔ آب و ہوا کا گنے کی پیداوار پر اثر
۴۔ پیداوار کے لیے موزوں زمین
۵۔ زمین کی مشقت اور گنا لگانے کا طریقہ
۶۔ قطاریں بنانا
۷۔ بھاری اور ہلکی زمین
۸۔ گنا لگانے کے طریقے میں اصلاح کرنا
۹۔ گنا لگانے کا مناسب وقت
۱۰۔ گنے کے بیجوں کا انتخاب
۱۱۔ بوائی کے بعد نگرانی
۱۲۔ آب پاشی
۱۳۔ پانی دینے کے ذریعے
۱۴۔ زیادہ ٹھنڈ سے فصل کا بچاؤ
۱۵۔ ضروری کھاد
۱۶۔ راب کی کھاد
۱۷۔ گنے گوڑنا
۱۸۔ گنے کی کٹائی
مندرجہ بالا ذیلی عنوانات کی تفصیل میں قدیم اور جدید دونوں طریقوں کا بیان شرح و بسط کے ساتھ ہوا کرتا تھا۔
گنے کی کاشت کے علاوہ، گیہوں کی فصل کی بوائی اور جدید طرز پر تیار شدہ بیجوں کی معلومات اور صوبہ اتر پردیش میں بیجوں کی دستیابی کے لیے قصبات و اضلاع میں قائم اسٹور؍ دوکانوں کی فہرست تیار کرکے رسالہ ہل میں شائع کی جاتی تھی تاکہ کسان کم قیمت پر بہترین بیج حاصل کرسکیں۔ جہاں اس رسالے میں جدید طرز کی کھاد کی معلومات فراہم کی جاتی تھی وہیں دیسی کھاد کو اور زیادہ موثر بنانے کے طریقوں پر بھی سیر حاصل گفتگو کی جاتی تھی۔ علاوہ ازیں جدید کھاد کے ناموں کے ساتھ ان کے استعمال کے طریقے اور کس فصل میں کتنی کھاد دینی چاہیے ان کے متعلق بھی مضامین شائع کیے جاتے تھے۔
کاشت کاری اور مویشی بانی میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ مویشیوں کی اہمیت کے پیش نظر زیر بحث رسالے میں مویشی بانی، مویشیوں کی افزائش نسل اور مویشیوں میں نمو پانے والی مہلک بیماریاں جیسے پکا ]منھ اور کھر پر ہونے والا ایک قسم کازخم جو مناسب علاج نہ ملنے کی صورت میں جان لیوا بھی ہوجاتا ہے[، دست، رنڈر پریسٹ ]ماتا[ وغیرہ۔ ان امراض کی پہچان اور مناسب علاج کے لیے قدیم دیسی طریقے اور جدید طریقوں کے ساتھ ساتھ اضلاع میں قائم جانوروں کے اسپتال کی فہرست بھی شائع کی جاتی تھی۔ مویشیوں میں دودھ کی مقدار بڑھانے، زیادہ گھی بنانے کے متعلق معلوماتی مضامین رسالے کے صفحات کی زینت ہوا کرتے تھے۔
ماہنامہ ’’ہل‘‘ کے بارے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس میں گائوں کے گیت، کہاوتیں اور اکثر دیہاتی کہانیاں بھی شائع ہوتی تھیں۔ اس اہتمام کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ تفریح کے ذریعے زرعی معلومات فراہم کرنا اس رسالے کا بنیادی اصول تھا۔ دراصل یہ ایک قسم کا باوقار صحافتی ہتھکنڈا ہے جو قارئین کو لطافت کے ساتھ سنجیدہ معلومات ذہن نشین کراتا ہے۔ چند مضامین غالباً تمام شماروں میں یکساں عنوان سے شائع ہوتے تھے البتہ ان کے لکھنے والے بدلتے رہتے تھے۔ مثال کے طور پر ’’ہل‘‘ میں ایک مستقل کالم ’’ہمارے جانور‘‘ شائع ہوتا تھا۔ اس کے کالم نگار بیشتر وٹرینری انسپکٹر ہوا کرتے تھے۔ مستقل شائع ہونے والے کالموں کے عنوانات ذیل میں درج کیے جاتے ہیں:
۱۔ ہمارے جانور
۲۔ عورتوں اور بچوں کی دنیا
۳۔ دیہاتی گیت؍ گاؤں کے گیت
۴۔ کھیتی باری
۵۔ ہماری کوآپریٹیو سوسائٹیاں
۶۔ دنیا کے اہم واقعات
۷۔ گھاگ کی ڈائری
بلاشبہ اس بات پر فخر کیا جاسکتا ہے اور اردو زبان کی مقبولیت و وسعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اعلیٰ طبقے سے لے کر کاشتکار بھی اردو زبان سے واقف تھے اور اردو میں کاشت کاری کے متعلق مضامین سے فیض یاب ہوتے تھے۔ ماہنامہ ’’ہل‘‘ عام طور پر ۱۰۰ صفحات کا ہوتا تھا لیکن بعض شمارے ۹۵ اور بعض ۱۰۲ صفحات کے بھی میرے مطالعے میں آئے۔ مضامین میں کسانوں کے فائدے اور ان کی معلومات کی باتوں کو بہت ہی عام فہم انداز (اس زمانے کے لحاظ سے، آج تو گویا عام فہم زبان کے معنی ہی بدل گئے ہوں) میں بحث کا حصہ بنایا جاتا تھا۔ اس رسالے کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ اردو زبان ایک زمانے میں لنگوافرانکا کی حیثیت سے جانی جاتی تھی۔ عام بیداری اور افادیت عامہ کے لیے اس زبان سے بہتر اور تیزرو ترسیل کا ذریعہ کوئی دوسری زبان نہیں ہوسکتی تھی۔ اور یہ بات صرف اسی ایک رسالے کی روشنی میں نہیں بلکہ اس سے قبل کے عہد میں جو تصنیفات منظرعام پر آئیں ان کی روشنی میں بھی کہی جاسکتی ہے۔ دلیل کے طور پر دکنی پائے گاہوں کی خدمات، دارالترجمہ عثمانیہ کی کوششیں، سائنٹفک سوسائٹی کی تحریک، دلی کالج اور رڑکی کالج کے نصاب کو پیش کیا جاسکتا ہے۔ ’’ہل‘‘ کے حوالے سے یہ بات بھی درج کرنے کے لائق ہے کہ بورڈ آف ایڈیٹرس کے سات ممبران میں سے چھ غیر مسلم ممبران ہیں اور زیادہ تر مضامین غیر مسلم اردو ارباب قلم کے ہیں۔
مقدور بھر چھان بین اور کوششوں کے باوجود مجھے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ماہنامہ ’’ہل‘‘ کس سنہ سے کس سنہ تک شائع ہوتا رہا۔ زراعتی سائنس کی ترویج و اشاعت اور کاشت کاری کے نئے طریقوں کی ترغیب و ترہیب میں اس اردو ماہنامے کی اہمیت و افادیت ساتھ ہی ساتھ آج کے دور میں اس قسم کے کسی رسالے کی معنویت و کمی کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اخیر میں ایک اشاریہ بھی درج کر دیا جائے۔ اشاریے کے تعلق سے یہ وضاحت کرنا چاہوں گا کہ یہ صرف انھی شماروں پر مشتمل ہے جو مجھے دستیاب ہوسکے۔میں نے اشاریے میں صرف انھیں تحریروں کو شامل کیا ہے جو سائنسی نوعیت کے ہیں۔ اس کے علاوہ اشاریے میں وہ تحریریں بھی شامل نہیں جو مستقل کالم کی حیثیت سے شائع ہوتی تھیں اور جن کا ذکر میں نے گذشتہ سطور میں کیا ہے۔
اشاریہ ماہنامہ ’’ہل‘‘
محکمۂ گائوں سدھار، حکومت یوپی، انڈین پریس، الہ آباد
مضمون نگار مضمون اشاعت
ابن علی، سید سنگھاڑے کی کھیتی اپریل ۱۹۴۴
ابن علی، سید شلجم کی کھیتی جولائی ۱۹۴۴
ابن علی، سید گنے کی بوائی اپریل ۱۹۴۴
احمد، منظور اوسر زمین کو قابل کاشت بنانے کے طریقے اپریل ۱۹۴۲
اختر، محمد ہندوستان کی پرانی اور آج کی پنجایتیں مارچ ۱۹۳۹
ادارہ تحقیق علم پرورش مویشیان مئی ۱۹۳۹
ادارہ سبز کھاد مئی ۱۹۴۴
ادارہ کاشت کاری کی گردش مئی ۱۹۴۴
ادارہ کھر پتوار جون ۱۹۴۲
ادارہ مخلوط اجناس کی کاشت کرنے کے قواعد جون ۱۹۴۴
ادوٹ، ایس -ایم کسان اور جنگل مئی ۱۹۴۲
استھانی، پربھا جنگل کے فائدے اور نقصان اگست ۱۹۴۲
اسمتھیز، ای-اے مٹی کا کٹنا اور باڑھ اپریل ۱۹۳۹
امام احمد، سید زمین سے پیداوار بڑھانے کی ریٖت جولائی ۱۹۴۴
اوستھی، ایس-ایس نائیٹروجن اورکسان فروری ۱۹۴۱
اوستھی، رمیش چند ادرک کی کاشت اپریل ۱۹۴۲
ایڈیچی، پی -ڈبلیو کمایوں کے پہاڑی دیہاتوں میں شہد کی مکھیاں کیوں کر پالی جاسکتی ہیں جنوری ۱۹۳۹
باجپئی، مارکنڈے دیہات کی راہ جنوری ۱۹۳۹
بسمل الہ آبادی ڈاکٹری امداد اور لوگوں کی تندرستی جنوری ۱۹۳۹
بھاٹیہ،دیاناتھ جنگلوں کی اہمیت اور ان کافائدہ دسمبر ۱۹۴۱
بھارگو، این-کے دودھ کا انتظام جون ۱۹۴۴
بھٹ، رودرت گرام سدھار اور دیہاتی ترقی اپریل ۱۹۳۹
بیگ،بی -ایم گنے کی کاشت اپریل ۱۹۴۲
پاٹھک، اندرپال ارہر اور مونگ پھلی کی کاشت اپریل ۱۹۴۲
پاٹھک، دین بندھو پپیتے کی کاشت دسمبر ۱۹۴۴
پانڈے، آر-ایل مرغی پالنا اور گاؤں سدھار مئی ۱۹۳۹
پربھو، جے-ایم لوبھو کسان کی حالت کیسے سدھرے مارچ ۱۹۳۹
پیارے لال، پنڈت کھیتی کا انتظام اپریل ۱۹۴۱
تیواری، مدن موہن دیمک کو دور کرنے کی کچھ ترکیبیں دسمبر ۱۹۴۱
ٹنڈن، رادھاناتھ چونا اور پودوں سے اس کا تعلق اگست ۱۹۴۱
جوشی، امبا دت پھول گوبھی کی کاشت فروری ۱۹۳۹
جھاجی، شیوا نند یوپی میں سنئی کی اہمیت اگست ۱۹۴۴
چشتی، افضل حسین کھیتی پر موسم کا اثر مئی ۱۹۴۲
حلیم، اے کھاد اپریل ۱۹۳۹
حیدری، وقار احمد پرانے باغات کی ناکامی کی وجہ اپریل ۱۹۴۱
داس، اے این دیہاتی کنویں اور گندگی سے ان کی حفاظت فروری ۱۹۳۹
داس، سی- مایا زمین کی زرخیزی مئی ۱۹۴۲
داس،سی۔ مایا اوسر کو زرخیز بنانا دسمبر ۱۹۳۸
دت، سی -پی پودا اور اس کا کام مئی ۱۹۴۱
دت، سی -پی زمین کی درجہ بندی جون ۱۹۴۱
دت، سی- پی فصلوں کو نقصان پہچانے والے پودے اگست ۱۹۴۱
دت،سی-پی زمین کو زرخیز بنانے والے مادے اور کھادیں دسمبر ۱۹۴۱
ساہ،رام لال پہاڑی علاقوں میں آلو کی کاشت جان ۱۹۴۱
سروپ، بابو رام بھنڈی کی کھیتی جولائی ۱۹۴۲
سنگھ، آر، پی مرغی پالنا جون ۱۹۴۲
سنگھ، بابو ماتا لال آلو کی کاشت ستمبر ۱۹۴۲
سنگھ، رام صورت ماہ اگست میں کھیتی اور باغبانی کے کام اگست ۱۹۴۲
سنگھ، رام صورت ماہ جولائی میں کھیتی اور باغبانی کے کام جولائی ۱۹۴۲
سنگھ، کے-کے ٹھاکر پیداوار اور بڑھنا جولائی ۱۹۴۲
سنگھ،بابو بشن کاشتکاری اور اوسر زمین ٹھیک کرنے کا طریقہ جنوری ۱۹۴۱
سنگھ،کے-ٹھاکر آلو کے بیج رکھنے کا طریقہ مئی ۱۹۴۲
شری واستو، بی- بی- لال سنئی کی ہری کھاد اور اس کا استعمال اپریل ۱۹۴۱
شکل، شری رام پیڑوں میں پھل نہ لگنے کے اسباب اور ان کی تدابیر مئی ۱۹۴۱
شکل، شری رام شہتوت کی کاشت فروری ۱۹۴۱
صدیقی، طفیل احمد مویشیوں کے لیے سب سے بری بیماری دسمبر ۱۹۳۸
عباسی، عبدالحی جانوروں کی پرورش اور ترقیِ دیہات فروری ۱۹۳۹
علی، محمد ناصر کاشت کاروں کے لیے ذیلی پیشے اور ان کی اہمیت اگست ۱۹۴۲
غنی، فاروق پیاز مئی ۱۹۴۱
فورڈھم، آر-ڈی پھلوں کی پیداوار اپریل ۱۹۳۹
کچھ رائو،رام بر گنے کی کاشت میں خیال رکھنے کے قابل خاص خاص باتیں جون ۱۹۴۲
کنہیا لال سیب کی پود تیار کرنا جنوری ۱۹۴۱
گرگ، آر-ایل گنے کو توڑنے والے کیڑوں سے بچنے کی ترکیب ستمبر ۱۹۴۲
گرگ، پیارے لال بارانی کاشت دسمبر ۱۹۴۱
گوپال، برج مویشیوں کا سوال دسمبر ۱۹۳۸
گوکھلے، دی-دی پیوندی بیر کی کاشت دسمبر ۱۹۴۴
مارش، پی-ڈبلیو صوبوں میں غلے کی فصلیں ستمبر ۱۹۴۲
مٹوبی، آر -این شہد کی مکھیاں اور پودے مارچ ۱۹۳۹
مٹو، آر-این شہد کی مکھی پالنے کے نئے اور پرانے طریقے جون ۱۹۴۴
مدن، شری کرشن گہرے تالابوں میں دھان کی کاشت اگست ۱۹۴۴
مشرا، جے-پی کسانوں کے مسئلے اپریل ۱۹۳۹
مشر، جے-پی کسانوں کے مسئلے دسمبر ۱۹۴۴
معین الدین،خواجہ مویشیوں کی بیماریاں اور ان کا علاج جون ۱۹۴۱
مفیدالمزارعین (ماخوذ) ڈرائی فارمنگ یعنی موسم گرما کی جوتائی اپریل ۱۹۴۴
مفیدالمزارعین (ماخوذ) کسانوں کے دشمن چوہے اور ان کو دور کرنے کی تدابیر مارچ ۱۹۴۴
نارائن، ٹھاکر راج دیہاتی صنعت و حرفت مئی ۱۹۴۴
ناراین،بدر گوبھی کا پھول جانا جنوری ۱۹۴۱
نیگی، ایس-ایس جنگل ہمارے لیے کیوں ضروری ہیں مئی۱۹۳۹
ورما،رنبیر دیہاتی اقتصادیات دسمبر ۱۹۴۱
ہاشمی، محمد حمزہ پھلوں کی کاشت فروری ۱۹۴۱
ہورا، سندر لال دھان کی کاشت اور مچھلیوں کی مصنوعی پرورش مارچ ۱۹۴۴
Dr. Mohd. Usman Ahmad
R/O mohalla Qazizadgan
karal Road chandpur
Dist. Bijnor U.P, 246725
Mob: 9015732249
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

