Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

ہندوستانی حج ناموں میں جزیرہ نمائے عرب کے تہذیبی نقوش- پروفیسر خالد محمود

by adbimiras ستمبر 25, 2020
by adbimiras ستمبر 25, 2020 0 comment

جزیرہ نمائے عرب اور ہندوستان، دونوں قدیم ملک ہیں اور دونوں کے رشتوں کی تاریخ بھی قدیم ہے۔ ظہور اسلام سے قبل ہندو عرب کے تجارتی تعلقات قائم ہوچکے تھے۔ ظہور اسلام کے بعد جب ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا تو رفتہ رفتہ مسلمان پورے ملک میں پھیل گئے۔ مقامی لوگوں نے بھی بڑی تیزی سے اسلام قبول کیا جس کی وجہ سے چند صدیوں میں مسلمانوں کی تعداد کروڑوں تک پہنچ گئی۔ بیرون ہند سے آنے والے مسلمانوں نے جن میں ترک، افغان اور ایرانی سبھی شامل تھے ہندوستان کو اپنا وطن بنا لیا اور یہیں رچ بس گئے۔ مقامی لوگوں کے ساتھ ان کے تہذیب اور لسانی رشتے give and takeکے فطری اصولوں کی بنیاد پر استوار ہوئے۔ ان رشتوں کی بدولت آہستہ آہستہ ایک نیا کلچر پیدا ہوا جس کے بطن سے اردو کی پیدائش عمل میں آئی۔ مسلمانوں کے مذہب کا تعلق ملک عرب سے ہے۔ ان کے پیغمبر حضرت محمدﷺعرب تھے۔ اسلام ان کا کعبہ عرب میں ہے اوران کی آسمانی کتاب قرآن حکیم عربی زبان میں نازل ہوئی۔ اس لیے ان کے عقیدے اور عقیدت کا مرکز بھی عرب ہی قرارپایا۔نتیجہ کےطورپران کی فکری اور عملی وابستگی عرب سے قائم ہوگئی۔ اسی وابستگی کی وجہ سے ہندو عرب اور ہندو ایرانی کلچر کو فروغ حاصل ہوا جس کے اثرات مختلف علوم و فنون ، تہذیب و ثقافت خصوصاً تعمیرات میں صاف دکھائی دیتے ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں نے جب اپنے مذہبی عقائد کے اس پس منظر کے ساتھ بغر ض عمرہ یا حج بیت اللہ سرزمین عرب پرقدم رکھا تو ان میں سے کئی زائرین اور عازمین حج و عمرہ نے اپنے جذبات و احساسات کے عقیدت مندانہ اظہار کے طور پر عرب کی تہذیبی اور ثقافتی زندگی کو اپنے حج ناموں کی زینت بنایا۔ سرزمین عرب کے تعلق سے یہ حج نامے ہندوستانی مسلمانوں کے تجربات و مشاہدات اور جذبات و احساسات کے اظہار کا راست وسیلہ ہیں۔

اردو میں سفرناموں کا آغاز انیسویں صدی کے ربع ثانی میں ہوا۔ یوسف خاں کمبل پوش نے ۱۸۳۷ میں انگلستان کا سفر کیا اور ’’تاریخ یوسفی‘‘ معروف بہ ’’عجائبات فرنگ‘‘ کے نام سے اردو کا پہلاسفرنامہ لکھا۔ یہ سفرنامہ پہلی باردلی کالج کے مطبع العلوم سے ۱۸۴۷ میں شائع ہوا۔ اس کی اشاعت کے تقریباً پچیس سال بعد ۱۸۷۱ میں اردو کا پہلا حج نامہ حاجی منصب علی میرٹھی کا ’’ماہ مغرب‘‘ ، معروف بہ ’’کعبہ نما‘‘ زیور طباعت سے آراستہ ہوا۔

حج ناموں کے مقاصد عام سفرناموں سے مختلف ہوتے ہیں۔ حج کے سفرنگار عشق الٰہی اور عشق رسول میں سرشار ہونے کی وجہ سے عقیدت مندانہ جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے اسالیب میں سنجیدگی، بردباری اور جذبات میں رقّت، احساس ندامت ، پاکیزگی اور عقائد کی کارفرمائی ہوتی ہے۔ حج نامے عموماً دوسرے مسلمانوں کی رہبری کے لیے تحریر کیے جاتے ہیں اس وجہ سے ان میں مقامات مقدسہ کا تعارف ، سفر کے اخراجات ، قیام و طعام کے مسائل اور ان کے حل ، حج کے دوران پڑھی جانے والی دعائیں اور چھوٹے بڑے بہت سے معاملات اور سفر کی تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔ حج نامے خدمت خلق اور حصول ثواب کے علاوہ اس مبارک سفر کی یادگار کے طورپر بھی لکھے جاتے ہیں۔ ایک مسلمان کے نزدیک حج کا سفر روح کا سفر ہے۔ اس میں ہر نظر ارض تمنا کا طواف کرتی ہے اور حج نامہ نگار مسرت اور شکر گزاری کے جذبات سے لبریز ہو کر اپنی کیفیات قلب کو صفحۂ  قرطاس پر ا تارنے کی کوشش کرتا ہے اس لیے اس سفر میں خارجی اشیا کی اہمیت نسبتاً کم ہوتی ہے۔ اس کے باوجود حج نانہ نگار عرب کی تہذیبی اور معاشرتی زندگی کے نقوش اپنے سفر نامے میں محفوظ کرلیتا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو عرب کے ذرے ذرے سے محبت ہے۔ وہ یہاں کی ہر خوبی پر خوشی سے جھوم اٹھتا ہے اور یہاں کی چھوٹی سی چھوٹی خامی اس کے قلب و ذہن پر بار بن جاتی ہے۔ وہ اس سرزمین کو مثالی اور یہاں کے باشندوں کو بے مثال دیکھنا چاہتا ہے۔ اس سرزمین سے مسلمانوں کی محبت ان کی عقیدت اور عقیدے کا حصہ ہے۔

حج نامہ نگاروں نے یوں تو عرب کی ایک ایک چیز اور ایک ایک بات کا ذکر محبت سے کیا ہے لیکن جن چیزوں کا خصوصیت کے ساتھ تذکرہ حج ناموں میں ملتا ہے ان میں شوط، اسطباغ، رمل، میزاب، صفا، مردہ، سعی، حجر اسود، آب زم زم ، حلق ، قربانی، منیٰ ، عرفات، مزدلفہ ، جمرات اور اگر رمضان ہوں تو سحری ، افطار ، تلاوت ، نماز، روزہ، دیدار کعبہ اور مدینہ طیبہ میں روضۂ اقدس ، جنت البقیع، قدیم مساجد ، غار حرا، غار ثور، میدان بدر، جبل احد اور دوسری زیارت گاہیں شامل ہیں۔ ان مناسک حج و عمرہ اور متعلقات عبادات شب و روز کے علاوہ حج ناموں میں جن تہذیبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا ذکر زیادہ نظر آتا ہے ان میں عربوں کے عادات و اطوار، گفتگو، لب ولہجہ، لباس، رہن سہن، پوشاک، مزاج، طرز عمل، مکانات ، بود وباش، کھانا پینا، بازار، اشیائے بازار، کھجوریں، شوق و شغف، سفر، انداز سفر، وسائل سفر، اونٹ، گھوڑا، خچر، گدھا، شادی بیاہ ان کے علاوہ چوری، ڈاکہ ، لوٹ، مار ، قزاقی، رشوت، بھیک ، ڈرائیور، خیمے ، فصلیں ، قافلے، اخلاق و عادات ،مکی اور مدنی مزاجوں کا فرق، تواضع، فیاضی، غرض عربوں کی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہ ہوگا جس پر حج نامہ نگاروں نے مختصر یا مفصل روشنی نہ ڈالی ہو۔ اگر ان تمام سفرناموں کی تفصیلات جمع کرلی جائیں تو عرب تہذیب و ثقافت اور تاریخ کی کئی جلدیں تیار ہوسکتی ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہندستانی مسلمانوں کو ملک عرب اور باشندگان عرب سے جوگہرا لگائو اور جذباتی وابستگی ہے وہ فاصلے سے کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہے جس طرح فراق یار سے عشق میں شدت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اسی طرح ہندو عرب کے زمینی فاصلوں نے ہندستانی مسلمانوں کے دلوں میں سرزمین عرب کی محبت اور عقیدت میں اضافہ کردیا ہے۔

ہندستانی مسلمان ہر گز نہیں چاہتا کہ کوئی بھی شخص اس کے پیغمبر ﷺ کی قوم یا ان کی عربی زبان پر حرف گیری کرے۔اگرکوئی ایساکرتاہےتواسے سخت تکلیف پہنچتی ہے۔ علامہ شبلی کے ’’سفرنامۂ روم مصر و شام‘‘ کے قاری کو یاد ہوگا کہ دوران سفر شبلی کے استاد پروفیسر آرنلڈ عربی سیکھ رہے تھے تو ایک متعصب اسپینی عیسائی بھی شپ پر ان کا ہم سفر تھا یہ شخص مسٹر آرنلڈ کے عربی پڑھنے پر بہت جلتا اور عربی زبان کو اونٹوں کی زبان کہہ کر اس کا مذاق اڑاتا۔شبلی ان باتوں سے بدمزہ اور رنجیدہ ہوجاتے مگرغریب الوطن تھے اس لیے مجبوراً خاموش رہنا پڑا۔ اسی طرح جب شبلی کا جہاز عدن کے ساحل پر لنگر انداز ہوا تو صومالی قوم کے بہت سے لڑکے ڈونگیوں میں سوار ہو کرجہاز کے نزدیک آگئے اور جہاز والوں سے انعام لینے کے لیے نہایت بے ہودہ اور مبتذل حرکتیں کرنے لگے۔ جہاز کے مسافر دونی چونی سمندر میں پھینک دیتے تو فوراً غوطہ مار کر پیسے نکال لاتے۔ دوسرے مسافر یہ ماجرادیکھ کر محظوظ ہوتے لیکن شبلی افسردہ اور ملول ہوگئے اور عرب قوم کی اس حالت پر ان کا دل بھر آیا۔ بعد میں جب معلوم ہوا کہ صومالی قوم عرب نہیں تب جی کا بوجھ ہلکا ہوا۔ محبت اور عقیدت کے اس فطری جذبے کے ساتھ ایک حاجی یا زائرجب رخت سفر باندھ لیتا ہے تو راہ میں ایسے بے شمار واقعات پیش آتے ہیں جنھیں دیکھ دیکھ کر وہ کہیں مسرور و شاداں ہوتا ہے اور کہیں افسردہ و ملول اور کبیدہ خاطر نظر آنے لگتا ہے۔کچھ واقعات دلچسپ اور دل پسند ہوتے ہیں تو کچھ دل شکن اور دل آزار بھی ہوجاتے ہیں ۔ مگر ارض نبیؐ میں دل بستگی سے دل گرفتگی تک کوئی بھی مرحلہ ہو ایک مسلمان کے دل میں ہمیشہ محبت کا دریا موجزن رہتا ہے اور حج کے سارے قدیم و جدید حج نامے اسی جذبۂ محبت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان کے مطالعہ سے عرب کی تہذیب و ثقافت اور معاشی و معاشرتی تبدیلیوں کی سمت و رفتار کا اندازہ بھی ہوجاتا ہے۔ یہاں چوں کہ اردو سفرناموں کے حوالے سے عرب تہذیب و ثقافت کا مطالعہ مقصود ہے اس لیے سب سے پہلے بطور حوالہ حاجی منصب علی میرٹھی کے تحریر کردہ اردو کے اولین حج نامے ’کعبہ نما‘‘ کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ یہ حج نامہ آج سے تقریباً ڈیڑھ سو  برس پہلے کی مکی زندگی خصوصاً عربوں کی بود و باش پر بھر پور روشنی ڈالتا ہے۔ حاجی منصب علی لکھتے ہیں:

’’مکہ معظمہ کے مکانات کئی کئی منزل بلند ، ہر درجے میں چاروں طرف چوبی دروازے خوش نما ، ہوا کے واسطے ہوتے ہیں ۔ ان مکانات میں صحن نہیں ہوتا۔ کوئی موسم ہو مخلوق مکانوں کے اندررہتی ہے ۔ چار پائی کا رواج بہت کم ہے بلکہ نہیں۔ اس کے بدلے گدے بہت ملائم، نفیس طرح بہ طرح چھینٹوں کے ، دیوار سے لگاکر بچھاتے ہیں۔ درمیان میں قالین یا فرش ہوتا ہے۔ تکیے تین فٹ لمبے ، دوفٹ اونچے بوٹہ دار چھینٹ کے جو اسی کے لیے مخصوص ہیں دیواروں سے لگے رہتے ہیں اور روشنی کو چربی کی بتی ولایتی یا کیروسین کی قسم شیشے کے لیمپ میں جلاتے ہیں جس میںدھواں نہیں ہوتا اور مکانات سے عفونت ہوا دور کرنے کو اگربتی وغیرہ خوشبوئیں بخور کرتے ہیں۔ اہل مکہ لباس عمدہ رنگین مثل بانات قیمتی صوف وغیرہ پہنتے ہیں۔

(ماہ مغرب المعروف بہ کعبہ نما از حاجی منصب علی میرٹھی، ۱۸۷۱)

حاجی منصب علی نے مکہ معظمہ کے گھروں کے اندر کی آرائش و زیبائش کا ذکر کیا ہے جو نہایت خوش نما معلوم ہوتی ہے۔ اسکے برعکس خطیب قادر بادشاہ نے اپنے حج نامے ’’سفر حجاز‘‘ مطبوعہ ۱۹۰۷ میں مکہ معظمہ کی شہری صورت حال کو نہایت ابتر اور افسوس ناک بتایا ہے۔ ان کے سفرنامے کے مطابق:

’’شہر مکہ میں کوئی میونسپلٹی یعنی محکمہ صفائی نہیں ہے۔ راستوں کو خس و خاشاک سے پاک و صاف رکھنے کا کوئی معقول انتظام ہے نہ راتوںکو حسب دل خواہ چراغوں کا اہتمام ۔ علی الخصوص ایام بارش میں سڑکوں کی ناہمواری سے پانی کا جا بجا ٹھہرنا ، کیچڑ کی بھرمار رہگزاروں کے لیے سخت تکلیف کا باعث ہے۔ نہیں معلوم کہ ترکی حکام کی کس لیے اس پر توجہ نہیں۔ ایسا نامی گرامی شہر جس کی عظمت اور بزرگی کا سارا جہاں معترف ہے جوتمام دنیا کے مسلمانوں کا دینی مرکز ہے۔ جہاں ہزاروں لاکھوں آدمیوں کا ہر سال اجتماع ہوتا ہے اس کو آراستہ و پیراستہ نہ رکھنا ۔ یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دینا یہ بھی ہم مسلمانوں کی بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے۔‘‘

(سفرنامۂ حج، از خطیب قادر بادشاہ، ۱۹۰۷)

ڈاکٹر نور محمد عباس نے بھی عربوں کے عادات و اطوار اور رہن سہن کا ذکر بڑی وضاحت کے ساتھ کیا ہے۔ انھوں نے ۱۹۰۵ مین حج کی سعادت حاصل کی تھی۔ ان کا حج نامہ ’’رفیق الحجاج‘‘ روزنامچے کی شکل میں ’’ پیسہ اخبار‘‘ لاہور میں شائع ہوتا رہا۔ ۱۹۰۷ میں منظر عام پر آیا۔ وہ لکھتے ہیں:

’’عرب لوگوں کا گزر ان اعلیٰ درجے کا امیرانہ ہے ۔ لباس و خوراک میں صفائی کا بہت خیال کیا جاتا ہے۔ مکانات کو توعجیب طرح سے سجایا جاتا ہے۔ جرمن و فرنچ فرنیچر و سامان آرایشی کو زیادہ وقعت کی نگاہ دے دیکھا جاتا ہے۔ مکانوں میں سونے کے واسطے چار پائیاں نہیں۔ مکان میں اونچے بسترے نفیس وقیمتی لگا کر زمین پر سوتے ہیں اور تکیے گائو تکیے کا عام رواج ہے اور حقہ نوشی بکثر ت ہے۔ ایک قسم کا طویل لمبا حقہ مشہور ہے۔ قہوہ چائے بغیر دودھ کے عرب کی خوراک میں شامل ہے اور مہمان کو سب سے اول اسی کی خاطر کی جاتی ہے۔ خلق ، حسن ، وجہ وشکل توانائی وزیر کی، تہذیب و شرافت میں عرب سے بڑھ کر کوئی دنیا میں نہیں جس نے سیکھا عر ب سے سیکھا۔‘‘

(رفیق الحجاج، از نور محمد صابر، ۱۹۰۷)

حاجی منصب علی نے مکہ والوں کو مزاجاً درشت، طالع آزما اور جھگڑالو قرار دیا ہے جب کہ اہل مدینہ کی تعریف کی ہے:

’’مدنی خوبصورت ، نیک سیرت، خوش خلق، نرم خو، بردبار، پسندیدہ اطوار، صابر ، قانع، خوش پوشاک، نفیس مزاج ہوتے ہیں۔ جب طفل نوزائیدہ، چالیس روز کا ہوجاتا ہے ، روضۂ اقدس میں لے جاتے ہیں ۔ اس عمل سے انسان میں ملکوتی صفات ، حمیدہ خصالی پیداہوجاتی ہے۔

(کعبہ نما، از حاجی منصب علی)

ایک اور حج نگار حاجی علیم الدین نے ’’رسالہ حج‘ ‘ میں عرب کے بازار کی ان الفاظ میں تصویر کشی کی ہے:

’’ملک عرب میں دستور ہے کہ ہر محلے اور عام گزر گاہ اور مقامات تفریح پر کسی مکان و دکان میں سرراہ قہوہ خانہ قائم کرلیتے ہیں۔ بیٹھنے کا سامان ملکی رواج کے موافق ہوتا ہے۔ ہر آدمی بلا تمیز و تخصیص اس میں جاسکتا ہے اورجو چیز چائے، قہوہ، حقہ منظور ہو طلب کرسکتا ہے۔‘‘

(رسالہ حج از حاجی علیم الدین ، ۱۸۹۲)

حاجی تجمل حسین نے اپنے حج نامے ’’سراج الحرمین‘‘ مطبوعہ ۱۹۷۳ میں مکہ معظمہ سے مدینہ طیبہ کی مسافت کا حال بیان کیا ہے ۔دونوں شہروں کے درمیان ڈھائی سو کوس کایہ طویل فاصلہ کس طرح طے ہوتا تھا انھیں کے قلم سے ملاحظہ کیجیے:

’’مکہ معظمہ سے مدینہ طیبہ شمال کی طرف تخمیناً دو سو پچاس کوس سے زیادہ ہے۔ راہ میں کوئی شہر نہیں ملتا اور سوائے درخت ببول کے نہ کوئی درخت سایہ دار ہے اور نہ پھل دار، البتہ رایق اور صفرا وادی میں قصبات کے آبادی اور بعض قسم کی زراعت ہوتی ہے اور کھجور کے باغات بھی ہیں ورنہ بنجر کوہستانی اورکف دست میدان کے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ سفر کا یہ دستور ہے کہ کئی ہزار آدمی اکھٹے ہو کر کرائے کے اونٹوں پر جایا کرتے ہیں اور تمازت آفتاب کے سبب رات کو زیادہ تر چلتے ہیں جس جگہ کوئی کنواں یا شیریں پانی کا چشمہ ہوتا ہے ، وہیں قیام کرتے ہیں ۔ چنانچہ منزل کا نام بھی کنویں کے نام سے مشہور ہوجاتا ہے۔بدوی عرب جو جابجا پہاڑوں پر بود و باش رکھتے ہیں وہ قافلے کے پہنچنے کی خبر سن کر لکڑی ، پانی ، گوشت ، انڈے ، روغن زردی اور اناج و ترکاری، تربوزہ، ککٹری وغیرہ بیچنے کو اکثر مقامات پر آجاتے ہیں۔‘‘

(سراج الحرمین ، از تجمل حسین، ۱۹۷۳)

مگر اس راہ کی صعوبتوں کے بارے میں مرزا عرفان علی بیگ کے مشاہدات کچھ اور ہی ہیں ۔مرزاعرفان علی بیگ کا حج نامہ ’’سفر نامہ حجاز‘‘ مطبوعہ ۱۸۹۰ حاجی تجمل حسین کے ’’سراج الحرمین‘‘ سے محض بائیس برس کے بعد منظر عام پر آیا۔ اس میں انھوں نے مسافروں کے جان و مال کے غیر محفوظ ہونے کی حکایتیں بیان کی ہیں ۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’ابھی جو قافلہ مدینے منورہ سے قبل از حج لوٹا ہے اس میں بہت سے ہندستانی گم ہیں۔ بعضوں کے قتل کی توچشم دید حکایتیں میں نے خود سنی ہیں۔ ایک بڑھیا کوروتا دیکھ کر میرے آنسو نکل پڑے، جب اس نے ذکر کیا کہ صرف دو آنے پیسے اس کے شوہر کے پاس تھے جو کمر میں ڈالے پیشاب کو اترا تھا مگر پھر نہیں لوٹا۔‘‘

(سفرنامہ حجاز، از مرزا عرفان علی بیگ)

انیسویں صدی کے حج ناموں میں قرنطینہ کا ذکر بھی ملتا ہے ۔ یہ ایک قسم کا ہیلتھ کیمپ ہوا کرتا تھا ۔ا س میں صحت کی جانچ کرنے کے لیے حاجیوں ایک صحت افزا مقام پر اتارا جاتا۔ ان کے سامان کو بھپا را دیا جاتا اور مریضوں کا علاج کیاجاتا لیکن یہ سب کہنے کی باتیں تھیں۔ سچائی یہ ہے کہ اس کیمپ میں حاجی صاحبان کو اتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا کہ وہ اس جگہ سے نجات حاصل کرنے کے بعد خدا کا شکر ادا کرتے کہ اس نے صحیح سلامت اس قید سے آزاد کردایا۔ مرزا عرفان قلی بیگ نے اس مرکز صحت کے مصائب کا بیان نہایت تکلیف کے ساتھ کرتے ہوئے آخر میں لکھا ہے:

’’لاحول ولا قوۃ‘‘ یہ عجیب تماشا ہے کہ تحفظ صحت کی غرض سے تو قرنطینہ میں اتارے جاویں اور پھر ایسے مارے جاویں۔‘‘

(سفرنامہ حجاز، از مرزا عرفان علی بیگ)

بیسویں صدی میں ربع دوم کے سفرنامہ نگاروں میں مولانا حسن الدین احمد خاموش کاسفرنامہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ انھوں نے تقریباً پندرہ ماہ کا طویل عرصہ مکہ معظمہ، مدینہ منورہ اور طائف میں گزارا۔ ان کا سفرنامہ ۱۵؍ فروری ۱۹۳۳ کے درمیان عرب میں گزرے ہوئے شب و روز کے کوائف پر مشتمل ہے۔ مولانا حسن الدین احمد کے زمانے کا عرب یقینا آج کے عرب سے بہت مختلف تھا۔ نہ اس وقت آج کی سی فارغ البالی تھی اورنہ عیش کوشی کے اتنے سامان میسر تھے۔ افلاس، معاشی بدحالی اور تنگ دستی نے باشندگان عرب کو فقر و فاقہ کی زندگی گزارنے پر مجبور کررکھا تھا۔ آج کی دنیا جس قوم کے آگے ہاتھ پھیلائے کھڑی ہے اس وقت تنگ دستی کی ماری ہوئی اسی قوم کے افراد خانہ کعبہ میں حاجیوں کے آگے ہاتھ پھیلا پھیلا کر مسکین مسکین کی صدائیں لگایا کرتے تھے۔حسن الدین احمد نے اس تکلیف دہ صورت حال کا نہایت غم زدہ اندازمیں ذکر کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’نمازیوں اور طواف کرنے والوں کو حرم کے اندر اگر کوئی تکلیف دہ چیز ہے تو وہ سائلوں، گدا گروں اور کنگلوں کا ہجوم ہے۔ میرا خیال ہے کہ جتنے حاجی سب ملا کر ہوں گے اس کے دس بلکہ بیش گنا یہاں گدا گر ہیں اور اس میں شک نہیں کہ اللہ معاف کرے یہ کہے نہیں رہا جاتا کہ عرب کی مقدس سرزمین پر یہ بدنما داغ ہے۔‘‘

قدیم عرب میں اونٹ اور گھوڑے کے ساتھ خچر اور گدھے بھی عام آدمی کی آمد و رفت کا خاص ذریعہ تھے۔ عرب کے اونٹوں اور خصوصاً گھوڑوں کی شہرت کا ڈنکا تو سارے عالم میں آج تک بجتا ہے مگراندورون شہر گدھے کی سواری اس قدر عام تھی کہ تقریباً ہر سیاح اور ہر سفرنامہ نگار نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ہمارے ملک ہندستان کی طرح گدھا نہ تو وہاں حماقت کی علامت ہے اور تضحیک و تمسخر کا ذریعہ بلکہ یہاں یہ چوپایہ ایک حلیم لاطبع ، بردبار، جفا کش اور وفادار جانور خیال کیا جاتا ہے۔ جو دوسرے کاموں کے علاوہ سواری کے کام بھی آتا ہے۔ حسن الدین احمد لکھتے ہیں:

’’یہاں ہر امیر و رئیس اور شریف گدھے پالتے ہیں اور ان کو خوب کھلاتے پلاتے اور نہلاتے ہیں ۔ان کے جسموں پر مہندی اور دوسرے رنگوں سے بیل بوٹے بناتے ہیں اور ان کے چار جامے اور زین قیمتی ہوتے ہیں اور ان کے چاروں طرف پھندنے لٹکتے رہتے ہیں ۔ ان پر سب فخریہ سواری کرتے ہیں۔ چابک سواروں سے ان کو پھرایا جاتا ہے ۔ بڑے بڑے رئیس عرب زریّں جبّہ پہنے ہوئے گدھے پر جار ہے ہیں اور گدھے کے گلے میں گھنگھرو بجتے جاتے ہیں۔ کوئی گدھا آہستہ نہیں چلتا۔ میرے خیال میں کوئی فی گھنٹہ چھ سات میل کی رفتار سے جاتے ہیں۔ قد و قامت میں عام ہندستانی گدھوں سے زیادہ اونچے نہیں ہوتے ۔ میںنے ارادہ کرلیا کی میدان عرفات میں داخل ہوتے وقت ایک روز گدھے پر بیٹھ کر سنت نبوی کا ثواب اپنے نامۂ اعمال میں ضرور لکھواؤں گا۔‘‘

(مرقع حجاز از حسن الدین احمد خاموش)

اس عہد کے عرب میں معاشی بدحالی کے باوجود کوئی ملازمہ یا ملازم ملنا دشوار تھا۔ البتہ نکاح کے لیے عورت آسانی سے مل جاتی تھی۔ نکاح اور طلاق کی آزادی حاصل ہونے کی وجہ سے عام طور پر لوگ اس آزادی کا جا و بے جا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ حسن الدین احمد رقم طراز ہیں:

’’یہاں کسی نوکر کا ملنا مشکل ہے مگر عورت سے نکاح کرکے خدمت لینا آسان ہے اس لیے اکثر مہاجرین کو یہی کرنا پڑتا ہے کہ بجائے کسی کھانا پکانے والی کو تلاش کرنے کے بس کسی سے دو بول پڑھالیتے ہیں اور ان کو ایک اچھی خدمت گار ، ایک ا چھی باورچن اور ایک اچھی دھوبن مل جاتی ہے۔ کھانا کھلایا، کپڑے پہنائے اور چند ریال مہرے دے دئیے۔ جب تک چاہا یہ رشتہ رکھا جب جی اکتایا کہہ دیا جائو طلاق ہے۔‘‘

(مرقع حجاز)

ان دنوں عرب کے دھوبی بھی حیرت انگیز تھے۔ یہ دھوبی عام دھوبیوں سے بہت مختلف ہوا کرتے تھے۔ یہ کوئی پیشہ ور دھوبی نہیں بلکہ گھروں میں بیٹھنے والی خواتین اور بیبیاں تھیں جو چولہے کی راکھ سے کپڑے اجلے کردیتی تھیں۔ عرب کی ان کفایت شعار خواتین کا تعارف مولانا حسن الدین احمد نے ان الفاظ میں کرایا ہے:

’’اہل عرب عموماً صفائی پسند ہیں۔ میں نے کسی کو میلے کپڑوں میں نہیں دیکھا۔ میں حیران تھا کہ دھوبی تو اس ملک میں ہیں نہیں پھر بھی ہر شخص ہمیشہ سفید براق لباس میں نظر آتا ہے۔ اب معلوم ہوا کہ عرب خصوصاً مکہ کی ہر عورت ایک قابل دھوبن ہے۔ لڑکیوں کو سالن پکانا اور کپڑے دھونا ضرور سکھایا جاتا ہے اور ہنر چاہے جانیں نہ جانیں۔ بعض بعض سینا پرونا اور کاڑھنا بھی جانتی ہیں۔ روٹی پکانا یہاں کوئی نہیں جانتا۔ چپاتی پکانا اگر کوئی جان لے تو وہ تماشا سمجھا جائے۔ کپڑے دھونے کی صنعت یہاں کے گھروں میں عجیب ہے یعنی تھوڑے سے پانی اور طشت میں تھوڑا سا صابن خرچ کر کے پچاسوں کپڑے دھو لیتی ہیں۔ نہایت صاف اجلے اور استری کیے ہوئے۔ عورتیں کرتی یہ ہیں کہ پہلے چولھے کی راکھ ایک بڑے برتن میں کھول کر اس کا پانی نتھار لیتی ہیں۔ اس پانی میں کپڑے ابال کر پھر توڑا پانی صابن ملا ہوا ڈال کر دھوتی ہیں پھر ڈوری پر ڈال کر سکھالیتی ہیں۔ دوسرے دن ذرا سا کلف اور ہلکا سا نیل دے کراستری کرلیتی ہیں۔ یہاں اگر کسی کے کپڑے جسم پر میلے ہوں تو دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ یا تو بلا بیوی کا مرد ہے یا بیوی پھوہڑ ہے۔‘‘

(مرقع حجاز)

مولاانا حسن الدین احمد کے علاوہ عرب کے گدھوں اور بدوؤں کے بچوں کی بھیک کا ذکر مولانا غلام رسول مہر اور مولانا مسعود عالم ندوی نے بھی کیاہے ۔ مولانا مسعود عالم ندوی بدوؤں کو بھیک مانگتے دیکھ کر غمزدہ ہوجاتے ہیں اور غیرت قومی سے انھیں جو صدمہ پہنچتا ہے اس کا اظہار اپنے سفرنامے ’’دیار عرب میں چند ماہ‘‘ کے صفحات پر ان الفاظ میں کرتے ہیں:

’’ریاض اور کویت کی درمیانی منزلوں کی طرح یہاں بھی بدؤں کے لڑکے روٹی کے ٹکڑوں کی تلاش میں ہر طرف ہاتھ پھیلاتے نظر آتے ہیں۔ اللہ اللہ جن کے آبا و اجداد نے اونٹ کا دودھ پیتے پیتے ایک امّی کے طفیل کسریٰ اور قیصر کی حکومتوں کی اینٹ سے اینٹ بجا کررکھ دی آج وہ پھر اسی جہالت اور فقر و بے کسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔‘‘

(دیار عرب میں چندماہ، ۱۹۴۹)

اسی طرح مولانا امین احسن اصلاحی نے حرم شریف کے کلید بردار کے بارے میں جو باتیں لکھی ہیں وہ بھی انتہائی افسوس ناک ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’جب میں طواف کے لیے گیا تو میں نے دیکھا بیت اللہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ سامنے ایک چھوٹی سی لکڑی کی سیڑھی لگی ہوئی ہے۔ داخل ہونے والوں کاہجوم ہے جن میںعورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ جو اندر ہیں وہ دھکے دے کر نکالے جا رہے ہیں جو باہر ہیں وہ سیڑھی پر چڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بچے چیخ رہے ہیں ، عورتیں شور کر رہی ہیں اور کلید بردار صاحب اپنی بخشش وصولی کر رہے ہیں اور جن سے بخشش نہیں مل رہی ہے انھیں دھکے دے رہے ہیں۔ اس منظر کو دیکھ کر مجھے تکلیف ہوئی۔‘‘

(مشاہدات حرم : از مولانا امین احسن اصلاحی، ۱۹۶۰)

حرم محترم کے کلید بردار کے بارے میں مولانا غلام رسول مہر نے اپنے حج نامے ’’سفرنامۂ حجاز‘‘ میں اور زیادہ سخت لب ولہجہ اختیار کیا ہے:

’’عبدالقادر شیبی جلب زر کا ایک ایسا مکر وہ پیکر ہے کہ شاید ہندستان کے بڑے بڑے پشتینی سود خور بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ سنا جاتا ہے کہ ترکوں کے زمانے میں اور شریف حسین کے عہد میں اس کے ظلم وجبر کی کوئی حد ت نہ تھی۔‘‘

(سفرنامہ حجاز، از مولانا غلام رسول مہر)

بعض سفرنامہ نگاروں نے عرب کے خطیبوں ، عورتوں اور ڈرائیوروں کا ذکر بھی بڑی تفصیل سے کیا ہے۔ عورتوں کے لباس اور آرائش و زیبائش کا مفصل بیان کئی حج ناموں کی زینت بنا ہے۔ لیکن یہ سب عہد قدیم کے سفرناموں کی باتیں ہیں۔ آج سب کچھ بدل دیا ہے۔ آج کا دور اس دور سے یکسر مختلف ہے۔ آج جو زائرین حرم سفر حج بیت اللہ کو جاتے ہیں ۔ ان کے تاثرات اور قدیم حجاج کرام کے تاثرات میں زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ جذبات وہی ہیں، عقائد وہی ہیں، عشق الٰہی اور عشق رسول وہی ہے۔ مگر ارض حرمین شریفین کے معاشی اور معاشرتی حالات یکسر تبدیل ہوچکے ہیں۔ چنانچہ  آج کے حج ناموں کا انداز بھی بدل گیا ہے۔ آج کے بیشتر سفرنامہ نگار، حجاج کی سہولتوں کے ضمن میں حکومت وقت کے اقدامات سے مطمئن اورخوش نظر آتے ہیں ۔ چنانچہ عرب انتظامیہ کے کاموں کی تعریف و توصیف میں ہروقت رطب اللسان رہتے ہیں۔ خود میں نے بھی حج و عمرہ کے مواقع پر ان سہولتوں سے استفادہ کیا ہے۔ اس لیے نئے دور کے حج ناموں میں جن تاثرات کا اظہار کیا گیا ہے میں ان کی تائید کرتا ہوں۔ نئے دور کے حج ناموں سے چند اقتباسات پیش ہیں۔ پروفیسر صادقہ زکی نے اپنے حج نامے ’’خیموں کے شہرمیں‘‘ حرم شریف کے زینوں اور منیٰ کے بازار کی تصویر کشی کی ہے۔ حرم شریف کے زینوں کے بارے میں لکھتی ہیں:

’’حرم شریف کے زینے بہت کشادہ اور ہوا دار ہیں۔ ان پر چڑھتے اترتے اندر اور باہر کے نظارے سامنے رہتے ہیں لیکن اونچی دیواروں اور چھتوں پر بنے ہوئے گل بوٹوں کے رنگوں کا انتخاب کمال درجہ کا ہے جو توجہ کو مخصوص زاویے پر بنائے رکھتا ہے یا یوں کہیے کہ حرم شریف کی پوری تعمیر پر طواف کا قرینہ حاوی نظر آتا ہے۔‘‘

(خیموں کے شہر میں)

منیٰ کے بازار کا ذکر میں ملاحظہ کیجیے:

’’عید کے دن اپنی قیام گاہوں کی طرف جاتے ہوئے دو طرفہ پٹریوں کو دیکھتے ہوئے راستہ طے ہوجاتا ہے۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر حکومت کی طرف سے فوّارے لگائے گئے تھے۔ یہ باریک فوارے حاجیوں پر پانی کے چھینٹے ڈالتے رہتے ہیں۔ گرمی اور دھوپ کے سفر میں اس پانی سے بڑی راحت ملتی ہے اور دکانوں کی رونق دیکھنے میں لطف آتا ہے۔‘‘

(خیموں کے شہر میں)

عہد حاضرکے ایک اور سفرنامہ نگار سہیل انجم جو صحافی ہیں عہد قدیم سے دور جدید کا موازنہ کرتے ہوئے اپنے سفرنامے ’’پھر سوئے حرم لے چل‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’سعودی عرب میں حجاج کو جو سہولتیں اورآسانیاں میسر ہیں ترکوں کے دور حکومت سے انھیں کچھ نسبت نہیں اس وقت سب سے بڑی دشواری اور پریشانی یہ تھی کہ راستے غیر محفوظ تھے۔ اونٹوں پر سفر ہوتا تھا۔ حجاج قافلے بناکر چلتے تھے۔ راستے میں کسی پہاڑی کے دامن کے مسلح بدو نکلے اور قافلے کو روک لیا۔ دھمکی دی کہ اتنی اشرفیاں ورنہ جان مال کی خیر نہیں۔ بچارے حاجی چندہ کر کے ان قزاقوں کے مطالبے پورا کرتے۔ دو چار منزل چلے کہ بدویوں کی دوسری ٹولی نے آن گھیرا جیسے جیسے تیسے دے دلا کر ان سے جان چھڑاتے۔ ایسا بھی ہوتا کہ کسی پڑاؤ  پر ٹھہرنے کے بعد کوئی حاجی جنگل میں کسی ضرورت سے گیا یا قافلے سے پیچھے رہا اور مال کے لالچ میں اسے قتل کردیا گیا۔ مگر اب مجال ہے جو کسی کے جسم کو تو کیامسافر کی چٹائی کو بھی کوئی ہاتھ لگاسکے۔ اب عرب کے راستے اس قدر محفوظ ہیں کہ ایک بوڑھی عورت تن تنہا سونا اچھالتی ہوئی چلی جائے تو کوئی اسے ٹوک نہیں سکتا۔‘‘

(پھر سوئے حرم لے چل)

ایک اور صحافی عارف عزیز نے ’’مسافر حرم‘‘ میں اپنا ایک نیا تجربہ بیان کیا ہے ۔ حرم کے ہجوم کے بارے میں ان کا بیان ہے کہ:

’’دور سے دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ بیت اللہ میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہے لیکن قدم آگے بڑھالیں تو تنگی کے باوجود روش بنتی چلی جاتی ہے۔‘‘

اسی طرح احمد سعید ملیح آبادی نے اپنے حج نامے ’’بغداد سے مدینہ منورہ تک‘‘ میں حرمین شریفین کے رمضان اور افطار کی منظر کشی کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’مقامی عربوں کادستور ہے کہ اپنے ساتھ ڈھیر سا سامان افطار لے کر حرمین آجاتے ہیں اور روزے داروں کو اپنے دسترخوان پر دعوت افطار دیتے ہیں۔ ہندستان کی طرح وہاں سیاسی اور سماجی افطار پارٹیاں نہیںہوتیں جن سے کہ افطار کی نمائش اور تشہیر ہوتی ہے۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی میں سیکڑوں دسترخوان بچھ جاتے ہیں اور عرب ہاتھ پکڑ اپنے دسترخوان پر روزہ داروں کو بٹھالیتے ہیں ۔ بعض لوگ اپنے بچوں کو مسجد میں کھڑا کردیتے ہیں کہ مہمان کا ہاتھ پکڑ کر دسترخوان پر لانے کی کوشش کرو۔ بچے کی درخواست رد کرنا دشوار ہوتا ہے۔ اگر کسی کے دسترخوان پر کوئی نہ آیا یا کم لوگ بیٹھے تو بہت اداس ہوجاتا ہے۔ رمضان میں عرب دل کھول کر راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں۔ نظم و ضبط کا یہ عالم ہوتا ہے کہ حرمین کے اندر پلاسٹک کے دسترخوان بچھائے جاتے ہیں اور ان پر افطار کا سامان سجا ہوتا ہے۔ چند منٹ میں افطار ختم ہوا آناً فاناً سب دسترخوان سمیٹ کر ایک کنارے کردیے جاتے ہیں۔ نماز کی جگہ بالکل صاف ہوجاتی ہے۔ کوئی شے ادھر ادھر بکھری نہیں رہتی ۔ نماز کے لیے صفیں کھڑی ہوجاتی ہیں۔‘‘

مختلف سفرناموں سے نقل شدہ ان اقتباسات سے جزیرہ نما عرب کے رسم ورواج، وہاں کے باشندوں کے عادات و اطوار اور تہذیب و ثقافت پرایسی تیز روشنی پڑتی ہے کہ تمام نقوش واضح ہوکر صاف نظر آنے لگتے ہیں۔ ان سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ عرب میں اگر غربت اور افلاس سے پیدا ہونے والی کچھ برائیاں موجود ہیں تو اعلیٰ انسانی اقدارو روایات پر مشتمل لاتعداد خوبیوں کی بھی کمی نہیں۔ ہندستانی مسلمانوں کا سر زمین عرب سے جو روحانی رشتہ قائم ہے ان سفرناموں میں جا بجا اس کی خوشبو بکھری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ روحانی رشتے کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی مادی شے پر انحصار نہیں کرتا۔ محبت اور عقیدت کے سوا اس کا کوئی اور سروکاربھی نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم ارض مقدس پر لکھے گئے ہندستانی مسلمانوں کے حج ناموں کا مطالعہ کرتے ہیں توان میںہمیں ہر ہر لفظ میں ادب واحترام اور محبت و عقیدت کے جذبات موجزن نظر آتے ہیں۔ کہیں کسی ناہمواری پر دل کڑھتا بھی ہے تو اسی طرح، جس طرح کسی محبوب شخصیت کی بے رواہ روی پر تکلیف کا احساس ہوتا ہے اور اس کے راہ راست پر آجانے کی شدید خواہش دل میں پیدا ہوجاتی ہے۔ یہی محبت کی فطرت ہے اور یہی نقاضا ئے ادب۔

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ادبی میراثسفر نامہعرب
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
اردو لسانیاتی  مطالعات کی تاریخ -ڈاکٹر رئیس احمد مغل

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں