Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تحقیق و تنقیدنصابی مواد

اردو لسانیاتی  مطالعات کی تاریخ -ڈاکٹر رئیس احمد مغل

by adbimiras ستمبر 25, 2020
by adbimiras ستمبر 25, 2020 6 comments

اردو زبان کے لسانیاتی مطالعات کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: ابتدائی، وسطی اور جدید۔ ابتدائی عہد مغربی اقوام کی جانب سے اردو کے مطالعہ کا دور ہے، جب کہ وسطی عہد میں مقامی ماہرین اردو زبان کے بارے میں نظریاتی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اس کی لغات اور قواعد پر کام کرتے نظر آتے ہیں۔ عہد جدید میں لسانیات کے جدید عالمی نظریات اور تجزیاتی پیمانوں کی مدد سے اردو زبان کی ساخت اور خصوصیات واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اطلاقی لسانیات اور کمپیوٹری لسانیات اردو زبان کے حوالے سے موجودہ عہد کے واضح رجحانات ہیں۔

 

ابتدائی عہد:

اردو زبان پر اولین لسانیاتی مطالعات غیر ملکی مصنفین  کی کاوشوں پر مشتمل ہیں۔ واسکو ڈی گاما ہندوستان میں۱۷ مئی ۱۴۹۸ء کو وارد ہوا۔ غیر ملکی مہمات کا یہ سلسلہ پرتگال سے شروع ہوا، ولندیزی اور فرانسیسی کوششوں سے ہوکر بالآخرانگریزوں کے قبضے  پر ختم ہوا۔ دو عالمگیر جنگوں کے باعث یورپ کی اقتصادی حالات دگر گوں ہوگئے اور ان کے لیے عالمی سیاسی تسلط ممکن نہ رہا۔ یوں ۱۴۔۱۵ اگست کی درمیانی رات ۱۹۴۷ء کو ہندوستان اور پاکستان انگریزوں کے تسلط سے آزاد ہوگئے ۔ ساڑھے چار سو برس کے اس طویل استعماری دور میں، غیر ملکی  افراد نے اردو لسانیات کے مختلف پہلوؤں پر کام کیا۔

(یہ بھی پڑھیں قاضی عبدالودود اور غالب تحقیق – ڈاکٹر محضر رضا)

اردو لسانیات پر مغربی اقوام کی تحقیق کے چار مقاصد تھے: تجارت کے لیے زبان سیکھنا؛ عیسائیت کی تبلیغ کے لیے کوشش؛مقامی ثقافت اور کلچر سے آگاہی؛ حکمرانی کے لیے اپنے افسروں کو زبان کی تربیت فراہم کرنا۔ اگر اقوام کے لحاظ سے تجزیہ کیا جائے تو فرانسیسی قوم  نے مقامی ثقافت اور کلچر میں زیادہ دلچسپی لی، پرتگالی اور ولندیزی تجارت اور عیسائیت کے فروغ  کو اردو زبان کے ذریعے ممکن بنانا چاہتے تھے؛ جبکہ انگریز قوم نے چاروں مقاصد کے حصول کے لیے مختلف ادوار میں کوشش کی۔

اردو لسانیات کی ان مغربی کوششوں کی ابتدا لغت نویسی سے ہوتی ہے، اس کے بعد اردو زبان کے قواعد مرتب کرنے کی کوششیں نظر آتی ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ بائبل کے تراجم کی مختلف صورتیں سامنے آتی ہیں۔ جب کہ سب سے آخر میں مقامی کتب کا انگریزی اور دیگر زبانوں میں ترجمے کے ساتھ، اردو زبان سیکھنے  کے لیے درسی کتب کی تالیف کا دور آتا ہے۔

اردو کی اولین لغت  ہسپانوی مستشرق جیروم زاویر نے ۱۵۹۹ء میں مرتب کی۔ وہ اکبر اور جہاں گیر کے زمانے میں عیسائی مذہب کی تبلیغ کی غرض سے ہندوستان میں  قیام پذیر رہا،اور آگرہ میں وفات پائی۔  اس نے پرتگالی، فارسی  اور اردو زبان کی اولین سہ لسانی لغت مرتب کی۔ لغت نگار کا یہ سلسلہ مستشرقین کے ہاں ۱۹۴۷ تک جاری رہااور لگ بھگ ڈیڑھ سو کے قریب لغات مرتب کی گئیں۔ ان میں  جان جوشوا کیٹلر، بنجمن شلزے، گلکرسٹ،  جان شیکسپیئر،ایس ڈبلیو فیلن،اور جان تھامس پلیٹس کی لغات کو زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ ان لغات نے وہ جدید معیار طے کیے جن پر چل کر مقامی لغت نگاروں نے اردو کی زیادہ بہتر لغات ترتیب دیں۔

اردو زبان کے قواعد مرتب کرنے کی اولین کامیاب کوشش جان جوشوا کیٹلر کے ہاں نظر آتی ہے ۔ اس نے اپنی کتاب کا عنوان ’لنگوا ہندوستانیکا‘ یعنی ہندوستان کی زبان رکھا۔  یہ ۱۷۴۳ء میں نیدر لینڈ کے شہر لائڈن سے شائع ہوئی۔ قواعد نویسی کا مقصد ظاہر ہے ہم وطن اور اہل مغرب کو اردو سیکھنے اور سمجھنے میں مدد دینا تھا۔ اس سلسلے کو بھی کی ماہرین نے آگے بڑھایا اور نمایاں ناموں میں ہنری ہیرس، گل کرسٹ، گارسیں دتاسی،آنون،اورڈنکن فاربس شامل ہیں۔

اردو زبان پر لغات اور قواعد کے علاوہ لسانیات کے حوالے سے دیگر موضوعات جیسے اردو کی ابتدا اور اس کی ساخت وغیرہ پر کئی مستشرقین نے یادگار تصانیف چھوڑیں ہیں۔  اس میں بھی اولین نام جرمن مستشرق بنجمن شلزے کا ہے  جس کی کتاب ’گراماٹیکا ہندوستانیکا‘ کے دیباچے میں اس نے اردو زبان کی ابتدا اور اس کے وجہ تسمیہ کو موضوع بحث بنایا ہے ۔  لسانیات کی سطح پر کئی مستشرقین کے کارنامے ناقابل فراموش ہیں جن میں بالخصوص جان گل کرسٹ (فورٹ ولیم کالج اور اس کی مطبوعات)،گارسیں دتاسی(سالانہ ادبی و لسانی جائزے اور لیکچر)، جان بیمز(اردو کا جدید لسانیاتی سائنسی پیمانوں پر تجزیہ)،جارج ابراہم گریرسن(جائزہ لسانیات ہندوستان)، تھامس گراہم بیلی(تاریخ ادب اردو) اہم ہیں۔

مستشرقین کی ان کوششوں سے جہاں خود اہل مغرب کو حکومت کرنے اور مذہبی تبلیغ میں آسانی ہوئی ، وہاں اردو زبان میں لغات، قواعد اور لسانی تحقیق کے نئے معیار قائم ہوئے جن پر چل کر مقامی ماہرین نے اپنی زبان اور ماحول سے بہتر آشنائی اور ہمدردرانہ نکتہ نظر کے باعث  مستشرقین سے کئی قدم آگے بڑھ کر اردو زبان  کی تحقیق و تالیف میں اپنا حصہ ڈالا۔

اس عہد کا لسانیات کے حوالے سے غالباً سب سے  اہم کارنامہ سرجارجابراہامگریئرسن کی نگرانی میں پورے برصغیر کی زبانوں کا سروے ہے جو  ۱۸۹۸ء میں شروع ہوا اور اس کے نتائج کی آخری جلد ۱۹۲۸ء میں شائع ہوئی۔ تیس برس میں مکمل ہونے وال یہ سروے اپنی تمام خامیوں کے باوجود، لسانیات کے حوالے سے معروضی بنیادوں پر انجام دیا گیا ایسا کارنامہ ہے جس کی ہمت اب تک آزادی کے بعد ہندوستان اور پاکستان دونوں جانب نہیں کی جاسکی۔ حتیٰ  کہ گریئر سن کے سروے میں دی گئی معلومات کو محض دوبارہ دیکھنے کی غرض سے ایک  محدود سروے کی تجویز پر بھی  عمل نہ کیا جاسکا۔ لسانیات کے طالب علموں کے لیے اب اس سروے کی اہمیت یہ رہ گئی ہے کہ اس میں مندرج ہر زبان، اور بڑی زبانوں کے ہر لہجے کے حوالے سے وہ آج تازہ معلومات فراہم کرکے ، اپنی ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سند بھی لے سکتے ہیں اوریہ  لسانیات کے شعبے کی بھی خدمت ہوگی۔

اردو لسانیات کے حوالے سے اس سروے کی اہمیت یہ ہے  کہ اس میں اردو زبان کی ابتدا ء کے بارے میں پیش کی گئی آراء پر نہ صرف بعد کے اردو ماہرین نے دلائل سے رد و قبول کا طریقہ اختیار کیا، بلکہ خود گرئرسن نے ابتدا میں میر امن دہلی کا نظریہ یعنی دہلی کے لشکری زبان قبول کیا، اور بعد میں اس سے رجوع کرکے اسے دوآبہ اور مغربی روہیل کھنڈ سے بتایا۔ علاوہ ازیں، اس سروے کے لیے گراموفون میں بڑی زبانوں کے نمونے بھی ریکارڈ کیے گئے تھے۔ اس لیے اگر آپ میر باقر علی داستان گو کا لہجہ اور زبان سننے کے متمنی ہیں ، تو اس سروے کے ڈیٹابیس سے یہ تمنا پوری ہوسکتی ہے۔ اردو کے بارے میں اس ایک صدی قبل مکمل کیے گئے سروے میں اب نئی  معلومات کا اضافہ یقیناً سماجی لسانیات کی اہم خدمت ہوگی۔

 

وسطی عہد:

اس عہد کا آغاز درحقیقت برطانوی تسلط کے دور میں ہوچکا تھا۔ مقامی اہل علم نے مغربی کاوشوں کی خوبیوں کا اعتراف بھی کیا، اور ان میں پائی جانے والی اغلاط کی نشاندہی بھی کی۔ یہ تعلیم یافتہ افراد کا وہ گروہ تھا جنھوں نے برطانوی دور میں جدید تعلیم پائی اور مشرق کے ساتھ ساتھ مغربی علمی ذرائع سے استفادہ کی صلاحیت رکھتا تھا۔ سرسید تحریک میں شامل اہل علم ،جن کے بانیوں کو ’’اردو کے عناصر خمسہ‘‘ قراردیا گیا[سرسید، محمد حسین آزاد، ڈپٹی نذیر احمد، شبلی نعمانی، الطاف حسین حالی]، اس رجحان کے اولین نمائندہ ہیں۔ شبلی نے فارسی اور عربی کو بنیاد بنا کر اردو فصاحت و بلاغت پر روشنی ڈالی، محمد حسین آزاد اور الطاف حسین حالی انجمن پنجاب کے تحت جدید علمی اور لسانی نظریات کے مبلغ تھے۔ اس کے بعد کی نسل میں مولو ی سید احمد(فرہنگ آصفیہ)، مولوی نور الدین ( نور اللغات)، مولوی عبدالحق(انجمن ترقی اردو)،شامل ہیں۔ اس عہد کا غالب رجحان یہ رہا کہ اہل علم، جنھیں لسانیات کی باقاعدہ تربیت نہ تھی، وہ دیگر علمی امور کے ساتھ ساتھ زبان کی خدمت بھی انجام دیتے رہے۔ اس رجحان کے آزادی کے  بعد کے عہد میں نمائندہ نام ابواللیث صدیقی،سید احتشام حسین،حامد حسن قادری، مسعود حسین خان،شان الحق حقی،وارث سرہندی ہیں جنھوں نے لغات کی ترتیب اور لسانیات سے متعلق تحقیقی امور میں حصہ لے کر اردو لسانیات کو ترقی دی۔

اس دور میں ایک ایسا سوال تھا جس نے پوری نسل کو اپنی گرفت میں لیے رکھا  یعنی اردو کی ابتدا کیسے ہوئی ؟ اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے لسانی تحقیق سے زیادہ سماجی اور علمی دلائل کو بنیاد بنا یا گیا۔ تقریبا ً تمام اہل علم نے اس کا جواب دینے کی کوشش کی جس میں غالباً سب سے زیادہ مدلل جواب حافظ محمود شیرانی نے ’پنجاب میں اردو‘ کی صورت میں فراہم کیا۔

 

عہد جدید:

اردو پر ایسے ماہرین جنھوں نے لسانیات کی باقاعدہ تربیت حاصل کی، اور اسے اردو ادب سے ہٹ کر ، اپنی انفرادی حیثیت میں سیکھا ، اس عہد کے نمائندہ ہیں۔ اردو لسانیات کے حوالے سےاولین پی ایچ ڈی جنھوں نے برطانیہ اور فرانس سے لسانیات میں تربیت حاصل کی محی الدین قادری زور ہیں جنھوں نے ۱۹۳۵ء میں یہ ڈگری مکمل کی۔

اس جدید دور کے اولین نمائندوں میںمحی الدین قادری زور کے  بعد سنیتی کمار چٹر جی، سہیل بخاری، شوکت سبزواری،عین الحق فرید کوٹی اورنصیر الدین ہاشمی کے نام نمایاں  ہیں۔بعد میں رشید حسن خان نے اردو املا جبکہگیان چند جین نے جدید لسانیات کے تعارف اور اردو پر اس کے اطلاق کے حوالے سے بنیادی اہمیت کا کام کیا۔

عالمی سطح پر خود علم لسانیات تشریحی اور تجزیاتی رخ اختیار کرگیا ، اور نوم چومسکی کے نظریات نے زبان کے مطالعہ کی نئی راہیں دکھائیں۔ علاوہ ازیں، کمپیوٹر کی ایجاد اور اس کے عالمی چلن نے اطلاعات کے دور کو جنم دیا تو لسانیات میں تحقیق اور تجزیے کا نیا دور شروع ہوا۔ اس عہد میں مشینی تراجم، کمپیوٹری گرامر اور اس جیسے کئی چیلنج دنیا بھر کی زبانوں کو در پیش ہیں۔ اردو زبان چوں کہ دنیا کی بڑی زبانوںمیں شامل ہے، اور اسے سمجھنے والوں کی تعداد ایک ارب افراد پر مشتمل ہے، اس لیے اتنے بڑے تجارتی امکان کے پیش نظر اردو زبان پر بھی تحقیقی کام اور مطالعات جاری ہیں۔ عالمی سطح پر تجارتی اور علمی پیمانے پر مشرقی زبانوں کے ذیل میں اردو زبان پر تحقیق جاری ہے ۔ پاکستان میں بھی اطلاقی لسانیات کے شعبے میں ڈاکٹر سرمد(اردو فونمیات، کمپیوٹری لسانیات)، ڈاکٹر افضل(اردو ضابطہ تختی)، ڈاکٹر عطش درانی(لسانی معیار بندی)، حافظ محمد چوہان (اردو اطلاعیات)اور ڈاکٹراعجاز  وہاب(اردو سوفٹ وئر) ایسے کئی نام ہیں جو اردو لسانیات کی اس نئی جہت پر کام کر رہے ہیں۔

ہندوستان میں جدید لسانیات کی تحقیق میں  زیادہ معیاری کام ہندی زبا ن میں سامنے آیا ہے، تاہم اردو میں بھی اب ایسے ماہرین کے نام سامنے آرہے ہیں جو محض نظری لسانیات کے بجائے عمرانی لسانیات اور اطلاقی لسانیات میں کوشاں ہیں۔ اس عہد میں اردو لسانیات کے نظری حوالے سے پاکستان میں ناصر عباس نیراور رؤف پاریکھ جبکہ ہندوستان میں مرزا خلیل احمد بیگ اور نصیر احمد خان کے نام نمایاں ہیں۔

 

عمومی جائزہ:

لسانیات کا علم زبان کی ساخت اور اس کے سماجی استعمالات کی تفہیم کے لیے نظری اور عملی دونوں طریقوں کو بروے کار لایا جاتا ہے۔ اردو زبان کی لسانیات کی ابتدا خالصتاً اطلاقی پہلو سے ہوئی ،یعنی غیر ملکی افراد کی زباندانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے لغات اور قواعد مرتب کیے گئے۔ اس کے بعد مقامی افراد تک عیسائیت کی تبلیغ کے لیے ضروری سمجھا گیا کہ زبان اور اس کے معاشرتی پہلوؤں تک رسائی حاصل کی جائے، نیز سیاسی و انتظامی ضروریات کے تحت یہ بھی ضروری سمجھا گیا کہ یورپی افسران کو مقامی زبان اور ثقافت سے آگاہ کیا جائے، اس  لیے لسانیات کے اطلاقی پہلو کے لیے علمی و نظری سطح پر کام کا آغاز ہوا۔ فورٹ ولیم کالج کی تصنیفات ہوں یا گارساں دتاسی کے سالانہ خطبے، ان کا مقصد ہندوستان اور اس کی ثقافت کا شعور حاصل کرنا تھا، جس میں بنیادی اہمیت  ظاہر ہےاُسی زبان کو حاصل تھی جو پورے ہندوستان میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک سمجھی جاتی ہے۔

مستشرقین کے کام نے مقامی اہل علم کو مہمیز دی کہ وہ ان لسانی تحقیقات میں پائی جانے والی اغلاط کی نشاندہی کریں اور زیادہ بہتر کام پیش کریں۔ مغربی تسلط کے خاتمے کے بعد، اردو میں لسانیات کی تحقیق خالص علمی مقاصد سے آگے بڑھتی رہی۔ اس دور میں  انفرادی تحقیقات اور لغات کی تدوین غالب رجحان ہے۔

عہد اطلاعات کے آغاز سے کمپیوٹری لسانیات کا آغاز ہوا۔ اردو زبان کو جدید عہد سے ہم آہنگ کرنے کے لیے علمی اور تجارتی سطح پر ۱۹۸۰ء سے جس کوشش کو آغاز ہوا وہ آج تک جاری ہے۔ اردو زبان میں کمپیوٹری آلات اور موبائل فون کے استعمالات کو بہتر بنانے  کا تجارتی اور علمی سطح پر ایک صحت مند مقابلہ جاری ہے۔

بنیادی مسئلہ جو اردو لسانیات کو روز اول سے درپیش ہے، اور آج تک وہ مسئلہ حل نہیں ہوسکا، وہ لسانیات کے شعبے میں تربیت ہے۔ اردو زبان کے ماہر ین، لسانیات کے علم سے واقف نہیں ،جب کہ کمپیوٹر و لسانیات کے ماہرین اردو زبان پر عبور نہیں رکھتے۔ اردو لسانیات پر جامعات کی سطح پر اب تک کوئی تخصیصی شعبہ قائم نہیں ہوسکا۔ ایسے شعبہ جات انگریزی اور دیگر زبانوں کے شعبہ میں موجود ہیں، لیکن ان کی تربیت اور موضوع دونوں ہی اردو لسانیا ت کا احاطہ نہیں کرسکتے۔  اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اردو لسانیات کی عملی تربیت کے لیے ماہرین بھی موجود نہیں۔ اس لیے وہ چند افراد جو بیرون ملک یہ تربیت حاصل کرکے آتے ہیں ، ان کے لیے کسی بھی بڑے علمی منصوبے کے لیے درکار انسانی اور مالی وسائل کی کمی رکاوٹ بن جاتی ہے۔

اردو زبان کو ترقی دینے اور اسے جدید عہد سے ہم آہنگ کرنے کے لیے لازم ہے کہ جامعات میں لسانیات کے شعبے میں تعلیم اور عملی تربیت کا نظام قائم کیا جائے تاکہ ایسی افرادی قوت بڑے پیمانے پر تیار ہوسکے جو ملکی اور بین الاقوامی ضروریات پوری کرسکے۔ چوں کہ یہ  شعبہ عالمی تجارتی مفادات سے وابستہ  ہے، اس لیے ایسے کسی بھی منصوبے  کے لیے مالی امداد کا حصول زیادہ مشکل امر نہیں۔ مائکرو سوفٹ، گوگل، امیزون، فیس بک، اور اب واٹس ایپ ایسے ادارے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر اردو صارفین سے کروڑوں روپے کما رہے ہیں۔ یہ ادارے اردو زبان کی تحقیق کے لیے کسی بھی جامعہ کے منصوبے کو درکار رقم دینے میں نہیں  ہچکچائیں گے ، لیکن شرط جامعات کے موجودہ نظام میں پائی جانے والی سستی اور بلا ضرورت رکاوٹیں دور کرنا ہے۔

 

 

ڈاکٹر رئیس احمد مغل

ایسوسی ایٹ پروفیسر،

گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج، نوشہرہ، خیبر پختونخوا، پاکستان۔

رابطہ: raees.mughal@gmail.com

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ادبی میراثلسانیات
6 comments
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ہندوستانی حج ناموں میں جزیرہ نمائے عرب کے تہذیبی نقوش- پروفیسر خالد محمود
اگلی پوسٹ
شاکر کریمی کی غزلیہ شاعری- ڈاکٹر نوشاد منظر

یہ بھی پڑھیں

کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس...

مئی 5, 2026

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –...

جولائی 10, 2025

جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

جون 20, 2025

شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

دسمبر 5, 2024

کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –...

نومبر 19, 2024

کوثرمظہری کے نصف درجن مونوگراف پر ایک نظر...

نومبر 17, 2024

کوثرمظہری کا زاویۂ تنقید – محمد اکرام

نومبر 3, 2024

علامت کی پہچان – شمس الرحمن فاروقی

مئی 27, 2024

رولاں بارتھ،غالب  اور شمس الرحمان فاروقی – ڈاکٹر...

فروری 25, 2024

6 comments

یوسف حسین ستمبر 26, 2020 - 6:16 صبح

عمدہ تحریر ہے۔ قلمکار پروفیسر رئیس احمد مغل کی یہ کاوش قابل دادہ ہے۔

Reply
احمد حاطب صدیقی ستمبر 26, 2020 - 6:24 صبح

ماشاءاللہ۔
نہایت دقتِ نظر کے ساتھ بہت مفصل اور جامع رہنماٸی فرماٸی ہے۔ ڈاکٹر صاحب ہم سب کے شکریے کے مستحق ہیں۔
کیا محترم ڈاکٹر صاحب کا رابطہ نمبر مل سکتا ہے؟

Reply
محمد حسن کا مضمون ’سچی جدیدیت، نئی ترقی پسندی‘  بازدید- پروفیسر کوثر مظہری - Adbi Miras ستمبر 26, 2020 - 7:34 صبح

[…] تحقیق و تنقید […]

Reply
احسان الحق ستمبر 26, 2020 - 7:36 صبح

بہت عمدہ
تاریخ کو خشک ‘تاریخوں’ سے نکال کر دلچسپ ادوار کے ذریعے پیش کرنا جدید دور کی خوبی ہے جس کا ایک مظاہرہ یہ تحریر ہے.

Reply
عنوان چشتی ایک ہیئت پرست ناقد - ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی - Adbi Miras نومبر 8, 2020 - 4:34 شام

[…] مقبول ترین برِّ صغیر ہند میں بچوں کا سیرتی ادب… تعلیم کی تلاش میں: بوکر۔ ٹی ۔واشنگ ٹن- وسیم… اردو لسانیاتی  مطالعات کی تاریخ -ڈاکٹر رئیس احمد… […]

Reply
Musa Khan dotani khan مئی 24, 2021 - 10:20 صبح

اردو لسانیات کے تاریخی جائزے پر مشتمل نہایت وقیع اور جامع تحریر۔۔۔لسانیات کو عہد حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی واقعی اشد ضرورت ہے۔ اردو دوستوں کو اس طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں