اردو زبان کے لسانیاتی مطالعات کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: ابتدائی، وسطی اور جدید۔ ابتدائی عہد مغربی اقوام کی جانب سے اردو کے مطالعہ کا دور ہے، جب کہ وسطی عہد میں مقامی ماہرین اردو زبان کے بارے میں نظریاتی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اس کی لغات اور قواعد پر کام کرتے نظر آتے ہیں۔ عہد جدید میں لسانیات کے جدید عالمی نظریات اور تجزیاتی پیمانوں کی مدد سے اردو زبان کی ساخت اور خصوصیات واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اطلاقی لسانیات اور کمپیوٹری لسانیات اردو زبان کے حوالے سے موجودہ عہد کے واضح رجحانات ہیں۔
ابتدائی عہد:
اردو زبان پر اولین لسانیاتی مطالعات غیر ملکی مصنفین کی کاوشوں پر مشتمل ہیں۔ واسکو ڈی گاما ہندوستان میں۱۷ مئی ۱۴۹۸ء کو وارد ہوا۔ غیر ملکی مہمات کا یہ سلسلہ پرتگال سے شروع ہوا، ولندیزی اور فرانسیسی کوششوں سے ہوکر بالآخرانگریزوں کے قبضے پر ختم ہوا۔ دو عالمگیر جنگوں کے باعث یورپ کی اقتصادی حالات دگر گوں ہوگئے اور ان کے لیے عالمی سیاسی تسلط ممکن نہ رہا۔ یوں ۱۴۔۱۵ اگست کی درمیانی رات ۱۹۴۷ء کو ہندوستان اور پاکستان انگریزوں کے تسلط سے آزاد ہوگئے ۔ ساڑھے چار سو برس کے اس طویل استعماری دور میں، غیر ملکی افراد نے اردو لسانیات کے مختلف پہلوؤں پر کام کیا۔
(یہ بھی پڑھیں قاضی عبدالودود اور غالب تحقیق – ڈاکٹر محضر رضا)
اردو لسانیات پر مغربی اقوام کی تحقیق کے چار مقاصد تھے: تجارت کے لیے زبان سیکھنا؛ عیسائیت کی تبلیغ کے لیے کوشش؛مقامی ثقافت اور کلچر سے آگاہی؛ حکمرانی کے لیے اپنے افسروں کو زبان کی تربیت فراہم کرنا۔ اگر اقوام کے لحاظ سے تجزیہ کیا جائے تو فرانسیسی قوم نے مقامی ثقافت اور کلچر میں زیادہ دلچسپی لی، پرتگالی اور ولندیزی تجارت اور عیسائیت کے فروغ کو اردو زبان کے ذریعے ممکن بنانا چاہتے تھے؛ جبکہ انگریز قوم نے چاروں مقاصد کے حصول کے لیے مختلف ادوار میں کوشش کی۔
اردو لسانیات کی ان مغربی کوششوں کی ابتدا لغت نویسی سے ہوتی ہے، اس کے بعد اردو زبان کے قواعد مرتب کرنے کی کوششیں نظر آتی ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ بائبل کے تراجم کی مختلف صورتیں سامنے آتی ہیں۔ جب کہ سب سے آخر میں مقامی کتب کا انگریزی اور دیگر زبانوں میں ترجمے کے ساتھ، اردو زبان سیکھنے کے لیے درسی کتب کی تالیف کا دور آتا ہے۔
اردو کی اولین لغت ہسپانوی مستشرق جیروم زاویر نے ۱۵۹۹ء میں مرتب کی۔ وہ اکبر اور جہاں گیر کے زمانے میں عیسائی مذہب کی تبلیغ کی غرض سے ہندوستان میں قیام پذیر رہا،اور آگرہ میں وفات پائی۔ اس نے پرتگالی، فارسی اور اردو زبان کی اولین سہ لسانی لغت مرتب کی۔ لغت نگار کا یہ سلسلہ مستشرقین کے ہاں ۱۹۴۷ تک جاری رہااور لگ بھگ ڈیڑھ سو کے قریب لغات مرتب کی گئیں۔ ان میں جان جوشوا کیٹلر، بنجمن شلزے، گلکرسٹ، جان شیکسپیئر،ایس ڈبلیو فیلن،اور جان تھامس پلیٹس کی لغات کو زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ ان لغات نے وہ جدید معیار طے کیے جن پر چل کر مقامی لغت نگاروں نے اردو کی زیادہ بہتر لغات ترتیب دیں۔
اردو زبان کے قواعد مرتب کرنے کی اولین کامیاب کوشش جان جوشوا کیٹلر کے ہاں نظر آتی ہے ۔ اس نے اپنی کتاب کا عنوان ’لنگوا ہندوستانیکا‘ یعنی ہندوستان کی زبان رکھا۔ یہ ۱۷۴۳ء میں نیدر لینڈ کے شہر لائڈن سے شائع ہوئی۔ قواعد نویسی کا مقصد ظاہر ہے ہم وطن اور اہل مغرب کو اردو سیکھنے اور سمجھنے میں مدد دینا تھا۔ اس سلسلے کو بھی کی ماہرین نے آگے بڑھایا اور نمایاں ناموں میں ہنری ہیرس، گل کرسٹ، گارسیں دتاسی،آنون،اورڈنکن فاربس شامل ہیں۔
اردو زبان پر لغات اور قواعد کے علاوہ لسانیات کے حوالے سے دیگر موضوعات جیسے اردو کی ابتدا اور اس کی ساخت وغیرہ پر کئی مستشرقین نے یادگار تصانیف چھوڑیں ہیں۔ اس میں بھی اولین نام جرمن مستشرق بنجمن شلزے کا ہے جس کی کتاب ’گراماٹیکا ہندوستانیکا‘ کے دیباچے میں اس نے اردو زبان کی ابتدا اور اس کے وجہ تسمیہ کو موضوع بحث بنایا ہے ۔ لسانیات کی سطح پر کئی مستشرقین کے کارنامے ناقابل فراموش ہیں جن میں بالخصوص جان گل کرسٹ (فورٹ ولیم کالج اور اس کی مطبوعات)،گارسیں دتاسی(سالانہ ادبی و لسانی جائزے اور لیکچر)، جان بیمز(اردو کا جدید لسانیاتی سائنسی پیمانوں پر تجزیہ)،جارج ابراہم گریرسن(جائزہ لسانیات ہندوستان)، تھامس گراہم بیلی(تاریخ ادب اردو) اہم ہیں۔
مستشرقین کی ان کوششوں سے جہاں خود اہل مغرب کو حکومت کرنے اور مذہبی تبلیغ میں آسانی ہوئی ، وہاں اردو زبان میں لغات، قواعد اور لسانی تحقیق کے نئے معیار قائم ہوئے جن پر چل کر مقامی ماہرین نے اپنی زبان اور ماحول سے بہتر آشنائی اور ہمدردرانہ نکتہ نظر کے باعث مستشرقین سے کئی قدم آگے بڑھ کر اردو زبان کی تحقیق و تالیف میں اپنا حصہ ڈالا۔
اس عہد کا لسانیات کے حوالے سے غالباً سب سے اہم کارنامہ سرجارجابراہامگریئرسن کی نگرانی میں پورے برصغیر کی زبانوں کا سروے ہے جو ۱۸۹۸ء میں شروع ہوا اور اس کے نتائج کی آخری جلد ۱۹۲۸ء میں شائع ہوئی۔ تیس برس میں مکمل ہونے وال یہ سروے اپنی تمام خامیوں کے باوجود، لسانیات کے حوالے سے معروضی بنیادوں پر انجام دیا گیا ایسا کارنامہ ہے جس کی ہمت اب تک آزادی کے بعد ہندوستان اور پاکستان دونوں جانب نہیں کی جاسکی۔ حتیٰ کہ گریئر سن کے سروے میں دی گئی معلومات کو محض دوبارہ دیکھنے کی غرض سے ایک محدود سروے کی تجویز پر بھی عمل نہ کیا جاسکا۔ لسانیات کے طالب علموں کے لیے اب اس سروے کی اہمیت یہ رہ گئی ہے کہ اس میں مندرج ہر زبان، اور بڑی زبانوں کے ہر لہجے کے حوالے سے وہ آج تازہ معلومات فراہم کرکے ، اپنی ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سند بھی لے سکتے ہیں اوریہ لسانیات کے شعبے کی بھی خدمت ہوگی۔
اردو لسانیات کے حوالے سے اس سروے کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں اردو زبان کی ابتدا ء کے بارے میں پیش کی گئی آراء پر نہ صرف بعد کے اردو ماہرین نے دلائل سے رد و قبول کا طریقہ اختیار کیا، بلکہ خود گرئرسن نے ابتدا میں میر امن دہلی کا نظریہ یعنی دہلی کے لشکری زبان قبول کیا، اور بعد میں اس سے رجوع کرکے اسے دوآبہ اور مغربی روہیل کھنڈ سے بتایا۔ علاوہ ازیں، اس سروے کے لیے گراموفون میں بڑی زبانوں کے نمونے بھی ریکارڈ کیے گئے تھے۔ اس لیے اگر آپ میر باقر علی داستان گو کا لہجہ اور زبان سننے کے متمنی ہیں ، تو اس سروے کے ڈیٹابیس سے یہ تمنا پوری ہوسکتی ہے۔ اردو کے بارے میں اس ایک صدی قبل مکمل کیے گئے سروے میں اب نئی معلومات کا اضافہ یقیناً سماجی لسانیات کی اہم خدمت ہوگی۔
وسطی عہد:
اس عہد کا آغاز درحقیقت برطانوی تسلط کے دور میں ہوچکا تھا۔ مقامی اہل علم نے مغربی کاوشوں کی خوبیوں کا اعتراف بھی کیا، اور ان میں پائی جانے والی اغلاط کی نشاندہی بھی کی۔ یہ تعلیم یافتہ افراد کا وہ گروہ تھا جنھوں نے برطانوی دور میں جدید تعلیم پائی اور مشرق کے ساتھ ساتھ مغربی علمی ذرائع سے استفادہ کی صلاحیت رکھتا تھا۔ سرسید تحریک میں شامل اہل علم ،جن کے بانیوں کو ’’اردو کے عناصر خمسہ‘‘ قراردیا گیا[سرسید، محمد حسین آزاد، ڈپٹی نذیر احمد، شبلی نعمانی، الطاف حسین حالی]، اس رجحان کے اولین نمائندہ ہیں۔ شبلی نے فارسی اور عربی کو بنیاد بنا کر اردو فصاحت و بلاغت پر روشنی ڈالی، محمد حسین آزاد اور الطاف حسین حالی انجمن پنجاب کے تحت جدید علمی اور لسانی نظریات کے مبلغ تھے۔ اس کے بعد کی نسل میں مولو ی سید احمد(فرہنگ آصفیہ)، مولوی نور الدین ( نور اللغات)، مولوی عبدالحق(انجمن ترقی اردو)،شامل ہیں۔ اس عہد کا غالب رجحان یہ رہا کہ اہل علم، جنھیں لسانیات کی باقاعدہ تربیت نہ تھی، وہ دیگر علمی امور کے ساتھ ساتھ زبان کی خدمت بھی انجام دیتے رہے۔ اس رجحان کے آزادی کے بعد کے عہد میں نمائندہ نام ابواللیث صدیقی،سید احتشام حسین،حامد حسن قادری، مسعود حسین خان،شان الحق حقی،وارث سرہندی ہیں جنھوں نے لغات کی ترتیب اور لسانیات سے متعلق تحقیقی امور میں حصہ لے کر اردو لسانیات کو ترقی دی۔
اس دور میں ایک ایسا سوال تھا جس نے پوری نسل کو اپنی گرفت میں لیے رکھا یعنی اردو کی ابتدا کیسے ہوئی ؟ اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے لسانی تحقیق سے زیادہ سماجی اور علمی دلائل کو بنیاد بنا یا گیا۔ تقریبا ً تمام اہل علم نے اس کا جواب دینے کی کوشش کی جس میں غالباً سب سے زیادہ مدلل جواب حافظ محمود شیرانی نے ’پنجاب میں اردو‘ کی صورت میں فراہم کیا۔
عہد جدید:
اردو پر ایسے ماہرین جنھوں نے لسانیات کی باقاعدہ تربیت حاصل کی، اور اسے اردو ادب سے ہٹ کر ، اپنی انفرادی حیثیت میں سیکھا ، اس عہد کے نمائندہ ہیں۔ اردو لسانیات کے حوالے سےاولین پی ایچ ڈی جنھوں نے برطانیہ اور فرانس سے لسانیات میں تربیت حاصل کی محی الدین قادری زور ہیں جنھوں نے ۱۹۳۵ء میں یہ ڈگری مکمل کی۔
اس جدید دور کے اولین نمائندوں میںمحی الدین قادری زور کے بعد سنیتی کمار چٹر جی، سہیل بخاری، شوکت سبزواری،عین الحق فرید کوٹی اورنصیر الدین ہاشمی کے نام نمایاں ہیں۔بعد میں رشید حسن خان نے اردو املا جبکہگیان چند جین نے جدید لسانیات کے تعارف اور اردو پر اس کے اطلاق کے حوالے سے بنیادی اہمیت کا کام کیا۔
عالمی سطح پر خود علم لسانیات تشریحی اور تجزیاتی رخ اختیار کرگیا ، اور نوم چومسکی کے نظریات نے زبان کے مطالعہ کی نئی راہیں دکھائیں۔ علاوہ ازیں، کمپیوٹر کی ایجاد اور اس کے عالمی چلن نے اطلاعات کے دور کو جنم دیا تو لسانیات میں تحقیق اور تجزیے کا نیا دور شروع ہوا۔ اس عہد میں مشینی تراجم، کمپیوٹری گرامر اور اس جیسے کئی چیلنج دنیا بھر کی زبانوں کو در پیش ہیں۔ اردو زبان چوں کہ دنیا کی بڑی زبانوںمیں شامل ہے، اور اسے سمجھنے والوں کی تعداد ایک ارب افراد پر مشتمل ہے، اس لیے اتنے بڑے تجارتی امکان کے پیش نظر اردو زبان پر بھی تحقیقی کام اور مطالعات جاری ہیں۔ عالمی سطح پر تجارتی اور علمی پیمانے پر مشرقی زبانوں کے ذیل میں اردو زبان پر تحقیق جاری ہے ۔ پاکستان میں بھی اطلاقی لسانیات کے شعبے میں ڈاکٹر سرمد(اردو فونمیات، کمپیوٹری لسانیات)، ڈاکٹر افضل(اردو ضابطہ تختی)، ڈاکٹر عطش درانی(لسانی معیار بندی)، حافظ محمد چوہان (اردو اطلاعیات)اور ڈاکٹراعجاز وہاب(اردو سوفٹ وئر) ایسے کئی نام ہیں جو اردو لسانیات کی اس نئی جہت پر کام کر رہے ہیں۔
ہندوستان میں جدید لسانیات کی تحقیق میں زیادہ معیاری کام ہندی زبا ن میں سامنے آیا ہے، تاہم اردو میں بھی اب ایسے ماہرین کے نام سامنے آرہے ہیں جو محض نظری لسانیات کے بجائے عمرانی لسانیات اور اطلاقی لسانیات میں کوشاں ہیں۔ اس عہد میں اردو لسانیات کے نظری حوالے سے پاکستان میں ناصر عباس نیراور رؤف پاریکھ جبکہ ہندوستان میں مرزا خلیل احمد بیگ اور نصیر احمد خان کے نام نمایاں ہیں۔
عمومی جائزہ:
لسانیات کا علم زبان کی ساخت اور اس کے سماجی استعمالات کی تفہیم کے لیے نظری اور عملی دونوں طریقوں کو بروے کار لایا جاتا ہے۔ اردو زبان کی لسانیات کی ابتدا خالصتاً اطلاقی پہلو سے ہوئی ،یعنی غیر ملکی افراد کی زباندانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے لغات اور قواعد مرتب کیے گئے۔ اس کے بعد مقامی افراد تک عیسائیت کی تبلیغ کے لیے ضروری سمجھا گیا کہ زبان اور اس کے معاشرتی پہلوؤں تک رسائی حاصل کی جائے، نیز سیاسی و انتظامی ضروریات کے تحت یہ بھی ضروری سمجھا گیا کہ یورپی افسران کو مقامی زبان اور ثقافت سے آگاہ کیا جائے، اس لیے لسانیات کے اطلاقی پہلو کے لیے علمی و نظری سطح پر کام کا آغاز ہوا۔ فورٹ ولیم کالج کی تصنیفات ہوں یا گارساں دتاسی کے سالانہ خطبے، ان کا مقصد ہندوستان اور اس کی ثقافت کا شعور حاصل کرنا تھا، جس میں بنیادی اہمیت ظاہر ہےاُسی زبان کو حاصل تھی جو پورے ہندوستان میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک سمجھی جاتی ہے۔
مستشرقین کے کام نے مقامی اہل علم کو مہمیز دی کہ وہ ان لسانی تحقیقات میں پائی جانے والی اغلاط کی نشاندہی کریں اور زیادہ بہتر کام پیش کریں۔ مغربی تسلط کے خاتمے کے بعد، اردو میں لسانیات کی تحقیق خالص علمی مقاصد سے آگے بڑھتی رہی۔ اس دور میں انفرادی تحقیقات اور لغات کی تدوین غالب رجحان ہے۔
عہد اطلاعات کے آغاز سے کمپیوٹری لسانیات کا آغاز ہوا۔ اردو زبان کو جدید عہد سے ہم آہنگ کرنے کے لیے علمی اور تجارتی سطح پر ۱۹۸۰ء سے جس کوشش کو آغاز ہوا وہ آج تک جاری ہے۔ اردو زبان میں کمپیوٹری آلات اور موبائل فون کے استعمالات کو بہتر بنانے کا تجارتی اور علمی سطح پر ایک صحت مند مقابلہ جاری ہے۔
بنیادی مسئلہ جو اردو لسانیات کو روز اول سے درپیش ہے، اور آج تک وہ مسئلہ حل نہیں ہوسکا، وہ لسانیات کے شعبے میں تربیت ہے۔ اردو زبان کے ماہر ین، لسانیات کے علم سے واقف نہیں ،جب کہ کمپیوٹر و لسانیات کے ماہرین اردو زبان پر عبور نہیں رکھتے۔ اردو لسانیات پر جامعات کی سطح پر اب تک کوئی تخصیصی شعبہ قائم نہیں ہوسکا۔ ایسے شعبہ جات انگریزی اور دیگر زبانوں کے شعبہ میں موجود ہیں، لیکن ان کی تربیت اور موضوع دونوں ہی اردو لسانیا ت کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اردو لسانیات کی عملی تربیت کے لیے ماہرین بھی موجود نہیں۔ اس لیے وہ چند افراد جو بیرون ملک یہ تربیت حاصل کرکے آتے ہیں ، ان کے لیے کسی بھی بڑے علمی منصوبے کے لیے درکار انسانی اور مالی وسائل کی کمی رکاوٹ بن جاتی ہے۔
اردو زبان کو ترقی دینے اور اسے جدید عہد سے ہم آہنگ کرنے کے لیے لازم ہے کہ جامعات میں لسانیات کے شعبے میں تعلیم اور عملی تربیت کا نظام قائم کیا جائے تاکہ ایسی افرادی قوت بڑے پیمانے پر تیار ہوسکے جو ملکی اور بین الاقوامی ضروریات پوری کرسکے۔ چوں کہ یہ شعبہ عالمی تجارتی مفادات سے وابستہ ہے، اس لیے ایسے کسی بھی منصوبے کے لیے مالی امداد کا حصول زیادہ مشکل امر نہیں۔ مائکرو سوفٹ، گوگل، امیزون، فیس بک، اور اب واٹس ایپ ایسے ادارے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر اردو صارفین سے کروڑوں روپے کما رہے ہیں۔ یہ ادارے اردو زبان کی تحقیق کے لیے کسی بھی جامعہ کے منصوبے کو درکار رقم دینے میں نہیں ہچکچائیں گے ، لیکن شرط جامعات کے موجودہ نظام میں پائی جانے والی سستی اور بلا ضرورت رکاوٹیں دور کرنا ہے۔
ڈاکٹر رئیس احمد مغل
ایسوسی ایٹ پروفیسر،
گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج، نوشہرہ، خیبر پختونخوا، پاکستان۔
رابطہ: raees.mughal@gmail.com
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


6 comments
عمدہ تحریر ہے۔ قلمکار پروفیسر رئیس احمد مغل کی یہ کاوش قابل دادہ ہے۔
ماشاءاللہ۔
نہایت دقتِ نظر کے ساتھ بہت مفصل اور جامع رہنماٸی فرماٸی ہے۔ ڈاکٹر صاحب ہم سب کے شکریے کے مستحق ہیں۔
کیا محترم ڈاکٹر صاحب کا رابطہ نمبر مل سکتا ہے؟
[…] تحقیق و تنقید […]
بہت عمدہ
تاریخ کو خشک ‘تاریخوں’ سے نکال کر دلچسپ ادوار کے ذریعے پیش کرنا جدید دور کی خوبی ہے جس کا ایک مظاہرہ یہ تحریر ہے.
[…] مقبول ترین برِّ صغیر ہند میں بچوں کا سیرتی ادب… تعلیم کی تلاش میں: بوکر۔ ٹی ۔واشنگ ٹن- وسیم… اردو لسانیاتی مطالعات کی تاریخ -ڈاکٹر رئیس احمد… […]
اردو لسانیات کے تاریخی جائزے پر مشتمل نہایت وقیع اور جامع تحریر۔۔۔لسانیات کو عہد حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی واقعی اشد ضرورت ہے۔ اردو دوستوں کو اس طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے