اکیسویں صدی میں اردو ناول نئے ولولے کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ پرانے اور نئے لکھنے والوں نے ابتدائی دودہائیوں میں کئی اہم ناول تخلیق کئے۔انھی نواردوں میں ایک نام اختر رضا سلیمی کا ہے۔ جن کے یکے بعد دیگرے دو ناول منظر عام پر آئے اور قارئین کی توجہ مبذول کروانے میں کامیاب ٹھہرے۔
خالد محمود سامٹیہ نوجوان اسکالر ہے جس نے اختر رضا سلیمی کے دونوں ناولوں کا تنقیدی جائزہ لیا ہے اور کتاب کا نام "خواب، اجتماعی لاشعور اور اختر رضا سلیمی” رکھا ہے۔ کتاب کی ضخامت ۱۵۹صفحات ہے اور اسے گیارہ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اجتماعی لاشعور کے لفظ نے مجھے چونکا یا ، دوران خواندگی خوشگوار حیرت ہوئی کہ خالد نے روایتی تنقید نگاری کی بجائے بین السطور اُترنے کی کوشش کی ہے۔ فکشن کی مینا کاری ایک پیچیدہ عمل ہے اور قاری کی اس تک رسائی پیچدہ تر۔ ژونگ اور فرائڈ کے نظریات نے کئی علوم کو متاثر کیا۔ ادب میں عموماً اور ناول میں خصوصاً اس کو برتنا فنکارانہ ایچ تصور ہونے لگا۔ اس تکنیک سے نہ صرف فن پارہ پُر پیچ اور تہہ وار ہو جاتا ہے بلکہ حسین اور دلفریب بھی بن جاتاہے۔ اس کی کامیاب مثالیں لاطینی امریکن ناول نگاروں کے ہاں ملتی ہیں۔ اختر رضا سلیمی کے ناولوں "جاگے ہیں خواب میں”اور "جندر” ہر دو میں خالد محمود نے نفسیاتی جہت کو کھوجنے کی سعی کی ہے۔ یہ اس لیے کامیاب کاوش قرار دی جاسکتی ہے کہ دونوں کہانیوں کے مرکزی کرداروں کی ذہنی حالت سے ہی حقیقت تک رسائی ممکن ہے۔ اول الزکر ناول کا عنوان غالب کے شعر سے مُستعار ہے اس لیے موضوع کا سِرا پکڑنا شاید دشوار نہیں اور موخر الذکر ناول کا کردار جندروئی روایت سے جڑاشاید وہ آخری آدمی ہے جو شعور کی رو کے توسل سے مٹتے ہوئے ماضی کو زندہ رکھنے کا خواہاں ہے۔
"جاگے ہیں خواب میں "کے ناقد نے انسانی لا شعور کے آئینے میں دیکھا ہے۔ ناول کے کردار کا طویل خواب جو اسے ماضی کی طرف لے جاتا ہے اور وہ متروک رسم الخط میں کندہ تحریر یں بھی پڑھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ دراصل کارل ژونگ کے نظریہ اجتماعی لاشعور کی روشنی میں سمجھا جاسکتا ہے۔صاحبِ کتاب نے جگہ جگہ پلاٹ کے کرداروں کے حوالے دے کر اپنے Thesisکو وقیع بنایا ہے۔ کوما، نیم بے ہوشی ، غنودگی ، حافظے کی گمشدگی اور موت کی غشی وغیرہ کے دوران ادا کئے گئے مکالمے اور خود کلامی وہ نفسیاتی گُتھیاں ہیں ان کی تفہیم و تشریح اکہری تنقیدی نظر سے ممکن نہیں ۔ ایسے فنکار کو بدقسمت کہنا چاہیے یا خوش قسمت کہ جن کو فائق قاری اور طرار ناقد ٹکر جائیں۔اس ضمن میں خالد محمود نے مہارت کا ثبوت دیا ہے۔ تنقید کا ایک پہلو اختر رضا سلیمی کے نالوں میں "تصور موت”کا پتہ لگانا ہے چنانچہ انھوں نے سلیمی کو ہائیڈگر کے فلسفہ ء موت سے متاثر قرار دیا ہے، دلیل یہ دی گئی ہے کہ اختر کے تراشیدہ کردار وجودی تصور موت پر کامل ایقان رکھتے ہیں نا کہ طبعی موت پراور اول الذکر تصور ہی دراصل آدمی کی ذات کو مستحکم کرنے میں ممد ہے۔ لہذا وہ موت سے خوفزدہ نہیں ہیں بلکہ اسے وہ اپنی قوت ِ ارادی کو مضبوط کر لیتے ہیں۔ حیات و موت کی کشمکش سے ہی اجتماعی لاشعور جنم لیتا ہے، جہاں ماضی ، حال اور مستقبل تثلیت نہیں رہتے وحدت بن جاتے ہیں۔ دونوں ناولوں کے مرکزی کرداروں زمان اور ولی خان کا مراجعت (Retropective)کا سفر اور روایات سے جُڑت کو ناقد نے بطور دلیل پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک باب میں "مابعد نو آبادیاتی مطالعہ”کی روشنی میں اختر رضا سلیمی کے ناول کو پر کھا گیا ہے۔ جمیز ایبٹ کے حوالے سے استعماری سوچ اور استعماری ہتھکنڈوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جہادی فلسفے اور مقامی آبادی کا جمیز ایبٹ کی حمایت اور مرکزی کردار کا بدھ فلسفے کا حامی ہونا راقم کے خیال میں ناول کے تضادات ہیں البتہ مقامی لوگوں کا ایبٹ کے ہاتھ پر بیعت کرلینا پورے ہندوستان کی سائیکی کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہے۔ ناول کے اس تناظر کو تنقید نگار (فرطِ جذبات میں شاید) گرفت میں نہیں لے سکے۔ مٹتے ہوئے ماضی، ثقافتی معدومی اور تمدنی تبدیلی والے پہلوئوں کو (خصوصاً جندر میں ) ناقد نے تنقیدی شعور کے ساتھ بیان کیا ہے۔ کتاب کا اہم باب "ناول جندر اور سدھارتھ میں فکری مماثلتیں”ہے۔دونوں ناولوں میں ایک صدی کے زمانی بُعد کے باوجود ہر دو کے مرکزی کرداروں (سدھارتھ اور ولی خان) میں حیرت انگیز مماثلت تلاش کی گئی ہے۔ سدھارتھ کا باطنی اور ظاہری سفر "نروان”کی تلاش میں تھا اور ولی خان بھی سب رشتوں سے فراق کے بعد آسودگی کا خواہاں ہے۔ یہ تصور تنقید نگار نے خود ناول میں موجود ولی خان کی خود کلامی سے کشید کیا ہے۔ بظاہر تو دونوں کرداروں کے اِکلاپے (Conlyness)کی وجوہات جُدا جُدا ہیں مگر شاید معارفت تک رسائی کے لیے ضروری ہے۔ ہاں ناول میں پہاڑی ندی اور دریا(بہاؤ) قدر مشترک ہے۔ دریا کا کلام اور جندر کی آواز میں بھی گہری مماثلت ہے ان جیسی کئی مثالوں کا خوبصورتی سے موازنہ کیا گیا ہے۔ادب کے نوبل انعام اور یوبی ایل انعام میں مشابہت البتہ صائب نہیں، اختر رضا سلیمی اور ہرمن ہیسے کو بدھ تعلیمات سے متاثر قرار دینا درست ہو سکتا ہے۔ ناول نگار کو سمجھنے کے لیے ان کے انٹرویو کے ہوتے ہوئے تعارفی باب اضافی لگتا ہے۔ معاصر ین کی ناول نگار کے بارے آراء اور ان کے فن پر لکھی گئی تحریرو ں کی تفصیل بھی آخر میں دے دی گئی ہے۔ جن سے اختر رضا سلیمی کو بطور فنکار سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ ایک عمدہ کاوش ہے ۔ نسبتاً چھوٹے شہر میں رہتے ہوئے نوجوان سکالر کی اد ب سے وابستگی اور دلچسپی لائقِ تحسین ہے۔ خالد محمود سامٹیہ جیسے قارئین ہمارے سماج کی اشد ضرورت ہیں ۔ امیدکی جانی چاہیے کہ مستقبل میں وہ اپنی تنقیدی مہارت کو مزید ترقی دیں گے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

