’’تیرے ماتھے پہ یہ آنچھل بہت ہی خوب ہے لیکن ،تو اس آنچل سے ایک پرچم بنالیتی تو اچھاتھا‘‘۔مجاز کایہ شعرنصیبن نے سنا تھا یا نہیں سنا تھا ،پڑھا تھا یا نہیں پڑھا تھا،یہ تو نہیں معلوم لیکن نصیبن جب اپنے رکشہ میں سواری ڈھوتی سرائے مالی خاںسے نخاس تراہے تک جانے والی سڑک پر پھیرے لگاتی تو اس کا دپٹّا ضرور پرچم کی طرح لہراتا رہتا تھا ۔
نصیبن رحمت میاں کے بیٹے حسن مجاور کی بیوی تھی ۔جب اس کا نکاح ہوا تھا تب اس کی عمر محض سترہ(17 )سال کی تھی ۔حسن مجاور درگاہ کے احاتے میں دن رات سستی میں پڑے ہوئے گانجے کے نشے میں دھت رہتا تھا ۔رحمت میاں کا گھر ضرور مجاوروں کے علاقے میں تھا لیکن بہ ذاتہ خود رحمت میاں کا ذریعۂ معاش ٹیمپوں چلانا تھا۔جب ضعیفی کا دور قریب آیا اور صحت جواب دینے لگی تب رحمت میاں نے اپنی جمع پونجی سے اور قرض لے کر ایک رکشہ نکلوایا ،اس امید سے کہ شاید حسن میاں رکشہ کی بدولت اپنے پیروں پر کھڑے ہوجائیں۔ مگر ایسا ہو نہ سکا۔حسن میاں نشے کی لت میں ایسا ڈوبے کی پھر اُبر نہ سکے ۔رحمت میاں نے رکشہ کوٹے پر چلوانے کی کشش کی لیکن ڈرائیوروں کی بے ایمانی اور لاپرواہی کے چلتے انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔رحمت میاں نے تھک ہار کر رکشہ گھر پر کھڑا کر دیا ۔اب ان کے یہاں کھانے کے لالے پڑنے لگے ۔ان کے بے حد مایوس کن حالات میں پچیس سالہ تین بچوں کی ماں نصیبن میدان میں اُتری اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے میدان مار بھی لیا۔
آج کل کبھی نصیبن تو کبھی اس کی سہیلی سرلا ،باری باری سے یا پھر کبھی ایک ساتھ بھی ،صبح سے شام تک رکشہ چلاتی ہیں۔چوک علاقے کے تمام رکشہ چلانے والوں نے نصیبن اور سرلا کو رضیہ سلطانہ اور جھانسی کی رانی کے لقب سے نواز رکھا ہے۔سرلا رجّوں بویا کی بہو تھی ۔ وہ تقریباًً نصیبن کی ہم عمر ہی تھی۔دو بچوں کی ماں تھی اور اسی کشتی میں سوار تھی جس میں کہ نصیبن سوار تھی ۔یعنی سرلا کا پتی اوتار ایک نمبر کا جوواری ،شرابی اور نکمہ آدمی تھا۔ایک وقت تھا جب وہ سرلا کو آئے دن کوٹا کرتا تھا مگر آج کل وہ ایسا کچھ بھی نہیں کر پا رہا تھا۔دراصل نصیبن اور سرلا کی ملاقات بھی اوتار کی ہی وجہ سے ہوئی تھی ۔سرلا کی کوٹھری مالی خاں سرائے کی ایک گلی میں تھی ۔ایک روز شام کے وقت نصیبن بکنگ کی سواری چھوڑکرسرلا کی گلی سے گزر رہی تھی ۔اوتار اپنی کوٹھری کے باہر گلی میں اپنی بیوی سرلا کی بڑی بے رحمی سے دھنائی کر رہا تھا۔سرلا روتی چلاتی مار سے بچنے کے لئے چھٹپٹا رہی تھی ۔سرلا کے بچے اپنی دادی کی گودی میں دبکے بلک بلک کر آنسو بہا رہے تھے ۔سرلا کی ساس دوہائی دے دے کر اپنے بیٹے سے سرلا کو چھوڑ دینے کی گہار لگا رہی تھی ۔محلے والے چھوٹا موٹا مجمع لگا کر تماشا دیکھ رہے تھے جس کی وجہ سے گلی جام ہو گئی تھی ۔مجبوراً نصیبن کو رکشہ روک کر اُترنا پڑا ۔قریب پہنچ کر نصیبن نے جب اوتار کے ظلم و ستم کا نظارہ دیکھا تو اس کا پارا ساتویں آسمان پر جا پہنچا اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ بس دو لاتیں جما کر اوتارکے پچھواڑے پر دے ماری اورپھر کالر پکڑکر پٹخ دیا اسے زمین پر۔
’’سرئو،شرم نہیں آوت ہے جورو پر ہاتھ اُٹھاوت ہو اے ڈوب مرموئے چلو بھر پانی ما‘‘نصیبن چیخی اور پھر چلی نصیبن کی چپلیں اوتار کی کھوپڑی پر۔
بس پھر کیاتھا،اوتار کانشہ ہیرن ہوگیااور وہ لگا نصیبن کے پیروں میں گر کر معافی مانگنیں’’ارے بھوجی معاف کرر غلطی بھئی‘‘۔
ایسی دھاکڑہیں ہماری نصیبن میڈم۔بس اسی دن سے نصیبن اور سرلاپکّی سہیلی بن گئی اور جلد ہی یہ ددستی پارٹنرشپ میں تبدیل ہو گئی اوردونوں ساتھ مل کر ارکشہ چلانے لگی ۔نصیبن کی صحبت کا اثرسرلا پریہ ہوا کی اوتار کی اب یہ ہمت نہ تھی کی وہ سرلا کو ہاتھ بھی لگا سکے ۔ایک آدھ بار اس نے حماقت کر نے کی کوشش کی بھی توسرلا نے اسے ایسا خبردار کیا کی وہ بھیگی بلّی بن کر رہ گیا۔ یوں نصیبن اور سرلا کی مفلسی میں غرق زندگیوں میں پریشانیوں اور دشواریوں کی کمی تو نہیں تھی لیکن پھر بھی ددنوں ایک ددسرے کا ساتھ پا کر خوش تھیں اور ان کی گزر بسر کم وب یش مزے میں ہو رہی تھی ۔سرلانصیبن کی احسان مند تھی کیوں کہ نصیبن نے اسے عزت کے ساتھ چار پیسے کمانے کا رستہ دکھایا تھا ۔شاید اسی لئے سرلا بھی پوری امان داری اور لگن سے نصیبن کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہی تھی اور اپنے بچوں کی پرورش بھی کر رہی تھی ۔
ظاہر ہے نصیبن کی یہ دبنگئی اورخود مختاری شروع سے ہی مردانہ معاشرے کے چند کوڑ مغزاور تنگ ذہن مردوں کو پھوٹی آنکھ نہیں سہاتی تھی ۔وہ رحمت میاں سے شکایت کر تے تھے،
’’رحمت میاں آپ کی بہو کے یہ لکچھن یہ تیور ہرگز مناسب نہیں ہیں۔کینچی کی طرح زبان چلتی ہے نصیبن کی ،جس تس سے پنگہ مول لے بیٹھتی ہے‘‘۔
رحمت میاں مسکرا کر جواب دیتے۔۔’’اماں میاں،حق بات پر پنگہ لیتی ہے نصیبن،حق بات پرکھری کھوٹی سناتی ہے سچ بولتی ہے،ہماری بہو ‘‘۔
کہنے والے کہتے،
’’سارادن مردوں کے بیچ بے پردہ گھومتی پھرتی ہے نصیبن۔یہ حرکتیں ٹھیک نہیں ہیں،عورت گھر کی چار دیواری اور حجاب میں ہی محفوظ ہے رحمت میاں‘‘۔(یہ بھی پڑھیں اب تو کچھ کرو نا – راجیو پرکاش ساحر )
رحمت میاں فخر سے جواب دیتے ’’گھومتی پھرتی نہیں ہے میاں،نصیبن تو محنت سے حلال کی روزی روٹی کما کر میری اور بچوں کے پیٹ کی آگ بجھاتی ہے۔گھر کا چولہا گرم رکھتی ہے ۔جس کی یہ ذمہ داری تھی،وہ بدذات بدنصیب میرا بیٹا تو نشاخوری میں برباد ہو رہا ہے ۔اور ہاں میری بہو کی فکر نہ کرومیاں،وہ تو اپنی غیرت ،حوصلے اور عزم کے حجاب میں محفوظ بھی ہے اور باوقار بھی ہے ۔رکھو اپنا مشورہ اپنے پاس میاں،’’چلو ہٹو بھائی رستہ چھوڑو ،میری نمازکا وقت ہو گیا ہے ‘‘۔
اس دن دھوپ میں شدت بہت تھی ۔دو پہر تپ رہی تھی ۔تنگ سڑک پر بے صبروں کی بھیڑ اور شورغل ہی شور غل تھا۔ہر طرف بھاگم بھاگ مچی ہوئی تھی اور ٹریفک رینگ رہا تھا۔اتفاق سے اس دن دونوں رکشہ میں ساتھ ساتھ تھیں۔سرلا رکشہ چلا رہی تھی اور نصیبن باجو میں بیٹھی تھی ۔رکشہ میں پیچھے سواریاں بیٹھی تھیں۔رکشہ خرامہ خرامہ بھیڑ اور ٹریفک میں رستہ بناتاچلا جا رہا تھا۔
اتنے میں ایک رئیس زادہ رنگ باز لکھئنووا بکیت ٹائپ نوجوان جواپنی سوپرٹیک ہائی سپیڈمہنگی بائک پرسوار یھااور شاید وہ تیزی سے آگے جانا چاہ رہا تھا ،نے اپنی بائک سہیلوں کے رکشہ سے ٹکرا دی ۔رکشہ چونکہ دھیمی رفتارسے چل رہا تھا اسی لئے شایدسرلا نے بیحد ہنرمندی سے اس پر قابو قائم رکھااور اسے روک لیا۔لیکن گل فام بائک سوار چونکہ گھوڑے پرسوار تھااسی لئے توازن کھو کربائک سمیت سڑک پر چاروں کھانے چت ہو گیا ۔حالانکہ غلطی اسی کی تھی پھر بھی وہ تمتمایا،کھسیایا اُٹھا اور لگا اول فول بکنے ۔جب سرلا نے پلٹ کرڈپٹا تو نوجوان بد تمیزی پراُتر آیا اور سرلا کے بال پکڑکر اسے گھسیٹنے اورنیچے گرانے کی کوشش کر نے لگا۔یہ دیکھ کر نصیبن کے تن بدن میں تو جیسے آگ لگ گئی۔وہ بجلی کی تیزی سے رکشہ سے اُتری اور میدان جنگ میں کود پڑی۔پلک جھپکتے ہی اس نے کھینچ کر دو لاتے سامنے سے نوجوان کی کمر کے نیچے جڑ دی ۔وار نشانے پر پڑا۔نوجوان شوہدے کو دن میں تارے نظر آنے لگے ،وہ بلبلا اُٹھا۔پھر تو دونوں سہیلیاں اس شوہدے پر شیرنیوں کی طرح ٹوٹ پڑی۔نوجوان نے موقع واردات سے نو دو گیاہ ہو جانے میں ہی اپنی عافیت جانی ۔نصیبن اور سرلا اپنے لبوں پر فاتح مسکان لئے سواریوں سے لدی رکشہ کے ساتھ منزل کی جانب روانہ ہو گئیں۔دیکھنے والے دانتوں تلے اُنگلی دبائے دیکھتے رہ گئے ۔
’’واہ جی واہ،کیا مردانی زنانہ ہیں صاحب‘‘۔
نصیبن اور سرلا کی سانولی رنگت اور معمولی نین نقش اعتماد کی تمکنت میں کتنے خوبصورت معلوم دے رہے تھے ۔
راجیو پرکاش ساحر
20/84 ,Ring Road Indira Nagar Lucknow
Mob 9839463095

