وہ بیحد خوبصورت ہے ،یہ میں جانتا ہوں۔ کیوں نہیں جانوں گا؟میں نے اسے بیحد قریب سے خوب دیکھا ہے ،کئی بار دیکھا ہے ۔یوں کہئے کہ بار بار دیکھا ہے ۔اس کے پر کشش چہرے سے پہلے اس کے جذبات صاف عیاں ہوجاتے تھے ۔وہ کب خوش ہے کب اُداس ہے ،یہ میں اسے ایک نظر دیکھ کر ہی جان لیتا تھا ،پہچان لیتا تھا ۔مجھے دیکھ کر اس کے دل کش لبوں پر ایک دل فریب تبسّم تیر جاتی تھی اور اس کی جھیل سی گہری نشیلی کالی کجراری آنکھوں میں حیااور شرارت کا سنگم مجھے مد ہوش دیوانہ بنا دیتا تھا ۔میں اس کے سنگ مرمری گداز جسم کو اپنی باہوں میں بھر لیتا تھا اور اس کے گرم نازک ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیتا تھا ۔وہ ساون کی مست گھٹا کی طرح کھُل کر میرے تپتے ارمانوں پر برستی تھی ۔ہمارے درمیان محبت کے سوا اور کچھ بھی نہیں تھا۔
آہ!اب ہم ایک چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو ٹھیک سے دیکھ نہیں پاتے ۔ہمارے چہروں پر نقاب ہے اور ہمارے درمیان فاصلہ لازمی ہے۔ہماری آنکھوں میں خوف،اندیشوں اور فکر کی گہری پرچھایاں ہیں۔ ا ب ہم ایک دوسرے کے ادھ چھیپے چہروں کو مشکوک نگاہوں سے تکتے رہتے ہیں۔ہمارے درمیان مجبوریوں اورعلیحدگی کا ایک اجنبی سایہ آگیا ہے ۔
چینی خاتون ویئی گوجیان ووہان کے سی فوڈ بازار میں دس دسمبر دو ہزار اُنّیس کے دن جھینگے اور کیکڑے بیچ رہی تھی ۔تبھی اسے سردی زکام کی شکایت ہوئی ۔ویئی کو لگا کی اسے موسمی فلو ہے ۔اس کا ایسا سوچنا غلط تھا۔دراصل وہ ایک بے رحم شیطان وائرس کو انجانے میں دنیا میں لے آئی تھی ۔کہتے ہیں کی اب وہ صحت یاب ہو چکی ہے لیکن اس کی بدولت آج پوری دنیا ایک لاعلاج وائرس کا شکار ہے ،بیمار ہے اور خوف زدہ بھی ہے ۔چین والوں نے بہت پیار سے اس خطرناک وائرس کو کرونا نام دیا اور بطور تحفہ اسے دنیا والوں کی نذرکر دیا ۔ (یہ بھی پڑھیں تحلیل ہوتا صفر – راجیو پرکاش ساحر)
ہم میاں بیوی چین سے نہیں لوٹے تھے ۔ہم تو لو میرج کے بعد فرانس میں ہنی مون منا کر لوٹے تھے۔پیرس کی رونق آمیز رعنائیوں میں وصل کی رنگنیوں کے بھر پور مزے لے لینے کے بعد ہم مارچ کے پہلے ہفتے میں نئی دلّی واپس آگئے تھے ۔دلّی ایئر پورٹ سے ہم باآسانی باہر نکل آئے تھے ۔کرونا کی سگبگاہٹ تو ضرور سنائی دینے لگی تھی مگر ایئر پورٹ پر ایسی کوئی خاص سختی نہیں دکھائی دے رہی تھی ۔بس فوری طور پر جانچ کی رسم ادائگی ہو رہی تھی ۔ہم فرانس کی خماری میں ڈوبے اپنی رہائش گاہ پرآگئے اور اپنی روزمرا کی زندگی میں لوٹنے کی تیاریاں کر نے لگے ۔
لیکن باہر کرونا نام کا ہیبت ناک طوفان زور پکڑتا جا رہا تھا ۔بیرونی ملکوں سے ہندوستان کی سرحد میں بھاری تعداد میں آنے والے یہ نہیں جانتے تھے کی ان میں سے بہت سے لوگ اپنے ساتھ موت کا سامان بھی لے کر آرہے ہیں۔کچھ کرونا پازٹیو نکل رہے ہیں، کچھ کرونا نیگیٹیو نکل رہے ہیں اور کچھ کرونا سے مچے ہنگامے میں جانچ کر رہے دستوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر عوام میں گھول مل گئے ہیں۔انہی بچ نکلنے والوں میں سے ایک ہم میاں بیوی بھی ہیں۔
آئے دن کرونا کے مریض سامنے آرہے تھے ۔کرونا کاسایہ زہریلا تھا،کرونا کی چھینٹے زہریلی تھی اور کرونا کالمس کالے ناگ کے ڈسنے جیسا تھا۔سرکار کاحکم تھا کی جو بیرونی ملک سے آئے ہیں وہ سامنے آئیں اورا پنی جانچ کروا ئیں،ورنہ ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی ۔کرونا چھوت کی بیماری ہے جو دن رات دوگنی رفتار سے پھیلتی ہے ۔ہر طرف خوف کا ماحول ہے ۔جان لیوا کرونا نہ جانے کہاں کہاں چھپا بیٹھا ہے ،نہ جانے کس کس میں چھپا بیٹھا ہے ۔ہر کسی کو ہر کسی سے خطرہ ہے ۔مناسب دوری بنائے رکھئے۔ نزدیک مت آؤ،چھونا نہیں،نہ ہاتھ ملاؤ نہ گلے ملو۔نمستے آداب کا رواج اور تمدن تو ہینڈشیک کی نمائش میں دھندھلا سا ہو گیا ہے ۔مگر آج اس کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے ۔
اب ہم میاں بیوی بے حد ڈرے ہوئے ہیں۔بس ایک ہی سوال ہمیں ستا رہا ہے ۔کہیں ہم کو کرونا تو نہیں ہے ۔جانچ کراتے ہوئے ڈر لگتا ہے ۔کہیں پوزٹیو پائے گئے تو کیا ہوگا ؟۔قئرنٹین،بد نامی،زمانہ ہم سے کنارہ کر لیگا ۔کیا ہم ٹھیک ہو پائین گے ؟کیا ہم زندہ بچ پائیں گے؟کیا خود کو چھپانے کے جرم میں ہمیں سزا تونہیں ہوگی ؟کبھی کبھی ہمارا ضمیر ہمیں دھکاّرتا ہے ۔کہیں ہم نے اپنی بز دلی سے بہت سے لوگوں کی جان خطرے میں تو نہیں ڈال دی ؟مگر آج کل ضمیر کی سنتا ہی کون ہے؟اگر سنتا ہی ہوتا تو پھر کرونا وجود میں ہی کیوں آتا۔اب ہم حو لناک وسوسوں کی قید میں دم سادھے خاموش بیٹھے ہیں۔ اب ہم میاں بیوی کے بیچ کرونا کے فاصلے ہیں اور ہے غضب کی کشمکش۔ ماحول میں کرونا کے طوفان کا قہر جاری ہے ۔شاہ راہوں پر خوف زدہ مزدور اپنے بھوکے پیاسے بچوں کے ساتھ بے سہارا بھٹک رہے ہیں۔ جنازوں کو کاندھیں ملنا دشوار ہے، بچپن کھُلی ہوا کے لیے تڑپ رہا ہے ۔ جنتا کرفیو ہے ،لاک ڈاؤن ہے اور قید کرونا ہے ۔اتنا سناّٹا کیوں ہے بھائی ؟اندرکا سناّٹا باہر آگیا ہے اور باہر کا شور اندر سما گیا ہے ۔
’ؔؔؔؔؔ’آخر کار یہ کرونا وائرس ہے کیا بلا ؟
’’کرونا نفرت ہے ،ہوس ہے اور ہے ظلم و ستم ‘‘
’’کیا کرونا سے نجات پانا چاہتے ہو؟‘‘
اگر ہاں،تو پھر کرونا والی منفی سوچ کو بد لنے کے لئے ’’اب تو کچھ کرونا‘‘۔
راجیو پرکاش ساحر
2o/84 Ring road indiranagar lucknow
mob 9839463095

