سون پہاڑی میں۷۱۱ عیسوی سے جڑے ایک راجا بل شاہ کے سو من سونے والے خزانے کی پوشیدہ موجودگی سے وابستہ قصہ ایک زمانے سے مشہور ہے ۔ادھر کچھ سال پہلے محکمہ ارضیات نے سون پہاڑیوں میں سونے کے وسیع ذخیروں کے ہونے کے امکانات کی طرف اشارہ کیا تھا ۔یہ خبر خوب سرخیوںمیں رہی کی سون پہاڑیوں کی پر اسرار گہرا ئیوں میں تین ہزار ٹن سونے سے بھی زیادہ سونا ہو سکتا ہے ۔لیکن پھر نہ جانے کیوں یہ خبر آہستہ آہستہ ٹھنڈے بستوں میں گم ہوتی چلی گئی ۔
سون بھدر کی ہلکی ہلکی پہاڑیوں پر تیندو اور ڈھاک کے جنگلوں کی ایک تاریک رات ۔جنگل کے سکوت میں جنگلی زندگی حرکت میں تھی ۔کبھی کبھی دل دہلادینے والی حیرت انگیزصدائیں باز گشت کراُٹھتی تھیں اور پھر یکایک سکوت طاری ہو جاتا تھا اور موت کے بے آوازحیوان جنگل کے اندھیرے گوشوں میں غائب ہو جاتے تھے ۔اپنے چھوٹے سے اندھیرے بل میں سے ڈائنو سور کے منی ماڈل سا لگنے والا ایک عجیب وغریب چوپایہ حیوان لُّبونہ جانورخوراک کی تلاش میں نکلا ۔وہ ایک نر ہندستانی چینٹی خور پینگولین(دیشی نام سلّو سانپ)تھا۔اس کے تقریباً تیرہ کلو وزن اوردو میٹر لمبے جسم پر کیروٹین کے شیل اور سکیلس کا مضبوط زرہ بکتر موجود تھا۔اس کا قد چھوٹا تھا اور اس کے سونڈجیسے منہ کی سونگھنے کی قوت بے مثال تھی ۔وہ اپنی لمبی سی دم سے ضرورت پڑنے پر ہتھیارکا بھی کام لے سکتا تھا ۔پینگولین تنہائی پسند تھا ۔
چوکس پینگولین رات کی سیاہ گنجان ویرانی میں بڑھا چلا جا رہا تھا کی اچانک اس پر تیز روشنی پری ۔پینگولین چونک پڑااور خطرے کااندازہ ہوتے ہی اس نے اپنے آپ کو گول گول فٹ بال کی طرح موڑلیا ۔پینگولین کا زرہ بکتر فولاد کی طرح مضبوط تھا یہاں تک کی شیر کے دھار دار دانت اور پنجے بھی اس کا کچھ بگاڑ نہیں پاتے تھے ۔لیکن دنیا میں آدمی سے زیادہ طاقت ور درندہ دوسرا اور کوئی نہیں ہے ۔پل بھر میں پینگولین
بے رحم شکاریوں کے جال میں تھا۔جناب پینگولین صاحب بے حدشرمیلی اور بے ضررطبیعت کے مالک تھے ۔وہ انسانوں کی پرچھائیوں سے بھی دور بھاگتے تھے ۔مگر یہ ان کی بد قسمتی تھی کہ غیر قانونی ناجائز بین اقوامی جنگلی جانوروں کے کاروبار میں ان کی قیمت سونے سے بھی زیادہ تھی ۔تو اس طرح سون بھدر کے جنگلوں کی اس خوف ناک رات میں پینگولین کے ایک درد ناک لمبے سفر کاآغازہوا ۔
آرکٹیک کی برف پگھلنے سے شمالی اٹلا نٹک اوقیانوس(ocean)اور شمالی پیسیفک اوقیانوس(ocean)کے سیل اور سمندری اُدبیلائو جیسی سمندری مخلوقات کی زندگی خطرے میں تھی ۔موسمی بدلاؤ کے ماہرین پگھلتی برف کے متعلق بہت پہلے سے ہی فکرمند تھے ۔ ان کا کہنا تھاکی اس کی وجہ سے کئی بیماریاں دونوں بڑے سمندوں میں پھیل جائیں گی ۔موسمی بدلاؤ کی وجہ سے آرکٹیک کی برف پگھل رہی تھی اور ایک فوسین ڈیسٹیمپر وائرس (پی ڈی وی)اب دوسرے علاقوں تک بھی پھیل رہا تھا ۔پی ڈی وی سیل نسل کے لیے ایک بڑا خطرہ تھا ۔اسے بحرا (Pacific)اوقیانوس میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا ۔اس وائرس کی پہلی بار معلومات1988میں سامنے آئی تھی ۔اس کی وجہ سے تب برطانیہ میں ہزاروںسیلوں کی موت ہو گئی تھی ۔یہ وائرس قوت مدافعت پر حملہ کر دیتا تھا ۔اس سے جانوروں کو Pneumoniaہو جاتا تھا اور انفیکشن کی وجہ سے دس دن کے اندر ہی اندر موت ہو جاتی تھی ۔سال1988میںاس وائرس کے آشوب اور زہر کے بیحد خطرناک اثر سے23ہزار ہاربر سیلوں کی موتیں ہوئی تھیں اورسال2002میں30ہزار سیلیں مر گئی تھیں۔یہ وائرس ایک جانور سے دوسرے جانورمیں پھیل رہا تھا۔
شکاریوں کے شکنجے میں جکڑا بے بس پینگولین سون بھدر سے بہار،بنگال ہوتے ہوئے شمال مشرق کے صوبے اروناچل پردیش کے دارالحکومت ایٹانگرپہنچ گیا ۔سون بھدر سے اٹانگر تک پہنچتے پہنچتے اس کی قمت25لاکھ روپے ہو چکی تھی ۔جب اسے ہند چین سرحد کے اس پار اسمگل کیا گیا تب اس کی قیمت کروڑوں روپے ہو چکی تھی ۔خدا جانے کیوں پینگولین کے گوشت کی تاثیر چینیوں کو بے حد متاثر کر تی تھی ۔
پینگولین کو وہان پہنچا دیا گیا ۔وہان کے وائرس تحقیقی ادارے میںاس کے جسم میں چینی چمگادڑکا خون اُتار دیا گیا ۔اب اس تحقیق کا مقصد کیا تھا یہ آج تک مشتبہ ہے ۔اس کے بعد پینگولین کو وہان کے جنگلی جانوروں والے بازار میں بیچ دیا گیا ۔بازار میں اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس کے گوشت کو فروخت کر دیا گیا ۔لیکن اسی دوران پینگولین کے خون میں ایک ہیبت ناک موت کا سوداگر وجود میں آچکا تھا۔وہان سے اس وائرس کے لا تعداد ہم شکل ساری دنیا میں جنگل میں لگی آگ کی طرح پھیل گئے ۔ہر طرف تباہی اورکہرام مچ گیا ۔کہا جانے لگا کہ کورونا بیمار دنیا سے سونا لوٹنے کی سازش ہے ۔سونا سونا ہائے کورونا بس رونا ہی رونا ۔کورونا کوسیاسی اور مذہبی خساروں سے بھی پرہیزنہیں ہے ۔پینگولین کے قتل سے پیدا ہوئے کورونا کی حرارت سے سارا جہاں تپ رہا ہے ۔کورونا لا علاج ہے۔کورونا عذاب ہے کوروناآفت کا سر تاج ہے ۔چہروں پر نقاب ہے اور دو گز کی دوری ہے بے حد ضروری ۔
پی ڈی وی وائرس الاسکا کے پانی تک پہنچ چکا ہے ۔گرم ہو رہے آرکٹیک مہا سمندر سے یہ وائرس Pacificمہا سمندر کو اپنی زد میں لے رہا ہے ۔یہ وائرس مخلوقات کے اندر داخل ہو کر ان کے دماغ کو برباد کر دیتا ہے ۔بہرحال کچھ تعجب نہیں اگر کورونا سون بھدر کے جنگلوں تک بھی جا پہنچے یا پھر شاید پہنچ ہی گیا ہو ۔اُدھر پی ڈی وی وائرس بھی انسانی قوم کے قریب آتا ہی جا رہا ہے ۔دنیا صفر کی طرح گول ہے ۔اب کہیں یہ صفرتحلیل ہوتے ہوتے غائب ہی نہ ہو جائے ۔
راجیو پرکاش ساحر
20/84 Ring Road Indra Nagar Lucknow
mob 9839463095

