ہندوستان میں اردو فن ترجمہ کی روایت – نثار علی بھٹی

by adbimiras
5 comments

زندگی جہاں بھی اپنا اظہار کرتی ہےاپنا نظام اور ماحول خود بنالیتی ہے۔اگر  گردوپیش میں دیکھا جائے تو مختلف جاندار اور بے جان اشیاء اپنا وجود کا اظہار کرتی نظر آتی ہیں۔جانداروں میں حیوان،درندے،انسا ن اور نباتات  ہیں اور بے جان اشیاء میں پہاڑ، دریا،صحرا، جنگل ، زمین  اور پانی وغیرہ موجود ہیں۔ماحول میں ہر وقت مختلف طرح کی آوازیں اپنا اظہار کر رہی ہیں۔یہ آوازیں درحقیقت اشارات اور علامات ہیں۔جب بادل گرجتے ہیں اور بارش برستی ہے تو جاندار اس آواز کو سنتے ہی اپنی اپنی پناہ گاہ کی طرف جانے لگتے ہیں۔گویا یہ ایک پیغام ہے کہ اپنی حفاظت کر لی جائے بارش ہونے والی ہے۔ہر ذی روح اپنے ماحول کی ان آوازوں کو پہچانتا ہے۔اور یہ آواز صوت ہے۔انسان  دیگر جانداروں کی نسبت ترقی یافتہ ہے اس لیے اس نے ان اصوات کو  علامتیں دی ہیں یہ علامتیں حروف ہیں۔حروف الفاظ بنتے ہیں اور الفاظ جملے اور اس طرح متن۔بنظر غائر دیکھا جائے تو یہ علامتیں ایک معانی رکھتی ہیں ان آوازوں کا جن کا یہ اظہار ہیں۔آواز اور حرف کا گہرا رشتہ ہوتا ہے۔آواز ایک حقیقت ہے اور معنی اس کا سایہ ہے۔ اصل آواز ہے علامت ظل ہے۔گویا معنی اس آواز کا ترجمہ ہے۔جب بھی کوئی لفظ بولا جاتا ہے یا لکھا جاتا ہے اس کے معنی پڑھنے یا سننے والے کے ذہن میں ترجمہ کے عمل سے ہی واضح ہوتے ہیں۔گویا آواز،صوت،علامت یا معنی ان سب کاباہم رشتہ ترجمہ سے ہی عبارت ہو جاتا ہے۔خالد محمود خان اپنی کتاب "فن ترجمہ نگاری ۔نظریات” میں لکھتے ہیں:

"انسان اپنی جدت پسندی اور اختراعی صلاحیت کی وجہ سے آوازوں کی علامتوں کو معنی بنا لیتے ہیں۔دیگر ذی روح ان آوازوں کو خاص واقعہ یا چیز کی علامت سمجھتے ہیں۔کوئی آواز اور اس کی علامت معنی کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔علم لسانیات میں ا ن آوازوں کو لفظ کہتے ہیں۔ہر لفظ کے معنی ہوتے ہیں۔ان لفظوں کو لغت کہا جاتا ہے ان کے معنی اپنے پس منظر میں آوازوں یعنی لفظوں سے گہرا تعلق رکھتے ہیں”  (یہ بھی پڑھیں لسانی تاریخ نویسی اور محمود خاں شیرانی (’پنجاب میں اردو‘کے حوالے سے) – پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ )

ترجمہ کامعنی و مفہوم

ترجمہ عربی زبان کا لفظ ہے کسی ایک زبان کے مافی الضمیر کو دوسری زبان میں ڈھالنا ترجمہ کہلاتا ہے۔اگر دیکھا جائے تو ترجمہ ایک زبان میں دوسری زبان کی تبدیلی ہوتا ہے جس میں مفہوم کو موجود رکھا جاتا ہے۔اے ایچ سمتھ کے مطابق

To translate is to change into another language retaining as much of the sense as one can.”

"ترجمہ ایک زبان سے دوسری زبان کی تبدیلی ہوتا ہے جس میں حتی الامکان مفہوم کو موجود رکھا جاتاہے”جب ترجمہ کیا جاتا ہے تو جس زبان میں ترجمہ کیا جا رہا ہے اور جس زبان سے کیا جا رہا ہے دونوں کی لغت کی معنویت کو تلاش کیا جاتا ہے۔اس ضمن میں  سی جی کرافورڈ لکھتے ہیں

The central problem of translation practice is that of finding TL translation equivalents. A central task of translation theory is that of defining the nature and condition of translation equivalence”

ترجمہ کی مشق کا مرکزی مسئلہ یہ ہے کہ ترجمہ کی زبان میں ساری معنویت کی لغت کوتلاش کیا جائے۔ترجمہ کےنظریہ کا یہ مرکزی تقاضا ہے کہ معنویت کے مساوی لغت کی نوعیت اورکیفیت کی تعریف متعین کی جائے۔ترجمہ کے مفہوم کو جانتے ہوئے یہ بات مدنظر رہنی چاہیے کہ ترجمہ کرتے ہوئے دونوں زبانوں کا آہنگ ایک سا ہو۔آہنگ ایسے ہی ہوتا ہے جیسا کہ ایک سماجی عمل ۔اگر آہنگ میں تطابق اور یکسانیت نہیں ہو گی تو اس صورت  میں ترجمے کا درست مفہوم کسی طرح بھی ادا نہیں ہو سکے گا۔اور اگر ایک بات کہنے والا اپنی بات کو سمجھا ہی نہیں پا رہا تو اس کی اتنی محنت کا کیا فائدہ ۔ترجمہ کی تعریف میں ہنری میکنک کچھ یوں رقم طرازہے

It is a new field in the theory and in the practice of literature. Its epistemological importance lies in its contribution to the theoretical practice of homogeneity of the natural union between the signifier and the signified. This homogeneity is proper to that social enterprise which we call writing.

ادب کے نظریہ  اور عمل میں یہ ایک نیا میدان ہے۔اس کی علمیاتی اہمیت اس کے اسی کردار پہ منحصر ہے یہ نظریاتی عمل میں ہم آہنگی ہو جس میں نمایاں کا ر مظہر کو متصل کر دیا جاتا ہے۔یہ ہم آہنگی سماجی عمل کی طرح ہے جسے ہم تحریر کہتے ہیں۔

ترجمہ کی ضرورت و اہمیت                                                                                                              

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ترجمہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔انسان ایک سماجی جانور ہے  اس کو اپنی ضروریات کے لئے دوسروں پہ انحصار کرنا پڑتا ہے۔ دوسروں لوگوں سے تعلقات بنانے پڑتے ہیں۔ایک علاقے کی ثقافت اور کلچر دوسرے علاقے سے مختلف ہوتا ہے۔زبان میں بھی فرق آئے گا۔رسم ورواج اور علامات و اشارات بھی مختلف ہوں گے۔جب ایک سماجی گروہ دوسرے گروہ سے لین دین،تجارت ،سیاحت ،سفارت یا بغرض علاج   تعلقات قائم کرے گا تو اسے علامات و اشارات اور زبان کے مروجہ اظہار سے واقفیت حاصل کرنا لازمی ہو گی۔اگر دیکھا جائے تو زمانہ قدیم میں جنگ و جدل ہوتی رہتی تھی ۔بادشاہ اپنی سلطنت کو وسعت دینے کے لیے دوسری قوموں پہ چڑھائی کر دیتے تھے۔علاوہ ازیں اپنی قوم کے لیے نئے وسائل کی تلاش کی خاطر بھی جنگیں ہوتی رہی ہیں۔ایک قوم کے لوگ دوسری قوم کے لوگوں سے تبادلہ خیال کیلے اپنے سفیر تعینات کرتے ہوں گے۔یا  لوگ  سیر وسیاحت کی غرض سے آتے جاتے ہوں گے۔ایک قوم کو دوسری قوموں کے ساتھ تعلقات بنانے پڑتے تھے۔تعلقات بنانے میں جو بنیادی رکاوٹ ہوتی تھے وہ اپنی بات کا اظہارتھا۔اب مافی الضمیر کے اظہار کے لیے ان کو زبان سیکھنی پڑتی تھی لیکن ظاہر بات ہے یہ ایک طویل عمل تھا۔زبان سیکھنا فوری ممکن نہ تھا۔ایک علاقے سے لوگ دوسرے علاقے میں بسلسلہ تجارت ،علاج اور تعلیم سفر کرتےتھے۔اور کچھ لوگ اتنے ذہین ہوتے تھےکہ وہ اپنی زبان کے ساتھ ساتھ دوسروں کی زبان بھی سیکھ لیتےتھے۔اس  صورت میں فاتح ان لوگوں کو اپنے کام میں لاتے تھے اور ان کو ترجمان بنا لیتے ۔وہ دونوں اطراف کےمافی الضمیر کو ایک دوسرے تک  ٹھیک ٹھیک انداز میں پہنچانے کی کوشش کرتے ہوں گے۔اس ضرورت کے تحت کچھ لوگوں نےترجمہ کرنا سیکھا ہو گا۔  (یہ بھی پڑھیں جمالیات کیا ہے؟ – شازیہ بتول)

صفدر رشید اپنی کتاب  "فن ترجمہ کاری ۔مباحث” میں کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں                                                                 "ترجمے کا فن اتنا ہی قدیم ہے ،جتنا کہ انسان کی سماجی زندگی۔جب ایک سماجی گروہ کادوسرے گروہ  سے سماجی رشتہ قائم ہونے پر ایک دوسرے کی بات سمجھنے کے لیے ت  ترجمہ  کاسہارا لینا پڑتا ہوگا تو ترجمہ کچھ آوازوں اور کچھ اشاروں پر مبنی ہو گا۔حملہ آوروں،سفیروں  اور سیاحوں وغیرہ کی بنیادی ضرورت یہ تھی کہ وہ دوسرے لوگوں کو اپنی بات سمجھا  سکیں۔ اس سے پہلے کہ یہ لوگ ایک دوسرے کی زبان سمجھنے کے قابل ہوتے،کسی ترجمان   کے ذریعے انھوں نے ایک دوسرے تک بات پہنچائی ہوگی۔”

اگرچہ ترجمہ کے عمل کو ایک برائی بھی کہا گیا۔یہاں تک کہ مترجم کو غدار اور گندم نما جو فروش کہا گیا۔ترجمہ ایک ناگزیر برائی ہے۔ترجمہ کبھی بھی اصل کے برابر نہیں ہو سکتا۔اصل تواصل ہے ترجمہ اس کا سایہ ہے رہے گا۔لیکن یہ ضروری ہے کہ اس برائی کو سر انجام دیا جائے اگر اسے سر انجام دینا ضروری ہی ہے تو اسے لازمی کیا جائے۔بے شک اصل نہ سہی کم تر سہی لیکن دوسری زبانوں میں موجود علم و فن کو اپنی زبان میں ڈھالنا ضروری ہے۔دنیا میں جو علم بکھرا پڑا ہے اس کو ایک زبان چاہ کر بھی اپنے دامن میں سمیٹ نہیں سکتی۔اس عالمگیر نور اور سرور سے لطف و انبساط کے حصول کے لیے ایک زبان سے دوسری زبان میں تراجم ضروری ہیں۔جب لوگ ایک دوسرے کے علم،مہارت اور تجربے کو کام میں لانےکی جستجو رکھیں گے تب تک ترجمے کا سہارا حاصل کرنا یقینی بات ہے۔علم و آگہی ،جذبے اور شعور،فکر و احساس ،تیکنیک اور سائنس کے علوم میں اشتراک کی آشا من میں رہے گی تب تک ذہن کے نہاں خانوں میں اور دل کے کسی گوشے میں یہ ضرورت  جنم لے گی اور ترجمے کی اہمیت اور افادیت کا سوال ہوتا رہے گا۔پروفیسر محمد حسن کچھ یوں رقم طراز  ہیں :

"ضرورت اکثر برائیوں کو اچھائیوں میں بدل دیتی ہے۔ایسی ہی ایک برائی ترجمہ بھی ہےمترجم کو غدار اور گندم نما جو فروش کہا گیا ہے۔ترجمہ اگر اصل کا کام دینے لگے تو ترجمہ کیوں کہلائےلازمی طور پر اصل سے کم ہو گا۔اور جو کم تر ہو وبرائیوں میں کیوں   نہ گنا جائے۔مگر ضرورت کہتی ہے کہ عالمگیر آگہی کا نور اورسرور ایک زبان کے دامن میں تو سمٹنے سے رہا۔جب تک زبان کے بولنے والے دوسری زبانوں  کے علم و   آگہی،جذبے اور شعور،فکر و احساس ،ٹیکنیک اور سائنس تک پہنچنا چاہیں گے ترجمے کا سہارا  لیں گے۔خواہ یہ سہارا کیسا ہی ناقص اور ناتمام کیو ں نہ ہو۔بینادی طور پر ترجمہ لسانی اور  تہذیبی مفاہمہ ہے جو نہ اصل کی لذت کو پوری طرح پا سکتا  ہے نہ اس سے مکمل طور پر محرومی کو قبول کرتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں "دیوان غالب: نسخہ عرشی”  کا تجزیاتی مطالعہ – صائمہ پروین )

ترجمے کے اغراض ومقاصد

بنیادی طور پر مترجم کے نزدیک ترجمہ کرنے کی کچھ وجوہات ہیں۔ان میں ایک معلوماتی ترجمہ ہے۔مترجم عام طور پر کچھ تخلیقات کا ترجمہ اپنی زبان میں کرتا ہے۔اصل میں جب وہ اس بات کو محسوس کرتا ہے کہ اس کی زبان میں اس مواد کی کمی ہے۔ وہ جو معلومات دینا چاہ رہا ہے اسکی اپنی زبان میں اس کے جیسا مواد نہایت کم ہے یا اعلی درجے کا نہیں ہے تو قاری کو نئی معلومات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ترجمہ کر سہارالیتا ہے۔الفاظ کیا کام کرتے ہیں۔الفاظ مختلف اقدار اور روایات کی ترسیل کرتے ہیں۔ترسیل کے مختلف درجات ہوتے ہیں ۔ان میں سے جو سب سے سطحی درجہ ہے وہ معلومات کو دوسرے تک پہنچانا ہوتا ہے۔اب یہ مترجم کی مہارت اور صلاحیت پرمنحصر ہے کہ وہ ترجمہ کو کتنا اصل کے قریب رکھتاہے۔اس کر ترجمہ جس قدر اصل سے قریب ہو گا معلوما ت کی ترسیل اسی قدر آسان ہو گی اور قاری تک اپنا مفہوم واضح انداز میں پہنچائے گی۔اس طرح کے تراجم میں سائنسی تراجم شامل کیے جا سکتے ہیں۔ترجمے کا دوسرا مقصد تہذیبی ہو سکتا ہے۔اس قسم کے تراجم میں ایک تہذیب کے تصورات اور نظریات و خیالات کو دوسری زبان میں ڈھالا جاتا ہے۔اسکا یہ مفہوم نہ لیا جائے کہ ایک زبان کے لفظ کا ترجمہ دوسری زبان میں کیا جائے۔بلکہ اصل مقصد معنویت ہے اس میں فرق نہ آنے پائے۔ایک مترجم کی مہارت یہ ہےکہ ایک تہذیب کی معنویت کو دوسری تہذیب کی معنویت میں ڈھال دے۔تہذیبی عمل کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ تہذیب اقدار کی جنم گاہ ہے۔اقدار تہذیب کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں اور اقدار مستقل نہیں ہوتی ہیں۔ان کی صورت اور درجات میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی ایک ناگزیر عمل ہے۔ان اقدار کی بنیاد پہ لسانی آبادی ردعمل دیتی ہے۔ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک لفظ ایک تہذیب کے اندر مخصوص تصورات کا آئینہ ہے لیکن وہی لفظ دوسری زبان میں مہملیت کا شکار ہو کے رہ گیا۔ہر تہذیب مختلف الفاظ کو اپنی کوکھ میں رکھ کے ایک نئے انداز میں سنوارتی ہے۔الفاظ اپنی تہذیبی اقدارکے آئینہ دار ہیں۔گویا مترجم تصورات  کی تہذیبی آبادکاری کرتا ہے۔تراجم کی تیسری صورت جمالیاتی ہے۔جمالیاتی عمل سے لطف اندوزی بذات خود ایک پیچیدہ عمل ہے۔جمالیاتی طور پر لذت حاصل کرنا اور فن پارے میں ایسا بیان کہ فکر وفن لطف و انبساط کا ذریعہ ہو جائے بہت معنی خیز عمل ہے۔ایک زبان سے دوسری زبان میں اس جمالیاتی مفہوم کی ادئیگی ناممکن نہ سہی مشکل اور ادق ہے۔ الفاظ کا بیان صرف معلومات ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ ایک خاص ماحول اور کیفیت بنائی جاتی ہے جو مفہوم کی ترسیل اور ادائیگی کے لیے معاون ہوتی ہے۔سنسکرت زبان میں ماہرین شعریات نے سات مختلف نوعییتیں بیان کی ہیں۔معلومات کی ترسیل،طنز،تضاد،محاورہ،علامتی اظہار،کنایہ اور کیفیت سبھی شامل ہے۔ایک زبان کی ہمہ جہت الفاظ کے مفاہیم کو ٹھیک اسی طرح دوسری زبان میں ادا کرنا اور اس کے سیاق و سباق میں فٹ کرنا نہایت دقیق عمل ہے۔

ہر مترجم کے سامنے تین بنیادی سوالات ہوتے ہیں

1۔ترجمہ کرنے کا مقصد کیا ہے

2۔ترجمہ کن افراد و اشخاص کے لیے کیا جا رہا ہے۔

3۔کس تحریر کا ترجمہ مقصود ہے۔ناول،افسانہ،ڈرامہ،شاعری،معلوماتی مضون

اردو ترجمے کی روایت

اردو ترجمےکی روایت کا آغاز مغلیہ دور حکومت سے ہوتا ہے۔جب مغل ہندوستان آئے تو ان کو لوگوں سے روابط بنانا پڑے۔نظام سلطنت کو چلانے کے لیے حکومتی احکامات کو رعایا تک پہنچانا اور ان کا ردعمل جاننا از حد ضروری تھا۔سرکاری ضرورت کے تحت فارسی زبان کے تراجم دیگر علاقائی زبانوں میں اور علاقائی زبانوں کے تراجم فارسی زبان میں کیے گئے۔مغل بادشاہوں نے ہندوستانی کے علاقائی ادب کی طرف بھی توجہ کی۔اکبر بادشاہ کے زمانہ میں ایسے ہندوؤں کے کثیر تعداد تھے جو فارسی کا بخوبی علم جانتے تھے۔اکبر بادشاہ کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اسے سنسکرت زبان سے خاص شغف تھا۔ریاضی،الجبر،فلسفہ،شاعری کہ بہت سی کتابوں کے فارسی میں تراجم کئے گئے۔اس سلسلہ میں ملا عبدالقادر بدایونی کا ترجمہ  1574ء میں ہوا۔سنگھا سن بتیسی کا ترجمہ خردافروز کے نام سے کیا گیا تھا۔1575 ء میں بہاون نامی پنڈت نے "اتھروید” کا ترجمہ کرنا شروع کیا تھا مگر یہ تکمیلی مراحل طے نہ کر سکا۔بہاون کے بعد فیضی اور حاجی ابراہیم تھانیسری نے بھی اپنی سی کوششیں کی لیکن یہ ہفت خواں ا ن سے بھی تہ نہ ہوا۔1586ء میں ایک ترجمہ "تاریخ کشمیر ” کے نام سے ملا عبدالقادر بدایونی نے فارسی میں کیا تھا۔1591 ء میں اکبر کے عہد میں ہی علما نے "مہا بھارت” کا ترجمہ فارسی میں کیا۔”لیلاوتی”،”نل دمن”،”تاجگ” اور ” ہری ہنس” کے تراجم بھی ہوئے۔

تراجم کا یہ کام اکناف و عالم میں پھیلا ہوا ہے۔ہندوستانیوں کے تعلقات  دوسری قوموں کے ساتھ بھی مستحکم تھے۔770ء میں ایک پنڈت کا ذکر کیا جاتا ہے جو  ہیئت اور ریاضی کے علم کا ماہر تھا۔جب وہ خلیفہ منصور عباسی کے دربارمیں گیا  تو اپنے ساتھ ہیئت کی ایک مشہور کتاب "سدھاونت” لے گیا۔خلیفہ کو جب اس کتاب اور اس کے مندرجات کا علم ہوا تو اس نے اس کتاب کا ترجمہ عربی  میں کروایا۔ماہر ہیئت فرازی اور یعقوب بن طارق اس پنڈت کے بعد میں ساگر د میں ہوئے اور بہت نام کمایا۔

"پنچ تنتر” کا ترجمہ” کلیلہ ودمنہ ” کی شکل میں سامنے آیا۔ڈاکٹر سید عبداللہ اس سلسلے میں ایک اور کتاب "بو ذاسف و بلوہر” کاذکر کرتے ہیں۔یہ گوتم بدھ کے حالات زندگی پر مشتمل ہے۔بدھ کی تعلیمات کو تمثیلی پیرایہ میں لکھا گیا ہے۔ان کتابوں کے علاوہ سنسکرت کے قصے کہانیوں،جادو منتر،کیمیا،حکومت کرنے کے طریقے اور لڑائی کے فن کی بہت سی کتب عربی اور فارسی سے اردو میں ترجمہ ہوئیں۔

اردو زبان کی ابتدا کے وقت بہت سے تراجم ہوئے۔کوئی زبان بھی جب اپنے قدموں چلنا سیکھتی ہے تو اسے اپنے آپ کو وسیع بنانے کے لیے دوسری زبانوں کے الفاظ مستعار لینے پڑتے ہیں۔دوسری زبانوں کے الفاظ کا انجذاب کرنا ہوتاہے۔اردو نے بھی کیا۔سترھویں صدی سے اردو کا آغاز ہوتا ہے۔اردو میں نثری اور شعری ادب پیدا ہونا شروع ہوتا ہے۔چونکہ اس وقت سرکاری زبان فارسی تھی جو بولی اور سمجھی جا رہی تھی۔فارسی زبان میں نظام حکومت چلایا جا رہا تھا۔اس لیے لوگ اسے سیکھتے تھے اور سمجھتے بھی تھے۔اردو کے ابتدائی سرمائے پر فارسی کے گہرے اثرات ہیں۔فارسی زبان میں مستعمل تشبیہات، استعارات، تلمیحات ،الفاظ اور فارسی کی اصناف سخن  کا جوں کا توں استعمال کیا گیا۔اور بعض دفعہ اپنی تحریر میں ندرت پیدا کرنے کے مصنفین اس  میں جدت بھی پیدا کر لیتے تھے۔چونکہ فارسی بنیاد تھے اور اردو اس کے زیر سایہ پرورش پا رہی تھی اس لیے کثیر تعداد میں الفاظ اردو زبان میں در آئے۔اور پھر بعد میں جب اصلاح زبان کی تحریک چلائی گئی تو سنسکرت کے الفاظ کو نکال باہر کر کے فارسی کو خاص اہمیت عطا کر دی گئی۔اس طرح فارسی کے الفاظ کثیر تعداد میں زبان کے سرمائے میں شامل ہو گئے۔اگرچہ  اصلاح زبان کی تحریک نے اردو زبان کو فارسی الفاظ سے مزین کر دیا لیکن  سنسکرت کے کوملتا الفاظ کو نکال باہر کرنا بھی قرین انصاف نہ تھا۔اردو کے ابتدائی دور میں فارسی، عربی  اور سنسکرت سے بہت سے تراجم کیے گئے۔تراجم کے موضوعات متنوع تھے۔ مذہب،تصوف، شاعری،داستان، ہیئت، فلسفہ کی مختلف النوع کتابوں کے تراجم اردو میں کیے گئے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اردو زبان میں پہلا ترجمہ کون سا ہے۔ "تہمہیدات ہمدانی”  کا ترجمہ عربی سے اردو میں کیا گیا۔اس کتاب کے عربی زبان کے مصنف ابو الفضائل عبداللہ بن محمد عین القضاۃ ہمدانی ہیں۔اس کتاب کو اردو کےپیکر میں شاہ میراں جی شمس العشاق نے ڈھالا۔اس کتاب تمہیدات ہمدانی کو اردو کے پہلا ترجمہ تسلیم کیا جاتا ہے۔لیکں  کچھ لوگ اس سے سے اختلاف بھی کرتے ہیں۔بعضے لوگوں کےنزدیک یہ ترجمہ پہلا ترجمہ نہیں ہے۔”دستور عشاق” یہ کتاب فارسی زبان میں لکھی گئی ہے۔اس کا اردو میں ترجمہ  "سب رس” کے نام سے کیا گیا۔دستور عشاق ابوالفتاحی نیشا پوری کی کتاب ہے۔اس کو اردو جامہ  ملا وجہی نے پہنایا۔اس سب رس کو اردو کا پہلا ترجمہ مانا گیا ہے۔1704ء میں "معرفت السلوک” جو کہ فارسی تصنیف ہے اس کا اردو میں ترجمہ کیا گیا۔معرفت السلوک شیخ محمود کی کتاب ہے اور اسے اردو میں شاہ ولی اللہ قادری  نے ترجمہ کیا تھا۔ ( یہ بھی پڑھیں خاطرؔ غزنوی کا ’ایک کمرہ‘: ادبیات سرحد کا ایک انمول تذکرہ – خالد محمودسامٹیہ )

"طوطی نامہ” یہ فارسی کی کتاب ہے۔اسے سید محمد قادری نے تصنیف کیا تھا۔اس کا اٹھارہویں صدی میں اردو میں ترجمہ کیا گیا۔اور اس زمانہ کے اند ر ہے کربل کتھا بھی ترجمہ کی صورت سامنے آئی۔”کربل کتھا” یہ اردو ترجمہ ہے۔یہ ترجمہ ملا فضل علی فضلی نے کیا تھا۔یہ کتاب درحقیقیت  "سید الشہداء” کا ترجمہ ہے جو کہ ملا حسین واعظ کاشفی کے کتاب ہے۔اگرچہ یہ تراجم آج کے تراجم کے بنیادی اصولوں  پر پورا نہیں اترتے۔یہ آزاد تراجم کی صورت تھی۔بعض اوقات اصل کتاب کی تلخیص ہوتی۔سائنسی بنیادوں پر تراجم کے اصولوں کی پاسداری کی اس وقت توقع رکھنا عبث ہے۔اس وقت یہی کافی تھا کہ ایک زبان کا علم و ادب، شعور وادراک،جذبات و احساسات اردو زبان میں منتقل ہو رہے تھے۔

علاوہ اس کے عیسائی تاجر تجارت کی غرض سے جب ہندوستان میں وارد ہوئے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے سائے تلے ہندوستان کے وسائل کو لوٹنے کا اک بہانہ کیا۔اب ان کو تبلیغی و تجارتی مقاصد کے لیے زبان کو سیکھنا تھا۔اپنی زبان کو دوسروں کو سکھانا اور ان کی زبان سے واقفیت ضروری تھی۔انھوں نے اپنی مذہبی کتابوں کے تراجم  اردو میں کیے۔                                  اس سلسلہ میں جو ترجمہ ہمارے سامنے آتا ہے وہ ہے "کتاب پیدائش کے پہلے چار بابوں کا ترجمہ ہندوستانی”جس کا ترجمہ بنجمن شولٹز نے کیا تھا۔”کتاب دانیال” کا ترجمہ بھی شولٹز نے کیا۔”ہندوستان کا لسانیاتی جائزہ” گریرسن کی اس کتاب میں ان تراجم کی تفاصیل موجود ہیں۔

قران مقدس کے بھی اردو زبان میں تراجم کیے گئے۔اس سلسلہ میں پہلا ترجمہ ہے وہ لفظی ہے۔یہ ترجمہ شاہ  رفیع الدین نے کیا۔اس میں قران کے ہر لفظ کا ترجمہ کیا گیا۔اس انداز و اسلوب میں کیے گئے ترجمے میں کوئی ربط نہ رہا۔جملوں کی ساخت میں تبدیلی سے مفہوم کے ترسیل میں بہت سے مشکلات پیدا ہو گئیں ۔سلاست اور روانی بھی متاثر ہوئی۔شاہ رفیع الدین کا یہ ترجمہ پہلی مرتبہ 1776 ء میں سامنےآیا۔1795 ء میں ایک اور ترجمہ قران سامنے آیا۔یہ ترجمہ شاہ عبدالقادر نے کیا تھا۔شاہ عبدالقادر شاہ رفیع الدین کے چھوٹے بھائی تھے۔یہ با محاورہ ترجمہ تھا۔اس میں سلاست اور روانی بھی قائم رہی۔ترجمے کو پڑھنا اور سمجھنا آسان تھا۔شگفتگی اور تازگی بھی تھی۔ان تراجم کے بعد فورٹ ولیم کالج ،دہلی کالج اور دار الترجمہ عثمانیہ کالج  کے تراجم سامنے آئے اور اردو کی صحیح معنوں میں آبیاری کی۔ان کالجوں کے تراجم سے اردو زبان نے بہت وسعت اختیار کرلی۔اردو زبان ہر طرح کے مفہوم کی ادائیگی کے قابل ہو گئ۔اب ہم ایک ایک کر کے ان کالجوں کے تراجم کی خدمات کا جائزہ لیں گے کہ کیسے وہ اردو زبان پہ اثر انداز ہوئے اور اردو تراجم کرانے کے پیچھے ان کے کیا مقاصد تھے ۔اردو زبان کو ان تراجم سے کیا فوائد حاصل ہوئے۔

فورٹ ولیم کالج

1600 ء میں ایک تجارتی کمپنی کا قیام عمل میں لایا گیا۔یہ عہد ملکہ الزبتھ کا عہد تھا۔اسے درج ذیل نام دیا گیا

“Governor and company of merchants trading into East Indies”

اس کمپنی کے یہاں قیام کاخالصتا مقصد تجارتی سرگرمیاں تھا۔اس کا نام مختصر ہوتا گیا یہاں تک کہ اسے "ایسٹ انڈیا کمپنی” کہا جانے لگا۔لیکن اس کمپنی نے نہ صرف یہاں تجارت کے بہانے برصغیر پاک و ہند کے وسائل کو استعمال کیا بلکہ بعض ایسے قوانین بھی بنا دیے گئے کہ یہاں کے باسیوں کو اپنے وسائل کو استعمال کرنے کا حق نہ رہا۔یہاں کی دولت لوٹ لوٹ کر برطانیہ منتقل کی جاتی رہی۔یہاں کی صنعتوں کو تباہ کر دیا گیا۔ہندوستان صرف  خام مال کے مواد کی ایک منڈی بن گیا۔اگرچہ شروع میں اس کمپنی کے مقاصد میں سیاسی امور میں دلچسپی نہ تھی لیکن یہاں جس طرح کے حالات تھے  بادشاہ موج مستی میں مبتلا تھے۔کاروبار مملکت کی طرف ان کا دھیان نہ ہونے کے برابر تھا۔ان کے لیے ہر دن عید تھا۔وہ مست الست ہو کے رقص و سرود کی محفلوں  میں منہمک تھے۔ان حالات کے اندر ایسٹ انڈیا کمپنی کے لالچ اور حرص نے ان کو کاروبار مملکت میں دخل اندازی پی مجبور کر دیا۔جب نظام سلطنت اس قدر کمزو رہو جائے  کہ اس میں در اندازی میں کوئی مشکل نہ رہے تو حرص وہوس کےمارے لوگ ہمیشہ اس کا فائدہ لیتے ہیں۔انگریزوں نے بھی یہی کچھ کیا۔لیکن ان باتوں سے قطع نظر ان کا یہاں آنا اردو زبان کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں ہے۔     مصالحہ جات،پارچہ جات،چائے ، اور پالتو جانوروں کی خریدوفروخت کی جاتی تھی۔ڈاکٹر مبارک علی اپنی کتاب ” کمپنی اور ہندوستان کی حکومت” میں لکھتے ہیں                                                                        "1765 ء میں جب کمپنی کو بنگال و بہار میں دیوانی کے اختیارات ملے تو اس کی حیثیت مغل حکومت کی وارث کی ہو گئی۔اس کو یہ حق نہ تھا کہ وہ کوئی نیا نظام نافذ کرے۔بطور وارث اس کی ذمہ داری تھی کہ وہ زوال پذیر نظام کہ بہتر بنائے،تا کہ  ختم کر کے اس کی جگہ بالکل دوسرا نظام لائے۔کلائیو کی دلیل تھی کہ ہندوستان میں کمپنی کی حکومت پوشیدہ رہنی چاہیے۔ اسے سامنے نہیں آنا چاہیے۔یعنی اسے مغل حکومت  کے پردے میں حکومت میں کرنی چاہیے۔بائنگز کی دلیل تھی کہ انتظامیہ کی اعلی سطح پر کمپنی کے ملازم ہوں مگر نچلی سطح پر ہندوستانیوں کو رکھنا چاہیے۔کمپنی کی ابتدائی بد عنوانیوں اور انتظامی خرابیوں کو دور کرنے کے لیے برطانوی پارلیمنٹ نے 1773 ء میں ریگولیٹنگ ایکٹ پاس کیا جس کی خاص شق یہ تھی یہ سپریم کورٹ گورنر جنرل کونسل سے آزاد ہو گا۔کمپنی کی پالیسی میں اس وقت تبدیلی آئی جب کارنوالس گورنر جنرل بن کے آیا۔”

کمپنی کی  یہ کار گزاری تو جو ہے سو ہے۔باہمی نفاق،خودغرضی،نااہلی،عیاشی اور طالع آزما لوگوں کی غداری نے بھی کمپنی بہادرکی حکومت قائم کرنے اور اسے طول دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

1898 ء میں لارڈ ولزلی گورنر جنرل بن کے آیا ۔اس نے یہ محسوس کر لیا کہ مقامی لوگوں سے رابطہ رکھے بغیر ،ان کی زبان و ثقافت سمجھے بغیر،ان کے جذبات و احساسات کا اندازہ کیے بغیر  کمپنی کی حکومت کو زیادہ دیر چلانا ممکن نہ ہو گا۔کسی بھی علاقے کی ثقافت کو  سمجھنے کے لیے اور اس کی تہذیب میں سرایت کرنے کے لیے وہاں کے رسوم و رواج کو جاننا ہوتا ہے اور یہ علاقائی زبان کو سمجھے بغیر ممکن نہیں ہے۔لہذا لارڈ ولزلی نے اس بات کو بھانپ لیا کہ زبان ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔اس نے اردو  اچھی درسگاہ  کے قیام کی ایک یادداشت لکھی اور اس پر زور دیا:

"کمپنی نے ملازمین کی تعلیم سائنس اور ادب سے متعلق عام معلومات پر مبنی ہونی چاہیے’جو عموما یورپ میں اس قسم کے عہدوں کے لیے ضروری ہے’لیکن اس بنیاد کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ یہ لوگ ہندوستان کی تاریخ ،زبانوں،رسم ورواج اور اخلاق و عادات سے بھی واقف ہوں”

اس طرح فورٹ ولیم کالج کی ابتدا ہوتی ہے۔مشرقی زبانوں کی تحصیل بالخصوص اردو زبان کی تدریس او رتحصیل کا خاص اہتمام کیا گیا۔ہر زبان کے لیے الگ شعبہ قائم کیا گیا۔بنگالی،ہندی،عربی،فارسی اور اردو کے  الگ الگ شعبہ جات تھے جو ان زبانوں کی اہم تصانیف کے تراجم بھی کرتے اور تدریس  بھی کرتے تھے۔ان شعبوں کے سربراہ پروفیسر کہلاتے اور اساتذہ منشی اور پنڈت کہلاتے تھے۔پروفیسر اور اساتذہ کا مشاہرہ معقول تھا۔معاشی طور پر خوشحالی کی وجہ سے تما م اساتذہ محنت سے پڑھاتے تھے اور کتابیں تصانیف کرتے تھے اور تراجم بھی کرتے۔اس کالج کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ اس سے پہلے جتنے بھی اردو میں تراجم ہوئے وہ انفرادی کوششوں کا نتیجہ تھے۔پہلی بار ایک ادارہ کی جانب سے اور منظم انداز میں تراجم کا سلسلہ شروع کیا گیا۔اور عربی ،فارسی اور سنسکرت کے تراجم اردو زبان میں کیے گئے اور اردو زبان کو مالا مال کر دیا گیا۔

شعبہ اردو کے سر براہ گل کرسٹ تھے۔پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ گل کرسٹ اس کالج کا پہلا پرنسپل بھی رہا لیکن تحقیقی سے یہ بات اب ثابت ہو چکی ہے کہ فورٹ ولیم کالج کا پہلے پرنسپل گل کرسٹ نہیں تھے بلکہ ایک پادری ریورنڈ ڈیوڈ براؤن تھے۔اس کالج کے مقاصد  کو اس خطبہ کی مدد سے دیکھنے کی کوشش کرتےہیں جو سالانہ جلسہ میں صدر جارج بارمو کا تھا۔اس میں انھوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتےہوئے کہا۔

"اس ادارہ سے بے انتہا فوائد مرتب ہو رہے ہیں اور جن کا ثبوت وہ مذاکرے ہیں جو آج کے کھلے اجلاس میں ہوئے۔وہ لوت جو اس ادارہ کی حقیقت اور اس کے قیام کے مقاصد سے کما حقۃ واقف نہیں ہیں،انھیں یہ معلوم کر کے تعجب اور ساتھ ہی اطمینان بھی ہو گا کہ وہ طالب علم جنھیں ہندوستان آئے ابھی عرصہ نہیں گزرا، انھوں نے آج مشرقی زبانوںمیں مذاکروں  میں بڑی قابلیت کا ثبوت دیا۔فورٹ ولیم کالج کے قیام سے مشرقی زبان و ادب کی تعلیم کا شوق عام طور پر بڑھ گیاہے اور آنریبل کمپنی کے ہر انتظامی شعبہ میں اس کا بے حد مفید اور قابل تعریف اثر پڑے گا۔ان بے شمار اور اہم فوائد کا صحیح اندازہ کالج کے قیام کی اس مختصر مدت میں نہیں کیا جا سکتا لیکن آئندہ بھی ان فوائد کی رفتار ترقی اسی طرح جاری رہی جس کا کہ مظاہرہ کیا گیا ہے تو یہ ادارہ ان تمام امیدوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہو گا جو اس کی کامیابی کے لیے قائم کی گئی ہیں۔یہ ادارہ ان لوگوں کےلیے جو ہندوستان میں برطانوی حکومت کے اعلی عہدوں کے خواستگار ہیں ،بہترین موقع پیش کر رہے ہیں۔”

1803 ء میں فورٹ ولیم کالج کا اپنا پریس کام کرنے لگ گیا اور اس سے اہل قلم کی تصانیف کی اشاعت آسان ہو گئی۔فورٹ ولیم کالج کے تحت جن ادیبوں نے تراجم کیے ان میں عبداللہ مسکین ،کاظم علی جوان،بہادر علی حسینی،مظہر علی خان ولا،شیر علی افسوس،حیدر بخش حیدری،خلیل علی خاں اشک،حمید الدین بہاری،کندن لال،باسط خاں،میر ابو القاسم،طوطا رام،محمد بخش،میر جعفر،مولو ی عنایت اللہ ،نہال چند،غلام اکبر،حاجی مغل مرزا،غلام شاہ بھیک ،محمد بخش،محمد عمر،شاکرعلی وغیرہ شامل ہیں۔

1۔گل کرسٹ شعبہ اردو کے سربراہ تھے انھوں نے رومن اردو میں ایک ترجمہ "ہندی مشقیں” کے نام سے 1802ء میں کیا

2۔”باغ اردو ” کے نا م سے ایک ترجمہ شیر علی افسوس نے 1802ء میں اردو میں کیا

3۔”رسالہ گل کرسٹ”  یہ  ترجمہ بہادر علی حسینی نے 1802ء میں  اردو میں کیا

4۔”رسالہ کائنات جو” یہ ترجمہ خلیل علی خاں اشک نے 1802ء میں اردومیں کیا

5۔”ترجمہ پند نامہ منظوم” یہ ترجمہ مظہر علی خاں ولا نے 1802 ء میں اردو میں کیا

6۔”نثر بےنظیر” یہ ترجمہ بہادر علی حسینی نے 1803ء میں اردو میں کیا

7۔”گلدستہ حیدری” یہ ترجمہ حید ر بخش حیدری نے 1803ء میں اردو میں کیا

8۔”باغ وبہار” یہ معروف ترجمہ میر امن نے 1803ء میں اردو میں کیا

9۔”قصہ فیروزشاہ” یہ ترجمہ شیخ محمد بخش ناسخ نے 1803 ء میں اردو میں کیا

10۔”قصہ دل آرام و دل بہار” یہ ترجمہ توتا رام نے 1803ء میں اردو میں کیا

11۔”حسن اختلاط” کے نام سے ایک ترجمہ میر ابوالقاسم نے 1802ء میں اردو میں کیا تھا

12۔”کلا کام” کےنام سے ایک ترجمہ کندن لعل نے 1802ء میں اردو میں کیا

13۔”خوان نعمت” کے نام سے ایک ترجمہ سید حمید الدین بہاری نے 1802ء میں اردو میں کیا

14۔”ہندوستانی کہاوتیں” کے نام سے ایک ترجمہ ولیم ہنٹر نے 1802 ء میں اردو میں کیا

اس کے علاوہ بھی بہت سے تراجم اردو میں اس ادارہ کے توسط سے کیے گئے۔”ہندوستانی میں مستعمل عربی و فارسی الفاط کا ذخیرہ” از ولیم ہنٹر،”داستان امیر حمزہ”از خلیک خان اشک،”مثنونوی میر حسن” از میر حسن،”مذہب عشق” از نہال چند لاہوری،”ہدایت الاسلام” از امانت اللہ شیدا،”آرائش محفل” از حیدر بخش حیدری،”خرد افروز” از حفیظ الدین،”عہد نامہ جدید” از مرزا محمد فطرت،”دیوان میر سوز”از میر سوز،”لطائف ہندی” از للو لال،”صرف اردو منظوم” از امانت اللہ شیدا،”کلیات سودا کا انتخاب” از کاظم علی جوان اور مولوی محمد اسلم،”انتخاب اخوان الصفا” از مولوی اکرم علی،”کثیر الفائد” از للو لال،”گل مغفرت” از حیدر بخش حیدری”بارہ ماسہ دستور بند” از کاظم علی جوان  ان تراجم میں شامل ہیں۔یہ سب طبع شدہ تراجم ہیں اس کے علاوہ کچھ تراجم ایسے بھی ہوئے جن کی طباعت کی نوبت تک نہ آئی۔

دہلی کالج :

فورٹ ولیم کالج کی خدمات بلا شبہ بہت زیادہ ہیں لیکن ایک بات یہ ذہن میں رکھی جائے کہ فورٹ ولیم کالج کے قیام کا مقصد درحقیقت  ہندوستانیوں کو تعلیم دینا نہ تھا۔انگریز چونکہ اپنا اقتدار مضبوط کرنا چاہ رہے تھے اس لیے وہ آبادی کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کے خواہاں تھے۔اس لیے انھوں نے اپنے انگریز افسروں کو جو ہندوستان میں تعینات تھے ان کو اردو سکھانے کا سوچا۔ اگرچہ ان کا مقصد مضموم تھا مگر زبان اردو کے لیے یہ عمل خیر بن گیا۔اردو کی اتنی ترقی ہوئی کہ اپنے قدموں پر کھڑی ہو کے چلنے لگی۔اس کے بر عکس دہلی کالج کے قیام کا مقصد اردو کو فروغ دینا یا سیکھنا نہ تھا بلکہ دہلی کالج کا مقصد ہندوستانیوں کو انگریزی تعلیم سے روشناس کرانا تھا  تا کہ وہ  دنیا کےجدید علوم سے واقفیت حاصل کر سکیں اور دنیا کی ترقی میں معاون بن سکیں۔ہندوستانیوں کو مغربی تعلیم دینے کے لیے ترجمے کیے گئے

مدرسہ غازی الدین حیدر کا قیام دہلی میں عمل میں لایا گیا۔اس مدرسے کا قیام 1792 ء میں عمل میں آیا۔اس مدرسہ کی تعمیر میں کردار جس نے ادا کیا وہ نواب غازی الدین خاں فیروز جنگ ثانی  تھے۔غازی الدین خاں نواب نظام الملک آصف جاہ کے فرزند ارجمند تھے۔اس مدرسہ میں انگریزی تعلیم کے ساتھ مشرقی زبانوں کی تحصیل کا بھی انتظام کیا گیا۔1825ء میں اس مدرسہ کو کالج میں تبدیل کر دیا گیا۔اورا س کو دہلی کالج کا نام دیا گیا۔جے ۔ایچ ۔ٹیلر ایک انگریز کو اس کا پلا پرنسپل بنا دیا گیا۔مختلف شعبہ جات کے سربراہوں کی تقرری عمل میں لائی گئی اور ساتھ ہی اساتذہ کا انتخاب بھی رو بہ عمل ہوا۔ اساتذہ اور سربراہ کے طور پر مولوی صاحبان کا انتخاب کیا گیا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت عربی اور فارسی میں تعلم دی جا رہی تھی اور وہ مولوی صاحبان تھے۔لیکن جب انگریزوں نے اسے کالج کی شکل دی تو انگریزی پڑھانے کا اہتمام ،جو کہ ان کے مقاصد میں سے ایک مقصد خاص بھی تھا،بھی کیا گیا۔1829 ء کی رپورٹ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس کالج کےلیے ایک ٹرسٹ قائم کیا گیا۔اور ایک کثیر رقم جو کہ تقریبا ایک لاکھ ستر ہزار روپے تھی دی گئی۔یہ رقم نواب اعتما د الدولہ سید فضل علی خاں بہادر وزیر بادشاہ اودھ نے عنایت کی۔انگریزوں کی پالیسی کے باعث  مشرقی زبانوں کی تحصیل کا وہ مقام اور مرتبہ قائم نہ رہا۔ایک وقت تھا جب تمام علوم فارسی ،عربی،سنسکرت یعنی ہندوستانی زبانوں میں پڑھاے جاتے تھے لیکں انگریزوں کی وجہ سے ان کا وہ مقام نہ رہا۔ہر طرف انگریزی کا دور دورہ ہونے لگا۔عربی اور فارسی کی اہمیت کم ہو کے رہ گئی۔لیکن دہلی کالج وہ واحد کالج تھا جہاں مغربی علوم جدیدہ کی تعلم اردو میں دی جانے لگی۔اگرچہ انگریزی پڑھانے کا انتظام بھی تھا لیکن جدید علوم کو اردو میں پڑھانے سے لوگوں کی رغبت جدید علوم کی نسبت بڑھ گئی۔ہیئت ،فلاسفی،ریاضی اور تاریخ جیسے مضامین اردو میں پڑھائے جانے لگے۔جب لوگوں کی توجہ جدید علوم کی طرف ہونے لگی تو مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ ان علوم کی کتب انگریزی میں تھی۔طلبا ابھی تک اس قابل نہ تھے کہ وہ انگریزی میں  مفہوم کی درست تفہیم کر سکتے۔ضرورت اس بات کی پیدا ہوئی یہ ان کتابوں کے تراجم اردو میں کروائیں جائیں تا کہ طلبا کے لیے آسانی ہو جائے۔”اسکول بک سوسائٹی ” کے نام کا ایک ادارہ پہلے ہی اپنے طور پر کام کر رہا تھا۔وہ بھی علوم جدیدہ کی کتب کو اردو میں تراجم کی صورت شائع کرتا تھا۔انگریزی علوم سے استفادہ کر کے اردو میں کتب لکھنا اور چھاپنا سر دست ممکن نہ تھا۔ایک تو انگریزی میں مہارت کی کمی اور دوسرا اردو کی نشو ونما ابھی اس قدر نہ تھی کہ وہ ما حصل کو اردو کے قالب میں ڈھال سکے۔یہ وجہ ہے کہ کچھ ادارے اپنے طور پر علوم جدیدہ کو فروغ دینے کے لیے ا ن کتب کے تراجم چھاپتے تھے۔1835 ء میں "ایجوکیشنل کمیٹی” قائم کی گئی تا کہ درسی اور نصاب کی کتابوں کے مسئلے کو حل کرے۔اس نے "دہلی ورنیکلر ٹرانسلیشن سوسائٹی” قائم کی ۔اس کا مقصد انگریزی کتب کا اردو میں ترجمہ کرنا تھا۔اس کا مقصد یہ تھا کہ نصابی ضرورت کی کتابوں کی فراہمی کرنا اور تراجم کے ذریعہ  علوم جدیدہ کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا۔           ڈاکٹر خلیق انجم اپنے مضمون "اردو ترجمے کا ارتقا” میں اس کے مقاصد کا یوں ذکر کرتے ہیں

"1۔انجمن کا منشا ہے کہ انگریزی ،سنسکرت،عربی،فارسیی کے اعلی درجے کی کتابیں اردو ،بنگالی،ہندی میں ترجمہ کی جائیں اور سب سے اول دیسی زبان کی درسی کتابیں تیار کی جائیںَ

2۔دیسی زبانوں کے مفید جدید تالیفات اور انگریزی ،سنسکرت،عربی کی اعلا کتابوں کے ترجمے کے مسودےبہ شرح چھے آنےتک یا ایک روپیا فی صفحہ خریدے جائیں گے۔فارسی کتاب یا کسی دیسی زبان کا ترجمہ اس سےنصف شرح پر خرید ا جائے گا۔

3۔قاعدہ بالا کی رو سےجو ترجمہ انجمن خریدے گی اس کا حق تالیف  انجمن کا ہی ہو گا

4۔قاعدہ بالا کا اطلاق  ملکی السنہ کی جدید تالیفات یا  اعلی کتاب کے ترجمہ پر نہ ہو گا۔

5۔۔ترجموں کےمفید نہ ہونے کا فیصلہ انجمن کی مجلس انتظامی کرے گی اور سب سے اول وہ اپنا سرمایہ ان کتابوں کی طبع پر صرف کرے گی جو نہایت ضروری ہے۔”

ڈاکٹر مولوی عبدالحق نے ابڑی تفصیل سے ان قواعدکا بیان کیا ہے ،جو انگریزی سے اردو میں ترجمہ کے لیے استعمال ہوں گے

1۔جب سائنس کا کوئی ایسا لفظ آئے جس کا مترادف اردو میں نہ ہو مثلا سوڈیم،پوٹے سیم،کلورین وغیرہ تو ایسے لفظوں کو بجنسہ اردو میں لے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔یہی قاعدہ ایسے خطابات اور القابات کے بارے میں بھی مدنظر رکھا جائے گا جن کے مساوی خطابات و القابات ہندوستان کی تاریخ میں نہیں پائے جاتے۔مثلا بشپ  ڈیوک ارل،کلکٹر وغیرہ

2۔اگر لفظ  مرکب ہے اور اردو میں اس کا مترادف نہیں ،مگر الگ الگ لفظ کے مترادف اردو میں موجود ہیں تو یا ان دونوں لفظوں کو ملا کر یا کسی دوسرے مساوی مفہوم کے الفاظ میں ترجمہ کر لیا جائے

مولوی عبد الحق نے اپنی کتاب "مرحوم دہلی کالج” میں اس ادارے کی 128 ایسی کتابوں کا تذکرہ کیا ہے جو تراجم اور طبع زاد ہیں۔مولوی عبد الحق لکھتے ہیں”اس میں ذرا شبہ نہیں کہ اردو کو علمی زبان بنانے کی یہ پہلی سعی تھی جو خاص اصول اور قاعدے کے ساتھ عمل میں آئی”انگریزوں کی ذہنیت ایسی بن چکی تھی کہ مشرقی تعلیم کو بیکار خیال کرتے تھے۔لارڈ آکلینڈ نے اس طرف توجہ دلائی تھی کہ ان کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا جائے۔مسٹر فیلکس بوترو نے مغربی علوم کو رائج کرنے کےلیے اردو زبان کو ذریعہ تعلیم بنا یا تھا۔فیلکس بوترو نے اپنی نگرانی میں کتابوں کے تراجم کرائے۔ورنیکلر ٹرانسلیشن سوسائٹی کے مجلس عاملہ میں فیلکس بوترو،دوارکا ناتھ ٹیگور،ٹامس مٹکاف،ولیم سان فرانسسکو،ا۔ک۔دیون شاہ اور چارلس گرانٹ شامل تھے

جن کتابوں کے تراجم ہوئے ان میں سے چند ایک کے نام یہاں درج ہیں

1۔تحریر اقلیدس مقالہ

2۔اصول قانون

3۔تاریخ ہند زمانہ قدیم سے تا زمانہ حال

4۔اصو ل حکومت

5۔اصول قوانین مال گزاری

6۔اصول قوانین اقوام

7۔تاریخ انگلستان،خلاصی تاریخ گولڈ سمتھ کا ترجمہ

8۔الجبر اترجمہ برجز

9۔علم مثلث و تراش ہائے مخروطی

10۔عملی علم ہندسہ "پریکٹیکل جیو میٹری”

11۔اصول علم ہیئت ترجمہ علم ہیئت ،ہرشل ابتدائی آٹھ

12۔تاریخ اسلام

13۔تاریخ یونان

14۔تاریخ روما

15۔رسالہ کیمسٹری ترجمہ پارکر

16۔استعمال آلات ریاضی

17۔اٹلس جغرافیہ

18۔قواعد اردو

19۔انتخاب الف لیلہ

20۔شمیسہ منطق میں

21۔قانون محمدی فوج داری ترجمہ کتان میکنائن

22۔اردو لغات

23۔لیلا وتی حساب

24۔رامائن

25۔نل دمن

26۔مہا بھارت انتخاب

27۔تحلیلی علم ہندسہ

28۔محاورات اردو

29۔ترجمہ تزک تیموری

30۔یوسف خان کی سیاحت

"دہلی کالج تاریخ اور کارنامےاز ڈاکٹر عبدالوہاب ” میں 128 کتب کی ایک فہرست مولوی عبدالحق کے حوالہ سے درج کر دی گئی ہے۔

انجمن ترقی اردو

جنوری 1902 ء میں آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس علی گڑھ میں ایک علمی شعبہ قائم کیا گیا۔اس کا نام ا”انجمن اردو  ” تھا۔مولانا شبلی نعمانی اس کے سیکرٹری تھے۔نواب حبیب الرحمن خان شیروانی ار عزیز مرزا بھی اس عہدے پر فائز رہے تھے۔1912 ء میں مولوی عبدالحق اس کے سیکرٹری بن گئے۔مولوی صاحب حیدر آباد دکن میں ملازم تھے۔وہ انجمن کو بھی ساتھ لے گئے۔انجمن کے زیر اہتمام ایک لاکھ سے زائد جدید علمی ،فنی اور سائنسی اصطلاحات کا اردو ترجمہ کیاگیا۔اردو کے نادر نسخے تلاش کیے گئے اور چھاپے گئے۔دو سہ ماہی رسائل  "اردو ” اور "سائنس” جاری کیے گئے۔عظیم الشان کتب خانہ بھی بنایا گیا۔حیدر آباد دکن کی عثمانیہ یونیورسٹی انجمن کوششوں کی ہی بدولت قائم کی گئی۔یونیورسٹی کا ذریعہ تعلیم اردو تھا اور اس میں ایک دارالترجمہ بھی قائم کیا گیا۔

1938 ء میں جب مولوی عبد الحق دلی آئے تو ساتھ ہی انجمن بھی دلی آگئی۔لیکن ایک دلدوز واقعہ ہوا۔تقسیم ہند کے ہنگاموں کے دوران کتب خانہ کی تقریبا 1936 کتب ضائع ہو گئیں۔قیام پاکستان کے بعد انجمن دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ایک حصہ پاکستان میں انجمن ترقی اردو پاکستان جس کا صدر دفتر کراچی ہے اور ایک انجمن ترقی اردو دہلی جس کا صدر دفتر دہلی ہے۔

اب ذکر ان کتابوں کا جن کا ترجمہ انجمن کے تحت ہوا۔

1۔سب رس (داستان ملا وجہی) مرتبہ مولوی عبدالحق

2۔شکنتلا  از کالی داس مترجم اختر حسین رائے پوری

3۔معمار اعظم (ہنرک ایسن) مترجم عزیز احمد

4۔پیاری نرمین (ناول مسز پرل بک)

5۔جوامع الحکایات و لوامع الروایات (حکایات) مترجم اختر شیرانی

6۔اندرون ہند (سفرنامہ خالدادیب) مترجم سید ہاشمی فرید آبادی

7۔سفرنامہ ناصر خسرو (حکیم ناصر خسرو) مترجم مولوی عبدالرزاق کانپوری

8۔دختر فرعون (ناول جارج مارٹر زا یبرس) مترجم الطاف حسین خان)

9۔گورکی کی آب بیتی  (میکسم گورکی کے ناولوں کے ترجمہ اختر حسین رائے پوری نے تین جلدوں میں کیاجو انجمن کے تحت شائع ہوا)

10۔ذکر میر (سوانح عمری میر تقی میر) مترجم و مرتب مولوی عبد الحق

انجمن ترقی اردو نے سائنس اور علمی اعتبار سے بھی اردو زبان کو بے وقعت نہیں چھوڑا،سائنس کی تعلم کو اردو  میں مقبول بنانے کے لیے سائنس کے موضوعات پر دلچسپ اور عام فہم کتابیں  لکھ کر شائع کیں اس کے ساتھ ساتھ سائنسی کتب کے تراجم بھی کیے۔انجمن ترقی اردو نے جو اردو کو سرمایہ دیا اس سے اردو ادب کی اشاعت کے ادارے مستفید ہو رہےہیں۔انجمن نے اردو ادب کےلیے مضبوط بنیاد فراہم کی۔انجمن کی خدمات ناقابل فروش ہیں۔

دارلترجمہ عثمانیہ حیدر آباد دکن

اردو میں سائنسی علوم کی روایت اور اس میں سائنسی موضوعات کو منتقل کرنے کا سلسلہ اگرچہ کافی قدیم ہےلیکن انیسویں صدی کا زمانہ بہت اہم ہے۔اس ادارہ کے تحت درج ذیل کتب کا ترجمہ کیا گیا دارلترجمہ جامعہ عثمانیہ اس سرزمین پر قائم ہوا جہاں ہوا وہاں اردو ادب کی ایک خاص اور تاریخی روایت رہی ہے۔یہی وہ جگہ ہے جہاں بہمنی خانداں نے 1347 ء میں اپنی خود مختاری کا اعلان کیا۔اس دور کے حکمرانوں نے دکن میں اردو زبان کی ترقی و ترویج کے لیے مختلف مراکز قائم کیے جس کو بعد کے سلاطین نے فروغ دیا۔بہمنی حکمرانوں کے بعد 1508 ء سے 1687 ء تک قطب شاہی سلاطین نے اور 1671 ء سے 1947 تک آصف جاہی سلاطین نے دکن پر حکومت کی۔آصف جاہی سلاطین کے ساتویں فرمانروا نواب میر عثمان علی خان کا عہد علم ادب کے لحاظ سے بہت اہم رہا ہے۔

26 اپریل 1917 ء کو میر عثمان علی خان  نے یونیورسٹی کے قیام کے احکام صادر کر دیے اور کچھ بنیادی اصولوں کو واضح کر دی ہے”مجھے بھی عرضداشت اور یادداشت کی مصرحہ رائے سے اتفاق ہے کہ ممالک محروسہ کے لیے ایک یونیورسٹی قائم کی جائے۔جس میں جدید و قدیم مشرقی و مغربی علوم و فنون کا امتزاج اس طور پر کیا جائے کہ موجودہ نظام تعلیم کے نقائص دور ہو کر جسمی و دماغی و روحانی تعلیم کے قدیم کو جدید طریقوں کی خوبیوں کا پورا فائدہ حاصل ہو سکے۔”اگر دارالترجمہ کی شائع شدہ کتابوں کو فنون کے اعتبار سے تقسیم کیا جائےتو یہ سات شعبوں میں تقسیم کی جا سکتی ہیں۔نصیر الدین ہاشمی کے مطابق ان سات شعبوں پر مشتمل مندرجہ ذیل کتابیں طبع ہوئیں۔جن کی تعداد 359 اور سائنس سے متعلق 73 کتابیں ہیں

فلسفہ ما بعد الطبیعیات،نفسیات،منطق،اخلاقیات 59

تاریخ جغرافیہ،تاریخ اسلام،ہندقدیم،یورپ 118

عمرانیات،سیاسیات،معاشیات 29

قانون و دستور 23

ریاضی ،سائنس 73

سول و میکینیکل انجینیئرنگ 27

طب 1630

چند کتابوں کا ذکر یہاں کیا جا رہا ہے

1۔1798 ء میں کمال الدین حیدر نے پرکنس کی تالیف کردہ کتاب کا ترجمہ "بحر حکمت ” کے نام سے کیا۔اس میں بھاپ کو موضوع بنایا گیا

2۔1811 ء میں کپتان روک نے جہاز رانی پر ایک فرہنگ مرتب کی جس میں ایسے الفاظ کا بیان ہے جو جنگ میں کار آمد ہیں۔

3۔سید محمد میر نے طلسم کیمیا سے متعلق ایک کتاب کا ترجمہ کیا

4۔1836 ء میں ترن لال نے رسالہ علم ہندسیہ مرتب کیا

5۔مولوی احمد نے 1851 ء میں چارلس واکر کی انگریزی کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا

6۔سید عبد الرحمن نے فارگومن کے رسالے علم ہیئت کا ترجمہ "تختہ گراں  ” کے نام سے کیا

دارلترجمہ کی کوششوں کا حاصل کردہ تراجم و تالیفات ہیں ۔انکی تعداد تقریبا چار سو کے قریب ہے۔فرزند شکیب کے مطابق خلاصہ یہ ہے کہ حمید احمد انصاری مسجل جامعہ عثمانیہ کے ایک تحقیقی مضمون 1930 ء کے بموجب دارلترجمہ کی طبع اور زیر ترجمہ کتب کی تعداد 218 ہے ۔خود جامعہ کے شائع کردہ معلوماتی کتاچہ 1940 ء کے مطابق جملہ مترجمہ شائع شدہ کتابوں کی تعداد425 ہے۔

بہادر یا ر جنگ اکیڈمی نے حیدر آباد کی مطبوعات کی ایک قاموس کتب جو 1945 ء میں شائع کی تھی اس میں بتایا گیا 1938 ء میں بشمول 111 مجوزہ کتابوں کے یہ تعداد 530 تھی۔1945 ء میں بشمول مجوزہ کتب یہ تعداد بڑھ کر 608 ہو جاتی ہے۔چونکہ دارلترجمہ 1948ء تک کام کرتا رہا اور اس درمیا ن بھی کتابیں شائع ہوتی رہیں اس لیے اگر ان کو شامل کر لیا جائے تو جملہ تعداد 960 قرار پاتی ہے۔بدر شکیب نے اپنی مطلوبہ فہرست اور کتابچہ  مطبوعہ 1940 ء کو بنیاد بنا کر صرف ان کتابوں کا ہی شمار کیا ہے جن کے اصل مصنف،مترجم کے نام اور سنہ اشاعت کے متعلق کسی قسم  کا انتباہ نہیں تھا۔اس لیے انکی فہرست کے مطابق جملہ کتب کی تعداد 428 ہے۔یہ اعداد بھی قطعی نہیں ہیں۔کیونکہ خود بدر شکیب کے مطابق ان سے زیادہ پتہ چلانا آئندہ تحقیق کرنے والوں کا کام ہے۔دارلترجمہ کی ان کتابوں میں اضافہ ہو سکتا ہے ان تراجم کے پیش نظر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ دارلترجمہ عثمانیہ نے اردو ادب اور ہندوستان کے عوام کے لیے جن علوم و فنون کا انتخاب کیا ،وہ نہ صرف ادبی،مذہبی،شعری تھے بلکہ سائنس ،علم حیوانات،علم طبیعات، جغرافیہ،انجینرنگ،نفسیات،عمرانیات، سیاسیات، معاشیات، طب،جراحی، فلاسفی، منطق ،اخلاقیات ،قانون اور تاریخ بھی تھے۔ترجمے کے مقاصد کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ نہایت  اہم عمل ہے۔اس کے ذریعے سے ایک زبان اپنے آپ کو وسعت دیتی ہے۔اور دوسری زبان کے علوم و فنون سے بہت کچھ استفادہ کرتی ہے۔آیا کہ ترجمہ ایک تخلیقی عمل ہے یا نہیں۔اس سوال کا جواب یوں دیا جا سکتا ہے کہ ایک تخلیق کار اپنی تخلیق کو جب پیش کر دیتا ہے تو وہ اس کا ذاتی مسئلہ نہیں رہتا۔اس کو پڑھنے اور سمجھنے والا اس کو اپنے انداز میں دیکھتا ہے ۔اور اس کی تفہیم کی کوشش کرتا ہے۔اس کو اپنے معانی پہناتا ہے۔اس لحاظ سے ترجمہ کرنے والا اس فن پارے کو ایک نئے سرے سے معانی دیتا ہے۔لیکن ترجمے کے اصول کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ مترجم پابند ہوتا ہے۔اس لیے اس کو ترجمہ ویسا ہی کرنا ہوتا ہے۔اگرچہ نقل کبھی اصل کے برابر نہیں ہو سکتی لیکن ترجمے کو تخلیقی اس انداز میں تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ترجمے کے بہت سے مسائل ہیں۔ترجمے کے مسائل کے حل کیلیے ضروری ہے کہ مترجم کی مکمل تربیت ہونی چاہیے۔یونیورسٹیز کو چاہیے یہ وہ ایسے کورس کروائیں جس سے ترجمہ کرنے کی تربیت دی جا سکے۔اس سے نہ صرف اردو زبان کو بلکہ دیگر زبانوں کو  فائدے ہوں گے۔اصطلاحات کے تراجم کا ایک مسئلہ بھی ہے اگرچہ دہلی کالج نے اس پر کافی کام کیا ہے۔مگر اس پر مزید بحث مباحثے کی گنجائش بنتی ہے۔مترجم کو اگر ترجمے کے فن کی مبادیات کا علم ہو گا تو اس طرح کے مسائل سے نپٹا جا سکتا ہے۔

 

کتابیات

1۔اعجاز راہی،اردو زبان میں ترجمہ کے مسائل،اسلام آباد،مقتدرہ قومی زبان:1987

2۔حامد بیگ،مرزا،ڈاکٹر،مغرب سے نثری تراجم،اسلام آباد،مقتدرہ قومی زبان،اشاعت اول:مئی1998

3۔خلیق انجم،فن ترجمہ نگاری،نئی دہلی،ثمر آفسٹ پرنٹرز،اشاعت سوم،1996

4۔رشید امجد،ڈاکٹر،ترجمہ کا فن،لاہور،مقبول اکیڈمی:1988

5۔قمر رئیس،ڈاکٹر،ترجمہ کا فن اور روایت،دہلی،خواجہ پریس:جون 1976

6۔مولوی عبدالحق،خطبات عبد الحق (حصہ دوم)،دہلی،انجمن ترقی اردو،(ہند):1944

7۔مولوی وحید الدین سلیم،وضع اصطلاحات،نئی دہلی،ترقی اردو بیورو:1960

J.Craford, A linguistic Theory of translation, London, oxford university8. press.1965

J.M. cohen,”translation”, Encyclopedia Americana, 1986, vol.279.

 

نثار علی بھٹی

ایس ایس اای اردو

گورنمنٹ ہائی سکول کوہلیاں

nisarbhati786@gmail.com

0302-6791505

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

You may also like

5 comments

Leave a Comment