فتح محمد ملک کی تنقید نگاری – محمد آصف

by adbimiras
0 comment

تقسیم ہند کے بعد پاکستان کو اردو تنقید کی جو روایت  ورثے میں ملی اس میں بیک وقت تین بڑے تنقیدی دھارے رواں دواں تھے ان میں ایک اہم دھارا مشر قی تنقید کا تھا جس کا رخ یکسر  مختلف  تھا ۔ یہ رجحان تنقید کے قد یم چشموں سے قوت حاصل کر رہا تھا ۔ دوسری طر ف حلقۂ  اربابِ ذوق اور تر قی پسند تنقید کے دواہم دھارے تھے جو ایک دوسرے کے متوازی بھی تھے اور باہم متصادم بھی ۔ ان کے بعض تنقیدی رویوں  میں اشتراک بھی تھا اور بعض میں اختلاف بھی تھا ۔ ان مختلف تنقیدی تصورات سے وابستہ نا قد ین نے اپنے اپنے نظر ے کو پروان چڑھا نے کی سعی کی۔ ان نا قدین کی فہرست میں فتح محمد ملک ایسے نا قد کے طور پر ہمارے سا منے آتے ہیں جن کے ہاں کثیرالجہتی پائی جاتی ہے۔ان کے تنقیدی سرمائےمیں تعصبات ، اندازِنظر ،تحسین وتردید،اپنی آگ کی تلاش،اقبال فکر و عمل،اقبال کے سیاسی تصورات، اقبال فراموشی،فیض شاعری اور سیاست،احمد ندیم قاسمی شاعر اور افسانہ نگار،راشد شخص اور شاعر،احمد فراز کی شاعری اور ندیم شناسی شامل ہیں۔ انھوں نے کلاسیک او رجدید ہر دو موضوعات پر خامہ فرسائی کی ہے اس لیے ان کی تنقید کا دامن خاصہ متنوع ہے۔فتح محمد ملک نے  اقبال ،راشد،فیض،احمد فراز اور احمد ندیم قاسمی کے فن و فکر پر باقاعدہ کتب کے علاوہ  دیگر قدیم و جدید شعرا اور ادبی موضوعات پر تنقیدی مضامین  بھی تحریر کیے ہیں ۔وہ اقبال اورفیض کی فکر سے بالخصوص جبکہ احمد ندیم قاسمی اور راشد کی  فکر سے بالعموم متاثر ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں لسانی تاریخ نویسی اور محمود خاں شیرانی (’پنجاب میں اردو‘کے حوالے سے) – پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ )

فیض احمد فیض  ترقی پسند شاعر تھے اور فتح محمد ملک بھی خود کو تر قی پسند قر ار دیتے ہیں لیکن اِن کے ہاں روایتی ترقی پسند انہ اسلوب نظر نہیں آتا ۔ اِنھوں نے اپنی تنقید میں تر قی پسند نا قدین کے بہت سے منفی پہلو ؤں کو بھی بیان کیا ہے لیکن  اس کے باوجود وہ اس فکر سے متاثر ضرور ہیں ۔ ان کا لہجہ اور تنقیدی اسلوب روایتی ترقی  پسندانہ  نہیں کہ جس مین گھن گرج اور بلند بانگ لہجہ ہو،بلکہ ایک شائستگی اور متانت کا عنصر کارفرما ہے۔انھوں نے ترقی پسندی کو جس روایت سے مملو کیاہے اس کے متعلق اورنگ زیب نیازی اپنی کتاب میں رقمطراز ہیں:

"پروفیسر فتح محمدملک کی تنقید روایتی ترقی پسندتنقید نہیں۔ انھوں نے ترقی پسندی کو تمام مفہوم کے دائرے سے نکال کر اسے تہذیب،مذہب اوراپنی ادبی روایات سے ہم آہنگ کرنے کی سعی کی ہے۔” (1)

اس مماثلت کی وجہ سے وہ فیض کی فکر سے متا ثر ہیں اور  اپنی تنقید میں جا بجا فیض  کا دفا ع کر تے ہیں۔ چونکہ وہ اپنی تہذیب اور اپنے کلچرو ثقا فت کو خاص اہمیت دیتے ہیں لہذٰا انھوں نے فیض کی شا عری  میں بھی تہذیبی جڑ کے عناصر تلاش کر نے کی کامیاب سعی کی ہے ؛وہ انھیں پاکستانی تہذیب و ثقافت کا نمائندہ شا عر قرار دیتے ہیں ۔ فتح محمد ملک کی تنقیدی فکر میں دوسری اہم چیز پاکستانی ادب  اور حب الوطنی ہے ۔ لہذا انھوں نے فیض کی شا عری کو ایک محب ِو طن پاکستانی کی شا عر ی قراد دیا ہے ۔ ان کے نزدیک فیض پاکستان سے بے حد محبت رکھنے والے شا عر ہیں۔ پنڈی سازش کیس کی بابت تنقید نگار نے فیض کو بری الذمہ قرار دیا اور کہا کہ فیض پر یہ جھوٹا کیس بنایا  گیا تھا ۔فیض کے ترقی پسند انہ نظر یا ت کو  وہ  بہت سر اہتے ہیں ۔ وہ  اِنھیں انقلاب اوررو  مان سے ہٹ کر ملی اور قومی شا عر بھی قرار دیتے ہیں۔ چونکہ تنقید نگار فکر اقبال سے عمیق وا بستگی کے داعی ہیں اور اقبال کی فکر کو جدید شعر ا پر ثبت دیکھتے ہیں لہذا ان کی فیض  شنا سی میں فکر اقبال کے اثرات بھی موجود ہیں۔  اگر چہ فتح محمد ملک یورپ میں قیام پذیر رہے مغربی زبان و ادب کا بھی خاصہ  مطا لعہ کیا تاہم اس کے باوجووہ مشر قی ادب سے متاثر ہیں اور اپنی تہذیب کی جلوہ گری ادب میں دیکھنے کے قائل ہیں۔ احمد ندیم قاسمی فتح محمد ملک کے پسند یدہ شعرا میں شامل ہیں ۔ندیم شناسی  پر ان کی دوکتب ہیں؛ جس میں  انھوں نے قاسمی کی شخصیت اور فکری دھاروں پر بطریقِ ا حسن خامہ فرسائی کی ہے۔ ندیم شنا سی میں انھوں نے جورویہ اپنا یا ہے اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ وہ اقبال کے بعد بڑا شا عر احمد ندیم قاسمی کو قر ار دیتے ہیں اور قا سمی کو شا عر ی کی معر اج پربٹھانا چاہتےہیں۔ انھیں احمد ندیم قاسمی کے شعری سر ما یے میں ملک پا کستان کا درد نظر آتا ہے ۔ وہ جا بجا ان کی شا عر ی میں تہذیبی عناصر اور پاکستانی کلچر کے خدوخال تلاش کر تے دکھا ئی دیتے ہیں۔ اصل میں فتح محمد ملک  کی تنقید میں پاکستانی ادب  اور مشرقی تہذیب کو خاص اہمیت حاصل  ہے ۔وہ ادب کی جانچ پرکھ بھی اسی تناظر میں کرتے ہیں ؛البتہ کسی ادبی فن پارے کےمطالعہ و تنقید میں اس کی تفہیم ہی کے قائل نہیں بلکہ زیرِ بحث موضوع کے متعلق نئے سوالات بھی اٹھاتے ہیں اور ان  کا تشفی بخش جواب بھی تلاش کرتے ہیں۔ ان کی تنقید کی یہ نمایاں جہت ادب کی قاری کے لیے فن پارے میں نئی نئی راہیں تلاش کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ان کی تنقید پاکستانی ادب کے جس تصور سے مملو ہے اس کے متعلق محمد صفدرمیر لکھتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں جمالیات کیا ہے؟ – شازیہ بتول )

"فتح محمدملک کی تنقیدی  کا بنیادی مسئلہ ادب اورتقافت کی نوعیت کومتعین کرتا رہا ہے اورہے۔ دوسرے لفظوں میں ان کی تنقیدی فکر کوزیادہ سروکار اس بات سے ہے کہ پاکستانی قومیت کا تصورپاکستانی ادیبوں کی تخلیقات میں کیسے منعکس ہوتا ہے۔ وہ ان چند نقادوں میں سے ہیں جواب بھی اس تصور کے بارے میں سنجیدگی  سے سوچتے ہیں اورایک مربوط اورہم آہنگ انداز میں متعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔”(2)

اقبال کی فکر نے جہاں دوسرے ناقدین کو متاثر کیا وہیں فتح محمد ملک پر بھی ان کے بہت سے اثرات ہیں۔انھوں نے اقبال کی شا عر ی کے سیاسی ، سماجی، ثقا فتی ، مذہبی اور چند دوسرے موضوعات پر بطر یق احسن خانہ فرسائی کی ہے،دیکھا جا ئے تو اقبال کی شخصیت اتنی متنوع اورگھمبیرہے  کہ اس کے سبھی پہلوؤں کو ایک نقاد  اپنے ہاں نہیں  سمیٹ سکتا ۔ البتہ فتح محمد ملک نےاپنی تنقیدی نگارشات اور چند دوسرے مضامین میں اقبال کے فن و فکر کے متنوع پہلوؤں کو سمیٹا ہے۔ ان کی اقبال شناسی میں اقبال کو بطور سیاست دان، بطور شاعرو ادیب اور بطور مفکر ثابت کر نے کی کامیاب سعی موجود ہے۔ دوسری طرف مفکر پاکستان کے خلاف اٹھنے والے منفیرویوں کا بھی بھر پور دفا ع موجودہے۔ بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اپنے بعض مضامین میں انھوں  نے فکر اقبال کے منفی ردعمل کے ان مختلف مظاہر کا حکیمانہ تجز یہ کیا ہے جو بدقسمتی  سے بیشتر پاکستا ن کے اندر نمایاں ہو ئے اور جنھیں فکر اقبال کے غیر ملکی دشمنوں نے بھی  خوب اچھا لا۔ تنقید نگار نے ان مظاہر کے علم برداروں کو بہتر جواب مہیا کیا  ہے اور واضح کر دیا ہے کہ اقبال کے فکر و خیال اور عمل واردہ کی دنیامیں اسلام کی سا ئنسی روح کا رفر ما ہے ۔اقبال علم بیز اری ، خرددشمنی،  ظلمت پسندی  اور راضی بار ضارہنےکے جمود کےکٹر مخالف ہیں، وہ عامتہ المسلمین کی گہری بصیرت سے روشنی حاصل کر نے کو کفر نہیں سمجھتےاور اس لیے جمہوریت کو مغرب کی کی بدعتوں اور گمراہیوں میں شمار نہیں کر تے۔ فکر اقبال کا ایک اور رد عمل وہ فرازی رجحانات میں جو جدت کے گمراہ کن نام پر اختیار کیے گئے ہیں اور جن کی بنیاد لایعنیت لا حاصلیت اور بے معنویت پر ہے۔ فتح محمد ملک نے واضح اور دو ٹوک انداز میں  کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر ان عناصر کو بے نقاب کیا ہے، مگر انھوں نے اس نقاب کو نوچا نہیں بلکہ ایک شانِ خود اعتمادی کے ساتھ ایک طرف سرکادیا ہے۔اس کے علاوہ فتح محمد ملک نے اپنے تنقیدی  مضامین میں عالم گیر انسانیت کے تصورِ وطنیت اور اسلامیت ،حقیقی اسلام اور مروجہ تصورِ اسلام کے تضاد ات ،دین ِمحمد اور دینِ ملوک، جمعیت ِاسلامی سے جمعیتِ انسانی تک کے سفر اور زمین سے اقبال کی عدم وابستگی کے الزامات کو بھی موضوع بنایا ہے۔ نیز یہ بھی ثابت کیا ہے کہ اقبال کے نزدیک اسلام میں نہ شہنشاہیت ہے،نہ ملوکیت ہے،نہ جاگیرداری اور نہ ہی سرمایا داری ہے یہ سب کی سب تعلیمات اسلام کے منافی ہیں اور اس کی اقبال نے بھرپور مذمت کی ہے۔فتح محمد ملک کی اقبال شناسی کا متعدد حصہ اس معاملے سے تعلق رکھتا ہے کہ اقبال کے خیالات اور ہماری جدید ادبی تحریکوں کے درمیان کتنا گہرا تعلق ہے۔ان کے نزدیک  اقبال کی فکر بطور پاکستانیوں کے ہمارے نظریاتی موقف کی سب سے وقیع اور معتبر شکل ہے۔ان کی افکارِاقبال کی تفہیم کا بنیادی نچوڑ اس بات میں مضمرہے کہ موجودہ عصری آشوب سے چھٹکارے کا واحد حل شاعرِ مشرق کے عقائد و نظریات کی درست تفہیم اور اُس کا عملی اطلاق ہے۔لہٰذا مسلمانوں کی اجتماعی بقا اقبال کی فکر پر عمل پیرا ہونے سے ہی ممکن ہے۔ (یہ بھی پڑھیں تحقیقی خاکہ نگاری – نثار علی بھٹی )

فتح محمد ملک جتنی متنوع شخصیت ہیں اس کا اندازہ ہمیں اس وقت ہوتا ہے جب ہم ان کی فیض شناسی ،ندیم شناسی اور اقبال شناسی کے بعد دیگر تنقیدی مضامین کا جائزہ لیتے ہیں۔جدید شاعری جس کا آغاز انیسوی صدی کی آخری دہائیوں سے شروع ہوکر بیسویں صدی میں عروج حاصل کرتا ہے۔اس دور کے شعرا نے روایتی عشق و محبت سے ہٹ کر انسان کو درپیش مسائل اوراپنے ارد گرد کے  دوسرے کئی موضوعات پر تدبرکیا ۔ فتح محمد ملک نے انتہائی باریک بینی سے اس عہد کی شاعری کا مطالعہ کیا اور اس دور سے وابستہ شعرا کی شعری عظمت دریافت کرنے کی کامیاب سعی کی۔۔”تعصبات”سے لے کر "خواب و خیال ” تک آتے آتے ہمارا واسطہ معروف و مقبول شعرا کےساتھ ساتھ چند اُن شعرا سے بھی ہوتا ہےجو پردہ گم نامی میں پڑے ہیں۔اگرچہ فتح محمد ملک کے بعض مضامین اتنے مختصر ہیں کہ اس سے متعلقہ شاعر کی فکری بالیدگی کے بارے میں کوئی واضع تصویر قائم نہیں کی جاسکتی تاہم شاعر کا ایک تعارف ضرور سامنے آجاتا ہے۔ اُنھوں نے جس بھی شاعر پر قلم اُٹھایا اس کے کلام کا تجزیہ عصری سیاق و سباق میں ضرور کیا ہے۔ان کی تنقید میں پاکستانی کلچر ، پاکستانی ادب اور فکر اقبال کو مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔ نظری مباحث ہوں یا عملی تنقید وہ انہی حوالوں سے بات کرتے ہیں۔ انھوں نے پاکستانی ادب کے حوالے سے اس نظریے کے مخالفین پر کڑی گرفت کی ہے اور پاکستانی ادب کے نظریے پر کام کرنے والوں کی فکری غلطیوں کی نشاندہی بھی کی ہے اور فکر اقبال کے حوالے سے اس مسئلے کو سمجھنے کی کوشش بھی کی ہے ہیں۔ انھوں نے پاکستانی ادب کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر کو اپنی تنقید کو حصہ بنایا ہے؛ لیکن پاکستانی تہذیب کے حوالے سے شرح و بسط سے نہیں لکھا ۔ یہ مباحث ان کے لیے جتنی اہمیت رکھتے ہیں اس کا تقاضا تھا کہ وہ دوسروں پر اعتراضات کیبجائے خود اس کے سارے پہلوؤں کا جائز ہ لیتے اور اس حوالے سے بات کر کسی نتیجہ خیز مقام تک پہنچاتے ہیں ۔ان کے اسلوبِ تنقید کے حوالے سے یہ بات کہی جا سکتی ہےکہ وہ شائستگی اور سلاست  سے لبریز ہے ،جس سے قارئین کسی گنجلک پن کا شکار نہیں ہوتے۔فتح محمد ملک کے ہاں فن پارے کی شرح میں آسانی پیدا کرنے کی جو خُو ہے، وہ انھیں پاکستانی نا قدین کی اس فہرست میں کھڑا کرتی ہےجسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ؛لہذا اردو شعر و ادب کی تنقیدی  روایت میں ان کی حیثیت مسلمہ ہے۔

 

حوالہ جات

1۔  ڈاکٹراورنگ زیب نیازی، پاکستان میں اردو تنقید (ملتان: بیکن بکس، 2015ء) ص۱۱۰

2۔محمد صفدرمیر، فتح محمد ملک ایک نظریاتی نقاد، (ماہنامہ چہار سو، شمارہ ۹۰، نومبر دسمبر۔ ۲۰۰۰ء)، ص۳۱

 

محمد آصف

(یونی ورسٹی آف سر گودھا)

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

Leave a Comment