by adbimiras
0 comment

 اردو افسانے میں مہملیت/ ڈاکٹر ابوبکر رضوی – ڈاکٹر نوشاد منظر

اردو زبان نے اپنے ابتداہی سے الگ الگ رجحانات ، تحریکات اور نظریات کو اپنے اندر جذب کیا ہے۔ جب ہم اردو زبان کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس بات کا بخوبی احساس بھی ہوتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ چند تحریکوں اور رجحانوں کا ہمارے ادب پر خاص اثر ہوا اور کچھ رجحان ادب کو بالکل متاثر نہیں کرسکے۔ جن تین نظریات نے اردو ادب کے سرمایے میں بیش بہا اضافہ کیا ہے، اس میں علی گڑھ تحریک، ترقی پسند تحریک اور جدیدیت کا رجحان قابل ذکر ہے۔علی گڑھ تحریک اور ترقی پسند تحریک دونوں ہی افادی ادب اور ادب و زندگی کے درمیان ایک رشتے کے قائل تھے۔ جدیدیت کا معاملہ مذکورہ دونوں تحریکوں سے مختلف ہے۔ جدیدیت ادب برائے ادب کی بات کرتا ہے، اور انسان کی وجودیت کا قائل ہے۔ اردو میں جدیدیت مغرب کی دین ہے۔ جدیدیت کے حوالے سے کئی کتابیں اور سینکڑوں مضامین منظرعام پر آچکے ہیں جن میں جدیدیت کے رجحان، مسائل اور ادب میں اس کی ضرورت کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے، اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ڈاکٹر ابوبکر رضوی کی کتاب ’’اردو افسانے میں مہملیت‘‘ ہے۔ ڈاکٹر ابوبکر رضوی اردو دنیا کے لیے کسی تعارف کے محتاج نہیں، ان کے مضامین اکثر رسالوں میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ انھوں نے مختلف موضوعات پر مضامین لکھے ہیں۔ افسانوں کی تنقید کے متعلق ان کے کئی مضامین بھی شائع ہوچکے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں شیر شاہ سوری کے انتظامی امور : ایک جائزہ – ڈاکٹر نوشاد منظر )

زیرتبصرہ کتاب ’’اردو افسانے میں مہملیت‘‘ کو مصنف نے پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ اس کے علاوہ پیش لفظ اور کتابیات بھی اس کتاب کا حصہ ہیں۔مذکورہ کتاب کا پہلا باب ’’مہملیت یا بے معنویت کی تعریف ‘‘ہے۔ مصنف نے مہملیت کی تعریف مختلف حوالوں سے کرتے ہوئے اردر میں اس کی ابتدا انیسویں صدی کے نصف آخر بتایا ہے۔ 1960 کے آس پاس ترقی پسند تحریک کی شدت پسندی سے تنگ آکر ادب میں نئے موضوعات کو فروغ دینے کا آغاز ہوتا ہے جو باضابطہ جدیدیت سے موسوم و معروف ہے۔ جدید افسانے پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ابو بکر رضوی نیجدید افسانہ کو مغربی افکار وخیالات اور بے شمار تجربات واجتہاد سے عبارت بتایاہے۔ مصنف کا خیال ہے کہ وجودیت اور جدیدیت کے زیرسایہ پروان چڑھنے والی تحریروں میں جو نظریات و رجحانات ابھرکر سامنے آرہے تھے، مہملیت کا رجحان ان میں سے ایک ہے۔ مہملیت جسے انگریزی میں Absurdity کہتے ہیں کی اصطلاح اردو میں بقول مصنف وجودی تحریک کے بعد ابھر کر سامنے آئی۔وہ لکھتے ہیں کہ وجودیت کا فلسفہ تہذیبی انتشار اورذات کی شکست اور انسان کی داخلیت کے ارتقاء سے متعلق ہے۔ڈاکٹر ابو بکر رضوی کا خیال ہے کہ مغرب کے تخلیقی ادب میں مہملیت کے رجحان کی ابتدا ڈراموں سے ہوئی۔ مصنف نے سارتر، کامیو، جان راسل براؤن کے علاوہ اردو کے اہم ناقد لطف الرحمن تک کے نظریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مہملیت کی تعریف اور اس کی مختصر تاریخ بیان کی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں رسالہ ’شاہراہ‘ کا ناولٹ نمبر- ڈاکٹر نوشاد منظر )

زیرنظر کتاب کا دوسرا باب’’ مغربی ادب کے نمائندہ افسانہ نگاروں کے یہاں مہملیت کے رجحان کا جائزہ‘‘ہے۔ مصنف نے اس باب کا آغاز آندرے مالراکس کی مشہور کتاب Temptation of the westکے اس اقتباس سے کیا ہے، جس میں آندرے مالراکس کہتا ہے کہ یوروپی زندگی کا خوبصورت لمحہ حماقت اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ ڈاکٹر ابوبکررضوی کا خیال ہے کہ مالراکس کے دو ناول The Conquerors اور The Royal Way مہملیت کے بنیادی خیالوں پر مبنی ہیں اوراس میں واضح طور پر یہ اشارہ ملتا ہے کہ مہملیت محض یوروپ کی بیماری نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے نقصان دہ ہے۔ ملراکس کے نزدیک تخلیقات میں آرٹ بے حد اہم ہے،دراصل یہی آرٹ انسان کے داخلی کرب ،بے بسی اور زندگی کے بے ثباتی اور بے معنویت کے اظہار کا ذریعہ بنتا ہے۔دراصل مہملیت کا بنیاد گزار اور نظریہ ساز مغرب کا معروف مفکر البرٹ کامیو (Albert Camus)ہے۔ کامیو کے ناول The Stranger اور مضامین کے مجموعہ The Myth fo Sisypus کے منظرعام پر آنے کے بعد مغربی ادب میں کامیوکو ایک خاص مرتبہ حاصل ہوا۔ مذکورہ دونوں کتابوں کے ذریعہ بقول مصنف البرٹ کا میو نے فلسفہ بے معنویت کی ترویج واشاعت کی ہے۔ ڈاکٹر ابوبکر رضوی نے البرٹ کامیو کے علاوہ ژاں پال سارتر، جیمس جوائس،سیمویل بیکٹ کی تخلیقات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کم وبیش تمام مغربی فکشن نگار مہملیت سے متاثر ہی نہیں بلکہ اس کے بہترین شارح بھی ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں باقیات اختر الایمان: ایک جائزہ – ڈاکٹر نوشاد منظر)

زیرنظرکتاب ’’اردو افسانے میں مہملیت‘‘ کا تیسرا باب’’ 1960 کے بعد اردو افسانہ نگاری میں مہملیت کارجحان‘‘ ہے۔ڈاکٹر ابوبکررضوی نے مضمون کی ابتدا میں میر، غالب اور فانی وغیرہ کے چند اشعار درج کیے ہیں جن میں زندگی کی بے ثباتی کا اظہار ملتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ 1960 کے بعد کی شاعری زندگی کی بے معنویت ،موت کا خوف اور وجودیت کے مسائل سے بھری ہے۔ ان مثالوں کے بعد مصنف 1960 کے بعد تخلیق کیے گئے افسانوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مہملیت کا بیان شعوری طور پر جدیدیت کے زیر اثر تخلیق کیے گئے افسانوں میں ضرور نظر آتا ہے مگر غیرشعوری طور پر کرشن چندر، بیدی، منٹو، دیویندرستیارتھی، عزیز احمد جیسے ترقی پسند افسانہ نگاروں کے یہاں بھی اس کی جھلک مل جاتی ہے۔ ڈاکٹرابوبکررضوی کے مطابق قرۃ العین حیدر کے افسانوی مجموعہ ’’روشنی کی رفتار‘‘ اور انتظار حسین کی تین کہانیوں ’’وہ جو دیوار کو نہ چاٹ سکے‘‘، ’’رات‘‘ اور ’’دیوار‘‘ کوفلسفہ مہملیت کی عمدہ مثال بتایا ہے۔ مصنف نے 1960 کے بعد منظرعام پر آنے والے افسانوں میں فلسفہ مہملیت کے اثرات کی نشاندہی کرتے ہوئے انتظار حسین ، غیاث احمد گدی، سریندرپرکاش، بلراج کومل،کلام حیدری، جوگندرپال، رشید امجد، کمارپاشی، خالدہ حسین، قمراحسن، شرون کمار ورما اور شوکت حیات وغیرہ کی کہانیوں سے مثالیں پیش کی ہیں۔ جن کہانیوں کے اقتباسات ڈاکٹر ابوبکررضوی نے پیش کیے ہیں ان کی روشنی میں اندازہ ہوتا ہے کہ فلسفہ مہملیت کے اثرات اردو افسانہ نگاروں پر پوری طرح مرتب ہوئے ہیں بلکہ ایک دو اقتباس کے مطالعہ کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کہانیوں میں مہملیت ہی مرکز میں ہے۔ مگر مصنف نے باب کے آخر میں اس کی وضاحت کردی ہے کہ ان افسانوں میں صرف مہملیت ہی نہیں ہے۔ چونکہ ان کے مطالعہ کا محور ومرکز فلسفہ مہملیت کی نشاندہی کرنا تھا لہٰذا ان کے لیے اسی تناظر میں ان کہانیوں کا تجزیہ کرنا ناگزیر تھا۔
زیرتبصرہ کتاب کاچوتھا باب ’’اردو افسانہ نگاروں پر مغربی فکر کے اثرات‘‘ ہے۔ اس باب میں مصنف نے اردو کے ان اہم تخلیق کاروں اور ان کی تخلیقات کا ذکر کیا ہے جنہوں نے ہیگل، فرائیڈ، جیم ولیم، موپاساں، چیخوف اور کافکا وغیرہ جیسے معروف مغربی مصنفوں کے اثرات کو قبول کیا ہے۔ جن تخلیق کاروں کے نام مصنف نے درج کیے ہیں، ان میں انورعظیم (اجنبی فاصلے)، شرون کمار ورما (نازک ہے بہت کام)، اقبال مجید (ایک حلفیہ بیان)، بلراج کومل (تیسرا کتاب)، سلام بن رزاق (دوسرا قتل)، شفق (کانچ کا بازیگر) اور حسین الحق (آتم کتھا) قابل ذکر ہیں۔ بقول مصنف مذکورہ تخلیق کاروں نے مغربی افکار ونظریات کو اپنی تخلیقات میں سمونے کی ہرممکن کوشش کی ہے۔
کتاب کا آخری حصہ محاکمہ ہے جس میں مصنف مہملیت کے اثرات، ادب میں اس کی ضرورت اور مہملیت کے مستقبل پرگفتگو کی ہے۔ مصنف کا خیال ہے کہ مہملیت گرچہ مغرب کے لیے قصہ پارینہ بن چکاہے مگر یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو دنیا کے تمام ادبیات میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔
مجموعی طور پر یہ ایک عمدہ کتاب ہے۔ ڈاکٹر ابوبکر رضوی نے جس خوش اسلوبی کے ساتھ فلسفہ مہملیت کا تعارف، تاریخ اور مغربی ومشرقی ادب پر اس کے اثرات کو پیش کیا ہے، وہ قابل تعریف ہے۔ کتاب کی طباعت اچھی ہے۔ کتاب کا انتساب اردو ادب کے تین اہم ناقدین پروفیسر وہاب اشرفی، پروفیسر لطف الرحمن اور پروفیسر اسلم آزاد کے نام ہے۔ یقیناًیہ کتاب جدیدیت کے مختلف مسائل کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو گی۔کتاب کی قیمت مناسب ہے مگر بائنڈنگ بہت ناقص ہے

سنہ اشاعت : 2013،قیمت : 150/- روپئے۔ مطبع : ایجوکیشنل پبلی شنگ ہاؤس، دہلی

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

Leave a Comment