فنتاسی نفسیات کی ایک اصطلاح ہے جس کے لیے انگریزی میں لفظFantasy ا ستعمال ہوتا ہے اس کا تعلق انسانی متخیلہ سے ہوتا ہے یعنی تخلیق کار کے ذہن میں ایسی تخیلاتی دنیا آباد ہے جو انسانی عقل سے ماورا ہوتی ہے ۔ اس کے ذہن میں مختلف اشیا کی جیسے تشکیل ہوتی ہے وہ اس کو اپنے فن پارے میں ایسے ہی بیان کر دیتا ہے ۔تخلیق کار کے ذہن میں جنم لینے والا تخیل اجتماعی بھی ہو سکتا ہے اور انفرادی بھی ۔ جس کو وہ من و عن صٖفحہ قرطاس پر اتار دیتا ہے اس کے لیے وہ مافوق الفطرت عناصر مثلا جنات ، پریوں وغیرہ سے کہانی کا پلاٹ تشکیل کرتا ہے اور کہانی کی فضا طلسماتی ہو جاتی ہے ۔ مغرب میں فنتاسی ناول فکشن کی طویل تاریخ موجود ہے ۔ دیگر اصطلاحات کی طرح اردو فکشن نگاروں نے بھی یہ اصطلاح انگریزی سے مستعار لی اور جدید افسانہ نگاروں نے اپنے افسانوں میں فنتاسیہ تخیل کو بنیاد بنا کر افسانے رقم کیے ۔ جن پر تحقیق کا میدان ہنوز خالی تھی لیکن "لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی ” کی سکالر” عبیرہ احمد ” نے ” جدید اُردو افسانے میں فنتاسی ” کے عنوان سے ایم فل کا مقالہ رقم کر کے اس موضوع پر ایک اہم کتاب کا اضافہ کیا ہے ۔ 216 صفحات پر مشتمل کتاب کو ” کولاج پبلشرز لاہور نے شایع کیا ہے ،جس کا دیباچہ ڈاکٹر حمیرا ارشاد نے بعنوان” دریا بیچ سمندر ” تحریر کیا جبکہ فلیپ ڈاکٹر امجد طفیل کے قلم کا نتیجہ ہے ۔ مصنفہ نے کتاب کو چار ابواب میں منقسم کیا ہے ۔ باب اول میں افسانے کے آغا ز وارتقا ، تعریف، حدود وقیود اور جدید افسانے کے خدو خال کا تعین کیا ہے ۔دوسرے باب میں فنتاسی کے متعلق مختلف محققین اور ناقدین کی آرا کی روشنی میں نظری و فکری مباحث کا تعین کرنے کے بعد فنتاسی کے پیرا میٹر کی تفہیم کلی طور پر کرنے کے جتن کیے ہیں ۔مصنفہ کے نزدیک فنتاسی جہاں ادب میں دو طرح سے ظاہر ہوتی ہے وہیں وہ انسانی نفسیات کے ذریعے تخلیق کار کی لاشعوری کیفیت کا اظہار بھی کرتی ہے ۔ وہ لکھتی ہیں: (یہ بھی پڑھیں "اللہ میاں کا کارخانہ "سماج اور قدرت کا آئینہ خانہ – ڈاکٹر محمد کامران شہزاد )
"پہلی صورت میں تخلیق کار مافوق الفطرت عناصر کو اپنے خیالات اور اخلاقی تعلیمات کو سمجھانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ دوسری صورت میں بعید از عقل واقعات اور غیر امکانی کرداروں کے ذریعے تصورات کو پیش کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔فنتاسی اور نفسیات کے تعلق پر غور کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ فنتاسی کے ذریعے تخلیق کار ۔۔۔ارادی طور پر ایک ایسی دنیا تعمیر کرتا ہے ، جہاں وہ اپنی ناآسودہ خواہشات کو تکمیل پاتے ہوئے دیکھ سکتا ہے ۔ اس سے فنتاسی کی تشکیل میں ایک طرح مقصدیت کا عنصر بھی پیدا ہو جاتا ہے اور فنتاسی مصنف اور قاری دونوں کی تحلیل نفسی بھی کرتی ہے ۔”
کتاب کا تیسرا باب بعنوان ” جدید اردو افسانہ نگاروں کے ہاں فنتاسی ” ہے ۔چوں کہ یہ سندی تحقیق ہے اس لیے اس میں 1960ء سے لے کر بیسویں صدی کے آخری عشرے تک پندرہ افسانہ نگاروں کے 32 افسانوں میں سے فنتاسی کی مختلف صورتوں پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ مصنفہ نے اول ہر افسانہ نگار کے مختصر ادبی سفر پر روشنی ڈالی بعدازں ان کے چند اہم افسانوں میں فنتاسی کے متنوع اظہارات کو نہایت سادہ بیانیے میں رقم کرنے کے لیے کہیں کہیں افسانے کی کہانی کا سہارا بھی لیا ہے ، ان افسانہ نگاروں میں انتظار حسین ،انور سجاد، بلراج مین را، سریندر پرکاش ،خالدہ حسین ، محمد منشاءیاد ، رشید امجد ،اسد محمد خان ، نیر مسعود ،حسن منظر ، مظہر الاسلام ، ذکاء الرحمن ،سلیم آغا قزلباش ، عطیہ سید اور امجد طفیل شامل ہیں ۔ (یہ بھی پڑھیں "قیدی” میں قید بطور استعارہ – ڈاکٹر محمد کامران شہزاد )
مصنفہ نے باب چہارم بعنوان” فنتاسی کے حوالے سے مختلف جدید افسانہ نگاروں کا موازنہ ” میں محولا بالا افسانہ نگاروں کے ہاں فنتاسی کی متنوع صورتوں کا موازنہ پیش کیا ہے ۔اس کے لیے درج بالا عنوانات تجویز کیے ہیں ،جن میں مشرق کی صوفیانہ روایت ، اساطیر اور دیومالا ، مافوق الفطرت عناصر، موت اور محبت ، وجودی تنہائی ، تاریخی تناظر اور جنسی نفسیات وغیرہ شامل ہے ۔ان مختلف صورتوں سے مصنفہ اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ جدید افسانہ نگاروں کے ہاں فنتاسی موضوعات کی سطح اور اسلوبیاتی سطح پر نظر آتی ہے۔
مختصر یہ کہ یہ کتاب ایم ایس کی سطح کا سندی مقالہ ہے ، جس میں وقت کی قلت کے بحث عہد کی تجدید کر دی گئی لیکن اس کے باو جود اُردو افسانے میں فنتاسی جیسی مہبم اصطلاح کو سمجھنے کے لیے مستقبل کے سکا لر کے لیے کارآمد ثابت ہو گئی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

