Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

باصرسلطان کاظمی کی غزلیں [حصّہ دوم] – ڈاکٹر صفدر امام قادری

by adbimiras جون 26, 2021
by adbimiras جون 26, 2021 0 comment

اردو کے شعری مزاج میں تو سیع یا نئے رویوں کی شمولیت کے پہلو سے باصر سلطان کاظمی کی شاعری کا ایک خاص رنگ ہمیں مزید متوجہ کرتا ہے۔ انسانی زندگی اور بالخصوص شاعری میں رومانی کیفیات اور عاشقانہ واردات کے لیے پورا دفتر موجود رہتا ہے۔ کہتے ہیں کہ آدمی کے نازک تر جذبوں کی ترجمانی کے لیے شاعری سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے۔ ایسی کیفیت کی وجہ سے غالباً یہ صورت حال قائم ہوئی کہ نزاکت، نرمی اور ملائمیت کوہی شعر کا خاصا سمجھا گیا۔ بعض مضامین کو ادب باہر اس لیے بھی تسلیم کیا گیا کہ ان کا تعلق ان روایتی مضامین سے کم کم تھا۔ یوں توزندگی اور کائنات کو متقابل جفتوں (Binary Oppositions)میں دیکھنے کا عام طریقہ رہا ہے اور ہماری شاعری نے بھی اکثر و بیشتر زند گی کو اسی طرح پیش کیا۔ غم کے ساتھ خوشی، حیات کے ساتھ موت اور رات کے ساتھ دن پر کون شاعر اعتراض کرے گا اور کون سا ایسا شعری نمونہ ہوگا جس میں زندگی کے یہ متخالف رنگ موجود نہ ہوں مگر جیسے ہی ہماری شاعری کو چہ  عشق میں داخل ہوتی ہے، اس وقت اس کا متخالف جوڑا پیدا ہی نہیں ہوتا۔ رومان کے سامنے غیررومانی ا ندا زفکر یا کیفیت کاداخلہ ہماری شاعری کے لیے غالباً ممنوع ہے۔ ہمارے یہاں رومان کا تقابل سید ھے موت سے ہے۔ باصر سلطان کاظمی کو اردو سے دور معاشرے میں رہنے کی وجہ سے اور دوسری زبانوں کے علمی اور سماجی ماحول میں شیرو شکر ہونے کی وجہ سے زندگی کی یہ کیفیت سمجھ میں آگئی۔ (یہ بھی پڑھیں باصرسلطان کاظمی کی غزلیں [حصّہ اوّل] – ڈاکٹر صفدر امام قادری ) ان کی شاعری میں بار بار غیر رومانی طریقہ کار سے ہمارا واسطہ ہوتا ہے۔ زندگی اور محبت کے سلسلے سے یہ انداز پڑھنے والے کو نہ صرف یہ کہ استعجاب میں ڈالتا ہے بلکہ پڑھنے والے کو زیرِ لب مسکرانے پر بھی مجبور کر دیتا ہے۔ منطق کی سطح پر کبھی کبھی باصر ایسی باتیں پیش کردیتے ہیں کہ یہ سمجھنا دشوار ہو جاتا ہے کہ یہ شخص شعر و ادب کے کوچے میں آخر کیوں کرآیا؟ زندگی کی ایک غیرجذباتی لَے اس طرح سے شاعر کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے کہ ایک لحظے میں رومان کافور ہو جاتا ہے۔ کمال یہ ہے کہ غور کریں تومحسوس ہوتاہے کہ کس معقول انداز میں یہ باتیں پیش کی گئی ہیں۔ کثیر تہذیبی نئی معاشرت کے بالکل مختلف تجربات میں تپتے ہوئے آدمی میں ہی یہ کیفیت نظر آسکتی ہے۔ یگانہؔ کے غیر رومانی طریقہئ کار یا آتشؔ کے مردانہ آہنگ یا اینٹی غزل کے کھیل تماشے سے باصر کے اس سرمایہ شعر کا موازنہ کیجیے تو اندھیرے اور اجالے کا فرق واضح ہو جاتا ہے۔ باصر واقعتاً اردو غزل کی روایت میں ان نئے شعروں سے اپنے حصے کا اضافہ کررہے ہیں۔ اس سلسلے سے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

اتنی خوشبو تھی کہ سر دکھنے لگا

مجھ سے بیٹھا نہ گیا پھولوں میں

خون جلایا ساری رات

پائے مٹھی بھر آنسو

مجھ سے ہر بات کی توقع رکھ

آدمی ہوں، کوئی فرشتہ نہیں

باصر دلِ ضدّی کو تو سمجھانا ہے آخر

نرمی سے نہ مانے تو ذرا ڈانٹ ڈپٹ کر

تھے تیرے پاس قطعِ تعلق کے سو جَواز

ہم نے بھی ترکِ عشق کسی بات پر کیا

مختصر  ہیں  وصال  کی  گھڑیاں

اور لمبی خیال کی گھڑیاں

تم نے ہم کو کیا دیا او ر ہمسے تم کو کیا ملا

مل گئی فرصت کبھی تو یہ بھی کر لیں گے حساب

اٹھا جو یہ سوال کہ ثالث کسے بنائیں

میں نے کہا کہ دل سہی، اس نے کہا دماغ

موج میں آئے تو میٹھا بھی بہت ہے لیکن

طیش میں ہو تو مرا یا ر بہت زہری ہے

دردِ دل کا بھی کوئی ٹھیک نہیں

خود بہ خود کم زیادہ ہوتا ہے

قیس پر ظلم تو ہوا باصر

پھربھی ماتم زیادہ ہوتا ہے

میں بھی دنیا میں دل لگاتا ہوں

بھول جا تو بھی آج تک جو ہوا

آشنا درد سے ہونا تھا کسی طور ہمیں

تو نہ ملتا تو کسی اور سے بچھڑے ہوتے

اتنی جلدی نہ بنا راے مرے بارے میں

ہم نے ہمراہ ابھی وقت گزارا کم ہے

کھلتے ہی نہیں کسی صورت

وہ ہونٹ بھی سُرخ فیتے ہیں

یوں بھی کم تھی اس کے آنے کی امید

اب تو ویسے  بھی اندھیرا ہو گیا

اس بحث میں یہ بات روشن ہو گئی کہ باصر سلطان کاظمی نے اپنی شعری شخصیت کی تعمیرو تشکیل میں اپنی مہجریت اور نئی بودوباش کو بنیادی محرک کے طور پر استعمال کیا۔ اگر وطن سے دور نئے وطن میں بسنا ذہن کی تشکیل میں اس قدر اساسی اہمیت کا حامل ہے تو اس کیفیت کو بہ غور ان کے شعروں میں تلاش کرنا لازم معلوم ہوتا ہے۔ باصر کے یہاں یہ مضمون باربار الگ الگ انداز سے ہماری توجہ کھینچتا ہے۔ اس موضوع کے نئے نئے مفاہیم اور بیان کے مختلف زاویے ان کے ا شعارمیں نظر آتے ہیں۔ فکر کا پہلا پتھر’یادِ یارِ مہر باں‘ کے حوالے سے سمجھنا چاہیے کیوں کہ اپنے وطن سے دور مختصر یا طویل مدت تک رہنا زندگی کے جس امتحان سے عبارت ہے، وہ مسئلہ باصر کی شاعری میں ہر دور میں موضوعِ بحث رہا ہے۔ وطن سے دورجینے کی کوشش کرنا کس جذباتی پہچان میں ہمیں مبتلا کرتا ہے، باصر سلطان کاظمی کے یہاں اس کی جھلک اوّلاً اپنی اس روایتی شکل میں سامنے آتی ہے:

اوروں کی زمیں راس نہیں آئے گی

آرام ملے گا تمھیں اپنے ہی وطن میں

لاکھ آسائشیں پردیس مہیّا کردے

ہے غریب الوطنی پھر بھی غریب الوطنی

یہ شہر تمھارا مری بستی کے مقابل

اچھا ہے مگر صرف عمارات کی حد تک

اس اجنبی دیار میں ملتی نہیں شراب

کرنا ہے اب یہ رنج گوارا پیے بغیر

گھر میں آکر سکوں ملا باصر

کس قدر تیز تھی ہوا باہر

یہاں نہ جینے کا وہ لطف ہے نہ مرنے کا

کہا تھا کس نے کہ آکر رہو پرائی جگہ

باصر ان معاشرتی اور معاشی ہجرتوں کے چند اسباب پر بھی گفتگو کرتے ہیں۔ آخر کوئی اپنا گھر چھوڑ کر کیوں نکلنا چاہتا ہے۔ کیا صرف تو قعات اور کشادگی رزق کہی تنہا سبب ہے؟یا یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنے گھر کو رہنے اور جینے لائق ہی نہیں رہنے دیا؟ اس سوال پر باصر دو ردیس میں بس جانے کے بعد بھی غور و فکر کرتے رہتے ہیں اور اپنے صبر آزما نتائج سے ایسے پُر سوز انداز میں ہمیں باخبر کرتے ہیں: (یہ بھی پڑھیں مقدمۂ تنقیدچہ ومضمون چہ – مبین صدیقی )

کرتے نہ ہم جوا ہلِ وطن اپنا گھر خراب

ہوتے نہ یوں ہمارے جواں در بہ در خراب

شاید فلک ہی ٹوٹ پڑا تھا وگرنہ یوں

جاتا ہے چھوڑ کر کوئی اپنی زمیں کہیں

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ اشعار اپنی ہجرت کے اسباب کو زیرِبحث لاتے ہوئے باصر نے کہے ہیں۔ اس میں وہ انسانی سوز بھی ہے جس کے بغیر نہ مہجریت سجھی جا سکتی ہے اور نہ ہی کسی انسان کے درد کو محسوس کیا جا سکتا ہے  جسے کلیجے میں لیے ہوئے وہ شہروں شہروں کی خاک چھانتاہے۔ اس مرحلے میں جذبوں کی صورتیں اتنی ادلتی بدلتی ہیں کہ یہ ہجرت ہار اور جیت،کھونے اور پانے کی داخلی جنگ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ ذیل کے اشعار میں مہجریت کی ان مختلف شکلوں کو آپ ملا حظہ کیجیے اور یہ بھی دیکھیے کہ شاعر کے لیے کس طرح زندگی آزمائش میں تبدیل ہوتی چلی جاتی ہے:

ہم کہ جو ہر اَبر کو ابرِ کرم سمجھا کیے

آگئے اس دیس میں اور دھوپ کو ترسا کیے

اب آکے دیکھتے ہیں شجر ہیں وہ سایہ دار

جاتے ہوئے جو بیج یہاں بو گئے تھے ہم

وہ جس کی خاطر ہمارے آبا نے کی تھی ہجرت

میں اپنے شہروں میں اس مدینے کو ڈھونڈتا ہوں

اگرچہ نعمتیں حاصل ہیں دو جہاں کی انھیں

اداس رہتے ہیں یارب مرے وطن میں لوگ

فکرکی سطح پر مہجریت کو باصر نے اور مختلف رنگوں میں پہچاننے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے کے پچھلے اشعار میں بھی باصر کا سلجھاہو ا انداز خصوصی طور پر متوجہ کرتا ہے۔ جن سے شکایتیں ہیں، ا ن سے بھی تکلیف کے اظہار کے مرا حل میں ضبط کی دیواریں ٹوٹتی نہیں۔ شاید ا سی مزاج نے انھیں نئے معاشرے کو سمجھنے کے مواقع بھی دیے کیوں کہ اس عالمی گاؤں میں ہرآدمی جہاں چاہے بس سکتا ہے اور زندگی کے نئے ذرائع ڈھونڈ سکتاہے۔نئے معاشرے اور نئی زندگی کی تعمیر وتشکیل میں اس کا بھی کچھ حصہ ہے او ر وہ بھی اس میں خوش و خرم رہ سکتا ہے۔ اس کی صلاحیتیں اور اس کی خواہشات نئے مواقع پر اپنا وزن ووقار ثابت کرتی ہیں۔ اس سلسلے سے دو شعر ملاحظہ ہوں جہاں باصر نے مہجریت کے نئے معنوی پیکر واضح ہیں:

ہوجائیں نفس چند جو آکر کہیں آباد

سمجھو کہ وہیں پَڑ گئی اک شہر کی بنیاد

دل لگا لیتے ہیں اہلِ دل، وطن کوئی بھی ہو

پھول کو کھلنے سے مطلب ہے، چمن کوئی بھی ہو

باصر کا مذکورہ شعر (……چمن کوئی بھی ہو) اس اعتبار سے بھی تاریخی ہے کہ دنیا کے مشہور شعرا کے ساتھ بر طانیہ میں باصر کے اس شعر اور اس کے انگریزی ترجمے کو پتھر پر کندہ کر کے نصب کیا گیا ہے جسے ایک شہری کی حیثیت سے بڑا اعزاز تصور کرنا چاہیے۔

مہجریت کے طفیل ہمارے تصورِ شعراور تصورِ حیات میں کس کس انداز کی تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں، اسے بہ غور دیکھنا ضروری ہے۔ ہجرت اور اس کے مسائل اردو شعر و ادب میں طویل مدت سے زیرِ بحث ہیں۔ میر نے دلی سے لکھنئو پہنچنے کی کیفیت پر بہت سارے شعر کہے۔تقسیم ملک نے ہمیں وہ بڑا  سر مایۂ ادب فراہم کیا جس میں ہجرت کی المناکی اور ہماری سانس اور دھڑ کنوں کو بھی ادب کا حصّہ بننے کے مواقع حاصل ہوئے۔ باصر کے یہاں ہجرت کی مختلف شکلیں اور جذباتی کیفیتیں موجود ہیں مگرانھوں نے سادگیِ اظہار کو بنیاد بنا کر ایک ایسا شعر کہہ دیا جسے شاید مضمون کی سطح پر ہم اپنی زبان میں اضافہ کہنے کے لیے مجبور ہوں۔اس شعر کا ایک مصرعہ تو کتاب کا عنوان بن چکا ہے مگر یہ کون سوچ سکتا ہے کہ نئے ملکوں اور نئی آبادیوں میں جیتے ہو ئے انسان کواب ایسی آزمائشوں میں بھی مبتلا ہو نا پڑے گا۔اختر شیرانی دور دیس سے آنے والے مسافر سے اپنے محبو ب کے بارے میں تو نہیں پوچھتے مگر وہاں کی ہواؤں، ندی، نالے اور زندگی کو دوسرے حوالوں سے ڈھونڈنا چاہتے ہیں۔باصر اب زندگی کا نیا ذائقہ پا رہے ہیں۔ ہجرت نے صرف مسافت کا عذاب نہیں دیا۔شاعر کو اپنے محبوب سے وارفتگی میں بات تو کرنی ہے مگر اسے فون ملاتے ہو ئے یہ یاد آجاتا ہے کہ اس کے ملک اور محبوب کے ملک کے درمیان وقت کا فاصلہ کچھ اتنا بڑھ گیا ہے کہ جب آپ نے بات کرنے کا سوچا،اسی وقت یاد آیاکہ شاید یہ ممکن نہیں کہ محبوب اس وقت بیدار ہو۔اس لیے عاشق کو یہ منصوبہ بنانا ہو تا ہے کہ اب اسے اگلے روز فون کریں گے اور بات ہوگی۔مہجریت کا یہ نیا موضوع سمجھتا کون نہیں ہے مگر اردو شاعری میں اسے صرف باصر سلطان کاظمی نے ہمارے لیے قلم بند کیا۔کیا خدالگتی یہاں شاعر کی زبان سے ادا ہو گئی ہے:

اب انھیں فون کل کریں گے ہم

اب وہاں رات ہو گئی ہو گی

ناصر کاظمی کے تعلق سے باصر سلطان کاظمی نے اپنے اشعار اور نثر میں بار بار تاثرات پیش کیے ہیں۔ اپنے والد سے علمی اور ادبی طور پر باصر کا رشتہ مستحکم طور پر نظر آتا ہے۔ یہ سچائی بھی ہے کہ باصر نے اپنا شعری سفر اپنے والد کی نگرانی میں ہی شروع کیا مگر ناصر کی ناگہانی موت نے علمی رفاقت کے انھیں زیادہ مواقع عطا نہیں کیے۔ بعد میں ناصر کے باقی ماندہ کلام کی ترتیب و تدوین اور ان کی کتابوں کی اشاعت کا ایک طویل سلسلہ رہا جس کے سہارے باصر نے والد کی غائبانہ رفاقت اور نگرانی سے اکتسابِ فن کیا۔ اس لیے ان کے اشعار میں بار بار ناصر کا تذکرہ ملتا ہے اور اس بات کا کھلا اقرار نظر آتا ہے کہ وہ ناصر کے مدرسے کے فیض یافتہ ہیں۔ اس سلسلے سے باصر سلطان کاظمی کے چند اشعار ملاحظہ کریں:

اپنی کوشش تو ہوتی ہے اچھے شعر سنائیں

ورنہ چل جاتا ہے ناصرؔ، تیرے نام سے کام

مرے سخن میں سخن بولتا ہے ناصر کا

مجھے بھی پائیں گے ہر محفلِ سخن میں لوگ

فیض پایا ہے کئی چشموں سے یوں تو باصر

مدرسہ میرا ہے ناصر کا دبستانِ غزل

شاعری میں آج بھی ملتا ہے ناصر کا نشاں

ڈھونڈتے ہیں ہم اسے، بزمِ سخن کوئی بھی ہو

مگر آج باصر کاظمی کی مشقِ سخن پانچ دہائیوں کو محیط ہے۔ انھوں نے صرف والد کی شاعری کی رہنمائی میں خود کو آگے نہیں بڑھایا بلکہ علم و ادب کے جتنے ذرایع ہوسکتے تھے، وہ سب  ان کے پیشِ نظر رہے۔ درس و تدریس سے تعلق نے مغربی اور مشرقی علوم کی سیر کے مواقع عطا کیے۔ ان کے مجموعوں میں اساتذہ کی زمینوں میں غزلیں ان کی روایتِ شعر سے آشنائی کے واضح مظہر ہیں اور اس سے یہ بھی ثبوت ملتا ہے کہ وہ قدم در قدم سیکھتے ہوئے آگے بڑھنے کے عمل سے آگاہ ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو جو اعتماد اور کھراپن ان کے اشعار میں نظر آتا ہے، وہ موجود نہیں ہوتا۔ قدرتِ کلام نے ہی انھیں سادگیِ بیان میں ہنر پیوست کرنے کا مادہ عطا کیا۔ ان کے اس اعتماد کو چند شعروں میں دیکھا جاسکتا ہے:

ہوتے ہیں لغت میں پتھّر لفظ

ہیرا انھیں ہم بناتے ہیں

شاعری پر گمان جادو کا

کیا عجب ہے اگر کسی کو ہوا

خدا کا شکر کہ پستی نہ ہم کو کھینچ سکی

ہمیں بلندیِ معیار نے ہلاک کیا

چاہتے ہو اگر ہنر پورا

اس میں لگ جائے گا جگر پورا

باصر کے تخلیقی عمل کو ان کے شعری بیانات کے حوالے سے پہچاننے کی کوشش کریں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے لیے الگ دنیا پہچاننے کے عمل میں کوشاں ہیں۔ اپنے لیے الگ زبان اور مختلف فکر پیدا کرنا کسی بھی دور کے فن کار کے لیے ہرگز آسان نہیں ہوسکتا۔ یہ مشکل راستہ ہزار پیچیدگیوں سے بھرا ہے اور ہر قدم پر شاعر کو امتحان در امتحان کی منزلوں کا سفر درپیش ہے۔ باصراس کے  خطروں سے بھی واقف ہیں اوراسی لیے نئے راستوں کے متلاشی بھی ہیں۔ مشکل نشانہ اور اپنی تخلیقی صلاحیت پر اعتماد نے انھیں جو سکھایا، اس کے نتائج ذیل کے اشعار میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان کی تنقیدی نگاہ اور تخلیقی ابال میں کس طرح داخلی طور پر ہر وقت ایک رَن پڑتا رہتا ہے، اسے ان کے اشعار میں آپ ملاحظہ کریں:

ہر چند رہ گذر تھی دشوار قافیے کی

سن کر نہ رہ سکے ہم للکار قافیے کی

رہ رہ کے یاد آتی ہے استاد کی یہ بات

کرتی ہے آرزوے کمالِ ہنر خراب

کسی کو مار گیا اس کا کم سخن ہونا

کسی کو کثرتِ اشعار نے ہلاک کیا

دشتِ خیال میں پھر کیا کیا کھُلے مناظر

کچھ دیرکو ہٹی تھی دیوار قافیے کی

ہیں شعر نئے سو کھردرے ہیں

درکار ہے خواندگی کا رَندا

باصر سلطان کاظمی کے غزلیہ اشعار میں ان کی ذہانت کا مظاہرہ قوتِ مشاہدہ کے باب میں خاص طور پر نظر آتاہے۔ تجربات کی بھٹی میں کون ہے جو پِس نہیں رہا ہے۔ کوئی جھلس رہا ہے لیکن لاکھوں میں ایک جل کر کندن ہوتا ہے۔ ایک آنکھ ہمیں سامنے کے مظاہر پر ٹکا دیتی ہے مگر کوئی دیکھنے والی نظر ایسی بھی ہوتی ہے جو دیوار کے ساتھ پسِ دیوار کے واقعات بھی دیکھنے کا مادہ رکھتی ہو۔ تجربات اور مشاہدے کی دولت سے فیض یاب ہوکر انسان وہ دیکھ لیتا ہے جو دوسروں کو نظر نہیں آسکتا۔ جو ہوا نہیں، اس کا انداز کرلیتا ہے اور باریکی سے چیزوں کو اس گہرائی سے دیکھتا ہے کہ اس کے وہ مفاہیم اسے سمجھ میں آجاتے ہیں جو ہزاروں آنکھوں کو اور ذہن و دل کو سمجھ میں نہ آ سکیں۔ فکر کی سطح پر یہیں شعر جذبات کی ان لہروں پر تیرنے لگتے ہیں جہاں بہت کم لوگ پہنچ سکتے ہیں اور حقیقتاً وہاں جبریل کے پَر جلتے ہیں۔ باصر سلطان کاظمی کے مجموعوں میں ان کی تیز قوتِ مشاہدہ اور حد درجہ گہرے تجزیے کو دیکھنا ہمیں ایک بہترین ادبی نتیجے تک ہمیں پہنچاتا ہے۔ ایسے کچھ شعر ملاحظہ کریں جو  ان کی شاعری  میں ادھر ادھر نظر آتے ہیں:

ایسی چلی دم سحر، شام تلک کیا نہال

بادِ صبا سے تھی بہت موجِ خیال مختلف

کالے بادل حائل ہوجاتے ہیں ورنہ دھوپ مری

سورج سے تو آجاتی ہے لیکن چھت پہ نہیں ملتی

سورج کا یہ رنگ نہ تھا جو وقتِ شام ہوا ہے

دیکھو کیسا سرکش گھوڑا کیسا رام ہوا ہے

کھلاڑی مجھ سے بہتر بیسیوں پیدا ہوئے

مگر شطرنج سے جو عشق مجھ کو ہے، کسے تھا

آسماں کا تھا شب عجب احوال

چاند کہتا تھا کچھ، ستارا کچھ

خاک میں کچھ کشش تو تھی ورنہ

پھول کیوں شاخ سے جدا ہوتا

عادتیں اور حاجتیں باصر بدلتی ہیں کہاں

رقص بِن رہتا نہیں طاؤس، بن کوئی بھی ہو

قوتِ مشاہدہ کے بغیر کوئی شاعر لفظوں کی نئی دنیا پیدا نہیں کرسکتا۔ شاعروں کو مذہب پسندوں اور مفکروں نے کبھی نشانہ طنز بنا یاتو یہ بھی کہا کہ یہ جادو گر ہیں۔ سامنے کے لفظوں میں شاعر خیال کی ایک ایسی کہانی شروع کردیتا ہے جو نہ ہماری کہی ہوئی ہوتی ہے اور نہ سنی ہوئی ہوتی ہے۔ جسے ہم روز دیکھتے رہتے ہیں، اس میں کوئی شاعر ایسے نئے معنیٰ پیوست کردے گا کہ آپ عش عش کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ فکر و خیال کی یہ نئی کائنات باصر کاظمی نے کچھ ایسے دل لگا کر تلاش کی ہے یا جہاں تہاں بنائی ہے کہ ہم حیرت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ کہیں کہیں مشہور کلاسیکی مضمون ہے مگر شاعر اچانک ایسا نیا مفہوم گڑھ لیتا ہے جس سے ساری باتیں نئی ہوجاتی ہیں۔ تجربات اور مشاہدات پر خیال کی نادر اور انوکھی بنیادیں کیسے رکھی جاتی ہیں، اس کے لیے ایک نظر میں چند شعر ملاحظہ کیجیے جہاں مضمون آفرینی اور سحرالبیانی نقطہ عروج پر ہے:

ایسی چلی دمِ سحر شام تلک کیا نہال

بادِ صبا سے تھی بہت موجِ خیال مختلف

اس قدر ہجر میں کی نجم شماری ہم نے

جان لیتے ہیں کہاں کوئی ستارا کم ہے

باصر یہ آدمی بھی ہے کتنی عجیب چیز

اتنے سے اس کے سر میں ہے کتنا بڑا دماغ

ایک سورج کے لیے یہ کہکشاں در کہکشاں

اک زمیں کے واسطے سو آسماں پیدا کیے

ہو عنایت مجھے وہ تیز تخیل یارب

جس سے زندان کی دیوار میں روزن بن جائے

اتنا تڑپی ہے یہ مے خواروں کی محرومی پر

مَے نہیں آج ٹپکتا ہے رگِ تاک سے خون

ہمارے جرم آپ اپنی سزا ہیں

اضافی ہے سزا روزِ جزا کی

نئے خیال، نئے نئے لفظ اور تصورات کی طرف جب لپک ہوگی تو اپنے آپ نئے منظریے خلق ہوں گے۔ باصر سلطان کاظمی کے یہاں منظروں پر کوئی خاص توجہ یوں تو نظر نہیں آتی مگر ناصر کاظمی کی آغوشِ تربیت کا پلا بڑھا یہ شاعر اپنی رگوں میں وہی خون رکھتا ہے جہاں انجانے اور انوکھے منظر خلق کرنے کی مہارت موجود تھی۔ ’یہاں اداسی بال کھولے سو رہی ہے‘ جیسا تشخص تو نہیں مگر بولتے چالتے مناظر کچھ اس طرح ہمارے سامنے آتے ہیں جہاں سب کچھ متحرک رہتا ہے۔ باصر Abstract   کی تفصیل میں زیادہ نہیں جاتے مگر بیان میں کوئی ایسی منطق یا کیفیت ضرور شامل کردیتے ہیں جہاں آدمی چونک جائے اور یہ کہنے پر مجبور ہوجائے کہ یہ بات پہلی بار ہمارے سامنے آرہی ہے۔ یہاں مناظرِ فطرت اور مظاہرِ قدرت کی شناخت اور ان کا زندگی نامہ کچھ اس انداز سے مرتب ہوا ہے کہ باصر کاظمی کی ریاضت اور ذہن کی درّاکی کے ثبوت اپنے آپ ملنے لگتے ہیں۔ ذیل کے اشعار اس کے لیے ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں:

چاندنی چھوڑ گئی تھی خوشبو

دھوپ نے رنگ بھرا پھولوں میں

افق کی آنکھ میں پھیلی ہوئی ہے لالی سی

یہ آسمان کہاں ساری رات جاگا ہے

بُلا رہا ہے وہ خوابوں کے چاند سے مجھ کو

رداے تیرگی ہٹ‘سامنے سے رستا دے

غم برگد کا گھنا درخت

خوشیاں ننھے ننھے پھول

پھر آج زمین کے ستارے

مہمان ہو ئے ہیں چاندنی کے

تو اور آئنے میں ترا عکس رو برو

نظارہ ایک وقت میں خورشید و ماہ کا

پھول خوشبو سے بھر گئے باصر

چاند چمکا ہے رات بھر پورا

گزر نسیمِ سحر اِس چمن سے آہستہ

کہ پتّا پتّا بہاروں  کے دل کا ٹکڑا ہے

 

 

Dr. Safdar Imam Quadri

Department of Urdu,

College of Commerce, Arts & Science, Patna: 800020, Bihar India

Email: safdarimamquadri@gmail.com

Mob: +91 -9430466321

 

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

باصر سلطانصفدر امام قادری
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ادب کی ماحولیاتی شعریات اور اردو افسانہ 2 –  ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی
اگلی پوسٹ
نقد غزل اور ابوالکلام قاسمی – پروفیسر کوثر مظہری

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,048)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (406)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (217)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں