عمر پوچھنا – ایس معشوق احمد

by adbimiras
0 comment

دنیا میں بہت سارے سوالات ایسے ہیں جن کا کبھی صحیح جواب نہ آیا۔مسئلہ کشمیر کا مستقبل میں کیا حل نکل آئے گا اور اس عورت سے جس کو سجنے سنورنے اور تاحیات جوان رہنے کا شوق ہو کی عمر پوچھنا جیسے سوالات اسی زمرے میں آتے ہیں۔سب سے  بڑی بے ادبی یہ ہے کہ کسی جوان اور خوبصورت عورت سے اس کی عمر پوچھنا۔ہاں اگر سوال کرنے والا بھی خوبصورت ہو تب وہ برا نہیں مانتی۔ تب اس کا موقف ہوتا ہے کہ __

ہونٹ اچھے ہوں تو سمجھ کہ سوال اچھا ہے

اور وہ پررونق  باتوں باتوں میں ایک دو سال گول کرکے اس سوال کا جواب دیتی ہے تاکہ سوال کرنے والے کو یقین اور اطمینان ہو جائے کہ ابھی  نشیب نہیں آیا ہے جوبن کے بسنت رت کا۔

بعض شوخ اور چنچل  لڑکیوں سے بات کرنے کو دل مچل جائے تو بات شروع کرنے کی غرض سے ان سے بھی یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آپ کی عمر کتنی ہے اور پھر یہ حالت ہو جاتی ہے کہ__

سوال کرکے میں خود ہی بہت پشیمان ہوں
جواب دے کے مجھے اور شرمسار نہ کر

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ سوال جب کسی سیم تن ، گل بدن سے کیا جاتا ہے تو وہ خاموش رہتی ہے ۔حیرانی اور پریشانی سے جب وہ سوال کرنے والے کو تکتی ہے تو سوال کرنے والا فخر محسوس کرتا ہے کہ __

اس سے بہتر جواب کیا ہوگا
کھو گیا وہ میرے سوالوں میں

یہ حقیقت ہے کہ خوبصورت مرد ہو یا عورت اپنی خوبصورتی  اور دلکشی کا اسے فائدہ ضرور ہوتا ہے۔بعض تو اپنی خوبصورتی سے بادشاہ وقت کے منظور نظر ہوجاتے ہیں لیکن بعض خوبصورت لوگوں کا ماضی بڑا بد صورت ہوتا ہے۔جب ان سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آپ کی عمر کتنی ہے تو وہ ماضی کے جھرونکوں سے جھانک کر وہ اذیت ناک لمحے یاد کر لیتے ہیں جو انہوں نے بڑی کرب ناک اور اذیت سوز حالت میں گزارے ہوتے ہیں۔ آنکھوں میں اشک لیے اس سوال کا جواب وہ اتنا ہی دے پاتے ہیں کہ__
کوئی سوال نہ کر کوئی جواب نہ پوچھ
تو مجھ سے عہد گذشتہ کا حساب نہ پوچھ

اس سوال سے عورتوں کو ہی کوفت نہیں ہوتی بلکہ بعض مرد۔ بھی اپنی صحیح عمر بتانے سے نہ صرف کتراتے ہیں بلکہ گھبراتے ہیں۔ بعض خوش اخلاق ایسے بھی ہیں جو اس سوال کو ہنسی میں ٹال دیتے ہیں اور بعض اس سوال پر تند مزاجی اور چڑچڑاہٹ کا اظہار کرتے ہیں۔یہ حقیقت مجھ پر کبھی واضح نہ ہوئی کہ لوگ اس سوال سے برہم کیوں ہو جاتے ہیں حالانکہ چند بدتمیز دوست ، کچھ بے خبر  رفیق اور ایسے بدنیت انسان بھی موجود ہیں جنہوں نے یہ سوال مجھ سے بھی بارہا کیا۔ مجھے مستورات کی طرح اپنی صحیح عمر بتانے میں اعتراض نہیں اور نہ ہی مجھے اس سوال سے کشش قلبی ہوتی ہے لیکن جب بھی مجھ سے کوئی عمر پوچھتا ہے تو میں سالوں کے کے بجائے دنوں میں بتاتا ہوں جیسے کہ میری عمر ” نو ہزار آٹھ سو ساٹھ دن ” ہیں۔عمر پوچھنے والے کے  چہرہ پر پریشانی اور پشیمانی کے آثار دیکھ کر میں سمجھ جاتا ہوں کہ میری طرح یہ بھی حساب میں کورا ہے۔بچارا حیران اور حرماں واپس لوٹ جاتا ہے۔اگلی ملاقات میں اس کی خوشی دیکھنے لائق ہوتی ہے جب وہ حساب کرکے ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ لیے  سلام علیک  کے بعد  وہاں سے ہی بتاتا ہے کہ اچھا تو آپ کی عمر ستائیس سال ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں ‘‘آخری سردار’’ :ایک علامتی اور استعاراتی افسانہ : ڈاکٹر زاہد ندیم احسن )

یوں تو سوال کرنا ہوشیار، ذہین اور خردمند ہونے کی دلیل ہے ۔انسان چونکہ سوچتا سمجھتا ہے ،غور وفکر کرتا ہے اس لیے سوالات پوچھتا ہے ۔کبھی خود سے ، کبھی اپنی ذات سے، تو کبھی کائنات اور  دنیا کے معاملات سے۔ سوال دبی بغاوت اور شک و شبہات کا دوسرا نام ہے۔یہ بغاوت کی چنگاری  اور شک و شبہ میں مبتلا ہونے کا جنوں  ہمیں قدیم عمارات اور ہزاروں لاکھوں سال پرانی چیزوں کو دیکھ کر نہیں ہوتا بلکہ اس وقت یہ شعلے بھڑک اٹھتے ہیں جب ہم کسی خوبصورت خاتون اور بد سیرت مرد کو دیکھتے ہیں۔ مرزا کہتے ہیں کہ خوبصورت خاتون اور بدمعاش مرد ایک جیسے ہوتے ہیں کہ دونوں میں یہ بات مشترکہ ہے کہ دونوں جلد بوڑھے نہیں ہوتے۔ دنیا میں اور بھی تو  ہزاروں مسائل اور لاکھوں  معاملات ہیں جن پر ہم نے لب نہ کھولیں اور سوالات نہ کیں لیکن جب ہماری نظر عورت پر پڑتی ہے تو فورا دل مچل جاتا ہے اور  ذہن بیدار ہوکر  اس سے عمر پوچھنا کی ضد کرتا ہے۔مشہور یہ ہے کہ عورتیں اپنی صحیح عمر کبھی نہیں بتاتی لیکن تجربہ یہ ہے کہ  عورتیں ہی اپنی عمر نہیں چھپاتی بلکہ شاعر اور عمر رسیدہ شخص   بھی  کبھی اپنی صحیح عمر نہیں بتاتے۔جب بھی کسی شاعر سے یہ  سوال پوچھا گیا کہ آپ کی عمر کتنی ہے  گول مول کرکے جوابا یہی کہتا کہ __
عمریں دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آزرو میں کٹے گئے دو انتظار میں

عمر رسیدہ شخص  تو اس سے بھی آگے بڑھ کر اس سوال کا جواب دیتے ہیں، خاص کر وہ جو صحت مند اور پیری میں بھی تندرست ہوں۔ پہلے تو وہ یاداشت کا بہانہ بنا کر اس سوال کو ٹال دیتے ہیں۔ جب سوال پوچھنے والا شک بھری نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کو لگتا ہے کہ عمر نوح کے برابر اس کی عمر ہو سکتی ہے تو خود ہی دس بیس سال گھٹا کر  خود کو تسلی دیتے ہیں کہ
ابھی تو میں جوان ہوں

ایسے بھی اس دنیا میں شاطر اور چالاک لوگ ہیں، جب ان سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آپ کی عمر کتنی ہے تو تو وہ یہ سوال کسی بزرگ کے حوالے بڑی چالاکی سے کرتے ہیں۔ان کو بزرگ کی خراب  یاداشت کا گمان نہیں بلکہ یقین ہوتا ہے۔جب بزرگ کے منہ سے ان کے معتلق  یہ کلمہ خیر نکلتا ہے کہ ابھی ان کی عمر ہی کیا ہے، ابھی تو یہ بچے ہیں تو وہ فرط جذبات اور خوشی سے بزرگ کو یہ کہتے سنے گئے کہ_ عمرت دراز باد فراموش گارمن۔

کسی کی عمر پوچھنا برا نہیں ۔ہمیں پورا حق حاصل ہے کہ ہم اپنے قدیم اور یادگار چیزوں کے بارے میں دریافت کر سکیں۔قدیم عمارات ہوں ،کھنڈارت ہوں یا عورتیں ان کی عمروں کو جاننے کے حقوق  ہم نے  محفوظ رکھے ہیں۔ عمارات اور کھنڈارت سے  اس سوال کا جواب ممکن نہیں اس لیے یہ سوال عورتوں سے ہی کرنا مناسب لگتا ہے۔ ان سے یہ سوال کرنا کہ محترمہ تمہاری عمر کتنی ہے ہمارا محبوب   قومی مشغلہ بن گیا ہے۔ ہاں  ایسا سوال کرنا   اس وقت نامناسب اور نازیبہ لگتا ہے جب کسی کی شادی ہونے والی ہو اور عین اسی وقت دلہے یا دلہن سے کوئی سوال کرے کہ تمہاری عمر کتنی ہے۔اپنی اصل عمر سے چند سال گھٹانے کے باوجود   اس سوال  سے شادی ہوتے ہوتے رہ جائے کہ دلہن یا دلہا بڑی عمر کا ہے تو بڑا دکھ اور قلق ان گھر والوں کو ہوتا ہے۔دکھ شادی ٹوٹنے کا نہیں ہوتا بلکہ وہ  سارے انتظامات ضائع ہونے اور خواب ادھورے رہنے کا ہوتا ہے جو انہوں نے شادی کے لیے دیکھے اور سوچے تھے۔شادی سے قبل اگرچہ ہم جھوٹ بولنا اپنا فرض جانتے ہیں لیکن جب عین شادی کے وقت غلط عمر بتانے  اور دس بارہ سال   گھٹانے کے باوجود شادی ٹوٹ جائے تو بڑا دکھ ہوتا ہے۔مرزا کہتے ہیں کہ دکھ شادی کے ٹوٹنے کا نہیں ہوتا   بلکہ  پچھتاوا اس بات کا ہوتا ہے  کہ ہزار  جھوٹ بھی کسی کام نہ آئے۔ (یہ بھی پڑھیں گالی-ایس معشوق احمد )

جھوٹ بولنا گناہ ہے لیکن یہ ثواب کے برابر تب ہو جاتا ہے جب اس کے سہارے سے  چالیس سال کی عورت  تیس کی ہوجاتی  ہے اور پچاس سال کا مرد چالیس کا ہوجاتا ہے۔مرزا کہتے ہیں کہ عمر کو چھپانا نہیں چاہیے کیونکہ چہرے سے عیاں ہوتا ہے کہ اب  عمارات کو کھنڈر بننے میں  اور کتنا وقت لگے گا۔کوئی ایسا سوال نہیں کرنا چاہیے جس سے کسی کی دل آزاری ہو  اور جواب دینے میں  بے قراری محسوس ہو۔ کسی کے جذبات مجروح کرنا اور دل دکھانا گناہ ہے اور یہ جرم کی صورت تب اختیار کر جاتا ہے جب کسی سے عمر پوچھی جاتی ہے

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

You may also like

Leave a Comment