‘‘آخری سردار’’ :ایک علامتی اور استعاراتی افسانہ : ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

by adbimiras
0 comment

معاصر افسانوی منظر نامے پر جو افسانہ نگار اپنی تخلیقی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ان میں ایک نام ابو بکر عباد کا بھی ہے۔ابو بکر عباد نے متعدد افسانے تخلیق کیے، جو مختلف رسائل اور جرائد میں چھپ کر منظر عام پر آچکے ہیں۔ ان افسانوں میں ”دوست سے ہو دشمنی“،”کون سی الجھن کو سلجھاتے ہم“،”ہاتھ میں لیکر سرخ نشان“،”پربھو“، ”خدا کی بستی“ اور ”آخر ی سردار“کئی معنوں میں اہمیت رکھتے ہیں۔ میرے مطمح نظر  ان کا افسانہ ”آخری سردار“ہے اس افسانے کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ابو بکر عباد سیاسی اور سماجی مسائل کو استعاراتی اور علامتی انداز میں پیش کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ (افسانہ پڑھیں آخری سردار – ابو بکر عباد)

جب کوئی افسانہ نگار کوئی افسانہ تخلیق کرتا ہے تو اس کے افکار وتجربات کی روشنی میں بہت سی سماجی، سیاسی  اور اقتصادی پیچیدگیاں ہمارے سامنے نمایاں ہوتی ہیں۔ ’آخری سردار‘ بھی ابو بکرکا ایسا ہی افسانہ ہے جو سماج میں پھیلی ہوئی کچھ مثبت اور منفی پہلو ؤں کو ابھارنے کی کوشش کرتا ہے۔اور جسے پیش کرنے لئے انہوں نے استعارہ کا سہارالیا ہے جو افسانے میں بھیڑیے کے کردار میں ہمیں نظرآ تا ہے۔ بھیڑیا ایک ایسی علامت ہے جو مختلف ملک اور سماج میں مختلف شکل و صورت میں ابھر کر ہمارے سامنے آتا ہے۔ یوریشیا اور شمالی امریکہ میں اس کی پہچان اساطیراور Cosmologiesکی ہے۔یوں تو اس کی واضح خصوصیت ایک شکاری کی ہے اور اسے تباہی اور خطرے کی علامت تصور کیا جاتا ہے، مگر اسے کہیں جنگجو کی علامت کے طور پر اور کہیں شیطان تصور کرتے ہیں۔ بھیڑیا شمالی امریکہ اور یورشیا کے خانہ بدوشوں میں مذہبی اور تہذیبی اعتبار سے بھی کافی اہمیت رکھتا ہے۔ اسے یہاں کل دیوتا بھی تصور کیا جاتا ہے اور یہ بھی تصور ہے کہ اس کے اندر کسی اپنے کی موت کے بعد اس کی روح حلول کر گئی ہے یعنی  Totemکے طور پر بھی اسے اپنایا گیا ہے۔ بہت سی جگہ جادو ٹونا کی نشانی کے طور پر بھی لیا جاتا ہے۔ Norse لوک کہانی میں ولوا  (volva)) Hyndlaاور ہائروکن Hyrrokin  ڈائن کو بھیڑیا تصور کرتے تھے اس کے برعکس نواجو (Navajo)تہذیب میں بھیڑیا کو ڈائن کی شکل میں دیکھا جاتا ہے۔اور بہت سی تہذیب میں بھیڑیا سے رشتہ دماغی بیماری اور موت کی علامت ہے۔ بیبیلون کی پرانی کہانی میں اس کا رشتہ دیوی عشتاراسے ہے۔قدیم گریک اساطیر میں بھیڑیا کو اپالو سے منسلک کیا گیا ہے۔ رومن اساطیر میں بھیڑیا کو مارس دیوتا سے منسلک کیا جاتا ہے جو کہ جنگ اور زراعت کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ عسائی  مذہب میں بھیڑیا لالچ اور مہلک پن اور تباہی کے استعارے کے طور پر لیا جاتا ہے۔ ہندستانی تہذیب میں دیکھا جائے تو اس کی پہچان ایک خطرناک  اور شاطرجانور کے طور پرہے۔ ایرانی تہذب میں بھی اس کا کچھ یہی تصور ہے۔اویسٹا(Avesta)کے مطابق جو کہ  پارسی(Zoroastrain)کی کتاب ہے بھیڑیا کو تاریکی اور خطرے کی علامت تصور کرتے ہین جو کہ وہاں ارہمن کی قبیح شکل سمجھا جاتا ہے۔(یہ بھی پڑھیں نفسیاتی فکرو فلسفہ کا نمائندہ افسانہ”انوکھی مسکراہٹ“ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن )

اس طرح مذکورہ بالا باتوں سے ہمیں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عام طور پر بھیڑیا کی خصوصیت تباہی مہلک پن عیاری اور لالچ کی ہے۔ اور افسانہ پڑھنے کے بعد ہمیں یہی خیال آتا ہے کے ابو بکر عباد نے بھیڑیے کے استعارہ کا استعمال اسی معنی اور مفہوم میں لیا ہے جو کہ زیادہ تر تہذیب اور سماج میں پایا جاتا ہے۔

اس افسانے کو پڑھنے کے بعدیہ سوال اٹھتا ہے کہ اکیسویں صدی میں اس طرح کی استعاراتی کہانیاں لوگوں کے لئے کیا معنی رکھتی ہیں۔ مگر ہمیں استعارہ یا علامت کے بارے میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ اپنے اندر حقیقت سے زیادہ معنی رکھتی ہیں۔یہ بات بھی ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ استعارے کا استعمال ایک متحرک عمل ہے جو ہمیں اس اہل بناتا ہے کہ ہم  ایک چیز کو کئی معنوں میں پیش کرسکے۔  افسانہ نگار نے اس افسانے میں بھیڑیا کے استعارے سے کچھ ایسا ہی کام لیا ہے۔

اس افسانے کا عنوان ”آخری سردار“ ہے۔اور سردار کسی بھی  خاندان کا،سماج کا،صوبے کا یا ملک کا ہو وہ اس جگہ کا مالک ہوتا ہے۔یہاں سردار بھیڑیا ہے چونکہ بھیڑیوں کی فطرت سے ہم سب واقف ہیں کہ یہ بہت شاطر اور عیار درندہ کے زمرے میں آتا ہے۔ جو طرح طرح کی عیاری ور مکاری سے اپنا کام بنا تاہے۔ اس افسانے کا یہ استعارہ ہمارے سماج یا معاشرے کے ان لوگوں کی طرٖ ف اشارہ کرتاہے جو ہمارے حکمراں یا لیڈر یا ایسے مالک جو مالک بننے کے بعد اپنی ضروریات اور اپنے فائدے کے لئے ہی ہر وقت سوچتے ہیں ہے اور اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے تمام تر حربے اختیار کرتے ہیں جو ان کے لئے سود مند ہو۔  (یہ بھی پڑھیں سر سید کانظریۂ تعلیم اور میری تربیت   -ڈاکٹرزاہد ندیم احسن )

افسانے میں بھیڑیے سردار کے یہاں ایک بچہ ہوتا ہے جو کہ بالکل بھڑیوں کی خصلت سے جدا ہے نہ اس کے دانت نوکیلے ہیں نہ  چہرے پر بھیڑیوں جیسی کرختگی ہے بلکہ اس کے برعکس اس کے چہرے پر ایک معصومیت ہے۔اور یہ جنگل کے تمام چھوٹے بڑے بھیڑیے کے لئے باعث حیرت ہے کہ جو خصائل ان کے خاندان  میں برسوں سے چلی آرہی ہے اس نومولود بچے میں نہیں ہے یہ بات ان لوگوں کے لئے حیرانی کا سبب بھی ہے اور لمحہ فکریہ بھی کیوں کہ یہ سردار بھیڑیا کا اکلوتا وارث ہے جو ان جیسا نہیں اور اگر ان جیسا نہیں ہے تو اپنی وراثت کو کس طرح سے سنبھال سکے گا اوریہی بات انہیں حیرت میں ڈالتا ہے۔  اقتباس دیکھیں:

”ہوا یوں کہ سردار بھیڑیے کے گھر دھیرے دھیرے جنگل کے تماما بھیڑیے جمع ہونے لگے بوڑھا جوان،شاطر عیار۔سب کے چہروں پر حیرت کی لکیریں ابھری ہوئی تھیں۔اور بات تھی بھی حیرت کی کہ چند دنون پہلے سردار بھیڑیے کے گھر جو بچہ ہوا تھا،اس کے دانت بھیڑیوں کے دانت کی طرح نوکیلے نہ ہو کر بالکل بے ضرر تھے اور چہرے پر رعونت کے بجائے ایک عجیب سی معصومیت کھیلتی تھی۔“

اگر ہم  اس بھیڑیے کی استعارے پر غور کرتے ہیں تو سماج کے ایسے لوگوں کا خیال بھی آ جاتا ہے جو ان تمام خصلوتوں سے پر نظر آتے ہیں اور سماج پر اپنی گرفت بنانے کے لئے طرح طرح کے حربے استعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جو ایک بھیڑیے میں موجود ہوتا ہے۔اور اسی طرح اگر اس کے یہاں بھی اگر کوئی اکلوتا وارث ان کی ان خصائل سے الگ ہو جائے تو ان کے لئے بھی حیرت اور پریشانی کا باعث ہوتا ہے جس طرح اس کہانی میں بھیڑیے کے خاندان والے اور رشتہ داروں کولاحق ہوا۔ (یہ بھی پڑھیں اردوڈرامے میں دیومالائی فضا-ڈاکٹر زاہد ندیم احسن )

اس کہانی کا بچہ بڑھتا رہتا ہے مگر اس کے اندر اس کی کوئی بھی موروثی خصوصیت نہیں آتی ہے اور اپنے ارد گرد  رو نما ہونے والے وقعات  پر تعجب کرتا ہے تو اس کے بڑے بزرگ اس بات سے حیران ہوتے رہتے مگر اسے چھپانے کی کوشش کرتے۔پھر سردار بھیڑیے کی ناگہانی موت  ہو جاتی ہے اور سردار کے اکلوتے  وارث کو سردار منتخب کر دیا جاتا ہے۔ چونکہ اس میں سرداربننے والی وہ ساری خصوصیت موجود نہیں ہوتی جو اس کے معاشرے کو چاہیے تھی تو اس کی گرفت اس

معاشرے پر کمزور پڑنے لگتی  ہے اور پھر وہ اپنے کچھ مشیروں کے مشورے  سے اپنے آپ کو اپنے باپ دادا کی طرح بنانے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔اقتباس دیکھیں:۔

”سردار منتخب ہو جانے کے کچھ دنوں کے بعد اس نے یہ محسوس کیا کہ اس کے چہرے کی معصومیت اور بے ضرر دانت اب اس کے لئے تکلیف دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ کیوں کہ سردار بنے رہنے کے لئے  نوکیلے دانت اور چہرے پر رعونت،بے حد ضروری تھے، اور وہ ان چیزوں سے عاری تھا۔جس کی وجہ سے جنگل پر اس کی گرفت آہستہ آہستہ ڈھیلی پڑ تی جا رہی تھی۔ اور خود بھیڑیوں کے سردار کی حیثیت سے اس کی شناخت کھوتی جا رہی تھی۔آخر مشیروں کے بے حد اصرار اور بہت سوچ  بچار کے بعد اس نے فیصلہ کیا کہ جنگل پر گرفت مضبوط اور سردار کی حیثیت سے اپنی شناخت  قائم رکھنے کے لیے وہ اپنے چہرے پر رعونت پیدا کرے گا اور دانتوں کو نوکیلے بنائے گا۔“

افسانے کا اختتام سردار بھیڑیے کے نو منتخب سردار بچے کی موت پر ہوتا ہے کہ وہ اپنی گرفت کو کمزور ہوتا دیکھ کر اپنے اندر اپنے خاندانی اور وارثانہ خوبی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر اسی طرح جس طرح اس کے باپ سردار بھڑیے کی موت

ہوتی ہے جنگل سے گزرتے وقت اس کی بھی ہو جاتی ہے۔ اور پھر ایک بار سبھی کے چہروں پر وہی حیرت طاری ہوتی ہے  جس طرح اس کی پیدائش پر ہوئی تھی اقتباس دیکھیں۔

”سب کے چہروں پر حیرت کی لکیریں ابھری ہوئی تھیں،اور بات تھی بھی حیرت کی کہ مرنے والا بھیڑیے کی خصلت کا نہ ہوتے ہوئے بھی۔ بھیڑیے کی موت مراتھا۔ لیکن موت بہر حال موت تھی اور سردار کی۔اس لئے سب نے اپنے اپنے چہروں سے حیرت کی لکیریں مٹا ئیں اور آنکھوں میں انتہائی غم کی کیفیت پیدا کر کے اس عجیب و غریب موت پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔“

اس  اقتباس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ کوئی جب تک اپنے بنیادی خصوصیات کے ساتھ جیتا ہے تو اس کی گرفت اپنے آس پاس رہنے والوں پررہتی ہے مگر اس میں اگر کوئی تبدیلی آجاتی ہے تو پھر اس کے آس پاس کے لوگ اسے کسی بھی طور پر گوارا نہیں کرتے اور بھیڑیا سردار کا بچہ جو کہ اپنے شروعاتی دور میں بالکل اپنی  اصلیت سے یعنی اپنی  موروثی  خصوصیت سے الگ تھا جو دوسرے بھیڑیے کہ لئے حیرت کا باعث تھا اور پھر جب اپنے آپ کو ان کے زون میں لانے کے کی کوشش کر رہا تھا تو اس کی بھی موت اس کے باپ کی طرح  ہی ہو جاتی  اور افسانے کا یہ جملہ کہ”مرنے والا بھیڑیے کی خصلت کا نہ ہوتے ہوئے بھی  بھیڑئے کی موت مرا“ بہت سے مفہوم اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے۔

بھیڑ یے کی ایک بات یہ ہوتی ہے کہ ان میں سب سے طاقتور بھیڑیا ان کی جماعت کا سردار ہوتا ہے۔ لیکن وہ جیسے ہی کمزور یا بیمار پڑجاتا ہے اسے اسی کے گروہ کہ دوسرے بھیڑیے ہلاک کر کے سربراہ ہو جاتے ہیں۔  شروع کی انسانی حکومت کو بھی دیکھا جائے تو ان کا بھی معاملہ کچھ ایسا ہی نظرآتا ہے۔ بعد میں جو  تمام ممالک کا نظام نظر آتا ہے اس میں بظاہر تو لوگ اپنے مخالف کو قبول کرتے ہیں مگر اندر ہی اندر وہ عیاری اور اپنے شاطرانہ حربوں سے اپنے مخالف کو کمزور کرنا اور اسے جڑ سے ختم کر دینا چاہتے ہیں۔ اس طرح کی چیزیں بہت ساری سیاسی اور سماجی پارٹیوں میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔یہ افسانہ ان تمام چیزوں کو  سامنے لانے کی کوشش کرتا  نظر آتاہے۔

چونکہ اسلوب کا استعاراتی اور علامتی نظام وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ اپنا معنی اور مفہوم بدلتا رہتا ہے  اسلئے  افسانے کو پڑھنے کے بعد معنوی اعتبار سے اس افسانے میں کئی ابعاد نظر آتے ہیں جس کا اطلاق اصطلاحی اور معنوی اعتبار سے بہت جگہ کیا جا سکتا  ہے جو افسانے کی آفاقیت کی ضامن ہے۔

 

ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

جامعہ ملیہ اسلامیہ۔نئی دہلی

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

You may also like

Leave a Comment