عنوان سے یہ حیرت لازم ہے کہ ا کیسویں صدی میں لکھنے والا یہ عنوان کیسے قائم کر سکتاہے ۔ لیکن سر سید ایک ایسی عبقری شخصیت تھی جس کے فکر رو خیال کی روشنی صدیوں تک ضو فشانی کرتی رہے گی۔ سر سید جس عہد میں جی رہے تھے وہ ایک زوال پذیر دور تھا جس میں مغل بادشاہت کا شیرازہ بکھررہا تھا اور انگریزی حکومت ہندوستان پر قابض ہو رہی تھی۔ یہ دور افتراق و انتشار اور ابتلا و ا ٓزمائش کا تھا۔ اور اس کا شکار زیادہ تر مسلم قوم تھی، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ انگریزوں نے اقتدار مسلمانوں کے ہاتھوں سے لیا تھا اور مسلمانوں کو ہی وہ اپنا اصل دشمن سمجھتے تھے۔ مسلمانوں کے ہاتھ سے حکومت چلے جانے کی وجہ سے مسلمان قوم رفتہ رفتہ تنزلی کا شکار ہونے لگی۔ سر سید چونکہ ایک ہمدرد ی بھرا دل اور بڑا ویژن رکھتے تھے ا س لئے غورو خوض کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ مسلمانوں کے تنزلی کا سبب ان کی جہالت ہے جس کا واحد علاج تعلیم ہے۔ ان کویہ احساس تھا کہ جب تک قوم نئے علوم سے واقف نہیں ہوگی دنیا میں اس کا کوئی مقام نہیں ہوگا۔ سرسید کایہ خیال تھا کہ طلباء کوصرف کتاب خواں نہ بنا دیا جائے بلکہ ان کے نزدیک تعلیم کا مقصد قدامت پسندی ، اوہام پرستی اور تاریکی سے طلباکو نکالنا تھا۔ اور ایک ایسی قو م تیار کرناتھا جس میں روشن خیالی ہو ، اورترقی کرنے کا جذبہ اور وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے کا حوصلہ ہو۔ تعلیم کا مقصد ان کے نزدیک ذہنی بیداری اور سیرت کی تعمیر تھا۔ ان کے اس فکر کی وضاحت اور توثیق غازی پور میں ایک اسکول کے سنگِ بنیاد کی تقریب کے موقع پران کی ایک تقریر سے ہوتی ہے۔
’’بنیاد ڈالناہے علم کی روشنی کا اپنے ہم وطنوں میں اور دور کرنا ہے جہالت کی تاریکی کا اپنے ملک اور اپنے بھائی بندوں سے۔ یہ کام تم جس کے لئے جمع ہوئے ہو صرف تمہارے لئے یا تمہارے زمانہ کے لوگوں کے لئے فائدہ بخش نہیں ہے بلکہ تم ایسی چیزوں کی بنیاد ڈالتے ہو جو آئندہ نسلوں کے لئے اور تمہاری اولاد اور تمہارے بھائی بندوں کی اولاد اور تمہارے ہم وطنوں کی اولاد کے لئے ہمیشہ نہایت ہی فائدہ بخش ہے۔ پس تم کو اس مبارک کام کے لئے جتنی مبارکباد دی جائے وہ تھوڑی ہے‘‘۔(لیکچر کا مجموعہ ، سر سید احمد خاں ، مرتب سراج الدین ، ص، ۷۴)
سر سید کے تعلیمی نظریات کا اثر یہ ہوا کہ اس دور کے مسلم گھرانوں کے مردوں اور عورتوں نے ان کے اس نظریے کو نہ صرف قبول کیا بلکہ اسے اپنی زندگی میں بھی برتا ساتھ ساتھ ہی اپنی سماجی وتہذیبی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے ان کے مضامین کا مطالعہ بھی کیا جو انہوں نے سماج کو بہتر اور مہذب بنانے کے لئے لکھے تھے۔ سر سید کا اصلاحی اور فکری مشن ان کی زندگی سے لے کر تا حال جاری ہے۔ اسی تعلیمی نظریے کے زیر سایہ میری تربیت بھی ہوئی اور میرے اس مضمون کامقصد بھی اپنی اسی تربیت کے پس منظر کا اعادہے۔
میری والدہ بچپن میں تربیت کے لئے کچھ کہانیوں کے طور پر سر سید احمد خان کے مضامین سنایا کرتی تھیں۔اس وقت میری عمر تقریباً ۷ یا ۸ برس کی رہی ہوگی۔اس میں سر سید احمد خاں کے پانچ مضامین ۔’’گذرا ہوا زمانہ‘‘،’’ بحث وتکرار‘‘،’’امید کی خوشی ‘‘ ’’کاہلی‘‘ اور ’’خوشامد‘‘ خاص طور پر اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر چہ میری والدہ اسکول کالج کی پڑھی ہوئی خاتون نہیں تھیں لیکن ایک مسلم گھرانہ ہونے کی وجہ سے ،قرآن ، اور حدیث کا مطالعہ کرایا گیا تھا جس کی وجہ سے وہ اتنی اردو جانتی تھیں کہ اپنی اولاد کو کچھ پڑھ کر سنا اور پڑھا سکیں ۔ اور یہی واجہ ہے کے انہوں نے اردو کی بھی چند کتابیں پڑھ رکھی تھیں جن میں سر سید کے یہ مضامین بھی شامل تھے۔ چونکہ ہر عورت اپنے بچوں کو اچھی سے اچھی تربیت دینا چاہتی ہے تاکہ اس کی اولاد اپنی زندگی میں کامیاب اور کامران رہے اور تہذیب یافتہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تہذیب یافتہ گھرانے کی عورتیں ان چیزوں پر بھی نظر رکھتی تھیں ۔میری والدہ بھی اسی سوچ کے تحت کچھ ایسی کہانیاں پڑھی ہونگی تاکہ اپنی اولاد کی تربیت کر سکے۔یہی وجہ ہے کہ سر سید کی یہ کہانیاں ان کے زیر مطالعہ رہیں اور میری تربیت کی خاطرہمارے بچپن میں وہ کہانیاں سنائیں اس طرح سے والدہ کے ذریعہ سے سر سید کے اصلاحی مضامین جو انہوں نے مجھے سنائے اور جس مقصد کے تحت وہ سناتی تھیں تو کہنا بے جانہ ہوگا کے سر سید کا اصلاحی مشن بلا واسطہ مجھ تک پہنچا۔اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے مضمون کا نام’’ سر سیدکا نظریہ تعلیم اور میری تربیت‘‘ رکھا ہے۔
والدہ جب بھی مجھ سے بات کرتیں تو اس میں نصیحت ضرور ہوتی تھی اور کسی اچھائی اور برائی کی مثال پیش کرنا ہوتا تو یہ مضامین بھی ہوتے تھے جس کا ذکر اوپر کیا گیا ۔ وہ بڑے ہی افسانوی انداز میں یہ مضامین سنایا کرتی تھیں۔اور میں بھی بڑے انہماک سے یہ کہانیاں سنا کرتا تھا۔’ گزرا ہوا زمانہ‘ اور’ بحث وتکرار‘ مجھے بار بار سنایا جاتا تھا۔ گزرا ہو زمانہ جب شروع کرتیں تو کہتی کہ دیکھو ایک بوڈھے کی کہانی سناتی ہوں جو اکیلا رہ جاتا ہے اتنا ہی کہہ کر وہ کہانی شروع کردیتیں۔
’’ برس کی آخری رات کو ایک بوڑھا اپنے اندھیرے گھر میں اکیلا بیٹھا ہے۔رات بھی ڈراونی اوراندھیری ہے گھٹا چھا رہی ہے اور بجلی بھی تڑپ تڑپ کر کڑک رہی ہے۔ آندھی بڑے زوروں سے چلتی ہے۔دل کانپتا ہے اور دم گھبراتا ہے۔بڈھا نہایت ہی غمگین ہے۔ ‘‘
کہانی کے درمیان میں پھر میرا سوال ہوتا کہ وہ بوڈھا اکیلا کیوں رہ گیا اس کا کوئی جاننے والا کیوں نہیں تھا ؟کیا اس کے سارے جاننے والے رشتے داروں کو ڈاکو نے مار دیا یا بھوت پکڑ کر لے گیا؟میرے اس سوال پر وہ کہتی نہیں ایسا کچھ نہیں تھا اور کہانی کا خلاصہ سناتیں اور وقت کی اہمیت اور اسے بے وقت کے کاموں میں خراب نہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے اپنی بات مکمل کرتیں ۔اسی طرح جب مضمون بحث و تکرار سناتیں تو پہلے تمہید کے طور پر مہذب اور غیر مہذب لوگوں کی خصلت بتاتیں اور پھر یہ مضمون سناتیں اس کہانی کو سنانے میں انداز تھوڑا ناصیحانہ ہوتا تھا وہ کہانی سناتی رہتی اور بیچ بیچ میں اچھی بری چیزوں کی طرح اشارہ بھی کرتی رہتیں۔اور یہ اقتباس سناتیں جس میں انسان اور جانور کا فرق واضح کیا گیاہوتا ۔
’’جب کتے آپس میں مل کربیٹھتے ہیں تو پہلے تیوری چڑھا کر ایک دوسرے کو بری نگاہ سے آنکھیں بدل بدل کر دیکھنا شروع کرتے ہیں۔پھر تھوڑی تھوڑی گونجیلی آواز ان کے نتھونے سے نکلنے لگتی ہے پھر تھوڑا جبڑا کھلتا ہے اور دانت دکھلائی دینے لگتے ہیں اور حلق سے آوازنکلنی شروع ہوتی ہے ہھر بانچھیں چڑھ کر کانوں سے جا لگتی ہیں اور ناک سمٹ کر ماتھے پر چڑھ جاتی ہے ڈاڑھوں تک دانت باہر نکل آتے ہیں ۔منہ سے جھاگ نکل پڑتے ہیں اور غیف آواز کے ساتھ کھڑے ہو تے ہیں اور ایک دوسرے سے چمٹ جاتے ہیں۔اس کا ہاتھ اس کے گلے میں اور اسکی ٹانگ اس کی کمر میں۔اس کا ن اس کے منہ میں اور اس کا ٹیٹوا اس کے جبڑے میں۔اس نے اس کو کاٹا اور اس نے اس کو بھنبھوڑا۔جو کمزور ہوا دم دبا کر بھاگ نکلا۔‘‘
مذکورہ اقتباس کے بعد پھر بیان ہوتا کہ یہ خصلت جو میں نے کتوں کے ذریعہ سے بتائی ہے۔ کسی آدمی میں آجائے تو اسے کوئی اچھا نہیں سمجھتا ۔پڑھے لکھے اور مہذب آدمی اس طرح کے لوگوں کو بر ی نگاہ سے دیکھتے ہیں کوئی سماج اسے قبول نہیں کرتا وہ ہر ایک کی نگاہ میں ذلیل اور خوار سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ اس میں تو انسان جیسی کوئی عادت ہی نہیں ہے ۔اور تم بھی جب اس طرح کے لوگوں سے ملو تو ان سے بحث نہ کرو بلکہ خاموشی سے اس طرح کی محفل سے نکل جاؤ۔ اور پھر اسی طرح کے آدمیوں کا بیان کرنے کے لئے آگے کی کہانی بیان کرتیں۔
’’نا مہذب آدمیوں کی مجلس میں بھی آپس میں کچھ اسی طرح کی تکرار ہوتی ہے۔پہلے صاحب سلامت کر کہ مل بیٹھتے ہیں ۔پھر دھیمی دھیمی بات چیت شروع ہوتی ہے۔ایک کوئی بات کہتا ہے،دوسرا کہتا ہے بھائی واہ یوں نہیں یوں ہے۔وہ کہتا ہے واہ تم کیا جانو ۔وہ بولتا ہے تم کیا جانو۔دونوں کی نگاہ بدل جاتی ہے تیوری چڑھ جاتی ہے۔رخ بدل جاتا ہے۔آنکھیں ڈراونی ہو جاتی ہیں۔دانت نکل پڑتے ہیں۔تھوک اڑنے لگتا ہے۔بنچھوں تک کف بھر آتے ہیں۔سانس جلدی چلتا ہے۔رگیں تن جاتی ہیں۔آنکھ ،ناک، بھوں عجیب عجیب حرکتیں کرنے لگتے ہیں۔غیف غیف آوازیں نکلنے لگتی ہیں۔آستین چڑہا ہاتھ پھیلا۔اس کی گردن اس کے ہاتھ میں اوراس کی ڈاڑھی اس کی مٹھی میں لپا ڈکی ہونے لگتی ہے۔کسی نے بیچ بچاؤ کر چھڑا دیا توایک غراتے ہوئے ادھر چلا گیا اور ایک ادھر اگر کوئی بیچ بچاؤ کرنے والانہ ہوا تو کمزور نے کپڑے جھاڑتے ہوئے اپنی راہ لی۔‘‘(بحث و تکرار)
چونکہ اکثر اس طرح کی مثالیں ہمارے آس پاس مل جایا کرتی ہیں ان کا اشارہ بھی یہی ہوتا کہ دیکھو وہ آدمی جس نے لڑائی کی تھی یہ بنا کسی وجہ کے الجھ رہا تھا اس کی بھی یہی مثال ہے کہ بظاہر تو وہ انسان ہے مگر اس کی خصلت اس کہانی کے کتے کی طرح ہے۔اس طرح سے کہانیاں میرے لئے درس وتعلیم کا ذریعہ رہیں اور اسی مقصد سے والدہ نے سنایا بھی۔
’’امید کی خوشی‘ ‘سے پہلے وہ امید اور نا امیدی کی وضاحت کرتیں اور کہتیں کہ ہمارے مذہب میں یہ عقیدہ ہے کہ جس نے امید کا دامن چھوڑا اس نے ایک طرح سے سمجھو تو کفر کیا یعنی ہمارے یہاں نا امید کفر سمجھی جاتی اور پھر کفر کسے کہتے ہیں توحید کیا ہے اللہ رسول کی بات بتاتیں اس کے بعد پھر کہانی کے اقتباسات سناتیں۔ اور یہاں سے میرے لئے دلچسپی کی بات ہوا کرتی جب وہ بات شروع کرتی تو میرا یہ اصرار ہوتا کہ کہانی سنائیں ۔یہ بعد میں بتا دیجئے گا تب جا کر ان کی کہانی شروع ہوتی:
’’اے آسمان پر بھورے بادل میں بجلی کی طرح چمکنے والی دھنک۔اے آسمان کے تارے تمہاری خوشنما چمک۔اے بلند پہاڑوں کی آسمان سے باتیں کرنے والی دھندھلی چوٹیو اے پہاڑ کے عالی شان درختوں اے انچے انچے ٹیلوں کے دلکش بیل بوٹوں تم بنسبت ہمارے پاس کے درختوں اور سر سبزکھیتوں میں لہراتی ہوئی نہروں کیوں زیادہ خوش نما معلوم ہوتے ہیں۔اس لئے کہ ہم سے بہت دور ہیں۔دوری ہی نے تم کو یہ خوبصورتی بخشی ہے۔اس دوری سے ہی تمہارا نیلا رنگ ہماری آنکھ کو بھاتا ہے۔تو ہماری زندگی میں جو بھی چیز بہت دور ہے وہ ہی ہم کو زیادہ خوش کرنے والی ہے۔‘‘
وہ چیز کیا ہے۔کیا وہ عقل ہے جس کو سب سب سے اعلی سمجھتے ہیں۔کیا وہ ہم کو آئندہ کی خوشی کا یقین دلا سکتی ہے۔ اس کا میدان تو نہایت ہی تنگ ہے۔ بڑی ڈوڑ دھوپ کرے تو نیچر تک اس کی رسائی ہے۔جو سب کے سامنے ہے۔وہ نورانی چہرے والی یقین کی اکلوتی بیٹی امید ہے!یہ خدائی روشنی تیرے ہی ساتھ ہے۔تو ہی ہمارے مصیبت کے وقتوں میں ہم کو تسلی دیتی ہے!تو ہی ہمارے آڑے وقتوں ہماری مدد کرتی ہے ۔تیرے ہی بدولت نہایت دور دراز کی خوشیاں پاس نظر آتی ہیں تیرے ہی سہارے سے ہم مشکل مشکل گھاٹیاں ہم طے کر پاتے ہیں۔تیرے سبب سے ہمارے خوابیدہ خیال جاگتے ہیں۔تیرے ہی برکت سے خوشی،خوشی کے لئے نام آوری،نام آوری کے لئے بہادری،بہادری کے لئے فیاضی،فیاضی کے لئے محبت،محبت کے لئے نیکی،تیارہے!انسان کی تمام نیکیاں اور ساری خوبیاں تیری ہی تابع اور تیری ہی فرما بردار ہیں۔‘‘(امید کی خوشی)
ان تمام مضامین کو کہانیوں کی طرح مجھے سنانا اور سنانے کے درمیان تمام اچھی بری چیزوں کی طرف اشارہ کرنایقینا میری تربیت کی خاطر تھیں اور اسے سنانے کا بڑا ہی فطری اندازِ بیان ہوتایعنی ایسا گھر یلو انداز ہوتا جس سے یہ محسوس نہ ہو کہ سنانے والاکسی پلاننگ کے تحت اپنی بات کہہ رہا ہے۔ زندگی کے ان تمام پہلوؤں کی طرف اشارہ ہوتا جو زندگی کے لئے سود مندہوں۔ والدین اپنے بچوں کی پرورش اپنی استعداد کے مطابق اچھی کرنا چاہتا ہے لیکن یہ تو اس بچے کا مقدر ہوتا ہے کہ اسے اپنی زندگی میں کتنی کامیابی ملتی ہے۔
بچپن میں والدہ کے ذریعہ کہانیوں کے طور پر سنائے گئے یہ تمام مضامین کہانیاں ہی لگتی تھیں مگر آج کی اس مشقت بھری زندگی میں ’’گذرا ہوا زمانہ ‘‘بہت شدت سے یاد آتا ہے ،لیکن ا س کے ساتھ ساتھ سنائی گئی کہانی ’’امید کی خوشی ‘‘نے بھی دامن نہیں چھوڑا اور زندگی کے ہر موڑ پر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ایک اچھے ہمسفر کی طرح چل رہی ہے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

