انیسویں صدی کی ابتدائی دہائی میں ہندوستان میں خواتین کی بیداری اور تعلیمی رجحان دیکھا جا سکتا ہے ۔ عیسائی مشینریوں نے لڑکیوں کی تعلیم اور اپنے مذہب کی تشہیر کے لیے جگہ جگہ اسکول کھولے۔اس کے علاوہ انگریز عورتیں ہندوستانی خواتین کے پاس جاکر ان کے مسائل ومصائب دیکھتی وسنتی تھیں اور تبلیغ کا کام بھی کرتی تھیں۔انگریز عورتوں نے ہندوستانی خواتین کی پچھڑی صورت حال دیکھی توپہلی بار ۵۴ ۱۸ میں ایک سرکاری اعلا ن کیا گیا۔ جس میں ایک ایسے اسکول کے قائم کرنے کی بات کی گئی جس میں لڑکے اور لڑکیوں کو سیکولر تعلیم دی جائے۔ اس اعلان نامے سے ملک و قوم میں بیداری آئی۔ مگر ان اسکولوں کو قائم کرنے کا خاص مقصد انگریزوں کو اپنے عیسا ئی مذہب کی تبلیغ کر نی تھی۔لیکن ان میں چند ایسے با شعور انگریز بھی تھے جن کا خیال تھاکہ ہندوستانی لڑکیوں کی تعلیم مشینریوں کے اثرات سے آزادما حول میں ہو نی چاہیے۔جس کے لیے انھوں نے ہندوستا نیوں کو آگے آنے کی بات بھی کہی۔تھیوڈہیر ریس نے کلکتہ میںا پنے ذاتی مصارف سے لڑکیوں کی تعلیم کا پہلا اسکول کھولا۔ ا س کے علاوہ دیگر اصلاحی تنظیموں نے بھی تعلیم نسواں کی حمایت کی۔ان میں آریہ سماج اوربرہمو سماج نے باقاعدہ عورتوں کی تعلیم کا مشن چلایا۔مسلم رہنماؤں میں سر سیداحمد خاں پہلے ایسے شخص ہیں جنھوں نے عورتوں کے حقوق کی بات کی ۔ اور انھوں نے مسلم خواتین کے لیے پرانے طریقۂ تعلیم کو بہتر بتایا ۔ سر سید انگریزی اور جدید مغربی علوم کے دلدادہ ہو نے کے باوجود مشرقی تہذیب و اقدارکو پسند کرتے تھے کیو نکہ ان کا خمیر اسی تہذیب کے عناصر سے تیار ہوا تھا انھیں مغربی عورتوں کی طرزِ زندگی ان کی بے جاآزادی ،بے حجابی اور بیباکی پسند نہیں تھی اس لیے وہ مسلم خواتین کو جدید انگریزی تعلیم کے رجحان سے دور رکھنا چاہتے تھے سر سید نے اپنی ایک تقریر میں خواتین کے قدیم طریقۂ تعلیم کے فائدے ان الفاظ میں بتائے ہیں ملاحظہ فرمائیں:
’’ان کی تعلیم میں وہ علوم داخل نہ تھے جن کو اس زمانہ میں یورپ کی تقلید سے لڑکیوں کی تعلیم میں لو گ داخل کر نا چاہتے ہیں۔یورپ کی اور امریکہ کی حالت معاشرت کے خیال سے شاید وہ علوم لڑکیوں کو سکھانے ضرور ہوں کیونکہ ممکن ہے کہ وہاں عورتیں پوسٹ ما سٹرز اور ٹیلی گراف ما سٹرز یا پا رلیمنٹ کی ممبر ہو سکیں۔لیکن ہندوستان میں نہ وہ زمانہ ہے نہ سینکڑوں برس بعد بھی آنے والا ہے۔پس جو علوم کہ اس زمانہ میں عورتوں کے لیے مفید تھے وہی اس زمانہ میں بھی مفید ہیں اور وہ علوم صرف دینیات اور اخلاق کے لیے تھے۔اس زمانہ کی لڑکیاں قرآن شریف پڑھتی تھیں،اس کا تر جمہ پڑھتی تھیں،نماز روزہ کے مسائل کی کتا بیں پڑھتی تھیں جس نے زیادہ تعلیم میں ترقی کی اور فارسی سیکھ لی اس کو قصصِ انبیااور حکایاتِ اولیااور اسی قسم کی اخلاق کی کتابیں اور بعض حکایات مثنوی مو لا نا روم رحمتہ اللہ علیہ کی پڑھائی جاتی تھیں۔‘‘ ۱؎
مذکورہ اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سر سید احمد لڑکیوں کی تعلیم کے مخالف نہیں تھے۔ بلکہ جدید تعلیم کو ان کے لیے پسند نہیں کرتے تھے ۔کیونکہ ان کے مطا بق وہ قدیم طریقۂ تعلیم لڑکیوں کے لیے بہتر تھے جو شروع سے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے اختیار کیے گئے تھے۔ جس سے ان کے دل میں نیکی اور خدا ترسی ،رحم،محبت اور بہترین اخلاق پیدا ہوتا تھا،اس کے علاوہ وہ اس تعلیم میں عورتوں کی دین و دنیا کی بھلائی بھی سمجھتے تھے ۔دراصل سر سیدعورتوں کو امریکہ اور افریقہ کا جغرافیہ سکھا نے اور ریاضی کے قواعد اور دنیا بھر کی تاریخ پڑھانے کا کو ئی فا ئدہ نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے مطابق خواتین چار دیواری کی زینت تھیں محفل کی شمع نہیں۔ الطاف حسین حالی نے حیات جاوید میں کئی اسباب بتائیںہیںجس کی روشنی میں ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جدید انگریزی تعلیم کو سر سید مستورات کے لیے بہتر کیوں نہیں سمجھتے تھے ۔حالی نے جن نکات کی طرف اشارہ کیا ہے اس میں پہلا یہ ہے کہ سر سید کی مسلسل مصروفیات نے انھیں اجازت نہیں دی کہ وہ گھریلومعاملات میں دلچسپی لیتے۔یا خاندان کی عورتوں کے مسائل دیکھتے۔ اس لیے سر سید کے دل میں خواتین کے لیے وہ ہمدردی نہ پیدا ہو سکی جس سے وہ ان کے تعلیمی مسائل سمجھ پاتے۔ دوسری وجہ یہ رہی کہ جس اعلیٰ خاندان سے سر سید کا تعلق تھاوہاں کے حالات عام مسلمان گھرانوں کی بہ نسبت بہتر تھے۔اور ان خاندانوں کی خواتین کے اخلاق واطوار ،لیاقت وسنجیدگی بہت اعلیٰ درجے کی تھی۔اس باعث سر سید نے ہندوستان کی تمام خواتین کی صورت حال اپنے گھرانے کی عورتوں جیسی تصور کی۔چو نکہ سرسید نے اپنے خاندان کی عظیم خواتین کو دیکھا تھااس لیے ان کی عظمت و حکمت کا احساس انھیں بچپن سے ہو گیا تھا۔ ’’سیرت فریدیہ‘‘ میں جہاں سرسیدنے اپنی والدہ کا ذکر کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سر سید پر ان کی والدہ کے حسن ِسلوک و کر دار کا گہرا اثر تھا۔ ا س و جہ سے لڑکیوں کی تعلیم وتربیت کے سلسلے میں سرسید کے خیالات اسی محور پر گر دش کرتے نظر آتے ہیں۔تیسری و جہ حالی نے یہ بتائی کہ سرسید کو بعد میں خودعورتوں کی تعلیم کی راہ میں پا ئی جانے والی دشواریوں و دقتوں کا اندازہ ہو گیا تھا ۔مگر ان کے نزدیک ابھی وہ وقت دورتھا کہ مسلمان شرفا کی لڑکیوں کی تعلیم کا معقول اور قابلِ اطمینان انتظام کیا جا تا۔ ان نکات کی روشنی میں حالی کا خیال ہے کہ سر سید تعلیم نسواں کو لیکر اس طرح سنجیدہ نہیں تھے جس طرح لڑکوں کی تعلیم سے متعلق تھے ۔ حالی کا خیال درست معلوم ہوتا ہے ۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ سر سید پہلے مرد کی تعلیم پر ذہن مر کوز کر نا چاہتے ہوں اور انتشار کی کیفیت نہ پیدا ہو اس لیے انھوں نے تعلیم نسواں پر توجہ نہ دی ہو۔ سر سید کی تعلیمی پالیسی پر گفتگو کر تے ہوئے ہمیں یہ بات یاد رکھنی چا ہیے کہ سر سید کی جدیدانگریزی تعلیم کی حصولیابی کی و جہ سے ان پر کفر کا فتوی بھی عائد کیا گیا تھا۔ اس لیے اس وقت جہاں قوم و ملت میں ابھی مرد حضرات میں ہی تعلیم کی بیداری نہ ہوئی تھی ایسے میں عورتوں کی تعلیم کی بات کر کے سرسید اپنی قوم کو مزید مشتعل نہیں کرناچاہتے تھے جس کے لیے انھیں کچھ وقت درکار تھا۔اور وہ اس مناسب وقت کے انتظارمیں تھے پنجاب کی خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’اے میری بہنوں تم یقین جانوکہ دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں جس میں مر دوں کی حالت درست ہونے سے پہلے عورتوں کی حالت میں درستی ہوگئی ہو،اور کوئی قوم دنیا میں ایسی بھی نہیں جس میں مردوں کی حالت درست ہو گئی ہو اور عورتوں کی حالت درست نہ ہوئی ہو،ان سچے واقعات نے میرے دل میں بہت کچھ اثر کیا ہے ۔میں نے تمہارے لڑکوں کی تعلیم پرجو کوشش کی ہے اس سے تم یہ نہ سمجھو کہ میں اپنی پیاری بیٹیوں کو بھول گیا ہوں بلکہ میرا یقین ہے کہ لڑکوں کی تعلیم پر کوشش کرنا لڑکیوں کی تعلیم کی جڑ ہے پس جو خدمت میں تمہارے لڑکوں کے لیے کر رہا ہوں در حقیقت وہ لڑکوں لڑکیوں دونوں کے لیے ہے ۔‘‘ ۲؎
اس اقتباس کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ سر سید پہلے مردوں کی تعلیم کے حامی تھے اس لیے پہلے انھیں جہالت اور تاریکی سے نکال کر مہذب انسان بنانا تھا۔
ہندوستان کی مسلم خواتین کی اس وقت جوصورت حال تھی ویسی دوسرے مذاہب کی عورتوں کی نہیں تھی کیونکہ دیگر مذاہب کی خواتین میں بیداری بڑھ رہی تھی کیونکہ چندپڑھی لکھی خواتین بھی مستورات میں بیداری لانے کی غرض سے میدان میں کود پڑی تھیں ان خواتین میں مسزبے۔کے۔گوکھلے،(بنگال)مسز کٹریکٹر،(ممبئی) اورمسز پرا وتی چندر شیکھر،(میسور)کے نام قابل توجہ ہیں۔ان خواتین کی کاوشوں سے مستورات کی تعلیم و تر بیت کے لیے Widow House کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا۔اس سے خواتین میں تعلیم کا رجحان بڑھا ۔اور خواتین کا ایک بڑا طبقہ تعلیم کی طرف متوجہ ہوا۔ ان کے لیے علم و ہنر کی راہیں ہموار ہوتی چلی گئیں۔ ۱۸۸۳ میں پہلی ہندوستانی خاتون گریجویٹ ہوئی۔اور ۱۸۹۲ میں پہلی بار ایک ہندوستانی عورت ڈاکٹری پڑھنے آکسفورڈ یونیورسٹی گئی۔جہاں غیرمسلم خواتین تعلیم و ترقی کے میدان میں آگے بڑھ رہی تھیںوہیں مسلم عورتیں جدیدانگریزی تعلیم میں پچھڑی ہوئی تھی۔ سر سیدغیر مسلم خواتین کو انگریزی تعلیم کی طرف متوجہ دیکھ کر کہتے ہیں :
’’میں نے سنا ہے کہ بعض پارسی اپنی لڑکیوں کو انگریزی بھی پڑھا تے ہیں۔کوئی اسکول ہے،وہاں اٹھارہ اٹھارہ بیس بیس برس کی عمر کی لڑکیاں انگریزی پڑھنے کو جمع ہوتی ہیں اور بخوبی پڑھ گئی ہیں۔انگریزی بو لتی ہیںاورچٹھی لکھتی ہیںمگر میں نہیں سمجھا کہ اپنی زبان چھوڑکر پار سیوں کو لڑکیوں کے انگریزی پڑھانے لکھانے کی کیا ضرورت پیش آئی؟‘‘۳؎
سر سید کی اس طرح کی تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے وہ مسلم لڑکیوں کے علاوہ غیر مسلم بنات کی انگریزی تعلیم بھی پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ سر سید ملک وقوم کے مردوں کو انگریزی تعلیم اس لیے دلوانے کے حق میں تھے کیونکہ روزگار کے بہترین مواقع اسی تعلیم میں پنہاں تھے۔جبکہ وہ ملک و قوم کی بیٹیوں سے ملازمت کروانے کے حق میں نہ تھے۔
مسلم خواتین کی بدحالی دیکھ کر چند مفکر ین قوم نے ان کی تعلیم و تربیت کے لیے قدم اٹھائے ان کے لیے مضا مین لکھے، رسالے نکالے، اسکول وکالج قائم کئے۔ سیدممتازعلی نے مسلم عورتوں کے لیے’’ تہذیب نسواں ‘‘نام سے اخبار نکالا یہ نام سر سید کے مشورے سے رکھا گیا حالانکہ سر سید اس اخبار کو نکالنے کے قائل نہیں تھے سیدممتاز علی کو اپنے خط میں لکھتے ہیں:
’’عنایت نامہ ملا۔اگرچہ آپ نے مجھ سے اس باب میں مشورہ نہیں لیا کہ آیا اخبار جاری کرنا مناسب ہے یا نہیں؟بلکہ صرف اس کے نام کی بابت دریافت کیا ہے۔لیکن چاہے آپ میرا مشورہ پسند نہ کریں مگر میں یہی کہوں گا کہ آپ یقین کریں کہ آپ اسے جاری کر کے پچھتائیں گے اور تکلیف،نقصان اور سخت بدنامی کے بعد بند کرنا پڑے گا۔لیکن اگر آپ ان سب باتوں کو سمجھ لینے کے بعد بھی جاری کر یں تو جو نام آپ نے مجھے لکھ کر بھیجے ہیں ان میں سے مجھے کو ئی بھی پسند نہیں آیا۔میری رائے میں اگر کوئی اخبار مستورات کے لیے جاری کیا جائے تو اس کا نام’’تہذیب نسواں‘‘ہونا چا ہیے۔‘‘۴؎
اس خط سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیدممتاز علی نے سر سید کی مر ضی کے خلاف اخبار نکالا مگر سرسید کی تجویز پر اس کا نام’’ تہذیب نسواں ‘‘ہی رکھا۔مگر سر سید کے خیا لات کے بر عکس اس اخبار کے نتا ئج بہترین ثابت ہوئے۔اس کی اس قدر مقبولیت ہوئی کہ سید ممتاز علی کی وفات کے بعد بھی ایک لمبے عر صے تک یہ کا میابی کے ساتھ شائع ہو تا رہا۔
ان تمام اختلافات کے باوجود سر سیدجب دنیا کے دیگر ممالک کی تعلیم یافتہ مہذب خواتین کو دیکھتے تو انھیںشدت سے ہندوستان کی غیر تعلیم یافتہ ،غیرمہذب اوربداخلاق خواتین کا احساس ہوتا۔ سرسیدنے جب لندن میں مہذب اور ذہین خواتین کو دیکھا تو انھیں حیرت ہوئی کہ عورتیں ایسی بھی ہو سکتی ہیں ان کے لیے عورت کا یہ روپ نیا تھا اپنے سفر نامے میں اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے مکان مالک کی اسمتھ نامی غریب نو کرانی کا اخلاق و طوار دیکھا تو اس سے کس قدر متاثر ہوئے اور اس کوجب اپنی قلیل تنخواہ میں اخبار خرید کر پڑھتے دیکھتے تو متعجب رہ جاتے۔اس کے علاوہ مکان مالکن کی چھو ٹی بہن جن دنوں بیمار تھی اس نے سر سید سے مذہبی موضوع کی کتا بیں لیکر پڑھی اور صحت مند ہونے کے بعد جب سرسید سے مذہب پر بات کی تو اس کی ذہانت و لیاقت دیکھ کر سر سید حیرت زدہ رہ گئے۔دوسری طرف جب جہاز میں را جہ رام موہن رائے کے دوست کی بیٹی مس کا رنپٹرسے سر سید کی ملاقات ہوئی جو ہندوستان کی نا خواندہ خواتین کی صورت حال کا جائزہ لینے اور ان میں بیداری لانے کی غرض سے ہندوستان آئی تھی۔ان سے مل کرکے سر سیدبہت خوش ہوئے۔ ایسی خواتین کو دیکھ اور مل کرسرسید کے دل میں بھی ہندوستان کی خواتین کی حالت بہتر کرنے کا خیال پیداہوتا:
’’بہر حال میں خدا سے چاہتا ہوں کہ مس کا رنٹپرصا حبہ کی کو ششیں کا میاب ہوں اور ہندوستان میں کیا مرد اور کیا عورت سچائی اور علم کی روشنی سے دونوں اصل میں ایک ہیں۔روشن ضمیری حاصل کریں۔‘‘ ۵؎
سر سید کے ان خیا لات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ عورتوں کی تعلیم کو مردوں سے کسی طرح بھی کم اہمیت نہیں سمجھتے تھے۔مگر جن وجوہات کی بنا پر کھل کر اس بات کی کبھی حمایت نہیں کی اس کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے۔
المختصر یہ کہ ابتدا میں سرسید خواتین کی جدید انگریزی تعلیم کے قائل نہ رہے مگر حالات کے تقاضے کے تحت بعد میں انھیں بھی ان کی جدید تعلیم کا اندازہ ہوگیا۔سرسید کے نظریات میںنرمی محسوس کر کے چند مفکرین نے پر زور انداز میں تعلیم نسواں کی صدا لگائی ان میں خوا جہ غلام الثقلین ، جسٹس کرامت حسین اور شیخ عبداللہ پیش پیش نظر آتے ہیں۔ان کی کاوشوں کا ہی نتیجہ تھا کہ ۱۸۹۱ میں محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس علی گڑھ میں خواتین کے لیے ایک الگ شعبہ بنانے کی بات کی گئی۔اور ۱۷ نو مبر ۱۸۹۶ میں سینٹرل اسٹینڈنگ کمیٹی کے تحت تعلیم نسواں کا شعبہ قا ئم کیا گیا۔جس کے پہلے سیکریٹری جسٹس کرامت حسین بنائے گئے۔ اور۸ ۱۸۹میں آزادانہ طور پر خواتین کا علیحدہ شعبہ قائم کیا گیا۔مگر اس وقت سر سید احمد خاں انتقال کر گئے تھے۔اس طر ح کی کوششیں مسلسل چلتی رہیں جس کی و جہ سے۱۹۰۸ میں شیخ عبداللہ نے لڑکیوں کے اسکول کے لیے علی گڑھ میں نانک رائے باغ کی چو دہ بیگھا زمین خریدی اور ۲۷ نومبر کو اتر پر دیش کے لیفٹنٹ گو رنر کی بیوی لیڈی پورٹر کے ہاتھوں اس نیک کام کی بنیاد رکھی۔اس میں ہندو ،مسلم، سکھ اورعیسائی سب نے شرکت کی۔ہم یہ بات دلائل کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ سر سید کی اس ننھی خواہش نے جو ہندوستان کی خواتین کی بہترین تعلیمی صورت حال کی تھی آج ہندوستان میں اپنا وجود مستحکم کر لیا ہے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

