Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
فکر و عمل

سرسیّد احمد خاں اور ہندی اردو کامسئلہ – ڈاکٹر صفدر امام قادری

by adbimiras اکتوبر 17, 2020
by adbimiras اکتوبر 17, 2020 0 comment

اردو اور ہندی زبانوں کے تعلّق  کی تفصیل اور آپسی ت تنازعات پر غور کرنے سے پہلے تاریخی طور پر مختصراً اردو ہندی کی پیدائش اور زبان کے طور پر ارتقا کے احوال پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ زبان کے سلسلے سے لفظ ’’اردو‘‘کی حیثیت تازہ تر ہے اور مصحفی کے یہاں اٹھارویں صدی کے اواخر میں یہ لفظ ان معنوں میں پہلی بارملتا ہے جب کہ اس سے پہلے دکنی اردو شاعری کی کم از کم تین صدیاں اور دہلی میں امیر خسرو سے لے کر میر تک مختلف صدیاں مکمل ہوچکی تھیں۔ اردو کو گجری، دکھنی، زبانِ دہلی، ریختہ، ہندی ، ہندوی اور ہندستانی ناموں سے موسوم کیا جاتا رہا۔ رسمِ خط ابتدائی دور سے موجودہ فارسی رسمِ خط ہی رہا مگر فورٹ ولیم کالج میں پہلی بار لفظ ہندی کی نئی شناخت کے لیے ماحول قائم کرنے کی کوشش ہوئی۔ ’’اردو‘‘ لفظ زبان کے معنوں میں جیسے ہی مقبول ہوا، فطری طور پر یہ آسانی پیدا ہونے لگی کہ ’’ہندی‘‘ نام سے دیوناگری میں لکھی جانے والی تحریر کو شناخت ملے۔ معاملہ جب بین الاقوامی سیاست کے دائرے تک پہنچا ہواہو یا وہاں کے اشارات سے یہاں کے علمی معاملات میں دخل اندازیاں ہوتی ہوں تو سازشوں کے امکانات اپنے آپ واضح ہونے لگیں گے۔ فورٹ ولیم کالج میں ابتداً ہندی، ہندستانی، اردو جیسے الفاظ آج کی اردو کے لیے بھی مستعمل ہوئے کیوںکہ اس زمانے کے پڑھے لکھے ادیوبوں شاعروں میں انھی اصطلاحات کا رواج تھا مگر ۱۸۰۲ء میں ہی جان گل کرسٹ نے کھڑی بولی ہندی، کھڑی بولی ہندستانی یا اصلی کھڑی بولی جیسی اصطلاحوں کا اولاً استعمال کیا اور پھر کالج کے دو مصنفین للو لال جی اور سدل مشرا کو باضابطہ یہ ہدایت د ی گئی کہ وہ سب لوگ کھڑی بولی میں اپنی تحریریں سامنے لے آئیں۔ سدل مشرا نے اپنی کتاب ’’رام چرت‘‘ میں صفحہ دو پر یہ بات لکھی ہے:

’’گل کرسٹ نے۔۔۔ ایک دن آگیا دی کہ تم رامائن کو ایسی بولی میں کرو جس میں عربی فارسی نہ آوے۔ تب میں اس کو ’’کھڑی بولی‘‘ میں کرنے لگا۔‘‘

للو لال جی نے بھی سموت ۱۸۶۰ سے ’’یامنی بھاشا‘‘ (یعنی فارسی رسم خط میں اردو)چھوڑ کر کھڑی بولی میں لکھنے کی ہدایت کا ذکر کیا ہے۔ اس کا اثر کتنا ہوا، اسے اس طور پر جاننا چاہیے کہ ہندی لفظ اردو کی شناخت سے اچانک علاحدہ ہوگیا اور ۱۸۵۲ء میں جب گارساں دتاسی نے خطبہ دیا تو اس کا ماحصل کچھ اس طرح اسی کے لفظوں میں پیش کیا جاسکتا ہے:

’’اہلِ یورپ لفظ ’ہندی‘ سے ہندوؤں کی بولی مراد لیتے ہیں جس کے لیے ہندوی بہتر ہے اور مسلمانوں کی بولی کے واسطے ’’ہندستانی‘‘ کا نام قرار دے دیا ہے۔‘‘

اردو ہندی کے نام اور زبانوں کی پہچان کی یہی وراثت سرسیّد احمد خاں کو ملی۔ جس کی وجہ سے ابتدائی دور سے یہ بات سرسید کے لیے قابلِ غور رہی کہ اردو اور ہندی زبانوں کو دو الگ الگ ناموں اور دو  ر سوم خط سے پہچانا جائے گا۔ فورٹ ولیم کالج کے دور میں ہی زبان اور رسم خط کے ساتھ اقوام کی شناخت اور مذہبی طور پر انھیں تقسیم کرنے کا ایک واضح انداز نظر آتا ہے۔ زبان کے سلسلے سے رفتہ رفتہ قومیت اور مذہبیت کو جوڑ کر کچھ ایسا ماحول قائم ہوا کہ ملک میں مذہبی تنگ نظری کے ساتھ ساتھ لسانی تنگ نظری کی بھی چپقلش شروع ہوگئی۔ یہ بات یہاں بتانے کی نہیں کیوںکہ انگریزی راج کی تاریخ کے مقاصد واضح تھے اور ہندستانی قوم میں نفرت کی بنیاد پر اختلاف اور بٹوارے کی لکیر کھینچنے میں انھیں آسانی ہوسکتی تھی۔اردو اور ہندی زبانوں کو لے کر رفتہ رفتہ جس انداز کا ماحول قائم ہوتا گیا، اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ زبان کو اوزار بناکر اقوام میں تقسیم کی مہم میں انگریز نہ صرف یہ کہ مکمل طور پر کامیاب ہوئے بلکہ اس وقت جو بیج بوئے گئے تھے، وہ اب پورے طور پر زہریلے پھل پیدا کرنے کے لائق ہوگئے۔

’’حیات سرسیّد‘‘ کی مختلف کڑیوں کو جوڑیں تو غدر کے بعد سرسیّد جس تجدید کاری کی مہم میں رواں دواں تھے، اس کی سب سے بڑی رکاوٹ مذہبی تقسیم اور منافرت ہی تھی۔ سرسید نے جن اداروں کی داغ بیل رکھی، ٹرانسلیشن سوسائٹی، سائنٹفک سوسائٹی اور ایم۔اے۔او۔ (MAO) کالج؛ ہر جگہ اپنی طرف سے انھوں نے برادرانِ وطن کی شمولیت سے گریز کی کوئی خوٗ نہیں اپنائی مگر دوسری طرف زبان کے سلسلے سے انگریزی پالیسی اور برادرانِ وطن کے بدلتے انداز کو بھی وہ بغور دیکھ رہے تھے۔ ۱۸۶۱ء میں بنارس انسٹی ٹیوٹ کا قیام اور پھر ۱۸۶۷ء سے ہندی ناگری تحریک سے منظر نامہ خاصہ تبدیل ہوجاتا ہے۔ بہانا سرکاری زبان کابنا اگرچہ ۱۸۳۷ء سے ہی فارسی رسم خط میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل تھا مگر بنگال کے لیفٹیننٹ گورنر جی کیمبل نے ۴؍دسمبر ۱۸۷۱ء کو یہ حکم نامہ جاری کیا کہ ہندی کیتھی رسم خط میں سرکاری زبان کے طور پر استعمال میں لائی جائے گی۔ بنارس اور الٰہ آباد میں جس منظم طریقے سے سرکاری زبان کے طور پر ہندی اور دیوناگری کے مقدمات عوامی اور علمی طور پر لڑنے میں کامیابی پائی گئی، اس میں پرانی اور نئی انجمنیں شریک تھیں اور ان کے اثرات پورے شمالی ہند پر پڑے۔

یہ محض اتفاق ہے کہ سرسیّد احمد خاں ۱۸۶۷ء سے ۱۸۷۶ء کے دوران بنارس میں مامور تھے اور دیڑھ برس برطانیہ قیام کو چھوڑ کر وہ مسلسل اسی شہر میں اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ یہ بھی خوب کہ اس زمانے میں سرسید اور دوسرے لوگوں کی کوششوں سے جو ایک نیا اور روشن خیال طبقہ ملک میں پیدا ہورہا تھا، انگریزی حکمتِ عملی سے اس کا بڑا حصہ اس ہندی تحریک میں پورے جوش و خروش کے ساتھ شامل ہوچکا تھا۔ اس میں وہ لوگ بھی شریک تھے جو مختلف انجمنوں کے تحت سرسیّد کے ساتھ کام کررہے تھے مگر بہت تیزی سے ان کے مزاج میں تبدیلی آرہی تھی۔ ان میں سے بعض سرسیّد کی تعلیمی مہم میں تو شریک تھے اور یونی ورسٹی کو چندے بھی دے رہے تھے مگر اردو ہندی کے مسئلے میں وہ ہندو اور مسلمان بنے بیٹھے تھے یا سرسیّد احمد خاں کے نقطۂ نظر کے طرف دار نہیں تھے۔

اردو ہندی کے تنازعات کی تاریخ مرتب کریں تو جن بنیادی کرداروں کی پہچان ہوتی ہے، ان میں سے اکثر ایسے اصحاب ہیں جن کا براہِ راست تعلّق سرسیّد کے قائم کردہ اداروں بالخصوص سائنٹفک سوسائٹی سے قائم ہوچکا تھا۔ راجا جے کشن داس، بابو شیو پرساد، ماسٹر پیارے لال اور دھرم نارائن یا بابو سرودا پرشاد سنڈل وغیرہ سے سرسیّد کے ادارہ جاتی اور علمی رشتے ثابت ہیں۔ ۱۸۵۷ء کے بعد لسانی فرقہ پرستی کی لَے کچھ اس قدر تیز ہوئی جس سے ان میں سے متعدد افراد اردو ہندی مسائل کو حساس اور نازک کے ساتھ پورے طور پر پیچیدہ بنانے میں سرگرم ہوگئے۔ ذاتی خط و کتابت سے لے کر سرکاری مراسلت، ہر جگہ اردو ہندی کے سوالات سامنے آتے رہے۔ رسمِ خط اور زبان میں عربی، فارسی یا سنسکرت کے اضافے یا تخفیف کے معاملات بھی خاص طور پر زیرِ بحث رہے۔ اس زمانے میں سرسید اس پورے طوفان کاتنِ تنہا مقابلہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بعض افراد کے سوالوں کے جوابات باضابطہ طور پر وہ انسٹی ٹیوٹ گزٹ اور گشتی مراسلوں سے دیتے ہیں۔

مکتوباتِ سرسید (مرتبہ: اسماعیل پانی پتی) کی جلد اول میں سرسید کے دو خطوط بابو سرودا پرشاد سنڈل (الہٰ آباد) کے نام ملتے ہیں۔ پہلا خط ۸؍نومبر ۱۸۶۸ء اور دوسرا خط ۱۴؍نومبر ۱۸۶۸ء کو لکھا گیا ہے۔ یہ دونوں خطوط سرسید کے انگلینڈ جانے کے پہلے کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ سرسید نے سفر کی تیاریوں کا ذکر بھی کیا ہے اور معذرت کی ہے کہ تمام جواب طلب امور مضمون کی شکل میں لکھنے کی انھیں فراغت نہیں ہے۔ سرسید کے یہ خطوط اگرچہ انھیں انگریزی میں بھیجے گئے تھے مگر وہ دستیاب نہ ہوسکے۔ ۲۷؍نومبر ۱۸۶۸ء کے انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں سرسید نے ان خطوط کو شائع کردیے۔ اسی متن پر ہمیں قناعت کرنے کی مجبوری ہے۔ ۸؍نومبر کے خط میں سرسید سنڈل کو یہ جملے لکھتے ہیں:

’’مری دانست میں اس طرح پر بیان کرنا کہ ہندی زبان اضلاعِ شمال و مغرب کی موجودہ مخلوط زبان ہے جو دیوناگری حروف میں لکھی جاتی ہے، دو مخالف باتوں کو ملا دینا ہے۔ اس لیے کہ زبان فی نفسہ اور چیز ہے اور کسی قسم کے خاص حروف میں لکھا جانا اور بات ہے۔‘‘

سرسید زبان اور رسمِ خط کے امتیازات کو اس خط میں روشن کرتے ہوئے اردو ہندی کے تنازعے میں فارسی رسمِ خط کے سلسلے سے مخالفانہ زور کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ سرسید نے صراحت سے یہ بات تو کی ہے مگر ان کے مخالفین پر اس بات کا کوئی اثر نظر نہیں آتا کیوںکہ سائنٹفک سوسائٹی کے ممبر اور علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کی تحریک کے سرسید کے خاص معاون بابو شیو پرساد (ستارۂ ہند) کی کارکردگی پر غور کریں تو مزیں نئے مسائل واضح ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سائنٹفک سوسائٹی کی نشستوں کی رودادیں اردو کے ساتھ ہندی میں شائع ہوں، اس کے لیے سب سے مضبوط مانگ بابو شیو پرساد کی طرف سے ہی تھی۔ بابو شیو پرساد نے اردو کے ساتھ ہندی رسالہ سائنٹفک سوسائٹی کی طرف سے جاری کرنے کی وکالت کی۔ ۱۸۸۲ء کے ہنٹر کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے راجا شیو پرساد نے اردو کی کھلی مخالفت کی اور ہندی کی حمایت میں عرض داشت پیش کی۔ اردو کے اثرات کے پھیلنے کے بارے میں شیو پرساد طنز آمیز لہجے میں یہ بات برملا کہتے ہیں:’’اردو اپنی برتری اور اہمیت کی بنا پر ہندوؤں کی بنا پر ہندوؤں کی مادری زبان بننے والی ہے‘‘۔ انھوں نے ایک جگہ اردو رسمِ خط پر اعتراض کرتے ہوئے یہ بھی لکھا: ’’اردو کا رسمِ خط اسلامی برتری کا احساس دلاتا ہے‘‘۔ مطلب صاف ہے کہ اس سے نجات حاصل کرلینا چاہیے۔‘‘

۱۴؍نومبر ۱۸۶۸ء کو سروادا پرساد سنڈل کو سرسید چند نئی بنیادوں پر قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس وقت زمین اور مکان کے کاغذات کی فارسی زبان میں تحریر کے خلاف سنڈل اور دوسرے لوگ یہ بات بھی پیش کررہے تھے کہ فارسی میں لکھے وثائق کی زبان مشکل ہے اور انھیں پڑھوانے کے لیے خرچ کرکے فارسی رسمِ خط کے ماہرین سے تعاون لینا پڑے گا۔ سرسید کے جملے کچھ اس طرح سے ہیں:

’’یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ اہلِ معاملہ کے لیے یہ حروف بڑی سدِّراہ ہیں کہ ان کو بعض وثائق کے پڑھوانے کے واسطے ایک فارسی خواں کی تلاش ہوتی ہے اور اس میں ان کا سخت ہرج ہوتا ہے۔‘‘

سرسید کو معلوم ہے کہ یہ اعتراضات بہانہ بناکر کیے جارہے ہیں، اس لیے انھوں نے سنجیدگی سے یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ سرکاری دستاویزات پورے طور پر سمجھنا عام آدمی کے بس کی کبھی بات نہیں رہی۔ دنیا کی دیگر ترقی یافتہ زبانیں اور اقوام بھی ان مسائل میں مبتلا رہی ہیں۔ قانونی مسئلوں کو ماہرینِ قانون ہی پورے طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ اس لیے سرسید نے یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ یہ بات رسمِ خط کے بجاے قانونی مہارت سے تعلق رکھتی ہے۔

اس دور میں ایسے بھی اعتراضات شروع ہوئے تھے کہ سرکاری استعمال کی فارسی رسمِ خط کی اردو مشکل تر ہے اور اس کے مفہوم کوسمجھنے میں عام لوگوں کو دشواری ہوتی ہے جب کہ ہندی سادہ ز بان ہے اور دیوناگری میں لکھے الفاظ آسانی سے سمجھ میں آتے ہیں۔ اس زمانے میں ایسا ماحول بنانے کی کوشش ہوئی تھی کہ سرکاری کام کاج میں استعمال کی جانے والی اردو زبان بے حد مشکل اور ناقابلِ فہم ہے۔ سرسید اس سازش کو سمجھتے ہیں اور سنڈل کو خط لکھتے ہوئے محبت اور انصاف کے ساتھ صحیح صورتِ حال کا احساس کراتے ہیںَ ۱۴؍نومبر کے خط میں سرسید نے ان تمام معاملات کی وضاحت کی ہے:

’’آپ کا یہ فرمانا کہ اردو زبان میں فارسی کے بہت لفظ مخلوط ہیں، بجا نہیں ہے۔ اس واسطے کہ فارسی کے لفظ اردو ہیں، وہی لوگ زیادہ ملادیتے ہیں جو فارسی زیادہ جانتے ہیں اور جو لوگ فارسی زیادہ نہیں جانتے، وہ نہایت رواجی اور عام استعمال کے لفظوں میں بولتے ہیں جیسے کہ قدیمی رومی زبان کا جاننے والا انگریز اپنی اصلی انگریزی زبان میں رومی لفظ اور جملے ملانے کا شائق ہوتا ہے یا سنسکرت کا ماہر بھاکا زبان میں سنسکرت کے لفظ ملانے سے باز نہیں رہتا ہے‘‘۔

اردو کے خلاف طرح طرح سے جس زہرناکی کا اس وقت مظاہرہ کیاجارہا تھا اور بے شک جس کا سرسید اپنی سطح سے جواب دے رہے تھے، اس کی سطح علمی بنیادوں سے گرکر کس قدر نیچے ہوگئی تھی، اسے جاننے کے لیے راجا شیو پرساد (ستارۂ ہند) کے ۱۸۶۸ء میں لکھے اور بنارس انسٹی ٹیوٹ کے جلسے میں پڑھے گئے اور گورنمنٹ پریس الہٰ آباد سے ۱۸۷۳ء میں چھپے رسالے ’’کچھ بیان اپنی زبان کا‘‘ سے اقتباسات ملاحظہ کرنا ضرور ی ہے جس سے اس وقت کے طوفان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے:

’’اہلِ اسلام اپنے گھمنڈ کے مارے محکوموں کی زبان میں گفتگو کرنا بے شک موجبِ ذلت و حقارت سمجھتے ہوں گے لیکن ان کی حرم سرا میں ہندوزاد لڑکیوں سے پُر تھیں اور انھیں دن رات کام  ایسے ہندوؤں سے پڑا کرتا تھا جو کہ فارسی سے کم واقف تھے‘‘۔ (ص:۱۵)

’’پچیس برس گزرتے ہیں۔ سرکار نے اپنی کچہریوں میں سے فارسی زبان اٹھادی اور حکم دیا کہ اس ملک کی بولی میں کام کیا جائے۔ سرکار کا انصاف اور سرکار کی دانائی اس تجویز سے اظہر من الشمس تھی۔ زبانِ فارسی تو اُٹھ گئی مگر حروفِ فارسی (اور میں پھر اسی غلط لفظ کا استعمال کرتا ہوں) مفرس جملے جو اکثر کایستھ اور اہلِ اسلام ہیں جوں کے توں باقی ہے‘‘۔ (ص:۲۰)

راجا شیو پرساد اردو میں تقریباً دو درجن کتابوں کے مصنف تھے جن میں سے اکثر کتابیں درس میں شامل تھیں۔ سرسید احمد خاں نے ان کی وفات پر جو تعزیتی تحریر شائع کی، اس میں ان کی اردو مخالفت کا ایک ذرا ذکر نہیں ہے اور علی گڑھ کالج کے سلسلے سے ان کے چندہ دینے یا سرگرم ہونے کا حوالہ بہ طورِ تعریف موجود ہے۔

۱۸۶۷ء میں سرسید احمد خاں نے واے سراے اور گورنر جرنل دونوں کو ورناکولر یونی ورسٹی کے سلسلے سے عرض داشت پیش کی تھی۔ اس پر شیو پرساد اور جے کشن داس جیسے معتبر اردو مخالفین کے دستخط موجود تھے مگر رفتہ رفتہ سرسید کے حمایتی ورناکولر یونی ورسٹی کی حمایت سے دور ہوتے چلے گئے اور اس مجوزہ یونی ورسٹی کی ایسی مخالفت ہوئی کہ پھر ہمیشہ کے لیے یہ معاملہ ہی ختم ہوگیا۔ اسی سلسلے سے بنارک سے کمشنر مسٹر شیکسپیر سے تبادلۂ خیالات کے دوران سرسید نے جو کہا، وہ حقیقت میں سب کی آنکھیں کھولنے والا ہے۔ اپنی کوششوں میں ناکام رہنے کا درد کیا ہوگا، اس کا اندازہ سرسید کی ان باتوں سے ہوسکتا ہے جسے حالی نے یوں نقل کیا ہے، ملاحظہ ہو:

’’اب مجھ کو یقین ہوگیا ہے کہ دونوں قومیں کسی کام میں دل سے شریک نہ ہوسکیں گی۔ ابھی تو بہت کم ہے، آگے آگے اس سے زیادہ مخالفت اور عناد ان لوگوں کے سبب جو تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں، بڑھتا نظر آتا ہے۔ جو زندہ رہے گا، دیکھے گا۔‘‘(حیاتِ جاوید)

اردو ہندی تنازعات میں سرسید بے شک اپنی دلیلیں پیش کرتے رہے اور انھوں نے کوشش کی کہ تمام مخالفین کو قائل کرلیں۔ ابتدائی دور میں وہ ایک ایک بات کا جواب دیتے رہے مگر دیڑھ برس کے لیے قیامِ برطانیہ کی وجہ سے اردو کے مخالفین کو بھرپور مواقع حاصل ہوئے اور انھوں نے شدت کے ساتھ محاذ آرائی کی۔ سرسید صد فی صد اردو کے طرف دار ہیں اور ملک کے مستقبل کے لیے اپنا واضح نقطۂ نظر رکھتے ہیں مگر انگریزوں کے ساتھ معاونت کا رویہ اور جاگیردارانہ طبقے کے افراد اور حکومت نواز لوگوں کی ہمراہی کے سبب ہوسکتے تھے۔ تعلیمی معاملے میں ان کی ترقی میں کہیں نہ کہیں انگریزوں کے خلاف نہیں ہونے کو بھی ایک بنیاد کا پتھر سمجھا جاتا ہے۔ مسلم یونی ورسٹی کے علاوہ دوزری نشستوں میں بھی سرسید کی ان اصحاب کے ساتھ ملاقات کا سلسلہ رہتا تھا۔ اکثر ایسے معاملات پر انگریز مخالف نہیں ہونا چاہتے تھے۔ ہندی کی موافقین اگر آگے بڑھ رہے ہیں تو سرسید کو اس سے زیادہ پریشانی اس لیے نہیں ہے کہ وہ سب انگریزی نواز طبقے سے متعلق ہیں۔ سرسید کی یہ دانش ورانہ افتاد تھی کہ وہ انگریزوں کے ساتھ رہتے ہوئے ان کی کوتاہیوں، خامیوں اور سازشوں پر بھی نظر رکھتے تھے، اسی لیے انھوں نے اتنی شدت کے ساتھ اردو مخالفین سے لوہا لیا اور اپنی باتیں بہ بانگِ دہل کہتے رہے۔

سرسیّد احمد خاں عرفِ عام میں علمِ زبان کے ماہر نہیں تھے۔لسانیاتی شغف کے ثبوت تو ان کے ہاں ضرورملتے ہیں مگر یہ کہنا ہمارے لیے مشکل ہے کہ اردو یا کسی دوسری ز بان کی پیدائش اور ارتقا کے مراحل کی باریکیوں سے وہ کما حقہٗ واقف تھے۔یہ بھی درست ہے کہ اس وقت تک لسانیا ت کا شعبہ ابھی طفلی کے دور سے گزرر ہا تھااور پوری دنیا میں اس سلسلے سے ابتدائی کا م ہی سر انجام پا سکے تھے۔’آثارالصنا دید‘ میں زبان  کے آغاز و ارتقا پر سر سیّد کی جو غور و فکر ملتی ہے،اسے بھی اُن کی لسانی دلچسپیوں کے ثبوت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔سرسید کے عہد میں، خاص طور سے انیسویں صدی کے پورے عرصے میں میر امّن دہلوی ،اسداللہ خاں غالب ،امام بخش صہبائی اور محمد حسین آزاد کے ساتھ ساتھ سر سیّد کوکچھ یوں یاد کیا جاسکتا ہے کہ ان اصحاب کے یہاں اردو زبان کے تعلّق سے بعض ایسے موضوعات پر گفتگو ملتی ہے جنھیں موجودہ عہد کے ترقی یافتہ علم لسانیات سے ہم رشتہ کیا جا سکتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ان تمام افراد کی تحریروں میں موجود بنیادی منطق ،علمی ثبوت اور نتائج سے یہ بات واضح ہو جا تی ہے کہ ان تمام افراد کے یہاں یہ علم ابھی ابتدائی شکل میں تھا جس کی وجہ سے مختلف مراحل میں ان کی دلیلیں نا کافی ہیںاور اخذ ِ نتائج میں جگہ جگہ واضح علمی کمزوریاں بھی ظاہر ہو تی ہیں۔اس کے باوجود اس نسل کے افراد اپنی باتیں پیش کرنے میں اس وجہ سے کامیاب ہوئے کیوں کہ ان کا روایتی علم اور اس سے حاصل شدہ عرفان کے ساتھ ساتھ علمی خلوص اور ذہنی وابستگی میں ایسی کاملیت تھی جس سے اس نسل نے نئے نئے علمی ذائقوں سے پوری قوم کو آشنا کرایا۔

سرسیّد احمد خا ں اور ان کی نسل کے دوسرے ادبا لسانیا تی توجہ اور انہماک کے باوجوداپنے دلائل میں کس حد تک آج کے مطابق کچّے اور ناپختہ ثابت ہوئے،اس کی جانچ کرنے کے لیے علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کے 19مارچ 1898میں شایع شدہ سرسیّد کا مضمون ’’متعلق اردوناگری‘‘کا مطالعہ بے سود نہ ہو گا۔غالباً سرسیّد کی زندگی کا یہ آخری تحریری نمونہ ہے کیوں کہ آٹھ دنوں کے بعد سرسید اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔حقیقت میں یہ مضمون بعض لوگوں کے ان سوالوں کے جواب پر مشتمل ہے جن کا یہ کہنا تھا کہ ہندستان کی عدالتوں میں اردو کی جگہ پر دیوناگری رسمِ خط میں ہندی زبان کو نافذ کرنا چاہیے ۔سرسیّد اس پوری ناگری تحریک کے خلاف تھے۔اپنے مضمون میں سرسیّد نے جن خاص نکات کی طرف اشارہ کیا ہے، وہ درج ذیل ہیں :

’’بہار میں کیتھی حروف جاری ہوئے ہیں جو آسانی سے لکھے جاتے ہیں مگر ان کا پڑھنا اردو حرفوں کی تحریر سے بھی زیادہ مشتبہ اور مشکل ہے۔ ناگری حرفوں کا لکھنا بہ نسبت کیتھی حرفوں کے، نہایت مشکل اور بہت دیر میں لکھے جاتے ہیں اور منڈے حرفوں کی تحریر کبھی صحیح نہیں پڑھی جاتی، پس کیتھی حرفوں کے جاری ہونے اور ناگری حرفوں کے جاری ہونے میں نہایت تفاوت ہے اور اس لیے صوبۂ بہار کی کارروائی پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔‘‘

’’کتنے اخبار ہیں جو اردو زبان اور اردو حروف میں چھپتے ہیں اور کتنے اخبار ایسے ہیں جو ہندی زبان اور ناگری حروف میں چھپتے ہیں اور اردو کی کس قدر کتابیں اور رسالے اردو میں چھاپے جاتے ہیں اور کس قدر رسالے اور کتابیں ہندی اور ناگری حرفوں میں چھاپی جاتی ہیں۔‘‘

’’ایک اور ذریعہ اس بات کی دریافت کرنے کا (ہے)کون سی زبان اور کون سے حروف ملک میں عام طور پر رائج ہیں۔ سرکاری ڈاک خانہ ہے جس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ جس قدر خطوط ڈاک میں پڑتے ہیں، ان میں کس قدر اردو کے ہوتے ہیں اور کس قدر ناگری کے۔

’’ہم کو یقین ہے کہ ہندو اور مسلمان باہم بات چیت میں جو زبان بولتے ہیں، اس میں کچھ فرق نہیں ہے۔ جس طرح اردو زبان میں بہت سے الفاظ فارسی یا عربی کے مستعمل ہوگئے ہیں، اسی طرح روز بروز انگریزی زبان کے بھی بہت سے لفظ شامل ہوتے جاتے ہیں اور یہ قدرتی قاعدہ ہے کہ جوں جوں زبان کو ترقی ہوتی جاتی ہے اور غیر قوموں سے میل جول ہوتا جاتا ہے، اسی غیر زبان کے لفظ زبان میں آتے جاتے ہیں۔ ان لفظوں کے آنے سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ زبان اصلی نہیں رہی۔‘‘

’’ہم اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ قدرتی طور پر یہ بات لازم ہے کہ جو زبان حاکموں کی ہے، وہی زبان عدالتوں میں جاری ہو مگر اس وقت اس قدر لوگ انگریزی تعلیم یافتہ موجود نہیں ہیں کہ ان تمام عہدوں کو معمور کریں جن کی ضرورت گورنمنٹ کو ہے۔ بالفعل ملک میں انگریزی تعلیم کی ترقی ہوتی جارہی ہے اور متعدد سرکاری عہدوں میں انگریزی دانی کی شرط ہوگئی ہے اور چند روز بعد انگریزی تعلیم یافتوں کی کثرت ہوجاوے گی اور گورنمنٹ کو ہر ایک عہدے کے لیے انگریزی تعلیم یافتہ لوگ میسر آویں گے اور اس وقت ضرور ہوگا کہ تمام عدالتوں میں انگریزی مروّج ہوجاوے۔‘‘

سرسیّد نے اپنی زندگی کے آخری دور میں یہ مضمون لکھا ، اس لیے یہ توقع کی جاتی ہے کہ اردو ہندی کے مسئلے پر ان کے علمی نتائج کا یہاں نچوڑ سامنے آگیا ہوگا۔ اردو ہندی کے مسائل، اردو کی پیدائش اور فروغ و ارتقا کے مراحل سرسید کی زندگی میں کم و بیش نصف صدی تک ایک علمی موضوع کے طور پر موجود دکھائی دیتے ہیں۔ مگر یہاں ان کی دلیلیں دیکھنے سے اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ یہ قومی تعلیم کی اس دور اندیش شخصیت کے الفاظ ہیں جس نے اپنی کوششوں سے آنے والے دور کا نقشہ بدل دیا تھا۔ کیتھی، ناگری اور فارسی رسم خط کے درمیان تقابل کرتے ہوئے سرسیّدعلمی بنیادوں پر کہیں قائم و دائم نظر نہیں آتے۔ کیتھی کا اردو سے مشکل ہونا اور کیتھی سے زیادہ ناگری حرفوں کے لکھنے کے انداز کو سرسید نے جس اعتماد کے ساتھ پیش کیا ہے ، اس کے پیچھے ان کے ذاتی شغف یا معذرت کے علاوہ کوئی اور بات سمجھ میں نہیں آتی۔ یہ بات بھی یہاں توجہ طلب ہے کہ سرسید ایک عام اردو تحریک کار کی طرح یہاں اپنے دلائل پیش کرتے ہیں جہاں علمی اور لسانیاتی بنیادیں معدوم ہیں۔

ہندستانی زبان ناگری یا کیتھی میں زیادہ لکھی جاتی ہے یا فارسی رسم خط میں؛ اس پر سرسیّد اپنی طرف سے جرح کرنا چاہتے ہیں۔ اخبارات و رسائل کی اشاعت کی تعداد کو وہ معیار تصور کرتے ہیں اور اپنے عہد میں یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہندی یا دیوناگری میں نکلنے والے اخبارات و رسائل سے زیادہ فارسی رسم خط میں طباعت کا کام ہورہا ہے۔ ہمیں یاد ہونا چاہیے کہ سرسیّد حکومت کی زبان کون سی ہو، اس بنیادی موضوع پرگفتگو کررہے ہیں۔ سرسید کی اسی منطق سے آزادی کے بعد ہندستان میں سرکاری اداروں میں اردو کو جگہیں نہیں ملیں اور بے پناہ قتل و خون کے بعد بنگلہ دیش سے بھی اس زبان کی سرکاری حیثیت ختم ہوگئی۔ سرسید یہاں زبان کی علمی بنیادوں، اصطلاحات کی تشکیل اور حکومت کے مختلف انداز کے کاموں میں زبان کی مہارت کے بنیادی نکتوں کو چھوڑ کر جن دلائل تک خود کو محدود کرتے ہیں، وہ مستقبل میں اردو کے مخالفین کے منہ میں دلیلیں ڈالنے کے مترادف ہے جن کے خطرات اور پھر نتائج سے ہم سب واقف ہیں۔ سرکاری ڈاک خانے میں خطوط کی زبان کو بنیاد بنانا بھی اسی انداز کا ایک بے پروا ثبوت ہے کیوںکہ رفتہ رفتہ اس میں بھی اردو پچھڑتی چلی گئی اور آج وہاں ہے کہ ہم بہ مشکل کبھی یہ حوصلہ کرپاتے ہیں کہ کوئی کسی خط کا پتا اردو میں لکھے۔

ہندو اور مسلمان طبقے کی زبان کے امتیاز میں سرسیّد اردو مخالف لوگوں کی دلیلوں کے چنگل میں اپنے آپ پھنس جاتے ہیں۔ اردو کون سی زبان ہے اور ہندی کون سی، اس سلسلے سے انگریزوں کی نگرانی میں فورٹ ولیم کالج میں وہ مشہور اصول قائم ہوا کہ جہاں عربی فارسی کے الفاظ زیادہ ہوں، وہ زبان اردو ہے اور جہاں سنسکرت اصل کے الفاظ زیادہ استعمال میں لائے جائیں، وہ ہندی ہے۔ فورٹ ولیم کالج میں اس اصول کے پیچھے واضح حکمتِ عملی تھی اور وہاں بہت آسانی سے عربی اورفارسی کے حوالے سے مسلمانوں کی شناخت ہوگئی اور اسی طرح سنسکرت کے سبب ہندومذہب کو پہچانا گیا تھا۔اس بات سے قطع نظر کہ زبان کی شناخت میں سرمایۂ الفاظ کی بنیادی حیثیت کیوںکرہونی چاہیے؟فورٹ ولیم کالج کی سازشی حکمت عملی کو غالباً علمی اعتبار سے سرسید بہت حد تک سمجھ نہیں پائے اور اردو میں شامل عربی، فارسی الفاظ کی توجیہہ کرتے نظر آتے ہیں۔ سر سیّد کا حکومتِ وقت اور لسانی آبادی سے میل جول کا سبب متعین کرتے ہوئے انگریزی کے رفتہ رفتہ اثر انداز ہونے کی بات علمی دلیل کے اعتبار سے ایک عامیانہ توجیہہ ہے۔ اس دلیل سے ہم کسی زبان کی کاروباری جہتوں کو کھول نہیں سکتے۔ اپنی مہارتوں سے کوئی لسانی آبادی کس طرح اپنی ایک نئی دنیا گڑھتی ہے، اس پر سرسیّد سیر حاصل گفتگو نہیں کرتے۔ مشکل یہ ہے کہ سرسیّد اردو میں موجود عربی وفارسی الفاظ کی مخالفت کو حکومتِ وقت کے اثرات سے متعلّق کرنے میں جس انداز کی دلیلیں پیش کرتے ہیں، ان کے خطروں کو وہ بالکل نہیں سمجھتے حالاںکہ حکومت کے اثر سے حکومت کی زبان عوام پر اپنے آپ دباو قائم کرلیتی ہے، اس پر سرسیّد کے بیانات اس مستقبل کی طرف اپنے آپ اشارہ کرتے ہیںکہ آنے والے وقت میں اردو کی جگہ پر ہندی اور پھر انگریزی کو سرکاری زبان کے طور پر داخلہ مل جائے گا۔ اگر اسے سرسیّد کی مستقبل شناسی کہیں تو پھر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر ان تمام باتوں کو سمجھتے ہوئے وہ اردو ہندی کے اس تنازعے میں ہندی کی مخالفت اور اردو کے طرفدار کیوںکر ہونا چاہتے ہیں؟

DR. SAFDAR IMAM QUADRI

Head, Department of Urdu, College of Commerce, Arts & Science, Patna: 800020(Bihar)

Res: 202, Abu Plaza, NIT More, Ashok Rajpath,Patna-6(Bihar)

Email: safdarimamquadri@gmail.com  Mobile: 09430466321

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ادبی میراثاردو ہندی کا مسئلہسرسید احمد خان
0 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
سر سید کا نظریہ تعلیم نسواں – ڈاکٹر درخشاں 
اگلی پوسٹ
اردو محققین کے پیش رو: سر سید احمد خاں- ڈاکٹر سلمان فیصل

یہ بھی پڑھیں

حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –...

جنوری 20, 2025

کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

اکتوبر 8, 2024

حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی...

اکتوبر 7, 2024

نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام...

جولائی 23, 2024

مفتی عزیز الرحمن شاہدؔ چمپارنیؒ (یادوں کے چراغ)...

مئی 30, 2024

توقیتِ  علامہ محمد اقبال – پروفیسر محسن خالد...

مئی 29, 2024

تو نے اے خیر البشرؐ انساں کو انساں...

ستمبر 26, 2023

اور سایہ دار درخت کٹ گیا – منہاج الدین...

فروری 22, 2022

ابّو جان (شیخ الحدیث مولانا محمد الیاس بارہ...

فروری 22, 2022

 مولانا عتیق الرحمن سنبھلی – مفتی محمد ثناء الہدیٰ...

فروری 15, 2022

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,048)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (406)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (217)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں