آخری سردار – ابو بکر عباد

by adbimiras
0 comment

اور پھریوں ہوا کہ سردار بھیڑیے کے گھر دھیرے دھیرے جنگل کے تمام بھیڑیے جمع ہونے لگے۔ بوڑھے، جوان ، بچے، شاطر اور عیار۔سب کے چہروں پر حیرت کی لکیریں ابھری ہوئی تھیں۔ اور بات تھی بھی حیرت کی ، کہ چند دنوں پہلے سردار بھیڑیے کے گھر جس بچے نے جنم لیا تھااس کے دانت بھیڑیوں کے دانت کی طرح نوکیلے نہ ہو کر بالکل بے ضرر تھے اور چہرے پر رعونت کی بجائے ایک عجیب سی معصومیت کھیلتی تھی۔

بڑے بوڑھے بھیڑیوں نے اس نو مولود بچے کو تعجب سے دیکھا اور پھر ایک دوسرے کے چہروں پر یوں نظریں جما دیں جیسے پوچھ رہے ہوں ’’اس جنگل میں یہ کیسی انہونی ہوئی ہے جو اب تک نہ کسی نے دیکھی، نہ سنی۔‘‘

لیکن بچہ پیارا تھا اور سردار کا تنہا وارث۔ اس لیے سب بھیڑیوں نے اپنے اپنے چہروں سے حیرت کی لکیریں مٹائیں اور آنکھوں میں خوشی کی چمک پیدا کر کے سردار بھیڑیے کو مبارکباد دی اور اس کے سامنے بڑی عقیدت کے ساتھ بچے سے متعلق اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔

وقت کے ساتھ ساتھ بچے کی عمر بڑھتی رہی۔ اور اس کے ساتھ ہی جنگل کے بھیڑیوں کی حیرتیں بھی۔ کہ اب تک نہ تو اس بچے میں اُن کی سی عیاری آئی تھی، نہ چہرے پر ان کے چہروں کی سی کرختگی کے آثار نمایاں ہوئے تھے۔ اور جب وہ اپنے ارد گرد رو نما ہونے والے واقعات پر تعجب سے بھویں سکیڑ تا، تو بڑے بوڑھوں کے من میں شک کی منھی منّی کونپلیں پھوٹنے لگتیں، جنھیں وہ دیرینہ تجربات کی عطا کردہ چہرے کی جھریوں سے ڈھانپنے کی کوششیں کرتے، کہ مبادا اس کے اظہار کے نتیجے میں کہیں وہ خود باعث حیرت نہ بن جائیں۔ (یہ بھی پڑھیں ‘‘آخری سردار’’ :ایک علامتی اور استعاراتی افسانہ : ڈاکٹر زاہد ندیم احسن)

جنگل کے شب و روز یوں ہی گزرتے رہے۔ دن کے بعد رات، سردیوں کے بعد گرمی اور پھر برسات۔ جیسے ہر ایک دوسرے کے تعاقب میں ہو، یا پھرہرایک دوسرے کے خوف سے بھاگ رہے ہوں۔ اور اسی بھاگ دوڑ کے درمیان جب موسمِ خزاں جھومتے پیڑ پودوں کے آخری گُل بوٹے اُتارنے میں مصروف تھا کہ اچانک ایک صبح سردار بھیڑیے کی نا گہانی موت سے سارا جنگل سناٹے کی دھند میں ڈوب گیا۔

اور تب جنگل کے تمام بھیڑیوں نے صلاح و مشورہ کرنے کے بعد سردار بھیڑیے کے گھر جنم لینے والے اس عجیب بچے کو ، کہ جس کے دانت بھیڑیوں کے دانت کی طرح نوکیلے نہ ہو کر بالکل بے ضرر تھے، اور چہرے پر رعونت کی بجائے ایک عجیب سی معصومیت کھیلتی تھی، اپنا نیا سردار چُن لیا۔

سردار منتخب ہوجانے کے کچھ دنوں بعد اس نے محسوس کیا کہ اس کے چہرے کی معصومیت اور بے ضرر دانت اب اس کے لیے تکلیف دہ ثابت ہو رہے ہیں۔کیونکہ سردار بنے رہنے کے لیے نوکیلے دانت اور چہرے پر رعونت بے حد ضروری تھے اور وہ ان چیزوں سے عاری تھا۔ جس کی وجہ سے جنگل پر اس کی گرفت ڈھیلی پڑتی جا رہی تھی، اور خود بھیڑیوں کے سردار کی حیثیت سے اس کی شناخت کھونے لگی تھی۔ آخر مشیروں کے بے حد اصرار اور بہت سوچ بچار کے بعد اس نے فیصلہ کیاکہ جنگل پر اپنی گرفت مضبوط اور سردار کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم رکھنے کے لیے وہ اپنے چہرے پر رعونت پیدا کرے گا اور دانتوں کو نوکیلے بنائے گا۔

جب اس فیصلے کی خبر رینگتی ہوئی جنگل کے بڑے بوڑھے بھیڑیوں کے کانوں تک پہنچی تو نہ ان کے چہروں پر پڑی حیرت کی لکیریں مزید گہری ہوئیں ، نہ من میں اگی شک کی منھی منی کونپلوں کو کوئی تقویت ملی، بلکہ انھیں ایک پُر اسرار طمانیت کا احساس ہوا، اور ایک عرصے سے اُن کے سینوں میں دبی مانوس خوشی کی لہر تبسم بن کر اُن کے ہونٹوں پر جگمگا اٹھی ۔

نئے سردار کی نئی زندگی کا آغاز ہو چکا تھا، اور وہ اپنے دانتوں کو نوکیلے بنانے اور چہرے پر رعونت پیدا کرنے کے تمام طریقے آزمانے میں مصروف ہوگیا۔ لیکن اس کے چہرے پر ابھی رعونت کی پہلی تہہ بھی نہیں چڑھ پائی تھی کہ ایک سیاہ رات میں جب وہ چیتوں کی کمیں گاہ والے نشیبی علاقے سے گزر رہا تھا ؛ پہلے سردار بھیڑیے کی طرح ہی نا گہانی موت کے جبڑوں نے اسے بھی نگل لیا۔ (یہ بھی پڑھیں ساجد رشید کا افسانہ راکھ – نثار انجم )

اور پھر ہوا یوں کہ سردار بھیڑیے کے گھر دھیرے دھیرے جنگل کے تمام بھیڑیے جمع ہونے لگے ۔ بوڑھے، جوان، بچے، شاطر اور عیار۔سب کے چہروں پر حیرت کی لکیریں ابھری ہوئی تھیں، اور بات تھی بھی حیرت کی ۔ کہ مرنے والا بھیڑیے کی خصلتوں کا حامل نہ ہوتے ہوئے بھی بھیڑیے کی موت مرا تھا۔ لیکن موت بہر حال موت تھی اور سردار کی۔ اس لیے سب نے اپنے اپنے چہروں سے حیرت کی لکیریں مٹائیں اور آنکھوں میں انتہائی غم کی کیفیت پیدا کر کے سردار کے وارث کے سامنے اس عجیب و غریب موت پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

٭٭٭

Abu Bakar Abbad

(M)9810532735

E–mail: bakarabbad@yahoo.co.in

You may also like

Leave a Comment