بازار عکاظ سے خلد بریں تک – ڈاکٹر نورالصباح

by adbimiras
2 comments

کئی روز سے پے در پے ہونے والی  اعزہ واقارب کے ساتھ مفکر و مدبر اور دانشوران علم وادب کی اموات بھی میرے اعصاب پر سوار تھیں۔ دل تنہائی کا متلاشی تھا کہ اس وقت صرف خدا یاد آرہا تھا ۔

اسی تنہائی کی تلاش میں گوشہ نشینی کے عالم میں اچانک نیند کا غلبہ ہوا مجھے یوں محسوس ہوا کہ کوئی  میرا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر ایسی گلیوں کی طرف لیے جا رہا ہے جہاں سے مبہم سی آوازیں آرہی ہیں ۔ سماعت اچانک بیدار ہوجاتی ہے اور ان آوازوں کی طرف خود کو مرکوز کردیتی ہے مگر ارتکاز جتنا گہرا ہوتا ہے آوازیں اتنی ہی مرتعش ہوجاتی ہیں اور آشنا نا آشنا آوازوں کا ایک مرغولہ سا ذہن کے اوپر سے گزرجاتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں مشرف عالم ذوقی سے ایک ملاقات : یادیں جو یاد رہ جاتی ہیں – محمد ریحان)

آوازوں کے جال میں الجھ کر میں نے اپنی انگلی تھامنے والے کا چہرہ نہیں دیکھا میں اس انگلی تھامنے والے کے ساتھ آوازوں کے جال کی طرف بڑھی تو میری آنکھیں حیرت کے لا متناہی سمندر میں غرق ہوگئیں۔

میری نگاہوں کے سامنے جزیرہ عرب جیسا ایک بازار تھا ، جسے میں نے نیم غنودگی اور عالم حیرانگی میں اپنے شکستہ حافظے پر زور دیتے ہوئے یاد کیا کہ ، اس بازار کو ” بازار عکاظ” کا نام دیا جاتا تھا۔

اس میں اشیاء خوردونوش کے ساتھ شعر گوئی اور قصہ خوانی کی محفلیں ہوا کرتی تھیں جو عرب میں اب بھی طائف کے مقام پر واقع ہے۔

جہاں اب شعر گوئی و قصہ خوانی کے ساتھ مختلف فنون لطیفہ کے اسٹیج ، شعروسخن منبر  ہوا کرتے ہیں۔ جو قدیم روایتوں کی یاد دلاتے ہیں وہی منظر اس وقت میری نگاہوں کے سامنے تھا،

لیکن اس کے کردار عربی قبائل کے نہیں بلکہ افسانوی ادب کی تاریخ رقم کرنے والے وہ دانشور تھے جس سے داستان اردو کی ایک تابناک انجمن جھلملا رہی تھی۔

جیسے ہی میرے اوپر یہ آشکار ہوا کہ میری نگاہوں کے سامنے ایک پوری ادبی دنیا آباد ہے  میرے اعصاب نے غنودگی کی کیفیت کو جھٹک کر اضطراری کی چادر اوڑھ لی۔ اور آنکھوں کی پتلیاں اسی اضطراری انداز میں اطراف و جوانب میں گھومنے لگیں۔

ہائے اللہ‌۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اس وقت حیرت کے سمندر میں غرق ہوگئی جب پریم چند کو اسٹیج پر دیکھا جو ترقی پسند تحریک کے اجلاس میں کہہ رہے تھے کہ "ہمیں حسن کا معیار بدلنا ہوگا” اور پھر میرے حافظے کے کسی گوشے سے ان کا ناول "بازار حسن” ابھرا۔ اس کے بعد میری اضطراری نگاہوں کے سامنے اسٹیج شو آگیا جس پر آغا حشر کاشمیری کا کوئی ڈرامہ کھیلا جارہا تھا، اور اس کے سامنے ادبی مقابلہ آرائی کی صفیں بھی آراستہ تھیں جہاں پر کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، منٹو اور عصمت براجمان تھے۔ (یہ بھی پڑھیں ہماری نسل نے شمس الرّحمان فاروقی کو کیسے دیکھا اور کیسا پایا؟- ڈاکٹر صفدرامام قادری)

آگے شعرو سخن کی محفل آراستہ تھی جس میں فیض احمد فیض، غالب، اقبال اور میر تھے تو ناسخ، جرات، مصحفی بھی تھے ، مجھے حیرت ہوىی کہ آخر ماجرا کیا ہے کہ زمانے کے اتنے فاصلے نے بھی انھیں یکجا کیا ہے ، مزید حیرت یہ ہوئی کہ فضا ابن فیضی بھی ان کی ان کی انجمن میں شامل ہیں کہ اچانک میری سماعت سے انگلی تھامنے والے کی آواز ٹکرائی۔

تمہیں پتا ہے میں یہاں تمہیں کیوں لے کر آیا ہوں؟؟؟؟

اففففف اتنی رعب دار آواز میں نے پہلی بار سنی تھی مگر اس آواز میں شیرینی و ملاحت بھی شامل تھی کہ اچانک نیند کے تار ٹوٹ گیا۔

ارے !!! یہ کیا۔۔۔۔۔۔ انگلی تھامنے والے ہاتھ کہاں گئے؟ جب میرے اوپر دوبارہ غنودگی کا غلبہ ہوا تو میں بازار عکاظ میں سراسیمہ سی تنہا کھڑی اطراف و جوانب‌ میں نگاہیں گھوما رہی تھی مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اچانک میری نگاہیں ایک اسٹیج کی طرف چلی گئیں ۔ میں نے دیکھا کہ ایک طول طویل اسٹیج لگا ہوا ہے اس پر لاتعداد کرسیاں لگی ہوئی ہیں سائیڈ میں منچ ہے کرسیوں پہ براق جیسے سفید کرتوں میں ملبوس باریش ہستیاں براجمان ہیں اور ان کے سامنے لگے ٹیبل پہ نیم پلیٹیں بھی ہیں اس پر کندہ نام مجھے دور سے نظر نہیں آرہے تھے ، ان کے اطراف میں بے شمار باریش اور مہذب اشخاص  ویسے ہی کرتوں میں ملبوس تھے جن کی قدوقامت سے بزرگیت چھلکی پڑ رہی تھی۔

وہاں کا سماں قابل دید اور سحر زدہ تھا۔ مجھے سمجھنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگی کہ یہ کوئی عام اجتماع نہیں بلکہ علماء دین کا جمگھٹا ہے جنھیں سننے کے لیے اتنی بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں۔

نزدیک جاکر دیکھا تو مفتی عتیق الرحمان سنبھلی ، حضرت مولانا قاری محمد طیب ، بے باک صحافی حفیظ نعمانی کے والد ماجد اور ” الفرقان ” والے حضرت مولانا  محمد منظور نعمانی صاحب ، حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی اسٹیج پر براجمان ہیں ، ان میں اور بھی علماء ہیں اور میرے نانا مولانا منیرالدین صاحب شاہی کٹرے کے امام  بھی وہاں موجود ہیں ، جن کی جلالی نگاہوں سے ہمیشہ خوف آتا تھا۔

میں تو ایک ایک ہستی کو دیکھ کر غش کھا رہی تھی اور کبھی حیرت کے سمندر میں غوطہ لگا رہی تھی ۔ نانا جان کو میں آواز دینے جا رہی تھی کہ یکایک صحافیوں کے ایک ٹولے پر میری نظر پڑگئی ۔

دیکھا کہ کچھ صحافی آپس میں سیاست پہ بے باکی کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں۔ اتنی بے باک گفتگو نے حفیظ نعمانی کی یاد دلا دی ۔ (یہ بھی پڑھیں مولانا وحید الدین خاں ؒ :ذاتی مشاہدات وتاثرات – ڈاکٹر وارث مظہری)

اپنے حافظے کے گلیاروں میں میں نے ان کی شبیہ تلاش کرنے کی کوشش کی ، اور یہ سوچا کہ جب اتنے لوگ یہاں پر موجود ہیں ، شاعر،ادیب، علماء صحفا تو اس جم غفیر میں وہ بے باک صحافی تو ضرور ہوگا۔ انھیں گردش کرتی ہوئی سوچوں کے درمیان انگلی تھامنے والا شخص بھی یاد آیا اور میں حیران و پریشان آگے ہی بڑھ رہی تھی کہ انگلی تھامنے والے کی آواز دوبارہ میری سماعت سے ٹکرائی ، جیسے ہی میں نے نظریں گھما کر دیکھا میرے سامنے وہی شخصیت ایستادہ تھی ، جن کی تصویر اویس سنبھلی نے مجھے ارسال کی تھی اور جنھیں اخباروں میں دیکھا بھی تھا ، جن کی تحریروں سے واقف بھی تھی، جن کی تحریروں نے ایوانوں میں دھماکہ مچایا تھا، جن کی بے باکی نے عہدے دار ں کی نیندیں اڑا دی تھیں، جن کے بڑے بڑے سیاستداں مداح تھے، جو عوام کے ہمدرد و غمگسار بھی تھے جنھوں نے اپنی حیات کے قیمتی ایام کے نو ماہ زندان کی نذر کیے تھے جن کی جیل ڈائری  روداد قفس کی شکل میں منظر عام پر آئی اور جنھوں نے اپنے دوستوں کے دلنشیں خاکے بھی تحریر کیے جو بجھے دیوں کی قطار کے روپ میں ہیں جس کے

پڑھنے کے بعد تو میں شیدائی بھی ہوگىی تھی، وہی تصویر میرے سامنے مجسم  اپنی با رعب شخصیت اور شائستہ مسکراہٹ کے ساتھ کھڑی تھی ، حیرت زدہ سی آنکھیں کھولے انھیں تکے جا رہی تھی کہ آیا میں خواب میں ہوں یا یہ حقیقت ہے کہ

اچانک حفیظ صاحب کی آواز نے مجھے چونکا دیا،

کہ وہ مولانا ولی رحمانی،مفتی اعجاز ارشد قاسمی، ماہنامہ شاعر ممبئی کے مدیر افتخار امام صدیقی،پرفیسر ظفرالدین جو مولانا آزاد حیدرآباد کے مرکز برائے مطالعات اردو ثقافت و نظامت ترجمہ واشاعت کے ڈائریکٹر تھے،ماہر تعلیم ،مصنف ادیب و فنکار پروفیسر انیس چشتی، ماہر تعلیم و صحافی فاطمہ زکریا، علمی و ادبی سرگرمیوں میں شرکت کرنے والے وجاہت فاروقی، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء برڈ کی سابق رکن و مصنفہ رخسانہ نگہت لاری، شاعر سیف سہسرامی، شاعر وادیب احسن اعظمی، پرفیسر اشتیاق دانش ، رسالہ ” سیکولر محاذ ” والے ریاض عظیم آبادی ، صحافی و خاکہ نگار فیض الحسن بچوں و بڑوں کے ادیب پروفیسر عاشق ، ہرگانوی، ” کئی چاند تھے سر آسماں ” والے پروفیسر شمس الرحمان فاروقی، پرفیسر ظفر احمد صدیقی، بے باک ادیب و صحافی مشرف عالم ذوقی، افسانہ نگار و شاعرہ تبسم فاطمہ، ایوان غالب کے ڈائریکٹر رضا حیدر، تنقید نگار پروفیسر مولا بخش، وغیرہ کا استقبال کر رہے تھے کہ اچانک میری نظر پاکستان کے ” الجمیعۃ ” کے ڈپٹی ڈائریکٹر شیخ ابو بکر پر پڑی جن کی تحریروں سے مجھے عقیدت سی ہوگئی تھی، جن کے کمنٹ مجھے کچھ نہ کچھ سیکھا جاتے وہ اپنی پوری وجاہت کے ساتھ لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ لیے ہوئے ہندوستانی ادیب و بے باک صحافی حفیظ نعمانی کی طرف آ رہے تھے کہ میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ یہ فیس بک کی دنیا سے باہر کس طرح آگئے ، ان ادیبوں کے اجتماع اور حفیظ صاحب کی موجودگی مجھے حیرت میں ڈالے ہوئے تھی کہ ان کی آواز گونجی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آئیے آئیے تشریف لائیے خلد بریں میں آپ لوگوں کا آنا مبارک ہو

کہ اچانک میری نیند ٹوٹ گئی۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

You may also like

2 comments

Zabeehullah جون 9, 2021 - 7:27 شام

بہت دلچسپ تحریر ہے ڈاکٹر نور الصباح کی

Reply

Leave a Comment