ذی علم اور ادبی لوگوں کے درمیان وقت گزارنا میرے نزدیک دنیا کا سب سے بہترین مشغلہ ہے۔ اس وقت اور لمحے کی اہمیت بے نظیر ہے کہ جس میں ہمیں کچھ نیا سیکھنے کا موقع ملتا ہے.میں اکثر اپنے علمی و ادبی ذوق کی تسکین کے لیے ادب سے وابستہ لوگوں سے ملتا رہا ہوں۔
آج سے تقریباً چار سال قبل 2017 میں مشرف عالم ذوقی صاحب کے گھر جانے کا شرف حاصل ہوا تھا. اتوار کا دن تھا. ذوقی صاحب اس دن خاص طور پر طلبہ سے ہی ملتے تھے.اس کا علم مجھے پہلے نہیں تھا. یہ بات انہوں نے ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو میں بتائی تھی.اس دن عزہ معین بھی آئی ہوئی تھیں.ان کا تعلق سنبھل سے ہے اور دہلی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ ان کے ساتھ ان کی چھوٹی بہن بھی آئی تھیں. عزہ کے دو بھائی فرحان اور بلال بھی ساتھ تھے۔ ذوقی صاحب کے استقبال کرنے کا انداز مجھے بے حد پسند آیا تھا۔ پہنچتے ہی خیریت دریافت کی تھی۔ میں پہلی دفعہ ان سے ملنے گیا تھا. عزہ بھی پہلی مرتبہ ان کے آشیانے پر گئی تھیں.ظاہر ہے یہ بات انہیں معلوم تھی. اس لئے پہنچتے ہی انہوں نے راستے کی دشواریوں اور سواری کی دقتوں کے بارے میں دریافت کیا.پھر کچھ رسمی باتیں ہوئیں.انہوں نے ہمیں اس کمرے میں بیٹھایا تھا جہاں وہ دیر رات تک اپنے تخلیقی کام میں مشغول رہتے تھے۔
کمرہ بہت بڑا تو نہیں تھا. لیکن چھوٹا بھی نہیں تھا.دیوار کی ایک طرف سے ایک بڑا صوفہ اور دو سنگل صوفے لگے ہوئے تھے.وہاں دس بارہ لوگوں کے بیٹھنے جگہ تھی.دوسری طرف سے ایک لمبا مخروطی شکل کا ٹیبل تھا جس پر دو کمپیوٹر رکھے ہوئے تھے. رات کی خاموشی میں کاغذ پروہ جو کچھ رقم کرتے تھے دن میں وہ اسےکمپیوٹر میں محفوط کردیتے تھے.گیٹ سے قریب جس سے ہم لوگ داخل ہوئے تھے ایک بڑی سی آرام دہ کرسی تھی جس پر وہ اپنے خاص انداز میں بیٹھے ہوئے تھے.چہرہ ہشاش بشاش اور بے باک نطر آ رہا تھا.ویسے وہ فطری طور پر بھی بے باک اور بے خوف انسان تھے. ان کی آرام دہ کرسی کے ٹھیک پیچھے دیوار کی الماری میں بے شمار کتابیں سجی ہوئی تھیں. کمرے کے شمالی حصے کی دیوار سے ایک بڑی کھڑکی لان کی طرف کھلتی تھی. اے سی چل رہا تھا اس لئے کھڑکی کا شیشا چڑھا ہوا تھا. کمرہ صاف ستھرا اور نکھرا ہوا تھا.ہر چیز سلیقے سے رکھی ہوئی تھی. کمرے کی نفاست دیکھ کر مجھے ان کی تحریر کی نفاست یاد آگئی۔ جس طرح ان کی نثر میں کوئی ابتری اور بکھراو نہیں ہوتا اسی طرح ان کی عام طرز زندگی میں بھی کوئی بےترتیبی نظر نہیں آئی. ذوقی صاحب مہمان نوازی کے سلیقے سے خوب واقف تھے.پہنچتے ہی پینے کے لئے پہلے ٹھنڈا پانی پیش کیا.تھوڑی دیر بعد پھر شربت منگوائی.اس بیچ رسمی باتیں بھی ہوتی رہیں.کچھ ہی دیر میں پھر انواع و اقسام کے کیک، بسکٹ اور میٹھائیاں پروس دی گئیں.چائے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا.حالانکہ ان کی اہلیہ گھر پر موجود نہیں تھیں. میں یہ بھول رہا ہوں کہ رسمی بات چیت کے بعد ادبی گفتگو کہاں سے شروع ہوئی. لیکن جہاں تک مجھے یاد آرہا ہے انہوں نے عزہ معین کی اس بات سے باضابطہ ادبی گفتگو کا آغاز کیا کہ لکھنے کی عمر کیا ہونی چاہئے یا کس عمر میں آکر قلم اٹھانا چاہئے۔
ذوقی صاحب کہنے لگے کہ لکھنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ انہوں نے اردو اور مغربی ادب سے ان ادیبوں کے نام گنوائے جنہوں نے نہ صرف کم عمر میں لکھنا شروع کیا بلکہ وہ کم عمری میں وفات بھی پاگئے. تاہم ان کے نام اور کارنامے سے پوری دنیا واقف ہے.جو نام مجھے یاد رھ گئے یا جن کے بارے میں مجھے پہلے سے معلوم تھا ان میں اردو کے مجاز اور انگریزی کے کیٹس قابل ذکر ہیں. کیٹس کا انتقال 25 سال کی عمر میں ہو گیا تھا.لیکن انگریزی شاعری کی تاریخ اس کے نام کے بغیر نا مکمل ہے. مجاز نے اگرچے 44 سال کی عمر پائی تھی لیکن یہ عمر بھی ادبی تاریخ میں انمٹ نشان چھوڑنے کے لئے کم ہے .منٹو نے بھی کوئی لمبی عمر نہیں پائی تھی.محض 43 سال کی عمرمیں اردو فکشن کے ذخیرے میں گراں قدر اضافہ کر کے وفات پا گئے. ان کی اس بات سے مجھے فرانسیسی ادیب البیغ کامیو کا نام یاد آگیا۔
میں نے جب کامیوں کا ذکر کیا تو ذوقی صاحب بہت خوش ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کامیو ان کا سب سے پسندیدہ مصنف ہے.کامیوں نے بھی محض46 سال کی عمر پائی تھی.1960 میں جب وہ کار حادثے کا شکار ہوا اس وقت وہ “اجنبی” “زوال”، “طاعون” اور دوسرے لا فانی ناول لکھ چکا تھا. اس کو ادب کا نوبل انعام بھی دیا گیا.ایک اور فرانسیسی ناول نگاراور شاعر ریمنڈ رادیگیو ہے جو صرف بیس سال تک ہی زندہ رہ سکا تھا.اس نے محض اٹھارہ سال کی عمر میں Le Diable au corps یعنی “جسم کا آسیب” ناول لکھ کر بڑے بڑے نقادوں کی نظر اپنی طرف متوجہ کر لی تھی.خود ہمارے اردو میں کئی ایسے نام مل جائیں گے جو محض بارہ سے پندرہ سال کی عمر میں علمی و ادبی حلقے میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہو ئے.اس سلسلے میں مولانا آزاد کا نام لیا جا سکتا ہے.بارہ سال کی عمر سے وہ علمی اور بصیرت افروز مضامین لکھنے لگے تھے.اردو کے اکثر شاعروں کی شاعری کی ابتدا کم عمری میں ہی ہوئی.بہر کیف انہوں نے مثالوں کے ذریعے یہ واضح کر دیا تھا کہ لکھنے کی کوئی عمر متعین نہیں ہوتی۔
مجھے یاد آ رہا ہے خود ذوقی صاحب نے اپنا پہلا ناول غالبا اٹھارہ سال کی عمر میں لکھا تھا۔ انہوں نے لکھنے کے معاملے میں عمر کے مسئلے کو لیکر سب سے بڑی بات یہ کہی تھی کہ آپ کو اگر یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ لکھ سکتے ہیں تو کسی چیز کاانتطار نہ کریں.لکھنا شروع کر دیں. تنقید کا خوف ذہن سے نکال دیں.آپ اچھا لکھتے ہیں یا خراب دونوں صورتوں میں نقاد آپ کے پیچھے لگے رہیں گے.نقاد کی تو سانسیں ہی آپ کی تخلیق پر منحصر ہوتی ہیں. لہذا جب آپ لکھیں گے تو وہ آپ کے پاس آکسیجن لینے آئیں گے. نکتہ چینی سے گھبرائیں نہیں. آپ بس اپنا کام کرتے رہیں. آپ کا حلقہ خود بخود بنتا جائےگا اور بڑھتا بھی جائے گا. انہوں نے لکھنے کے ساتھ ساتھ مطالعہ سے ہمیشہ اپنا رشتہ بنائے رکھنےکی نصیحت بھی کی تھی . ظاہر ہے ہم اگر مطالعہ کو اپنی ڈھال بناتے ہیں تو ہم نکتہ چینوں کے کسی بھی طرح کے وار کو روک سکتے ہیں.اس کے علاوہ ہمارا مطالعہ جتنا وسیع ہوتا ہے ہماری تحریریں اسی قدر نکھرتی چلی جاتی ہیں. عالمی افسانوی ادب پر بڑی سیر حاصل گفتگو کی. تقریبا ہر بڑی زبان کے فکشن لکھنے والوں کے موضوعات اور انسانی زندگی اور سماج پر ان کے ہونے والے اثرات پر تفصیل سے اظہار خیال کیا۔ (یہ بھی پڑھیں ایک شہنشاہ کی موت – مشرف عالم ذوقی )
فرانسیسی اور روسی ادیبوں پر گفتگو زیادہ مرکوز رہی۔ اس کی وجہ یہ کہ ان دونوں زبانوں کا ادب زیادہ رچ ہے۔ ادب پر گفتگو ہوگی توفرانسیسی اور روسی ادب کا کچھ زیادہ ذکر ہونا فطری ہے۔ میں بھی ان کی گفتگو میں شریک ہو جاتا تھا۔ وہ مجھے اس کا موقع بھی دے رہے تھے۔ یہ صفت ایک بڑے فنکار کے یہاں ہی پائی جاتی ہے.وہ صرف اپنی بات نہیں کہتے.وہ دوسروں کے خیالات کو بھی جگہ دیتے ہیں.فرانسیسی ادب کے تراجم پر میرا کام ہے. اس لئے میں زیادہ دلچسپی بھی لے رہا تھا. جہاں کچھ چیزیں گنجلگ معلوم ہوتی تھیں.ان کے متعلق درمیان میں سوال بھی کر لیتا تھا.وہ فوری ان سوالوں کے اطمنان بخش جواب بھی دیتے تھے.برصغیر ہند و پاک میں جو فکشن لکھا جا رہا ہے اس کی کیا صورت حال ہے اور آنے والے دنوں میں کس طرح کا فکشن لکھا جائےگا اس کا انہوں نے بھر پور جائزہ لیا. ان کی گفتگو سے میرے لئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ ہندوستان کی ہر زبان میں لکھے جانے والے افسانوی ادب سے اچھی واقفیت رکھتے تھے۔
مختلف زبانوں میں لکھنے والے ناول نگاروں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے گتفگو کا رخ اپنی طرف موڑ دیا.انہوں نے کب سے لکھنا شروع کیا.ان کا تخلیقی ویژن کتنا اثرانگیز ہے. ان کے ناول کی انفرادیت کیا ہے.لکھنے والوں کی بھیڑ سے خود کو کیسے الگ کیا. ان سارے گوشوں پر انہوں نے کھل کر روشنی ڈالی.وہ کہانی کیسے بنتے تھے اور مواد کیسے تیار کرتے تھے اس پر بڑی دیر تک گفتگو کی.انہوں نے اپنے تخلیقی سفر کے بہت سے پڑاؤ کا ذکر کیا.انہوں نے باتوں بات میں بڑی اچھی بات یہ کہی کہ جینون رائٹر ہمیسہ اپنی نظر مستقبل پر رکھتا ہے. میں نے ان کی گفتگو میں ان کی تحریر کی سی روانی پائی.زبان کی صفائی ان کی سب سے اہم خوبی ہے. ان کو میں نے پڑھا ہے. پوکے مان کی دنیا اور لے سانس بھی آہستہ یہ دونوں ناول میرے مطالعے کا حصہ رہے ہیں. ان کو سنتے ہوئے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں ان کو پڑھ رہا ہوں. ہم لوگ ان کے یہاں تقریبا تین گھنٹے تک بیٹھے رہے لیکن ان کی گفتگو کی چاشنی نے ایسا سحر پیدا کر دیا تھا کہ وقت کے گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا. باتیں اتنی مفید اور معلوماتی کر رہے تھے کہ بس سنتے ہی رہنے کو جی چاہ رہا تھا.لیکن شام ڈھلنے لگی تھی.عزہ کو اسی دن سنبھل لوٹنا تھا اور ذوقی صاحب کو بھی منور رانا کی تیمار داری کے لئے ایمس جانا تھا. اس لئے مجلس بادل نخواستہ برخواست کی گئی۔
آخر میں انہوں ایک دلچسپ اور حقیقت پر مبنی بات کہی تھی کہ ادب کو سمجھنے کے لئے وقت کی قربانی دینی ہوتی ہے۔ اپنے آپ کو وقف کرنا ہوتا ہے۔ ہمارا بدن جب تک ادب کی بھٹی میں تپتا نہیں اس وقت تک نہ ادب کی تخلیق ہوتی ہے اور نہ اس کی سمجھ پیدا ہوتی ہے۔ ادب کی بھٹی میں ہم اپنے جسم کو جلا کر ہی ادب کو سمجھنے والا دل اور روح تیار کرتے ہیں۔ ادب کا رشتہ انسان کے دل اور اس کی روح سے ہوتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کا مصنف اوپر اوپر کی چیزیں لکھ رہا ہے اور قاری بھی سطحی چیزوں میں خوش ہے.نتیجہ یہ ہے کہ چیتن بھگت کے ناول ہمارے سلیبس کا حصہ بن رہے ہیں اور اردو کا تو خیر پوچھنا ہی نہیں۔ ناول نگار جو تو لکھ کر چاہتا ہے تنقید نگار اسےکافکا اور چیخوف کے برابر رکھے۔ بہر کیف وہ ملاقات بہت خوشگوار تھی۔ آتے وقت انہوں نے مجھے اپنا ناول “نالہ شب گیر” مطالعے کی غرض سے دیا تھا۔ ناول دیتے وقت ایک اور اہم بات انہوں نے کہی تھی کہ آپ میری باتوں سے اختلاف کر سکتے ہیں اور کرنا بھی چاہئے لیکن اختلاف کرنے سے پہلے پڑھئے ضرور۔ در اصل وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ میرے نالوں کے متن اور مواد سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کس چیز سے اختلاف کر رہے ہیں۔ اکثر دفعہ ہوتا کیا ہے کہ لوگ سنی سنائی باتوں پر اپنا نظریہ قائم کر لیتے ہیں۔ افسوس کہ یہ چلن ان دنوں کچھ زیادہ ہی عام ہے۔ متن سے دوری ہمارے دور کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ خیر انہوں نے جو ناول مجھے دیا تھا وہ میں نے پڑھ تو لیا ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ان کی زندگی میں اس ناول پر میں نے کبھی کچھ لکھا نہیں۔ البتہ مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ میں نے کال کر کے ان سے ناول کی خوبی اور خامی پر گفتگو کر لی تھی۔ میں نے ان سے کہا کہ ناول کے مرکزی کردار کے ساتھ آپ کا ٹریٹمنٹ جذباتی ہے منطقی نہیں۔ ناول کے شروع میں مرکزی کردار جتنی شدت سے متاثر کرتا ہے وہ نصف ناول تک پہنچتے پہنچتے ڈھیلا ہوجاتا ہے۔ جیسے جیسے ناول آگے بڑھتا ہے وہ کردار اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔ ناول کے آغاز میں قاری کا مرکزی کردار سے ایک مضبوط رشتہ ڈیولپ ہوتا ہے لیکن جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے قاری کا مرکزی کردار سے رشتہ کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس طرح یہ ناول ایک کامیاب ناول نہیں ہے۔ میری یہ بات سن کر مشرف عالم ذوقی خوش ہوئے اور کہنے لگے آپ نے بڑی باریکی سے میرے ناول کا مطالعہ کیا ہے۔ اس گفتگو میں آپ نے کہا تھا کہ ناول پڑھ کر جو کچھ آپ نے سمجھا ہے اسے قلمبند کریں اور دوسرے لوگوں کو بھی اپنے خیالات و نظریات سے مستفید ہونے کا موقع دیں۔ میرے لیے یہ بہت بڑی بات تھی۔ یہ میری بدقسمتی ہے کہ میں اب تک مکمل مضمون نہیں لکھ سکا۔ اب جب کہ مشرف عالم ذوقی ہمارے بیچ نہیں رہے، مجھے ان کی ایک ایک بات یاد آرہی ہے اور میں پل پل بے چین ہو رہا ہوں اور کف افسوس مل رہا ہوں کہ کاش میں ان کی زندگی میں ان کے ناولوں کے حوالے سے کچھ لکھ پاتا۔
محمد ریحان،
ریسرچ اسکالر،جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئ دہلی
نوٹ: یہ مضمون جناب محمد ریحان صاحب کے فیس بک پیج سے لیا گیا ہے۔ ہم ان کے بے حد ممنون ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] متفرقات […]