دیومالائی کہانیوں اور ڈراموں کا تعلق قدیم ثقافتی احوال سے ہے ۔ دیومالائی کہانیاں یا ڈرامے قدیم تہذیب و ثقافت کو سمجھنے کا منظم اسلوب ہیں۔ دیومالا دراصل انسانی علامات و اطوار، کائنات کا وجود ، قدرتی مظاہر ، کلچر اور قدرت کے بیچ کے رشتے اور مادی اور غیر مادی عناصر پر مشتمل کہانیاں ہیں۔ یہ کہانیاں علامت سے بھری ہوئی ہیں ، علامت کا استعمال خصوصی طورپر انسان اور دیوتائوں کے لیے ہوتا ہے۔ اکثر علامتوں کا استعمال دیوتائوں کے ساتھ ساتھ انسان یا ایک دوسرے کی جگہ پر ہوتا ہے۔
دیومالائی کہانیاں ، الوہیت ، غیبی طاقت اور شاہی سلسلے کے وجود کی ترجمانی کرتی ہیں۔ اورانہیں جائز ٹھہراتی ہیں۔ مثال کے طور پرAtreous۱؎ کے گھرانے کا نام لیا جاسکتا ہے۔رو میوں کے مطابق Seneca۲؎ کی Medea۳؎۔ دیو مالا تاریخ اور جنگی کہانیوں کے ذریعے نسل اور قومی شناخت قائم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر City Stateکو لیا جاسکتا ہے۔
اگر ہم دیکھیں تو یونانی ڈراموں میں یونان کے متعدد ڈراما نگار وں نے پلاٹ اور کرداروں کے ذریعے اپنی باتوں کو پیش کرنے کے لیے دیومالا کا سہارا لیا ہے۔ دیومالائی ڈراموںکا تعلق سماجی مراسم سے گہرا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قدیم یونانی ڈراموں کا ارتقا مذہبی تقاریب اور تہواروں سے ہوا۔جب مرکزی کردار اپنے وجود یا آواز کو Corusسے ممتاز کرتا ہے تو ڈرامے کی بنیاد پڑتی ہے۔ المیہ ناٹکوں میں مرکزی کردار (Propagonist)کی آواز اور وجود اس کو سماج اور قدرت سے بے بہری کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کبھی کبھی ڈراموں میں دو یکساں قابل جواز اخلاقی فریضہ کی وکالت سے تضاد بھی پیدا ہوتا ہے۔ اس بات کی نشاندہی Hegalنے کی ہے۔ مثال کے طور پر Sopheslicsکا ڈراماAntigoneکو لیا جاسکتا ہے۔ اس ڈرامے میں مرکزی کردار (Protagonist)غیبی دیوتائوں کے تئیں فرائض کے مقابلے ریاست کے مطالبوں سے انکار کرتا ہے۔ اسی طرح زراعتی طریقے یا تہوار جو Elusisمیں منائے جاتے تھے اس سے بھی دیومالائی ڈراموں کا ارتقاہوا۔ دور وسطیٰ میں مغربی ڈراموں کا ارتقا عبادتی یا مذہبی عمل سے ہوا۔مثال کے طور پر Antiphonal Tropesکو لیا جاسکتا ہے۔
یہ ڈرامے دراصل Holy Weekاور Easterکے موقع پر کھیلے جاتے تھے۔ اس طرح دیکھا جائے تو ڈراما عالمی ادب کی ایک عظیم الشان صنف ہے۔ جس میں دیومالا کا پایا جانا ناگزیر ہے۔ہندوستان میں اس کے نقوش سنسکرت ڈراموں میں ملتے ہیں ، اس کی قدامت کے سلسلے میں عام روایت ہے کہ
’’ڈرامے کی ابتدا اندر لوک کی اداکارہ اروشی غلطی اور اس غلطی کے پاداش میں اسے زمین پر بھیج دیے جانے کی وجہ سے ہوئی۔ ہندوستان میں ڈرامے کی ابتدا سے متعلق ایک اور نظریہ تقریباً تمام ناقدین نے نقل کیا ہے کہ جب دیوتا ایک ہی طرح کی زندگی جیتے جیتے اوب گئے تو انھوں نے مشورہ کیا کہ اندر کے پاس چل کر ان سے گزارش کی جائے کہ وہ برہما کے سامنے ہمارے مسائل کو رکھے سبھی دیوتاؤں نے ایسا ہی کیا اندر کو ان دیوتاؤں کی باتیں معقول لگی اور اندر نے ان کے سامنے برہما کے مسائل رکھتے ہوئے تجویز کیا کہ انھیں کوئی ایسا فن دیا جائے جسے دیکھا اور سنا جاسکے۔ اس پر برہما نے ریگ وید سے پاٹھ (مکالمہ) سام وید سے سنگیت (موسیقی) یجروید سے ابھی نئے (اداکاری) اور اتھر وید سے رس (نورس) لے کر ایک نئے فن کی تخلیق کی اور اس کا نام ناٹیہ وید رکھا جسے پانچویں وید کی شکل میں دیوتائوں کے پاس بھیج دیا ۔‘‘
پروفیسر انور پاشاآر۔ کے کنگ کے قول کی روشنی میںرقم طراز ہیں۔
’’اندر کے آسمانی تھیٹر میں ایک ناٹک سوئمبو، کھیلا جارہا تھا۔ رقاصہ اروشی وشنو کی زوجہ لکشمی کا پارٹ کر رہی تھی۔ یکایک اس کو اپنا دنیاوی عاشق یاد آگیا اور اس کی یاد میں آکر ایسی غلطی ہو ئی کہ مکالمے میں ایک بڑی غلطی ہوگئی۔ برہما نے غصہ میں آکر اس کو بددعادی اور اس کو زمین پر اتار دیا اس ناٹک کا فن اروشی کے ساتھ دنیا میں آگیا۔‘‘۴؎
مذکورہ بالا اقتباس کی روشنی میں ہم دیکھتے ہیں کہ ڈرامے کی ابتدا میں دیوتاؤں کا ہاتھ ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو ڈراموں میں دیومالائی اثرات کا پایا جانا ناگزیر ہے۔ کیوں کہ ڈرامہ اور دیومالا ایک دوسرے سے اس طرح باہم مربوط ہیں۔ کہ انھیں ایک دوسرے سے الگ دیکھنا ایک دشوار گزار امر ہے۔ مذکورہ صفحات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ابتدائی ڈرامے مذہب سے پوری طرح ہم آہنگ ہوتے تھے اور ان میں دیوی دیوتائوں اور مذہبی عقائد ، رسم و رواج کا پایا جانا ناگزیر عمل تھا۔ ڈراموں کے بنیادی سلسلوں میں راس لیلا، رام لیلا اوریاترا کا نام آتا ہے۔ رام لیلا میں رام اور سیتا کی کہانی ہوتی تھی جسے سال میں دشہرے کے موقع سے پیش کیا جاتا تھا اور اسے صرف مذہبی حیثیت حاصل تھی۔ یاترا میں شکتی یاترا ، شیو یاترا، رام یاترا وغیرہ کا رواج تھا جن میں ان دیوتائوں کی کہانیاں ہوتی تھیں۔ اس طرح ابتدا سے ہی ڈراموں میں دیومالا کے اثرات کو دیکھا جاسکتا ہے۔ یاترائوں میں رادھا اور کرشن کے پارٹ کو زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔ اس میں کرشن اور رادھا کی محبت کی کہانی بیان ہوتی تھی۔ جس میں رادھا کاکرشن سے جدا ہوکر بے چین رہنا، کرشن کی پرانی یادیں جس میں کرشن کا رادھا کی چوڑیوں اور بالوں سے کھیلنا ، کرشن کا رادھا کے پائوں رنگنا وغیرہ دکھایا جاتا تھا۔ اس طرح سے ابتدائی ڈراموں میں مذہبی اقدار کو زیادہ اہمیت دی جاتی تھی اور ڈرامے کی تمام فضا دیومالا سے مملو ہوتی تھی۔
اردوڈرامے کی تاریخ بہت پرانی نہیں ہے بلکہ اس کی تاریخ سوا سو سال پر محیط ہے۔ ابتدائی ڈرامے مذہب سے پوری طرح ہم آہنگ ہوتے تھے اور ان میں دیوی دیوتائوں اور مذہبی عقائد ، رسم و رواج کا پایا جانا ناگزیر عمل تھا۔ ڈراموں کے بنیادی سلسلوں میں راس لیلا، رام لیلا اوریاترا کا نام آتا ہے۔اسے اردو کا پہلا ڈراما قرار دیا جاتا ہے۔ راس لیلا میں اکثر کرشن اور گوپیوں کے عشق و معاشقہ کی باتوں اور ان کے ہجر و وصال کی باتیں بیان کی گئی ہیں۔مگر بہت سے ادیبوں کے قول کے روشنی میں دیکھا جائے تو امانت لکھنوی کا ڈراما ’’اندر سبھا‘‘ اردو کا پہلا ڈراما تسلیم کیا گیا ہے۔ اس ڈرامے میں ہندو دیومالا کے دیوتا اندر کو موضوع بنا کر پیش کیا گیاہے۔ یہ ڈراما اپنے عہد میں اتنا مشہور ہوا کہ اس کی تقلید میں اور بہت سے لوگوں نے ڈرامے لکھے جن میں اندر کو موضوع بنایا گیا اور اندر کی سبھائوں اور اس کے دارالحکومت سے جڑی کہانیاں بیان کی گئیں۔
اندر آریوں کا دیوتا تھا جب آریہ ہندوستان آئے تو اور دیوی دیوتائوں کے ساتھ اندر کو بھی ساتھ لے کر آئے۔ ہندوستان آنے کے بعد اندر کو انتہائی عروج و مقبولیت ملی بہت سے ہندو اسے سورگ (جنت) کا حکمراں خیال کرتے ہیں اور اسے راجا اندر کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔اس کی حکمرانی آسمان یعنی سورگ تک ہی محدود ہے۔ رگ وید میں اندر سے متعلق متعدد جگہ آسمانی اور دوسری خصوصیات وابستہ کی گئیں ہیں۔ آریوں کے یہاں اندر کو فضا، جنگ ، طوفان ، زرخیزی، بارش، تخلیق، چاول اور دوسرے اناجوں کا دیوتا ماناجاتا تھا۔آریوں کے یہاں اندر کی دارالحکومت اور اس کے یہاں کی اپسرائوں سے جڑی بہت ساری کہانیاں تھیں جسے تخلیق کار اپنی تخلیق میں علامت ، تمثیل ، استعارہ یا تلمیح کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح اردو ڈرامے کا آغازواجد علی شاہ کے ناٹک ’’رادھا کنہیا‘‘ سے ہوتا ہے اور اندر سبھا کی بنیاد کی مقبولیت پر پروان چڑھاتا ہے۔اس کی تقلید میں اور بہت سے ڈرامے لکھے گئے۔ ڈرامے کی ابتدا کے سلسلے میں ڈاکٹر وقار عظیم رقم طراز ہیں:
’’ہمارے ڈرامے میں اس وقت جو کچھ بھی نظر آرہا ہے وہ زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ سو برس میں بکھراور سنور کر ہم تک پہنچا ہے۔ اس وقت جو ڈرامے کی شکل تھی اس کا پہلا نقش وہ چھوٹا سا ناٹک ہے جو واجد علی شاہ نے اپنے ولی عہدی کے دنون میں لکھا تھا اور جس کی بنیاد رادھا اور کنہیا کی داستان محبت ہے۔ اس داستان کو رہس کے ناٹک کی صورت دینے سے پہلے واجد علی شاہ وہ چھتیس جلسے ترتیب دے چکے تھے جس کا ذکر انھوں نے اپنی تصنیف ’’بنّی‘‘ میں کیا ہے اور جن کی حیثیت ناچ کے جلسوں کی تھی۔ رہس کا یہ ناٹک جس کا نام رداھا کنہیا کا قصہ تھا واجد علی شاہ نے 1844ء کے درمیان لکھا بعد کو اپنی تصنیف ’’بنّی‘‘ میں شامل کردیا تھاجو 1875کی تصنیف ہے۔‘‘۵؎
لیکن باضابطہ طور پر اردو کا پہلا ڈراما امانت لکھنوی کی اندر سبھا کو مانا جاتا ہے۔ کیوں کہ یہ اردو کا پہلا ڈراما ہے جو فنی نقطئہ نظر سے ڈرامے کے اوصاف پر کھرا اترتا ہے ۔جسے عوام میں شہرت ملی۔اندر سبھا کے تتبع میں جو ڈرامے لکھے گئے ان میں مندرجہ ذیل گیارہ ڈراموںکا ذکر ملتاہے۔
مداری لال کی اندر سبھا، فرخ سبھا (مصنف نامعلوم، مطبوعہ لاہور)، راحت سبھا جشن پرستان (تصنیف بھیروں سنگھ عظمت)، ہوائی مجلس جدید، ناٹک جہانگیرم بتدر سبھا، لیلیٰ مجنوں، الہ الدین اور طلسمی چراغ، نورالدین اور حسن افروز، تحفۂ دل کشا ۔
اس طرح اردو ڈراما کا آغاز جہاں واجد علی شاہ کے ناٹک رادھا کنہیا کے قصہ سے ہوتا ہے اور اندر سبھا کی مقبولیت پر پروان چڑھتا ہے۔ ان کی بنیاد دونوں میں دیومالائی عناصر کا سہارا بھی مانا جاتا ہے۔ جب ڈراما با ضابطہ طورپرلکھا جانے لگاتو اسے عوام وخواص میں بڑی مقبولیت ملی۔ اندر سبھا کے بعد لکھنے والے اہم ڈرامانگاروں میں نسرواں جیا رام ، محمود میاں ، رونق بنارسی، حافظ محمد عبداللہ، مرزا نظیر بیگ کا نام کافی اہمیت کا حامل ہے۔ ان لوگوں نے جو ڈرامے لکھے وہ تمام ڈرامے اندر سبھا کی روایت کے پابند ہیں۔ نسرواں جی مہربان جی آرام نے اپنا پہلا ڈراما ’’لعل و گہر‘‘ کے نام سے لکھا ان کے اس ڈرامے کا پلاٹ ایک مثنوی سے اخذ کیا ہوا ہے۔ آرام ایک پارسی ڈراما نگار تھے۔ ان کا شمار اردو کے ابتدائی ڈراما نگاروں میں ہوتا ہے۔ حاتم طائی ، گوپی چند ، لیلیٰ مجنوں،علا الدین ، عجیب و غریب چراغ، بے نظیر بدر منیر، پیڑویوں مجلس عرف قمرالزماں مہہ لقا کافی اہمیت کی حامل ہیں۔ یہ تمام ڈرامے طلسماتی اور محیر العقول کرداروں سے مملو ہیں۔ جو ان ڈراموں کو ایک دیومالائی فضا عطا کرتے ہیں۔
اولین ڈراما نگاروں میں محمود میاں رونق جو کہ رونق بنارسی کے نام سے مشہور تھے۔ انھوں نے بھی بہت سے ڈرامے لکھے جن میں بے نظیر بدرمنیر، لیلیٰ مجنوں، عاشق صادق عرف ہیر رانجھا ، فسانۂ عجائب عرف جان عالم انجمن آرا، عجائبات پرستان عرف بہارستان عشق ، سنگین بکاولی، نقش سلیمانی، عرف شدادی، بہشت اورکالی کا بھوگ، قابل ذکر ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جس میں اندر سبھا کو کافی مقبولیت حاصل تھی کیوں کہ اندر سبھا میں پریوں اور دیویوںکا ذکر کثرت سے ملتا تھا جو کہ مقبولیت کا باعث تھا ۔ رونق نے اسی کوپیش نظررکھتے ہوئے اپنے ڈراموں میں اس طرح کے کردار وںکی تخلیق کی ہے۔
اسی دور میں حسینی میاں ظریف اپنے ایک الگ اسلوب کے ساتھ منظر عام پر آئے۔ انھوں نے جتنے ڈرامے لکھے ان میں بیشتر ڈرامے قدیم داستانوں سے ماخوذ ہیں اور بہت سارے ڈراموں کا تجربہ انہوں نے شیکسپیرٔ کے ڈراموں سے کیا ہے۔ اس میں عصمت عرف رنج و راحت یعنی آصف و مہوش اور گلزار عصمت ، حرف نارنگ عشق کے نام قابل ذکر ہیں۔ اس زمانے میں عوام کو سحر و طلسم کی محیر العقول داستانیں بہت مرغوب تھیں۔ اسی کے پیش نظر حسینی میاں ظریف نے بھی اپنے ان ڈراموں میں ان عناصر کو جگہ دی ہے ۔ یہ عناصر ان ڈراموں کے دیومالائی ہونے کی ضامن ہیں۔
حافظ عبداللہ بھی ان ڈراما نگاروں کے ہم عصر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ جنھوں نے اپنی ایک تھیٹریکل کمپنی ، انڈین امپیریل تھیٹریکل کمپنی کے نام سے کھول رکھی تھی۔ جو کہ مہاراج رانا نہال سنگھ والی ریاست دھول پور کی سرپرستی میں تھی یہ کمپنی ہندوستان کے مختلف شہروں کا دورہ کر کے ڈراما کھیلا کرتی تھی۔ انھوں نے اپنی اسی کمپنی کی خاطر بہت سے ڈرامے لکھے جن میں ناٹک وقائع دلگیر ، عشق صادق، (راجہ ہیر) تماشائے دلپذیر (بے نظیر بدرمنیر)، گنجینۂ محبت (طلسم الفت) ، ثمرہ نیک و بدسلوک(مارہ بہ عشق بکاولی و تاج الملوک) ، ذخیرۂ عشرت (اندر سبھا ، امانت)، سوانح قیس مفتون (عشق لیلیٰ و مجنوں) ، شکنتلا ناٹک، سخاوت حاتم طائی اور فسانۂ غمگین نمایاں ہیں۔
ان ڈراموں پر نظر ڈالنے سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اس وقت کے مشہور و مقبول قصوں کو ڈراموں کی شکل میں لکھا تھا۔ ڈراموں کے ناموں ہی سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی بنیاد مشہور قصوں، داستانوں یا مثنویوں پر ہے ۔یا دوسرے مشہور ڈراموں کو کچھ ترمیم کے ساتھ نیا رنگ دے دیا گیا ہے۔ چوں کہ ان ڈراموں کو داستانوں اور مثنویوں سے اخذ کیا گیا ہے اس لیے ان ڈراموں میں بھی دیومالائی عناصر کا پایاجانا ناگزیر ہے۔
مرزا نظیر بیگ : مذکورہ بالا ڈراما نگاروں کے ہم عصر میں شمار کیے جاتے ہیں۔ مرزا نظیر نے جو ڈرامے لکھے ان میں فسانۂ عجائب معروف بہ جان عالم انجمن آراء کا نام سر فہرست ہے۔اس کے علاوہ گل روزرینہ سے ماخوذ شاہنامہ فردوسی، گلستان بے بہا یا تائید خداداد اور طلسماتی پتلی معروف بہ سحر سامری جمشیدی کا نام اہمیت کا حامل ہے۔ مذکورہ ڈراموں کے نام سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا نظیر نے اس وقت کی کسی نہ کسی مشہور تصنیف سے اپنے ڈراموں کے پلاٹ کی بنیاد رکھی ہے۔ البتہ انھوں نے ان قصوں میں کچھ چیزیں گھٹا بڑھا کر پیش کی ہیں۔ا س طرح ابتدائی ڈراموں کی بنیادمیں دیومالائی عناصر اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ ڈراموں کی فضا پر چھائی نظر آتی ہے۔
ڈراموں کو اصل پروان پارسی تھیٹر کے زمانے میں ہوئی اس زمانے میں طالب بنارسی ، مہدی حسن ، احسن لکھنوی، نارائن پرساد بے تاب، آغا حشر کاشمیری کا نام قابل ذکر ہے۔ مذکورہ بالا ڈراما نگاروں کا شمار ان ڈراما نگاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنے ڈراموں میں قدیم رنگ کو اپنایا تھا اور اپنے ڈراموں میں دیومالائی عناصر کا سہارا لیتے ہوئے ڈراموں کی فنی خصوصیت اور تمثیل نگاری کا التزام کرنے کی وجہ سے کافی اہمیت رکھتے ہیں۔ان ڈراما نگاروں نے ڈراما کے فن اور تمثیل نگاری کو کافی وسعت بخشی ہے اور اسے ایک بلند مقام تک پہنچا یا ۔ ان میں طالب بنارسی کا نام سر فہرست ہے۔ انھوں نے نلمنی لیل و نہار، گوپی چند، ہریش چند اور وکرم بیتال جیسے ڈرامے لکھے جن میں ہندوستانی دیومالا کی کارفرمائی بخوبی دیکھی جاسکتی ہے۔
مذکورہ بالا ڈراموں کو ہم دیکھیں تو اس میں ہندوستانی دیومالا کے مختلف پہلو ہمیں موضوع اور کردار کی سطح پر نظر آ جاتے ہیں۔لیل و نہار طالب بنارسی کا بے حد اہم اور مقبول ڈراما ہے جو فنی اعتبار سے کافی مستحکم ہے۔ اور ڈرامے کے اعتبار سے اپنی تمام تر خوبیوں کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
ڈراما ہریش چند میں انھوں نے اپنے مرکزی کردار ہریش چند کی نیکی اور عبادت کا امتحان لیاہے ۔ آزمائش کے طور پرراجا کو مختلف طرح کی مصیبتوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ لیکن جس طرح سے نیک بندے کو آزمائش کے بعد آرام ملتا ہے اسی طرح ہریش چند بھی تمام مصائب سے کامیابی کے ساتھ باہر نکل آتا ہے اور دیوتا اندر اس کی عبادت سے خوش ہو کر اس کی کھوئی چیز واپس کردیتا ہے۔ اس سے پورے ڈرامے کا مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ پورے ڈرامے کی بنیاد ہندو دیومالا کو بنایا گیا ہے۔ اس ڈرامے کو جب ایک بڑے پنڈت نے دیکھا تو کہا اس کا درجہ رامائن سے کم نہیں ، اسی طرح بنارسی کا ڈراما نلمنی بھی ایک دیومالائی اور رومانوی قصے پر مشتمل ہے۔ اس میں راجا بھیم کی بیٹی ’’دندتی‘‘ اور راجا نل کے عشق کا قصہ بیان ہوا ہے۔ اس ڈرامے میں سوئمبر ، آزمائش ، مصائب ، مقابلے ، عارضی، شکست اور اخیر میں کامیابی دکھائی جاتی ہے۔اس کے علاوہ بھی بنارسی نے جو ڈرامے لکھے اس کی بنیادوں میں دیومالا کا انتخاب کیا اس طرح ان کے تقریباً تمام ڈراموں میں دیومالا کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔
اس دور کے دوسرے اہم ڈراما نگاروں میں احسن لکھنوی کا نام آتا ہے۔ دوسرے ڈراما نگاروں کی طرح احسن لکھنوی نے بھی اپنے ڈرامے کے پلاٹ میں داستانوی قصے کو موضوع بنا کر پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے شیکسپیئر کے بہت سارے ڈراموں کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ انھوں نے جو ڈرامے لکھے ان کے نام اوتھلو، بزم فانی، (عشق گلنارفیروز، رومیو جولیٹ) بھول بھلیاں، کامیڈی آف ایررس ، تاج نیکی، چندراولی، حسن کی دیوی، خون ناحق (ہیملٹ) دلفروش (مرچنٹ آف وینس) زیرعشق (دستاویز محبت) اور شریف بدمعاش قابل ذکر ہیں۔ان ڈراموں کے ناموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوںنے متعدد ڈرامے شیکسپیئر کے ڈراموں سے اخذ کیے ہیں لیکن ان ڈراموں کو پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ترجمہ ہونے کے باوجود ان میں جدت اور ندرت موجود ہے۔
مجموعی حیثیت سے دیکھا جائے تو ان کے ڈراموں سے ڈرامے کی دنیا میں ایک نئے موڑ کا آغاز ہوتا ہے ۔ انھوں نے اپنے ڈراموں میں عوام کی تفریح کے لیے ایسے کرداروں کو پیش کیا جو کہ الوہی درجے کے حامل ہوتے تھے۔ اس طرح دیکھا جائے تو اس عہد کے ڈراما نگاروں نے اپنے ڈراموں میں اسطور اور دیومالا کو کسی نہ کسی شکل میں پیش کیا ہے۔
نارائن پرشاد بے تاب بریلوی کا نام بھی اس دور کے ڈراما نگاروں میںلیا جاتا ہے۔ بے تاب بریلوی نے بہت سارے ڈرامے لکھے اور فلمی دنیا میںبھی اپنے قدم جمائے وہ ’‘رنجیت مووی ٹون‘ کے لیے کہانیاں لکھا کرتے تھے۔ڈراموں کی ترویج و ترقی کے لیے ایک ماہنامہ بھی نکالتے تھے انھوں نے ایک ڈراما ہماری بھول کے نام سے پرتھوی تھیٹر کے لیے لکھا۔ اس کے علاوہ جو آپ پسند کرے، ڈراما گور کی دھندھا ، زہری سانپ عرف کٹو بھر خونی کا نام بھی قابل ذکر ہے۔ بے تاب کے ڈراموں میں زبان میں صفائی کی کمی محسوس ہوتی ہے لیکن ایک خاص حیثیت سے اپنے دور کے ڈراما نگاروں میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے دیو مالا کے مشہور ترین واقعات کو بڑی خوبی سے ڈرامے کا جامہ پہنایا ہے حتی کہ ناظرین کے مذاق کا خیال رکھا گیا ہے اس لیے لوگوں نے ان کے ڈراموں کو پسند کیا ہے۔
ڈراما نگاری میں اعلیٰ مقام اور ممتاز حیثیت اور ڈراما کو ایک نئی سمت لے جانے اور ڈرامے کو ایک اعلیٰ مقام دینے والے ڈراما نگار آغا حشر کاشمیری ہیں۔ آغا حشرنے بھی ڈراما نگاری کا آغاز پارسی تھیٹر کے زمانے میں کیاانھوں نے ڈرامے کو اپنے اسلوب کے قالب میں ڈھال کر اس طرح پیش کیا کہ ڈراما ایک فن کی حیثیت اختیار کرگیا۔آغاحشر کے ڈراموں میں بھی دیومالائی اثرات کی کارفرمائی بھرپور انداز میں موجود ہے ۔ آغا نے بہت سے ڈرامے طبع بھی کیے اور دوسری زبانوں کے ڈراموں کو ترجمہ بھی کیا۔دراصل آغا حشر کے ڈراموں میں دیومالائی عنصر اپنے آب و تاب کے ساتھ ڈرامائی تاثر کے ساتھ موجود ہے۔ جو کہ بڑی خوبی تصور کی جاتی ہے۔
آغا حشر نے سب سے پہلا ڈراما آفتاب محبت کے نام سے لکھا اس میں ان کی زور طبیعت ، ان کی شوخی اور ان کی بے باکی اور تحریر کی شگفتگی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ یہ ڈراما ایک مذہبی اور تلمیحی ڈراما ہے جس میں حسن و عشق کی لفظی جنگ، باطل پر حق کی فتح ، خدا کی عظمت ، دنیا اور انسان کی تخلیق کی غرض و غایت اور قدرت کی بے پناہ قوتوں کا بیان بڑے دلکش انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے یہودی کی لڑکی، سلورکنگ، سیتا بنواس، بھسم پرتگیا، سفید خون اور شرون کمارجیسے ڈرامے بھی لکھے جو کافی اہمیت کے حامل ہیں ۔
ان تمام ڈراموں میں دیومالا جگہ جگہ پایا جاتا ہے۔ سیتا بنواس ، بھسم پرتگیا اور شرون کمار ہندو دیومالا سے ماخوذ ہے۔ سیتا بنواس اور شرون کمار ہندو رزمیہ رامائن سے اخذ کردہ ہیں جب کہ بھسم پرتگیا رزمیہ مہابھارت سے اخذ کیا گیا ہے۔ سیتا بنواس کو آغا حشر نے مہاراجہ چرکھاری کی فرمائش پر لکھا تھا اس پورے ڈرامے کی کہانی پرش اتم رام اور سیتا کے ارد گرد گھومتی ہے۔ مثال کے طور پر کچھ مکالمے پیش کئے جارہے ہیں جب عوام کے کہنے پر رام چندر جی سیتا جی بنواس کا حکم دیتے ہیں:
لکشمن: تیاگ ! کس کا ! کیا کہا بھگوتی سیتا کا! پر بھو میں سمجھا نہیں، شہید بانو کی بھانتی کان
چھید کر نکل گئے پھرسے کس کا تیاگ۔
رام:کس طرح کہوں! تیاگ شبد کے ساتھ پران بھی کھینچ کر ہونٹوں تک آجاتا
ہے۔ یہ کیول سیتا کا تیاگ نہیں، میرے جیون کا کٹھن کرتبہہ ہے پھر پران جائے یارہے تیاگ تو کرنا ہی ہوگا۔۶؎
یہ پورا ڈراما رامائن کے اس حصے سے ماخوذ ہے جب رام چندر جی چودہ سال بنواس اور لنکا کی فتح یابی کے بعد ایودھیا لوٹے اس وقت ایودھیا کا ایک دھوبی اپنی بیوی کو یہ کہہ کر یپٹ رہا تھا کہ میں شری رام نہیں ہوں کہ بیوی کسی دوسرے کے قبضے میں رہے اور پھر اسے میں رکھ لوں۔ یہ بات پھیلتی ہے اور رام جی کو یہ قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ چوں کہ یہ ڈراما ہندو دیومالا کے عظیم قصے سے ماخوذ ہے اس لیے یہ بات بہت زیادہ وضاحت طلب نہیں لگتی کہ اسے دیومالائی ڈراموں میں نہ شمار کیاجائے۔
اگر ہم غائر مطالعہ کریں تو اندازہ ہوگا کہ سیتا بنواس میں آغا حشر نے کس کامیابی اور خوبی کے ساتھ ڈرامے کو ارتقا اور انجام سے ہمکنار کیا ہے۔ایک عجیب سی جاذبیت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چونکہ ڈرامے کی پوری ٖفضا مذہبی ہے اور اس کے باوجود بھی اس ڈرامے میں بو جھل پن کا احساس تک نہیں ہوتا جو کہ اس ڈرامے کی بڑی کامیابی ہے۔
ڈرامے کا قصہ یہ ہے کہ شرون کمار اپنے ماں باپ کا بہت تابعدار اور خدمت گزار لڑکا تھا جو اپنے اندھے ماں باپ کی ہر ممکن خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ اپنے ماں باپ کی ایک خواہش کہ انہیں ساتوں دھام کا طواف کرنا ہے اسے پورا کرنے کی خاطر اپنے ماں باپ کو اپنے کندھے پر لے کر ساتوں دھام کے لیے نکل پڑتا ہے۔ ایک جگہ جنگل کے پاس اس کے ماں باپ کو پیاس لگتی ہے تو وہ پانی لینے کے لیے وہیں پاس کی ندی پر جاتا ہے۔ اسی وقت رام کے پتاراجا دشرتھ شکار پر آئے ہوئے تھے۔ راجا دشرتھ پانی بھرنے کی آواز سن کر سمجھتے ہیں کہ کوئی جنگلی جانور پانی پی رہا ہے۔ وہ آواز کی سمت اندازے سے تیر چلا دیتے ہیں تیر سیدھا جا کر شرون کمار کو لگ جاتا ہے ۔ شرون کمار وہیں پراپنے پران تیاگ دیتا ہے جب اس کی خبر راجا دشرتھ اس کے اندھے ماں باپ کو دیتے ہیں تب اس کے ماں باپ بہت دکھی ہوتے ہیں اور راجا دشرتھ کو یہ شراپ دیتے ہیںکہ جس طرح تو نے ایک اندھے ماں باپ کو بیٹے کی جدائی کا غم دیا ہے ویسے ہی تو بھی اپنے بیٹے کی جدائی کا غم سہے گا۔ اتنا کہہ کر وہ دونوں بھی اپنے پران تیاگ دیتے ہیں اور باقی کی کہانی تو سب کو معلوم ہے کہ راجا دشرتھ کے بیٹے رام کوچودہ سال بنواس کا ٹنا پڑا تھا اور اس کا دکھ راجا دشرتھ کو اٹھانا پڑا۔ بھشم پرتگیا رزمیہ مہابھارت کے ایک کردار بھشم کے تاعمر شادی نہ کرنے کی پرتگیا سے ماخوذ ہے۔
ان تمام ڈراموں میں پوری فضا دیومالا سے عبارت ہے۔ ان میں دیومالائی فضا کے تاثر کو بڑے ہی سحر انگیز طریقے سے اپنے مخصوص فن کے قالب میں ڈھال کر پیش کیاگیا ہے۔
بیسویں صدی کے اہم ڈراموں پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو اس عہد میں بھی جو ڈرامے لکھے گئے ان میں بھی دیومالائی عناصر کسی نہ کسی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ جن ڈراما نگاروں نے دیومالا کو اپنے ڈراموں میں بروئے کار لایا ہے ان میں محمد مجیب ، امتیاز علی تاج اور عابد حسین کا نام سر فہرست ہیں۔ محمد مجیب کے ڈراموں کو اردو ادب کے ڈرامے کی ایک اہم کڑی تصور کی جاتی ہے۔ انھوں نے حبہ خاتون، ہیروئن کی تلاش ، انجام ، آزمائش ،خانہ جنگی اور کھیتی جیسے اہم ڈرامے تحریر کیے۔
ان تمام ڈراموں میں زندگی اور اس کی حقیقت کو پیش کیا گیاہے مگر زندگی کی ان حقیقتوں کو پیش کرنے کے لیے دیومالا کا سہارا لیا گیاہے۔ ان کا ڈراما کھیتی میں مذہب و ملت ، ذات پات کافرض ادا کر قوم کو فرقوں میں تقسیم کرا کے کمزور بنا دینے والے سیاسی لیڈروں کو موضوع بنایا گیاہے۔ ان کاڈراما انجام مذہبی ٹھیکیداروں کو ان کی اصلی شکل میں پیش کرتا ہے جس میں فرد کے اعمال اور مذہبی سرپرستی کی کشمکش دکھائی گئی ہے۔ ان ڈراموں میں دیومالائی فضا قائم کرنے کے لیے محمد مجیب نے درگاہ کاماحول پیش کیا ہے۔ جہاں پر مرید ، مجاور جیسے ظاہر دار، اسلام پرست مذہب کا ڈھونگ رچاتے ہیں کسب معاش کے لیے دعا تعویذ اور گنڈے دے کر لوگوں کو وہم میں مبتلا کر کے ان کا خون چوستے اور گمراہ کرتے ہیں۔
امتیاز علی تاج اپنے ڈراما انار کلی کے لیے کافی مشہور ہیں۔ امتیاز علی تاج اردو ڈرامے کی تاریخ میں ایک ایسا نام ہے جس کے ذکر کے بغیر ڈرامے کی تاریخ نامکمل رہے گی۔ امتیاز علی تاج کی شہرت کا زیادہ تر دارومدار ان کے ڈرامے’’ انارکلی‘‘ پر ہے اور اس بات سے انکار بھی ممکن نہیں کہ اس کے علاوہ یہ اگر کوئی دوسرا ڈراما نہ لکھتے تو ان کی شہرت میں کوئی کمی نہیں آتی۔ لیکن یہ اتفاقی بات ہے کہ اس ڈرامے کو اسٹیج کے لیے قبولیت نہ مل سکی۔ امتیاز علی تاج اس سلسلے میں ڈراما’’ انار کلی‘‘ کے دیباچہ میں رقم طراز ہیں:
’’میں نے انار کلی 1922میں لکھا تھا اس کی موجودہ صورت کو تھیٹروں نے قبول نہ کیا جو مشورے ترمیم کے لیے انھوں نے پیش کیے انھیں قبول کرنا گوارہ نہ ہوا ۔ مغربی ڈرامے کے مطالعے کے دس سال بعد بھی مجھے اسے طبع کرنے کی جرأت نہ ہوئی تھی اور ڈراما کی حالت دیکھتے ہوئے آج مجھے اسے طبع کرنے میں تعقل نہیں۷؎
اس ڈرامے میں مغلیہ سلطنت کے تیسرے بادشاہ اکبر کے بیٹے سلیم کی ایک خادمہ انار کلی سے محبت کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔چوں کہ یہ ڈراما ایک تاریخی المیہ کہانی کو تمثیلی پیکر میں ڈھال کر پیش کرتا ہے جس کے بیان میںبہت سے ایسے مکالمے تحریر کیے ہیں جن میں دیومالا کا رنگ نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔
اس کے علاوہ جدید دور میں جن ڈراما نگاروں کا نام آتا ہے ان میں حبیب تنویر اور محمد حسن کا نام کافی اہمیت کا حامل ہے ۔ جن کے ڈراموں میں دیومالائی عناصر نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔
محمد حسن کا شمار جدید دور کے اہم ڈراما نگاروںمیں ہوتا ہے۔ انھوں نے متعدد ڈرامے لکھے جن میں مور پنکھی، پیسہ اور پرچھائی، کہرے کا چاند اور ضحاک کافی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کے ڈراموں کا مطالعہ کرنے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے کلاسیکی اور جدید دونوں طرح کے ڈراموں سے استفادہ کرتے ہوئے ان ڈراموں میں اساطیر و دیومالائی عناصر کا سہارا لیا ہے۔ خصوصاً ان کا ڈراما ضحاک ایک اہم مثال ہے۔ ڈراما ضحاک ایرانی اساطیر سے ماخوذ ہے اور اسے محمد حسن نے ایمر جنسی کے وقت میں لکھا تھا ۔ بہت سے لوگوں نے اس پر سرقہ کا الزام لگایا ہے اس کے جواب میں محمد حسن نے جو کہا ہے اس کا اندازہ مندرجہ ذیل اقتباس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ:
’’ظاہر ہے ضحاک کی کہانی نئی نہیں ہے۔ ضحاک کا پورا قصہ فردوسی کے شاہنامے میں موجود ہے اور نظم و نثر میں بار بار بیان ہواہے ۔ اس میں نیا پن ہے تو اس سیاسی رمزیت میں ہے جو ضحاک کو ہمارے ڈرامے میں حاصل ہے۔ ضحاک کا قصہ فسانۂ عجائب والے رجب علی بیگ سرور نے اپنے قصے میں بیان کیا ہے۔ ڈراما ضحاک میں اس کہانی کا صرف بنیادی ڈھانچہ لیا گیا ہے۔ یعنی ضحاک کا جمشید کے خلاف بغاوت کرنا اور اسے آرے سے زندہ چیر ڈالنا اور جنگ میں فتح یابی پانے کے لیے شیطان کی مدد لینا اور شیطان کے اس کے کاندھوں پر بوسہ دینے کی وجہ سے ان شانوں پر دو سانپ اگ آنا یقینا طبع زاد نہیں لیکن اس بنیادی ڈھانچے کے علاوہ جو واقعات و کردار جو ڈراما ضحاک میں آئے ہیں ان کا کوئی نہ شاہنامہ سے تعلق ہے نہ رجب علی بیگ سرور سے یا دوسرے کسی مصنف کے بیان کردہ شاہ نامے کی اس داستان سے۔‘‘۸؎
ڈراما ضحاک میں کردار ضحاک کے کندھے پر دو سانپ ہوتے ہیں جو اسے ڈستے رہتے ہیں جس سے وہ تکلیف میں مبتلا رہتا ہے۔ وہ اپنے وزیر اور دوسرے ساتھیوں سے کہتا ہے کہ اس سے مجھے کسی طرح نجات دلائو ورنہ میں سب کو قتل کردوں گا کوئی ترکیب جلد سے جلد بتائو لیکن کسی کے پاس اس کا حل نہیں ہوتا ہے تب ایک بوڑھا آدمی اسے اس شرط پر نجات دلانے کی ترکیب بتانے کو تیار ہوتا ہے کہ وہ اس سے اپنے روح کا سوداکرے۔ بہت گرجنے و برسنے کے بعد ضحاک اس کا یہ سودا منظور کرلیتا ہے۔بوڑھا تب بتاتا ہے کہ ان سانپوں سے نجات دلانا کسی کے بس میں نہیں ہے ۔ لیکن اس کے ڈسنے کے کرب کو کم کیا جاسکتا ہے اور اس کا راستہ یہ تجویز کرتا ہے کہ وہ اسے دو انسانوں کے بھیجے کھلائے اس طرح پورا ڈراما اسطوری فضا سے شروع ہو کر نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اختتام کو پہنچتا ہے۔ چوں کہ یہ ڈراما ایمرجنسی کے وقت میں لکھا گیاتھا اس لیے اس وقت کے حالات کو محمد حسن نے رمزیہ انداز میں دیومالاکے قالب میں ڈھال کر پیش کیا ہے اس ڈراماکی وجہ تصنیف کے بارے میں محمد حسن نے جو بات کہی تھی اس کے حوالے سے ڈاکٹرظہورالدین رقم طراز ہیں:
’’ڈراما ضحاک کے ابتدائی چند صفحات کے علاوہ تمام کمال ایمرجنسی کے وقت میں لکھا گیا ہوا یوں کہ ایمرجنسی کے زمانے میں زبان بندی مکمل تھی اور صبح اخبار ہاتھ میں لیتے ہوئے شدید ذلت و اہانت کا احساس ہوتا تھا کہ وہ شروع سے آخر تک سفید جھوٹ سے لبریز ہوتا تھا۔ لفظوں میں معانی بدل گئے تھے یا کچھ کے کچھ ہوجاتے تھے۔ اورہر دن کسی نہ کسی خوشامدی سے سابقہ پڑتا تھا جو محض خوشامد کے زور پر آقا بنا ہوا تھا اور میری روزی روٹی کا مالک تھا غرض ہر لمحہ ایک اذیت تھا عصری ادب کا ہر لفظ سنسر ہو رہا تھا۔زبان پر تالے تھے، پڑوس میں رات کے پچھلے پہر کسی کے دروازے پر دستک ہوئی اور وہ شخص پھر کہیں نظر نہ آتا کبھی معلوم ہوتا وہ جیل میں چلا گیا کبھی معلوم ہوتا کہ وہ لاپتہ ہوگیا ہر ہفتے کوئی نہ کوئی بتاتا کہ اسے صرف اس لیے تنخواہ نہیں ملی وہ نس بندی کے لیے پانچ آدمیوں کو ہسپتال نہیں پہنچا سکا ۔ ڈرائنگ روم میں سٹرک پر بس میں لوگ سانس رو کے ہوئے گزر رہے تھے کہ پتہ نہیںکون سا جاسوس ہو، میرا بھی یہی حال تھا۔‘‘۹؎
اس طرح ان کے بیان کی روشنی میں دیکھا جائے تو کسی بھی دور کے حالات یا واقعات کوبیان کرنے کے لیے علامت ، استعارہ ، رمزاورتلمیح کا استعمال کیا جاتا ہے۔ انہی لوازمات کی ایک جز دیومالا بھی ہے جسے مذکورہ ڈرامے میں محمد حسن نے اپنے فن کے قالب میں ڈھال کر بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ برتا ہے۔
حبیب تنویر نے کئی ڈرامے لکھے جن میں آگرہ بازار ، اور دیکھ رہے ہیں، نین کافی اہمیت کے حامل ہیں۔ آگرہ بازار کا موضوع نظیر کی نظموں سے ماخوذ ہے۔ جو نظیر کی شاعری کے ذریعے ایک دوسرے سے مربوط کردیے گئے ہیں۔ ڈرامے کا آغاز شہر آشوب سے ہوتا ہے اور آدمی نامہ پہ ختم ہوتا ہے۔ ان میں مختلف نظموں کا اقتباس اس ڈرامے میں شامل کیا ہے۔ ان میں مفلسی ، آگرے کا تیراک، کوڑا برتن، آدمی نامہ، ریچھ کا بچہ، شہر آشوب جنم کنہیا، مہادیو کا بیاہ اور بلدیوجی کا میلہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ کیوں کہ ڈرامے میں جنم کنہیا ، مہادیو کا بیاہ کے اقتباس آئے ہیں جو کہ اپنے اندر ایک دیو مالائی عنصر رکھتا ہے ، جنم کنہیا میں کرشن جی کے جنم کی کے وقت کی خوشیوں کا ذکر آتا ہے اور مہادیو کے بیاہ میں شنکر جی کے بیاہ کا بیان ہے یہ دونوں چوں کہ ہندو دیومالا میں اہمیت رکھتے ہیں اس طرح سے دیکھا جائے تو ڈرامے میں ان کا ذکر دیومالائی فضا قائم کرتا ہے۔ ڈراما دیکھ رہے ہیں نین، میں حبیب تنویر نے ہندوستان کے لوک گیت ، موسیقی اور رقص کے ذریعے ہندوستانی دیومالا کا فنکارانہ استعمال کیا ہے۔ حبیب تنویر اپنی فنکارانہ صلاحیت کے ذریعے اپنے اس ڈرامے میں ہندوستانی دیومالا کو عوام کے درمیان تمثیلی انداز میں خوش اسلوبی سے پہنچایا ہے۔ حبیب تنویر کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ڈرامے کے ذریعہ ہندوستان کی تہذیب اور دیومالا ئی روایت کو کامیابی کے ساتھ متعارف کرایا ہے جس کی وجہ سے دونوں چیزیں بیک وقت عوام وخواص میں مقبول ہوئیں جس کی وجہ سے ہمارے کلچر کی معنویت میں وسعت پیدا ہوا ہے۔
اس ڈرامے کا مرکزی کردار وراٹ ہے جو وجے دیو نام کا سپہ سالار ہے جو جنگ میں فتح یاب ہوتا ہے ، اس جنگ میں وراٹ اپنے آزمودہ فارمولے کے تحت اپنے دشمن پر دوحصوں سے حملہ کردیتا ہے۔ جس سے دشمن کی فوج شکست کھا جاتی ہے۔ اس میں بہت سارے سپاہی مارے جاتے ہیں ، اس میں وراٹ بہت سے سپاہیوں کا قتل کرتا ہے جب فخر سے اپنے ہاتھوں سے مارے ہوئے سپاہیوں کو دیکھتا ہے تو اس میں اپنے خاص بھائی کی لاش بھی نظر آتی ہے جس کی دونوں آنکھیں کھلی ہیں یہ آنکھیں اس طرح سے کھلی ہیں کہ وراٹ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنکھیں اسے گھور رہی ہیں ۔ یہیں سے ڈراما آگے بڑھتا ہے اس ڈرامے میں وراٹ اور وجے دیو جو کہ اس ڈرامے کے مرکزی کردار ہیں ان کے درمیان مکالمہ ہوتا ہے جس میں وجے دیو وراٹ کی اس کارکردگی پر بہت خوش ہے اور اسے آدھا راج دینے کے لیے تیار ہے۔ مگر وراٹ نے بھائی کی آنکھوں کو دیکھنے کے بعد اس کے دل کی کیفیت ایسی ہوجاتی ہے کہ اسے سب کچھ ہیچ نظر آتا ہے اور وہ سب کچھ چھوڑ دینے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ وجے دیو وراٹ کے مکالموں میں جگہ جگہ دیومالائی عنصر کو دیکھا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر کچھ مکالمے پیش کیے جارہے ہیں :
وراٹ: میں نے اپنے بھائی کا ہنن کیا ہے۔
وجے دیو: کون؟ پرتاپ رائے؟ کیسرگڑھ کا راجہ ، کیا تمھیں خبر نہیں تھی کہ وہ بھی
رودرسنگھ کے ساتھ مل گیا تھا۔
وجے دیو: تو کیا ہوا، آخر یہ بدھ ہے، بھگوان کرشن کا گیتا اپدیش ۔ تمھیں یاد نہیں؟
تم اسے نہ مارتے تو وہ تمھیں ماردیتا ہے ۔ اسی کانام تو جنگ ہے میرے دوست۔ ۱۰؎
مذکورہ ڈراما کا مطالعہ اگر ہم سنجیدگی سے کریں تو یہ احساس ہوگا کہ اس ڈرامے میں دیومالائی عناصر کی تلاش کئی سطحوں پر کر سکتے ہیں۔ اگر موضوع کے اعتبار سے بھی اس کا اظہار بخوبی ہوتا ہے۔ اسی طرح کردار ہو کہ زبان، مکالمہ ہو کہ دیگر چیزیں حتیٰ کہ ہم اس کے پیش کش سے بھی دیومالائی عناصر کے پائے جانے کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ اور بہت سے ڈراما نگار ہیں جنھوں نے اپنے ڈراموں میں دیومالائی عناصر کا جابہ جا استعمال کیا ہے۔ جن میں عابد حسین کا ڈراما(پردۂ غفلت) ،ا شتیاق حسین قریشی کا (گناہ کی دیوار، ہمزاد)، فضل الرحمن کا ( پردہ،ظاہر و باطن ، حشرات لارض)، کرشن چندر (دروازہ کھول دو) کا نام قابل ذکر ہے۔
گذشتہ صفحات کی گفتگو سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ ڈرامے کے فن کو نکھارنے سنوارنے تہدار اور پر معنی بنانے میں ابتداسے ہی دیومالائی عناصر کا بہت اہم رول رہا ہے اور جدید دور میں بھی ڈراما نگاروں نے اپنے عہد کے سیاسی اور سماجی پس منظر کو سمجھنے میںدیومالا کو ایک نئی شکل و صورت دینے کی کوشش کی ہے جس سے بدلے ہوئے حالات میں دیومالا کی ایک نئی تفہیم بھی سامنے آتی ہے اور دیومالا میں نئی جہت بھی پیدا ہو جاتی ہے ۔
حواشی:
(۱) Atreous : یونانی اساطیر میں Peloponeseمیں Mycenaeکے ایک بادشاہ Pelopsاور Hippodomiaکا بیٹا ہے اور Agamemnorerاور Menelusکا باپ تھا۔ مجموعی طور پر اس کی اولادیںAteridalیا Atreaidaeکے طور پر جانے جاتے ہیں۔
(۲) Lucius Annaeus (4BC-65AD) روم کا ایک ممتاز فلسفی ڈرامہ نگار ، مزاح نگار اور سیاست داں تھا، یہ Neroکی حکمرانی میں استاد اور صلاح کار تھا۔ Neroبادشاہ کے قتل کی سازش میں اسے زہر کھا کر خود کشی کرنے پر مجبور کیا گیا۔
(۳) Medea: یونانی اساطیر میں ایک جادو گرنی تھی۔ جو Colchisکے بادشاہ Acetesکی بیٹی اور Circe کی بھتیجی تھی۔ وہ اپنے آپ کو سورج کے دیوتا Helios کی پوتی کہتی تھی۔ وہ وہاں کے ہیروںJasonکی بیوی تھی۔ اس کے دو بچے Mermerousاور Pheresتھے۔ Euripidesکے کھیل میں جیت کے بعد Jasonکو Cornithکا بادشاہ اپنی بیٹی کا ہاتھ دیتا ہے تو وہ Medeaکے ہاتھ کو چھوڑ دیتا ہے اس کا انتقام لینے کے لیے Medea ان دونوں بچوں کو مار دیتی ہے۔
(۴) پروفیسر انور پاشا،حشر کے ڈراموں پر دیمالائی اثرات،مشمولہ، ماہ نامہ آج
کل،دہلی،۲۰۰۶،ص۱۷،۱۶
(۵) ڈاکٹر وقار عظیم،اردو ڈراما فن اور منزل، ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس ،دہلی ۲۰۰۵،ص۱۳۵
پر،اردو اکادمی ،دہلی۲۰۰۹،ص۲۵۵
(۶) آغا جمیل کاشمیری،یعقوب یاور(مرتبین)،کلیات آغا حشر کاشمیری، جلد ،ہفتم
،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،نئی دہلی،ص۶۳
(۷) امتیاز علی تاج،ڈراما انار کلی،مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ،نئی دہلی،۲۰۱۱،ص۲۱
(۸) ڈاکٹر ظہورالدین،جدید اردو ڈراما، ادراہ فکر جدید،حیدر آباد،۱۹۸۷،ص۱۹۹
(۹) ایضاً،ص۱۹۶
(۱۰) محمد مجیب،دیکھ رہے ہیں نین، مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ،نئی دہلی،۲۰۱۱
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

