اجڑی کوکھ – گل افشاں ناز

by adbimiras
0 comment

ایک ماں جب اپنے بچوں کو جنم دیتی ہیں تو اس سے زیادہ اور اس خوشی سے زیادہ مجھے نہیں لگتا کہ کسی ماں کو ئ اور خوشی عزیز ہوگی بچے جنہیں پھول، فرشتہ ،اللہ  کی رحمت اور نہ جانے کے کن کن  چیزوں سے تشبیہ دی جاتی ہے اور دی بھی کیوں نہ جائے وہ ہوتے ہی اتنے معصوم اور پیارے ہیں_  اور  جب  وہ کم عمری میں اپنی ماں کو  بھلا برا کہتے ہے تو اسے کچھ سمجھ  نہیں ہوتی اور اس بات سے ماں کو بھی خاصہ کوئی اعتراض نہیں اور کبھی کبھار تو وہ اس بات کو اس طرح سے نظر انداز کرتی ہیں جیسے اس بچے نے اس ماں کے پیار میں  پیارے بول بول  دیۓہوں  اور جب وہ بچے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو وہ اپنی ماں  کا بٹوارہ تک کر دیتے ہیں اور اپنی تلخ جملے سے انہیں اذیت دیتے ہیں اور ان کے سارے احسانوں کو  اپنے قدموں تلے روندتے چلے جاتے ہیں اور وہ بیچاری ماں چپ چاپ ان کی اذیت ناک ہر حرکات کو تکتی رہتی ہے اور اس   تلخی کو برداشت کرتی رہتی ہیں ٹھیک اسی طرح ہماری ایک ماں دھرتی ماں بھی ہیں جنہیں سیاستدان مذہب کے ٹھیکیدار  ،   عام و   خواص اور نہ جانے ایسے کتنے افراد ہیں جنہوں نے اپنی اس ماں کا بٹوارہ کردیا اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ انہیں ذرا بھی احساس نہیں ہوتا  جس ماں کی کوکھ میں   پرورش پا کے یہ بڑے ہوئے ہیں جو تمام تر اذیت ناک کیفیات کو برداشت کرتی رہتی ہیں اور اف تک نہیں کرتی۔ اور اگر اسی طرح چلتا رہا تو  ایک دن ایسا آئے گا کہ  اس ماں کی کوکھ اجڑ چکی ہوگی۔۔۔۔(یہ بھی پڑھیں ادھوری سوچ – گل افشاں ناز )

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

You may also like

Leave a Comment