مخطوطہ شناسی میں خطاطی کے فن کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہے۔ مشرقی علوم وفنون کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام قوموں میں مسلمان وہ واحد قوم ہے جس نے خطاطی کا فن ایجاد کیا۔ پہلے تو لوگوں نے انفرادی طور پر اس فن سے دلچسپی لینی شروع کی لیکن بعد میں مسلمان بادشاہوں ،حکمرانوں اور ریئسوں نے اس کی سرپرستی کا آغاز کیا۔اس فن کے مزید مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اس فن کے ارتقا اور حسن و زیبائش پر سینکڑوں سال تک کدوکاوش ہوئی ہے اور اہل فن نے اس کو خوبصورت و دلکش بنانے میں بے پناہ محنت کی۔ اس لیے اس میں مختلف اقسام کے رسم الخط وجود میں آئے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہمیں اس فن سے دلچسپی ہے اور مسلمانوں کے اس عظیم کارنامے کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لازمی طور پر اصل نسخوں کی طرف رجوع کرنا پڑے گاجسکے لئے ہماری کوشش ہونی چاہئیےکہ ہم مشرقی کتاب خانوں کی سیر کریں اور وہاں کی خطاطی کے نمونےکو دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ ہندوستان کے تقریبا تمام مشرقی کتاب خانوں میں اس طرح کے اہم اور نادر ذخیرے موجود ہیں۔
مہریں بھی مخطوطہ شناسی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ عام طور پر مہریں قلمی کتابوں کے شروع یا آخر میں پائی جاتی ہیں جو علمی و تحقیقی لحاظ سے نہایت گراں قدر ہوتی ہیں اور بعض نئی تاریخی معلومات فراہم کرتی ہیں۔ اس کا سلسلہ زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے کیونکہ کسی کتاب پر مہر لگانے سے مقصود اس کی ملکیت کا اظہار ہوتا تھا کہ یہ کتاب کس کی ہے یا کس کے ذخیرے کی ہے۔ اس کے علاوہ اظہار تعلق کے لیے بھی مہریں لگائی جاتی تھیں۔ بہرحال مہر یں تاریخی معلومات حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ اس لئے ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس مختصر سی روداد کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ مخطوطات پڑھنا اور ان سے دلچسپی لینا دور حاضر کی ایک اہم ضرورت ہے جس کے بغیر ہماری علمی زندگی مستحکم نہیں ہو سکتی اور نہ ہم دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ہم اپنی قدیم علمی میراث سے پورے طور پر واقف ہو چکے ہیں۔
مخطوطات شناسی کے سلسلے میں ایک سوال یہ ہے کہ مخطوطات کی پہچان کیسے کریں؟ اس کے معیار کیا ہوں؟ اس سوال کا جواب جاننا اس لئے ضروری ہے کہ جب تک آدمی کسی چیز کی صحیح پہچان نہ رکھتا ہو اس وقت تک اس کی صحیح قدر و قیمت نہیں سمجھتا اور نہ اس کی صحیح قیمت طے کرسکتا ہے۔ مخطوطات کا حال یہ ہے کہ ہم عام طور پر ان کی صحیح پہچان نہیں رکھتے۔ اس لئے ان کی صحیح قدر نہیں کرتے بلکہ ان کی ظاہری بوسیدہ حالی اور پریشان حالی کو دیکھ کر ہم ان سے بیزار ہوتے ہیں اور جلد از جلد اپنی نظروں سے دور کردینا چاہتے ہیں۔ اس لئے مخطوطہ شناسی کے اصول بتانا اور ان کا جاننا ضروری ہے۔
مخطوطہ کی پہچان کے سلسلے میں کہا جاسکتا ہے کہ سب سے پہلے ہمیں اس کے کاغذ کے رنگ اور ظاہری احوال کو دیکھنا چاہیے کیونکہ عام طور پر جو کاغذ جتنا قدیم ہوتا ہے اسی اعتبار سے اس کا رنگ زرد اور مٹیالا ہوجاتا ہے، کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی تیزابیت یعنی ایسیڈیٹی (Acidity)میں اضافہ ہوجاتا ہے۔اس سے کاغذ کا رنگ بدل کر زرد ہو جاتا ہے اور پھر مزید اس میں زیادتی ہوتی جاتی ہے۔
دوسری بات یہ ہوتی ہے کہ گردوغبار کی وجہ سے بھی اس کا رنگ بدل جاتا ہے اور اس کا رنگ مٹیالا ہو جاتا ہے۔ اس لئے سب سے پہلے کاغذ کو اچھی طرح دیکھنا چاہیے کہ اس میں (Acidity)کتنی اور کیسی آئی ہے اور اس اعتبار سے مخطوطہ کی قدامت کتنی ہوسکتی ہے۔
دوسری اہم چیز روشنائی ہے۔ جب ہمارے سامنے کوئی علمی کتاب آئے تو کاغذ کے رنگ کے بعد ہمیں اس کی روشنائی کی طرف دھیان دینا چاہیے کیونکہ روشنائی کا رنگ خود بخود بتا دیتا ہے کہ مخطوطہ کتنا قدیم ہے۔ یا روشنائی کہیں کہیں سے اڑ گئی ہو روشنائی پھٹی پھٹی ہو تو اس سے مخطوطہ کے زیادہ قدیم ہونے کا اندازہ ہوتا ہے۔ تیسری چیز رسم الخط ہے۔ رسم الخط مخطوطہ کی پہچان میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جس سے مخطوطہ کی قدامت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کیونکہ ہر دور کا رسم الخط ایک مخصوص قسم کا ہوتا ہے جس سے اس عہد کی نمائندگی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر عالم یا ادیب کا مخصوص رسم الخط ہوتا ہے جس سے اس کی تصنیف پہچانی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں کہا جاسکتا ہے کہ عربی زبان کے نامور مصنفین کی رسم الخط پہچاننے کے لئے الاعلام للزر کلی کی طرف رجوع کرنا زیادہ مناسب ہوگا، کیونکہ اس میں تقریباً اکثر بڑے مصنفین کے حالات زندگی کے ساتھ ان کے نمونہ تحریر بھی دے دیے گئے ہیں، جن سے ہم بآسانی ان کے رسم الخط کی پہچان کر سکتے ہیں۔ چوتھی چیز ترقیمہ ہے، ترقیمہ قلمی کتابت کے خاتمے کے بعد والی عبارت کو کہتے ہیں جس میں عام طور پر سال کتابت، کاتب کا نام، و جائے کتابت، واقعات کتابت ،جیسی اہم معلومات درج ہوتی ہیں۔ ان کے مطالعے سے بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں کہ مخطوطہ کب لکھا گیا، کس نے لکھا اور کن حالات میں لکھا گیا۔ اس کے علاوہ تاریخ پڑی ہوئی مہریں حوالہ اور حواشی کی عبارتیں بھی مخطوطات کی پہچان میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر عرفان رضا
مادھو پور سلطانپو، سیتامڑھی بہار
Email Id: iraza3819@gmail.com
mob. 9891299930
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
بہت اچھی شروعات ہے اُردو کی خدمت میں۔