لغت میں لفظ ‘انقلاب ‘ کے معنی ہیں تغیر و تبدل،پرانے سیاسی یا معاشی نظام کی جگہ نئے نظام کے نفاذ کو انقلاب کہتے ہیں۔(1)
دور جدید میں انسانی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم ماناجاتا ہے، ان میں سے ایک حصہ فرد کی انفرادی زندگی سے متعلق ہے جو مذہبی عقائد و رسومات پر مشتمل ہے، جبکہ دوسرا حصہ اجتماعی معاملات کو محیط ہے۔زندگی کا یہ حصہ تہذیب، تمدن، ریاست اور سیاست سے متعلق ہے ۔آج کی اصطلاح میں انقلاب اجتماعی نظام میں تبدیلی کو کہتے ہیں اور اس کے دائرے میں سارا Politico-Socio-Economic System آتا ہے۔
اوراق تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اس زمین پر سب سے عظیم ہمہ گیر و ہمہ جہت انقلاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرب کی سرزمین پر برپا کیا اور اسی انقلاب سے اکتساب فیض کرتے ہوئے تقریباً 700سال بعد شاہ ہمدان امیر کبیر میر سید علی ہمدانیؒ نے کشمیر اور شمالی علاقہ جات، مظفر آباد، پونچھ، راجوری، میر پور، گلگت وغیرہ میں ایک عظیم اور محیر العقول انقلاب برپا کر دیا جس سے آج تک ان علاقوں کے باشندگان مستفید ہو رہے ہیں۔یہ بات ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کشمیر میں حضرت شاہ ہمدانؒ محض ایک دینی مبلغ (Religious Preacher) کے طور پر ہی نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر و ہمہ جہت اسلامی انقلاب کے نقیب کے طور پر نمایاں ہوئے اور آپ نے یہاں مساوات و اخوت کا وہ بے نظیر نظام متعارف کرایا جس کی نظر میں آقا و غلام، حاکم و محکوم، امیر و غریب، اونچی اور نیچی ذات والے سب برابر تھے۔مجموعی طور پر تین سال کے ایک قلیل عرصے میں آپ نے نہ صرف ایک ایسے ملک کو حلقہ بگوش اسلام بنایا جو ہزاروں سال سے بالکل مختلف روایات و عقائد میں بندھا ہوا تھا بلکہ ساتھ ہی معاشی، معاشرتی اور سیاسی نظام کو بھی پرامن طرز تبلیغ کے ذریعے تبدیل کروانے میں آپ کامیاب ہوئے۔
یہ بات خاص طور پر زہن میں رکھنی چاہئے کہ کشمیر میں اسلامی انقلاب کے خدوخال حضرت شاہ ہمدانؒ کے خود ساختہ نہیں تھے بلکہ انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے مستعار لیا اور اس کی ترویج میں اپنی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ دراصل اسلامی انقلاب کا فلسفہ اللہ تعالٰی کا ودیعت کردہ ہے جو وحی کے ذریعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوا جس میں انفرادی زندگی کے لئے بھی رہنمائی ہے اور اجتماعی زندگی کے لئے بھی۔حضرت شاہ ہمدان ؒ نے اسی اسوہ کو سامنے رکھ کر تبلیغ دین کا کام انجام دیا اور اسلامی طرز حیات کی طرف لوگوں کو راغب کیا۔ ان کی نظر میں نبوی بنیادوں کو چھوڑ کر کسی دوسرے طریقہ انقلاب کو وضع کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہر دور کے انسان کے لئے مطابقت رکھتا ہے۔ کشمیر کے حوالے سے حضرت شاہ ہمدان ؒ کے برپا کئے ہوئے انقلاب کے کئی پہلو ہیں اور شاہ ہمدانؒ کی خوبی یہ ہے کہ آپ نے کسی نہ کسی درجے میں ان تمام پہلوؤں پر اپنی توجہ مرکوز کی اور کشمیر کی تاریخ پر زبردست اثرات مرتب کئے۔آپ کے اس عظیم کام سے کشمیر میں اسلام کی بنیادوں کو مضبوطی ملی اور یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں اس قسم کے شواہد نہیں ملتے کہ آپ کے جانے کے بعد لوگ اپنے آبائی پرانے عقیدے کی طرف لوٹے ہوں بلکہ بعد میں اسی قوم سے ایسے دینی رہنما اٹھے جنہوں نے دین اسلام کی اشاعت و تبلیغ میں قربانیاں دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔
ان تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنا مشکل ہے جن پر آپ نے اپنے اثرات مرتب کئے البتہ اس مقام پر ہم کچھ اہم پہلوؤں کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کرینگے۔( یہ بھی پڑھیں امیر شریعت ثالث: حضرت مولانا سید شاہ محمد قمر الدین جعفری زینبی رح – مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی )
1۔شرعی و سیاسی پہلو:
انسانی معاشرے کے لئے صداقت و انصاف پر مبنی ایک نظام حیات اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ انسانی زندگی کے لئے ہوا اور پانی۔ اسلام دین فطرت ہے اور اس کے جملہ عقائد و احکام انسان کے فطری تقاضوں کو مدنظر رکھ کر ہی خالق کائنات نے مرحمت فرمائے ہیں۔ان عقائد و احکام کا ماخذ قرآن حکیم اور سنت رسول ؐ ہے لہذا حضرت شاہ ہمدان ؒ نے قرآن و سنت کی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے جگہ جگہ تعلیمی و تربیتی مراکز قائم کئے اور علوم اسلامیہ کی ترویج و اشاعت کے لئے درجنوں کتابیں خود تحریر فرمائیں۔
آپ نے جگہ جگہ خانقاہوں اور مسا جد کی تعمیر کروائی اور ان کے ذریعے اسلامی علوم کو عام لوگوں تک پہنچایا۔آپ نے اپنے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں کتابیں لائیں اور آگے بھی مسلسل وسطی ایشیاء سے کتابیں منگواتے رہے تاکہ لوگ علم و حکمت سے آشنا ہو کر اپنی زندگیوں کو بدلیں۔اس سے اہل کشمیر کی نئی سیاسی، دینی ،معاشی، تمدنی اور تہذیبی قوت محفوظ ہوگئی۔
اسلامی نظام العقائد کی اساس عقیدہ توحید پر ہے۔اسلام انسانی زندگی کے ہر شعبے کو توحید کے رنگ میں دیکھنا چاہتا ہے۔ اوراد فتحیہ کو اجتماعی طور پر رائج کر کے آپ نے توحید کی حقیقت اور اس کے لوازمات لوگوں کی زبانوں پر جاری کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو اجتماعی لاشعور (Collective Unconscious) کا حصہ بنا دیا۔عقائد کے ساتھ ساتھ اسلام انسانی معاشرے کے استحکام اور بقا کے لئے قوانین بھی فراہم کرتا ہے تاکہ معاشرے کو لاقانونیت اور بے اعتدالیوں سے بچایا جاسکے۔اسلام ہر فرد اور قوم کی جان، مال اور عزت و آبرو کا ضامن ہے۔چونکہ ان عقائد و قوانین کو نافذ کرنے کے لئے حکمرانوں کا خصوصی رول ہوتا ہے اسی لئے شاہ ہمدانؒ نے وقت کے حکمران طبقے کی اصلاح کی طرف بھی خصوصی توجہ دی۔اگرچہ آپ اپنے آبائی وطن میں خود ایک سیاسی طور سے بارسوخ خاندان سے تعلق رکھتے تھے مگر آپ نے اس جانب توجہ نہیں دی۔
مشہور ہے کہ الناس علی دین ملوکھم (لوگ اپنے بادشاہوں کے دین پر ہوتے ہیں) اسی لئے حضرت شاہ ہمدانؒ نے نہ صرف سلاطین وقت کے نام کئی اصلاحی خطوط لکھے بلکہ ساتھ ہی اپنی شاہکار تصنیف ‘ذخیرۃ الملوک ‘ کو اسی طبقہ کی اصلاح کے لئےخاص طور پر تصنیف فرمایا۔اور اس کام میں انہیں کامیابی بھی ملی۔ ان کی کوشش یہی رہی کہ صاحبان اقتدار دیندار، صالح اور تقوٰی شعار بن جائیں اور ان کی کاوشوں سے معاشرہ صالحیت، صداقت، اور شرافت و مساوات کا آئینہ دار بن جائے۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایک قابل حکمران کی رہنمائی میں جب دینی اقدار کو پنپنے کا موقع دیا جاتا ہے تو تہذیب و ثقافت میں بھی دینی رنگ غالب آتا ہے اور اس طرح پورا معاشرہ بہت ہی کم وقت میں اسلام بن جاتا ہے۔ شاہ ہمدان نے ایک طرف اوراد فتحیہ جیسے رسائل سے توحید باری تعالٰی کے رموز سے لوگوں کو روشناس کرایا دوسری طرف آپ نے اسلامی قوانین کی پاسداری و پابندی کے لئے مسلم حکمرانوں کو بھی ابھارا اور اس طرح انہیں خاطرخواہ کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ ( یہ بھی پڑھیں قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ ایک بے مثال شخصیت – قمر اعظم صدیقی )
شاہ ہمدان نے کشمیری معاشرے کا بغور جائزہ لینے کے بعد بدعات، رسومات بد اور غیر شرعی کاموں کو روکنے کی طرف خصوصی توجہ دی اور ایسی بہت سی رسوماتِ بد جو ہندووں کی دیکھا دیکھی میں مسلمانوں نے اپنا رکھی تھیں کا خاتمہ کروایا۔کشمیر کا بادشاہ تو مسلمان تھا مگر نظام حکومت سراسر غیر اسلامی تھا، اسلامی تعزیراتی نظام نافذ نہ تھا، آپ نے اپنے اعلیٰ اخلاق اور اثر و رسوخ سے اسلامی نظامِ حکومت نافذ کروایا۔آپ نے کشمیری معاشرے کی تطہیر اپنی نگرانی میں کروائی، تمام عدالتوں میں اپنے ساتھی جو اس وقت کے شیخ تھے کو بطور قاضی مقرر کروایا تاکہ مسلمانوں کے باہمی معاملات کا فیصلہ قرآن و سنت کے مطابق ہوسکے۔
2۔ روحانی و اخلاقی پہلو
خانقاہی نظام تربیت کے ذریعے شاہ ہمدان نے اپنے مریدین و متوسلین کو تقوٰی، طہارت اور صالحیت کے زیور سے آراستہ کیا اور جو نہ صرف روحانیت کے بلند مقامات پر فائز ہوئے بلکہ ساتھ ہی انہوں نے سماجی اصلاح کے کام میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ آپ نے کشمیر میں پہلے سے موجود صوفیاء کو غاروں اور بیابانوں سے نکلنے کی ترغیب دے کر ایک نئی تبلیغی و رفاہی جہت سے روشناس کرایا اور اس طرح انہیں سماجی ذمہ داریوں کا احساس دلایا۔یہ ان کاوشوں کا ہی ثمر ہے کہ آگے چل کر کشمیر کو شیخ العالم شیخ نورالدین نورانی رحمۃ اللہ علیہ اور سلطان العارفین شیخ حمزہ مخدوم رحمۃ اللہ علیہ جیسی جامع الکمالات شخصیات نصیب آئیں۔
تربیت پزیز سالکین کے ذریعے شاہ ہمدانؒ نے مروجہ بدعات اور اخلاقی برائیوں کے خلاف مثبت انداز میں کام شروع کیا جس میں انہیں بہت کامیابی ملی۔آپ نے زاہدوں کی عبادت گاہیں اور سرائیں اور خانقاہیں بھی تعلیم و تدریس کے لئے مخصوص کروائیں اور دینی تعلیم کے فروغ کی جانب سب سے زیادہ توجہ دی، مساجد تعمیر کروائیں، آئمہ کرام کو مقرر کروایا تاکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھانے کے ساتھ ساتھ انکے بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کریں۔آپ کے ہمراہ سینکڑوں عارفین کی جو جماعت تھی ان میں خطیب، مفسر، اور فقہاء بھی تھے، اس کے علاوہ حافظ اور قاری بھی تھے، خطاط اور ماہرین تعلیم بھی تھے۔آپ نے ہر فرد کو اس کی اہلیت کے مطابق ذمہ داری تفویض کی ، علماء حضرات کو درسگاہوں میں متعین کیا تاکہ ملک میں پڑھے لکھے جوان پیدا کئے جائیں، جس قدر فقہاء حضرات تھے ان کو عدالتوں میں قاضی مقرر کروایا، خطباء کو یہ خدمت سونپی کہ دور دراز کے لوگوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کریں، قراء و حفاظ کرام کو قرآنی تعلیم عام کرنے پر زور دیا اور مساجد کی امامت ان کے سپرد کی لوگوں کو صوم و صلوٰۃ کا پابند بنائیں اور مساجد میں بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کو قرآن کی تعلیم دیں۔ ماہرین تعلیم کے ذمہ یہ خدمت تھی کہ وہ طلباء کو دینی و دنیاوی تعلیم سے آراستہ کریں اور درسگاہیں قائم کریں۔ (2)
شاہ ہمدان کی کشمیر آمد سے پہلے معاشرہ کئی برائیوں کی آماجگاہ بن چکا تھا آپ نے دعوتی کاوشوں سے زناکاری، قمار بازی ، شراب نوشی اور دیگر جرائم چھڑوانے میں اہم رول انجام دیا، اس وقت مسلمانوں میں نیوگ کا مسئلہ رائج تھا۔اور قحبہ خانے موجود تھے۔ اس وقت ایسے رہبر کامل کی ضرورت تھی جو بگڑے ہوئے حالات کو سنوارے اور سچائی کی ایسی تعلیم پیش کرے جس کے سامنے ہر ایک سر تسلیم خم کرے۔ (یہ بھی پڑھیں وہ داعی قرآن و سنت : مفتی فیض الوحید رحمہ اللہ – الطاف جمیل ندوی )
آپ نے نہ صرف لوگوں کو ان جرائم کی طرف جانے سے باز رہنے پر ابھارا بلکہ ساتھ ہی حکمرانوں کو جرائم روکنے کے لئے سخت قوانین نافذ کرنے پر آمادہ کیا۔ نا انصافی اور جرائم کا قلع قمع ہوتے دیکھ کر غیر مسلمین کی ایک بڑی تعداد متاثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوئی۔
3۔ معاشی و ثقافتی پہلو:
انسان کسی حال میں اسباب معیشت سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔تنگ دستی، بھوک و افلاس میں اس کی بندگی بھی ناقص رہ جاتی ہے۔ضروریاتِ زندگی میسر ہوں تو انسان کا ذہن مطمئن ہوجاتا ہے اور دل میں ذکر الٰہی اور عبادات کی لذت محسوس ہوتی ہے۔ شاہ ہمدان اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ معاشرے میں اسلام تب ہی اپنی جڑوں کو مضبوط کرسکتا ہے اور اپنے برگ و بار پھیلا سکتا ہے جب لوگوں کی معاشی و اقتصادی مشکلات کا ازالہ کیا جائے۔ دست بہ کار و دل بہ یار کے بمصداق آپ نے لوگوں کو دینی شعور کے ساتھ ساتھ رزق حلال کے گر بھی سکھا دئے۔آپ نے صنعت و حِرفت کی طرف خصوصی توجہ دی اور بے روزگاری و افلاس کے خاتمے کے لئے لوگوں کو مختلف فنون کی طرف راغب کیا۔روحانی عظمت کے باوجود آپ عام آدمی کی طرح خود ایک کاسب تھے اور ٹوپیاں سینے کے کسب سے رزق حلال کماتے تھے۔ چونکہ شاہ ہمدان ایک سچا جذبہ لے کر کشمیر آئے تھے وہ حکومت یا اقتدار کے خواہش مند نہ تھے بلکہ ایسی زمین چاہتے تھے جہاں اسلام نافذ کرکے خلافت راشدہ اور عہد نبوی ؐ کے دور کی یاد تازہ ہو۔اس عظیم تحریک میں سلطان شہاب الدین نے آپ کا پورا ساتھ دیا۔اسلامی قانون کے نفاذ کے ساتھ آپ نے کشمیر کے تاجروں اور صنعت کاروں کے اندر جذبہ پیدا کیا کہ وہ گراں فروشی نہ کریں۔تجارت کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلا کر انہوں نے بڑے بڑے تاجروں، جاگیرداروں اور زمینداروں میں تحریک پیدا کی کہ وہ مساوات پر عمل کرتے ہوئے تمام ارضیات اپنے اپنے کاشتکاروں میں تقسیم کردیں تاکہ کشمیر میں معاشی ناہمواری نہ ہو۔شاہ ہمدان کی کشمیر تشریف آوری سے پہلے یہاں کے معاشرے میں کافی معاشی ناہمواریاں تھیں، آپ نے اسلامی نظام عشر و زکوٰۃ نافذ کروایا تاکہ غرباء و مساکین کی سرکاری طور پر مدد کی جاسکے اس نظام کے ذریعے غرباء اور فاقہ کشوں کی مسئلہ حل ہوگیا کیونکہ محتاجوں کو ماہوار امداد ملنے لگی اور اس طرح گداگری کا خاتمہ ہوگیا۔(3)
شاہ ہمدان نے جو معاشی و اقتصادی انقلاب برپا کیا، اس کے خصائص بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر شمس الدین احمد لکھتے ہیں:
‘یہ ایک فکری تربیت تھی اور ایک ذہنی انقلاب تھا جو حضرت شاہ ہمدان ؒ نے اہل کشمیر میں پیدا کیا۔اس اہم فکری اور ذہنی انقلاب کی محکم بنیاد پر بعد کے آنے والے دینی معماروں نے وہ عمارت نصب کی جس میں انہوں نے ثبات دوام کے رنگ بھر دئے یہ تعمیر چونکہ مردان خدا کے ہاتھوں ہوئی اس لئے زوال سے محفوظ رہی۔حضرت شاہ ہمدانؒ کے ساتھ جو ماموران نشر دین الٰہی تھے۔ان میں سے ہر ایک فرد خود ان ہی کی طرح زندگی کے امور سے متعلق مختلف فنون میں قدرت رکھتے تھے، وہ معمار تھے،طبیب، تجارت پیشہ تھے،زراعت پیشہ تھے، مہندس تھے،دستکار تھے،اور علم دین میں مہارت رکھنے کے علاوہ روحانی بلندیوں سے بھی سرفراز تھے۔وہ شاعر بھی تھے،اور ادیب بھی تھے، خطاط بھی تھے اور صحاف بھی۔یہ تربیت ان کو اس لئے حاصل تھی کہ بیگانے ملک میں اپنی ماموریت یعنی دین اسلام کی تبلیغ اور نشر و اشاعت میں اور اسلام کے نظام کو تعمیر کرنے کے دوران اگر کوئی شگاف پیدا ہو اس کو خود بند کرسکیں اور کوئی کمی واقع ہو تو اسے پورا کریں اور اس کی استواری اور مضبوطی کو یقینی بنائیں۔اسی لئے یہ حضرات اول عالم تھے اور بعد میں پیشہ ور۔علم ہی کی بنیاد پر شاہ ہمدان ؒ نے کلمہ توحید کا نعرہ دے کر اہل کشمیر کو اپنے گرد جمع کرلیا۔’ (4)
صنعت و حِرفت کے ساتھ ساتھ آپ نے یہاں کی ثقافت پر بھی کافی اثرات مرتب کئے۔آپ کے ذریعے کشمیر میں فارسی زبان و ادب کو ایک نئی طاقت مل گئی۔عربی زبان کی تفہیم و تدریس باقاعدہ طور پر خانقاہوں میں رائج ہوئی جس سے قرآن فہمی کی طرف خاصی پیش رفت ہوئی۔ صوفی شاعری کے اعلٰی نمونے لوگوں کو دستیاب ہونے لگے اور فارسی شعری روایت ادبی حلقوں میں متعارف ہوئی اور اس کے زبردست اثرات کشمیری زبان و شاعری پر آج بھی بآسانی دیکھے جاسکتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں علامہ نورعالم خلیل امینی – بدرالاسلام ندوی )
4۔ دعوتی پہلو:
کسی اچھائی اور خوبی بالخصوص دینی امور کو دوسرے افراد و اقوام تک پہنچانے اور انہیں قبول کرنے کی دعوت دینے کو اسلام میں لازمی قرار دیا گیا ہے۔دعوت سے مراد لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف بلانا اور آمادہ کرنا ہے۔
دعوت کے مختلف ذرائع و طریقے ہوسکتے ہیں، ہر قولی و عملی کوشش جو لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف مائل کرنے کے لئے کی جائے "دعوت ” کہلاتی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو حضرت شاہ ہمدان ؒ کی ساری زندگی دعوتِ دین کا ایک بہترین نمونہ نظر آتی ہے کیونکہ آپ نے اپنی ساری زندگی اللہ کے دین کی خدمت میں ہی لگا دی۔ آپ نے قران کریم کے منہج کے مطابق عمل اور کردار سے دعوت کا کام انجام دیا۔اپنے اخلاق اور روحانی کمالات کی بدولت آپ نے بڑے بڑے جوگیوں، جادوگروں اور فاسقوں کو زیر کیا اور ان کے قلوب کو اسلام کی طرف مائل کیا۔ آپ کے قول و فعل میں کسی قسم کا تضاد نہ تھا اور آپ خود بھی اس دعوت پر عمل پیرا تھے جس کی طرف لوگوں کو بلاتے تھے۔چونکہ انسانیت سے محبت اور ان کی خیر خواہی دعوت اسلامی کا بنیادی عنصر ہے اسلئے آپ حبِ انسانیت کے جذبے سے سرشار تھے۔ جبر و اکراہ کے استعمال سے آپ نے اجتناب کیا اور پر امن دعوتی، تعلیمی اور ثقافتی بنیادوں پر ایک نئے معاشرے کی تعمیر کرکے لوگوں کو اس دار السلام کی طرف بلایا۔لوگ دعوت کے اس انداز سے اس قدر متاثر ہوئے کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئے۔ آپ نے شدت پسندی، بنیاد پرستی اور عسکری محاذ آرائی کے بجائے روحانی و اخلاقی اقدار کی بنیاد پر دعوت دین کا کام کیا اور خیر خواہی کے جذبے کے تحت لوگوں کو دین حق کی طرف متوجہ کیا۔آپ نے خشک مذہبیت کے بجائے اسلام کو جمالیاتی طور پر پرکشش روحانی نظامِ فکر کے طور پر متعارف کیا اور تدریج کے اصول کو ذہن میں رکھ کر سماج کے سب سے با اثر اور ذہین طبقے کو اپنی طرف کھینچ لیا۔
دعوتِ دین میں حکمت کی غیر معمولی اہمیت ہے۔حکمت دعوت کا لازمی جز ہے جس کو دعوتِ دین میں ملحوظ رکھنا ازحد ضروری ہوتا ہے۔
مختلف مفکرین نے حکمت کی تعریفیں مختلف زاویوں سے پیش کی ہیں جن میں قول و فعل کی پختگی اور درستگی، علم و عقل کے ذریعے اشیاء کی حقیقتوں کی شناخت یا اشیاء کو ان کے صحیح موقع و محل پر رکھنا ہے۔ مختلف مذاہب کے درمیان امور مشترکہ دلوں کی قربت کا سبب ہیں جس کو قرآن تالیف قلب کا نام دیتا ہے ۔حکمت عملی کا تقاضا ہے کہ مکمل انکار کے بجائے مفاہمتی رویہ اختیار کیا جائے جیسے کہ قرآن نے تمام مذاہب کے افکار کا انکار نہیں کیا بلکہ ان مشترکہ صداقتوں پر اشتراک کی دعوت دی جو انسانوں میں باہم موجود ہوتی ہیں مختلف مذاہب کے ساتھ یہ مکالمہ تصادم کو ختم کرنے اور اشاعت اسلام میں انتہائی مددگار ہوتا ہے۔ شاہ ہمدانؒ نے اس حکمت عملی کو دعوتی کام میں ہمیشہ مدنظر رکھا اور اس کے فوائد بھی ان کو حاصل ہوئے۔ کشمیر کے ایک مشہور عالم دین اور اوراد فتحیہ کے شارح مولانا عبد الکبیرؒ لکھتے ہیں:
"حضرت امیر قدس سرہ جس وقت کشمیر میں رونق افروز ہوتے ہیں۔اس وقت کشمیر کے منادر میں پوجا زور زور سے بلند آواز کے ساتھ کی جاتی تھی۔خصوصاً کالی شوری مندر میں پوجا تو گلے پھاڑ پھاڑ کر کی جاتی تھی۔حضرت تو حکیم الامت تھے اور اسرار شریعت کے واقف۔آپ نے اس کا رد عمل اس طرح کیا کہ آپ نے تمام مساجد میں اوراد و وظائف جہر سے پڑھنے کی تجویز فرمائی۔اس میں تازہ ترین اور نو وارد مسلمانوں کے لئے تالیف قلبی منظور تھی۔اس قسم کی تبلیغ ‘تبلیغ بالمثل’ کہی جاتی ہے۔”(5)
تبلیغ کے دوران آپ نے لوگوں کی ذہنی سطح بھی مدنظر رکھی اور آپ نے دعوت کا وہ طریقہ اختیار کیا جس سے سامعین ان کی طرف کھچتے چلے گئے اور ان کے شکوک و شبہات آپ کی نگاہِ کرم سے کافور ہوگئے۔
ڈاکٹر شمس الدین احمد کچھ اس طرح آپ اور آپ کے رفقاء کی مدح میں رطب اللسان ہیں:
‘شاہ ہمدانؒ جیسے راسخ فی العلم امیر کاروان، اپنے باکمال مومنین دین اسلام اور خدائے اسلام کو ساتھ لیکر حکمت و نصیحت کے اصلحہ سے لیس اس ظلمت کدے میں داخل ہوئے۔یہ سارے مبلغین اسلام، خود دینِ اسلام کا صحیح نمونہ تھے ، شریعت و سنت نبوی کی بہترین مثال تھے۔اسلامی تعلیمات اور آداب و اوامر کے پابند تھے۔مخلص، بے لوث اور بے ریا خادم تھے۔ان کی گفتگو، ان کا رہن سہن ، ان کا اٹھنا بیٹھنا ، ان کی وطن سے دوری کی قربانی، خویش و اقارب سے فراق، ان کا سفر اور قیام اور ان کی زندگی، ان کی عبادت و ریاضت، اور ان کی موت، صرف اور خالص رب العالمین کے لئے تھی۔(6)
حوالہ جات
1۔ فیروز اللغات (اردو لغت) :ص 91
2۔ بلتستان اور کشمیر میں بیسویں صدی کے ممتاز بزرگان قادریہ کی دینی و علمی خدمات:محمد اسرائیل خان: شعبہ قرآن و سنہ، جامعہ کراچی: ص159
3۔ محولہ بالا: ص157،158
4۔ شاہ ہمدانؒ:حیات و کارنامے: ڈاکٹر شمس الدین احمد :ص267
5۔ التحفۃ المرضیۃ علی الاوراد الفتحیہ : مولانا عبد الکبیر: اشرف بک سینٹر سرینگر: ص34
6۔ شاہ ہمدانؒ:حیات و کارنامے: ڈاکٹر شمس الدین احمد : ص267
میر امتیاز آفریں
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

