کلیم عاجز کی شاعری نئی شاعری کے سیاق میں کیا اجنبی معلوم ہوتی ہے اور اگر اجنبی ہے تو اس کا سبب کیا ہے؟ کیا نئی شاعری صرف اس لیے اہم ہے کہ اس میں نئے انسان کے داخلی مسائل اور الجھنوں کو پیش کیا گیا ہے؟ کیا نئی حسیت کا اظہار پرانی لفظیات میں نہیں ہوسکتا؟ اس قسم کے کچھ اور سوالات بھی قائم کیے جاسکتے ہیں۔ کلیم عاجز کی شاعری کے تعلق سے ان سوالات کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ عموماً ان کی شاعری کے بارے میں دو انتہائی صورت سامنے آئی۔ پہلی صورت تو یہ ہے کہ کلیم عاجز کی شاعری کو میر کی شاعری کا بدل قرار دے دیا گیا ا ور اس کی ابتدا جمیل مظہری کے اس مضمون سے ہوئی جو ’وہ جو شاعری کا سبب ہوا‘ میں’ تجزیہ‘ کے عنوان سے شامل ہے۔ جمیل مظہری کے مضمون کو اگر غور سے پڑھا جاتا تو بعد کو انھیں ثانی میر وغیرہ کہنے کی غلطی نہ کی جاتی۔ جمیل مظہری نے یہ تو لکھا کہ عظیم آباد کے کسی شاعر سے میر کی ایسی پیروی نہ ہوسکی لیکن انہوں نے کلیم عاجز کی غزل کو میر اور کلیم سے الگ کرکے بھی دیکھا ہے،بعد کو میر اور کلیم مسئلے کو نظریاتی اور عملی بنیادوں پر حل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی۔ جمیل مظہری کے بعد کنہیالال کپور نے ایک مضمون ’کون یہ نغمہ سرا میر کے انداز میں ہے‘ لکھ کر جمیل مظہری کی رائے کو تقویت پہنچائی۔ اس سلسلے میں خود کلیم عاجز کے چند اشعار نے بھی ’میر اور کلیم‘ کے موضوع کو استحکام بخشا۔ کنہیا لال کپور نے لکھا ہے:
’’شیخ عبدالقادر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اب کچھ نقاد کہہ رہے ہیں کہ کلیم عاجز کی غزلوں میں خدائے سخن میر دوبارہ زندہ ہوگئے ہیں۔ اس قول کا اطلاق شاید ان کی ساری شاعری پر نہ ہوتا ہو، لیکن ان غزلوں پر ضرور ہوتا ہے جو انھوں نے پچھلے دنوں کہی ہیں۔ ‘‘ (جب فصل بہاراں آئی تھی، ص 10)
اس اقتباس سے ایک سنجیدہ قاری کی تصویر سامنے آتی ہے۔ کلیم عاجز کی شاعری کو میرکا بدل کہنے اور سمجھنے کی روش نے کلیم عاجز کے شعری متن کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آزادی کے بعد ناصر کاظمی ا ور کلیم عاجز دو ایسے شاعر ہیں جن کے یہاں وہ داخلی آہنگ ہے جس کا رشتہ کلیات میر سے قائم ہوجاتا ہے۔ گوکہ ناصر کاظمی اور کلیم عاجز کے یہاں اسلوب کی سطح پر فرق ہے مگر ایک کیفیت دونوں کے یہاں مشترک ہے۔
دوسری انتہا وہ ہے جب کلیم عاجز کی شاعری کو سیدھی شاعری کا نام دے کر اپنے تعصب کا اظہار کیا جاتا ہے۔ نئی شاعری کے ناقدین نے ایک ایسے گھنیرے متن کی اصطلاح وضع کی جس کی روشنی میں کلیم عاجز ہی نہیں نظیراکبرآبادی کے شعری متن کو بھی معمولی بتایا گیا۔ یہ حق تو ہر شخص کو حاصل ہے کہ وہ کسے کس درجے کا شاعر تسلیم کرے۔ لیکن اس کے پیچھے کم سے کم کوئی ایسا شعور تو ہو جس کی بنیاد پر بات آگے بڑھائی جائے۔ وہ لوگ جن کی نگاہ میں نہ کلاسیکی شعری سرمایہ ہے اور نہ اس کے مختلف اسالیب کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت ۔ ان کا کیا کیا جائے۔ مجھے کلیم عاجز کے تعلق سے ایسے لوگ ملتے رہے ہیں جو شاعری کو اصل سیاق میں دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت نہیںرکھتے۔ یہ بات میں کسی جذبے سے مغلوب ہوکر نہیں لکھ رہا ہوں اگر اسے آپ جذبے کا نام دیں تو مجھے صرف یہ کہنا ہے کہ اس جذبے کی تشکیل میں متن نے حصہ لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان دو انتہاؤں کے درمیان کی راہ کیا ہے میں نے ان انتہاؤں کو ختم کرنے یا درمیان کی راہ نکالنے کے لیے اس گفتگو کا آغاز نہیں کیا ہے۔ کلیم عاجز کا شعری متن اپنی بعض خصوصیات کے سبب ہماری توجہ کا طالب تو ہوسکتاہے لیکن اسے ہماری ہمدردیوں کی ضرورت نہیں ۔( یہ بھی پڑھیں کلیم عاجزؔ کی شاعرانہ مقبولیت کے اسباب – پروفیسر عبدُ البرکات )
پہلی انتہا کا رشتہ تو ایک اہم کلاسیکی روایت سے ہے اور اس روایت کو تسلیم کرنے والوں سے گفتگو کی جاسکتی ہے۔ دوسری انتہا کا تعلق ایک معنی میں عصریت سے ہے گو کہ عصریت بھی روایت سے رشتہ استوار کرلیتی ہے۔ جو لوگ دوسری انتہا پر ہیں انھیں اس مسئلے پر غور کرنا چاہے کہ نئی شاعری کے ایسے کتنے اچھے نمونے ہیں جن میں معنی کی کئی جہتیں ہیں۔ نئی شاعری کا شور اب تھم چکا ہے لیکن اب بھی ایسے لوگ پائے جاتے جاتے ہیں جو نئی تنقید کی اصطلاحوں میں سوچنے کے عادی ہیں اور اصطلاحیں ان کے لیے مقتدرہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مقتدرہ کو چیلنج تو متن ہی کرے گا۔ لہٰذا کلیم عاجز کی شاعری کو جن مقتدراؤں سے نمٹنا ہے وہ نمٹ لے گی۔ اس عمل میں ہماری شرکت تو بس شرکت ہی ہے۔لیکن ایک طالب علم کی حیثیت سے نئی شاعری اور اس کے مسائل سے ہم چشم پوشی نہیں کرسکتے۔
کلیم عاجز نے اپنے عہد کے ادبی رجحانات اور ادبی متون سے واسطہ رکھنے کے باوجود ایک دہنی فاصلہ قائم رکھا۔ اس درمیان ان کی کچھ تحریروں کے ذریعہ نئی شاعری اور بعض ترقی پسند شعرا کے بارے میں انتہاپسند رائے بھی سامنے آئی۔ ان میں ایک جذباتیت حاوی نظر آتی ہے۔ کلاسکیت کا بار بار حوالہ دینا ایک خوف پیداکرتا ہے۔ نئی شاعری کاایک بنیادی مسئلہ شناخت ذات کا تھا۔ انسان کہاں سے آیا ہے۔ کائنات میں اس کی حقیقت کیا ہے وہ کن بندشوں سے گھرا ہوا ہے؟ کلاسیکی شعرا نے بھی ان مسائل پر غور کیا تھا اور ان کے حل کی صورت بھی نکال لی تھی۔ کلیم عاجز نے انسان کی شناخت اور اس کے مقام کے تعلق سے وہی زاویہ اختیار کیا جو پہلے سے ہماری شاعری میں موجود تھا اور لازماً اس میں ایک اخلاقی جہت شامل ہوگئی۔ اس اخلاقی جہت کا تعلق کسی قوم یا معاشرے کے تصور کائنات سے بھی ہے۔ لیکن ایک شے جسے انسان کی داخلی الجھن اور اس کے اظہار کا فطری طریقہ کہتے ہیں اسے ابھرنے کا موقع نہیں ملتا۔
ہر عہد کا ایک غالب رجحان یا محاورہ ہوتا ہے۔ اس میں خود کو شامل کرنا بعض اوقات فیشن سا بن جاتا ہے۔ نئی شاعری میں عرفان ذات یا انسان کی داخلی الجھن وغیرہ کے نام پر کچھ تماشے بھی ہوئے۔ ممکن ہے ان تماشوں نے کلیم عاجز کو مایوس کیا ہو۔ کلم عاجز کی شاعری میں نیا انسان یا نیا ذہن کتنا ہے، اس سوال کو کلیم عاجز کے اشعار کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ لیکن اس سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ نئے ذہن کی پہچان کیا ہے؟ جس ذہن کو نیا ذہن کہا گیاتھا کیا وہی دہن آج بھی ہے؟ اس سوال کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں۔ کلیم عاجز کے یہاں تشکیک، سوال، احساس تنہائی، احساس شرمندگی، ان مسائل کو اس طرح تلاش نہیں کیا جاسکتا۔
کلیم عاجز کی شاعری جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے کسی مباحثے کاحصہ نہیں بنی۔ اسے ترقی پسند نقطۂ نظر سے بھی نہیں دیکھا گیا۔ کلیم عاجز کو ان رجحانات سے الگ کرکے بھی تو دیکھا جاسکتا ہے۔ کسی عہد کے عام رجحان یا مقبول محاورے ہی میں تمام سچائیاں تو سمٹ نہیں سکتیں۔ کچھ الجھنیں باہر بھی رہ جاتی ہیں۔ کلیم عاجز کی شاعری دراصل حاوی رویوں اور عام محاوروں کے تئیں شک تو نہیں پیدا کرتیں البتہ ان سے بلند ہونے کا حوصلہ پیدا کرتی ہے۔ کلیم عاجز کا شعری محاورہ پہلی قرأت میں عمومیت کا تاثر پیش کرتا ہے۔ اب یہ قاری پر منحصر ہے کہ وہ عمومیت سے گزر کر کچھ خصوصیت کی تلاش کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔ کلیم عاجز کا دکھ جن حوالوں سے ان تک پہنچا تھا وہ تاریخ کا ایک اندوہناک باب ہے۔ انھوں نے اس کے اظہار میں اک آفاقی آہنگ پیدا کیا۔ میں لکھ چکا ہوں کہ جدیدیت نے جس حزنیہ آہنگ کو پروان چڑھایا اس سے کلیم عاجز کا آہنگ مختلف تھا۔ ان کے بعض معاصرین نے نئے آہنگ سے قریب ہونے کی کوشش کی۔ کلیم اجز نے شعوری طور پر خود کو اس آہنگ سے الگ کرلینے کی کوشش کی۔ نئے انسان کے مسائل کو بے دخل کرنے میں کلیم عاجز کی اس تخلیقی ترجیحات کا اہم کردار ہے جس کے بارے میں وہ خود کہتے ہیں:
جب بھی ہم بیٹھے غزل کہنے کو
شاعری کا وہ سبب یاد آیا
تماشے بکھرے ہوئے زیر بام اتنے ہیں
کہ ہم نے دیکھنا بالائے بام چھوڑ دیا
شاعری کا سبب یاد آنا شاعر کی تخلیقی مجبوری ہے۔ دوسرے شعر میں بالائے بام اور زیربام کی ترکیبیں شاعر کے اسی رویے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ کلیم عاجز کی غزل کے داخلی آہنگ کے تجزیے اور تفہیم کی کتنی ضرورت ہے اس سلسلے میں کوئی حتمی رائے نہیں دی جاسکتی۔ اس کی بڑی وجہ فکر پر جذبے اور کیفیت کا غالب آجانا ہے۔ وہ خود کہتے ہیں:
مرے اشعار میں ہے حسن معانی کی تلاش
لوگ اب تک نہ مرے درد نہاں تک پہنچے
کلیم عاجز نے دردنہاں تک پہنچنے میں جس چیز کو حائل بتایا ہے وہ حسن معانی کی تلاش ہے، کیا’درد نہاں‘ ، ’حسن معانی‘ کی مانند نہیں ہوسکتا۔ ظاہر ہے کہ شاعر ’درد نہاں‘ کو ’حسن معانی‘ سے مختلف شئے بتاتا ہے۔ کلیم عاجز نے کثرت سے اپنی شاعری کودکھ، غم، درد اور اس قسم کے الفاظ کا مجموعہ بتایاہے۔ سچ یہ ہے کہ جہاں براہِ راست دکھ یا غم کا لفظ نہیں آیا ہے، وہاں بھی کوئی خلش تہہ نشیں رہتی ہے جو دکھ ہی کی مرہونِ منت ہے۔ لہٰذا کلیم عاجز کا شعری متن بڑی حد تک دکھ ہی کا بیانیہ ہے اور جدید شاعری میں اس لحاظ سے اس متن کی انفرادیت ہے۔ یہاں ہمیں متن کو شخصیت یا ذاتی تجربے سے بھی ہم آہنگ کرکے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک قاری کے طور پر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ دکھ کا یہ بیانیہ صرف متن پر متن بنانے کے عمل سے پیدا نہیں ہوسکتا۔ کلیم عاجز نے خود ہی اپنی شاعری کو شخصیت سے الگ کرکے دیکھنے کے رویے کی بار بار مخالفت کی۔ ہم پر یہ لازم نہیں کہ تخلیق کار کے اس موقف کو تسلیم کرلیں۔ لیکن متن کو بہتر طور پر سمجھنے میں شخصیت سے کچھ مدد مل سکتی ہے تو اس میں حرج کیا ہے۔ ادب کو لکھنے والی زبان اپنی پہلی منزل میں ادیب کی شرکت کے ساتھ وجود میںآتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ متن بعد کو ایک آزاد وجود کے طور پر ہم کلام ہوتا ہے۔ لیکن بعض متون میں ادیب کی شخصیت پوری طرح متن سے الگ نہیں ہوپاتی۔ کلیم عاجز نے ایک اور توجہ طلب بات کہی تھی:
سنا ہے لوگ فن سے صاحب فن تک پہنچتے ہیں
مگر ہم تک ہمارے ڈھونڈنے والے کہاں پہنچے
اس شعر کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ فن کا مطالعہ بالآخر صاحب فن تک پہنچا دیتا ہے۔ ’سنا ہے لوگ‘ سے مطالعۂ متن کے اس عمومی میلان کی جانب اشارا بھی ہے۔ یعنی اس عمومی طریقہ کار کے ساتھ مجھ تک لوگوں کو پہنچ جانا چاہیے تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس دعوی سے متن کی برتری کا اظہار ہوتا ہے یا شخصیت کی برتری کا؟ شعر سے فن کا مطالعہ کرنے والوں پر بھی حرف آتا ہے۔ اصل میں تخلیق کار یا صاحبِ فن کا غرور بعض اوقات ایسے ہی اشعار کے ذریعہ سامنے آتا ہے۔ مختلف تنقیدی تعبیروں کے باوجود اسے محسوس ہوتا ہے کہ اصل تعبیر یا اصل مفہوم تک قاری اور نقاد کی رسائی نہیں ہوسکی۔ صاحب فن کی بات کو ماننے کا مطلب متن کی دنیا کو محدود کرنا ہے۔ لیکن مجھے صرف یہ کہنا ہے کہ کلیم عاجز کا شعری متن نہ صرف شاعر کے بیانات کی روشنی میں بلکہ اپنے مزاج کے سبب صاحب فن کی جانب متوجہ کرتا ہے۔ یہ تخلیقی شخصیت ایک تاریخی سچائی کے سبب تخلیق سے کچھ اس طرح دست و گریباں ہے کہ اسے الگ کرنا گویا سیاق کو نظر انداز کرنا ہے۔ کلیم عاجز کی شخصیت ایک معنی میں سیاق کا بدل معلوم ہوتی ہے اور اسی بنا پر متن بھی تاریخ اور شخصیت سے ہم آہنگ ہے:
غزل کے آئینے میں زندگی کس کی جھلکتی ہے
غزل خواں سے کوئی پوچھے کہ یہ افسانہ کس کا ہے
متکلّم (شاعر) کو خوف ہے کہ کہیں غزل کی تعبیر اور تفہیم کے بعد کوئی ایسی حقیقت نہ سامنے آجائے جو اس کی نگاہ میں تھی ہی نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ کھیل تو زبان کا ہے جو منشائے مصنف کو خاطر میں نہیں لاتی۔ کلیم عاجز کا یہ خوف ان کی طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی۔ طاقت اس معنی میں ان کے یہاں ایک ایسا امیج ابھرتا ہے جو نہایت پرقوت اور پرکشش ہے۔ تنوع کے نام پر فضول اور خراب لکھنے سے اچھا ہے کہ کسی ایک امیج کو ابھار کر ادب کی تاریخ میں اپنی جگہ محفوظ کرالی جائے۔ کلیم عاجز کو اس لحاظ سے امتیاز حاصل ہے۔لیکن ایک قاری جب ان کے شعری متن میں داخل ہوکر کچھ مختلف اور کچھ زیادہ دیکھنا چاہتا ہے تو اسے مایوسی ہوتی ہے۔ تنوع کی کمی کانہ ہونا عیب نہیں۔ بعض اہم شعرا اظہار کی سطح پر ندرت پیدا کرکے قاری کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہے اس کی بڑی مثال فیض ہیں۔ کاش کلیم عاجز نے اپنے عہد کے محاورے اور مزاج کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا ہوتا جس نے ان کے یہاں کہیں کہیں اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔
کلیم عاجز کا تخلیقی غرور ان اشعار سے بھی ظاہر ہوتا ہے جن میں اشکوں کو ایک کردار کے طور پر پیش کیا گیاہے۔ اشکوں اور آنسوؤں کی طاقت کا راز اس کی خاموشی ہے۔ یہ کوئی ایسا زاویہ نہیں جو کلیم عاجز ہی سے مخصوص ہو لیکن اشک اور آنسو کو انھوں نے اپنی نظر سے دیکھا ضرور ہے۔ چند اشعار ملاحظہ کیجیے:
ادا کیوں کر کریں گے چند آنسو دل کا افسانہ
بہت دشوار ہے جتنا سمجھنا اتنا سمجھانا
بہت دشوار ہے سمجھانا غم کا
سمجھ لینے میں دشواری نہیں ہے
وہ بات ذرا سی جسے کہتے ہیں غمِ دل
سمجھانے میں اک عمر گزر جائے ہے پیارے
نہ اشکوں نے موقع دیا گفتگو کا
زباں رہ گئی آرزوئے سخن میں
نہ پوچھ کس لیے آنکھوں میں آگئے آنسو
سبب ضرور ہے لیکن بتانا مشکل ہے
چند اشکوں سے ادا حق بیاں کیا ہوگا
کس قدر طول ہے افسانۂ غم کیا جانو
اپے آنسو ہی جواب پرسش احوال ہیں
خود نہیں سمجھے تو کیا اوروں کو سمجھائیں گے ہم
ان اشعار میں اشکوں کے محرکات کی جانب کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ کلیم عاجز کے ان شعروں میں آنسوؤں کو کئی پہلوؤں سے دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پہلے شعر میں ’چند آنسو‘ کو دل کے افسانے کی تفہیم و ترسیل کے لیے ناکافی بتایا گیا ہے۔ چند آنسو کا مطلب چند آنسو نہیں، آنسو چاہے۔ جتنے بھی ہوں وہ دل کے افسانوں کے مقابلے میں کم ہیں اور فوقیت تو دل کے افسانوں کو حاصل ہے۔ متکلم ’چند آنسو‘ کے ذریعے اپنے کلام کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے یعنی کلام کے ذریعہ دل کے افسانوں کو سمجھا نہیں جاسکتا۔ مخاطب اگر سمجھنا چاہے تو سمجھ سکتا ہے۔ اگر سمجھنا دشوار ہے تو سمجھانا بھی اس سے کم دشوار نہیں۔ اسی بات کو کلیم عاجز نے یوں بھی بیان کیا ہے:
بہت دشوار ہے سمجھانا غم کا
سمجھ لینے میں دشواری نہیں ہے
سوال یہ ہے کہ متکلم سمجھ لینے پر کیوں زور دیتا ہے؟ اس سے ایک طرف تو زبان کے عجز کا اظہار ہوتا ہے۔ دوسری طرف اس میں یہ خوف بھی پوشیدہ ہے کہ کلام اپنے لسانی عمل کے ساتھ متکلم کے مدعا سے دور نکل سکتا ہے یا نکل جاتا ہے۔ اس لیے میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ اگر یوں سمجھ سکیں تو سمجھ لیجیے۔ ’’بہت دشوار ہے جتنا سمجھنا اتنا سمجھانا۔‘‘ زبان اور منشائے مصنف کی کشمکش کا اظہار ہے۔ سمجھنا اور سمجھانا اس صورت میں زبان کا کھیل بن جاتا ہے۔ ’’سمجھ لینے میں دشواری نہیں ہے۔‘‘ اس بیان میں ایک پناہ گاہ تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ کیسی منطق ہے کہ آپ ایک بات سمجھا نہیں سکتے اور وہی بات ہم سمجھنا چاہیں تو سمجھ سکتے ہیں۔ ظاہر ہے اس منطق کا تعلق خود کو ایک اخلاقیات کے دائرے میں لانا ہے۔ کلیم عاجز نے اس طرح بھی کہا ہے:
وہ بات ذرا سی جسے کہتے ہیں غمِ دل
سمجھانے میں اک عمر گزر جائے ہے پیارے
غم کے اظہار میں ایسی کیا بات ہے جو گیت اور شاعری میں ڈھل نہیں سکتی، فیض نے کہا تھا:
اک کڑا درد کے جو گیت میں ڈھلتا ہی نہیں
دل کے تاریک شگافوں سے نکلتا ہی نہیں
کلیم عاجز نے غم کو رنگ اور نشان سے بلند کرکے دیکھا ہے۔ اس کا محرک وہ عشق بھی نہیں جو کلاسیکی غزل کی ایک بڑی پہچان ہے۔ کلیم عاجز کا دکھ ایک تاریخی سیاق رکھنے کے باوجود بے نام اور بے نشان ہے۔ اسے ایک ایسی آوارگی حاصل ہے جس نے اسے بدلتے وقت کے ساتھ بامعنی بنائے رکھا ہے:
نہ اشکوں نے موقع دیا گفتگو کا
زباں رہ گئی آرزوئے سخن میں
اس شعر میں اشکوں کا جو کردار ابھرتا ہے اس سے بھی سخن اور زبان کے عجز ہی کا اظہار ہوتا ہے۔ کہنے کو تو کہا جاسکتا ہے کہ اشکوں کی مسلسل آمد نے گفتگو کا موقع نہیں دیا۔ گویا اشکوں سے آرزوئے سخن کی کچھ تلافی ہوگئی۔ زبان آرزوئے سخن میں اگر رہ گئی تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ظاہر ہے کہ اشکوں کا مسلسل جاری رہنا سخن کی ایک صورت ہے۔ اس شعر میں زبان کی طرف ایک احتجاج بھی شامل ہے۔ جو کام زبان کو کرنا چاہیے تھا اشکوں نے کردکھایا:
نہ پوچھ کس لیے آنکھوں میں آگئے آنسو
سبب ضرور ہے لیکن بتانا مشکل ہے
آنسو بے سبب نہیں آئے۔ لیکن ایسی کیا مجبوری ہے کہ متکلم سبب بتانا نہیں چاہتا۔ کہنے کو تو اس شعر میں بھی کوئی اسرار نہیں ہے اور اسرار کا نہ ہونا ہی اس کی خوبصورتی کا سبب ہے۔ کلیم عاجز کے یہاں اسرار کی جگہ ایک پردہ ہے۔ اس پردے کو ہٹانے کے لیے زیادہ مشقت کرنی پڑتی۔ لیکن اس پردے کو ہٹانے کے بعد اسے کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔ جو لوگ شاعری میں ابہام کو معنی کی طرفیں کا نام دیتے اور سمجھتے ہیں ان کی نگاہ میں کلیم عاجز کے مندرجہ بالاا شعار اکہرے معنی کے حامل ٹھہریں گے۔ لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ایک ہی معنی یا احساس کس طرح اپنی حدود میں رہ کر سلسلہ سا قائم کردیتا ہے:
چند اشکوں سے ادا حق بیاں کیا ہوگا
کس قدر طول ہے افسانۂ غم کیا جانو
چند اشکوں سے مراد چند رشک نہیں بلکہ افسانۂ غم کی طوالت کے مقابلے میں انھیں کم مایہ دکھانا ہے۔ ان تمام اشعار سے غم کی ایک ایسی وسیع و عرض کائنات سامنے آجاتی ہے جسے محض مضمون بنانے یا برتنے کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا اور نہ روایتی معنوں میں کلیم عاجز کو غم کا شاعر کہہ کر بات ختم کی جاسکتی ہے۔آنسو کی یہ کیفیت نئی نہ سہی لیکن ایسی جمالیات کو ضرور سامنے لاتی ہے جو روایت کی توسیع بھی کرتی ہے اور روایت سے آگے بھی نکلنا چاہتی ہے۔ جہاں یہ آگے نکلنا چاہتی ہے وہاں متکلم کی اپنی شخصیت کا اہم کردار ہے۔ رونے کا مضمون تو کلاسیکی شاعری میں ایک مستقل حوالے کی حیثیت رکھتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں کلیم عاجزؔ بحیثیت نظم نگار – پروفیسر ڈاکٹر محمد توقیر عالم )
آنسوکو اپنی ذات کا حوالہ بنانا ایک بات ہے اور اسے جزو ذات بنانا دوسری بات ہے۔ آنسو کا آنا ایک کیفیت کا نام ہے اور کیفیت کا کوئی موضوع کوئی عنوان نہیں ہوتا۔ جس طرح صورت حال واقعہ کو سیال بنا دیتی ہے۔ آنسو کے ساتھ ایک مشکل یہ ہے کہ عموماً یہ خیال بندی کے ساتھ خود کو بیگانہ محسوس کرتا ہے۔ چوں کہ اس کا اولین سروکار واردات قلبی سے ہوتا ہے لہٰذا وہ اوّل و آخر ایک مخصوص کیفیت کا حامل بن جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی کلیہ نہیں بڑی شاعری میں فکر کی دبازت اور کیفیت دونوں کی یکجائی ممکن ہے۔ کلیم عاجز کے ہاں بڑی شاعری کا ایک اور تصور ہے جسے انھوں نے فکری دبازت اور معنوی طرفوں سے بلند کرکے دیکھا ہے۔ کلیم عاجز نے اشکوں اور اشکوں کے سیاق کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے۔ لازماً یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ انھیں اہمیت دینا تو ٹھیک ہے لیکن کیا صرف اہمیت دینے سے شاعری اہم ہو سکتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلی منزل تو اہمیت کی ہے اس کے بعد کے جتنے بھی مراحل ہیں ان کا تعلق شاعر کی تخلیقی بصیرت سے ہے۔ کلیم عاجز نے اپنے طور پر اس دکھ کو ایک اسلوب عطا کیا ہے اور یقینا اس کے اظہار میں ایک مانوس سادگی ہے مگر یہ مانوس سادگی ذرا دیر کے بعد مانوس اجنبیت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ اس تبدیلی کا سبب متکلم کا مختلف انداز میں سوچنا ہے اور شعر میں ایسے لفظ کو لانا ہے جو مانوسیت کو تھوڑی اجنبیت میں تبدیل کردیتا ہے۔ کلیم عاجز نے اشکوں کو اپنا رازداں بھی بنایا اور غم خوار بھی:
اپنے آنسو ہی جواب پرسش احوال ہیں
خود نہیں سمجھے تو کیا اوروں کو سمجھائیں گے ہم
پرسش احوال کے جواب میں آنسو کو پیش کرنا اسی موقف کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اس سے زیادہ کسم پرسی کی حالت کیا ہوسکتی ہے کہ رونے والا یہ بتا نہ سکے کہ خرابی کا سبب کیا ہے۔ متکلم ایک مرتبہ پھر خود کو نا سمجھ بتاتا ہے اور اسے اس بات کا شوق نہیں کہ بے سمجھی کے باوجود وہ دوسروں کو سمجھائے۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ متکلم سمجھتا نہیں وہ تو آنسو کے سبب اور صورت حال کی گہرائی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ وہاں تک پہنچنا اور اس کی پہچان کرنا اوراسے زبان دینا مشکل ہے۔ اب آنسو ہی سے کسی حد تک ترسیل ہوسکتی ہے۔ متکلم اشکوں کو ایک خوف کے ساتھ دیکھتا ہے:
مرے اشکوں کا ہے اک خاص اندازبیاں لیکن
کہیں برہم نہ تجھ کو یہ طریق گفتگو کردے
متکلم اپنے اشکوں کی زبان اور اسلوب کو سب سے منفرد بتاتا ہے۔ اور شاید پہلی مرتبہ کلیم عاجز کے یہاں اشکوں کو انداز بیان سے جوڑ کر دیکھا گیا ہے۔ گویا یہ کمال انداز بیان کا نہیں بلکہ اشکوں کا ہے۔ اشکوں کو منفرد نہیں ثابت کیا جاسکتا البتہ اس کے اسباب و محرکات مختلف ہوسکتے ہیں۔ کلیم عاجز نے اپنے اشکوں کو منفرد ضرور بنایا ہے لیکن یہ فکر و احساس کی ایسی بلندی پر فائز نہیں جہاں سے اوروں کا دکھ اسے چھوٹا معلوم ہو۔ کلیم عاجز کا یہ شعر کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔ مجھے اس شعر میں ایک اکتشافی صورت بھی نظر آتی ہے۔ یہ ایک خوف ہی نہیں پیشن گوئی بھی تھی اب جب کہ کلیم عاجز بھی ہمارے درمیان نہیں کیا یہ کہا جاسکتاہے کہ اشکوں کے انداز بیان نے انھیں ایک خاص دائرے سے باہر نہیں آنے دیا اور یہ بھی کہ اس کے اظہار میں یکسانیت پیدا ہوگئی۔ اس شعر میں لفظ برہم بہت بامعنی ہے۔ برہم متکلم ہوگا یا سامع۔ ظاہر ہے کہ متکلم کی طرف واضح اشارہ ہے۔ لیکن متکلم کی برہمی قاری کو بھی پریشان کرے گی۔ ایک پہلو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اشک بذات خود زبان کی طرح ہے، اس کا بہنا زندگی کا ایک اسلوب ہے ایسی صورت میں انداز بیان کا ٹکڑا اشک کے ساتھ ہوجاتا ہے۔
یہ اشعار اشکوں کی عظمت کے ساتھ ان کی حدود کا یقین بھی کرتے ہیں۔ اشک جب کسی کے لیے زندگی کا عنوان ہی نہیں بلکہ زندگی بن جائے تو اس کے بارے میں تنقیدی رائے دینا آسان نہیں ہوتا۔ اس ضمن میں رجائیت اور قنوطیت جیسے الفاظ بڑی آسانی فراہم کرتے ہیں۔ لیکن کلیم عاجز کے ہاں دکھ کی کیفیت ان الفاظ کو خاطر میں نہیں لاتی۔ جب دکھ فعال ہو تو ایسے میں دکھ کے تعلق سے رسمی باتیں کرنا افسوس ناک ہے۔ کلیم عاجز کو اس بات کا شدید احساس تھا کہ ان کے قارئین اور ناقدین ان تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی شاعری کے تعلق سے فراق اور کلیم الدین کی رائے کا کثرت سے حوالہ دیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ان دونوں حضرات نے کلیم عاجز کی شاعریکے متعلق سے چند بنیادی حقایق کی جانب اشارہ کردیا تھا۔ کلیم عاجز کو بجا طور پر فراق اور کلیم کی ادبی بصیرت کا احساس ہے لیکن انھوں نے یہ دیکھنے اور سمجھنے کی شعوری طور پر کوشش نہیں کی کہ ادبی معاشرہ فکری اور نظریاتی طور پر فراق اور کلیم سے آگے بڑھ چکا ہے۔ کلیم عاجز اشکوں کے اظہار میں کچھ ایسی ندرت بھی پیدا کرسکتے تھے جس کا رشتہ فراق کی غزل سے قائم ہوسکتا تھا۔ کلیم عاجز کے لیے نئے زمانے کے مسائل شاید اتنے اہم نہیں تھے گو کہ نئے زمانے کو انھوں نے جتنا اور جس طرح دیکھا تھا اس معاملے میں کم لوگ ان کا مقابلہ کرسکتے ہیں، لیکن ایک ایسی تخلیقی دنیا ان کے تخلیقی مزاج پر اثر انداز رہی جس کا کوئی مقابلہ نئی دنیا کا کوئی مسئلہ اور موضوع نہیں کرسکتا تھا۔کہنے کو تو کہا جاسکتا ہے کہ کلیم عاجز نے جدید انسان اور جدید معاشرے کو اپنی نظر سے دیکھا اور پیش کیا ہے، مجھے اس سے نکار نہیں لیکن اس بات کا فیصلہ کون کرے گا۔ ظاہر ہے کہ قاری کی رائے ہی معتبر ہوگی۔(یہ بھی پڑھیں کلیم عاجزؔ بحیثیت نظم نگار – پروفیسر ڈاکٹر محمد توقیر عالم )
کلیم عاجز نے اشکوں کو زبان دینے کی کوشش نہیں کی۔ اس معاملے میں ان کی تخلیقی آگہی کی داد دینی چاہیے۔ جذبے کے وفور اور احساس کی شدت کو غزل میں سنبھال کر رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ کلیم عاجز نے اسے سنبھال کر یوں رکھا ہے کہ ان کی غزل کے اشعار کو موضوعاتی خانے میں رکھنے کے باوجود کوئی عنوان نہیں دیاجا سکتا۔ اشکوں کو زبان دینے کا مطلب دکھ کے اسباب کو بیان کرنا ہے۔ وہ اگر چاہتے تو بہت آسانی کے ساتھ اپنی فکر کا دائرہ بڑھا لیتے اور ایک معنی میں ان کی غزل وسعت سے ہمکنار ہوجاتی۔ کلیم عاجز نے آنسوؤں کی معنویت کو زندگی کی آفاقی قدروں کے سیاق میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ آنسو کا رشتہ عصری زندگی سے ہونے کے باوجود وہ انسانی زندگی کے طویل تر سلسلے کا حصہ بن جاتا ہے۔
چند شعر دیکھیے:
اس انتظار میں بیٹھی ہے وقت کی شیریں
کہ کوہکن کوئی پھر خاک کوہکن سے اٹھے
سب آئینے سب آئینے خانے ان ہی سے ہیں
میں سنگ و خشت کیسے کہوں سنگ خشت کو
یہ فصل گل و لالہ گزری چلی جاتی ہے
بے شیشہ و بے ساغر بے بادہ و بے میتا
خرد زنجیر پہناتی رہے گی
جو دیوانے ہیں دیوانے رہیں گے
چھپا لیا ہے مشقت نے عیب عریانی
ہے گرد جسم یہ اس طرح پیرہن جیسے
خدا رکھے غموں کو حسرتوں کو آرزوؤں کو
چلیں محفل میں کیا؟ باہر کہاں محفل سے آئے ہیں
کس کا سینہ ہے جو زخموں سے نہیں ہے معمور
کیا کوئی تجھ سے محبت کی نشانی مانگے
ان اشعار پر غور کیجیے تو پہلی قرأت میں عمومیت نظر آئے گی اور بہت آسانی کے ساتھ ان کے جواب میں شعر سنائے جاسکتے ہیں لیکن ٹھہریے اتنی آسانی سے میں ان اشعار سے خود کو اور آپ کو گزرنے نہیں دوں گا۔ ان اشعار پر نہ تو مصنف کا اختیار ہے نہ ہمارا نہ آپ کا۔ کلیم عاجز کی ہدایات کی روشنی میں انھیں دیکھنا ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ ہم کسی کی رائے کو حتمی طور پر قبول کرلیں۔ متن کی طاقت متن کے اندر ہوتی ہے۔ قاری بھی متن سے باہر ہے اور قاری ایک طرح کا نہیں ہوتا۔ کلیم عاجز کے مندرجہ بالا اشعارمیں اگر صرف عمومیت ہے تو انھیں کیوں اہمیت دی جائے۔ کلیم عاجز نے اپنی بیشتر غزلوں میں ایک دو ایسے شعر نکالے ہیں جو بیک وقت ان کے ذاتی واردات کے ساتھ ساتھ شعری ہنرمندی کا بھی نمونہ ہیں۔ اب پہلے شعر پر غور کیجیے تو شیریں اور کوہکن پر مشتمل اشعار یاد آئیں گے۔ شیریں اور فرہاد کا قصہ شعری روایت کا اہم حوالہ بن چکا ہے۔ جس مضمون کو بار بار برتا گیا ہو اس کی طرف دیکھنا آسان نہیں ہوتا۔ کلیم عاجز نے اگر دیکھنے اور برتنے کی کوشش کی تھی تو یہ ان کا حق تھا۔ ایک تو اس سبب سے کہ ان کی نگاہ میں اس مضمون کے تمام متعلقات اور مضافات تھے اور ان کے پاس ایک ایسا اسلوب تھا جس کی تعمیر و تشکیل میں کلاسیکی شعر و ادب کے مختلف اسالیب نے حصہ لیا تھا۔ کلیم عاجز نے بار بار کے آزمائے اور برتے ہوئے مضمون میں ایک نئی جہت پیدا کردی۔ شیریں اور کوہکن ماضی کا نہیں بلکہ حال کا علامیہ بن گئے۔ کمال یہ ہے کہ کلیم عاجز نے وقت کی شیریں کہہ کر ماضی کی شیریں سے ایک رشتہ بھی قائم کرلیا اور اپنی شیریں کو الگ کرکے دیکھنے کی بھی کوشش کی ہے۔ وقت کی شیریں کا فقرہ ہمارے ذہن میں ان تمام تصورات کو ابھارتا ہے جو شیریں و فرہاد سے وابستہ رہے ہیں۔ متکلم اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ یہ نہ سمجھیے شیریں و کوہکن کا قصہ ختم ہوگیا۔ ظاہر ہے کہ قصے کے خاتمے کے بعد تو خاک کوہکن ہی باقی رہ جائے گی۔ وقت کی شیریں کو اس خاک سے ایک نئے کوہکن کے نکلنے کا انتظار ہے۔ کوہکن تو پہاڑ کھودنے والا ہے۔ کوہکن زندگی کی جدوجہد اور عمل کا استعارہ ہے۔ شعر کا معنوی سفر اسلوب سے متاثر ہوتا ہے۔ کلیم عاجز نے اپنے بہترین تخلیقی لمحات میں۔ ایسا اسلوب اختیار کیا ہے جس سے یقینی صورت پیدا نہیں ہوتی۔وقت کی شیریں سے فیصلہ نہیں ہوسکتا کہ کس وقت کی بات کی جا رہی ہے۔ اس طرح کوہکن کا خاک کوہکن سے اٹھنا ایک آرزومندی ہے اور یہ پوری ہوبھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ اس انتظار میں بیٹھی ہے کے فقرے سے شیریں کی معصومیت کا اظہار ہوتا ہے۔ نئی غزل میں شیریں اور کوہکن کا استعمال کم ہوا ہے۔ کلیم عاجز نے اپنے کلاسیکی سرمائے سے جو کچھ منتخب کیا ہے اسے اپنی تخلیقی ہنرمندی کے ذریعہ مقام سے گرنے نہیں دیا۔ کلیم عاجز نے اس مضمون کو ایک اور جہت بھی دی ہے:
تلخی کوہکنی کل بھی مرا حصہ تھا
جام شیریں یہ نصیب دیگراں آج بھی ہے
تلخی کوہکنی کے بعد جام شیریں دوسروں کو نہیں ملنا چاہیے۔ اس شعر کی ایک سیاسی تعبیر بھی ہوسکتی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ جدت کی وکالت کرنے والے اس مضمون کو اس سلیقے سے باندھ سکتے ہیں:
سب آئینے سب آئینے خانے ان ہی سے ہیں
میں سنگ و خشت کیسے کہوں سنگ و خشت کو
ایک ہی مصرع میں دو مرتبہ سنگ و خشت کا استعمال جس طرح ہوا ہے وہ ایک ایسی قادرالکلامی ہے جسے سہولت کا نام دینا چاہیے۔ غالب نے ان دو لفظوں کو زندگی عطا کردی تھی:
’’دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھرنہ آئے کیوں‘‘
دل سنگ و حشت کی طرح بے حس نہیں کہ دکھ کا اس پر اثر نہ ہو۔ کلیم عاجز کی خوبی یہ ہے کہ کسی لفظ یا ترکیب کی تکرار یا الٹ پھیر سے معنی کا ایک عمل پیدا کردیتے ہیں گو کہ اس عمل سے معنی کی جہتیں پیدا نہیں ہوتیں مگر ایک جہت یا ایک پہلو کا پیدا ہوجانا بھی بڑی بات ہے۔ متکلم سنگ و خشت کو سنگ و خشت کیوں کہنا نہیں چاہتا۔ وہ پہلے مصرع میں اس کی ایسی زبردست دلیل پیش کرتا ہے کہ اس کے بعد کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ آئینے خانے سنگ و خشت کی ترقی یافتہ اور نکھری ہوئی شکل ہیں۔ اگر لوگ سنگ و خشت کو سنگ و خشت کہنا چاہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ نہیں معلوم سنگ و خشت کا کوئی تعلق عصری حسیت یا سماجی حسیت سے کس طرح قائم کیا جائے گا:
یہ فصل گل لالہ گزری چلی جاتی ہے
بے شیشہ و بے ساغر بے بادہ و بے مینا
فیض کا شعر یاد آتا ہے:
نہ گل کھلے ہیں نہ ان سے ملے نہ مے پی ہے
عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے
فیض نے محبوب اور گلشن کے تعلق سے اور بھی اشعار کہے ہیں۔ ان شعروں کی خوبی یہ ہے کہ وہ عام زندگی میں اپنی معنویت قائم کرتے نظر آتے ہیں۔ کبھی تنہائی کے لمحوں میں بھی فیض کے یہ مصرعے یاد آتے ہیں۔ کلیم عاجز کے خاص اسلوب نے اس شعر کو میں اور تو سے بلند کردیا ہے۔ ایک صورت حال یا واقعہ کا بیان ہے اور اس میں کوئی ابہام نہیں۔ لیکن قاری کو بہائے لے جاتا ہے۔ فصل گل لالہ کا یوں گزرنا فصل گل لالہ کی توہین ہے۔ اس موسم میں تو شیشہ ساغر، بادہ اور مینا ہونا چاہیے۔ متکلم نہ کسی پر الزام دھرتا ہے اور نہ ہی مایوسی کا شکار ہے۔ مصرع ثانی میں ’بے‘ کی تکرار نے فصل گل لالہ کے خالی پن اور کم مائیگی کو ابھارنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ فیض نے شعر کی بنیاد تین باتوں پر رکھی ہے۔ گل کا کھلنا، محبوب سے ملنا اور مئے کا پینا۔ جب یہ تینوں باتیں ممکن نہ ہوسکیں تو پھر بہار کیوں کر گزری۔ ’عجیب رنگ‘ کا ٹکڑا تمام محرومیوں کی جانب اشارہ کردیتا ہے۔ کلیم عاجز کے شعر میں فصل گل لالہ گزری نہیں ہے بلکہ گزر رہی ہے۔ فیض نے گل کے کھلنے، محبوب سے ملنے اور شراب پینے کی آرزوؤں کو واضح کردیا ہے۔ کلیم عاجز نے ایسی تمام آرزوؤں کو شیشہ، ساغر بادہ و مینا کے پردے میں چھپانے کی کوشش کی ہے۔ فیض نے اس بہار کی جانب اشارہ کیا ہے جس میں گل ہی نہیں لکھے۔ لیکن موسم بہرحال بہار کا ہے ۔ کلیم عاجز نے فصل گل لالہ کا ٹکڑا استعمال کرکے اس امکان کو باقی رکھا ہے۔ گل نہیں کھلے، سارا زور شیشہ و بادہ پر ہے اور شیشہ و بادہ کا لطف محبوب کے ساتھ ہے۔ ایسی صورت میں بے تیشہ و بے ساغر و بے بادہ و بے بینا کی شکایت میں محبوب کا نہ ہونا بھی شامل ہے۔ کلیم عاجز کا شعر کم لوگوں کو یاد ہوگا۔ اس کے مقابلے میں فیض کا شعر زیادہ مقبول ہے۔ بنیادی فرق لہجہ کا ہے فیض کے یہاں وہ روانی نہیں جو کلیم عاجز کے یہاں ہے مگر فیض کا شعر ردیف و قافیے کے التزام کے سبب آکے نکل جانا ہے۔ کلیم عاجز کا شعر ایک غیرمردف غزل سے ماخوذ ہے۔
کلیم عاجز نے ایک شعری میلان کے طور پر خرد اور دیوانگی سے متعلق اشعار کہے۔ ان میں ایک شعر ضرب المثل بن گیا ہے:
خرد زنجیر پہناتی رہے گی
جو دیوانے ہیں دیوانے رہیں گے
خرد جنوں کے ساتھ کیا برتاؤ کرتی ہے یا کرسکتی ہے؟ اس سلسلے میں مندرجہ بالا شعر پیش کیا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس شعر میں ایسی کیا خوبی ہے جس کے سبب لوگ دہراتے ہیں، اول تو اس کا آہنگ نثر سے قریب ہے اور گفتگو کے لہجے میں بات کہی گئی ہے۔ شعر میں کوئی ابہام نہیں اور ابہام کا یہاں نہ ہونا ہی اس کی خوبی ہے۔ رہے گی اور رہیں گے نے ایک ہی معنی کو مسلسل بنا دیا ہے اور اس لیے خرد اور جنوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ سامنے آجاتا ہے۔ کلاسیکی شاعری سے دور جدید تک کی غزل میں خرد اور جنوں کے یہ مسائل مل جاتے ہیں۔ کلیم عاجز کی تخلیقی جہت کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ بعض مضامین کے تعلق سے پیچیدہ بیانی اختیار نہیں کرتے۔ اس غزل کا یہ شعر بھی ہے:
جنھیں گلشن میں ٹھکرایا گیا ہے
ان ہی پھولوں کے افسانے رہیں گے
کہنے کو تو اس شعر میں کوئی خاص بات نہیں ہے۔ لیکن کچھ پھولوں کا گلشن میں ٹھکرایا جانا ایک سیاسی جہت کو بھی روشن کرتا ہے۔ شعر و ادب کی سب سے بڑی طاقت اس کی اشاریت ہے۔ قطعیت سے معنی کا عمل جمود کا شکار ہوجاتا ہے۔ یوں تو اوپر کے دونوں اشعار میں دو باتیں قطعیت کے ساتھ کہی گئی ہیں۔ دو مخصوص سمتوں میں ذہن منتقل ہوجاتا ہے۔ مگر ان سمتوں کے پیچھے ایک فکری روایت ہے۔ اس روایت کی پاسداری کے باوجود اس سے نکلنے کی ایک کوشش بھی نظر آتی ہے۔ عموماً یہ کوشش نئے تجربے کے اظہار کے سبب دوسرے شعرا کے یہاں زیادہ واضح دکھائی دیتی ہے۔ کلیم عاجز نے پھولوں کو کثرت سے استعمال کیا ہے۔ لیکن یہاں لفظ ’ٹھکرانے‘ سے اس کی صورت یکسر بدل گئی ہے۔ پھولوں سے ٹھکرانے کا سبب کچھ بھی ہوسکتا ہے ایک سبب تو بہت سامنے کا ہے جسے امتیازکرنا کہتے ہیں۔ پامال ہوجانے کا روشن پہلو تو یہی ہے کہ اس سے ایک بیانیہ پیدا ہوتا ہے۔ کلیم عاجز کے متن میں ایسے گوشے اور پہلو بھی ہوتے ہیں جن کی حیثیت مرکزی نہیں ہوتی یا جنھیں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن تاریخ کا طالب علم اور قاری اپنے تاریخی متن سے ان خاموشیوں کو بھی دریافت کرلیتا ہے۔ کلیم جنھیں گلشن میں ٹھکرایا گیا ہے، میں امکان ہی نہیں بلکہ یہ یقین بھی پوشیدہ ہے کہ ٹھکرائے ہوئے پھول ہی افسانے کا موضوع بنیں گے۔ کلیم عاجز نے پھولوں کو کچھ یوں بھی دیکھا ہے:
ہے اور کون جو پھولوں کو روندتا گزرے
مجھے تو ہوتا ہے تیرا ہی نقشِ پا معلوم
کلیم عاجز نے قدم اور رفتار کو اپنے خاص اسلوب سے جاوداں بنا دیا ہے۔ مندرجہ بالا شعر میں محبوب کی جانب اشارہ ہے کہ پھولوں کو روندنے والا قدم کسی اور کا نہیں ہوسکتا۔ ’مجھے تو لگتا ہے تیرا ہی نقش پا معلوم‘ سے ایک شناسائی سامنے آتی ہے۔ یعنی اس نقش پا نے پہلے بھی پھولوں کو پامال کیا ہے۔لیکن’’ لگتا ہے‘‘ سے کسی اور کے قدم کے لئے بھی گنجائش باقی رہتی ہے۔ اس شعر کو پڑھ کر شاید ہی کوئی یہ کہے کہ شاعر نے محض مضمون باندھنے کے لیے شعر کہا ہے۔ پھولوں اور اس کی پامالی کا خیال اگر کسی کے نقش قدم کے ساتھ آتا ہے تو ممکن ہے تو اسے روایت سے وابستہ کرکے دکھایا جائے لیکن شاعر پھول، چمن اور اس سے وابستہ دیگر الفاظ سے گریزاختیار کرتے ہوئے اس خیال کی طرف آتا ہے جو اس کے لیے زیادہ اہم ہے۔ کلیم عاجز کا تخلیقی ذہن پاؤں قدم، اور رفتار کے تعلق سے نہایت ہی حساس ہے۔ کلیم عاجز کی شہرت میں ان اشعار نے اہم کردار ادا کیا ہے جن میں پاؤں قدم اور رفتار کو پیش کیا گیا۔ اسے ایک شعری تجربہ ہی کہنا چاہیے۔ کلیم عاجز کا اختصاص یہ ہے کہ انھوں نے غزل کی جمالیات کا پورا خیال رکھتے ہوئے اسے کچھ اس طرح پیش کیا ہے کہ ایسے اشعار عشقیہ مفہوم کے ساتھ ساتھ سیاسی مفہوم کے حامل بھی نظر آتے ہیں:
رکھنے کا کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں
چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلے ہو
اس شعر کی معنویت کا سفر کہاں سے شروع ہوتا ہے اور کہاں ختم ہوتا ہے اس کا تعلق دراصل انسانی زندگی کے نشیب و فراز سے ہے۔ کلیم عاجز نے جدت پیدا کرنے کی ایسی کوشش نہیں کی۔ اپنے انداز میں بات کہی ہے۔ آخر وہ کون سی خوبصورتی ہے جس نے اس شعر کو ایسی مقبولیت بخشی۔ اس سوال کا جواب اترائے چلو ہو اور رکھو ہو کہیں پاؤں میں پوشیدہ ہے۔ پاؤں کس کا ہے کون اترا رہا ہے یہ تمام باتیں زندگی کے ساتھ آگے برھتی جائیں گی۔ اس زمین پر چلنے اور پاؤں رکھنے والا کوئی بھی شخص اس کی زد میں آسکتا ہے۔ یا اس پر شعر کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ چلنا ذرا آیا ہے سے ظاہر ہے کہ اس کی عمر ابھی زیادہ نہیں ہوئی:
قیامت بلانے کو پھر کسی طرف
چلے ہو خراماں خراماں کہو
محبوب کے حسن کی تعریف میں کسی ظالم بادشاہ یا حکومت کی ظلم و زیادتی کا پہلو بھی ہوسکتا ہے۔ اس سوال پر ہمارے ناقدین کے درمیان اختلاف رہا ہے۔ کلاسیکی شاعری میں معشوق کی بے التفاتی کا شکوہ اس کی شعریات کا حصہ ہے۔ اس سے سیاسی مفہوم برآمد کرنے میں قاری آزاد ہے۔ کلیم عاجز کی غزل میں ایسے اشعار کی تعداد اچھی خاصی ہے جن سے ذہن سیاسی مفہوم کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ محبوب کا خرا ماں خراماں چلنا قیامت بلانے کے مصداق ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں محبوب کے چلنے کی ادا کا اہم کردار ہے۔ اسے دیکھ کر لوگ تڑپنے لگیں گے۔ لیکن اس کی سیاسی تعبیر میں بھی قاری آزاد ہے۔ اب خراماں خراماں چلنا اس قیامت کو بلانا ہے جس میں کسی کو کسی کی پرواہ نہیں ہوگی:
ترے آنے سے جو گزری قیامت یاد ہے سب کچھ
ترا جانا جو برپا کر گیا ماتم نہ بھولیں گے
ڈاکٹر سرورالہدیٰ
شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ
مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

