مری عاشقی فروزاں ، کرے تیری پیشوائی
مجھے حق پرست کر دے ، یہ صنم سے آشنائی
یہ نیاز دلبروں کے ، مرا دل ہی جانتا ہے
ہوئی کیسے مضطرب کو تری بزم تک رسائی
یہی جامِ بندگی تھا مری تشنگی کا حاصل
جسے پی کے عقل بہکی تو لگا کہ ہوش آئی
ہوئی رمز بیخودی کیا جو تو آنکھ میں نہ اترے
کہ خیال نے تو اکثر تیری شکل ہے بنائی
یہ متاع ضبط لے کر کہاں جا کے لڑکھڑائیں
جنہیں روکتی ہے ساقی یہ نظر کی پارسائی
نہ ڈروں بنامِ دوزخ ہے وہ دل میں نارِ ہجراں
رہے حسرتِ قیامت جو نوید وصل لائی
جسے شام ہو چلی ہے تری یاد کی گلی میں
کہاں دن ہے ناز گزرا اسے کچھ خبر نہ آئی
امن قندیل ناز
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

