منشی پریم چند اردو افسانے کے بنیاد گزاروں میں اہم اور مقتدر مقام پر فائز ہیں۔ افسانے کو انھوں نے پہلی بار زندگی، ارضیت، اور احساسات کا حصہ بنایا۔ موضوعات کا تنوع، کرداروں کی واقعیت، مکانیت کی سچائی اور بیان کی سہجتا ان کے افسانوں کی شناخت بھی ہیں اور ہر دلعزیزی کا باعث بھی۔ متخالف جنس کے روایتی عشق یا عاشق ومعشوق کے ذکر پر مبنی قصے ان کے یہاں تقریباً نہیں یا غالباً بالکل نہیں ہیں۔ لیکن وطن، قوم، اسلاف، عوام، تہذیب اور اقدار کی محبتوں سے شاید ہی ان کا کوئی افسانہ خالی ہو۔ فرسودگی، جبر، زیادتی، توہمات اور بھید بھائو کے خلاف احتجاجی لے ان کے افسانوں کو آفاقیت بخشتے ہیں اور مساوات اور بشر دوستی کا پیغام انھیں عظیم افسانہ نگاروں کی صف میں شامل کرتاہے۔ ہمارے ناقدوں نے انھیں گائوں کے مسائل ومیلانات اور مناظر کا افسانہ نگار قرار دے کر اُن کے ساتھ ذرا یوں زیادتی کی ہے کہ در اصل وہ منظر نگاری کے نہیں مسائل کے افسانہ نگار ہیں۔ یوں بھی اُن کے یہاں قصباتی اور شہری موضوعات کسی طور کم نہیں ہیں۔ بلا شبہ انھوں نے کم اچھے افسانے بھی لکھے ہیں، لیکن اچھے افسانوں کی تعداد ان کے یہاں قابل فخر ہے۔ اگر ان کا کوئی ایک افسانہ اپنے موضوع، مسئلے، کردار نگاری، سلیقے مند بیانیے اور فنی معیار کی بنا پرخود پریم چند، ان کے عہد یا پورے اردو افسانے کے مختصر، محتاط اور سخت ترین انتخاب میں بھی جگہ پاسکتا ہے تو وہ ہے ان کی عمر کے آخری دور کا لکھا ہوا افسانہ ’’ کفن‘‘۔
’کفن‘ اردو کا بے حد اہم اور پریم چند کا شاہکار افسانہ ہے۔اس افسانے سے متعلق ہمارے بہت سے ناقدوں نے لکھا ہے، اس کے تجزیے کیے ہیں اور اپنے اپنے طور پر اس کی تشریح وتوضیح کی کوششیں بھی کی ہیں۔ بعض لوگوں نے اس میں علامتیں دریافت کیں،بعضوں نے اسے استعاراتی نظام کے حوالے سے دیکھنے کی کوششیں کیں ۔ اسے جدید افسانے کا پہلا سنگ میل کہا گیا، اہم عالمی افسانوں کے مقابل بتایا گیا اور تقریباً سبھی نے اس کی سچی اور بے رحم حقیقت نگاری کا اعلان کیا۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ’کفن‘میں بھی اس نوع کے دوسرے افسانوں کی طرح حقیقت نگاری کا رنگ واقعی سے کہیں زیادہ منشی پریم چند کا اپنا ہے، جسے کولونیل عہد کا زائیدہ کہنا چاہیے۔ افسانے کی خوبی اور خوبصورتی یہ ہے کہ اس کا compactness، اس کی روانی، واقعے کی جدت، آئرنی، گہرا تاثراور کرداروں کا انوکھا پن قاری کو قطعی مہلت نہیں دیتا کہ وہ راوی کی واقعہ بیانی، جزئیات نگاری اور اس کے بتائے ہوئے مسلمات پر ذرہ برابربھی شک کرے، بیان کردہ حقائق کواز سر نو اپنی نظروں سے دیکھنے کی کوشش کرے یاسچ مچ کے گاؤں اور دیکھے بھالے سماج سے اس کا تقابل کرے۔ عام قار ئین کو تو جانے دیجیے تربیت یافتہ ناقدین بھی ’کفن‘ سے کچھ ایسے مسحور ہوئے کہ راوی کی ایک ایک بات پر’ آمنّا و صدّقنا‘ کہہ اٹھے۔ وہ فن کا قرارِ واقعی جائزہ لینے کے بعد خوبیوں کے اعتراف کے ساتھ بعض نمایاں کمیوں پر اِشکال و اعتراض تو کیا کرتے، نا معلوم خوبیوں کو اجاگر کرنے کے لیے تفسیر وتعبیر کی مزید جہتیں ڈھونڈنے لگے۔ غالباً فکشن کی معصوم تنقید میں اسی کو پلاٹ کا حسن اور بیان کا جادو کہتے ہوں گے جو عام قارئین کے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ ناقدین کے بھی سر چڑھ کر بولتا ہے۔
افسانے کی خوبیوں کے باوجود ’مادھو اور ’گھیسو‘کی جو تصویریں پیش کی گئی ہیں وہ تمام تر اصلی نہیں؛ کافی حد تک super impose کی ہوئی ہیں۔ دونوں باپ بیٹے کی جس بے حسی، بے ضمیری اور ان کی انسانی پستی کے حوالے سے ہندوستانی سماج یا دیہی معاشرے پر یقین کرنے کو کہا جا رہا ہے وہ در اصل ہمارے سماج یا معاشرے کی عام تو کیا نادر ونایاب شناخت بھی نہیں ہے۔ یہ انگریزوں کا شعوری یا لاشعوری طور پر سجھایا، یا سمجھایا ہوا وہ تصور ہے جس کے ذریعے ہم سے کہلوایا جاتا تھا کہ:’’ہاں یہ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔‘‘
جھونپڑی کے اندر بچہ جننے کے اذیت ناک درد سے تڑپ رہی ’بدھیا ‘ صرف مادھو کی بیوی اور گھیسو کی بہو نہیں بلکہ دونوں کی اَن داتا یعنی روزی روٹی کا مستحکم ذریعہ بھی ہے۔رائج رشتوں کے علاوہ ان دونوں میں سے ایک کا’ بدھیا ‘کے ساتھ جذباتی اور جسمانی تعلق ہے، دوسرے کا مشفقانہ اور بزرگانہ ۔ افسانے کا راوی ہمیں بتاتا ہے کہ شدت تکلیف سے بلکتی ہوئی ’بدھیا ‘ کی مدد کو دونوں باپ بیٹوں میں سے کوئی اس لیے جھونپڑی کے اندر نہیں جاتا کہ اس کی غیر موجودگی میں دوسراشخص الاؤ میں بھنے جارہے آلوئوں کابیشتر حصہ چٹ نہ کر جائے۔ لیکن حیرت تب ہوتی ہے جب آلو کھانے کے بعد بھی دونوں باپ بیٹے تڑپتی ، کراہتی بدھیا کو بے یارومددگار مرتا ہوا چھوڑ کرخود آرام کرنے کے لیے الائو کے گرد کنڈلی مار کر پڑ رہتے ہیں۔
نہ توافسانے کے اِس واقعے کو ، نہ ہی ناقدوں کے لاکھ اصرار اور ان کی فلسفیانہ تعبیروں کے باوجود اُس واقعے کو سماجی حقیقت نگاری ماننے پر طبیعت آمادہ ہوتی ہے جب گھر میں بہو اور بیوی کی پڑی ہوئی لاش کے کفن کے لیے گاؤں بھر سے اکٹھا کیے گئے پیسوں کو دونوں باپ بیٹے اس یقین کے ساتھ گوشت پوڑی کھانے اور شراب پینے میں اڑا دیتے ہیں کہ زمیندار اور گاؤں والے دوسری بار بھی کفن کا انتظا م ضرور کریں گے۔
مادھو اور گھیسو کو سماج کی استثنائی شخصیتیں مان لینے یا دونوں کے اعمال کو نادِر نِجی رویے تسلیم کر لینے کے بعد افسانے کی خوبی اور خوبصورتی میں کوئی کسر باقی نہیں رہ جاتی۔ افسانے کی خامیا ں سطح پر تب نمودار ہونے لگتی ہیں جب ناقدین اس کی حقیقت نگاری پر بصداصرارکرتے اور یہ باور کرانے کی کوششیں کرتے ہیں کہ مادھو اور گھیسو کی تمام تر خرابیوں کی ذمے داری صرف اور صرف سماجی سلوک اور زمیندارانہ نظام پر ہے۔ جب کہ افسانے کے متن میں اِن دونوں کے تئیں ایک نوع کی ہمدردی کا احساس موجود ہے، یا کم از کم نفرت کے احساس کا اظہار نہیں ہوتا۔غور کرنے کی بات یہ بھی ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ پریم چند نے یہ افسانہ محض شخصی مزاج،ذاتی رویّے یا انسانی نفسیات کے حوالے سے لکھا ہوجسے ناقدین نے سماجیات، معاشیات اورطبقاتی نظام کے فلسفے سے غیر ضروری طور پر جوڑکر دیکھنے کی کوششیں کیں اور کرداروں کے برے حالات اور ان کے غیر انسانی رویّوں کا سارا الزام زمیندارانہ نظام پر ڈال دیا؟ کیونکہ افسانے میں اس بات کے واضح اشارات ؍اعلانات موجود ہیں کہ مادھو اور گھیسو اپنے روّیے، مزاج اور حالات کے خود ذمے دار ہیں۔ سماج، زمیندار اورزمیندارانہ نظام نہیں۔یہ اقتباس دیکھیے جس میں اہم کرداروں کا تعارف اس طرح شروع ہوتاہے ’’چماروں کا کنبہ تھااور سارے گائوں میں بدنام۔‘‘اور پھر اس بدنامی کی وجوہات بتائی جاتی ہیں :
’’گھیسو ایک دن کام کرتا تو تین دن آرام۔ مادھو اتنا کام چور تھا کہ گھنٹہ بھر کام کرتا تو گھنٹہ بھر چلم پیتا۔ اس لیے انھیں کوئی رکھتا ہی نہیں تھا۔ گھر میں مٹھی بھر اناج ہو تو ان کے لیے کام کرنے کی قسم تھی۔ جب دو ایک فاقے ہوجاتے تو گھیسو درختوں پر چڑھ کر لکڑیاں توڑ لاتا اور مادھو بازار میں بیچ آتااور جب تک وہ پیسے رہتے دونوں اِدھراُدھر مارے مارے پھرتے۔ جب فاقے کی نوبت آجاتی تو پھر لکڑیاں توڑتے یا کوئی مزدوری تلاش کرتے۔ گائوں میں کام کی کمی نہ تھی۔ کاشتکاروں کا گائوں تھا۔ محنتی آدمی کے لیے پچاس کام تھے مگر ان دونوں کو لوگ اسی وقت بلاتے جب دو آدمیوں سے ایک کا کام پاکر بھی قناعت کر لینے کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہوتا۔ کاش دونوں سادھو ہوتے تو انھیں قناعت اور توکل کے لیے ضبط نفس کی مطلق ضرورت نہ ہوتی۔ یہ ان کی خلقی صفت تھی۔‘‘۔۔۔۔۔۔جب سے وہ (بدھیا)آئی تھی یہ دونوں اور بھی آرام طلب اور آلسی ہوگئے تھے بلکہ کچھ اکڑنے بھی لگے تھے۔ کوئی کام کرنے بلاتا تو بے نیازی ِشان سے دوگنی مزدوری مانگتے۔‘‘
افسانے کاہمہ جہت راوی جومادھو اور گھیسو کے ہر حرکت وعمل کا شاہد اور ان کے دلوں کے راز تک سے واقف ہے ؛دونوں کے رویّوں کے بارے میں بتاتا ہے کہ’’ یہ ان کی خلقی صفت تھی۔‘‘ اب ہمارے ناقدین اپنے قاریوں کو یہ یقین دلانے کے ہزار حربے استعمال کرتے رہیں کہ زمیندارانہ نظام نے دونوں کوجانوروں کی سطح پرزندگی گزارنے کے لیے مجبور کردیا تھا، اوریہ کہ وہ دونوں اپنی بدحالی اور بد اخلاقی کے ذمے دار خود نہیںتھے بلکہ زمیندارانہ نظام اور گائوں کا سماج تھا۔ افسانے کا متن کسی طوران تعبیروں کی تصدیق نہیں کرتا۔ کرداروں سے متعلق ناقدین کی تعبیریں ’کفن‘ کے راوی کے بیانات سے بھی میل نہیں کھاتیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مادھو اور گھیسو کو چور، نکما، کاہل اور بد اخلاق تسلیم کر لینے کے باوجود بیشتر ناقدین دونوں سے ایک نوع کی ہمدردی رکھتے ہیں۔ ہمدردی کا یہ جذبہ ان کی ناگفتہ بہ اور افلاس زدہ حالت پر تر س کھانے سے زیادہ زمیندارانہ نظام کے خلاف غصے کا پیدا کردہ ہے، کہ مادھو اور گھیسو کے متعلق راوی کے بعض تبصراتی نوعیت کے بیان سے ناقدوں کو یہ غلط فہمی ہوئی ، یا اُنھوں نے تعبیر میں غلطی کی ؛ کہ مادھو اور گھیسوکی سماجی، معاشی اور اخلاقی ابتری کی وجہ صرف اور صرف وہ نظام ہے جس میں یہ دونوں رہ رہے ہیں(حالانکہ بدھیا بھی اسی نظام کا حصہ ہے)۔نہ جانے کیوں ’کفن‘ سے متعلق اس نوع کی بعض تنقیدی؍تجزیاتی تحریروں کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ جس نظام کواتنی شدت سے مطعون کیا جارہا ہے وہ مادھو اور گھیسو کے گاؤں؍ علاقے کے بھلے بر ے لوگوں اور امیروں اور غریبوں کا نہیں بلکہ ناقدوں کے تصورمیں بسا، یادوردیس میں قائم در اصل وہ نظام ِ حکومت ہے جس کے وجود کو ان کے ذہن کسی طرح قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ ا فسانے کے متن کی خوبی یہ ہے کہ سماجی سسٹم اور اس میں رہنے والوں کے بیان میں اعتدال و توازن کو کمالِ خوبی سے قائم رکھا گیا ہے۔ یہ دیکھنے کی کوشش بعد میں کی جائے گی کہ افسانے کے متن میں کس سماجی نظام کو، یارائج زمیندارانہ نظام کو کس طور پیش کیا گیا ہے۔ فی الوقت وہ اطلاعات ملاحظہ کیجیے جو افسانے کے راوی نے مادھو اور گھیسو سے متعلق فراہم کیے ہیں:
۱۔’’ گھیسو ایک دن کام کرتا تو تین دن آرام۔‘‘
۲۔’’ مادھو اتنا کام چور تھا کہ گھنٹہ بھر کام کرتا تو گھنٹہ بھر چلم پیتا۔‘‘
۳۔’’ گھر میں مٹھی بھر اناج ہو تو ان کے لیے کام کرنے کی قَسم تھی۔‘‘
۴۔’’ جب دو ایک فاقے ہوجاتے تو گھیسو درختوں پر چڑھ کر لکڑیاں توڑ لاتا اور مادھو بازار میں بیچ آتا۔‘‘
۵۔’’ جب فاقے کی نوبت آجاتی تب پھر لکڑیاں توڑتے یا کوئی مزدوری تلاش کرتے۔‘‘
۶۔ ’’کوئی کام کرنے بلاتا تو بے نیازی شان سے دوگنی مزدوری مانگتے۔‘‘
۷۔ ’’پھر بھی اسے یہ تسکین تو تھی ہی کہ اگر وہ خستہ حال ہے تو کم از کم کسانوں کی سی جگر توڑ محنت تو نہیں کرنی پڑتی۔‘‘
شاید کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ معاملہ کسی ذات ،طبقے یاکلاس کے حوالے سے اجتماعی نہیں ،انفرادی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ استثنائی ہے ۔ کیونکہ اسی انسانی سماج اور طبقاتی نظام میں مادھو کی بیوی اور گھیسو کی بہو’ بدھیا ‘کی حالت اور اخلاقیات ان جیسی نہیں ہے ۔ وہ ان دونوں سے مختلف ہے۔ محنت کش ہے، ذمے داری کا احساس رکھتی ہے ، کماتی ہے اورخود کھانے کے علاوہ دونوںباپ بیٹوں کوبھی کھلاتی ہے۔ سماجی نظام کو کوسنے والے ناقدوں کے لیے افسانے کا ایک قابل توجہ پہلو یہ بھی تھا کہ اگر تینو ںجنے کماتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ گھیسو کے اہل خانہ کی زندگی اور ان کے گھر کی حالت بہتر نہ ہوتی۔ طبقاتی نظام کی ہزار خرابیاں تسلیم مگر اس افسانے میں مادھو اور گھیسو کی اخلاقی، معاشی اور معاشرتی صورت حال کی پستی کی وجہیں طبقاتی سے کہیں زیادہ انفرادی اور نفسیاتی ہے، اور گھیسو کی وہ خام فلسفیانہ توجیح بھی جو محنت سے بچنے کے لیے وہ اپنے ذہن میں راسخ کر چکا ہے۔ اور چلیے تھوڑی دیر کے لیے اگر مان بھی لیں کہ گھیسوواقعی زمیندارانہ یا سماجی نظام کا ستایا ہوا ہے بقول راوی ’’جس نے اسی زاہدانہ انداز سے ساٹھ سال کی عمر کاٹ دی ‘‘ تو مادھو کی بدحالی اوراس کی اخلاقی پستی کا الزام اس نظام کے سر منڈھنا کہاں تک درست ہے ؟ جب کہ افسانے کا راوی واضح لفظوں میں کہتا ہے کہ : ’’مادھو بھی سعادت مند بیٹے کی طرح باپ کے نقش قدم پر چل رہا تھا بلکہ اس کا نام اوربھی روشن کر رہا تھا۔‘‘ بہتر ہوتا اِن دونوں کرداروں کو ان کے مزاج، رویّے اور نفسیات کے حوالوں سے بھی دیکھا اور ان کا تجزیہ کیا جاتا، لیکن ہمارے ناقدین نے جانے کیوں اس طرف توجہ نہیں دی۔ جب کہ خود پریم چند اپنے بیشتر افسانوں میں واقعات کی حقیقی پیش کش سے زیادہ ان کی فلسفیانہ اور نفسیاتی توجیہ کو اہمیت دینے کا اعتراف کرتے ہیں۔ فروری 1934میں ایڈیٹر ’نیرنگ خیال‘ کے نام لکھے ان کے ایک خط سے یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے:
’’میرے قصے اکثر کسی نہ کسی مشاہدے یا تجربے پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس مِیں مَیں ڈرامائی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوں، مگر محض واقعہ کے اظہار کے لیے میں کہانیاں نہیں لکھتا۔ میں اس میں کسی فلسفیانہ یا جذباتی حقیقت کا اظہار کرناچاہتا ہوں ۔ ۔۔۔ کوئی واقعہ افسانہ نہیں بنتا تا وقتیکہ وہ کسی نفسیاتی حقیقت کا اظہار نہ کرے۔ (پریم چند کے خطوط، ص301، بحوالہ پریم چند کے نمائندہ افسانے، ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ،1981، ص 9)
اس کی تصدیق اُن کے ایک مضمون سے بھی ہوتی۔ یہ اقتباس دیکھیے:
اعلیٰ ترین افسانہ وہ ہوتا ہے جس کی بنیاد کسی نفسیاتی حقیقت پر رکھی جائے۔ ۔۔۔برا شخص بالکل ہی برا نہیں ہوتا ، اس میں کہیں فرشتہ ضرور چھپا ہوتا ہے، یہ نفسیاتی حقیقت ہے، اس پوشیدہ یا خوابیدہ فرشتے کو ابھارنااور اس کا سامنے لاناایک کامیاب افسانہ نگار کا شیوہ ہے۔‘‘(مضامین پریم چند، ص 181، بحوالہ پریم چند کے نمائندہ افسانے، ص 9)
اب ذرا سماجیات ، معاشیات اور طبقاتی نظام کے حوالے سے راوی کی فراہم کردہ اِن اطلاعات پر بھی نظر ڈال لیجیے اور غور کیجیے کہ کیا واقعی ان دونوں نکمے باپ بیٹوں کی بدتر حالت اور ان کی اخلاقی پستی کی ذمے داری اِن تینوں اداروں پر عائد ہوتی ہے؟ یا یہ محض ہمارے ناقدین کا’پالا ہوا وہم‘ یا ان کی’ غلط تعبیر‘ ہے۔ کیونکہ افسانے کا متن اور راوی ہمیں مادھو اور گھیسو کے سماج اوران کے سماجی نظام کے بارے میں جو معلومات فراہم کرتے ہیں، وہ یہ ہیں:
۱۔’ ’گاؤں میں کام کی کمی نہ تھی۔ کاشتکاروں کا گاؤں تھا۔‘‘
۲۔’ ’محنتی آدمی کے لیے پچاس کام تھے مگر ان دونوں کو لوگ اسی وقت بلاتے جب دو آدمیوں سے ایک کا کا م پاکر بھی قناعت کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔‘‘
۳۔’ ’مسکین اتنے کہ وصولی کی مطلق امید نہ ہونے پر بھی لوگ انھیں کچھ نہ کچھ قرض دے دیتے تھے۔‘‘
۴۔’’ میں سوچتا ہو ں کہ کوئی بال بچہ ہو گیا تو کیا ہوگا۔ سونٹھ ، گڑ، تیل کچھ تو نہیں ہے گھر میں۔ ‘‘
’’سب کچھ آئے گا بھگوان بچہ دیں تو۔ جو لوگ ابھی پیسہ نہیں دے رہے ہیں وہی تب بلا کر دیں گے۔ میرے نو لڑکے ہوئے ، گھر میں کبھی کچھ نہ تھا مگر اسی طرح ہر بار کام چل گیا۔‘‘
۵۔ ’’ زمیندار صاحب رحم دل آدمی تھے مگر گھیسو پر رحم کرنا کالے کمبل پر رنگ چڑھانا تھا۔ جی میں تو آیا کہہ دیں ۔۔۔ یوں تو بلانے سے بھی نہیں آتا۔ آج جب غرض پڑی تو آکر خوشامد کر رہا ہے۔ مگر یہ غصہ یا انتقام کا موقع نہیں تھا۔ طوعاً وکرہاً دو روپے نکال کر پھینک دیے۔‘‘
۶۔ ’’ جب زمیندار صاحب نے دو روپے دیے تو گاؤں میں بنیے مہاجنوں کو انکار کی جرأت کیوں کر ہوتی۔‘‘
۷۔ ’’ کسی نے دو آنے دیے کسی نے چار آنے۔ ایک گھنٹے میں گھیسو کے پاس پانچ روپے کی معقول رقم جمع ہو گئی۔
۸۔’’ کسی نے غلہ دیا اور کسی نے لکڑی۔‘‘
۹۔ ’’ اس کو کپھن ملے گا اور اس سے بہت اچھا ملے گا جو ہم لو گ دیتے ہیں۔‘‘
’’کون دے گا بتاتے کیوں نہیں۔‘‘
’’وہی لوگ دیں گے جنھوں نے اب کی دیا۔ ہاں وہ روپے ہمارے ہاتھ نہ آئیں گے۔‘‘
۱۰۔ ’’اب کیا بتاؤں کہ اس بھوج میں کتنا سواد ملا۔ جو چیز چاہو مانگو اور جتنا چاہو کھاؤ۔ ۔۔۔مجھے پان لینے کی سدھ کہاں تھی۔ کھڑا نہ ہوا جاتا تھا۔چٹ پٹ جاکر اپنے کمبل پر لیٹ گیا۔ ایسا دریا دل تھا وہ ٹھاکر۔‘‘
طبقاتی نظام کی ہزار خرابیوں کو تسلیم کرنے کا ہرگزیہ مطلب نہیں ہے کہ اس کی بعض اچھائیوں سے انکار کردیا جائے۔ یا جھکے ہوئے پلڑے کو ہی سب کچھ مان کر دوسرے پلڑے کے وجود کو یکسر بھلا دیا جائے۔ منشی پریم چند کی بڑی خوبی اور فن کے تئیں ان کی دیانتداری یہی ہے کہ وہ روشن اور تاریک پہلوؤں میں سے کسی کو نظر انداز نہیں کرتے، اٹھے ہوئے پلڑے کوجھکانے اور جھکے ہوئے پلڑے کو ہی سب کچھ ماننے پر اصرار نہیں کرتے ۔ غریبوں اور مفلسوںکی زندگی میں آنے والی ننھی منّی خوشیوں کا بھی اظہار کرتے ہیں۔جابروں کی نیکیوں پر پردہ نہیں ڈالتے ۔ کسی بھی شخص یانظام کو محض ایک ہی رنگ سے پینٹ کرنے کے وہ قائل نہیں ہیں۔ اس افسانے میں بھی یہ ساری چیزیں موجود ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنے حاوی رجحان یابوجھل علمیت کے قلعے میں محصور ہمارے ناقدین نے اس افسانے کے تنوع اور اس کی اصل روح کو سمجھنے کے بجائے قاری کو وہ باتیں سمجھانے کی کوششیں کیں جو افسانے کے متن کا نہیں در اصل اُن کے افکار کا زائیدہ ہیں۔
ان دواہم وجوہ کے علاوہ تعبیر کی غلطی کی ایک وجہ عہد یا زمانے کا عام چلن بھی بنا۔’کفن‘ کی اشاعت دسمبر 1935میں ہوئی تھی۔ دوسال پہلے ’’انگارے‘‘ کی اشاعت کاواقعہ اور اس کے جلو میں آنے والاذہنی انقلاب وقوع پذیر ہوچکا تھا۔1936میں انجمن ترقی پسند مصنفین کا قیام عمل میں آتا ہے۔ اشتراکیت کا نظریہ عام ہورہاتھا،یہ فیشن بھی تھا اور فن پاروں کو پرکھنے کا سنجیدہ اصول بھی۔ تب طبقاتی نظام، معاشی ناہمواری ، اور امیری اور غریبی کی کشمکش کے ذکر اور قدامت کے خلاف احتجاج کے بغیر تنقیدبھلے معیوب نہ ہو ، محبوب نہ سمجھی جاتی تھی۔ سو، اِن تمام چیزوں کا ذکر براہ راست یا بالواسطہ ایک طرح سے رائج الوقت جدت تھی۔ ’کفن‘ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسرمحمد حسن صاحب نے بھی لکھاہے کہ:
’’یہ بجھا ہوا الائو گویا وہ پورا سماجی نظام ہے جس کے اندر اب کوئی نئی چنگاری، کوئی نوائے سینہ تاب باقی نہیں جو اپنے امکانات ختم کر چکا ہے اور اب شخصیتوں کو کچلنے والا بوجھ بن چکا ہے۔‘‘(بحوالہ پریم چند، پروفیسر اورنگزیب عالمگیر، لاہور،2005ص، 4o)
بعد میں یہی بجھا ہوا الاؤ جو ترقی پسندوں کے زمانے میں زمیندارانہ نظام کامقبول استعارہ تھا، جدیدیت کے عہد میں مادھو اور گھیسو کی داخلی اور ذہنی کیفیت کا معروف استعارہ بن گیا۔ اور حد تو یہ کہ اس گاؤں کو دنیا ، جھونپڑے کو ایشیا اور بدھیا کی چیخ کوایشیا کی کراہ کی علامتوں کے طو پر پیش کیا گیا۔ اس افسانے میں علامتیں اور بھی ڈھونڈی گئیں لیکن کِن کِن کا ذکر کیا جائے اوربھلا کیوں؟
کئی ناقدوں نے مادھو اور گھیسو پر گفتگو کرتے ہوئے انھیں’ جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور انسان کہا ہے ۔ زندگی کی یہ بدحالی زمینداروں کی بخشی ہوئی بتائی گئی اور یہ باور کرانے کی کوششیں کی گئیں جیسے سچ مچ یہ دونوں انسانی احساسات سے عاری ہوں۔ جوش میں یہاں تک کہا گیا کہ :’’وہ معاشرے کے حقیر طفیلی کیڑوں کی طرح زندہ ہیں اور انسانی پستی کی انتہا کو پہنچے ہوئے انسان ہیں۔‘‘پروفیسر قمر رئیس نے بھی لکھا کہ : ’’مادھو اور گھیسو اس سماج میں جانوروں سے بھی زیادہ گھناؤنی، زیادہ ذلت آمیز زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔‘‘(پریم چند کے نمائندہ افسانے، ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ، 1981، ص22) جب کہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ یہ ذلت آمیز زندگی اُن کی مجبوری نہیں، منتخب کی ہوئی ہے ۔ وہ دونوں بیوقوف یا مخبوط الحواس بھی نہیں ہیں۔ افسانے کا متن اور راوی دونوں ان کی سوجھ بوجھ ، ان کے جذبات واحساسا ت اور صلاحیتوں کے استعمال کی شہادت دیتے ہیں۔ افسانے کی قرأت کے دوران جب ان کرداروں سے ہماری انسیت بڑھتی ہے ، تو یہ محسوس کیے بغیر ہم نہیں رہ سکتے کہ وہ کاہل، کام چور اور لاابالی ہونے کے ساتھ ساتھ ذی فہم، دور اندیش اور زمانہ شناس بھی ہیں، ان کے اندر انسانی ہمدردی موجود ہے، وہ وفاداری، اپنائیت، رشتے کی نزاکت سمجھتے اور دکھ درد کا خوب احساس رکھتے ہیں۔ لیکن مزاج کی تطہیر اور رویے کی تبدیلی ا ن کے بس میں نہیں۔ وہ چاہتے ہیں لیکن کرنہیں پاتے، خواہشیں پالتے ہیں مگر پوری کرنے کی پروا نہیں کرتے ۔ یہی اُ ن کا مزاج ہے یہی ان کا رویّہ۔ جب گھیسو مادھو کو تڑپتی ہوئی بدھیا کو دیکھ آنے کے لیے اکساتا ہے تو مادھو دردناک لہجے میں بولتاہے:
’’مرنا ہے تو جلدی مر کیوں نہیں جاتی ۔ دیکھ کر کیا آئوں۔‘‘
یہ جواب سن کرگھیسو مادھو سے کہتا ہے:
’’تو بڑا بے درد ہے بے۔ سال بھر جس کے ساتھ جندگانی کا سکھ بھوگا اسی کے ساتھ اتنی بے وپھائی۔‘‘
مادھو جواب دیتا ہے:
’’تو مجھ سے اس کا تڑپنا اور ہاتھ پاؤں پٹکنا نہیں دیکھا جاتا۔‘‘
تب گھیسو اپنی بیوی کی بیماریِ مرگ کو یاد کرتے ہو ئے مادھو کو بتاتا ہے:
’’میری عورت جب مری تھی تو میں تین دن اس کے پاس سے ہلا بھی نہیں۔‘‘
اب شراب خانے کے کچھ مناظر ملاحظہ کیجیے:
۱۔ ’’مادھو بولا۔’’مگر دادا ۔ بچاری نے جندگی میں بڑا دکھ بھوگا۔مری بھی تو کتنا دکھ جھیل کر۔‘‘ وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر رونے لگا۔
۲۔ ’’جس کی کمائی تھی وہ تو مر گئی ۔ مگر تیرا اسیرباد اسے جرور پہنچ جائے گا۔ روئیں روئیں سے اسے اسیرباد دے۔ بڑی گاڑھی کمائی کے پیسے ہیں۔
۳۔ مادھو نے پھر آسمان کی طرف دیکھ کر کہا۔ بیکنٹھ میں جائے گی دادا۔ بیکنٹھ کی رانی بنے گی۔‘‘
تسلیم کہ کردار، ان کے روّیے اور ان کی نفسیات کی تعمیروتشکیل میں معاشی نابرابری اور طبقاتی نظام اہم رول ادا کرتا ہے، اخلاقیات پربھی ان کے اثر انداز ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن کیا بنیادی جذبے، لطیف حسیات اور رشتوں کے نازک ارتعاشات بھی انھی سے طے ہوتے ہیں؟ظاہرہے ان سوالات کا روئے سخن افسانہ نگار منشی پریم چند یاکہانی بیان کرنے والے واحد غائب راوی کی طرف نہیں بلکہ اُن مفسرین ناقدوں کی جانب ہے جواپنی ذاتی رائے اور اکہری فکر کو اصل متن سے منطبق کرنے کے شوق، یا بین السطور کی انوکھی دریافت یا نظریے کی تبلیغ کے جوش میں اکثر تعبیر کی غلطیاں کرتے رہتے ہیں، اور یہاں بھی کی ہیں۔
اعتراف کرنا چاہیے کہ ’کفن‘ میں حقیقت نگاری کے حوالے سے ایک آدھ جھول موجود ہے ،یہ پریم چند کے دوسرے افسانوں کی سی مثالیت پسندی سے پاک ہونے کے باوجود سماجی حقیقت نگاری کی کسوٹی پرصد فی صد کھرا نہیں اترتا۔ تاہم اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اپنے موضوع اور فن کے اعتبار سے یہ بے حد خوبصورت اور عمدہ افسانہ ہے۔ اور اہم بات تو یہ ہے کہ ’کفن‘ کا مسئلہ حقیقت نگاری ہے بھی نہیں،نہ اس میں زمیندارانہ نظام کی مخالفت کی گئی ہے۔اس افسانے کو ان چیزوں سے متصف قرار دینے کی کوششوں کو تعبیر پسند ناقدوں کا شاخسانہ سمجھنا چاہیے ۔ ’کفن‘ تو مزاج، رویّے یا نفسیات کا افسانہ ہے۔ جیسے منٹو کے افسانے ’ٹھنڈا گوشت‘ اور ’سرکنڈوں کے پیچھے‘، محمد محسن کا ’انوکھی مسکراہٹ‘ اور نیر مسعود کا افسانہ ’بائی کے ماتم دار‘۔یقین نہ آئے تو ’کفن‘ کو ناقدوں اور تجزیہ نگاروں کا اوڑھایا ہوا برقعہ اتار کر ایک بار پھر سے دیکھ لیں۔ ناقابل یقین لیکن واقعی سماجی حقیقت نگاری کا تو دراصل حیات اللہ انصاری کا اسی نوع اور موضوع کا افسانہ ’آخری کوشش‘ ہے جس کی حقیقت پسندی اپنی سچائی اور سفاکی، کی اعلیٰ منزل پر ہے ۔ اس سلسلے کی آخری بات یہ کہ ’کفن‘ اپنی خوبیوں اور بعض خامیوں کے ساتھ اپنی تخلیق یا اشاعت کے معاً بعدجتنا اہم ،عمدہ اوراثر انگیز افسانہ تھا، آج ہمارے درجن بھر سے زیادہ ناقدین کے تعبیراتی تجزیے اور ان کی مفسرانہ تنقید کے بعد بھی اپنی خوبیوں اور بعض خامیوں کے ساتھ بعینہ اتنا ہی اہم ، عمدہ اوراثر انگیز ہے ۔اور شاید یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ جس طرح’کفن‘ کے تجزیوں اور اس سے متعلق لکھے گئے تنقیدی مضامین کی روشنی میں ’کفن‘کوسمجھنے اورپرکھنے کی کوشش کی جاتی ہے ، اسی طرح ’کفن ‘ کے متن کی روشنی میں ناقدین کی تحریروں کی بعض تعبیراتی بوالعجبیوں کا بھی جائزہ لیا جاناچاہیے۔ کہ تخلیق اور تنقید کا رشتہ اگر لازم وملزوم کا ہے، اور دونوں کو شانہ بہ شانہ چلنے کا دعویٰ بھی ہے، تو ہمیشہ تخلیق ہی تنقیدکے کٹ گھرے میں کھڑی ہونے کا ’سکھ‘ کیوں بھوگھے ؟تنقید کو بھی تخلیق کی عدالت میں پیش ہونے کاشرف کیوں نہ حا صل ہو؟
٭ ٭٭
Abu Bakar Abbad
E-mail:bakarabbad@yahoo.co.in
(M)9810532735
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

