اورنگ آباد میں منایا گیا مریم مرزا کی پہلی لائبریری کا یومِ تاسیس
میں چاہتی ہوں کہ ملک کے ہر گلی محلے میں بچوں کے لیے چھوٹی چھوٹی لائبریریاں قائم کی جائیں جہاں صرف بچوں ہی کتابیں رکھی جائیں مریم مرزا
اورنگ آباد 8/جنوری
۔ کتاب زندگی بھر کا سرمایہ ہوتی ہے ۔ غلط کتابوں سے علم حاصل نہیں ہوتا ۔ اس لئے کتابوں کا صحیح انتخاب بہت ضروری ہے ۔ کوئی بھی انقلاب اچانک نہیں آتا ہے بلکہ چھوٹے چھوٹے قدموں سے ہی شروعات کی جاتی ہے ۔ محلہ لائبریری کے اچھوتے تصور کے ساتھ مریم مرزا اور مولانا عبدالقیوم نے انوکھی تحریک شروع کی ہے، اس طرح کا اظہار خیال ڈاکٹر اے جی خان نے مریم مرزا محلہ لائبریری مہم کے ایک سال مکمل ہونے کے ضمن میں منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ اس موقع پر فیض عام ٹرسٹ کے سکریٹری عبدالحسین نے اپنے خطاب کہا کہ مریم مرزا کی چھوٹی چھوٹی لائبریریاں یہ علم کے بڑے بڑے جزیرے ہیں جہاں سے بچے اپنی علمی پیاس بجھا سکتے ہیں.. انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی بھی سچے لگن اور اچھے انداز سے کیا جائے تو وہ کامیاب ہوتا ہے اور ریڈ اینڈ لیڈ فاؤنڈیشن کو ہمارا ہر ممکن تعاون رہے گا..
اسسٹنٹ ڈائریکٹر آف لائبریریز سنیل ہسے، پروفیسر عبدالقادر، ڈاکٹر ایس وی رضوی، سالک حسن خان، سہیل قادری، مولانا صادق ندوی، شرف الدین نظامی اور خان جمیل احمد خان مہمان اعزازی کی حیثیت سے شریک رہے ۔ ڈاکٹر نسرین قادری نے نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔ ابتداء میں مریم مرزا نے محلہ لائبریری تحریک پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک سالہ لائبریری تحریک کی روداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ ملک کے ہر گلی محلے میں بچوں کے لیے چھوٹی چھوٹی لائبریریاں قائم کی جائیں جہاں صرف بچوں ہی کتابیں رکھی جائیں، میری کوشش ہوگی کہ میں 2022 میں بھی 25 لائبریریاں قائم کروں جس میں آپ کا تعاون ضروری ہے.. ۔ ڈاکٹر اے جی خان نے تشویش ظاہر کی کہ شہر میں لائبریریاں تو بہت ہیں لیکن کتابیں پڑھنے والے نہیں ہیں ۔ 8 سال عمر تک بچہ جو کچھ بھی پڑھتا ہے وہ زندگی بھر اس کے ذہن میں محفوظ ہو جاتا ہے ۔ یہ قدرتی بات ہے ۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ بچے کس طرح کی کتابیں پڑھتے ہیں اس پر بھی نظر رکھیں ۔ محلہ لائبریری سے لی گئی کتاب پڑھنے کے بعد طالبعلم جب واپس لوٹانے آئے تب اس کتاب کے متعلق اس سے ایک پیراگراف لکھنے کی گذارش کریں ۔ سنیل ہسے نے کہا محلہ لائبریری انوکھی تحریک ہے ۔ لائبریری اور کتابوں کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ہسے نے کہا لائبریری کے شعبہ میں بھی طلبہ کیرئر بنا سکتے ہیں ۔ یونیورسٹی میں لائبریرین کو تین لاکھ تک تنخواہ دی جاتی ہے ۔ لائبریری میں مسابقتی امتحانات سے متعلق کتابیں رکھنے کی صلاح دیتے ہوئے انہوں نے سرکاری اسکیم اور بک سیلرس کے تعاون سے بھی کتابیں مہیا کروانے کا تیقن دیا ۔
ایس وی رضوی، سہیل قادری اور مرزا عبدالقیوم کے علاوہ محلہ لائبریری کی ارکان جن میں اکثریت الہدی اردو ہائی اسکول کی طالبات شامل تھیں انہوں نے بھی تاثرات پیش کئے ۔
واضح رہے کہ مریم مرزا کی یہ تحریک ریڈ اینڈ لیڈ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام و فیڈریشن آف آل مائناریٹیز ایجوکیشنل آرگنائزیشنس کے اشتراک سے چلائی جارہی ہے.. پہلی لائبریری کا افتتاح رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر فوزیہ خان کے ہاتھوں عمل میں آیا تھا.
اس تحریک کے تحت منعقدہ مقابلہ میں حصہ لینے والے طلباء و طالبات میں اس وقت انعامات بھی تقسیم کئے گئے ۔پروگرام میں الہدی اسکول کی صدر معلمہ شیخ نرگس کے علاوہ اسٹاف کے اساتذہ نے مریم مرزا کی حوصلہ افزائی کرتے مبارک باد پیش کی. مرزا عبدالقیوم کے اظہار تشکر پر تقریب کا اختتام ہوا ۔
پروگرام کو کامیاب بنانے میں مرزا طالب بیگ رکن فاؤنڈیشن، محمد طیب ظفر اور مرزا ابوالحسن علی نے محنت کی.
*Mirza Abdul Qayyum Nadwi*
*+91 9325203227*
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

