قصیدہ اس صنف سخن کو کہتے ہیں جس میں مدح یا ذم کا پہلو ہو۔ یہ ایک ایسی صنفِ سخن ہے جس میں ممدوح اور مداح کا راست تعلق ہوتا ہے۔ قصیدہ اردو کی کلاسیکی شاعری کی ایک اہم صنف ہے جو عربی و فارسی میں شہرت و مقبولیت حاصل کرتی ہوئی اردو میں معروف و مشہور ہوئی۔ اس میں نایاب و نادر، بلند اور پرشکوہ الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ عام طور سے اس کا مخاطب بادشا ہ و امراء اور اربابِ مملکت و سلطنت ہوا کرتے تھے ۔ اس میں ہئیت کے ساتھ ساتھ موضوع کا بھی خیال رکھا جاتا تھا ۔ فنی اعتبار سے اس کا مرتبہ دیگر اصناف کے مقابل اہم سمجھا گیا۔ مداحی یا مدح سرائی کا مقصد انعام واکرام اور صلہ وستائش کا حصول ہوتا تھا اور کبھی کبھی اس کے برعکس۔ شعرا کی خواہش یا آرزو پوری نہ ہو پاتی یا کسی بات سے اختلاف ہوتا تب ہجو کی جاتی تھی جسے قصیدہ ہجو یہ کے نام سے مشہور تھی ۔ عربی سے یہ صنف فارسی میں پہنچی اور پھر فارسی سے اردو میں اپنی پوری توانائی اور روایات کے ساتھ در آئی ۔ عربی شاعروں نے اس فن میں اپنے کمالات کا مظاہرہ کیا تو فارسی شعرا نے اس صنف کو بام عروج پر پہنچایا۔ اردو کے شاعروں نے اس میں اپنے پیش روؤں کی اتباع میں فن قصیدہ نگاری کو چار چاند لگا دیے۔ عربی شاعری میں قصیدے کے موضوعات بڑی گہرائی اور جامعیت رکھتے ہیں۔ اس میں ذاتی تجربات و احساسات، گردو پیش کے حالات، مسائلِ زندگی اور عشقیہ واردات کے علاوہ مناظر قدرت کا اظہار بھی ملتا ہے۔ شاعروں نے مداحی کے ساتھ ساتھ ہجو یہ مضامین بھی شامل کیے ۔ مزید برآں اخلاق و حکمت، پند و موعظت، گردشِ زمانہ اور بہار یہ مضامین کی گنجائش پیدا کی ۔ اردو کے شاعروں نے ان دونوں زبانوں کے شاعروں کے طرز اظہار سے استفادہ کیا۔ اردو تک پہنچنے سے پہلے قصیدے کا اصل موضوع مدح یا ہجو کی شکل میں متعین ہو چکا تھا۔ شخصی حکومت یا بادشاہت کے ادوار میں مدح سرائی کی وجہ سے شعرا کی قدر و منزلت بھی کی گئی۔ مگر جمہوری دور میں اس کا چلن عام نہ رہا۔ تاہم بزرگان دین کی شان میں قصائد لکھے جاتے رہے۔ عربی کے بعد فارسی قصیدہ گویوں میں انوری، خاقائی، ظہیر فاریابی کے نام قابلِ ذکر ہیں ۔ اردو میں سودا، ذوق اور غالب کے قصائد اپنا ایک اعلیٰ معیار رکھتے ہیں ۔
قصیدہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ یہ قصد سے مشتق ہے۔ قصد کے معنی ارادہ کرنے کے آتے ہیں۔ چوں کہ قصیدہ اراد تاً کہا جاتا ہے یعنی شاعر جب کسی کی مدح کرتا ہے تو اس میں اُس کے قصد و ارادے کو دخل ہوتا ہے، اس لیے اس معنی سے اس کی مناسبت واضح ہے۔ قصیدہ میں آمد سے زیادہ آورد کا حصہ ہوتا ہے۔ عربی وفارسی قصیدوں میں بھی قصد وارادہ کو بہ طور خاص اہمیت دی گئی ہے۔ عربی میں قصیدہ کے معنی گا ڑھا مغز کے آتے ہیں ۔ قدیم زمانے میں ابن رشیق نے رجز کو قصیدہ مانا ہے اور اسے لفظ القصد سے مشتق قرار دیا ہے ۔ جلال الدین احمد جعفری ” تاریخ قصائد اردو‘‘ میں لکھتے ہیں :
’’ اہل لغت نے قصیدے کے لغوی معنی مغزِ سبطر( دل دار گودا) کے لکھے ہیں اور اصطلاح شاعری میں اس نظم کو قصیدہ کہتے ہیں جس میں مدح یا ذم یا وعظ و نصیحت یا حکایت و شکایت وغیرہ منظوم و موزوں ہوں ۔‘‘1
ڈاکٹر ضیا احمد بدایونی نے اپنی کتاب ’مباحث و مسائل‘ میں قصیدہ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے :
’’قصد یا قصیدہ کے معنی لغت میں مینگ کی ہڈی ۔ ایسی چیز جس میں گوشت کم اور گودا زیادہ ہو ۔ موٹی اونٹنی، چوب دستی اور شعر پاکیزہ کے آئے ہیں۔ اصطلاحاً یہ وہ صنف شعر ہے جس میں پہلے شعر کے دونوں مصرعے اور باقی اشعار کے آخری مصرعے ہم قافیہ ہوں ۔‘‘2
حکیم نجم الغنی خاں نجمی نے اپنی کتاب بحر الفصاحت جلد اول میں قصیدہ پر بحث کرتے ہوئے اس کی درج ذیل تعریف کی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں :
’’قصیدہ اصطلاح میں ان اشعار کا نام ہے جس میں کسی کی مدح یا ہجو ذکر کی جاتی ہے یا وعظ و نصیحت و پند و موعظت یا تعریفِ بہار یا شکایتِ روزگار و غیرہ مضامین درج ہوتے ہیں اور وہ اشعار معانی دقیق اور صنائع و بدائع لفظی و معنوی کے ساتھ بیان کیے جاتے ہیں جس سے زورِ طبیعت شاعر کا معلوم ہوتا ہے ۔ اور شاعری کی تکمیل خاص قصیدہ کے مشق و مہارت پر موقوف ہے ۔۔۔۔بر خلاف غزل کے قصیدے میں فصاحت و بلاغت و متانت تینوں باتوں کا ہونا ضرور ہے ۔۔۔۔ لغوی معنی قصیدے کے گاڑھے مغز کے ہیں۔ چونکہ ان اشعار میں بڑے بڑے مضامین زورِ طبیعت اور پوری طاقت کے ساتھ لکھے جاتے ہیں، اس مناسبت سے ان کو قصیدہ کہنے لگے ۔‘‘3
درج بالا تعریفات کی روشنی میں ہم قصیدہ کے لغوی معنی کے ساتھ ساتھ اس کی صنفی حیثیت اور شعری ہیئت کو بھی بآسانی سمجھ سکتے ہیں ۔ اگر قصیدہ کے لغوی معنی مغز یا گودا کے ہیں تو اصطلاحی معنوں میں قصیده وہ شاعری قرار پاتی ہے جس کو آپ شاعری کا مغز یعنی شاعری کی اعلیٰ ترین صورت قرار دے سکتے ہیں ۔ قصیدے کی اسی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے امداد امام اثر لکھتے ہیں :
’’قصیدہ وہ صنف شاعری ہے کہ عروضی ترکیب میں غزل سے تمام تر مشابہت رکھتا ہے ۔ الّا یہ کہ اس میں غزل سے بہت زیادہ اشعار ہوتے ہیں جس طرح غزل پانچ شعر سے کم کی نہیں ہوتی اسی طرح قصیدہ اکیس شعرسے کم کا نہیں ہوتا ۔ لیکن مضامین کے اعتبار سے قصیدہ اور غزل میں بڑا فرق ہے ۔ یہ صنف شاعری داخلی اور خارجی دونوں پہلوؤں کے مضامین سے تعلق رکھتی ہے ۔ اس صنف میں شاعر اعلا درجہ کے مضامین جو امور ذہنیہ اور معاملات خارجیہ سے مشتمل رہتے ہیں موزوں کرتا ہے ۔ اس سے ظاہر ہے کہ قصیدہ کا احاطہ مضامین غزل کے اعتبار سے وسیع تر ہے۔ قصیدہ کے لیے علو مضامین کی بڑی ضرورت ہے۔ اگر کوئی قصیدہ اس صناف سے متصف نہیں ہے تو اس پر قصیدہ کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ المختصر قصیدہ گوئی شاعر حکمت مآب کا کام ہے۔ اور اس کے لیے وفور معلومات علمیہ کی حاجت ہے ۔ لیکن ہزار افسوس ہے کہ اس صنف شاعری سے بہت سے شعرائے اہل علم بھی وہ کام نہیں لیتے گئے ہیں جواس کا تقاضا ہے ۔‘‘4
ڈاکٹر ابو محمد سحر اپنی کتاب ’اردو میں قصیدہ نگاری‘ میں قصیدہ کے لغوی و اصطلاحی معنی کی تعریف و توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ قصدہ عربی زبان کا لفظ ہے ۔ اس کے لغوی معنی مغزِ غلیظ و سبطر کے ہیں ۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ قصیدہ لفظِ قصد سے نکلا ہے اور اس کے لغوی معنی ارادہ کرنا کے ہیں ۔ اصطلاحاً قصیدہ اس مسلسل نظم کو کہتے ہیں جس کے پہلے شعر کے دونوں مصرعے اور بقیہ اشعار کے دوسرے مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوں اور جس میں مدح و ذم، وعظ و نصیحت یا مختلف کیفیات و حالات وغیرہ کا بیاں ہو ۔‘‘5
ایم۔ کمال الدین قصیدہ کے لغوی و اصطلاحی معانی کی تفہیم و توضیح کے لیے عربی و فارسی حوالہ جات کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’قصیدہ ایک ایسی صنف سخن ہے جس سے قادر الکلائی کا اظہار ہو ۔ اس کے مضامین پر مغز، پر معنی، مؤثر، قابل اعتماد، فصاحت و بلاغت سے لبریز اور مقصدیت سے پر ہوں ۔ اس کے الفاظ بلیغ، عظیم اور مہتم بالشان ہوں ۔ سوائے قصیدے کے اصناف ادب میں سے کوئی ایسی صنف نہیں ہے جس کے لغوی معنی سے اس کے تعلق سے اتنی فنی بصیرت حاصل ہو جائے ۔ اصطلاح شعرمیں قصیدہ اس نظم مسلسل کا نام ہے جس کی ہئیت غزل کی ہو لیکن معنوی حیثیت سے کسی کی مدح یا ذم ہو ۔ اس میں ربط و ضبط ہواور قصیدے کی تکنیک برتی گئی ہو ۔‘‘6
بہر حال قصیدہ گوئی ایک قدیم صنفِ سخن ہے ۔ البتہ اس کی باضابطہ ابتدا کی سراغ خود عربی شاعری کی تاریخ میں نہیں ملتی ہے ۔ تاہم ایام جاہیت کے شعر اس رنگ میں شعر کہتے تھے اور اس طرح کی شاعری میں تعریف و تحسین کے ہر پہلو پر نظر ہوتی تھی ۔ نیز اندازِ بیان، زورِ کلام، تخیل کی بلند پروازی، شوکتِ لفظی، ندرتِ تراکیب، محاوروں اور استعاروں کا برمحل استعمال کا خیال رکھا جاتا تھا ۔
قصیدہ کی صنفی شناخت
قصیدہ کے پہلے شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں جبکہ اس کے بعد کے تمام اشعار کے دوسرے مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں یا صرف ہم قافیہ ۔ قصیدے میں مضامین و خیالات مربوط اور منضبط ہوتے ہیں ۔ اس کا موضوع عشقیہ مضامین پرمشتمل ہوتا ہے اور کبھی کبھی ہجویہ بھی ۔ محمود الٰہی اپنی کتاب ’اردو قصیدہ نگاری کا تنقیدی جائزہ‘ میں قصیدہ کی تعریف اور ہیئت کے حوالے سے عربی و فارسی اور اردو کے نقادوں کی توضیحات نقل کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ :
’’حقیقت یہ ہے کہ فارسی اور اردو میں اصناف کی تقسیم عروضی ترکیب کے لحاظ سے کی گئی ہے۔ جہاں تک عربی شاعری کا سوال ہے، انھوں نے قصیدے کو متعدد صورتوں میں پیش کیا ہے۔
(الف) زیادہ تر (تقریباً تمام تر) قصیدے ہمارے اردو کے قصیدوں کی طرح آخری مصرعے میں ہم قافیہ ہوتے ہیں اور شروع
میں مطلع ہوتا ہے ۔
(ب) بعض قصیدے آخری مصرعوں میں ہم قافیہ تو ہیں، لیکن مطلع سے خالی ہیں ۔
(ج ) بعض قصیدوں کے شروع میں دو دو اور تین تین مطلعے ہوتے ہیں ۔
(د) بعض قصیدوں میں مطلع پہلے شعر کے بجائے دوسرے شعر میں یا کئی کئی شعر کے بعد ہے ۔
(ہ) بعض قصیدے مسمط کی شکل میں بھی ہیں جس کی متعدد شکلیں ہیں ۔
(و) مزدوج (مثنوی) کی شکل میں بھی کچھ قصیدے ملتے ہیں ۔
اس کے علاوہ چھوٹی چھوٹی اور بھی قسمیں ہیں، لیکن عربی میں پہلی شکل کے علاوہ قصیدے کی اور کوئی شکل مقبول نہیں ہوئی ۔۔۔۔ عربی شاعری کا تقریباً تمام سرمایہ ۔۔۔۔ قصیدے کی پہلی شکل میں محفوظ ہے ۔ فارسی اور پھر اردو نے عربی قصیدے کے اسی مروجہ پیکر کو اپنا یا یعنی جس میں مطلع ہوتا تھا اور تمام شعر ہم قافیہ ہوتے تھے ۔‘‘7
درج بالا اقتباس سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ اردو میں قصیدہ کی جو ہیئت مروج ہے وہ در حقیقت عربی قصیدے سے مستعار ہے یعنی پہلے شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف جبکہ اس کے بعد کے تمام اشعار کے دوسرے مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ۔ ڈاکٹر ابو محمد سحر نے بھی اپنی کتاب میں اسی بات کو واضح کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں :
’’قصیدے کی صنفی تشکیل میں اس کی ہیئت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔ عربی کی قدیم شاعری ایسی نظموں پر مشتمل تھی جن کے پہلے شعر کے دونوں مصرعے اور بقیہ اشعار کے دوسرے مصرعے ہم قافیہ ہوتے تھے ۔ ہیئت کے اعتبار سے یہی ایک صنف سخن تھی ۔ مدح ، ہجو اور مرثیہ وغیرہ کی تقسیم موضوع کی بنا پر تھی ۔ ایران میں جب شاعری کا آغاز ہوا تو فارسی شعرا نے مدحیہ نظموں میں عربی شاعری کی اسی مروجہ ہیئت کو اپنایا ۔ فرق بس اتنا ہوا کہ عربی میں صرف قافیہ تھا، فارسی شعرا نے اس پر ردیف کا اضافہ کر دیا ۔ بعد کے شعرا نے اسی کی تقلید کی اور یہ ہیئت قصیدے کے لیے مخصوص ہو گئی ۔ اردو میں بھی قصیدے کی اسی ہیئت نے بار پایا ۔۔۔۔قصیدے کا اطلاق اسی نظم پر ہوتا ہے جس کے پہلے شعر کے دونوں مصرعے اور باقی اشعار کے دوسرے مصرعے ہم قافیہ وہم ردیف ہوتے ہیں ۔‘‘8
ایم۔ کمال الدین قصیدہ کی خارجی ہیئت کو غزل سے جبکہ داخلی یا معنوی ہیئت کو مثنوی سے مشابہ قرار دیتے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں :
’’قصیدہ خارجی ہیئت کے اعتبار سے غزل کے مشابہ اور معنوی حیثیت سے مثنوی کے قریب ہے ۔ خارجی ہیئت میں یہ غزل سے مشابہ ہوتے ہوئے بھی بین فرق کا حامل ہے ۔ اس لئے کہ غزل میں اشعار کی تعداد کم ہوتی ہے جبکہ قصیدہ اکثر طویل ہوتا ہے ۔۔۔۔صنف قصیدہ بیانیہ اعتبار سے مثنوی سے مشابہ ہوتے ہوئے بھی اس سے کلی مشابہت نہیں رکھتی ۔ دونوں ہی بیانیہ صنف شاعری میں داخل ہیں ۔ مثنوی میں بیان بہت سیدھا سادا ہوتا ہے جبکہ قصیدے کا بیان اعلیٰ وارفع ہوتا ہے ۔ اس میں درباری شان اور جاگیرداری ٹھسّہ ہوتا ہے یا مذہبی روحانیت کا وقار اور عقیدت مندی کی شدت ہوتی ہے یا ہجو ہوتی ہے جس میں ظریفانہ یا طنزیہ کلام کے چمکتے ہوئے تیر نشتر ہوتے ہیں۔۔۔۔ دونوں بنیادی طور پر جاگیرداری عہد کی پیداوار ہیں ۔ دونوں کا مقصد الگ الگ ہے ایک سے داستانی اور رومانی ذہن کی تسکین ہوتی ہے تو دوسرے سے خوشامدی اور درباری ذہن کی یا مذہبی عقیدت کی جلا ہوتی ہے ۔‘‘9
مولانا باقر آگاہ ویلوری نے قصیدے کی صنفی شناخت اور تعدادِ اشعار پر بڑی تفصیل سے بحث کی ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں :
’’قصیدہ تعریف اس کی یوں کر گئے کہ قصیدہ کیتک ابیات ہیں کہ مطلع رکھیں اور وزن و قافیہ میں متحد ہوئیں اور بار ماہیت (بارہ بیت) سے تجاوز کریں ۔ اکثر کواس کی حد نہیں لیکن نزدیک متاخرین کے مستحسن یہ ہے کہ ابیات اس کی ایک سو بیس سے زیادہ نہ ہوں، وہ اغلب مدح میں ہوتا ہے اور کبھو مذمت یا فخر و نصیحت میں ۔ معنی قصیدہ کے مغز غلیظ یعنی قوی ہے ۔ جب قصائد میں معانی و مضامین جلیل و متین مندرج ہوتے اور ذائقہ طبع سلیم کو لذت دیتے ہیں اس نام سے مسمیٰ ہوا ۔‘‘10
درج بالا اقتباس سے جہاں ایک طرف قصیدہ کی تعریف، تعدادِ اشعار کی توضیح مترشح ہوتی ہے وہیں اس کے وجہ تسمیہ بھی ایک حد تک منکشف ہو جاتا ہے ۔ ڈاکٹر ابو محمد سحر قصیدہ کی تعدادِ اشعار کے متعلق مختلف نقادوں کی آرا و نظریات کے تجزیہ سے درج ذیل نتیجہ اخذ کرتے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں :
’’قصیدے میں اشعار کی کم سے کم تعداد کسی نے سات، کسی نے بارہ، کسی نے پندرہ، کسی نے بیس، کسی نے اکیس ہے اور کسی نے پچیس بتائی ہے ۔ زیادہ سے زیادہ اشعار کے لیے عام خیال ہے کہ کوئی حد نہیں ۔ لیکن بعض اہل قلم نے ان کی تعداد سو، ایک سو بیس اور ایک سو ستّر لکھی ہے ۔ بالعموم دو سو اشعار تک کے قصائد ملتے ہیں لیکن مستثنیات کی کمی نہیں ۔‘‘11
پروفیسر کوثر مظہری صاحب نے اپنے مضمون ’قصیدہ کی صنفی شناخت اور امتیازی پہلو‘ میں قصیدے کی صنفی ہیئت پر مفصل و مدلل گفتگو کی ہیں اور اس کی صنفی امتیازات کے حوالے سے کچھ نئے زاویے وا کیے ہیں ۔ وہ اپنے مضمون کے آخر میں لکھتے ہیں کہ’’قصیدہ بطور صنف کے جیسا تھا، اسے ہمیں اسی طرح قبول کرنا ہوگا ۔ غزل کی ہیئت میں قصیدہ ایک ایسا نظم پارہ ہے جس میں بادشاہوں اور امرا و رؤسا کی مداحی کی جاتی ہے ۔‘‘12
مندرجہ بالا مباحث سے یہ بات ہو جاتی ہے کہ قصیدے کی تعدادِ اشعار کے متعلق جتنی بھی رائیں ہیں وہ سب اشعار کی کم سے کم تعداد کے تعلق سے ہیں البتہ زیادہ سے زیادہ اشعار کی کوئی قید نہیں ہے ۔ نیز ان مختلف نظریات و تصورات کے بغائر مطالعہ سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ قصیدہ اپنی ہیئت اور موضوع کی بنیاد پر اپنی صنفی شناخت بنانے میں کامیاب رہا اور مختلف النوع اسلوبی خطوط پر چلتے ہوئے ترقی کی منازل طے کرتا رہا ۔ مزید برآں یہ کہ اظہار و بیان کے سطح پر ان شعری صنعتوں کی اعلیٰ پیش کش کا مخزن قصیدہ بنتا رہا جسے ہم صنائع لفظی و معنوی کا نام سے جانتے اور پہچانتے ہیں ۔ قصیدہ کی اہمیت و وقعت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر ابو محمد سحر لکھتے ہیں :
’’صنف سخن کی حیثیت سے قصیدے کے صوری و معنوی خط و خال نہایت واضح اور منفرد ہیں ۔ قصیدہ محض قافیہ و ردیف کی مقررہ ترتیب کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ موضوع، طرز فکر ، اسلوب بیان اور اجزائے ترکیبی کی مخصوص روایات بھی رہی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا شمار اردو کی بڑی اصناف سخن میں ہوتا ہے ۔‘‘13
قصیدے کے تشکیلی اجزا
اب تک کے مباحث سے جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ قصیدوں کی بہت بڑی تعداد بہ لحاظ موضوع کسی نہ کسی کی مدح پر مبنی ہے ، خواہ مدح بزرگان دین کی ہو یا سلاطین وامرا و رؤسا کی ۔ مدح کے موضوع پر مبنی قصائد میں بھی بیشتر وہ ہیں جو اصطلاحاً مدحیہ قصیدے کہلاتے ہیں ۔ اس بات میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اکثر قصیدے کا مفہوم صرف مدح سمجھا جاتا ہے اگرچہ یہ موضوعی تخصیص کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتا ۔ اجزائے ترکیبی کے لحاظ سے قصیدے کی دو قسمیں ہیں ایک مشبب اور دوسری مقتضب ۔ مشبب اس قصیدے کو کہتے ہیں جس میں تشبیب اور گریز کی پابندی ہو اور جس میں یہ پابندی نہ ہوا سے مقتضب کہا گیا ہے ۔ یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ درباری یا مذہبی قصیدوں میں حسن طلب یا مدعا کے آخری حصے میں دعائیہ اشعار بھی شامل کر دیے جاتے تھے ۔
تشبیب
تشیب کو نسیب بھی کہا جاتا ہے ۔ دراصل یہ قصیدے میں تمہید کا کام کرتی ہے ۔ تشبیب کے پہلے شعر کو مطلع کہا جاتا ہے ۔ مطلع کو پر شکوہ اور جدت خیال کا حامل ہونا چاہیے تاکہ بعد میں آنے والے اشعار کی طرف قاری یا مدوح کا ذہن متوجہ ہو جائے ۔ قصیدے کے ابتدائی حصے کو تشویب یا نسیب اس لیے کہا جاتا ہے کہ عربی شاعر اس میں عشقیہ مضامین باندھا کرتے تھے مگر اردو قصیدے کی تشبیب میں ہر طرح کے موضوعات پر اظہارِ خیال کیا جاتا ہے ۔ اس طرح یہ حصہ متنوع موضوعات کو پیش کرنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوا ۔ اس حصے کو قصیدہ کی جان تصور کیا جاتا ہے گویا تشبیب جتنی انوکھی اور اچھوتی ہوگی قصیدہ اتناہی دل کش اور جاذب ہوگا ۔ یہ جتنی جان دار اور پر زور ہوگی اور قادر الکلامی، شوکتِ بیان اور علمیت کا اظہار جس قدر ہو گا، قصیدہ کی کامیابی کا دارو مدار اسی اعتبار سے طے ہوگا ۔ ڈاکٹر ابو محمد سحر تشبیب کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’تشبیب سے وہ اشعار مراد لیے جاتے ہیں جو قصیدے کی ابتدا میں تمہید کے طور پر لکھے جاتے ہیں ۔ عربی شعرا اس میں عموماً عشقیہ اشعار قلم بند کرتےتھے ۔اسی رعایت سے اس کو تشبیب یا نسیب کے نام سے موسوم کیا گیا ۔ رعایت سے اس کو تشبیب پانسیب کے نام سے موسوم کیا گیا۔ فارسی اور اردو میں تشبیب میں عشقیہ مضامین کی تخصیص نہیں رہی بلکہ ہر قسم کے مضامین نظم کیے جانےلگے ۔ موسم بہار، واردات حسن و عشق، رندی و سرمستی ، دنیا کی بے ثباتی، زمانے کی شکایت،آسمان کا شکوہ ، علم وفن کی ناقدری ، پند و موعظمت، مکالمہ و مناظرہ ، خواب کا بیان،فخرو خودستائی، شاعری کی تعریف، فن شعر سے بحث، معاصرین پر طعن و تعریض،تاریخی واقعات اور ذاتی و ملکی حالات وغیرہ تشبیب کے خاص خاص موضوعات ہیں ۔‘‘14
تشبیب کے موضوع کے لحاظ سے ہی قصیدہ کو موسوم کیا جاتا ہے ۔ یعنی اگر تشبیب میں موسم بہار کا ذکر ہے تو ایسا قصیدہ بہار یہ کہلاتا ہے ۔ جہاں حزن وغم کا ذکر ہوگا تو اسے حزنیہ قصیدہ کہا جاتا ہے ۔ برسات یا دیگر مظاہر کائنات کی منظر نگاری کی گئی ہے تو اسےقصیدہ ٔ منظریہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ تشبیب کا مطلع ہیئت کے اعتبار سے غزل کے مطلع کی طرح ہوتا ہے مگر قصیدہ نگار کے لیے لازم ہوتا ہے کہ مطلع بے حد منفرد ہو، جدت مضمون کا حامل ہو، شگفتہ اور اعلیٰ ہوتا کہ سامعین چونک اٹھیں اور ان کی دلچسپی شعر اول سے برقرار ر ہے ۔
تشبیب کی پہلی شرط یہ ہے کہ اس کا مطلع بلند پایہ اور شگفتہ ہو ۔ اس میں کوئی جدت آمیز بات بیان کی جائے تاکہ سننے والا ہمہ تن گوش ہو جائے اور بعد کے اشعار کا اچھا اثر مرتب ہو ۔ دوسری شرط یہ ہے کہ اس میں جو مضامین نظم کیے جائیں وہ ممدوح کے مرتبے اور حیثیت سے مناسبت رکھتے ہوں تاکہ ان میں اور بعد کے مدحیہ اشعار میں کوئی معنوی تضاد نہ پیدا ہو ۔ مثال کے طور پر سلاطین و امرا کی شان میں تشبیب میں عاشقانہ اور رندانہ مضامین شامل کیے جاسکتے ہیں لیکن بزرگان دین کی مدح میں اس قسم کی تشبیبیں مستحسن نہیں خیال کی جا سکتیں ۔اکثر قصیدہ گویوں نے اس اصول کو مد نظر رکھا ہے ۔ تشبیب کی تیسری شرط یہ ہے کہ چونکہ قصیدہ خارجی ہیئت میں غزل کے مشابہ ہوتا ہے لہٰذا اس میں شامل غزل نوعیت عام غزل سے مختلف ہونا چاہیے ۔ اس میں قصیدے کے لب و لہجہ کا ہونا لازمی ہے ورنہ بے جوڑ معلوم ہوگی اور کلام میں ناہمواری پیدا ہو جائے گی ۔ تشبیب کی چوتھی شرط یہ ہے کہ اس کے اشعار مدح سے زیادہ نہ ہوں ۔ تشبیب کے لیے یہ شرط کافی اہم ہے کیونکہ اس سے قصیدے کی اصل غرض وغایت کا پتہ چلتا ہے ۔ قصیدے کا اصل موضوع مدحت طرازی تھا لہٰذا مداح اور ممدوح کے تعلق اور حصولِ صلہ و انعام میں خاطر خواہ کامیابی کے لیے یہ ضروری تھا کہ قصیدے میں مدحیہ اشعار پر زیادہ زور دیا جائے اور ان کی تعداد دیگر اشعار کے مقابلے زیادہ پڑھے جائیں ۔
ایم۔ کمال الدین قصیدے میں تشبیب کی ناگزیریت پر گفتگو کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :
’’حقیقت یہ ہے کہ قصیدے کے لیے تشبیب ضروری نہ ہوتے ہوئے بھی ضروری ہے کیونکہ تمہید جاگیرداری عہد کا خاصہ تھا ۔ کوئی بھی بات کہنی ہوتی تھی تو اسے تمہید کرنے کے بعد ہی کہتے تھے ۔ تصنع و تکلف کی زندگی میں تمہید کی اہمیت بہت تھی ان کی روز مرہ کی زندگی میں بھی قدم قدم پر اس کا استعمال ہوتا تھا ۔ نام سے پہلے القاب و خطابات کا لیا جانا بھی ایک قسم کی تمہید ہی تھی ۔ جب تمہید اس زندگی میں اس طرح جاری و ساری تھی تو جس صنف کا ماضی درباروں سے گہرے طور پر وابستہ تھا وہ کس طرح سے بیچ سکتی تھی ۔‘‘15
تشبیب کی تعریف و توضیح اور شرائط بیان کرنے کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کچھ مثالیں بھی درج کر دی جائیں ۔ مرزا رفیع سودا کے قصیدے ’ در منقبتِ حضرت علی‘ کی تشبیب دیکھیے ۔
اٹھ گیا بہمن و دے کا چمنستاں سے عمل تیغ اُردی نے کیا ملک خزاں مستاصل
سجدہ شکر میں ہے شاخ ثمردار ہر ایک دیکھ کر باغ جہاں میں کرمِ عز و جل
قوت نامی لیتی ہے نباتات کا عرض ڈال سے پات تلک پھول سے لے کر تا پھل
بہادر شاہ ظفر کی تعریف میں لکھا گیا ابراہیم ذوق کے قصیدے کی تشبیب دیکھیے ۔
ہیں مری آنکھ میں اشکوں کے تماشا گوہر اک گہر دیکھو تو ہوں کتنے ہی پیدا گوہر
نظر خلق سے چھپ سکتے نہیں اہل صفا تہہ دریا سے چمک کر نکل آیا گوہر
رزق تو در خور خواہش ہے پہنچتا سب کو مرغ کو دانہ ملا ہنس نے پایا گوہر
گریز
گریز کے لفظ سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ شاعر تشبیب سے گریز کر کے مدح کی طرف آگیا ہے ۔ اس کے ایک معنی گریزِ داستان کے بھی ہیں۔ گریز کو دوسرکش بیلوں کے جوئے میں جوتنے سے بھی تعبیر کیا گیا ہے ۔ شاعر تشبیب سے مدح کی طرف آنے کے لیے اسے ایک زینہ و پل کے طور پر استعمال کرتا ہے ۔ یہ تشبیب اور مدح میں منطقی ربط پیدا کرنے کا کام کرتی ہے یعنی شاعر تشبیب کہتے کہتے ممدوح کی تعریف کرنے لگتا ہے اور مدح کی طرف اس طرح گھوم جاتا ہے جیسے بات سے بات پیدا ہو رہی ہو ۔ عربی شعرا نے شروع میں گریز کی طرف توجہ نہیں دی ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں تشبیب اور مدح کے مابین کوئی ربط قائم نہیں ہوتا لیکن بعد کے زمانے کے شعرا نے اسے ایک مستقل فن کی حیثیت دی اور فارسی شعرا نے اس میں طرح طرح کی جدتیں پیدا کیں ۔ اردو شعرا نے اس کی اتباع کی اور گریز کو بطور فن تصور کرتے ہوئے اس میں ندرت پیدا کی اور اس کا باقاعدہ اہتمام کیا ۔ گریز کے شعر یا اشعار میں بڑی فن کاری اور استادی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کامیاب گریز وہ ہوتی ہے جس میں شاعر بات سے بات پیدا کرتے ہوئے بڑے ہی مربوط انداز میں تشبیب سے مدح کی طرف آجائے ۔ اس حوالے سے ڈاکٹر ایم ۔ کمال الدین رقم طراز ہیں:
’’جیسے جیسے مدح کی منزل قریب آتی جاتی ہے، احتیاط کا دامن مضبوطی سے پکڑنا پڑتا ہے اور گریز کے توسط سے مدح تک پہنچ جاتے ہیں ۔۔۔۔ قصیدہ گو ممدوح اور سامع دونوں کی تشبیب کی گوناگوں کیفیات سے محو کردیتا ہے پھر انہیں گریز کے ذریعہ مدح کی زمین میں لے آتا ہے ۔‘‘16
گریز کبھی کسی منظر نگاری تو کسی سراپا کے بیان یا مکالماتی انداز میں ہو سکتی ہے ۔ عام طور پر شعرا نے اسی انداز میں اس حصے کا استعمال کیا ہے ۔ اردو قصائد کا جائز ولیں تو انداز ہوتاہے کہ قصیدہ نگاروں نے با قاعدہ گریز کا اہتمام کیا ہے ۔ بعض گریز روایتی انداز کی ہیں ۔ کہیں منظر کی پیش کش ہے اور کہیں کسی کے سراپے کے حسن کا بیان تو کبھی کوئی مکالماتی انداز اختیار کر کے گریز کی گئی ہے ۔ ایسی گریز میں قصیدہ نگار کو ہنر آزمانے کا خوب موقع ملا اور انھوں نے اپنے ذہن اور اپنی خلاقانہ صلاحیتوں کا خوب استعمال کیا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گریز بھی مختصر سے مختصر ترین ہونے لگی ۔ اکثر قصائد ایسے بھی ہیں جن کی گریز ایک شعر یا ایک مصرعے پر مشتمل ہے ۔ اس ضمن میں ایم۔ کمال الدین اور ڈاکٹر ابو محمد سحر دونوں نے گریز کے شعر کی کم سے کم تعداد ایک بتائی ہیں اور دونوں نے مثال میں سودا کے قصیدہ ’در منقبت حضرت علی‘ کے شعر پیش کیے ہیں ۔
ہے مجھے فیضِ سخن اس کی ہی مداحی کا ذات پر جس کے مبرہن کنہ عز و جل
جب جا گیر دارانہ نظام اور نوابی عہد کا زوال شروع ہوا اور نئی تہذیب اپنے ساتھ بہت سی مصروفیات اور مشغولیات لے کر آئیں تو قصیدے بھی مختصر لکھے جانے لگے ۔ اس اختصار کا براہ ر است اثر گریز پر پڑا ۔ لہٰذا گریز ایک یا دو شعر تک محدود ہوگی ۔ البتہ جن شعرا نے اس کا اہتمام کیا ہے انہوں نے اسے بطور فن ہی برتا ہے ۔ فنی اعتبار سے کامیاب قصیدہ نگار اسے تسلیم کیا گیا جس کی گریز بے حد فطری اور مناسب ہو ۔اس ضمن میں مرزا محمد رفیع سودا کے قصائد کی گریز فنکاری کا اعلیٰ نمونہ قرار دی گئی ہے ۔ قصیدہ ’در مدحِ حضرت امام ابوالحسن علی رضا‘ کی درج ذیل گریز ملا حظہ ہوں ۔
یہ حال دیکھ کے واں کا خرد سے پو چھا میں جگہ طرب کی میں آیا ہوں یا کہ جائے عزا
دیا جواب خرد نے مجھے کہ اسے ناداں خوشی ہے دہر میں، یہ مجھ سے پوچھتا ہے کیا
نہیں ہے امن کہیں زیرِ آسماں ہرگز بجز زمینِ خراساں کہ ہے وہ عرش آسا
زہے زمیں کہ ہے شاداب اس قدر جس میں ہمیشہ سبز ہے کشتِ امید شاہ و گدا
شرف یہ کیوں نہ دے اس سر زمیں کو رب کریم تو غور کر کہ قدم درمیان ہے کس کا
غالب کے قصیدہ ’در مدحِ بہادر شاہ‘ کی یہ گریز دیکھیے جس میں انہوں نے کتنی برجستگی سے تشبیب سے مدح کی طرف جانے کا راستہ نکالا ہے ۔
کہہ چکا میں تو سب کچھ اب تو کہہ اے پری چہرہ پیک تیز خرام
کون ہے، جس کے در پہ ناصیہ سا ہیں سر و مہر و زہرہ بہرام
تو نہیں جانتا تو مجھ سے سن نام شاہنشہ بلند مقام
قبلۂ چشم و دل بہادر شاہ مظہر ذو الجلال والاكرام
مدح
مدح کے لغوی معنی تعریف کرنے کے ہیں ۔ قصیدے کے تناظر میں یہ اس کے جز کا تیسرا حصہ ہے جو گریز کے بعد اور عرضِ مدعا اور دعا سے پہلے آتا ہے ۔ اس حصے میں شاعر ممدوح کی تعریف بیان کرتا ہے ۔مدح کا میدان اپنے اندر بڑی وسعت رکھتا ہے ۔ قصیدہ نگار کو اس بات کی مکمل آزادی ہوتی ہے کہ وہ جس طرح چاہے اپنے ممدوح کی تعریف کرے ۔ البتہ ناقدین نے مدح کے بیان میں حفظِ مراتب کا خیال رکھنے پر بہت زور دیا ہے ۔
ممدوح کی تعریف و تحسین سماجی اور طبقاتی حیثیت کا خیال رکھنا از حد ضروری ہے ۔ بادشا ہوں، امر ا و نوابین ،علمائے کرام اور بزرگان دین کی مدح میں اس کے مضامین کی تخصیص بھی ضروری ہے ۔مدح میں ممدوح کے اوصاف حمیدہ اور امتیازی خوبیوں کو بنیاد بنا کر مضامین باندھنا چاہیے ۔ مجموعی طور پر ہم کہ سکتے ہیں کہ اس حصے میں ممدوح کی سخاوت و شجاعت، عظمت و شرافت، عدل وانصاف، خلق ومروت، حمیت وخود داری، علمیت وصلاحیت، عبادت و ریاضت، کشف وکرامات، فیوض وبرکات، صداقت و متانت، حسن و جمال اور وجاہت و جاذبیت وغیرہ کے علاوہ اس کے ساز و سامان، آلاتِ حرب، اس کی سواریوں اور عمارات و محلات کا ذکر کیا جاتا ہے ۔
گریز کے فوراً بعد جب مدح شروع ہوتی ہے تو عموماً ممدوح کی تعریف صیغۂ غائب میں کی جاتی ہے جسے مدح غائب کہا جاتا ہے ۔ جیسے جیسے مدح و شتائس آگے بڑھتی ہے قصیدہ گو ممدوح کو براہ راست مخاطب کرنے لگتا ہے جسے مدح حاضر کہا جاتا ہے ۔مدح حاضر کے لیے عام طور پر نیا مطلع پیش کیا جاتا ہے ۔ اس حصے میں قصیدہ گو ممدوح کو بھر پور انداز میں خوش کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ شاعر ممدوح کی تعریف و توصیف میں اپنی فنی ہنر مندی اور علمی صلاحیتوں کو صرف کرتا ہے تا کہ ان سے انعام و اکرام حاصل ہو سکے یا اس کو راضی اور خوش کر سکے ۔مدح میں توازن اور اعتدال شرط ہے لیکن شعرا نے مدح میں مبالغہ، غلو اور اغراق کے مضامین کے بھی دفتر کھول دیے ہیں۔ اردو کے اولین ناقد حالی اور شبلی دونوں نے مدح کی بنیاد واقعیت اور سچائی پر قائم کرنے کی تلقین کی ہیں تا کہ ممدوح کے اوصاف صداقت کے ساتھ اجاگر ہوں اور اس کی واقعی شخصیت عوام الناس کے سامنے آ سکے۔ شبلی صاحب ممدوح کی تعریف و توصیف کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’قصیدہ جس کا اصلی موضوع مدح ہے ، بڑے کام کی چیز ہے ۔ لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ (۱) جس کی مدح کی جائے، درحقیقت مدح کے قابل ہو ، (۲) مدح میں جو کچھ کہا جائے سچ کہا جائے ، (۳) مدحیہ اوصاف اس انداز سے بیان کیے جائیں کہ جذبات کو تحریک ہو ۔‘‘17
مدح کے اشعار تشبیب کے مقابلے زیادہ ہونے چاہیے البتہ قصیدہ گو کو اس بات کا ازحد خیال رکھنا چاہیے کہ مدح غیر ضروری طوالت کا شکار نہ ہونے پائے ۔ مدح میں ممدوح کے مزاج اور طبیعت کے مطابقت کا خیال رکھنے کے علاوہ ضروری ہے کہ قصیدہ گو انسانی نفسیات سے بھی اچھی طرح واقف ہو، فرقِ مراتب جانتا ہو، ذہن اور طبیعت سے آشنا ہو اور جہاں وہ قصیدہ پیش کر رہا ہے، وہاں کی فضا سے بخوبی واقف ہو ۔ جب ہم اردو قصیدہ نگاری کی روایت پر نظر ڈالتے ہیں تو اس بات کا بخوبی ثبوت مل جاتا ہے کہ دربار سے وابستہ قصیدہ گو ممدوح کی نفسیات کے ماہر ہونے کے علاوہ دربار کی طرزِ معاشرت، رکھ رکھاؤ اور تہذیب سے اچھی طرح واقف ہوتے تھے ۔ ممدوح اپنی مبالغہ آمیز تعریف سے خوش ہوتا تھا اور یہ تعریف اس کے مرتبے کے لحاظ سے بھلی اور مناسب بھی معلوم ہوتی تھی ۔
بہادر شاہ ظفر کی تعریف میں مرقوم غالب کے ایک مشہور قصیدے سے مدح کے یہ اشعار دیکھیے جن میں ممدوح کی ذاتی اوصاف اور متعلقات کی نہایت طمطراق سے داد دی گئی ہے ۔
قبلۂ چشم و دل بہادر شاہ مظہر ذو الجلال والاکرام
شہ سوار طریقۂ انصاف نو بہارِ حدیقۂ اسلام
جس کا ہر فعل ، صورت اعجاز جس کا ہر قول ، معنی الہام
بزم میں، میزبان قیصر و جم رزم میں ، اوستا د رستم و سام
اے !ترا لطف زندگی افزا اے !تیرا عہد فرخی فرجام
عرضِ مدعا و دعا
عرضِ مدعا یا حسنِ طلب مدح کے بعد کی منزل اور قصیدے کا آخری جزو ہوتا ہے ۔ اس جز میں شاعر پہلے اپنے مدعا کو بیان کرتا ہے اور پھر اخلاقی طور پر مدوح کو دعا دیتا ہے اور کبھی کبھی ممدوح کے دشمنوں کو بددعا بھی دیتا ہے ۔ عموماً یہ حصہ مختصر ہوتا ہے ۔ یہ بظاہر آسان نظر آنے والی منزل در حقیقت دشوار گزار منزل ہے ۔ قصیدہ گو کو اس حصہ میں ایک اچھوتا انداز بر تنا ہوتا ہے اور اپنے ممدوح کے سامنے بڑی ہنر مندی سے اپنا مدعا بیان کرنا ہوتا ہے تا کہ ممدوح مسرت اور خوشی سے سرشار ہو کر شاعر کو انعام واکرام سے نواز دے ۔ دعا میں مدوح کی اقبال مندی ، درازیٔ عمر، مال و دولت میں ترقی ، ملک میں امن وامان اور نسل کی بقا جیسے مضامین ہوتے ہیں ۔ مذہبی قصائد میں موافقین کو دعا اور مخالفین کو بدعا دی جاتی ہے اور اپنے حق میں دعائے خیر طلب کی جاتی ہے ۔ عرض مدعا میں اشعار کی تعداد تو متعین نہیں ہے لیکن اس حصے کے لیے طوالت کے بجائے اختصار زیادہ مناسب ہے ۔ اسے یہ خیال رکھنا پڑتا ہے کہ مد عا ممدوح کی طبیعت کے عین مطابق ہو اور اس سے ممدوح اکتاہٹ کا شکار نہ ہو یا اسے سن کر وہ بدظن نہ ہو۔ لہٰذا عرض مدعا کے اشعار میں اچھوتا پن اور ندرت ہونی چاہیے اور اپنے مدعا یا مطلب کو بڑی فن کاری سے پیش کرنا چاہیے تا کہ ممدوح بے ساختہ خوش ہو کر اور فطری جوش سے مجبور ہو کر انعام واکرام سے نواز دے۔ بہت سے شعرا نے عرض مدعا پر خاص توجہ نہیں دی ہے اور اسے نظر انداز کیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض قصائد میں مدح تو نہایت عمدہ ہے مگر عرض مدعا خالص نہ ہونے یا پست یارکیک ہونے کے سبب قصیدہ کمزور ہو گیا ہے ۔
مذہبی قصائد میں قصیدہ گو روضے کی زیارت کی تمنا کرتا ہے ۔ پریشانی اور مصیبت میں مدد کی التجا کرتا ہے اور آخرت میں کامیابی کی دعا مانگتا ہے ۔ اسی طرح سلاطین ، وزرا اور امرا سے متعلق قصائد میں مدوح کی لمبی عمر ، جاہ و حشمت میں بلندی، دولت میں ترقی، حکومت میں وسعت و استحکام اور بقا سے متعلق مضامین نظم کرتا ہے ۔ دعا سے متعلق ذوق کے قصیدے کے یہ ا شعار دیکھیے ۔
دیتا ہے دعا ذوق کو مضمونِ ثنا میں ہے ذہنِ رسا کو، یہ کہاں اس کے رسائی
ہر سال شہا! ہووے مبارک یہ تجھے عید تو مسندِ شاہی پہ کرے جلوہ نمائی
غالب نے اپنے قصیدہ ’در منقبتِ حضرت علی‘ کا اختتام بڑے ہی انوکھے اور اچھوتے انداز میں کیا ہے ۔
دے دعا کو مری، وہ مرتبۂ حسنِ قبول کہ اجابت کہے ہر حرف پر، سو بار آمیں
غمِ شبیر سے ہو سینہ یہاں تک لبریز کہ رہیں خون جگر سے، مری آنکھیں رنگیں
طبع کو الفتِ دلدل میں ،یہ سرگرمیٔ شوق کہ جہاں تک چلے اس سے قدم، اور مجھ سے جبیں
دلِ الفت و سینۂ توحید فضا نگہِ جلوہ پرست و نفسِ صدقِ گزیں
حوالہ جات
- جلال الدین احمد جعفری ۔ تاریخ قصائد اردو، انوار احمدی، الہ آباد، 1951، ص۔3
- ڈاکٹر ضیا احمد بدایونی۔ مباحث و مسائل، مجلس اشاعتِ ادب ، دہلی ،1968، ص۔116
- حکیم نجم الدین خاں نجمی۔ بحر الفصاحت (جلد اول)، قومی کونسل برائے فروغِ زبانِ اردو، 2006، ص۔100
- پروفیسر شہپر رسول و پروفیسر وہاج الدین علوی۔ قصیدے کی شعریات، شعبۂ اردو ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی 2017، ص۔209
- ڈاکٹر ابو محمد سحر ۔ اردو میں قصیدہ نگاری ، کلاسک آرٹ پرنٹرس ، نئی دہلی، 2010، ص ۔10-9
- ایم۔ کمال الدین۔ قصیدہ کا فن اور اردو قصیدہ نگاری، دربھنگہ بک ہاؤس، دربھنگہ 1988، ص۔ 14
- محمود الٰہی ۔ اردو قصیدہ نگاری کا تنقیدی جائزہ ، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی 2011، ص ۔45-43
- ڈاکٹر ابو محمد سحر ۔ اردو میں قصیدہ نگاری ، کلاسک آرٹ پرنٹرس ، نئی دہلی، 2010، ص ۔10
- ایم۔ کمال الدین۔ قصیدہ کا فن اور اردو قصیدہ نگاری، دربھنگہ بک ہاؤس، دربھنگہ 1988، ص۔ 17-16
- علیم صبا نویدی۔ اردو ادب کا اولین نقاد مولانا باقر آگاہ ویلوری، تمل ناڈو اردو پبلی کیشنز، چننائی، 2009، ص۔127-126
- ڈاکٹر ابو محمد سحر ۔ اردو میں قصیدہ نگاری ، کلاسک آرٹ پرنٹرس ، نئی دہلی، 2010، ص ۔11
- پروفیسر شہپر رسول و پروفیسر وہاج الدین علوی۔ قصیدے کی شعریات، شعبۂ اردو ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی 2017، ص۔157
- ڈاکٹر ابو محمد سحر ۔ اردو میں قصیدہ نگاری ، کلاسک آرٹ پرنٹرس ، نئی دہلی، 2010، ص ۔27
- ڈاکٹر ابو محمد سحر ۔ اردو میں قصیدہ نگاری ، کلاسک آرٹ پرنٹرس ، نئی دہلی، 2010، ص ۔14-13
- ایم۔ کمال الدین۔ قصیدہ کا فن اور اردو قصیدہ نگاری، دربھنگہ بک ہاؤس، دربھنگہ 1988، ص۔ 33
- ایم۔ کمال الدین۔ قصیدہ کا فن اور اردو قصیدہ نگاری، دربھنگہ بک ہاؤس، دربھنگہ 1988، ص۔ 36-35
- علامہ شبلی نعمانی ۔ شعر العجم (جلد پنجم) ، معارف پریس، اعظم گڑھ 1991، ص۔26
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

