Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
قصیدہ کی تفہیمنصابی مواد

دورِجاہلی کا روشن خیال قصیدہ گو شاعر : زہیر بن ابی سلمی – یوسف رامپوری

by adbimiras اکتوبر 8, 2020
by adbimiras اکتوبر 8, 2020 0 comment

دورِجاہلی میں عربی شاعری کو جو عروج وکمال حاصل ہوا، وہ کسی اور دور میں نہیں ہوسکا۔ بعد کے ادوار کے شعراتو مختلف  النوع وسائل کی دستیابی کے باوجود اُس دور کے شعرا سے آگے نہ بڑھ سکے۔ مہلہل بن ربیعہ، الشنفری، المرقش الاکبر، تابط شرّا، علقمہ الفحل جیسے شعرا نے عربی شاعری کے میدان کو وسعت بخشی۔ اصحاب المعلقات میں امرؤ القیس، نابغہ الذبیانی، طرفہ بن العبد، عمرو بن کلثوم، حارث بن حلّزہ، لبید بن ربیعہ اور عنترہ بن شداد العبسی کے قصائد نے عوام وخواص سب پر اپنی سحرانگیزی کا سکہ کچھ یوں جمایا کہ انھیں روئے زمین پر سب سے مقدس مقام خانہ کعبہ میں آویزاں ہونے کا شرف حاصل ہوگیا۔ ان کے علاوہ اصحاب المجمہرات، اصحاب المنتقیات اور صعالیک شعرانے بھی شاعری کے میدان میں خوب جوہر دکھائے لیکن اِن تمام شعرا کے کلام پر جاہلی مزاج ورنگ غالب رہا، اس لیے نہ صرف مستشرقینِ یورپ بلکہ خود بہت سے عرب ناقدین نے بھی موضوعات ومضامین کے اعتبار سے دورِ جاہلی کی عرب شاعری کے محدودہونے کی شکایت کی۔ امداد امام اثر نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ ’’شعرائے عرب کے خیالات ایک تنگ دائرے کے اندر واقع نظر آتے ہیں۔‘‘1 لیکن امداد امام اثر کا یہ قول زہیر بن ابی سلمی کے کلام پر ہر گز صادق نہیں آتا۔کیونکہ اس کی شاعری وسیع النظری اور روشن خیالی سے عبارت تھی۔ وہ ایک ایساجاہلی شاعر تھا جس نے اپنی شاعری میں نہ صرف دورِجاہلی کی نمائندگی کی بلکہ عربی شاعری کونت نئے مضامین اورخیالات سے بھی مالامال کردیا۔

زہیربن ابی سلمیٰ کا شماراصحاب المعلقات میں ہونے کے ساتھ امرؤ القیس اور نابغہ الذبیانی کے ساتھ طبقۂ اولی میں بھی ہوتا ہے۔یعنی دور جاہلی کے وہ تین شاعر جن کوشاعری میں سب سے اونچامقام حاصل ہوا، ان میں سے ایک زہیر بن ابی سلمیٰ ہے۔بعض ادبا ومحققین نے زہیر کو سب سے بڑا عرب شاعر قرار دیاہے ۔جیساکہ احنف بن قیس نے شاعروں میں سب سے بڑا شاعر زہیر کوبتایاہے ۔جاہلی عرب شعرامیں زہیر کے ممتاز ومنفرد ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ موضوعات کا جو تنوع زہیر کے یہاں ملتا ہے ، کسی اور کے یہاں نظر نہیں آتا۔یہاں تک کہ عرب کے شہرۂ آفاق شاعرامرؤ القیس کے یہاں بھی موضوعات کی وسعت کا فقدان ہے بلکہ اس کی شاعری چند موضوعات ومحدودخیالات کے گرد چکر کاٹتی ہوئی دکھائی دیتی ہے مگر زہیر بن ابی سلمیٰ کی شاعری میں موضوعات اورمختلف مضامین کی کثرت ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے ایسے اشعارخاصی تعداد میں موجود ہیں جو پندرہ سوسال قبل کے نہیں ،بیسویں اور اکیسویں صدی کے نظر آتے ہیں۔کیوں کہ ان میں بھرپور روشن خیالی،انسانیت اورامن پسندی موجود ہے۔

زہیر کا پورا نام زہیر بن ابی سلمیٰ ربیعہ بن ریاح المزنی ہے۔اس کا خاندان غطفان کے علاقے میں آباد تھا جہاں قتل وغارت گری کا بازار گرم رہتا تھا،قبیلہ عبس اور ذبیان کے درمیان طویل مدت سے جاری خونیں معرکہ آرائی میں بہت سے لوگ ہلاک ہوچکے تھے۔ دوسری طرف یہ علاقہ شعروشاعری سے آبادتھا، خاص طورسے زہیرکا خاندان شعروادب کا گہوارہ بنا ہوا تھا۔اس کے والد،خالو،بہنیں اور دونوں بیٹے کعب اور بُحیر مشہور شاعر تھے۔علاقے اور خاندان میں شاعری کے عام رواج اور ماحول کی وجہ سے زہیر کو بھی شاعری سے بہت کم عمر ہی میں دلچسپی ہوگئی تھی۔وہ اکثر اپنے خالو بشامہ بن الغدیر کی صحبت میں رہتا تھا جو اپنے زمانے کے بڑے فلسفی ، شاعر، امیر،دانا اور دانشور خیال کیے جاتے تھے۔احمد حسن زیات نے بشامہ بن الغدیر کو زہیرکے باپ کا ماموں بتاتے ہوئے زہیر پراس کی شخصیت کے اثرات کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے :

’’زہیر …نے اپنے باپ کے رشتہ داروں (بنوغطفان) میں تربیت پائی اور ایک زمانہ تک بشامہ بن غدیر اپنے باپ کے ماموں کی صحبت میں رہا جو صاحب فراش مریض تھا۔اس کے کوئی اولاد نہ تھی، وہ نہایت دانشمند شخص تھا۔اصابتِ رائے،بلندپایہ شاعری اور کثرت مال کی وجہ سے وہ ناموری حاصل کرچکاتھا، چنانچہ زہیر نے شاعری میں اس کی خوشہ چینی کی، اس کے علم وحکمت سے متاثر ہوا جس کا بین ثبوت اس کی شاعری کے وہ جواہر حکمت بہم پہونچاتے ہیں جن سے اس نے اپنی شاعری کو مرصع کیا۔‘‘2

زہیر نے اپنے سوتیلے باپ اوس بن حجر سے بھی استفادہ کیا۔وہ بھی اپنے زمانے کا بلند پایہ شاعرتھا۔گویا کہ گھریلو ماحول نے زہیر بن ابی سلمیٰ کی شاعرانہ صلاحیت کو نکھارا، زہیر خود بھی ذہین وبُردبارتھا،لیکن اپنی خداداد ذہانت اورخاندانی ماحول کے باوجودوہ اچھے اشعار کہنے کے لیے زبردست محنت کرتا تھا۔وہ اشعار کہہ کر ان پر نظرثانی کرتا،اصلاح وترمیم اور کاٹ چھانٹ کرتا، جب اشعار بہتر سے بہترین ہوجاتے تو وہ ان کو لوگوں کے سامنے سناتا۔بقول احمد حسن زیات’’وہ ایک قصیدہ چار مہینے میں نظم کرتا،پھر چار مہینے تک اسے کاٹ چھانٹ کردرست کرتارہتا،اس کے بعد چار مہینے تک اساتذۂ فن کے سامنے اسے پیش کرتااور عوام میں ایک برس سے قبل اسے پیش نہیں کرتا تھا۔‘‘3 اس طرح اس کے اشعار فنی خامیوں ، غرابتِ الفاظ ، تعقیدِلفظی و معنوی اور غلطیوں سے پاک ہوجاتے۔

زہیر بن ابی سلمیٰ کی شاعری کا چرچا اسی وقت سے پھیلنا شروع ہوگیا تھا جب سے اس نے شاعری کے میدان میں قدم رکھا ،پھرجیسے جیسے وقت آگے بڑھتا رہا، اس کی شاعری کی مقبولیت زینے چڑھتی گئی ۔زہیربن ابی سلمیٰ نے بہت سے قصائد لکھے لیکن وہ اپنے قصائد میں جھوٹی یا مبالغہ آرائی پر مبنی مدح کا قائل نہ تھا ۔وہ تعریف میں وہی کہا کرتا جو ممدوح میں موجود ہوتا۔جس خصوصیت وخوبی کا ممدوح حامل نہ ہوتا ، زہیر ہر گز اس کا ذکر نہ کرتا تھا۔شاعرکے فرض منصبی کے بارے میں حالی کی مندرجہ ذیل رائے زہیر کے مدحیہ کلام پر صدفی صدصادق آتی ہے:

’’شاعر کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ اچھوں کی خوبیوں کو چمکائے ،ان کے ہنروفضائل عالم میں روشن کرے اور ان کے اخلاق کی خوشبوؤں سے موجودہ اور آئندہ دونوں نسلوں کے دماغ کو معطرکرنے کا سامان مہیا کرجائے۔‘‘4

زہیر نے اپنے مدحیہ قصائد میں سب سے زیادہ مدح ہرم بن سنان اور الحارث بن عوف کی کی ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان دونوں کی کوششوں سے عبس اور ذبیان کے قبائل کے درمیان چالیس سال سے جاری لڑائی کا خاتمہ ہوگیا۔عبس اور ذبیان کے قبیلوں کے درمیان یہ جنگ اتنی شدید تھی کہ دونوں جانب سے بہت سے لوگ مارے جاچکے تھے اور یہ سلسلہ دن بہ دن شدت اختیار کرتا جارہا تھا۔اس مارکاٹ اور قتل وغارت گری کو روکنے کے لیے ہرم بن سنان اور الحارث بن عوف نے صلح کی مخلصانہ جدوجہد کی اور مقتولین کے خون بہا کے طورپر اپنے پاس سے تین ہزار اونٹ دیے جس کے باعث لڑائی بند ہوگئی۔ زہیر بن ابی سلمیٰ فطرتاً نیک وبااخلاق اور صلح پسند شخص تھا، وہ ان دونوں کی پُر امن کوششوں سے متاثر ہوا اور ان کی شان میں اپنا مشہور میمیہ قصیدہ کہا۔ اس کے علاوہ زہیر نے وقتاً فوقتاً ان کے لیے اور بھی مدحیہ اشعار کہے۔ ہرم بن سنان کو بھی زہیر سے بڑی محبت تھی اور وہ اس کے فن کانہ صرف مداح تھابلکہ اس کو خوب نوازتابھی تھا۔اس نے قسم کھائی تھی کہ جب زہیر اس کی تعریف یا سوال کرے گایا اس کو سلام کرے گا یا دعادے گا، تو وہ اس کو ایک غلام،لونڈی یا گھوڑا ضرور بخشے گا۔ہرم بن سنان نے زہیر کو اتنا دیا کہ زہیر کو خود شرم آنے لگی اور وہ اس کی مدح یا سلام سے پرہیز کرنے لگا۔زہیر نے ہرم بن سنان اور الحارث بن عوف کے لیے جو مدحیہ اشعار کہے ان میں سے چند یہ ہیں:

’’میں اس گھر کی قسم کھاتاہوں جس کے گرد لوگ طواف کرتے ہیں جس کوقریش اور جرہم کے لوگوں نے تعمیر کیا۔ میں قسم کھاکر کہتا ہوں کہ تم دونوں اچھے سردار ثابت ہوئے، خداتم کو ہر حال میں نرمی اور ضعف ، سختی اور قوت میں عزت کے ساتھ رکھے۔تم دونوں نے قبیلہ عبس اور ذبیان کی خبرگیری اور ان کا تدارک کیا بعد اس کے کہ وہ باہم متصادم ہوکر فنا ہوگئے تھے اور انھوں نے اخیر دم تک لڑنے کا فیصلہ کیا تھا اور تم دونوں نے ( سوچاتھاکہ) اگر ہم مال دے کر اور اچھی بات کہہ کر صلح کرائیں گے تو ہم لوگ صحیح سلامت رہیں گے اور بچ جائیں گے۔‘‘5

ان اشعار میں زہیر نے مدح ضرور کی ہے لیکن اس میں نہ کذب گوئی سے کام لیا اور نہ مبالغہ آرائی سے بلکہ حقیقتِ واقعہ کو گویا بے کم وکاست بیان کردیا ہے۔زہیر بن ابی سُلمیٰ کے قصائد کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے جو صلح پسند ،سنجیدہ اور انسانی اقدار کے حاملین تھے۔ جب کہ دورجاہلی کے دوسرے شعراحریف قبائل کے افراد کوقتل کرنے پر اور جنگوں میں اپنی شمولیت پر فخر کرتے نظر آتے ہیں ،یہاں تک کہ اپنے قصائد میں معرکہ وجدال ،شراب ومستی اور آوارگی کی باتیں بھی خوب چٹخارے لے لے کر بیان کرتے ہیں ۔ امرؤالقیس کے یہاں تو معاملہ بندی اس حد تک ملتی ہے کہ وہ ابتذال اور پورنوگرافی کے دائرے میں داخل ہوجاتی ہے۔ زہیر بن ابی سلمی جاہلی شعرا کے برعکس قتل وغارت گری اور لوٹ مارکو پسند نہ کرتا ،اپنی بہادری کے گُن نہ گاتا اور نہ ہی اپنے قبیلے وخاندان کے ایسے کارناموں کا ذکر کرتا ۔ اس کے نزدیک صلح جوئی ایسی بہادری سے زیادہ بہتر تھی جو تباہی وہلاکت کا باعث بنتی ہو، اس لیے وہ عبس اور ذبیان کے مابین مصالحت پر بہت خوش ہوا اور اس کے بعد آئندہ کے لیے بھی اس بات کا آرزومند نظر آیا کہ وہ دونوں قبائل پھر کبھی باہم دست وگریباں نہ ہوں۔چنانچہ کہتا ہے :

ألااَبلغ الاَ خلافَ عنی رسالۃً

وَذبیان ہل اَقْسَمْتُم کل مقسم

فَلَا تَکْتُمُنَّ اللّٰہ ما فی نُفُوسِکُمْ

لِےَخفی ومَہما ےُکْتم اللّہ ےَعْلم6

’’اے مخاطب تو اس بات کو سن کہ میری حانب سے بنی اسد بن خزیمہ ، بنی غطفان اور ذبیان کو یہ پیغام پہنچادے کہ تم نے رضامندی پر سخت اور مکمل قسم کھائی ہے۔ لہٰذا اب وعدہ خلافی نہ کرنا، جب تم نے قسمیں کھالی ہیں تو خدا سے ہرگز مت چھپانا جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے وہ کب اس پر چھپارہے گا اور جو کچھ تم خدا سے چھپانا چاہوگے وہ اس کو جان لے گا۔گویا کہ شاعر کہہ رہا ہے کہ قسمیں کھانے اور عہد کرنے کے بعد کبھی ان کو توڑنے کا خیال بھی ذہن ودل میں نہ لانا۔‘‘

زہیر بن ابی سلمی کا ایسے دورمیں امن پسند ہونا یقیناًحیرت ناک امر ہے جب کہ پورے عرب میں جنگ لوگوں کا شغلِ محبوب بنی ہوئی تھی۔ میدان جنگ میں جو شخص جس قدر بہادری کا مظاہرہ کرتا ، اسی قدر اس کو سراہا جاتااور اس کی عزت کی جاتی۔ شاعر بھی اپنے زمانے کے ماحول سے متاثر ہوکر ایسے اشعار کہتے جن میں وہ اپنے قبائل کی یہاں تک کہ خود اپنی بھی بہادری کا فخریہ اظہار کرتے ۔اس طرح کے اشعار کے توسط سے وہ نہ صرف اپنے قبائل میں منظورِ نظر بن جاتے بلکہ دور دور تک ان کی واہ واہی ہونے لگتی اور ان کے کلام کو پڑھااور سنا جانے لگتامگر زہیر نے اپنی شہرت ومقبولیت کے لیے اِس جاہلی طریقے کو پسند نہ کیا بلکہ اس نے معرکہ آرائی کی مخالفت کی اور میدانِ کارزار میں جوہر دکھانے یا جنگ کی آگ بھڑکانے والوں کے مقابلے میں ایسے لوگوں کی تعریف کی جو جنگ سے بیزاری اختیارکرتے اور صلح وامن کی باتیں کرتے۔قتل وغارت گری کے خلاف اور امن وامان کی تائید میں زہیر کے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:

’’ لڑائی کے خاتمے کے بعد اگر تم لڑائی کو برانگیختہ کروگے تو تم لڑائی کو بری حالت میں اٹھاؤگے۔یعنی تمھیں اس کے باعث تکلیف اٹھانی پڑے گی اور جب تم لڑائی بھڑکاؤگے تو وہ بھڑک اٹھے گی۔پھر وہ لڑائی تم کو اس طرح پیس ڈالے گی جس طرح چکی اپنے نیچے کے چمڑے کی کھال پر دانہ کا آٹا پیستی ہے‘‘7

زہیر بن ابی سلمیٰ کی شاعری میں حکمت وفلسفے کا بیان بھی ملتا ہے ۔ اس نے پوری توجہ کے ساتھ دنیا کی بے ثباتی اور فنا وبقا کی باتیں کی ہیں۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس زمانے کے دوسرے شعرانے اس طرح کے موضوعات سے مکمل طورپر بے اعتنائی برتی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بعض دوسرے شعراکے یہاں بھی فخرو حماسہ، شراب وشباب اورمدح وتغزل کے ساتھ دوسرے مضامین بھی نظم ہوئے ہیں لیکن جس قدر سنجیدگی ومتانت کے ساتھ روشن خیالی پرمبنی مضامین کو زہیر نے اپنے قصائد کی زینت بنایا ہے ،اس میدان میں دورِجاہلی کا کوئی دوسراشاعر اس کے برابر کھڑا ہوا نظرنہیں آتا۔درجِ ذیل اشعارحکمت ودانشمندی سے پُرہیں :

’’اگر کسی شخص میں کوئی بری عادت ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ لوگوں کو اس کا علم نہیں تو یہ غلط ہے ۔کیوں کہ ایسی عادتیں لاکھ چھپائی جائیں ایک نہ ایک دن کھل کر رہتی ہیں۔اکثر لوگ جب تک چپ رہتے ہیں بڑے بھلے مانس دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کی حقیقت کا علم اس وقت ہوتا ہے جب وہ بولتے ہیں۔‘‘8

مندرجہ ذیل شعر میں جو زہیر کے معلقہ کا آخری شعر ہے ، بڑے پتے کی بات کہی گئی ہے :

سألنَا فَاَعْطَےْتُم وَعُدْنا فَعُدتُم

ومن أکثر التَّسال یوما سَےُحْرَمِ

’’جب ہم نے سوال کیا ، تو تم نے دیا، ہم نے پھر مانگا ، تم نے پھر دیا اور جو بہت سوال کرے گا ایک دن وہ جلد محروم اور ناامید کیاجائے گا ۔یعنی بار بار کا سوال انسان کو بے وقعت اور رسوا کردیتا ہے۔‘‘

زہیر نے اپنی شاعری میں زندگی کے گہرے تجربات کو شامل کرکے اسے اور زیادہ وقیع ومفید بنادیا۔جیسے جیسے اس کی عمر بڑھتی گئی اس کی شاعری سنجیدہ اور تجربات ومشاہدات کا مرقع بنتی گئی ۔دراصل زمانے کے نشیب وفراز، لوگوں کے حالات وکوائف پراس کی گہری نظرتھی۔اس کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ زمانے کی سچائیوں سے منہ نہ موڑتا تھا اورمحض خیالات وتصورات میں جینے کا عادی نہ تھا۔موت برحق ہے، وہ اس کو دل سے مانتا ،اس کا خیال تھا کہ بڑھاپے میں انسان کو سنجیدہ وبردبار ہوجانا چاہئے، اسے اعشیٰ کی طرح بڑھاپے میں بھی عیش ومستی پسند نہ تھی۔کیوں کہ بڑھاپے کا وقت تو تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ذیل کے اشعار میں وہ بڑھاپے کی زندگی کی سچائی کو اس طرح پیش کرتا ہے :

سَءِمْتُ تَکالیفَ الْحَیاۃِ وَمَن ےَعِیش

ثَمانِین حَولاً لا أبالکَ ےَسْأمِ

وَاَعلَم ما فِی الیومِ وَالأمْسِ قبلَہٗ

وَلٰکِنَّنِی عَن عِلم مَافِی غَدعَمِ9

’’میں زندگی کی تکلیفوں سے اکتا گیا ہوں اور جو میری طرح اسّی برس تک جیے گا، تمھارے باپ کی جان کی قسم وہ ضرور اکتاجائے گا۔میں آج اور کل گذشتہ کے علم سے واقف ہوں مگر جو آئندہ ہوگا اس سے میں غافل اور بے خبر ہوں۔‘‘فنا وبقا کے بارے میں زہیر کہتا ہے :

’’کاش میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں ، لوگ بھی دیکھ لیتے اور جس حقیقت کا انکشاف میرے اوپر ہوا ہے، ان کے اوپر بھی ہوجاتا ، میرے اوپر یہ راز منکشف ہوا ہے کہ لوگ اور ان کا مال ومتاع سب ایک دن فنا ہوجائے گا مگر زمانے کوکبھی فنا نہیں ۔اللہ بس باقی سب ہوس۔‘‘10

زہیر نے اپنے قصائد کے ذریعے لوگوں کو غفلت کے دائرے سے باہر نکالنے کی کوشش کی اور انھیں ان کی زندگی کی حقیقت یاد دلائی ۔ اس نے کہا کہ آخر ایک دن انسان کو مرکھپ جانا ہے، کیسے بھی کوئی جتن کرلے ، اس سے بچنے کی کتنی ہی تدابیر اختیار کرلے مگر وہ موت کے چنگلوں سے اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا تو پھر چندروزہ زندگی پر اترانا کیا اور اپنی طاقت کے نشے میں مدہوش ہوکر کسی کو ستانے ، کسی پر حملہ آور ہونے یا بے جا عیش وعشرت کے کیا معنی؟ اشعاردیکھیے :

رَأیتُ المَناےَاخَبط عشوآء من تصِب

تُمِتْہُ وَمن تُخطئ یعمَّرفیہرمِ

وَمن ہابَ اسبابَ المَنایاےَنَلْنَہُ

وَاِن ےَرْق اَسبابَ السَّماءِ بِسُلّمِ

میں موتوں کو اندھی اونٹی کی طرح دیکھتا ہوں کہ جس کو وہ پالیتی ہیں اسے ختم کردیتی ہیں اور جس کو نہیں مارتیں وہ جیتا ہے مگر بوڑھا ہوجاتا ہے۔جو شخص موتوں کے راستے سے ڈرتا ہے ، وہ ان کو ضرور پکڑلیں گی چاہے وہ آسمان کے کناروں پر سیڑھی لگاکر چڑھ جائے۔11

ایسے ہی اشعار کے سبب کہا جاتا ہے کہ زہیر کی شاعری فضول باتوں سے پاک ہے۔کلام میں نامانوس اور بھدے الفاظ بھی زہیر استعمال نہیں کرتا۔تعقیدِ لفظی اور معنوی سے وہ اپنے قصائد کو دور رکھتا ہے۔ معانی ومفاہیم کی وضاحت کے لیے وہ منتخب اور معیاری الفاظ لاتا ہے۔اس کی شاعری کی ان خصوصیات کی وجہ سے خلیفۂ ثانی حضرت عمربن الخطاب اس کی شاعری کو پسند کرتے اور دوسرے شعرا پر اس کو فضیلت دیتے تھے۔ مندرجہ ذیل واقعہ سے اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے:

’’ حضرت بن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ بن الخطاب نے کہا کہ کیا تم شاعروں کے شاعر کے کلام کی روایت کرتے ہو۔میں نے کہا وہ کون؟ تو بولے کہ وہ جو کہتا ہے’’ولوان حمدًا…‘‘میں نے کہا وہ تو زہیر ہے تو آپ نے فرمایا کہ ہاں وہ شاعروں کا شاعر ہے۔میں نے کہا وہ کیسے ؟ تو فرمایاکہ چوں کہ وہ کلام میں تعقید نہیں کرتا تھا اور نہ ایک مفہوم کو دوسرے میں گڈ مڈ کرتا تھا اور اس کے علاوہ نامانوس اور بھدے الفاظ سے پرہیز کرتا تھا اور آدمی کی سچی اور صحیح تعریف کرتا تھا۔‘‘12

دورِجاہلی کے شعرا میں کوئی ایسا شاعر نظرنہیں آتا جس کے اشعار لفظی ومعنوی دونوں اعتبار سے اتنے اعلیٰ ہوں جتنے کہ زہیر کے اشعار ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ امرؤالقیس ، نابغہ الذبیانی اور اعشیٰ جیسے جاہلی شعرا کے یہاں قصائد کی زبان کا اپنا نرالا انداز ہے مگر معنوی اعتبار سے یہ شاعر زہیر بن ابی سلمی کو نہیں پہنچتے۔ا مرؤالقیس کے یہاں تو الفاظ وتشبیہات میں ثقالت بھی پائی جاتی ہے لیکن زہیر کی شاعری اس عیب سے پاک ہے۔

زہیرکے قصائد میں سب سے اعلیٰ ،اہم اور نمائندہ قصیدہ وہی ہے جسے معلقات میں شمولیت کا شرف حاصل ہوا۔بعض لوگوں نے اس معلقہ کے اشعار کی تعداد59 لکھی ہے مگر یہ درست نہیں ،صحیح تعداد64 ہے۔13 زہیر نے معلقہ کا آغاز جاہلی ریت کے مطابق کیا ہے یعنی محبوبہ کے اجڑے مکان پر شاعر پہنچتا ہے ،اس کے مکان کے نشانات تلاش کرتا ہے، ان سے تکلم کرتا ہے اور پرانی یادوں کو آہ وحسرت کے ساتھ تازہ کرتا ہے ، لیکن شاعر کا کمال یہ ہے کہ وہ تشبیب کے ان اشعار میں نادرتشبیہات اور خوبصورت الفاظ استعمال کرکے ان میں بلاکی تاثیر ونغمگیت پیداکردیتا ہے۔ان اشعار میں جمالیات او رتغزل کا رنگ چوکھا نظرآتا ہے۔وہ کہتا ہے:

’’اے میرے دوست تو غور سے دیکھ کیا تجھے کجاوہ نشین عورتیں نظر آتی ہیں جنھوں نے بلند جرثم تالاب کے اوپر کوچ کیا۔میں ان کے دیکھنے کا آرزو مند ہوں اور وہ وادی سوبان کی سخت اور اونچی زمین پر چڑھتے ہوئے اس طرح گزریں کہ قنان پہاڑ ایک طرف ان کے کولہوں کے مقابل بائیں جانب رہ گیا ،اس حال میں کہ ان پر نرم ونازک بدن والوں کا ناز وانداز تھا۔یعنی وہ بہت نازک بدن تھیں اور ان ہودہ نشینوں میں ہنسی اوردل لگی چل رہی تھی، وہ منظر دیکھنے کے قابل خوبصورت تھا اور کمال فراست رکھنے والوں کے لیے بھلا معلوم ہوتا تھا۔‘‘14

ان اشعارمیں زہیر بن ابی سلمی نابغہ، اعشی، طرفہ، حارث بن حلّزہ، عمر وبن کلثوم اور دوسرے جاہلی شعرا کے رنگ میں نظر آتاہے ۔گویا لکیرپرلکیر کھینچنے کاکام کرتا ہے۔ان اشعار کے سبب زہیر کی الگ شناخت قائم نہیں ہوتی مگر جب وہ تشبیب کے بعد گریز کرتے ہوئے ہرم بن سنان اور الحارث کی شان میں مدحیہ اشعارکا سلسلہ چھیڑتا ہے تو وہ ان سے الگ راہ پر جاپڑتا ہے۔دس اشعار میں ان کی صلح جوئی کی کوششوں کو بیان کرتا ہے اور جنگ کی ہولناکیوں کا نقشہ کھینچتا ہے تاکہ نہ صرف متعلقہ قبیلے بلکہ سارے جزیرۃ العرب کے خاندان وافراد تشدد اور جنگ سے بازآجائیں اور امن کے راستے پرچل پڑیں۔ اس قصیدے میں پندرہ سے زائد اشعار میں زہیر نے حکمت وفلسفے اور مشاہدات وتجربات کوبیان کیا ہے۔اس قصیدے کے حوالے سے عبدالاحد نے زہیر کی شاعری ،اس کی اہمیت اور انفرادیت پر یوں روشنی ڈالی ہے :

’’اس کے قصیدے میں نصیحت واخلاق کی باتیں بھری ہیں۔ہر بیت میں سنجیدگی وپند کی مہک ہے۔اس کے اشعار قَلّ وَدَلَّ کے مصداق ہیں۔فن شاعری میں سرقہ وانتحال کو غایت درجہ مذموم جانتا تھا۔نسخ ومسخ وسلخ تینوں سے از حد نفرت کرتا تھا۔الفاظ اس کے سادہ اور عام فہم اور معانی دلچسپ ودقیق ہیں۔کلام اس کا وحشی وسخیف الفاظ سے پاک ہے۔حضرت ابوبکرؓ کے نزدیک یہ تمام شعرا پر فضیلت رکھتا تھا لہذا وہ اسے ’’شاعرالشعراء‘‘ کہتے تھے۔جو جو خوبیاں اوروں کے قصائد میں ہیں وہ سب اس کے قصیدے میں موجود ہیں لیکن جو دو ایک زائد خوبیاں اس کے قصیدے میں ہیں وہ کسی دیگر شاعرجاہلی کے کلام میں نہیں پائی جاتیں…خوف خدا اور فکرعاقبت میں زندگی بسرکرنے کو عین راحت سمجھتا تھا۔قیامت اور عدالت کی خبربڑی سنجیدگی سے دیتا ہے۔اس نے 631ء میں وفات پائی۔‘‘15

زہیر خدا اور آخرت کی باتیں کرکے غالباً عوام الناس کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کویوں ہی ضائع نہ کریں،وقت کو غنیمت جانیں،اس کا صحیح استعمال کریں، اچھے کام کریں،کسی کو اذیت نہ پہنچائیں، ایک دوسرے کے لیے معاون ثابت ہوں اور جاہلیت کے اندھیروں سے نکل کر روشنی کی طرف آئیں ۔

حواشی:

(1) کاشف الحقائق، ص:174، ناشر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، دوسراایڈیشن 1998

(2) تاریخ ادب عربی، ص:42، ترجمہ وتلخیص: ڈاکٹر سید طفیل مدنی، ایوان کمپنی الہ آباد، دوسرا ایڈیشن1985

(3) ایضاً ٍ ٍ

(4) مقدمہ شعروشاعری، ص227،ایجوکیشنل ہاؤس علی گڑھ2011

(5) شرح القصائد العشر، ص 165-16، ڈاکٹر فخرالدین فباوہ، ناشر المکتب العربےۃ لحلب،1969

(6) شرح المعلقات السبع، ص 82-83، از احمد بن حسین،مکتبۃ القاہر، 1967

(7) شرح القصائد العشر، ص174، فخرالدین فباوہ ، المکتبۃ العربےۃ لحلب 1969

(8) التوضیحات، سبع المعلقات، قصیدہ، زہیر بن ابی سلمیٰ

(9) شرح القصائد العشر،ص190-91

(10) عربی ادب کی تاریخ ، جلد اول ص 215، از حلیم ندوی

(11) شرح المعلقات السبع، ص 89-90

(12) عربی ادب کی تاریخ ، جلداول، ص212، از حلیم ندوی

(13) التوضیحات، سبع المعلقات ص: 62

(14) ایضاً قصیدہ زہیر بن ابی سلمیٰ، شعر7 تا9

(15) عربی ادب کی تاریخ، حصہ اول:75-76،از : عبدالاحد، سنہ اشاعت1909،مطبع مجتبائی دہلی

 

Mohammad yusuf

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ادبی میراثعربی قصیدہقصیدہ
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
بگولے – شموئل احمد
اگلی پوسٹ
تاج محل:  اردو شعرا کی نظر میں – ڈاکٹر صبیحہ ناہید

یہ بھی پڑھیں

اردو قصیدہ گوئی : فن اور تشکیلی اجزا...

دسمبر 3, 2023

قصیدے کی تدریس اور ظفر احمد صدیقی –...

ستمبر 13, 2022

عبدالحلیم شررکے ناول: "فردوسِ بریں” کا تجزیاتی مطالعہ...

مارچ 11, 2022

ناول کا فن – پروفیسر عتیق اللہ

فروری 16, 2022

اردو اور عربی قصیدہ نگاری: ایک مطالعہ –...

فروری 6, 2022

آشوب دہلی اور دستنبو – پروفیسر صالحہ رشید 

جنوری 26, 2022

’کفن ‘کا متن اور تعبیر کی غلطیاں –...

جنوری 9, 2022

ویڈیو تدریس (ڈراما)

دسمبر 6, 2021

عہد عباسی کی عربی شاعری اور چند اہم...

دسمبر 2, 2021

میراجی اور نئی شعری روایت – پروفیسر شمیم...

نومبر 21, 2021

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں