قصیدہ عربی زبان کا لفظ ہے جو قَصَد (قَصَدَ یقصِدُ باب ضَرَبَ یضرِبُ) سے مشتق ہے۔ جس کے معنی ارادہ کرنے کے ہیں۔ لغوی اعتبار سے لفظ قصیدہ اس کے علاوہ بھی مختلف معنوں میں مستعمل ہے۔ مثلاً مغز غلیظ، مغز سطبر ، سیدھے راستے کا تعین کرنا، بھروسہ کرنا وغیرہ۔ قصیدہ اور غزل کے مابین صنفی امتیازات و افتراقات کے پہلو پر گفتگو کرنے سے پہلے ان دونوں اصناف کے تئیں چند ناقدین اور محققین کی آرا پر ایک نگاہ ڈال لی جائے تو نتائج باآسانی برآمد کیے جاسکتے ہیں کہ صنفی اعتبار سے ان میں کیا امتیازات ہیں اور کیا افتراقات۔
قصیدہ کی تعریف اہل علم حضرات نے مختلف انداز میں کی ہے ۔ مثال کے طور پر غیاث الدین ’’غیاث اللغات‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’قصیدہ در لغت بہ معنی مغز سطبر و غلیظ و در اصطلاح شعرا نظمے کہ ہر دو مصرع بیت اول با مصرع ہائے ثانی ابیات دیگر ہم قافیہ باشد و دراں مدح یا ذم، وعظ یا حکایت یا امثال آں بیاں شود کمتر از پانزدہ بیت نباشد۔ وجہ تسمیہ این است کے دریں معنیٔ جلیلہ کثیرہ مندرج می گردد کہ در مذاق طبع مستقیم لذیذ آید۔‘‘ 1؎
اسی انداز کی تعریف مولانا جلال الدین احمد جعفری نے اپنی کتاب ’’تاریخ قصائد اردو‘‘ میں کی ہے:
’’اہل لغت نے قصیدہ کے لغوی معنی سطبر (دل دار گودا) کے لکھے ہیں، اور اصطلاح شاعری میں اس نظم کو کہتے ہیں جس میں مدح یا ذم یا وعظ و نصیحت یا حکایت و شکایت وغیرہ موزوں ہوں۔ وجہ تسمیہ یہ بتائی جاتی ہے کہ چوں کہ اس میں ایسے مضامین عالی و کثیر مندرج کیے جاتے ہیں جو طبعی مذاق کے لیے لذت بخش ہوتے ہیں۔ اس واسطے اس کو قصیدہ کہتے ہیں یا یہ کہ وہ بااعتبار معنی و مضمون دوسری اصناف سخن میں ممتاز ہے۔ جس طرح کے تمام اعضا میں سراور مغز سر موقر اور نمایاں ہے۔ اس مناسبت سے اس کو مغز سخن سمجھ کر قصیدہ کہا گیا ہے۔‘‘ 2؎
درج بالا دونوں اقتباسات کے بہ نسبت امداد امام اثر نے قصیدے کی تعریف نہایت مربوط انداز میں کی ہے:
’’اس صنف شاعری کے لیے ضرور ہے کہ اس میں امور ذہنیہ از قسم مسائل اخلاق و تدابیر المنزل و سیاست مدن و مذہب و شریعت و طریقت و عرفان و توحید و عدل و نبوت و امامت و معاد و قوانین الٰہی و انسانی وغیرہ اور معاملات خارجیہ از قسم مضامین و مشاہدات اشیائے سماویہ و ارضیہ و مابینہما احاطہ نظم میں در آئیں۔ المختصر قصیدہ گوئی شاعر حکمت مآب کا کام ہے اور اس کے لیے وفور معلومات علمیہ کی حاجت ہے۔‘‘ 3؎ (یہ بھی پڑھیں قصیدہ کی صنفی شناخت اور امتیازی پہلو-کوثر مظہری )
پیش کیے گئے اقتباسات کے مطالعہ سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قصیدہ ایک ایسی صنف سخن کا نام ہے جو زبان و بیان یا موضوع ومضامین کے اعتبار سے بلند پایہ ہو۔ چوں کہ قصیدہ کے لغوی معنی ہی ارادہ کرنے کے ہیں ، لہٰذا جو چیز ارادتاً لکھی جائے اس میں صناعانہ یا فن کارانہ صلاحیت کا اظہار فطری شے ہے۔ جب یہ صنف اس قدر علّو زبان و مضامین کی حامل ہے تو اس کو برتنے والے شعرا پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ زبان پر قدرت کاملہ رکھنے کے ساتھ مختلف علوم و فنون مثلاً علم نباتات، علم حیوانات، علم جمادات، علم طب، علم نجوم، علم فلکیات، علم ارضیات وغیرہ پر بھی کامل دستگاہ رکھتا ہو۔ اگر شاعر زبان کے ساتھ ان علوم و فنون سے بہرہ ور نہ ہوگا تو اس کے قلم سے بلند پایہ قصائد کے وجود کا گمان عبث اور بے کار ہے۔
قصیدہ کے بالمقابل جب ہم غزل کی طرف توجہ کرتے ہیں تو اس کا علم ہوتا ہے کہ بطور صنف غزل کا وجود کافی عرصے بعد قصیدے کے ہی کوکھ سے ہوا۔ اس سے پہلے یہ صنف عربی شاعری میں تشبیب یا نسیب کے نام سے مشہور تھی۔ تشبیب یا نسیب ایسی شاعری کو کہا جاتا تھا جس میں عشقیہ مضامین بروے کار لائے جاتے تھے۔ خواہ وہ عشق، والدین کا اولاد سے ہو یا ، عاشق کا معشوق سے، مریدکی مرشد سے ہو یا بندے کا محبوب حقیقی سے۔ غرض عربوں کے یہاں قصیدے کا جو رواج تھا اس میں قصیدے کے ابتدائی حصے اکثر و بیشتر عشقیہ مضامین و خیالات سے مملو ہوا کرتے تھے:
’’تشبیب یا نسیب عربی شعروادب میں عشقیہ شاعری کو کہتے ہیں۔ ہر وہ عشقیہ شاعری جو مدحیہ قصیدہ کی تمہید میں ہو یا پوری نظم کا موضوع بنی ہو۔ تشبیب یا نسیب کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔ فارسی میں جب غزل ایک صنف سخن کی حیثیت سے وجود میں آئی تو تشبیب یا نسیب صرف قصیدے کی عشقیہ تمہید کا نام رہ گیا۔ بعد میں ہر قسم کی تمہید کو تشبیب کہنے لگے۔‘‘ 4؎
عربی زبان کے توسط سے جب فارسی میں قصیدہ گوئی کی ابتدا ہوئی تو شعرائے ایران نے اپنی جدت طبع کا مظاہرہ کرتے ہوئے قصیدے کے اس حصے کو جو عشقیہ جذبات و خیالات سے پُر ہوا کرتے تھے ، ایک الگ صنف کی حیثیت بخش دی اور اس طرح غزل کا وجود عمل میں آیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہیئتی اعتبار سے غزل قصیدے کے نہایت قریب دکھائی دیتی ہے۔ مثلاً مطلع، مقطع، قافیہ، ردیف، اوزان و بحور وغیرہ کے استعمال یا برتنے میں سر مو کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔ انشا اللہ خاں انشا نے ’دریائے لطافت‘ میں غزل اور قصیدے کی ہم آہنگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’۔۔۔۔۔ خواہ ان شعروں [تشبیب] میں شراب و شاہد اور ایام جوانی کا ذکر ہو خواہ اور چیزوں کا ، اشعار میں ردیف قافیہ اور اوزان کے قیود غزل جیسے ہیں۔‘‘ 5؎
لیکن ان دونوں اصناف کے تئیں ناقدین ادب کے اقوال پڑھ کر موضوعاتی ، ہیئتی یا زبان و بیان کی سطح پر ایک دیوار حائل ضرور معلوم ہوتی ہے۔ باقرآگاہ لکھتے ہیں:
’’۔۔۔۔۔ تعریف اس کی یہ کہ وہ ابیات یا مطلع ہیں اور وزن و قافیہ میں متحد ہوویں اور بارہ بیت سے تجاوز نہ کریں۔ فائدہ اس قید کا یہ ہے کہ جو بارہ بیت سے گزر جاوے تو غزل سے مسمٰی نہ ہووے بلکہ قصیدہ کہلاوے۔‘‘ 6؎
امداد امام اثر قصیدہ وغزل کی عروضی اور ہیئتی تراکیب کے مابین فرق کو واضح کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں:
’’قصیدہ وہ صنف شاعری ہے کہ عروضی ترکیب میں غزل سے تمام تر مشابہت رکھتا ہے۔ الّا یہ کہ اس میں غزل سے بہت زیادہ اشعار ہوتے ہیں۔ جس طرح غزل پانچ شعر سے کم کی نہیں ہوتی اسی طرح قصیدہ اکیس شعر سے کم کا نہیں ہوتا۔لیکن مضامین کے اعتبار سے قصیدہ اور غزل میں بڑا فرق ہے ۔ یہ صنف شاعری داخلی اور خارجی دونوں پہلوؤں کے مضامین سے تعلق رکھتی ہے۔ اس صنف میں شاعر اعلیٰ درجہ کے مضامین جو امور ذہنیہ اور معاملات خارجیہ سے مشتمل رہتے ہیں، موزوں کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ قصیدہ کا احاطہ مضامین غزل کے اعتبار سے وسیع تر ہے۔ قصیدہ کے لیے علّو مضامین کی بڑی ضرورت ہے ۔ اگر کوئی قصیدہ اس صنف سے متصف نہیں تو اس پر قصیدہ کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا۔ ‘‘ 7؎ ( یہ بھی پڑھیں ذوق کی قصیدہ نگاری – امیر حمزہ )
غزل اور قصیدہ کے عروضی ترکیب کی بات کریں تو امداد امام اثر سے قبل بھی کئی محققین و ناقدین نے اس جانب اشارے کیے ہیں۔ یعنی مطلع و مقطع کا التزام قصیدے میں بھی ہوتا ہے اور غزل میں بھی۔ البتہ قصائد میں ایک سے زائد مطلع کے استعمال کا رواج عام رہا ہے جب کہ غزلوں میں ایسے تجربات خال خال ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ردیف و قافیے کا استعمال بھی دونوں میں روا ہے، لیکن شرط قافیے کی ہے ردیف کی نہیں۔ قصائد تو اکثر و بیشتر غیر مردف ہوتے ہیں مگر ایسی غزلوں کی تعداد بھی کم نہیں جو ردیف سے عاری ہیں۔ اوزان و بحور کااستعمال بھی دونوں میں یکساں ہے۔ ان تمام مماثلتوں کے باوجود ہم غزل کو قصیدہ یا قصیدہ کو غزل نہیں کہہ سکتے آخر کیوں؟ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ قصیدے میں اشعار کی تعداد بہ نسبت غزل کے زیادہ ہوتی ہے اور اس نقطے پر ہمارے ناقدین ادب متفق دکھائی دیتے ہیں۔ اختلاف وہاں ہوتا ہے جہاں اشعار کے متعینہ تعداد کی بات آتی ہے۔ اس جانب ابو محمد سحر نے ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے:
’’قصیدے میں اشعار کی کم سے کم تعداد کسی نے سات ، کسی نے بارہ، کسی نے پندرہ، کسی نے بیس ، کسی نے اکیس اور کسی نے پچیس بتائی ہے۔ زیادہ سے زیادہ اشعار کے لیے عام خیال یہ ہے کہ کوئی حد نہیں۔ لیکن بعض اہل قلم نے ان کی تعداد سو ، ایک سو بیس اور ایک سو ستر لکھی ہے۔ بالعموم دو سو اشعار تک کے قصائد ملتے ہیں۔ لیکن مستثنیات کی کمی نہیں مثلاً نصرتی کا ایک قصیدہ دو سو بیس اشعار اور قدر بلگرامی کا قصیدہ ’’آئینۂ محبوب‘‘ دو سو تیس اشعار کا ہے۔ سودا کے شاگرد کے ایک ہجویہ قصیدے میں آٹھ سو سے زائد اشعار ہیں اور شاطر مدراسی کا قصیدہ ’’اعجاز عشق‘‘ 1396اشعار پر مشتمل ہے۔‘‘ 8؎ (یہ بھی پڑھیں حسّان ؓبن ثابت اور محسن کاکوروی کی نعتیہ قصیدہ گوئی :ایک تقابلی مطالعہ- ڈاکٹریوسف رامپوری )
غرض کہ ان اقتباسات کی روشنی میں یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ قصیدے میں کم از کم سات اشعار کا ہونا ضروری ہے، کیوں کہ ناقدین ادب اس سے کم اشعار کی نظم پر قصیدے کی مہر ثبت کرنے کے قائل نہیں۔ لیکن زیادہ سے زیادہ کتنے اشعار ہونے چاہیے اس پر حد مقرر کرنا درست نہیں۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ قصیدہ ، غزل کی ہیئت میں ہونے کے باوجود مسلسل نظم کی حیثیت رکھتا ہے۔ باالفاظ دیگر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قصیدے میں جو خیالات پیش کیے جاتے ہیں اس میں ابتدا تا آخر ایک تسلسل قائم رہتا ہے۔ اردو میں بعض قصائد ایسے بھی موجود ہیں جن میں موضوع کے اعتبار سے عنوانات قائم کیے گئے ہیں۔مثلاً سودا کا قصیدہ ’’در منقبت امیر المومنین اسداللہ الغالب علی ابن ابی طالب‘‘، ’’درمدح آصف جاہ نظام الملک بہادر غازی الدین خاں‘‘ یا ذوق کا قصیدہ ’’درمدح ابو ظفر بہادر شاہ‘‘ وغیرہ کا نام لیا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس غزل کے اشعار میں خیالات کا تسلسل عنقا ہوتا ہے۔ اس کا ہر شعر اپنے آپ میں مکمل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ غزلیں عنوانات سے عاری ہوتی ہیں۔ بعض شعرا نے مسلسل غزلیں بھی کہی ہیں لیکن یہ طریقہ رواج نہ پاسکا۔
قصیدہ اور غزل کو ایک ہی صنف نہ سمجھنے کی تیسری وجہ مضامین کی بلند خیالی اور الفاظ کی بندش ہے۔ یعنی غزل کے بہ نسبت قصیدے کے مضامین مختلف قسم کے علوم وفنون کے ساتھ دینی و دنیاوی مضامین سے پُر ہوا کرتے ہیں۔ قصیدہ مصنف کی زندگی کی داخلی اور خارجی دونوں پہلوئوں سے سروکار رکھتی ہے۔ جب کہ غزل صرف داخلی کیفیت کی ترجمان ہے۔ الفاظ کا درو بست بھی قصیدے میں قصداً کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے دیگر اصناف سخن کا مغز غلیظ یا مغز سطبر کہا جاتا ہے۔ امداد امام اثر نے بھی اس خیال کی پُر زور تائید کی ہے کہ قصیدہ بہ نسبت غزل کے زیادہ وسیع دائرہ خیال رکھتی ہے:
’’۔۔۔قصیدہ گوئی کا مطلب یہ ہے کہ شاعر اعلا درجہ کے مضامین داخلی اور خارجی کو پسندیدہ عنوان سے پیرایہ نظم میں بیان کرے۔ یہ صنف شاعری غزل سے زیادہ وسیع دائرہ خیال رکھتی ہے۔ ۔۔۔ غزل میں صرف داخلی مضامین بندش پاتے ہیں اور مضامین خارجی کو غزل سے علاقہ نہیں ہوتا۔ مگر قصیدے کے لیے جو مضامین داخلی کو تمام تر حکیمانہ رنگ رکھنا چاہیے مثلاً یہ قصیدہ کی شان سے ہے کہ اس میں توحید، عدل ، نبوت، امامت، معاد تمدن، معاش ، معاشرت و دیگر امور دینی و دنیوی کے مضامین میں جگہ پائیں یا اخلاقی معاملات ازقسم صداقت و خلوص و شجاعت و ہمت، فتوت و مروت و سخاوت وغیرہ موزوں کیے جائیں، یا اعلا درجہ کے مضامین ذہنیہ جو اقسام جذبات قلبیہ سے ہیں زور بیان کا لطف دکھائیں۔ داخلی مضامین کے علاوہ جو خارجی مضامین باندھے جائیں ان کو تقاضائے فطرت سے خالی نہیں ہونا چاہیے کہ قصیدہ میں بھی نیچرل مضامین کی حاجت ہے۔‘‘ 9؎
مذکورہ بالا اقتباس میں امداد امام اثر نے موضوع و مضامین کے اعتبار سے غزل اور قصیدہ کے درمیان فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے اس جانب واضح اشارے کیے کہ قصیدے میں داخلی یا خارجی مضامین اس طرح بروئے کار لائیں جائیں کہ وہ بالائے فطرت نہ ہوں۔ لیکن جب ہم اردو قصائد کی طرف نگاہ کرتے ہیں تو معاملہ بالکل برعکس دکھائی دیتا ہے۔ اردو میں موجود بیشتر قصائد ایسے ہیں جسے پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہ شاعری نہ ہوئی تمام تر گدائی ہو کر رہ گئی ہے۔ اس صنف کو جیسا کہ اس کا حق ہے اگر استعمال کیا جاتا تو حالی کبھی اس کو ’’عفونت میں سنڈاس سے بدتر‘‘ نہ ٹھہراتے۔
بہرحال جمیل جالبی نے ’’تاریخ ادب اردو‘‘ میں شعرا کے دو اقصام بیان کیے ہیں۔ ایک تو وہ جو قدرتی گیت گاتے ہیں اور دوسرے وہ جو اپنی فطری صلاحیت کو بروے کار لاتے ہوئے عظیم صنعت کاری کرتے ہیں۔ قصیدے کا تعلق ایسے ہی صنعت کاری سے ہے:
’’۔۔۔۔۔ قصیدے کی بھی اپنی ساخت ہے جس کے مختلف حصے ہوتے ہیں ، جنھیں شاعر مربوط کر کے مکمل نظم بناتا ہے۔ یہاں شاعر فن کے عمل کو شعوری طورپر استعمال کرتا ہے۔ ساخت کا شعور ہماری شاعری میں اگر کسی نظم میں ہے تو وہ قصیدہ ہے۔ ہر حصے کو بنانے میں شعور پہلی چیز ہے اور فطرت دوسری۔ قصیدہ گو مشق سے اس ساخت کو ایسے اٹھاتا ہے کہ وہ فطری معلوم ہوتی ہے۔ وہ علوم و فنون کی اصطلاحات ، تراکیب و بندش، مشکل بحر اور سنگلاخ زمین کو اس طور پر استعمال کرتا ہے کہ قصیدہ سن کر اس کی قادر الکلامی کی داد دینے کو جی چاہے۔ ۔۔۔۔۔ اس سے شعر ہمارے دل میں نہیں اترتے لیکن دماغ سے خراج تحسین ضرور وصول کر لیتے ہیں۔ یہاں فن کا خلوص نہیں بلکہ فن کا اعجاز نظر آتا ہے۔‘‘ 10؎ (یہ بھی پڑھیں قصیدہ- شیخ ابراہیم ذوق )
قصیدے کے تئیں جمیل جالبی کے الفاظ حرف بہ حرف درست معلوم ہوتے ہیں اور واقعہ بھی یہ ہے کہ جب شاعر اشعار میں نادر اصطلاحات ، مشکل تراکیب، پیچیدہ خیال اور الفاظ کے استعمال میں فن کاری و صناعی کا مظاہرہ کرتا ہے تو وہ اشعار دل پر اثر انداز ہونے کے بجائے وقتی طور پر ذہن کو متاثر کرتے ہیں اور زبان بے اختیار واہ کہنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ان ہی وجوہات کی بنا پر جمیل جالبی نے صنف قصیدہ کے متعلق کہا ’’یہاں فن کا خلوص نہیں بلکہ فن کا اعجاز نظر آتا ہے۔‘‘ مثال کے طور پر ذوق کے ایک قصیدے کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں جس میں فن کے اعجاز کا احساس بدرجہ اتم موجود ہے۔
سحر جو گھر میں بہ شکل آئینہ تھا میں تنہا نزار و حیراں
تو اک پری چہرہ، حور طلعت، بہ شکل بلقیس ، ماہ کنعاں
پری کی صورت، چمن کی رنگت، گر اس کا شیوہ، تو اس کا جلوہ
زبان شیریں، بیان رنگیں، کلام رنداں، خرام مستاں
انیس خلوت، جلیس جلوت، حریف حکمت، ظریف صحبت
بہ بزم یاراں، بہ دل بہاراں، باہل عزلت، گلے بداماں
وہ گوش پر زیب کج کلاہی، جو دیکھی بینی تو یا الٰہی
دہن میں غنچہ لبوں میں گل برگ و روئے روشن میں مہر تاباں
نگاہ ساغر کش تماشا، بیاض گردن صراحی آسا
وہ گول بازو، وہ گورے ساعد وہ پنجہ رنگیں بخون مرجاں
وہ ران روشن، وہ ساق سیمیں، وہ پائے نازک حنا میں رنگیں
وہ قد قیامت، وہ فتنہ قامت، دلوں پہ شامت جو ہو خراماں
جو نام پوچھا کہا خوشی ہوں، جو وصف پوچھا، تو دلبری ہوں
بہت جو پوچھا، تو ہنس کے بولا کہ ذوقؔ تو بھی عجب ہے ناداں
پورا قصیدہ پڑھ جائیے ہر شعر ذہن کو متاثر کرتا ہوا محسوس ہوگا۔ لفظوں کی بازی گری، اس کا زیر و بم، تشبیہات و استعارات کا استعمال، خیالات کی بندش، کیا ہے جو ان اشعار میں موجود نہیں؟ ان اشعار کی روشنی میں اگر قصیدے کو فن کا اعجاز کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ لیکن معنوی سطح پر اگر قصیدے کا جائزہ لیا جائے تو یہ ایک لچر سی بات معلوم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس غزل میں قصیدے کی طرح لفظی بازی گری تو نہیں ہوتی لیکن اس کے اشعار ذہن و دل دونوں کو برانگیختہ کرنے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
سراپے پہ جس جا نظر کیجیے
وہیں عمر اپنی بسر کیجیے
قصر و مکان و منزل ایکوں کو سب جگہ ہے
ایکوں کو گھر نہیں ہے دنیا عجب جگہ ہے
آگے کسو کے کیا کریں دست طمع دراز
وہ ہاتھ سو گیا ہے سرہانے دھرے دھرے
کبھی سمت غیب سیں کیا ہوا کہ چمن ظہور کا جل گیا
مگر ایک شاخ نہال غم جسے دل کہو سو ہری رہی
ابن مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
کون ہے جو نہیں ہے حاجت مند
کس کی حاجت روا کرے کوئی
اب تو گھبرا کہ یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
فریب آرزو کی سہل انگاری نہیں جاتی
ہم اپنے دل کی دھڑکن کو تری آواز پا سمجھے
دو پہر کی دھوپ میں میرے بلانے کے لیے
وہ تیرا کوٹھے پہ ننگے پائوں آنا یاد ہے
ان اشعار کو پڑھ کر قاری خود کو ان لفظوں کا اسیر محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نظمیہ شاعری کے بہ نسبت غزلیہ شاعری کے اشعار میں آپ بیتی کے ساتھ جگ بیتی کا احساس نمایاں معلوم ہوتاہے۔ ایسا نہیں کہ شعرا نے غزلوں میں لفظی بازی گری یا شاعرانہ کرتب نہ دکھائے ہوں۔ لیکن غزلوں میں جہاں ایسی روش اختیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے وہاں غزل اپنی اہمیت یا شناخت کھوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ مثلاً میر کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎
احتراق اپنے قلب کا رونے سے کب گیا
پانی کی چار بوندیں ہیں کیا احتراق میں
بھونکا کریں رقیب پڑے کوئے یار میں
کس کے تئیں دماغ عفف ہے سگات کا
میر نے ان غزلوں میں مشکل قوافی کے ساتھ الفاظ کے انتخاب میں صناعی اور فن کاری کا مظاہرہ تو کیا ہے ، لیکن یہ غزلیں اس تاثیر سے یکسر خالی ہیں جسے میر کی شاعری کا خاصہ کہا جاسکتا ہے۔اردو شاعری میں اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں ۔ میر کے درج بالا اشعار پیش کرنے کا اصل مقصد فقط یہ ثابت کرنا تھا کہ شان و شکوہ والے الفاظ یا آرائشی زبان کو قصیدے کا وصف خاص تو کہا جاسکتا ہے غزل کا نہیں۔ یعنی قصیدے میں الفاظ کی اثر انگیزی خارجی حیثیت رکھتی ہے اور غزلوں میں داخلی۔یہ فقرہ بھی عام طور پر دہرایا جاتا ہے کہ داخلی شاعری دل کی شاعری ہے جس سے غزل متصف ہے اور خارجی شاعری دماغ کی شاعری ہے جو قصیدے کا وصف خاص ہے۔ قصیدہ نگاری یا غزلیہ شاعری میں داخلیت اور خارجیت پر پُر مغز گفتگو کرنے کے ساتھ لفظوں کے انتخاب اور اس کے استعمال کی طرف نثار احمد فاروقی نے نہایت بلیغ اشارے کیے ہیں:
’’۔۔۔۔۔جب داخلیت بجائے غم کے نشاط کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے تو نشاط کی فطری وسعت شاعری کے دل کو دنیا کی رنگا رنگ بزم آرائیوں کی طرف لے جاتی ہے اور صحیح معنی میں خارجی شاعری کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے۔ پھر یہ نشو و نما محض خیال و مضمون تک پہنچ کر نہیں رک جاتاہے، بلکہ زبان و بیان پر بھی نمایاں اثر ڈالتا ہے۔‘‘ 11؎
ان مختصر جملوں میں نثار صاحب نے داخلیت اور خارجیت کے فرق کو جس خوش اسلوبی سے ادا کیا ہے وہ ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ داخلیت کب خارجیت میں حلول کرجاتی ہے اور موضوع و مضامین کے ساتھ زبان و بیان میں کس قدر تبدیلیاں رونما ہوجاتی ہیں ، اس کا اندازہ قصیدہ اور غزل کے اشعار سے بآسانی کیا جاسکتا ہے۔ جس طرح بعض غزلوں میں شعرا نے بھاری بھرکم الفاظ ، نادرتشبیہات یا خیالات کے اظہار میں قصیدے کی سی شان پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، اسی طرح قصیدہ نگاروں میں بھی چند ایک نے ایسے قصیدے خلق کیے ہیں جس میں غزل کی سی پُرتاثری پیدا ہوگئی ہے ۔ مثلاً سودا کا ایک مشہور قصیدہ جو بہادر شاہ ظفر کی شان میں ہے، کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
صبح ہوتے جو گئی آج مری آنکھ جھپک
دی وہیں آکے خوشی نے در دل پر دستک
پوچھا میں کون ہے، بولی کہ وہ میں ہوں غافل
نہ لگے شوق میں جس کے کبھو شائق کی پلک
ہے خوشی نام میرا میں ہوں عزیز دلہا
زندگانی کی حلاوت ہے جہاں میں مجھ تک
کھول آغوش دل اور لے مجھے جلدی ناداں
پھر خدا جانے یہ دن کب تجھے دکھلائے فلک
سن کے یہ مژدہ جاں بخش جو میں کھولی آنکھ
اشعۂ نور کی سی مجھ کو نظر آئی جھلک
حسن ایسا کہ جیسے ماہ شب چار دہم
یک بیک دیکھے تو یکچند ہی رہ جائے بھچک
زلفیں یوں بکھری ہوئی چہرہ پہ مانگیں تھیں دل
جس طرح ایک کھلونے پہ ہٹیں دو بالک
جبیں ایسی کہ جگر ماہ کا ہوجاوے داغ
اس کی تشبیہ سے جب اس کو تجاوز دے فلک
دونوں عارض گویا شیشے میں ہیں مے گلگوں کے
زنخ ان دونوں میں یوں جیسے نمکدان میں نمک
المختصر یہ کہ قصیدہ اور غزل کے مابین امتیازات و افتراقات کے پہلو پر گفتگو کرنے کے بعد یہ نتیجہ بآسانی برآمد کیا جاسکتا ہے کہ قصیدہ اور غزل میں جہاں امتیاز کے چند پہلو مثلاً مطلع، مقطع، ردیف، قافیہ، وزن ، بحر وغیرہ کا استعمال یکساں ہے وہیں دونوں میں افتراق کے پہلو بھی نمایاں طورپر دیکھے جاسکتے ہیں۔ یعنی خارجی ہیئت کے اعتبار سے قصیدے میں کم سے کم اشعار کی تعداد تو متعین ہے لیکن زیادہ سے زیادہ کتنے اشعار ہونے چاہیے اس کی کوئی قید نہیں۔ غزل تسلسل بیان سے عاری ہوتی ہے جب کہ قصیدے میں خیالات کا تسلسل ایک لازمی جزو کی حیثیت رکھتا ہے۔ غزل کے بہ نسبت قصیدے میں خیالات کی بندش، شوکت الفاظ، نادر تشبیہات و استعارات وغیرہ کے استعمال میں صناعی اور فن کاری کا خمیر بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قصیدے کو دیگر اصناف سخن کا مغز غلیظ کہا گیا۔
حواشی:
1: غیاث اللغات، ملا غیاث الدین، 390، بحوالہ اردوقصیدہ نگاری کا تنقیدی جائزہ، محمود الٰہی،
مکتبہ جامعہ، نئی دہلی،2011، ص۔28-29
2: ایضاً، ص۔27-28
3: کاشف الحقائق، سیدامداد امام اثر، ص۔475، ترقی اردو بیورو، نئی دہلی، 1982
4: محمود الٰہی، ص۔48
5: دریائے لطافت، انشا اللہ خاں انشا، مرتبہ: مولوی عبدالحق، مترجم، پنڈت برج موہن دتاتریہ
کیفی، انجمن ترقی اردو اورنگ آباد (دکن)، 1935، ص۔391
6: رسالہ اردو، اپریل 1929، بحوالہ، محمود الٰہی، ص۔40
7: کاشف الحقائق، ص۔475
8: اردو میں قصیدہ نگاری، ابو محمد سحر، تخلیق کار پبلیشرز، دہلی،2000، ص۔11
9: کاشف الحقائق، ص۔501
10: تاریخ ادب اردو، ڈاکٹر جمیل جالبی، جلد دوم، مجلس ترقی ادب لاہور، طبع اول1982، ص۔696-97
11: مقدمہ،کلیات مصحفی، جلد اول، غلام ہمدانی مصحفی، بہ تصحیح نثار احمد فاروقی، قومی کونسل برائے
فروغ اردو زبان، نئی دہلی،2003، ص۔15
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

