Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
قصیدہ کی تفہیمنصابی مواد

قصیدہ کی صنفی شناخت اور امتیازی پہلو- پروفیسر کوثر مظہری

by adbimiras اگست 19, 2020
by adbimiras اگست 19, 2020 0 comment

قصیدہ، بہ زبان حالی ایک نہایت ہی ضروری صنف ہے اگر اس کی بنیاد محض تقلیدی مضامین پر نہیں بلکہ شاعر کے سچے جوش اور ولولے پر ہو۔ حالی نے یہ بھی لکھا ہے کہ زندوں کی تعریف کو قصیدہ بولتے ہیں اور مردوں کی تعریف کو جس میں تاسف اور افسوس شامل ہوتا ہے مرثیہ کہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں اچھوں کی خوبیوں اور ہنر اور فضائل اور اخلاق اس طرح بیان کیے جائیں کہ دماغ معطر ہوجائے، ساتھ ہی برائیوں اور عیبوں پر جہاں تک ہو گرفت کی جائے تاکہ حال اور استقبال دونوں زمانوں کے لوگ برائی کی سزا اور اس کے نتائج سے ہوشیار اور چوکنّے رہیں۔ یہ وتیرہ بالکل سنت الٰہی کے مطابق ہوگا کیوں کہ کلام الٰہی میں بھی ہمیشہ بروں کو برائی کے ساتھ اور بھلوں کو بھلائی کے ساتھ یا دکیا جاتا ہے۔ (ص 177,78)

یہ سب مذکورہ باتیں وہ ہیں جن کا اطلاق قصیدے کے موضوع اور Content پر ہوتا ہے۔ اس کا ذکر یہاں اس لیے ہوا کہ قصیدے کی صنفی شناخت کے ذیل میں موضوع کا حوالہ بھی گاہے گاہے آنا ناگزیر ہے۔

ہم ادب کے طالب علم ہیں اور یہاں قصیدے کے سب سے بڑے شاعر سودا اور اس کے بعد ذوق جیسے شاعر کے کلام کی روشنی میں ہی اس کی موضوعاتی یا ہیئتی شناخت کی بات کی جائے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنی بات کی یا اپنے قائم کردہ تھیسس کی توثیق کے لیے دوسرے شعرا اور ان کے کلام کے حوالے بھی آسکتے ہیں۔ لیکن آپ خاطر جمع رکھیں کہ شعری حوالے کم ہی آئیں گے۔

قصیدے کا پہلا شعر ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتا ہے ٹھیک اسی طرح جس طرح کسی غزل کا مطلع ہوتا ہے۔ پھر یہ غزل کیوں نہیں؟ شاید اس لیے نہیں کہ غزل کا ہر شعر اکائی کی صورت میں مکمل معنی کے ساتھ صفحۂ قرطاس پر اترتا ہے جبکہ قصیدے کا ہر شعر مدح و ذم کے ساتھ یا ان میں سے کسی  ایک صفت کے ساتھ کسی کی مکمل شخصیت کے وجود کا تتمہ ہوتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر تشبیب کے اشعار کی کیا ضرورت ہے یا یہ کہ اس میں موقع ملتے ہی شاعر کا میلان طبع غزل کی طرف کیوں رواں ہوجاتا ہے؟ ممکن ہے کہ شاعر کو یہ احساس ہوتا ہو کہ کسی بھی شخص کی صرف اور صرف مدح طرازی سے قاری کوفت سی محسوس کرنے لگے گا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شاعر تشبیب میں جب اپنے غزل رنگ میلان سے کام لے چکا ہوتا ہے، پھر غزل کی پیوند کاری چہ معنی دارد؟ بلکہ کبھی کبھی تو دو دو تین چار چار غزلیں مطلعوں کے ساتھ ایک ہی قصیدے میں نمودار ہوتی ہیں، جنھیں الگ کرکے انفرادی طور پر غزلوں سے موسوم کرنے میں بہ استثنائے چند، تردد بھی ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی غزلوں میں بھاری بھرکم الفاظ و تراکیب کا استعمال ہوتا ہے جو کہ اردو غزل کے نرم شانوں پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ اگر پرشکوہ الفاظ و تراکیب قصیدے کی ضرورت ہیں تو غزل کے لیے یہ عیب بھی ہوسکتے ہیں۔ اس لیے قصیدے میں جہاں بھی غزل آجاتی ہے، اس پر غزل کا محض دھوکا ہوسکتا ہے۔ اس بات کی توثیق میں سودا کے قصائد سے غزلوں کے چند اشعار ملاحظہ کرلیجیے اور بتائیے کہ ان پر غزل ہونے کا واقعی اطلاق ہوسکتا ہے یا نہیں؟

جہاں کی خاک کو ہے یہ شرف، عجب کیا ہے

کہ فخر عرش ہے، گر ہوئے اس کے قرب و جوار

جہاں کی مرگ کو کہتا ہے خضر، عمر ابد

خدا نصیب کرے مجھ کو زندگی اک بار

خدا نخواستہ گر آسماں کی گردش سے

قضا طبیب ہوئی ہو، مسیح ہو بیمار

فلک سے اس کو ملائک لے آکے واں، ہوویں

جب اس دیار کے جاروب کش سے منت دار

اگر وہ خاک دے اس کو شفاکی نیت سے

قضا، قضا ہی کرے، ٹک اگر کرے تکرار

 

(قصیدہ در منقبت سید الشہدا حضرت امام حسینؑ)

——

ہو سکیں نازک دلاں کب روکشِ حرف دُرشت

عکس بال طوطی، اپنے آئینے پر سنگ ہے

ہر مکاں میں مسند و ہر ایک جا فرشِ سمور

ہر طرف مطرب پسر، ہر سو رباب و چنگ ہے

 

(قصیدہ در منقبت امام عسکری)

یہاں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ قصیدے میں غزل کا در آنا کوئی فطری عمل نہیں ہوتا بلکہ کسی حد تک غیرضروری بھی ہوتا ہے۔ اوپر کے اشعار پر اگر غور کیجیے تو غزل مسلسل کا دھوکا ہوتا ہے۔ قصیدے میں مطلع اوّل، دوم سے لے کر مطلع رابع تک کا وظیفہ بھی محض استادانہ مسلک اور ز یب داستان کے طور پر ہوتا ہے۔ کچھ قصیدے ایسے بھی ہیں جن میں نہ مطلع اول و دوم ہوتا ہے اور نہ غزل اور وہ اچھے قصیدے بھی ہوتے ہیں۔ معلوم یہ ہوا کہ خارجی طور پر بھی مطلع اول و دوم یا غزل، قصیدے کا ناگزیر حصہ نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ غزل قصیدے کے بطن سے آئی ہے۔ کچھ قصیدے ایسے ضرور ملتے ہیں جن میں غزل بطور غزل نظر آتی ہے جیسے غالب کے قصیدے ’ہاں مہِ نوسنیں ہم اس کا نام- جس کو تو جھک کے کرتا ہے سلام‘ سے یہ اشعار:

پھر غزل کی روش پہ چل نکلا

توسنِ طبع چاہتا تھا لگام

مے ہی پھر کیوں نہ میں پیے جاؤں

غم سے جب ہوگئی ہو زیست حرام

بوسہ کیسا؟ یہی غنیمت ہے

کہ نہ سمجھیں وہ لذتِ دشنام

غالب کے دوسرے قصیدے : ’صبحدم دروازۂ خاور کھُلا‘ میں جو غزل ہے اس کے دو شعر ملاحظہ کیجیے:

کُنج میں بیٹھا رہوں یوں پر کھُلا

کاش کہ ہوتا قفس کا در کُھلا

واقعی دل پر بھلا لگتا تھا داغ

زخم لیکن داغ سے بہتر کھلا

ہاتھ سے رکھ دی کب ابرو نے کماں

کب کمر سے غمزے کی، خنجر کھلا

عرض یہ کرنا ہے کہ قصیدے میں غزل ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ لہٰذا اسے قصیدے کے صنفی امتیازات کے ذیل میں رکھا بھی جاسکتا ہے اور نہیں بھی۔ لیکن اگر نعتیہ قصیدے میں یا منقبتی قصیدے میں بھی درمیان میں غزل آجائے تو پھر اسے غیرمنطقی ہی کہا جائے گا۔ (یہ بھی پڑھیں مومن کی قصیدہ نگاری – پروفیسر کوثر مظہری )

اب ذرا قصیدے کی صنفی شناخت کے لیے موضوع اور نفس مضمون پر غور کیجیے۔ موضوع تو جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ کسی کی مدح سرائی قصیدے کا خاص موضوع ہے۔ لیکن جیسا کہ معلوم ہے کہ قصائد ہجویہ بھی لکھے گئے ہیں۔ لہٰذا مدحیہ اور ہجویہ دونوں لحاظ سے قصائد کے نمونے موجود ہیں۔ ہجو میں کسی شخص کی برائی کے ساتھ ساتھ زمانے کی زبوں حالی اور ایام روزگار کے نشیب و فراز کا ذکر بھی ہوتا ہے۔ سودا کا مشہور زمانہ قصیدہ ‘تضحیک روزگار‘ پیش کیا جاسکتا ہے:

ہے چرخ جب سے ابلق ایام پر سوار

رکھتا نہیں ہے دست عناں کا بہ یک قرار

جن کے طویلے بیچ، کوئی دن کی بات ہے

ہرگز عراقی و عربی کا نہ تھا شمار

اب دیکھتا ہوں میں کہ زمانے کے ہاتھ سے

موچی سے کفش پا کو گٹھاتے ہیں وہ اُدھار

یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ قافیے کے آخری حرف کی مناسبت سے قصیدے کو موسوم کردیا جاتا ہے۔ جیسے لامیہ، میمیہ، کافیہ، تائیہ وغیرہ۔ لامیہ قصیدے کے ذیل میں سودا اور محسن کاکوروی کے قصیدے سے ایک ایک مطلع پیش کیا جاتا ہے:

اٹھ گیا بہمن ودے کا چمنستاں سے عمل

تیغ اردی نے کیا ملک خزاں مستاصل

(سودا)

سمتِ کاشی سے چلا جانبِ متھرا بادل

برق کے کاندھے پہ لاتی ہے صبا گنگا جل

(محسن)

لیکن قصیدے کی صنفی شناخت سے اس تخصیصی صورت حال کا کوئی رشتہ نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اس سے تو اس کی شناخت میں خلط مبحث کا امکان پیدا ہوجاتا ہے۔ بات یہ کی جائے کہ عام بول چال میں جب ہم قصیدے کا استعمال کرتے ہیں تو اس سے کسی کی تعریف و توصیف ہی مراد ہوتی ہے۔ جیسے ہم یہ کہیں کہ تم تو فلاں شخص کی قصیدہ خوانی کررہے تھے یا تم فلاں کا قصیدہ پڑھتے رہتے ہو، تو ایسے میں کہیں سے بھی کسی کی برائی کا پہلو نہیں نکلتا جبکہ ہجویہ قصائد کا بڑا سرمایہ ہمارے سامنے موجود ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کسی کی تعریف غزل کی ہیئت کے بجائے دوسری ہیئت میں کی جائے تو اُسے قصیدہ کیوں نہیں کہہ سکتے۔

اب جب ہیئت کی بات نکل آئی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی کی مداحی ترجیع بند اور ترکیب بند میں ہے تو اُسے قصیدہ کیوں نہیں کہا جاتا۔ جناب شمیم احمد نے اپنی کتاب ’اصنافِ سخن اور شعری ہیئتیں‘ میں ولی کی دو تخلیقات کا ذکر کرتے ہوئے سوال قائم کیا ہے۔ دونوں تخلیقات حضرت شاہ وجیہ الدین کی مدح میں ہیں۔ پہلے ترجیع بند کے حصے:

فیض تیرا ہے ابر نیسانی

دوجہاں پر کیا دُرافشانی

دل ترا مظہر تجلّیٔ حق

مکھ ترا رونقِ مسلمانی

سجدہ کرنے کو روز آتا ہے

چاند سر تا قدم ہو پیشانی

زندگی بخش ہے خیال ترا

یاد تیری ہے آب حیوانی

جن نے دیکھا ہے پاک مرقد کوں

اُن نے پایا ہے قربِ حقانی

اے امام جمیع اہلِ یقیں

قبلۂ راستاں وجیہ الدیں

اب اسی موضوع پر لکھے گئے قصیدے کے اشعار:

ہوا ہے خلق اُپر پھر کے فضل سبحانی

کیا ہے ابر نے رحمت سوں گوہر افشانی

تجھ آستاں پہ سُرج تاکہ آکرے سجدہ

ہوا ہے سرسوں قدم تک تمام پیشانی

تری جناب سوں ہے فیض طالباں کوں مدام

ترے کرم سوں ہے اکثر کوں قُرب حقانی

یو دین پاک میں بے شک ہے تو وجیہ الدیں

عدم ہے آج زمیں کے اُپر ترا ثانی

اگر ان شعری نمونوں کی روشنی میں بات کی جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلا نمونہ چوں کہ غزل کی ہیئت میں نہیں ہے اس لیے نفس مضمون دوسرے شعری نمونے کے مماثل ہونے کے باوجود قصیدہ نہیں۔ لیکن ذوق نے چند قصائد مخمس کی ہیئت میں کہے ہیں۔ اگر ہم نے یہ تہیہ کرلیا کہ قصیدہ صرف اور صرف غزل کی مروج ہیئت میں ہی لکھا جاتا ہے تو اس نوع کے مخمس والے قصائدکا کیا بنے گا؟ ملاحظہ کیجیے ذوق کے قصیدے سے ایک بند:

بخشش کے روبرو تری، اے خسروِ زماں

کمتر ہے، نیم قطرے سے، دریائے بے کراں

تیرا سحاب ابر اگر ہو گہر فشاں

یہ موج زن ہو آبِ گہر، تا بہ آسماں

کشتی میںاپنی ڈال دے لنگر، ہلالِ عید

(سات بند ہیں، کلیاتِ ذوق، ص 339)

یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ نفس مضمون پر قصیدے کی غزل والی ہیئت فوقیت رکھتی ہے۔ اگر قصیدے کو ہجویہ کلام سے الگ کرکے دیکھیں تو مضمون کادائرہ محدود ہوجاتا ہے۔ یعنی صرف مدح طرازی خواہ وہ مذہبی اشخاص کی ہو یا بادشاہوں اور امرا کی۔ کسی کی ہجو کے لیے کسی بھی ہیئت کو اختیار کیا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی، یہ بھی غور طلب ہے کہ اگر قصیدے کے اجزائے ترکیبی کو پیش نظر رکھا جائے تو سوال قائم ہوتا ہے کہ ہجویہ قصائد میں تشبیب، گریز، مدح اور دعاکی پاسداری تو ہوتی نہیں اور اگر یہ عناصر ترکیبی قصیدے کے لیے ناگزیر ہیں تو پھر تمام ہجویہ قصائد اس قصیدے کے دائرے سے ازخود خارج ہوجائیں گے اور اگر ہجویہ قصائد واقعی قصائد ہیں تو پھر ان عناصر ترکیبی کا جواز کیا رہ جاتا ہے؟ ابھی اوپر ’قصیدہ در تضحیک روزگار‘ کا ذکر آیا جو کہ ‘شہرآشوب‘ ہے۔ اس پر شمس الرحمن فاروقی نے اپنی رائے اس طرح پیش کی ہے:

’’ایرانی طرز پر شہر آشوب لکھ کر سودا نے اسے ’قصیدہ در تضحیک روزگار‘ کا نام دے دیا تو کیا یہ ضروری ہے کہ ہم بھی اس کو قصیدہ کہیں۔‘‘

(تنقیدی افکار، ص 160)

اب ذرا اس بات پر غور کریں کہ شاعر اپنی تخلیق کی صنفی شناحت کے لیے کس درجہ حساس ہوتا ہے؟ حد تو یہ ہے کہ مثنوی اور مرثیے کی شناخت بھی ہیئت یعنی دو دو مصرعوں والی اور چھ چھ مصرعوں والے بند کی صورت میں کی جاتی ہے۔ لیکن جب ہم انجمن پنجاب کی نظم جدید کی تحریک پر گفتگو کرتے ہیں تو مثنوی اور مسدس کی ہیئت میں کہی گئی نظمیں محض نظمیں ہوتی ہیں۔ ان نظموں میں جیسا کہ ہم جانتے ہیں مناظر قدرت کی عکاسی اور نیچر پرستی کا رنگ نظر آتا ہے۔ اصلاح اور ’پیغام انسانیت‘ بھی ان شعرا کے پیش نظر ہے۔ اسی طرح اگر ہم دکنی شعرا کے قصائد کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ان کی فضا مروّج قصیدوں کی عام فضا سے کسی قدر مختلف ہے۔ دکنی قصائد کے حوالے سے محمد حسن لکھتے ہیں:

’’ان قصیدوں میں اصلیت اور واقعیت کی تہہ اتنی موہوم نہیں۔ ان میں محض جوش بیان، شوکت الفاظ اور مضمون آفرینی کا جوش نہیں ہے نہ ان کی بنیاد محض تخیل پر ہے۔ کہیں رزم کی منظر کشی ہے، کہیں فطری مناظر کی تصویرکشی ہے تو کہیں حکیمانہ مضامین ہیں۔‘‘

(قدیم اردو ادب کی تنقیدی تاریخ، اترپردیش اردو اکادمی، 2004، ص 234)

اگر محمد حسن کے مذکورہ بالا بیان کی روشنی میں دیکھیں تو شوکت الفاظ، پرواز تخیل اور حددرجہ مبالغہ آرائی مروج اردو قصائد کی رو سے ضروری اوصافِ قصیدہ ٹھہرتے ہیں۔ کیا یہ بات نہیں کہی جاسکتی کہ قصیدہ بھی صرف نظم ہے، جس میں کسی شخص یا اشیائے کائنات میں سے کسی بھی شے کی تعریف ہوسکتی ہے۔ جس طرح مختلف ہیئتوں میں مراثی کہے گئے اور مرثیے کا اطلاق ہر اُس نظم پارے پر ہوتا ہے جس میں کسی مردہ شخصیت کی تعریف و توصیف ہوتی ہے جس کی طرف حالی نے بھی اپنے مقدمے میں اشارہ کیا تھا۔ لیکن دکنی شعرا میں قلی قطب شاہ اور دیگر شعرا کے قصائد میں رموزِ حیات اور حقائق پر مبنی تصورات ملتے ہیں یہاں تک کہ منظرنگاری بھی قصیدے کے باب میں ملتی ہے۔ حالاں کہ مروج اردو قصیدے میں بھی کہیں کہیں تشبیب میں منظر نگاری کے نقوش اور نمونے مل جاتے ہیں لیکن پورا قصیدہ ہی مناظر قدرت پر مبنی ہو، ایسا دکنی شعرا کا اختصاص رہا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں  قصیدہ اور غزل: صنفی امتیازات و افتراقات کے پہلو – ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی )

اوپر کی گفتگو سے الگ اگر حالی اور کاشف الحقائق کے مصنف امداد امام اثر کے تصورات پر غور کریں تو دکنی شعرا نے جس طرح بقول محمد حسن اصلیت، واقعیت اور حکیمانہ مضمون کو اپنے قصائد میں شامل کیا ہے، وہی مرکز نگاہ ٹھہرتے ہیں۔ کیوں کہ حالی اور اثر دونوں قصیدے سے بھی اصلاح اور اخلاق آموزی کا کام لینا چاہتے ہیں۔اثر لکھتے ہیں:

’’جاننا چاہیے کہ قصیدہ کی اصل غرض یہ ہے کہ شاعری کے پیرایہ میں مسائل اخلاق و معاشرت و تمدن و معاش و معاد وغیرہ کی تعلیمِ دینی و دنیوی بنی آدم کو نصیب ہو، یا حمدِ خداو نعت محمد مصطفی و منقبتِ علی مرتضیٰ وائمہ باصفا سے شاعر کو ثواب عقبیٰ حاصل ہو۔‘‘

(کاشف الحقائق، ترقی اردو بیورو، 1982، ص 476)

مذکورہ بالا اقتباس کی روشنی میں دیکھا جائے تو مجھے یہ کہنے دیجیے کہ قصیدہ بھی صنف نہیں، محض ایک ہیئت کا نام ہوکر رہ جاتا ہے۔ یعنی، قصیدے کی ہیئت میں اصلاح معاشرہ اور ثواب عقبیٰ کا حصول ہی اہمیت کا حامل ٹھہرتا ہے۔ اس لحاظ سے تو پھر امرا اور بادشاہو ںکی مداحی میں کہے گئے قصائد یا سودا کے سارے ہجویہ قصائد بے معنی ٹھہرتے ہیں۔ حالی نے بھی اچھے لوگوں کی خوبیوں، ہنر اور اخلاق حسنہ کی پیش کش کی بات کہی تھی کہ جسے سن کر یا پڑھ کر دماغ معطر ہوجائے ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ برائیوں اور عیبوں کی گرفت بھی اس طرح ہو کہ سن کر یا پڑھ کر لوگ اس کی سزا اور برے نتائج سے چوکنے ہوجائیں۔ لیکن، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کام تو نظم کی مختلف ہیئتوں میں ممکن ہے پھر صنف قصیدہ پر یہ بھاری بوجھ کیوں؟ ہاں، اگر یہ مقاصد بھی بطور مضامین کے در آئیں تو کوئی حرج نہیں، لیکن ان مقاصد کو قصیدے کے لیے ناگزیر تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ اگر حالی اور امداد امام اثر کی باتوں کو تسلیم کرلیں تو پھر قصیدہ صنف نہیں بلکہ صرف نظم کے ذیل میں آئے گا۔ یعنی قصیدہ ایسی صنف نہیں ٹھہرے گا جس کا اپنا ایک انفرادی وجود بھی ہو۔ یعنی جس طرح مغرب میں Poem کہا جائے تو اس کا ترجمہ بقول فاروقی وہ تحریر جو نثر نہیں ہے۔ ( مضمون نظم کیا ہے، تنقیدی افکار،ص168) یعنی نظم نثر کی نقیض ٹھہرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے دامن میں اردو کا سارا شعری سرمایہ سما جاتا ہے خواہ وہ مثنوی ہو کہ مرثیہ، رباعی ہو کہ قصیدہ، غزل ہو کہ شہر آشوب وغیرہ۔ لیکن پھر اردو نظم کا کیا ہوگا جس کا اپنا انفرادی وجود ہے اور جو پابند، معرا، آزاد اور نثری ہیئتوں میں کہی جاتی ہے؟ اب اس بحث کو یہیں چھوڑتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔

اتنی بات تو ہم سب مانتے ہیں کہ نظم پابند،معرا، آزاد اور نثری ہیئتوں میں کہی جاتی ہے جبکہ قصیدہ، مرثیہ، مثنوی، غزل جو کہ اردو کی بڑی اصناف سخن ہیں، صرف پابند ہیئتوں میں کہی جاتی ہیں۔ اس تناظر میں دیکھیں تو مرثیہ مضمون کے لحاظ سے قصیدے سے الگ ہوجاتا ہے۔ا سی طرح مثنوی ہیئت کے اعتبار سے اور ہر شعر میں قافیے اور ردیف کی پابندی نہ کرنے کے سبب قصیدے سے الگ ہوجاتی ہے۔ جہاں تک غزل کی بات ہے تو غزل میں مداحی امرا یا بادشاہوں کی نہیں ہوتی، اس لیے قصیدے ہی کی ہیئت میں قوافی کی پابندی ہونے کے باوجود غزل قصیدے سے الگ ہوجاتی ہے۔ ہاں، اگر غزل میں محبوب اور اس کے متعلقات کی مداحی ہوتی ہے تو اس لیے کہ یہ صنف بھی قصیدے کے  بطن سے آئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جدید غزل نے اس مروجہ مضامین غزل کو بھی تقریباً بدل دیا ہے۔ بلکہ Subvertکیا ہے جو کہ بدلتے ہوئے زمانے کا تقاضہ بھی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں غالبؔ کی قصیدہ گوئی: ایک تنقیدی مطالعہ – ڈاکٹر یوسف رامپوری )

آخر میں یہ عرض کرنا ہے کہ ’قصیدہ‘ بطور صنف کے جیسا تھا، اُسے ہمیں اسی طرح قبول کرنا ہوگا۔ غزل کی ہیئت میں ’قصیدہ‘ ایک ایسا نظم پارہ ہے جس میں بادشاہوں اور امرا و رؤسا کی مداحی کی جاتی ہے۔ ساتھ ہی اب تک کی تنقید نے ہجویہ قصائد کو بھی قصائد ہی کے زمرے میں رکھا ہے، سو نہیں چاہتے ہوئے بھی ہمیں اس نوع کے قصائد کو اسی زمرے میں رکھنا ہوگا۔یوں بھی میر کا ’مخمس در ہجو کاما‘ موجود ہے تو کیا یہ مخمس بھی کوئی صنف ہے؟ جیسا کہ سودا کا مخمس در ویرانیِ شاہ جہاں آباد۔ غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ جب ہم لکھتے یا پڑھتے ہیں: قصیدہ در ہجو اسپ تو کس قدر مضحکہ خیز صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ سودا نے بہت سی ہجویہ مثنویاں بھی لکھی ہیں۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہجو کے لیے کسی ہیئت کی قید نہیں جبکہ قصیدہ کے لیے غزل کی ہیئت مروّج ہے۔ اسی طرح جب ہم ’قصیدۂ شہر آشوب‘ (اب سامنے میرے جو کوئی پیرو جواں ہے) کہتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ شہر آشوب کے لیے بھی کوئی ہیئت متعین نہیں۔ معلوم یہ ہوا کہ اردو اصناف میں سے بہت سی ہیئتوں کا تعین اب بھی باقی ہے۔ لیکن قصیدہ ایک کلاسکی اور فرسودہ صنف ہونے کے باوجود اپنی ہیئت پاچکا ہے یعنی وہی جو غزل کی ہیئت بھی ہے۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

سوداقصیدہکوثر مظہریمحسن
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اردو نظم: صنف اور ہیئت کی تعبیر-کوثر مظہری
اگلی پوسٹ
نئے افسانے میں موضوعاتی تنوع-محمد غالب نشتر

یہ بھی پڑھیں

اردو قصیدہ گوئی : فن اور تشکیلی اجزا...

دسمبر 3, 2023

قصیدے کی تدریس اور ظفر احمد صدیقی –...

ستمبر 13, 2022

عبدالحلیم شررکے ناول: "فردوسِ بریں” کا تجزیاتی مطالعہ...

مارچ 11, 2022

ناول کا فن – پروفیسر عتیق اللہ

فروری 16, 2022

اردو اور عربی قصیدہ نگاری: ایک مطالعہ –...

فروری 6, 2022

آشوب دہلی اور دستنبو – پروفیسر صالحہ رشید 

جنوری 26, 2022

’کفن ‘کا متن اور تعبیر کی غلطیاں –...

جنوری 9, 2022

ویڈیو تدریس (ڈراما)

دسمبر 6, 2021

عہد عباسی کی عربی شاعری اور چند اہم...

دسمبر 2, 2021

میراجی اور نئی شعری روایت – پروفیسر شمیم...

نومبر 21, 2021

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں