Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
نصابی موادنظم فہمی

اردو نظم: صنف اور ہیئت کی تعبیر-کوثر مظہری

by adbimiras اگست 19, 2020
by adbimiras اگست 19, 2020 0 comment

صنف نام ہے فکر اور متن کی تحدید کا۔ صنف نام ہے ایک فریم ورک کا، دائرہ کار کا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ہم کسی بھی صنف شاعری کا ذکر کرتے ہیں تو کیا اس سے صرف فریم ورک اور حدبندی مراد لی جاتی ہے؟ اس کا جواب اثبات میں ہوتے ہوئے بھی مجھے اس سے قدر اختلاف بھی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ کسی کسی صنف میں یہ حدبندی ہیئت کو طے کرتی ہے یا پھر اسے یوں بھی سمجھیں کہ ہیئت ہی سے کسی صنف کی حدبندی قائم ہوتی ہے۔ پھر تو ایک سوال اور پیدا ہوجاتا ہے کہ صنف کے لیے کیا کسی ہیئت کا ہونا لازمی ہے اور کیا اس کا اطلاق تمام اصناف شاعری پر ہوسکتا ہے؟

جیسا کہ ہم سب اس بات سے واقف ہیں کہ تمام شعری و نثری متون کسی نہ کسی صنف کے ذیل میں آتے ہیں، اور یہ بھی کہ اس کی اپنی کوئی نہ کوئی ہیئت بھی ہوتی ہے جس سے اس مخصوص شعری یا نثری متن کی صنفی شناخت قائم ہوتی ہے۔ میں اپنی پوری گفتگو کا نقطۂ ارتکاز صنف نظم پر رکھنے کی کوشش کرو ںگا۔ ایک تو نظم کہتے ہیں اس فن پارے کو جو نثر میں نہیں ہے۔ یعنی، یہاں ہم یہ تسلیم کرلیتے ہیں کہ نظم نثر کی نقیض ہے۔ لیکن جب ہم نظم کو بطور صنف کے دیکھتے ہیں تو اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ ’نظم‘ وہ شعری فن پارہ ہے جو غزل نہیں ہے، قصیدہ نہیں ہے، مثنوی نہیں ہے، رباعی نہیں ہے، وغیرہ وغیرہ۔

اردو نظم جو صنف نظم کے ذیل میں آتی ہے اس کی ہیئت پہلے کیا رہی ہیں اور اب کیا ہے؟ پابند رہی ہے تو اس کی ہیئتیں کیا کیا رہی ہیں اور جب پابند نہیں رہی تو کیا کیا ہیئتیں رہی ہیں—؟ اس طرح کے اور بھی سوال قائم کیے جاسکتے ہیں۔

نظم مثمن کی ہیئت میں بھی کہی گئی (آثارِ سلف از اسمٰعیل میرٹھی)، مسدس، مخمس، مربع اور مثلث کی ہیئت میں بھی۔ یہاں ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم متن کو صنف سے اخذ کرتے ہیں یعنی متن کی شناخت صنف سے ہوتی ہے؟ کسی بھی متن کو کیا اس کی صنف بشمول  ہیئت سے Derive کیا جاسکتا ہے؟ قصیدے کی ہیئت میں پابند نظم کہی جاسکتی ہے اور کہی جاتی رہی ہے۔ قصیدے کے فورم میں غزل کہی جاتی ہے جب کہ خود غزل قصیدے کے بطن سے آئی ہے۔ پھر یہ کہ قصیدے کے دوران شاعر الگ سے نئے مطلعے کے ساتھ غزل بھی کہتا ہے۔ اب  سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غزل اور قصیدے میں جو خط امتیاز قائم ہوگا وہ موضوع کی بنیاد پر ہوگا یا ہیئت کی بنیاد پر؟ دراصل موضوع اور ہیئت دونوں کی اپنی الگ الگ شناخت ہے۔ جب ہم کوئی نظم غزل کی ہیئت میں کہہ رہے ہوتے ہیں تو غزل کا موضوع ہمارے سامنے نہیں ہوتا، اسی طرح جب ہم نظم قصیدے یا مثنوی کی ہیئت میں کہہ رہے ہوتے ہیں تو قصیدے اور مثنوی کی ہیئتیں ہی ہمارے پیش نظر ہوتی ہیں۔ یہاں نظم کا اپنا موضوع اپنے تمام تر ارتکاز فکری کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ اسی طرح جب مخمس یا مسدس کے فورم میں نظم کہتے ہیں تو نظم کا اپنا موضوع اپنی جگہ قام رہتا ہے۔ لیکن ’مسدس‘ کے فورم میں لکھی گئی حالی کی مشہور زمانہ نظم ’مدوجزر اسلام‘ اپنے اصل عنوان سے زیادہ ’مسدس حالی‘ سے مشہور ہے۔ کچھ لوگ اسے بھی یعنی مسدس کو بھی صنف سمجھ لیتے ہیں۔ دوسری طرف مسدس کے فورم میں انیس اور دبیر کے لکھے گئے مرثیے مرثیے کہلاتے ہیں۔ جناب شمیم احمد نے بہت صحیح سوال قائم کیا تھا:

’’انیس و دبیر کے مرثیے مسدس کی ہیئت میں ہیں۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر، اس مخصوص ہیئت کے باوجود وہ مرثیے کہلاتے ہیں؛ کوئی انھیں مسدس انیس یا مسدس دبیر نہیں کہتا گویا ان میں ہیئت دب جاتی ہے لیکن یہی ہیئت حالی کی مشہور و معروف نظم ’مد و جزر اسلام‘ میں موضوع پر حاوی آجاتی ہے۔‘‘

(اصناف سخن اور شعری ہیئت از شمیم احمد)

مسدس حالی کو بطور صنف کے تسلیم کرنا ایک Conventional approach ہوسکتا ہے جس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں، کیوں کہ اردو نظم کی تاریخ میں ’انجمن پنجاب‘ کے شعرا میں محمد حسین آزاد، اسمٰعیل میرٹھی، حالی اور پھر بعد میں شبلی نعمانی، سرور جہان آبادی، اقبال، چکبست، محروم وغیرہ نے مسدس کی ہیئت میں نظمیں کہی ہیں۔ یہاں کسی کی نظم سے بند پیش نہیں کیے جارہے ہیں کیوں کہ ہم آپ سب اس نوع کی نظموں سے واقف ہیں۔ یہاں یہ بات صاف ہوجانی چاہیے کہ مرثیے کے لیے بھی مسدس محض ایک ہیئت ہے۔ مرثیہ اپنی صنفی شناخت کے لیے مسدس کی ہیئت کا محتاج نہیں۔ البتہ انیس اور دبیر نے مسدس کی ہیئت میں مراثی پیش کرکے مرثیہ کے لیے اس ہیئت کو ناگزیر کردیا۔ لیکن ہمیں یہ نہ بھولنا چاہے کہ اس صنف مرثیہ کی شناخت اس کے موضوع کے سبب ہے اور یہی اس کی مناسب تعریف بھی ہوسکتی ہے۔ وگرنہ دوسری ہیئتوں میں کہے گئے مرثیے سرمایۂ ادب کے صفحات سے کالعدم قرار دیے جائیں گے۔

مرثیے ہی کی طرح اگر مثنوی کی بات کریں تو اس ہیئت میں بھی محمد حسین آزاد، اسمٰعیل میرٹھی، شبلی، سرور جہان آبادی اور اقبال کی بہت سی نظمیں، صرف نظمیں ہیں۔ انھیں مثنوی کے زمرے میں نہیں رکھ سکتے کیوں کہ مثنوی کی صنفی شناخت میں بھی موضوع کی اہمیت ہے کہ اس میں کوئی قصہ، کہانی یا داستان منظوم کی جاتی ہے۔ خواہ وہ تاریخی ہو، اساطیری ہو، عشقیہ ہو لیکن مثنوی چند اشعار پر بھی مشتمل ہوسکتی ہے جیسا کہ کلاسیکی شاعری میں ایسی مثنویاں موجود ہیں۔ فائز دہلوی کی تعریف ہولی، تعریف پنگھٹ وغیرہ۔ اور طویل مثنویوں میں قطب مشتری سے لے کر میر تقی میر، مرزا شوق، میراثر، میر حسن اور دیاشنکر نسیم کی مثنویاں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ تو کیا یہ سب صنف نظم سے باہر ہیں؟ اگر واقعہ کربلا کو اسی مثنوی کی ہیئت میں بیان کیا جائے تو اُسے کس زمرے میں رکھا جائے گا؟ مرثیے کی شناخت جب موضوع سے ہوتی ہے ہیئت سے نہیں تو ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں یہ شعری فن پارہ مرثیہ ہی کہلائے گا۔

بات دراصل یہ ہے کہ اردو میں موضوع اور ہیئت کو صنفی شناخت کے لیے کبھی شد و مد کے ساتھ زیربحث لانے کی طرف توجہ نہیں ہوئی۔ اسی لیے آج بھی اس حوالے سے جچی تلی رائے دیکھنے اور پڑھنے کو نہیں ملتی۔

بات نظم کے حوالے سے ہورہی ہے لیکن اس موضوع کا فطری تقاضا ہے کہ ذہن اور قلم دوسری اصناف سخن کی طرف چلے ہی جاتے ہیں۔ اردو نظم کی صنفی شناخت کی تقویم اور تدوین کے لیے فاروقی صاحب نے ’نظم کیا ہے؟‘ (1983) کے عنوان سے اُنّیس (19) صفحات پر مشتمل مضمون تحریر کیا تھا۔ یہ مضمون ان کی کتاب ’تنقیدی افکار‘ میں شامل ہے۔ انھوں نے نظم کی شکلیات (Morphology) اور شناسیات (Taxonomy) سے پوری طرح بحث کی ہے۔ انھوں نے ایک اصول یہ بنایا ہے کہ ہر وہ منظوم تحریر جو غزل نہیں ہے وہ نظم ہے۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ وہ منظوم تحریر جو غزل، قصیدہ، مرثیہ، مثنوی، رباعی، قطعہ، واسوخت، شہرآشوب، مسمط، ترکیب بند، ترجیع بند، مستزاد نہ ہو، نظم ہے۔ پھر ان دو اصولوں کی روشنی میں کئی طرح کے سوال قائم کرتے ہیں او رپھر انھیں وہ رد بھی کردیتے ہیں۔ انھوں نے آگے چل کر اس بات پر زور دیا ہے کہ اقبال کی نظم ’گورستان شاہی‘ مثنوی کی ہیئت میں ہے۔ لیکن ہمیں وہ نظم معلوم ہوتی ہے اور ’ساقی نامہ‘ مثنوی کی ہیئت میں بھی ہے اور مثنوی کی صفات بھی رکھتا ہے۔ اسی طرح اقبال کا ’مرثیہ داغ‘ اگرچہ مرثیہ ہے لیکن نظم کی صفات رکھتا ہے۔ (ص 163)۔ پھر آگے چل کر انھوں نے بجا طور پر سوال قائم کیا ہے کہ جس فضا کی بنیاد پر آپ ایک مثنوی کو نظم اور دوسری مثنوی کو غیرنظم قرار دے رہے ہیں، اس کا تعین مختلف زمانوں میں کون کرے گا؟ (تنقیدی افکار: ص 165)

ایک سوال یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ کیا کسی متن کو بغیر اس کی صنفی شناخت کے نہیں پڑھا جاسکتا؟ مسدس حالی یا اقبال کی ’شکوہ جواب شکوہ‘ اس قدر عام قارئین میں مقبول ہوئی تو کیا ان نظموں کے متون میں وہ قوت تھی جس کے سبب اس کی طرف قارئین کی توجہ مبذول ہوئی یا ان کی صنفی شناخت کے سبب ایسا ہوا؟ تھوڑی دیر کے لیے یہ مان لینا چاہیے کہ حالی اور اقبال کی شاعری نے یعنی صرف متن نے عام قارئین کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ یہاں نہ صنف کی اہمیت رہی نہ اس کی ہیئت یعنی اس کے مسدس ہونے کی۔ تو کیا دریدا نے ٹھیک کہا ہے کہ:

…A text would not belong to any genre. Every text participates in one or several genres, there is no genreless text, there is always a genre and genres, yet such participation never amounts to belonging. (Derrida 1980: 230) (The law of genre, Trans: Avital Ronell, Glyph, 7 202-32, Ref. Genre: John Frow, 2005)

 کوئی متن صنف سے الگ نہیں ہوتا لیکن اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ اشتراک دونوں کے باہمی انسلاک پر دلالت کرتا ہے۔ یہاں میں صنف نظم سے بحث کررہا ہوں لیکن پابند، معرا، آزاد اور نثری نظموں پر الگ الگ سے بحث کرنا قدرے مشکل ہے۔  یوں بھی نظم صرف نظم ہے پابند ہو، معرا ہو یا آزاد، حتی کہ نثری بھی۔ خلط مبحث سے بچنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔ فاروقی صاحب نے غزل کے علاوہ تمام اصناف سخن کو نظم قرار دینے میں فائدہ بتایا ہے۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ہماری قسمیات Typology انتشار سے بچ جائے گی۔ (تنقیدی افکار، ص 167)

پابند نظمیں جو شروع میں کہی گئیں ان میں سے بیشتر مثنوی کی ہیئت میں تھیں، پھر آج صنف مثنوی کی تشکیل اپنی الگ شناخت کے ساتھ شعری سرمایے میں کیسے آگئی؟حیرت تو اس پر بھی ہوتی ہے کہ دکن میں مثنویاں کہی جارہی تھیں لیکن اس ہیئت میں محمد حسین آزاد، حالی وغیرہ نظمیں کہہ رہے تھے۔  التباس اور Confusion کی ایک مثال اسی کے ذیل میں ملاحظہ کیجیے کہ ’والدہ مرحومہ کی یاد میں‘ خود اقبال کی نظر میں نظم ہے، قاری اُسے مرثیہ سمجھتا ہے اور نقاد اُسے مثنوی کے خانے میں رکھتا ہے۔ شمیم احمد صاحب نے ڈاکٹر سید محمد عقیل کی کتاب ’اردو مرثیے کا ارتقا شمالی ہند میں‘ کے حوالے اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اسی طرح گیان چند نے بھی مثنوی پر تحقیقی کام کرتے ہوئے آزاد، حالی، شبلی، اقبال، سردار جعفری وغیرہ کی نظموں کو مثنویوں میں شامل کرلیا ہے۔ ایسے میں اردو ادب کے نئے طالب علموں کو اصناف شاعری کے مطالعے میں بہت سی الجھنوں کا سامنا ہوگا ہے۔

بعد میں چکبست اور پھر اقبال نے پابند نظمیں کہیں۔ حالی کی نظم ’برکھارُت‘ اور اقبال کی ’ساقی نامہ‘ سے لے کر جوش کی دیہاتی بازار کا مثنویانہ روپ پابند نظم نگاری کی ہیئت کو مستحکم طور پر ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ پھر یہ آخر مثنویاں کیوں نہیں؟ شاید اس لیے کہ ان نظموں میں قصہ پن یا داستانی فضا نہیں۔ یعنی یہاں حد فاصل یا خط امتیاز قائم کرنے میں داستانی فضا یا قصہ پن کے ہونے یا نہ ہونے کا  اہم رول ہے۔

ہیئت کی حیثیت یہاں ثانوی ہے۔ ہمیں کوئی نہ کوئی بات تسلیم کرنی پڑے گی ورنہ اصناف ادب کی تشکیل اور طرز وجود والی بحث لامتناہی ہوگی۔اس طرح نظم کی صنفی شناخت میں ہیئت کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی جس طرح کہ غزل، مثنوی، قصیدے یا رباعی میں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نظمیں مختلف ہیئتوں میں کہی گئیں اور بغیر سوچے  سمجھے کہی گئیں۔ یعنی پوری آزادی کے ساتھ کہی گئیں۔ مثلث، مربع اور مخمس سے لے کر مثمن تک کی ہیئتیں استعمال ہوتی رہیں۔ سفر جب آگے بڑھا تو ترقی پسند تحریک اور حلقۂ ارباب ذوق والے شعرا نے معرا اور آزاد نظموں کو فروغ دیا۔ اس سے پہلے معرا کی داغ بیل محمد حسین آزاد نے جغرافیہ طبعی کی پہیلی سے اور اسمٰعیل میرٹھی نے ’چڑیا کے بچے‘ اور ’تاروں بھری رات‘ سے ڈال دی تھی۔

اس طرح فن پارے کو فروغ حاصل ہوتا گیا اور آج نثری نظم تک ہم پہنچ چکے ہیں۔ معرا اور آزاد میں تو قوافی اور ردیف سے آزادی تھی، اب یہاں اوزان و بحور سے بھی چھٹی ملی۔ اس میں بھی آہنگ اور نثری شعریت کی بات کی جاتی ہے۔ خیال اور کیفیت کی وحدت کا ورد کیا جاتا ہے۔ آزادی آزادی اور پھر آزادی— یعنی ہیئت کی آزادی۔ ہیئت چوں کہ حدبندی کرتی ہے۔ کہیں نہ کہیں آپے میں رہنے کی بات کرتی ہے اس لیے نظم جو مثلث، مربع اور مسدس سے معرا اور آزاد تک آئی تھی، آخرکار نثری طرز اظہار پر آکر رک گئی۔ شاید اب اور آگے جانے کی گنجائش نہیں۔ ہیئتیں ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں۔ ایک سوال یہاں پھر قائم ہوتا ہے کہ ہیئتیں جب ٹوٹ جاتی ہیں اور صنف سے ان کا رشتہ نہیں رہتا جیسا کہ ہم نظم کے حوالے سے دیکھ رہے ہیں تو کیا متن سے معنی یابی میں یا اس کی تشریح و تعبیر میں ہیئتوں کا ذکر بے معنی ہوکر رہ جاتا ہے؟ کیا Semiosis سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں؟ جیسے کہ ہم غزل کی تشریح میں اس کے قوافی اور ردیف نیز دوسری تراکیب کے دروبست کا حوالہ دیتے ہیں لیکن نظم کے سفر نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہاں تو ہیئت کی حدبندیاں ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں۔ لہٰذا قوافی اور ردیف کے برمحل یا برجستہ استعمال پر گفتگو کا کوئی موقع ہی نہیں رہ جاتا۔ تجربے تو غزل میں بھی ہوئے۔ آزاد غزل یا غزل نما جیسی شاعری پیش کی گئی لیکن ادبی تاریخ گواہ ہے کہ یہ تجربے محض تجربے ہوکر رہ گئے۔ اس کا واضح سبب یہ تھا کہ غزل کی ہیئت نہایت ہی مستحکم اور پختہ تھی اور ہے۔ اس کی ہیئت میں سیند ماری مشکل ہی سے ہوسکتی ہے۔ ہاں اس ہیئت میں پابند نظمیں کہی گئی ہیں اور آج بھی کہی جاتی ہیں۔ لیکن نظم کی ہیئت مستحکم اور پختہ ہونے کے بجائے لچیلی ہے۔ اسی Flexibility کے سبب نظم میں جو بھی ہیئتی تجربے ہوئے وہ رائج ہوتے چلے گئے۔ قصیدے کے لیے بھی اگر غور و فکر کیا جائے تو غزل کی ہیئت بے معنی ہے، اس لیے کہ اس کی صنفی شناخت میں اس کے موضوع کو اولیت حاصل ہے۔ اگر غزلیہ ہیئت سے قصیدے کو آزاد کردیا جائے تو قصیدے میں جگہ جگہ قصیدہ گو شاعر کی طبع موزوں غزل کی طرف جو مراجعت کرنے لگتی ہے، اس فیشن کی تنسیخ بھی ہوسکے گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب آپ قصیدہ کہہ رہے ہوتے ہیں تو آپ کا ذہن غزل کی طرف کیوں کر مائل ہوجاتا ہے؟ اگر قصیدے کو بھی نظم کی طرح ہیئت کے اعتبار سے آزادانہ چھوڑ دیا جائے تو کئی فائدے ہوں گے۔ ایک تو یہ کہ جو شعری تخلیقات قصیدے کے مضامین تو رکھتے ہیں لیکن غزلیہ ہیئت میں نہیں ہیں، انھیں اس صنف میں جگہ مل جائے گی اور یہ بھی کہ قصیدہ کہتے ہوئے شاعر کا ذہن بار بار غزل کی روش پر چل نہیں نکلے گا وغیرہ۔ شمیم احمد نے بھی سفارش کی ہے کہ اگر قصیدے کی صنفی تشکیل میں ہیئت کی اہمیت پیش نظر نہ رکھی جائے تو ولی کے چھ قصائد کے علاوہ دو قصیدے جن میں سے ایک ترجیع بند کی ہیئت میں ’در مدح قدوۃ العارفین شاہ وجیہ الدین‘ اور مثنوی کی ہیئت میں ’در تعریف شہر سورت‘ بھی قصیدے کے زمرے میں شامل ہوجائیں گے۔ اس طرح غالب کا قصیدہ مثنوی کی ہیئت میں ’در صفت انبہ‘ بھی قصیدہ کہلائے گا۔

ایسا اس لیے بھی کہا جاسکتا ہے کہ ان ہیئتی بندشوں سے اگر ہمارے ادبی سرمائے کا نقصان ہورہا ہے تو اس پہلو پر نہایت ہی سنجیدگی سے غور و فکر کی ضرورت ہے، یوں بھی صنف محض بندش یا Restriction نہیں۔ کیا سارے متون پر کسی نہ کسی صنف کا اطلاق ضروری ہے؟ John Frow کے بقول:

I take it that all texts are strongly shaped by their relation to one or, more genres, which in turn they may modify. In certain areas of criticism an it is assumed that genre is a term that applies to some texts and not to others.

(Genre :  John Frow, Routledge, New York, pp-01, 2005)

سارے متون کو شکل و شباہت ملتی ہے کسی نہ کسی صنف سے۔ لیکن اس میں Modification کی بہرحال گنجائش رہتی ہے۔ صنف ایک ایسی اصطلاح ہے جس کا اطلاق کچھ متون پر ہوتا ہے تو کچھ پر نہیں۔ یہاں بھی ایک طرح سے آزادی کی باتیں کی گئی ہیں۔ فاروقی صاحب نے لکھا ہے کہ ’’ایک سامنے کی چیز قافیہ ہے کہ جس کے بغیر غزل ممکن نہیں، نظم البتہ بے قافیہ ہوسکتی ہے۔ دوسری چیز یہ ہے کہ ایک شعر کی نظم ہوسکتی ہے لیکن ایک شعر کی غزل نہیں ہوسکتی۔‘‘

(اردو نظم 1960 کے بعد، دہلی اردو اکادمی، دہلی، 1995، ص 46، نظم کا اسلوب)

فاروقی صاحب کی بات تسلیم کرلی جاسکتی ہے کہ نظم بے قافیہ ہوسکتی ہے اور غزل نہیں، لیکن اس بات کے تسلیم کرنے میں قباحت ہوگی کہ ایک شعر کی نظم ہوسکتی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ جب شعر ہوگا تو یہاں بھی قوافی کی پابندی عائد ہوجائے گی اس لیے کہ معرا یا آزاد نظم کے دو مصرعوں کو شعر کہنے میں بہرحال تامل ہوسکتا ہے۔ البتہ قوافی کی پابندی کے ساتھ ایک شعر میں کوئی مکمل بات ہوسکتی ہے۔ ایک مکمل بات تو غزل کے ایک شعرمیں بھی ہوتی ہے۔ تو کیا غزل کے ایک شعر کو اپنے وجود کی بنیاد پر نظم کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے؟ اگر نہیں تو ایک شعر کی نظم میں اور غزل کے شعر میں (جو معنوی اعتبار سے اپنے آپ میں مکمل ہوتا ہے) فر ق کی واضح بنیاد کیا ہوگی؟

فاروقی صاحب کی نظر میں شاید مغرب میں رائج Concrete Poetry رہی ہوگی جس پر انھوں نے اپنے مضمون نظم کا اسلوب (ص 46-59، اردو نظم 1960 کے بعد) میں تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ کئی نظموں کے حوالے دیے ہیں۔ نظم کی لفظی صناعت (Verbal Artifact) اور اس کی تصویری صناعت (Pictorial Artifact) کو اچھی طرح سمجھایا ہے۔ پھر اردو کے حوالے سے چہار در چہار اور مدور میں ایک مصرع یا زیادہ سے زیادہ ایک شعر جس سے مزید اشعار بنائے جانے والی روایت کا ذکر بھی کیا ہے۔ انھوں نے دیبی پرشاد سحر بدایونی کی ایک رباعی کا حوالہ دیا ہے جس سے ایک ایسے چوکھٹے کی شکل بنتی ہے جس کے چاروں کونوں پر آئینے لگے ہوں جس کے ہر مصرعے کا آخری لفظ پلٹ کر اگلے مصرعے کا پہلا لفظ بن جاتا ہے۔ میں یہاں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کیوں کہ اس سے نظم کی ہیئت یا صنف نظم کی کسی جہت پر روشنی نہیں پڑتی۔

صنف نظم اور اس کی ہیئت پر مزید روشنی پڑسکتی ہے یا کم ازکم بحث کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ اگر ہم فاروقی صاحب کے اسی مضمون میں میراجی کی نظم جاتری اور آبگینے کے اُس پار کی شام کے حوالے سے ان کی رائے پر غور و فکر کریں:

’’میراجی کی نظم جاتری ’فاعلن‘ کی تکرار سے بنی ہے لیکن صفحے پر نثر کی طرح لکھی گئی ہے اور اسے پڑھتے وقت اکثر اس بات کا احساس بھی ہوتا ہے کہ عبارت باوزن ہے لیکن اسے بالکل نثر کی طرح، یعنی نظم یا موزوں کلام کے آہنگ سے مختلف آہنگ میں پڑھ سکتے ہیں، اس طرح کہ فاعلن کی تکرار بھی قائم رہتی ہے۔ میراجی ہی کی نظم ’آبگینے کے اس پار کی شام‘ نظم کی طرح لکھی ملتی ہے۔ ساری نظم میں مفاعیلن کی تکرار ہے لیکن نظم کو بہ آسانی نثری عبارت کی طرح پڑھ سکتے ہیں۔‘‘      (اردونظم: 1060 کے بعد، اردو اکادمی، دلی 1995، ص 58)

فاروقی صاحب نے جاتری کے لیے ’فاعلن‘ رکن کے استعمال اور اس کے تکرار کی بات درست کہی ہے  یعنی اس ایک رکن کی تکرار سے ہی پوری نظم تیار ہوئی ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ کہنے کی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے کہ اسے پڑھتے وقت اکثر اس بات کا احساس بھی ہوتا ہے کہ عبارت باوزن ہے؟ پھر یہ بھی کہا کہ اسے موزوں کلام کے آہنگ سے مختلف آہنگ میں پڑھ سکتے ہیں۔ یہاں نظم کی ہیئت موقوف ہوجاتی ہے اور پوری توجہ اس متن کی قرأت پر ہوجاتی ہے کیوں کہ آہنگ کا دار و مدار قرأت پر ہے اس کی ظاہری ہیئت پر قطعی نہیں۔ اس نظم کے فاعلن کی تکرار پر مبنی ہونے کے باوجود بھی اگر کوئی اسے نثری آہنگ میں پڑھتا ہے تو اسے شاعری قطعی پڑھنے کی ضرورت نہیں۔  اردو دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو غزل کے شعرکو بھی ناموزوں کرکے پڑھتے ہیں اور آہنگ کچھ کا کچھ بدل جاتا ہے۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ہم اگر غالب کی کسی غزل کو نثر کی طرح کاعذ پر لکھ دیں تو کیا اس میں نثری آہنگ پیدا ہوجائے گا؟ ہاں وہ شخص ضرور اس شعری عبارت کو نثری عبارت کی طرح پڑھے گا جسے شاعری، آہنگ یا غالب سے کچھ شناسائی نہ ہوگی۔ اگر فاروقی صاحب کی بات تسلیم کرلی جائے تو اس کے برخلاف یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ غزل کے کسی شعر کی طرح کوئی نثری عبارت لکھ کر اس کی قرأت یوں کی جاسکتی ہے جس سے شعری آہنگ پیدا ہو۔ انھوں نے میراجی کی ان دو نظموں کے علاوہ اختر الایمان کی کچھ نظموں کا ذکر کیا ہے جو گفتگو کے آہنگ میں لکھی گئی ہیں۔  میں نے ’جاتری‘ کو نثری آہنگ میں پڑھنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ ایسا کہنے سے نظم کی وہ فروغ پذیر ہیئتیں جو پابند سے معرا، معرا سے آزاد اور پھر آزاد سے نثری نظم تک آتی ہیں، ان کے راستے مسدود ہوجاتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ راشد اور میراجی نے آزاد نظموں کو بہت بلندی تک پہنچایا۔ میں یہاں محمد حسین آزاد کی نظم ’جغرافیہ طبعی کی پہیلی‘ کے کچھ حصے کو نثر کی طرح لکھ کر پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں:

ہنگامۂ ہستی کو۔ گر غور سے دیکھو تم۔ ہر خشک و تر عالم۔ صنعت کے تلاطم میں۔ جو خاک کا ذرّہ ہے یا پانی کا قطرہ ہے۔ حکمت کا مرقع ہے۔ جس پر قلم قدرت۔ انداز سے ہے جاری۔ اور کرتا ہے گلکاری۔

آخری بند:

کیوں قبلۂ من دیکھا۔ یہ طُرفہ معمّا ہے۔ کیا بوجھے کوئی پنڈت۔ یا فلسفی و ملا

ہاں سمجھے میاں آزاد۔ یا منشی ذکاء اللہ۔ سُنبل ہے یہ سبزہ میں۔ پھولوں میں چنبیلی ہے۔  کون اس کو بھلا بوجھے حکمت کی پہیلی ہے۔

اس نظم میں کئی مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف بھی ہیں جیسے:

اک رنگ کے آتا ہے۔ سو رنگ دکھاتا ہے

ہرگز کہ یہ سب کیا ہے۔ اور ہے تو سبب کیا ہے

ماں بیٹی کا ہے ناتا۔ دونوں میں نظر آتا

سب عالمِ جسمانی۔ حیوانی و انسانی

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ نثر کی طرح لکھ دینے سے بھی اس کی قرأت نثر کی طرح نہیں ہوسکتی اور نہ اس میں نثری آہنگ پیدا ہوسکتا ہے۔ اگر اسے نثر بنانا چاہیں تو اس کے فقروں میں لفظوں کی ترتیب بدلنی پڑے گی۔ کہیں کوئی لفظ بڑھانا ہوگا اور کہیں کچھ حذف بھی کرنا پڑسکتا ہے کیوں کہ شاعری میں ہم نثری ساخت سے قطعی الگ ہوجاتے ہیں۔ یہاں ہمیں Grammatical Innovation کا تجربہ بھی ہوتا ہے۔ لسانی روایت کی شکست و ریخت ہمیں شاعری ہی میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ شاعر اپنی فکر کو پیش کرنے کے لیے دانستہ طور پر ہی کسی صنف کا انتخاب کرتا ہے۔ ہیئت بھی اس کے پیش نظر ہوتی ہے۔ محمد حسین آزاد یا اسمٰعیل میرٹھی نے جو معرا نظمیں کہیں وہ غیردانستہ طور پر کہی گئی تھیں، ایسا نہیں ہے۔ البتہ انھیں ان نظموں کے حوالے سے کسی انوکھے تجربے یا ایجادی اقدام کی خوش گمانی نہیں تھی۔ اپنی کسی تخلیق پر شاعر ہی Label لگاتا ہے نہ کہ قاری۔ اردو نظم کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو صنف نظم کی  وجودی تشکیل میں جو ہیئتیں استعمال ہوتی ہیں وہ بہت دل چسپ اور لائق توجہ رہی ہیں۔ اس سے ایک طرف اگر Confusion کی بہت سی صورتیں پیدا ہوئیں تو دوسری طرف اس کی ہیئتوں میں Flexibility، Tranformation اور Transmutationکی خوبیوں کے ہونے کا اندازہ بھی ہوا۔

فاروقی صاحب نے جس طرح میراجی کی نظم جاتری کے نثر کی طرح لکھے جانے اور اس کی قرأت سے نثری آہنگ پیدا ہونے کی بات کی ہے، دراصل اس طرح اور بھی کئی مثالیں نادر کاکوروی کے ترجموں، عظمت اللہ خاں کی نظموں سے پیش کی جاسکتی ہیں۔  شرر کے منظوم ڈرامے میں اس کی مثالیں پہلے سے موجود ہیں۔ ایسی حالت میں خیال کا تصور ایک مصرعے سے دوسرے مصرعے میں منتقل ہوتے جاتے ہیں اور کسی طرح کی رکاوٹ کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ عظمت اللہ خاں کی نظم ’حسن دلآویز‘ اور اخترالایمان کی نظم ’عہد وفا‘ بطور مثال کے پیش کی جاسکتی ہیں۔ یہاں صرف ’عہدوفا‘ کا یہ حصہ دیکھیے:

یہی شاخ تم جس کے نیچے کسی کے لیے چشم نم ہو یہاں اب سے کچھ سال پہلے

مجھے ایک چھوٹی سی بچی ملی تھی جسے میں نے آغوش میں لے کے پوچھا تھا بیٹی

یہاں کیوں کھڑی رو رہی ہو؟مجھے اپنے بوسیدہ آنچل میں گہنے دکھا کر

وہ کہنے لگی: میرا ساتھی اُدھر اس نے انگلی اٹھا کر بتایا اُدھر اس طرف ہی

جدھر اونچے محلوں کے گنبد مِلوں کی سیہ چمنیاں آسماں کی طرف سر اٹھائے کھڑی ہیں

یہ کہہ کر گیا ہے کہ میں سونے چاندی کے گہنے مرے واسطے لینے جاتا ہوں رامی

پروفیسر عنوان چشتی نے اس حوالے سے لکھا ہے:

’’اس نظم میں مواد اور ہیئت ایک دوسرے سے مل کر ایک عضوی کُل کی حیثیت اختیار کرگئے ہیں۔‘‘

(اردو شاعری میں ہیئت کے تجربے: ڈاکٹر عنوان چشتی، انجمن ترقی اردو، ص 65، جولائی 1975)

صنفنظمہئیت
0 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ڈاکٹر اشرف جہاں کی ادبی خدمات-شبنم آرا پٹنہ
اگلی پوسٹ
قصیدہ کی صنفی شناخت اور امتیازی پہلو- پروفیسر کوثر مظہری

یہ بھی پڑھیں

آزادی کے بعدکی نظمیہ شاعری کا اسلوب –...

نومبر 19, 2024

جدید نظم : حالی سے میراجی تک (مقدمہ)...

ستمبر 29, 2024

الطاف حسین حالؔی کی "مولود شریف "پر ایک...

اگست 27, 2024

نظم کیا ہے؟ – شمس الرحمن فاروقی

جولائی 23, 2024

ساحر کی نظمیں: سماجی اور تہذیبی تناظر –...

جولائی 9, 2024

فیض کا جمالیاتی احساس اور معنیاتی نظام –...

جون 2, 2024

طویل نظم سن ساٹھ کے بعد – پروفیسر...

جون 2, 2024

نظم ’’ابو لہب کی شادی ‘‘ایک تجزیاتی مطالعہ...

فروری 11, 2024

ساحر لدھیانوی کی منتخب نظموں میں امن کا...

جنوری 28, 2024

اخترالایمان کی نظموں میں رومانی عناصر – نہاں

اکتوبر 30, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں