پٹنہ یونیورسٹی کی ادبی تاریخ جہاں مرد قلم کاروں اور تخلیق کاروں کے کارناموں سے روشن ہے وہیں خواتین فنکاروں نے بھی عالمی منظر نامے پر یونیورسٹی کی چمک بکھیرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ نثری ادب ہو یا شعری ادب، ہر شعبہ میں ہماری خواتین قلم کاروں نے اپنی تخلیقات اور تصنیفات سے اردو ادب کے دامن کو مالا مال کیا ہے۔ انہیں خواتین تخلیق کار، تنقید نگار اور محققین میں ایک اہم اور نمایاں نام ڈاکٹر اشرف جہاں کا ہے۔
ڈاکٹر اشرف جہاں 21/ جنوری 1951 کو ہزاری باغ (جھارکھنڈ) کے زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ آپ کا آبائی وطن ’ندول‘ ہے جو ضلع پٹنہ میں واقع ایک بلاک ہے۔ والد’محمد فخر الدین‘ بہار گورنمنٹ سروس میں پبلک پروسیکیوٹر تھے، تو والدہ ’محترمہ صدر النساء‘ ایک مذہبی خاتون تھیں۔ موصوفہ کا بچپن نانہال جہان آباد کے’ارکی‘میں گذرا جہاں موصوفہ کی تعلیم کا آغاز ہوا۔ ابتدائی تعلیم روایتی انداز سے ہوئی۔ نانا نے قرآن پڑھایا تو اردو فارسی کا درس دینے کے لئے گاؤں کے مدرسے کے مولوی صاحب کو مامور کیا گیا جو گھر پر آکر ہی پڑھایا کرتے تھے۔ خاندان/ معاشرے میں یوں تو لڑکیوں کی تعلیم کا رواج نہیں تھا مگر والد محترم اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے فکرمند رہتے تھے۔ گاؤں میں ماحول سازگار نہیں تھا۔ لہٰذا بچوں کو ساتھ لے کر مونگیر چلے آئے۔ یہیں سے اشرف جہاں کی عصری تعلیم کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ 1960 میں گورنمنٹ گرلس اسکول،مونگیر میں چھٹی کلاس میں داخلہ ہوا۔ وہیں سے 1965 میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد بھاگلپور ’سندروتی مہیلا کالج‘میں داخلہ لیا،جہاں سے 1969 میں بی اے آنرس مکمل کیا۔ اعلی تعلیم کے لئے پٹنہ یونیورسٹی آگئیں اور 1972 میں امتیازی نمبروں سے ایم اے کا امتحان پاس کر آگے کی پڑھائی کا عزم کرکے جے آر ایف کوالیفائی کیا، جو اس زمانے میں بڑے اعزاز کی بات تھی۔ اس کے بعد پٹنہ یونیورسٹی سے’ڈاکٹر قریشہ حسین‘کی نگرانی میں آپ نے ”ڈپٹی نذیر احمد کی ناول نگاری“ کو موضوع تحقیق بناکر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد گردنی باغ گرلس کالج پٹنہ میں بہ حیثیت لیکچرر آپ کی پہلی تقرری ہوئی۔ 1981۔1987تک یہاں درس وتدریس کے فرائض انجام دیتی رہیں۔ اس کے بعد یونیورسٹی سروس کمیشن کے ذریعہ آپ کی تقرری 1987 میں پٹنہ کالج میں ہوگئی۔ جہاں بڑی ایمانداری اور حسن خوبی سے تقریباً 24 برسوں تک آپ اپنے فرائض انجام دیتی رہیں اور طلبا وطالبات میں محبوب اساتذہ میں سرفہرست رہیں۔ اس کے بعد آپ بحیثیت یونیورسٹی صدر شعبہ اردو پی جی ڈیپارٹمنٹ آگئیں اور 2011 سے 2014تک درس وتدریس اور انتظامی کاموں کو بڑی خوبصورتی سے انجام دیتی رہیں۔ یہیں سے 31 جنوری 2015 کو آپ سبکدوش ہوئیں۔
ڈاکٹر اشرف جہاں کے ادبی جہتوں پر نگاہ ڈالی جائے تو افسانہ ان کی سب سے مقبول صنف رہی ہے۔ تنقید وتحقیق، انشائیہ اور لسانیات کے موضوع پر بھی انہوں نے جا بجا خامہ فرسائی کی ہے۔ ڈاکٹر اشرف جہاں کے تخلیقی سفر کا آغاز افسانہ ”موم کی مریم“ سے ہوا جو مارچ 1979 میں رسالہ’حریم‘ میں شائع ہوا۔ اس کے بعد تواتر سے ملک کے مختلف رسائل میں ان کے افسانے شائع ہوتے رہے۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ”شناخت“ ہے جو اگست 1997 میں شائع ہوا۔ شناخت کے علاوہ ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ”اکیسویں صدی کی نرملا“ ہے جو 2009 میں منظر عام پر آیا۔ افسانوں کے علاوہ انہوں نے شاد عظیم آبادی کے ناول ”صورۃ الخیال(ولایتی کی آپ بیتی)“ کا تنقیدی وتجزیاتی مطالعہ بھی پیش کیا۔ اشرف جہاں نے ایک انشائیہ بھی لکھا ہے ”ہم اردو کے ٹیچر ہوئے“ جو ان کا ایک اور اہم تخلیقی کارنامہ ہے۔ تنقیدی شعور کے تحت ”تاریخ اردو زبان وادب اٹھارویں صدی سے بیسویں صدی تک“ کے عنوان سے بھی ایک تنقیدی مضمون قلم بند کیا ہے۔ تو وہیں تحقیقی نوعیت کی کتاب ”اردو افسانے کا بدلتا مزاج“ اور ”اردو ناول کے آغاز میں دبستان عظیم آباد کا حصہ“ بھی لکھی۔ اس طرح تخلیق، تنقید اور تحقیق تینوں شعبوں سے ان کی دلچسپی کا اندازہ بخوبی ہوتا ہے۔
ڈاکٹر اشرف جہاں کی تخلیقی کائنات کا دائرہ صرف افسانے اور انشائیہ تک ہی محدود رہاہے۔ وہ ناول لکھنے کو مشکل فن تصور کرتی ہیں، ساتھ ہی وقت طلب بھی۔ درس وتدریس اور امور خانہ داری کی ذمہ داریوں کے باعث انہیں اتنی فرصت ہی نہ ملی کہ ناول لکھنے کی طرف مائل ہوتیں۔ مگر ان کے ذہن ودماغ میں جو افکار وخیالات ابھر رہے تھے، ان کی ترجمانی کا کوئی نہ کوئی وسیلہ درکار تھا۔ لہٰذا انہوں نے افسانہ نگاری کو اپنے لئے ذریعہئ اظہار بنایا۔ اس طرح ان کی تخلیقی سفر کا آغاز افسانہ نگاری سے ہوا۔
ڈاکٹر اشرف جہاں کے افسانے عورت کے احساس وجذبات کی مکمل اور سچی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں۔ ساتھ ہی ان میں سماجی اصلاح کا مقصد بھی کارفرما ہوتا ہے۔ ان کے افسانے نسائی حسیت کا خوبصورت اظہاریہ ہیں۔ عورت کی تعلیم کا مسئلہ، ان کے جنسی استحصال اور معاشی وسماجی استحصال کا مسئلہ جہاں ان کے افسانوں کا اہم موضوع بنتا ہے وہیں یہ افسانے تمام مسائل کا حل بھی پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ ایک مصلح قوم کی طرح قوم کی اصلاح کا جذبہ رکھتی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ خواتین ہی خاندان میں نیو کی اینٹ کی حیثیت رکھتی ہیں، لہٰذا ان کا تعلیم یافتہ ہونا نہایت ضروری ہے۔ عورتوں میں مذہبی اور سماجی بیداری، خود مختاری اور قوم وانسانیت کی فلاح کے جذبے کو فروغ دینا ہی ان کا نصب العین رہا ہے۔ افسانوی مجموعہ ”شناخت“ (مطبوعہ 1997) اور ”اکیسویں صدی کی نرملا“ (مطبوعہ 2009) ان کی اسی فکر کی غمازی کرتے ہیں، جن میں عورتوں کے مختلف روپ بھی ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اشرف جہاں کے افسانوں پر بات کرتے ہوئے ’ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی‘ لکھتے ہیں:
”اکیسویں صدی کی نرملا، احتساب، بدر کامل، شکنتلا، موم کی مریم، محافظت، چاند کا ٹکڑا جیسے افسانے ہمارے سماج میں عورتوں کے استحصال، عورتوں کے جذبات ومحسوسات سے صرف نظر کرنے کے رویے، ان کے ذہن کو ناقص اور ان کی حیثیت کو مرد کنیز کے طور پرمتعین کرنے کی روایت کے خلاف احتجاج معلوم ہوتے ہیں“۔
(مضمون ’اکیسویں صدی کی نرملا۔ عورت کی کہانی عورت کی زبانی‘۔ ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی، رسالہ شاعر، شمارہ مارچ 2016، ص22)
ابھی حال ہی میں ایک افسانوی مجموعہ ”اگر میں نہ ہوتی“(مطبوعہ 2018) منظر عام پر آنے والا ان کا تیسراافسانوی مجموعہ ہے۔ جس کے بیشتر افسانے مختلف ادبی رسائل میں شائع ہوکر پہلے ہی مقبولیت حاصل کرچکے ہیں۔ افسانوی مجموعہ ”اگر میں نہ ہوتی“ کے مقدمہ میں ’پروفیسر قمر جہاں‘ نے اشرف جہاں کی افسانوی جہات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
”اگرمیں نہ ہوتی“، ”اکیسویں صدی کی نرملا“، ”شناخت“ سیدھے سادے بیانیہ میں ایک جہان معنی کو اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں۔ ایک طرف اپنے وجود کے اثبات کا اصرار ہے تو دوسری جانب وجود کی بے معنویت کا اظہار“۔
اشرف جہاں کا سماجی شعور بالیدہ اور پختہ ہے۔ چونکہ ان کا تعلق بہار کے ایک زمیندار گھرانے سے رہا ہے جہاں انہوں نے عورتوں کی زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور پھر درس وتدریس کے پیشے سے وابستہ ہوکر کالج یونیورسٹی کے ماحول اور شہر کی عورت اور اس کے مسائل پر بھی ان کی گہری نظر رہی ہے۔ لہٰذا جب ان کی زندگی اور ان کے تجربات ومشاہدات کو سامنے رکھ کر ان کے افسانوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان کے افسانے دور جدید میں صارفی نظام سے بیزاری کا بھی اظہاریہ نظر آتے ہیں۔ عورتوں کی آزادی، خود مختاری اور انا کا اعلانیہ ہیں ان کے افسانے۔
ڈاکٹر اشرف جہاں نے تجربے اور مشاہدے کو بروئے کار لاکر اپنے فن کی تخلیق کی ہے، جس کی بہترین مثال ان کا انشائیہ ”ہم اردو کے ٹیچر ہوئے“ ہے۔ اس انشائیہ میں مصنفہ نے اردو کی موجودہ تعلیمی نظام اور درس وتدریس کے ماحول پر ظریفانہ طنز کرتے ہوئے تعلیم کے گرتے معیار اور تربیت کے بحران کا ذمہ دار اساتذہ اور طلبہ دونوں کو ٹھہرایا ہے۔ مصنفہ نے جن اہم اور بنیادی عصری مسائل کو انشائیہ کی صورت میں پیش کیا ہے وہ ہمارے نظام تعلیم کا المیہ بن گئے ہیں۔ اردو کے طلبا کا احساس کمتری کا شکار ہونا کہ سائنس اور کمپیوٹر کے زمانے میں اردو پڑھ کر نوکری نہیں ملے گی، جیسی ایک طرح کی منفی سوچ کا پیدا ہونا ہمارا المیہ ہے۔ جس کے سبب اسکولوں میں اردو کی تعلیم کا نظام تقریباً ٹھپ ہوچکا ہے۔ عالم یہ ہے کہ بیشتر سرکاری اور غیر سرکاری اسکولوں میں اردو کے اساتذہ ہیں ہی نہیں اور اگر کہیں ہیں بھی تو وہاں پڑھنے کو بچے نہیں، جس وجہ کر اردو کے ٹیچروں کو دوسرے غیر ضروری کاموں میں لگادیا جاتا ہے، یا پھر دوسرے مضامین پڑھانے کو مجبور کیا جاتا ہے۔ ہمارے صوبہ میں گنتی کے ایسے چند اسکول ہوں گے جہاں اردو اساتذہ اردو پڑھا رہے ہوں۔
مصنفہ کو اردو اساتذہ سے بھی شکایتیں ہیں۔ اردو ٹیچرس بھی جو اردو کی ہی روزی روٹی کھاتے ہیں وہ بھی اردو کی طرف اپنی ذمہ داری نہیں نبھاتے۔ یہاں تک کہ اپنے بچوں کا بھی ویسے کانونٹ اور انگریزی اسکولوں میں داخلہ کراتے ہیں جہاں اردو کی تعلیم کا کوئی نظام نہیں ہوتا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ ویسے لوگ جو اردو کا رزق کماتے ہیں وہ اردو کا حق ادا کرتے۔ ہر اس ادارے یا پروگرام کی مخالفت کرتے یا پرہیز کرتے جہاں اردو کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے۔ مصنفہ نے اردو والوں کا اردو سے مزید بے اعتنائی اور مفاد پرستی کے ماحول کا ذکر بڑے ہی ظریفانہ انداز میں کیا ہے۔ایسے ماحول میں اردو کے لئے نا مساعد حالات کے باوجود اشرف جہاں مایوس نہیں ہوتیں۔ بلکہ ایک مثبت فکر کے ساتھ اس میں روشن پہلو کو تلاش کرتی نظر آتی ہیں۔ اور ایک نمائندہ کردار، ’انور صاحب‘ کا بھی پیش کرتی ہیں۔ اس کردار کے ذریعہ یہ دکھایا گیا ہے کہ اردو کی بدولت نوکری، عزت اور شہرت سب کچھ حاصل ہوسکتی ہے۔ اور ساتھ ہی انور میاں کی والدہ کے ذریعہ مصنفہ نے ایک پیغام دیا ہے۔’’اردو جاہلوں اور گنواروں کی زبان ہے“کہنے والوں پر سخت طنز کے تیر برسائے ہیں۔ یہ اقتباس دیکھئے:
”ایسا کہنا اپنی مادری زبان کی توہین ہے۔ کسی قوم کی شناخت میں اس کی مادری زبان کا بہت بڑا حصہ ہوتا ہے۔ زبان قوم کی شہ رگ ہے۔ بغیر مادری زبان کے کسی قوم کی شناخت ممکن نہیں“۔ (ہم اردو کے ٹیچر ہوئے)
پروفیسر اشرف جہاں کا لسانی شعور بھی بالیدہ نظر آتا ہے۔ انہوں نے براہ راست لسانیات کا علم حاصل نہ کیا ہو مگر ان کا مطالعہ عمیق ہے۔ انہوں نے اردو زبان اور اس کے ارتقا ء کو بھی موضوعِ بحث بناکر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ ان کا ایک مضمون ”تاریخ اردو زبان وادب اٹھارہویں صدی سے بیسویں صدی تک“ اس قبیل میں اہمیت کا حامل ہے۔ جو ان کی کتاب ”ہم اردو کے ٹیچر ہوئے“ کا دوسرا حصہ ہے۔ پروفیسر اشرف جہاں نے اپنے مضمون میں اردو زبان وادب کے بدلتے رنگ وآہنگ، مزاج اور اس کے طرزِ معاشرت کا تین صدیوں پر محیط مفصل جائزہ بھی پیش کرنے کی سعی کی ہے۔ ڈاکٹر اشرف جہاں اپنے اس مضمون میں ’محمد حسین آزاد‘ سے لے کر ’مسعود حسین خاں‘تک اردو زبان کے آغاز کے مختلف نظریوں کا مفصل جائزہ لیتے ہوئے ’پروفیسر مسعود حسن خاں‘ کے آغاز زبان کے نظریے کو سب سے معتبر اور مدلل نظریہ تسلیم کرتی ہیں۔ ساتھ ہی وہ طلبہ کو اردو زبان کے ارتقائی سفر کا مطالعہ دو اہم نکات کی بنا پر کرنے کی ہدایت دیتی ہیں۔ اول یہ کہ کھڑی بولی کا آغاز اور دوسرا کھڑی بولی کا اردو روپ اختیار کرنا۔ مصنفہ نے موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے ولیؔ کے بعد یعنی اٹھارہویں صدی سے ۰۲ ویں صدی کے اواخر تک کے اردو ادب کے ارتقا کی مختصر تاریخ بھی رقم کی ہے۔
اشرف جہاں کی ایک اور کتاب ہمارے سامنے ہے۔ ”اردو افسانے کا بدلتا مزاج“ مطبوعہ 2010۔ یہ کتاب در اصل اردو افسانے کی سو سالہ سفر کی روداد ہے۔ جس میں نہایت ہی سادہ اور آسان زبان میں اردو افسانے کی تاریخ اور مختلف افسانہ نگاروں کے مخصوص افسانوں کا جائزہ لیتے ہوئے اردو افسانے کے بدلتے مزاج کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جب ہم اردو افسانے کا بدلتا مزاج کا بغائر مطالعہ کرتے ہیں تو واضح طور پر ہمیں یہ تبدیلیاں نظر آتی ہیں۔ چاہے حقیقت پسندی کا دور ہو یا ترقی پسندی، جدیدیت یا بعد جدیدیت، اشرف جہاں نے ہر دور کی تصویر کشی کے لئے نمایاں اور مخصوص افسانہ نگاروں اور ان کے مثالی افسانوں کا ذکرکر جائزہ بھی لیا ہے، جس سے اس عہد کی تمام سیاسی، سماجی وتہذیبی تبدیلیاں واضح طور پر نمایاں ہوجاتی ہیں۔ ڈاکٹر اشرف جہاں نئے تخلیق کاروں کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی کی خواہاں نظر آتی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ:
”اردو افسانے میں لمحہ بہ لمحہ بدلتے ہوئے صرف ہندوستان کی ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی تصویر ہے۔ اردو کے قارئین کے لئے زمانے کے بدلتے انداز کو سمجھنے کے لئے نئے افسانہ نگاروں کو پڑھنا علم میں اضافے کے لئے بہت ضروری ہے۔ نئے لکھنے والوں کی کوششوں کو سراہا جانا بھی ضروری ہے، تاکہ ان کے حوصلے بلند ہوں“۔
(اردو افسانے کا بدلتا مزاج)
اپنی اسی سوچ کے تحت آخری مضمون میں انہوں نے 2008 سے2010 تک کے کچھ رسائل میں شامل اپنے پسندیدہ افسانوں کو شامل کیا اور ساتھ ہی ان کا مختصر تجزیہ بھی پیش کیا ہے۔
ڈاکٹر اشرف جہاں نے اپنی ایک کتاب شاد عظیم آبادی کا ناول ”صورۃ الخیال عرف ولایتی کی آپ بیتی کا مختصر ایڈیشن اور ایک جائزہ“ کے تحت اس ناول کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ”صورۃ الخیال“ اور ب’نکم چند چٹوپادھیائے‘ کے بنگلہ ناول ”اندیرا“ پر بھی تنقیدی نگاہ ڈالی ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ شاد نے”اندیرا“ کا مطالعہ نہیں کیاتھا نہ ہی”اندیرا“”صورۃ الخیال“ کا ماخذ ہے۔
مصنفہ کی ایک کتاب ”اردو ناول کے آغاز میں دبستان عظیم آباد کا حصہ“ کے نام سے منظر عام پر آئی، جس میں ’رشیدۃ النساء‘کے ناول”اصلاح النساء“ پر بھی ناقدانہ نگاہ ڈالی گئی ہے ساتھ ہی ”اصلاح النساء“ اور ”صورۃ الخیال“ کا موازنہ کیا گیاہے اور دونوں ناولوں میں یکسانیت کو بھی اجاگر کیا گیاہے۔
الغرض اشرف جہاں کے افسانوں اور تنقیدی مضامین کے ذریعہ ان کی تخلیقی صلاحیت اورتنقیدی شعور کے گل بوٹوں کی خوشبو شعبہئ اردو اور اردو ادب میں بہ آسانی محسوس کی جاسکتی ہے۔ اشرف جہاں کے ادبی کارناموں اور ان کی خدمات کا اعتراف ہمارے نقادوں نے اس طرح نہیں کیا جیسا ان کا حق تھا۔ اس ضمن میں پروفیسر علیم اللہ حالی کا وہ جملہ بھی یاد آتا ہے کہ:
”بہار کی خواتین قلم کاروں میں ڈاکٹر اشرف جہاں کے نام اور کام کو ہنوز وہ استحکام حاصل نہیں ہوسکا ہے جس کی وہ مستحق ہیں“۔
(مضمون ڈاکٹر اشرف جہاں کی ادبی کاوشیں؛ از پروفیسر علیم اللہ حالی؛ رسالہ ”شاعر“ ؛شمارہ۔ مارچ2016؛ ص۔17)
مگر مارچ 2016 میں مشہور ادبی رسالہ ”شاعر“ نے ایک خصوصی گوشہ اشرف جہاں کے لئے نکال کر ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ہمیں دعوت دی ہے کہ ہم مزید اپنی ادیبہ کے کارناموں پر مختلف زاویے سے روشنی ڈالیں۔

