حسّانؓ بن ثابت عربی میں نعتیہ قصیدہ گوئی کے امام ہیں اور محسن کاکوروی اردو نعتیہ قصیدہ نگاری کے امام۔دونوں کی شاعری کا میدانِ خاص نعتیہ شاعری ہی ہے۔اگرچہ انھوں نے اپنے اپنے دور کے امرا وسلاطین اور بعض دنیاوی شخصیات کی مدح میں بھی قصیدے لکھے مگرسرورِ کائنات ؐ کی شان میں قصیدہ گوئی کو ان دونوں شعرا نے بالخصوص اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔
حسانؓ کی شاعری کا زمانہ دورِجاہلیت اوردورِاسلام دونوں پر پھیلا ہواہے۔ ان کی عمرکے تقریباً ساٹھ سال زمانۂ جاہلیت میں گزرے اور ساٹھ سال زمانہ ٔ اسلام میں بسر ہوئے۔ جاہلیت کے دورمیں وہ غسّان کے بادشاہوں کے لیے مدحیہ قصیدے کہتے ، جن پر انھیں گراں قدر انعامات سے نوازا جاتا تھا لیکن جب حسان حلقہ بگوش اسلام ہوئے تو انھوں نے غسانی بادشاہوں کی مدح یک لخت چھوڑدی اور پیغمبر اسلام ؐ کے لیے اپنی شاعری کو وقف کردیا۔بقول احمد حسن زیات’’اب آنحضرتؐ ہجرت کرکے مدینے پہنچے تو انصار کے ساتھ حسان بھی مسلمان ہوگئے اور اپنی زندگی آنحضرت ؐکی مدح وحمایت میں وقف کردی۔‘‘ (تاریخ ادب عربی، از احمدحسن زیات، ص ۱۳۵۔۱۳۴)
محسن کاکوروی کم عمری ہی سے نعت گوئی کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔ان کا پہلا قصیدہ جو ۱۶؍سال کی عمر میں کہا گیا وہ بھی نعتیہ ہی تھا۔اس کے بعد جوں جوں عمر بڑھتی گئی ، آنحضرتؐ سے حسان کی عقیدت میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔ پروفیسر نورالحسن نقوی لکھتے ہیں:
’’محسن کاکوروی نے اپنی شعری صلاحیت کو صرف نعت کے فروغ کے لیے وقف کردیا۔کہاجاتاہے کہ بچپن میں وہ خواب میں سرورِ کائنات ؐ کی زیارت سے مشرف ہوئے تھے۔اس کے بعد عشقِ رسولؐ سے ایسے سرشار ہوئے کہ نعت گوئی کو ہی اوڑھنا بچھونا بنالیا۔‘‘(تاریخِ ادب اردو، ص۱۴۷)
مندرجہ ذیل شعرسے ان کی طبیعت کے میلان کا اندازہ کیا جاسکتاہے ؎
ہے تمنا کہ رہے نعت سے تیری خالی
نہ مراشعر، نہ قطعہ، نہ قصیدہ، نہ غزل
محسن نے بعض دنیاوی شخصیات کی شان میں بھی مدحیہ قصیدے کہے ہیں،لیکن سچ یہ ہے کہ وہ ان میں صرف رسمِ دنیا نبھاتے ہوئے نظرآتے ہیں ۔دراصل ان کی طبیعت کا میلان اس طرف تھا ہی نہیں ، ان کے قلب وذہن میں تو صرف سرورِکائناتؐ تھے۔ وہی اس لائق تھے کہ ان سے اپنی عقیدت کا بھرپوراظہار کیاجائے ، ان کے سامنے اپنے فن کو سپرد کردیا جائے ۔ مندرجہ ذیل اشعارسے اس کا اندازہ کیا جاسکتاہے ؎
سِوا تیرے کسی کی مدح کرنا جن کا شیوہ ہے
یہ سچ ہے وہ لیے پھرتے ہیں جھوٹا قفل ابجد کا
یہ خواہش ہے کروں میں عمر بھر تیری ہی مداحی
نہ اٹھے بوجھ مجھ سے اہلِ دنیا کی خوشامد کا
حسان بن ثابت اور محسن کاکوروی نے سرورِ کائنات ؐ کی شان میں جو قصیدے کہے وہ گہرے جذبات اور عقیدت ومحبت میں ڈوب کر کہے ہیں ۔ رسولِ ؐخدا کی شان میں کہے گئے دونوں کے قصائد ان کے دل کی کیفیت کی ترجمانی کرتے ہیں اور وارداتِ قلبیہ کا گہرا احساس دلاتے ہیں ، اس لیے ان قصائد کو داخلیت کے زمرے میں رکھنا زیادہ صحیح ہوگا۔حسان کے یہ اشعار دیکھیے ؎
مَابَالَ عینُکُ لَا تَنَامُ کَانَّہا
کحلت ماقیبہا بکحل الأرید
متی یبدفی الدجی البہیم جنبہ
یلح مثل مصباح الدجی المتوقد
فمن کان أو من یکون کاسمائٍ
نظام لحق أورنکال لملحد
’’تیری آنکھ کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ سوتی نہیں گویا اس کی پتلیوں کو آشوب کا سرمہ لگادیا گیا ہے۔سیاہ رات میں جب آپؐ کی جبینِ مبارک نظرآتی ہے تو ایک چمک ہوتی ہے جیسے تاریک رات میں کوئی روشن شمع ہو۔ کون احمدؐ سا ہوا ہے یا ہوگا، حق کا پاسبان ، ملحد کے عبرت ناک انجام کا باعث۔‘‘
اب محسن کے یہ اشعار دیکھیے جو ان کے دل کی گہرائیوں سے نکل کر آئے ہیں ؎
سب سے اعلیٰ تری سرکار ہے سب سے افضل
میرے ایمانِ مفصّل کا یہی ہے مجمل
نامِ احمدؐ بہ زباں سرّ بلا میم بہ صدر
لب پہ صلّ علیٰ دل میں مرے عزّ و جل
ان اشعار میں شوکتِ الفاظ بھی موجود ہے ، عمدہ تشبیہات اور تخیل کی کارفرمائی کے ساتھ جذبات واحساسات بھی ، اور عقیدت وحقیقت بھی۔
حسان بن ثابت اورمحسن کاکوری دونوں اپنے قصائد میں اس بات کے آرزومند ہوئے ہیں کہ انھیں سرورِ کائنات ؐ کی صحبت حاصل ہو، دونوں کی آپؐ کے بغیرطبیعت نہیں لگتی۔ حسان کی خوش نصیبی یہ ہے کہ انھیں نبیؐ کی سرپرستی حاصل ہوئی ، آپؐ کے ساتھ رہنے کا انھیں موقع ملا ، لیکن جب آپؐ اس دنیاکو الوداع کہہ گئے تو حسان رضی اللہ عنہ کو گہرا صدمہ پہنچا اور انھیں یہ وسیع وعریض اور خوبصورت دنیا تنگ و بے کیف نظرآنے لگی۔ اس کے بعد انھوں نے جو قصیدہ کہا اس میں زبردست سوز ودرد موجود ہے۔جیسے دل کی گہری تکلیف اورزخمی روح اشعار کے قالب میں ڈھل کر زبان کے راستے سے باہر آگئی ہو۔ اشعار دیکھیے : (یہ بھی پڑھیں دورِجاہلی کا روشن خیال قصیدہ گو شاعر : زہیر بن ابی سلمی – یوسف رامپوری)
’’ حضورؐ کے بعد مدینہ کی سرزمین ویران وسنسان دکھائی دیتی ہے۔اب میں اہل مدینہ کے ساتھ کیسے بیٹھوں گا۔وائے حسرت افسوس میں نے جنم ہی نہ لیا ہوتا۔ میرے ماں باپ اس نبیِ کامل پر فدا ہوں جو یوں دوشنبہ کو ہمیں داغ مفارقت دے گیا۔میرے آقا میں آپ ؐکے وصال کے بعد از ہوش رفتہ بن گیا ہوں ۔کاش مجھے آج ہی کوئی کالاسانپ ڈس لے تاکہ میں اپنے آقا ومحبوب سے جا ملوں۔کاش میری نسبت اللہ کا بلاواآجائے اور میں آج ہی کے دن یا کل رحلت کرجاؤں۔۔۔اللہ کریم اور جو اس کے عرش کو گھیرے ہوئے ہیں اور جتنی پاک مخلوق ہے، سب بابرکت احمدؐ پر درود بھیجیں۔‘‘(عشق رسولِ کریم، ص ۳۴۷،۳۷۵، از نواز رومانی ،سال طباعت ۲۰۰۰ء)
محسن کا حال بھی کچھ ایسا ہی نظرآتا ہے۔وہ بھی دنیا سے بیزار دکھائی دیتے ہیں اور دیدارِ احمدؐ کے مشتاق ہوتے ہیں۔کہتے ہیں ؎
دین ودنیا میں کسی کا نہ سہارا ہو مجھے
صرف تیرا ہو بھروسہ ، تری قوت، ترابل
آرزو ہے کہ رہے دھیان ترا تادمِ مرگ
شکل تیری نظرآئے مجھے جب آئے اَجل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برنگِ زر چڑھے سونا مرا میزانِ محشرپر
اٹھوں میں قبر سے مخمور تیری چشمِ اسود کا
فرشتے دیکھ کر مجھ کو کہیں دیوانِ محشر میں
جگہ خالی کرو مدّاح آتا ہے محمدؐ کا
ترے دربار میں ہر وقت رہنے کی اجازت ہو
مجھے سرکار سے خلعت ملے عیشِ مخلد کا
مدحیہ اشعار میں دونوں ہی شعرا بلندی پر نظرآتے ہیں اور بھرپورعقیدت ومحبت کا اظہار کرتے ہوئے آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہیں ۔ حسان نے کہا ؎
اَغرّ عَلیہِ لِلنُّبوۃِ خَاتمُ
مِن اللّٰہِ مَشہُود یَلُوح وَیَشْہَدُ
’’یعنی آپ بڑے خوش اخلاق وخصال ہیں،آپؐ کے پاس خاتم نبوت ہے جس کی گواہی خود اللہ نے دی ہے۔‘‘رسول اللہ کی شان میں مندرجہ ذیل مدحیہ اشعار بھی زبردست اہمیت کے حامل ہیں:
وَاَحْسَن مِنْکَ لَمْ ترقطْ عَینِی
وَأَجمل مِنکَ لَم تَلِد النِّسَائُ
خُلِقْتَ مُبرّا من کُلِّ عَیبٍ
کَأنَّکَ قَد خُلِقْتَ کَمَا تَشَاُء
’’آپ سے بڑھ کر حسین شخص آج تک میری آنکھ نے نہیں دیکھا اور عورتوں نے آپ سے بڑھ کر خوبصورت بچے کو جنم نہیں دیا۔آپؐ تمام عیبوں اور برائیوں سے اس طرح پاک صاف پیدا کیے گئے ہیں کہ یوں لگتاہے کہ آپؐ اس طرح پیدا ہوئے جس طرح آپ ؐخود چاہتے تھے۔‘‘
اب آپ ؐ کی شان میں محسن کے مندرجہ ذیل اشعار دیکھیے ؎
اس کی توصیف میں اک شمہ ہے قرآن شریف
کہ لکھا خامۂ قدرت نے بوجہِ احسن
شمس وصفِ رخ ویٰسین ہے وصفِ دنداں
والضحی وصفِ جبیں نور ہے وصفِ گردن
یعنی وہ جس کی ہوئی ذات سراپا برکات
باعثِ خلقِ زماں موجبِ ایجادِ زمن
محسن کا کمال یہ ہے کہ وہ عقیدت ومحبت کا اظہار کرتے ہوئے قوتِ متخیلہ کو کام میں لاتے ہیں۔ ان کا مشہورقصیدہ ’’سمت کاشی سے چلا جانب متھرا بادل ‘‘اسی نوع کا قصیدہ کا ہے۔اس میں انھوں نے دوتہذیبوں کوپیش کیا ہے ۔ایک طرف کفر و شرک کا زور دکھایا ہے اور دوسری طرف اسلام کا غلبہ ۔ جس انداز سے یہ قصیدہ کہا گیا ہے وہ بڑانرالا ہے ۔ اس میں ضدین کا اجتماع ہے۔بقول محمدحسن عسکری:
’’اس قصیدے میں سب سے گہرا اجتماعِ ضدین کفر اور اسلام کا ہے۔ امیر مینائی اور خود محسن نے تشبیب کا جواز پیش کرتے ہوئے یہ شرعی حیلہ تو ضرور نکالاہے کہ قصیدے میں نورِ ظلمت کفر پر غالب آتے دکھایاگیا ہے۔یہ بات کچھ ایسی غلط بھی نہیں۔‘‘(اردو قصیدہ نگاری،مرتب ام ہانی اشرف، مضمون’’ محسن کاکوروی‘‘ ص۲۵۰ از محمد حسن عسکری)
یہ اشعار دیکھیے ؎
سمتِ کاشی سے چلاجانب متھرا بادل
برق کے کاندھے پہ لاتی ہے صباگنگاجل
کالے کوسوں نظرآتی ہیں گھٹائیں کالی
ہند کیاساری خدائی میں بتوں کا ہے عمل
جہاں تک حسانؓ کی نعتیہ قصیدہ گوئی کا سوال ہے تو وہ تخیل کا سہارانہیں لیتے بلکہ سادگی کے ساتھ آپ ؐ کے اوصاف بیان کرتے ہیں۔ نعتیہ شاعری نزاکت کی متقاضی ہے۔ ذرا غفلت یا لاپرواہی شاعر کو کہیں سے کہیں پہنچا سکتی ہے۔اگر شعرشانِ رسالت سے کم معیارکا ہے تومشکل اور اگر شانِ رسالت سے بلند ہوکر شعر کہاگیا تو مشکل۔ حسان بن ثابت کا کمال یہ ہے کہ وہ اس مشکل راہ پر آسانی کے ساتھ چلتے ہیں اور کہیں ان کے قدم لغزش نہیں کھاتے۔مندرجہ ذیل اشعار سے ان کی خوبیٔ شاعری کا اندازہ کیا جاسکتاہے :
’’ آپؐ پر مہرِ نبوت درخشاں ہے۔اللہ کی طرف سے وہ دلیل ہے، چمکتی ہے اور گواہی دیتی ہے۔اللہ نے اپنے نبی کا نام اپنے نام سے مربوط کردیا ، اس لیے مؤذن پانچوں وقت نماز میں اشہد ۔۔۔۔کہتا ہے ۔یہ ایسے نبیؐ ہیں جو ناامیدی اور انبیا کے سلسلۂ بعثت کے طویل وقفے کے بعد ہم تک آئے اور اس وقت آئے جب زمین پر بتوںکی پرستش ہورہی تھی۔یہ ایک روشن چراغ ، روشنی دینے والے اور ہادی بن کر آئے جن کی چمک ایسی ہے جیسے ہندی تلوار چمکتی ہے۔‘‘(نقوش ،رسول نمبر جلد ۱۰، شمارہ ۱۳۰، جنوری ۱۹۸۴ء)
حسان کی اس سادگی میں حسن بھی ہے اوربھرپور کشش وتاثیر بھی۔یہ بات ہمیں محسن کی شاعری میں نظر نہیں آتی۔ محسن اپنی نعتیہ شاعری میں زور پیدا کرنے کے لیے تخیلات کا سہارا لیتے ہیں،الفاظ کی گھن گرج پیدا کرتے ہیں اور تراکیب وتشبیہات کا طمطراق دکھاتے ہیں۔بقول ان کے صاحبزادے محمد نورالحسن’’مضامین کی بلندپردازی،الفاظ کا شان وشکوہ، بندش کی چستی ان کا خاصۂ طبیعت ہے‘‘۔
نعتیہ شاعری کی کسوٹی پر حسان زیادہ کھرے اترتے ہیں۔اس لیے حسان کی نعتیہ قصیدہ گوئی کونعتیہ شاعری کا معیار بنایاجانا زیادہ مناسب ہوگا۔محسن کی نعتیہ قصیدہ گوئی کا انداز بہت سی جگہوں پر حسان بن ثابت کی نعتیہ قصیدہ گوئی سے الگ ہے۔ انھوں نے نعتیہ اشعار کہتے ہوئے طرح طرح سے مضامین باندھے ہیں اور ایسے بھی اشعار کہے ہیں جن پر اعتراضات کیے گئے ہیں ۔جیساکہ ان کے قصیدہ ’’مدیح خیرالمرسلین‘‘کی تشبیب کو سوالات کے گھیرے میں لیا گیا۔ اگرچہ ان کے جوابات خود محسن نے دے دیے ہیں مگر پھر بھی ان کے اس قصیدے کو پڑھنے کے بعد قاری یا سامع کے ذہن میں بعض سوالات ضرور ابھرتے ہیں۔حسان کے قصائد اس طرح کے گنجلک مضامین سے پاک ہیں۔ ان کے نعتیہ قصیدوں میں تعقیدِ معنوی نہیں پائی جاتی۔ اگر محسن ضرورت سے زیادہ قوتِ متخیلہ کا استعمال نہ کرتے تو وہ نعتیہ قصیدہ گوئی میں اور اونچا مقام حاصل کرلیتے ۔ حسان کے برابر وہ ہوتے یا نہیں ؟ اس بارے میں اس لیے یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتاکہ حسان خود سرورِکائناتؐ کے تربیت یافتہ تھے ، آپؐ نے ان کی شاعری کی تعریف کی تھی اور انھیں شاعری کے ذریعہ دفاعِ اسلام کی تلقین بھی کی تھی۔
حسان نے اپنے بعض نعتیہ قصائد کی تشبیب میں تغزل کے اشعار ضرور کہے ہیں لیکن وہ صرف روایتی انداز کے ہیں ،پھر حسان کے یہاں تشبیب بہت مختصر بھی ہوتی ہے اس کے برعکس محسن کاکوروی نے تشبیب میں بڑی زورِ بیانی دکھائی ہے اور اسے کافی طول وطویل کردیا ہے۔تشبیب میں اپنے قدما کی پیروی کرتے ہوئے محسن تغزل کا رنگ پیدا کرتے ہیں لیکن وہ اس میں کچھ زیادہ ہی شوخی کا مظاہرہ کربیٹھتے ہیں جو مقامِِ نعت کے مطابق محسوس نہیں ہوتی ۔چند اشعار دیکھیے ؎
گھر میں اشنان کریں سرو قدانِ گو کل
جاکے جمنا پہ نہانا بھی ہے اک طولِ امل
دیکھیے ہوگا شری کرشن کا کیوںکر درشن
سینۂ تنگ میں دل گوپیوں کا ہے بے کل
اس شوخی کو محمدحسن عسکری نے محسن کاکمال وامتیاز متصور کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں:’’موضوع کے تقدسّ اور بیان کی شوخی کے اجتماعِ ضدین ہی سے نعت میں ان کا امتیازی رنگ پیدا ہوا ہے ‘‘۔بلاشک وشبہ اس نرالے انداز نے انھیں ضرور امتیاز عطاکیا مگر سوال یہ اٹھتاہے کہ نعت کے مقام و منصب کے اعتبار سے اس طرح کا انداز اختیارکرنا کیامناسب ہے؟ کعب بن زہیر کے قصیدے ’ بانت سعاد‘ کی تشبیب بھی تغزل کے گہرے رنگ میں رنگی ہوئی ہے مگر اس کے بارے میں یہ کہاجاتا ہے کہ تشبیب کے اشعار انھوں نے اس وقت کہے تھے جب وہ اسلام نہیں لائے تھے۔ مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد ان کے قصیدوں کا انداز بدل گیا تھا ۔ایسا لگتا ہے کہ محسن نے اپنے نعتیہ قصائد میں صنف قصیدہ کی گھن گرج پیدا کی ہے اور اپنے عہد کے مطابق اس کے تقاضوں کو پورا کیا ہے اور اس میں وہ کامیاب بھی ہوئے ہیں۔انھیں اردوکے سب سے بلند نعتیہ گو شاعر ہونے کا شرف حاصل ہوا۔بہرکیف حسان اور محسن کے درمیان اتنی مماثلت ضرور ہے کہ دونوں کے قلوب رسولؐ خدا کی گہری عقیدت سے منور ہیں،دونوں کا خصوصی میدانِ شاعری ایک ہے ۔ وہ عربی کے نعتیہ قصیدوں کے سب سے بڑے شاعر ہیں اور یہ اردو کی نعتیہ قصیدہ گوئی کے۔
Mob: 9310068594
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

