خاموش شجر – ہما خان علیگ

by adbimiras
0 comment
خاموش شجر

ابا، پاپا، ڈیڈی، ابو
ایسے ہی الفاظ کئ
سر پہ سجاۓ پاس کھڑا ہے
جیسے سایہ دار شجر
جام شفقت
پیار کا ساغر
مثل سمندر
خاموشی سے
گھر کے اندر
مدت سے وہ رہتا ہے
اس کے سینے میں بھی ہر دم
پیار امنڈتا رہتا ہے
گھر کے اک اک فرد کی
فکر اسے بھی ہوتی ہے
رنج و الم میں چپکے چپکے
وہ بھی روتا رہتا ہے
لیکن آنسو دل کے باہر
لانے سے وہ ڈرتا ہے
ماں جیسا ہی دل ہے اس کا
درد بھی ماں ہی جیسا ہے
لیکن دل میں درد کو اپنے
دفن بھی کرتا رہتا ہے
کیوں کہ ہے وہ مرد ذات سے
آنسو اس کو زیب نہیں
گر لاتا ہے غم کو باہر
پھر تو صاحب باپ نہیں…..

ہما خان علیگ
شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی

You may also like

Leave a Comment