اُردو زبان و ادب کے معروف قصیدہ نگار، غزل گو اور سہرا نگار استادِ شہ،خاقانیِ ہند شیخ محمدابراہیم ذوقؔ 1789 کوشیخ محمد رمضان کے گھر میں پیداہوئے اور 1854 میں اس جہانِ فانی سے گزر گئے۔ ولی دکنی نے اُردوشاعری کی جو بنیادیں رکھیں عہدِ میرؔ تک وہ کافی مضبوط اور پائیدار ہوچکیں تھیں۔لہذا ذوقؔ اور معاصرین ذوقؔ نے انہی بنیادوں پر اُردو شاعری کی عمارت کھڑی کی اور اُسے پورے بامِ عروج پر پہنچایا۔ذوقؔ اور معاصرین ذوقؔ نے اُردو زبان وادب کی جوخدمت کی ہے اس سے کوئی صاحب ذوق بھی انکار نہیں کرسکتا، زبان وبیان کے حوالے سے ذوقؔ کا کلام آج بھی اپنی ایک منفرد حیثیت اور پہچان رکھتاہے۔کلام ذوقؔ کو آج بھی ذوق سلیم سے پڑھا جائے تو وہی لطف اور مزہ دے گا جوکہ عہد ذوقؔ کے قاری کو ملا کرتا تھا مگر آج شاعری اور تنقیدِ شعر کے معیارات تبدیل ہوچکے ہیں اس لئے آج کلام ِ ذوقؔ کی وہ اہمیت وافادیت نظر نہیں آتی جوعہد ذوقؔ میں تھی۔یہی وجہ ہے کہ آئے روز ذوقؔ اور کلام ذوقؔ غیر معروف ہوتا جارہا ہے اور اُردو ادب میں ذوقؔ شکنی کی روایت پروان چڑھتی جارہی ہے۔ذوقؔ سے اتنی بے مروتی و بے اعتنائی آخر کیوں ؟ اس بے مروتی وبے اعتنائی کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں ؟ اس مضمون میں انہی چند وجوہات کا اجمالی سا جائزہ پیش کیا جارہا ہے کہ آیا وہ کون سی وجوہات ہیں جن کو اساس بناکر ذوقؔ مرحوم سے اتنی لاپرواہی برتی جانے لگی ہے ؟ (یہ بھی پڑھیں غالبؔ کی قصیدہ گوئی: ایک تنقیدی مطالعہ – ڈاکٹر یوسف رامپوری)
ذوقؔ شکنی کی اولیں وجہ ذوقؔ کی قصیدہ خوانی ہے۔ کیوں کہ عہد حاضر میں قصیدہ خوانی کو خوشامد کی بنا پرمعیوب سمجھا جاتا ہے حالانکہ عہد ذوقؔ میں یہ صنف شعر پورے جوبن پرتھی اور اس دور کا ہرشاعر قصیدہ خوانی میں طبع آزمائی کو باعث فخر و افتخارسمجھتا تھا اور قصیدہ شعرا کو پرکھنے کا معیار اور پیمانہ تھا جو شاعر قصیدہ کہنے پرقادر ہوتا وہ پورا شاعر اور جو اس صنف شعر میں طبع آزمائی نہ کرسکتا ادھورا شاعر کہلاتا تھا۔ اس لئے ہرکوئی قصیدہ نگاری میں طبع آزمائی کرکے اپنے علم و ہنرکے جوہر دکھلایا کرتا تھا۔قصیدہ کہنے کی دوسری اہم وجہ ذریعہ معاش تھا وہ دور بادشاہت پر مبنی دور تھا جیسے بادشاہ تو کیا عام آدمی بھی اپنی تعریف وتوصیف سننا پسندکرتا ہے اور تعریف کرنے والے کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے ایسے ہی مغلیہ بادشاہ اپنی تعریف وتوصیف کے دلدادہ تھے، انہوں نے اپنی تعریف وتوصیف کے لئے درباری شعرا رکھے ہوئے تھے جو ہمہ وقت ان کے قصیدہ خواں رہتے تھے اور ان کی ہر ادا پرکوئی قصیدہ کہہ کر ان کی خدمت میں پیش کرتے اور انعام و اکرام پاتے ، ہرکوئی دولت وشہرت کا پیاسا ہوتا ہے لہذا اگر ذوقؔ نے ذریعہ معاش کے لئے درباری زندگی کو اپنایا اور قصیدہ خوانی کی تو کوئی عیب نہیں تھا، اس کے بغیر کوئی چارا نہ تھا اک شاعر شاعری کے علاوہ کربھی کیا سکتا ہے؟ مرزااسداللہ خاں غالبؔ جیسا انا پرست شخص بھی قلعہ معلی تک رسائی چاہتا تھا اور شاعری کو ذریعہ معاش بناناچاہتا تھا لیکن ذوقؔ کے جیتے جی یہ کام نہ ہوسکا مگر غالب ؔ کے دل میں ذوقؔ کے خلاف رشک کی آگ برابر جل رہی تھی جس کا اظہار غالب ؔ نے اپنی شاعری میں بھی کیا ہے۔ بقول راقم ذوقؔ سے غالبؔ کے شکوہ وشکایت کا انداز کچھ یوں تھا۔ (یہ بھی پڑھیں ذوق کی قصیدہ نگاری – امیر حمزہ )
؎ ہجوگوئیوں نے ہم کو ماراہے
قصیدہ خوانی نے تم کو تارا ہے
مرزااسداللہ خاں غالبؔ قلعہ تک رسائی چاہتے تھے اور ذوقؔ کی مقبولیت پر مارے رشک کے دل ہی دل میں کڑھتے تھے مگر دل کی باتیں کب تک دل میں رہتی ہیں ؟ اکثر اشعار کی صورت میں بے ساختہ زبان پے آجایا کرتیں ہیں یہی کیفیت غالبؔ کی تھی کہ ذوقؔ کے بارے میں اکثر اشعار میں دل کی بات کہہ جاتے تھے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔
؎ ہوا ہے شہ کا مصاحب ، پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شعر میں غالب ؔ کی آبرو کیا ہے
؎ ہم سخن فہم ہیں ، غالبؔ کے طرف دار نہیں
دیکھیں اس سہرے سے کہہ دے کوئی بہتر سہرا
ذوقؔ کی وفات (1854) کے بعد مرزاغالبؔ کودربارمیں جگہ ملی اور غالب ؔ نے بھی قصیدہ خوانی میں اپنے جوہر دکھلائے مگر جلد ہی 1857 کا غدرہوگیا جس وجہ سے شاہانہ رسم ورواج بھی بادشاہت کے ساتھ ہی دم توڑگئے مثل مشہور ہے ” نہ رہے بانس نہ بجے بانسری“ والی بات ہوئی کہ نہ رہادربار اور نہ رہے درباری۔لہذاقصیدہ خوانی کاباب بندہوا اور بعدمیں قصیدہ خوانی معیوب سمجھی جانے لگی جس وجہ سے قصیدہ خواں بھی قصیدہ کی بھینٹ چڑھ گئے اور ذوقؔ جیسے عظیم شاعر بھی صفحہ ہستی سے مٹتے گئے آج ان کے ناموں تک لوگ واقف نہیں رہے، مگر ذوقؔ صرف قصیدہ خواں نہیں تھا بلکہ غزل گو بھی تھاجس وجہ سے آج تک کچھ اس کانام چلا آرہاہے۔
ذوقؔ شکنی کی وجہ دوم حیات ذوقؔ میں کلام کی اشاعت نہ ہونا ہے۔ اگر ذوقؔ اپنی زندگی میں اپنے کلام کی اشاعت کروا لیتے تو آج اتنے گمنام شاعر نہ ہوتے کیوں کہ اگر وہ خود اشاعت کرواتے تو اپنے سارے کلام کو مدنظر رکھ کر اس میں سے انتخاب کرتے کہ کون سا کلام منظرعام پر آئے اورکون ساکلام تلف کردیا جائے؟ تاکہ بہتر کلام منظر عام پر آسکے۔ آج غالبؔ ، ذوقؔ کے مقابلے میں اسی وجہ سے معروف ٹھہرا ہے کہ اس نے اپنے کلام کا انتخاب کرکے دیوان شائع کروایا لہذاکلام ناقص کوتلف کردیاگیااور بہترکلام منظرعام پر آیاجس سے آج غالب اردو ادب کا بہترین شاعر قرارپایا اگر غالب بھی انتخاب نہ کرتا اوراس کابھی ساراکلام منظرعام پرآتاتواتنامقبول نہ ہوتا۔ ذوقؔ نے اپنی زندگی میں اپنے کلام کی اشاعت کی طرف کوئی توجہ نہ کی حالانکہ ہرکوئی اپنے کلام کی اشاعت چاہتاہے،آج موجودہ عہدمیں توہرکوئی صاحب کتاب ہونے کی فکرمیں ہے۔ بقول طاہرہ مسعود۔
؎ آج کے دور کے سبھی شاعر
اپنی اپنی کتاب رکھتے ہیں
ذوقؔ کی زندگی میں کوئی مجموعہ منظرعام پرنہ آسکااوران کی وفات کے بعد ان کے عزیزشاگردحافظ ویران نے اپنی یاداشت کی بناپر ذوقؔ کاکلام لکھوایا کیوں کہ وہ نابیناتھے اس لئے خود نہ لکھ سکتے تھے بلکہ اپنے دوست انور جوذوقؔ کے شاگردتھے ان لکھوا کر شائع کروایا۔ مگر مجموعہ کلام منظرعام پر آنے کی دیرتھی کہ ذوقؔ کے شاگردعزیز مولانامحمدحسین آزادؔ کو بہت دکھ ہوا کہ استاد شہ اورہزاروں شاگردوں کوصاحب دیوان کرنے والے سخن ور کے حصے میں یہ معمولی سا مجموعہ کلام آیا؟؟؟ لہذاانہوں نے کلام ذوقؔ کی ترتیب وتدوین کادوبارا کام شروع کیا اور اپنے پاس موجود ہ مسودات میں موجود کلام ذوقؔ کوشامل کرکے ۹۸۸۱ء میں لاہور سے کلام ذوقؔکوشائع کروایا۔ لیکن مجموعہ منظرعام پر آنے کی دیرتھی کہ اس پر طرح طرح کے الزامات لگائے جانے لگے کہ آزاد نے اپنی طرف سے کلام لکھ کر اس میں شامل کیا۔ جن ناقدین نے باقاعدہ آزادؔ کے کام پر تنقید کی ان میں ڈاکٹر اسلم فرخی، حافظ محمودشیرانی اور ڈاکٹر عابدپشاوری نمایاں ہیں۔ مواخرالذکر نے تو آزادؔ کوسرے سے ذوقؔ کا شاگرد ماننے سے بھی انکار کردیالہذااس وجہ سے بھی ذوقؔ شکنی کی روایت پروان چڑھنے لگی جو آج تک ختم نہیں ہوئی۔
وجہ سوم ہنگامہ غدر اور شعری روایات میں تبدیلی ذوقؔ شکنی کی بڑی وجہ ثابت ہوئی کیوں کہ عہد ذوق ؔ زبان وبیان اور مبالغہ آرائی پر مبنی معیارات واقدار کادور تھا اور ایک مضمون کو سورنگ سے باندھ کرپیش کرنے کاچرچاتھا مگرہنگامہ غدر کے بعد شعری معیارات وترجیحات میں نمایاں تبدیلی واقع ہوئی ۔ ۷۵۸۱ء سے پہلے مبالغہ جوشاعری کی جان تھا معیوب سمجھا جانے لگا جس وجہ سے کلاسیکی شاعری جو ساری کی ساری زبان اور مبالغے کے سہارے کھڑی تھی زوال کاشکار ہوگئی۔ شاعری میں حقیقت پسندی کواہمیت دی جانے لگی اور کلاسیکی اصناف شعر کی بجائے انگریزوں کی تقلید میں نئی نئی انگریزی اصناف اُردو میں جگہ پانے لگیں جس سے کلاسیکی اصناف کامقام ومرتبہ کم ہوتاگیا اور کلاسیکی شعراکوپس پشت ڈال دیا گیا جس سے آہستہ آہستہ ان کے نام ونشان تک مٹتے گئے انہی میں ذوقؔ بھی تھے لہذا آہستہ آہستہ ان کامقام ومرتبہ بھی کم ہوتاگیا۔
وجہ چہارم مولانامحمد حسین آزادؔ کی شاہکار تصانیف ”آب حیات“ کی اشاعت ذوقؔ شکنی کی بڑی وجہ ٹھہری۔ مولانا محمد حسین آزادؔ، شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ کے شاگرد خاص تھے لہذا انہوں نے ”آب حیات“ میں اپنے استاد کو باقی ہم عصر شعرا کی نسبت زیادہ صفحات پرجگہ دی اور ذوقؔ کی ان باتوں کوبھی صفحات کی زینت بنایا جوعام قارین کے لئے زیادہ اہمیت نہ رکھتیں تھیں اور اس بات کا خودآزادؔ نے اعتراف بھی کیا ہے کہ میں نے بہت سی باتیں ایسی لکھیں ہیں جو عام لوگوں کوفضول سی معلوم ہوں گی۔ اس حوالے سے آزادؔ ”آب حیات“ میں لکھتے ہیں۔
ان کے تحریر حالات میں بعض باتوں کے لکھنے کو لوگ فضول سمجھیں گے، مگر کیاکروں، جی یہی چاہتا ہے کہ کوئی حرف اس گراں بہا داستاں کا نہ چھوڑوں۔ یہ اس سبب سے کہ اپنے پیارے اور پیار کرنے والے بزرگ کی ہربات پیاری ہوتی ہے، لیکن نہیں!اس شعر کے پتلے کا ایک رونگھٹا بھی بیکارنہ تھا۔ ایک صنعت کاری کی کل میں کون سے پرزے کو کہہ سکتے ہیں کہ نکال ڈالو، یہ کام کا نہیں اورکون سی حرکت اس کی ہے؟ جس سے کچھ حکمت انگیز فائدہ نہیں پہنچتا ہے۔ اس واسطے میں لکھوں گا اور سب کچھ لکھوں گا۔جو بات ان کے سلسلہ حیات میں مسلسل ہوسکے گی، ایک حرف نہ چھوڑوں گا۔“
لہذااگر آزادؔ نے اپنے استادکی ہر بات کو صفحات کی زینت بنایا ہے تواس میں قباحت کیا ہے؟؟ ایک اچھے شاگردکے لئے استاد سے بڑھ کر اور کوئی ہوبھی نہیں سکتا اگر آج کا کوئی باادب شاگرد اپنے کسی استاد پرقلم اٹھائے گا تووہ بھی یہی کچھ کرے گا جوکچھ آزاد ؔ نے کیا ہے کیوں کہ شاگردکواستادکی ہربات اچھی لگتی ہے اسے اپنے استاد میں کوئی عیب نظر نہیں آتا اور دوسری اہم بات یہ کہ اگراستاد میں کوئی عیب ہو بھی توایک شاگرداس کو منظرعام پرنہیں لائے گا بلکہ اس پرپردہ ڈالے گا لہذااگرآزادؔ نے ایسا کیاتو انہوں نے کچھ غلط بھی نہیں کیا مگرمرزانوازجماعت سے وہ باتیں ہضم نہ ہوسکیں اور انہوں نے ذوقؔ کو غالب ؔ کے مقابلے میں کم درجے کاشاعرثابت کرنے کا مصمم ارادہ باندھا اور ذوقؔ کوکم درجے کاشاعرثابت کرنے میں لگ گئے۔ اس بات کی طرف ڈاکٹر انورسدید نے اپنی کتاب ”اُردوادب کی مختصرتاریخ“ میں اشاراکیاہے لکھتے ہیں۔”آب حیات‘ میں آزادؔنے ذوقؔ کی جومبالغہ آمیز تحسین کی ہے اس کا ردعمل یہ ہوا کہ بیشتر ناقدین نے ذوقؔ کو غالبؔ سے کم درجے کا شاعر ثابت کرنے کی ٹھان لی۔”
ناقدین نے ذوقؔ کوتوکم درجے کاشاعر ثابت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی مگراس سے بڑاظلم یہ کیا کہ آزادؔ کو ذوقؔ کا شاگرد ماننے سے بھی انکار کردیا۔آزادؔ کو ذوقؔ کاشاگرد تسلیم نہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عابدپشاوری اپنی کتاب ”ذوقؔ اورمحمدحسین آزادؔ“ میں لکھتے ہیں” ہم آزادؔ کو ذوقؔ کا تلمیذ ماننے کو تیار نہیں خواہ کوئی اس پر کتناہی بضد ہو ۔“ لہذا اس طرح کے رویے منظر عام پرآئے جنہوں نے ذوقؔ شکنی کی روایت میں مزید اضافہ کیا اور مرزا نوازجماعت جن کے دل میں پہلے ہی ذوقؔ کے خلاف حسد کی چنگاری بھڑک رہی تھی اس پر تیل کاکام کیا اورانہوں نے ذوقؔ کوکم سے کم تر بناکر پیش کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔
وجہ پنجم 1893 میں مولاناالطاف حسین حالیؔ کی جدید اُردوتنقید کی اولیں کاوش ”مقدمہ شعروشاعری“ کی اشاعت ٹھہری۔ اس کتاب میں مولاناالطاف حسین حالیؔ نے کلاسیکی شاعری خصوصاََ قصیدہ اور غزل کی خوب خبرلی اور مبالغہ آرائی اور الفاظ بندی شاعری کے لئے معیوب قرار پائی۔ حالیؔ نے مغربی معیارات پر اُردو شاعری کوپرکھنے کے پیمانے مہیا کئے اورحقیقت پسندی پرمبنی شاعری کوترجیح دی جانے لگی جس کا افسوس ناک پہلو یہ نکلا کہ زبان وبیان کے شعرا کم درجے کے شعرا میں شمار ہونے لگے اور فکری شعراترجیح پانے لگے لہذا ناسخ، آتش ؔ، شاہ نصیرؔ اور ذوقؔ جیسے شعرا جنہوں نے زبان وبیان کےحوالے سے اپنے خون سے اُردو شاعری کی کھیتی کوپروان چڑھایا تھاان کے کلام کو غیر حقیقی اور مبالغہ آمیز سمجھ کر پس پُشت ڈالاجانے لگااور ان کے کلام کومعاشرے کے لئے زہرقاتل قراردیا جانے لگا اس حوالے سے ڈاکٹر وقاراحمد رضوی اپنی کتاب ”تاریخ جدید اُردوغزل“ میں رقم طراز ہیں "حالیؔ کوغزل پر سب سے بڑا اعتراض یہ تھاکہ یہ صرف حسن وعشق کی شاعری ہے، اخلاق کوبگاڑتی ہے اور یہ بیکاری کا مشغلہ ہے۔ دراصل حالیؔ کے خیالات اس مصنوعی شاعری کے خلاف اعلان بغاوت تھے۔جس کے ذریعہ ناسخؔ، شاہ نصیرؔ اور ذوقؔ نے غزل کو دماغی ورزش اور ذہنی عیاشی کاوسیلہ بنارکھاتھا جومعاشرے کو منجمد بناتی ہے۔ “لہذا اس رجحان کاردعمل یہ ہوا کہ ذوقؔ جیسے زبان وادب کے عظیم سخن ور جنہوں نے ساری زندگی زبان کی خدمت کرتے گزاردی اور اُردوزبان کوفارسی اور عربی سے نکالا اور اُسے ایک الگ پہچان بخشی آخر زمانے نے ان کو ٹھکرا کر فارسی داں طبقے کو خدا بنالیا اور ان کے کلام کوہندوستان کی الہامی کتابیں سمجھ کر سروں کاتاج بنالیا جس سے ذوقؔ شکنی مزید پروان چڑھنے لگی اور اُسے آئے روز بھلایا جانے لگا۔ اور ان سب سے بڑا ظلم یہ ہوا کہ 1947 میں میونسپل کمیٹی دہلی نے مزار ذوقؔ کو منہدم کرکے پاکستان سے آنے والے شرنارتھیوں کے لئے بیت الخلا بنا دیا اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے؟؟ مگر مقام مسرت یہ کہ ابھی کچھ انسانیت پرور لوگ موجود ہیں جوظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں مزار ذوقؔ کے لئے ڈاکٹر خلیق انجم نے آواز اٹھائی اور حکومت سے لڑجھگڑکر 1996 میں مزار ذوقؔ کونئے سرے سے تعمیرکرایا۔
ذوقؔ شکنی کے حوالے سے چند بنیادی وجوہات پر قلم اٹھانے کی ایک طالعمانہ سی جسارت ہے جس میں ذوقؔ شکنی کی اساس کو مختصراََ بیان کیا گیا ہے کہ وہ کون سی بنیادیں ہیں جو ذوقؔ شکنی کوپروان چڑھانے میں معاون ومددگار ثابت ہوئیں۔
عمیر یاسر شاہین
پی۔ایچ۔ڈی اسکالر اردو
یونیورسٹی آف سرگودھا
0303-7090395
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

