حمید شاہد کے ناول ’’مٹی آدم کھاتی ہے ‘‘کو کسی خاص موضوع اور فنی طریقۂ کار سے مختص نہیں کیا جا سکتا ہے کیوں کہ موضوع کے اعتبار سے یہ ناول نہ سیاسی ہے نہ سماجی ،نہ تو رو مانی نہ ہی مذہبی اور تاریخی ۔اسی طرح فنی طور پراس ناول سے حقیقی ،مافوق الفطری ،علامتی ،استعاراتی یا تجریدی جیسی اصطلاحات کو منسوب نہیں کیا جاسکتا ہے ۔پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ناول کو کس خانے میں رکھا جائے ۔دراصل مصنف نے بیانیہ کے مختلف النوع وسائل اور منفرد فنی طریقوں کو بروئے کار لاکر اس ناول کو امتیازی حیثیت عطا کی ہے ۔واقعہ نگاری کے نت نئے انداز کی وجہ سے یہ ناول خا لص ادبی نوعیت کا ہے ،بیانیہ اس قدر تہہ دار اور دلچسپ ہے کہ دوران قرات کسی نظریاتی بحث یاکسی مخصوص نقطہ نظر کی طرف رجوع کرنا تو دور ،خیال بھی نہیں آتا۔اس لیے اس ناول کے تعین قدر کے لیے افسانوی ادب کو آنکنے کے تمام میکانکی اصول ناکافی نظر آتے ہیں ۔ لہذا اس مضمون میں مذکورہ ناول کے ان پہلوئو ں کو اجا گر کیا جائے گا جن کی وجہ سے یہ دوسرے تمام ناولوں سے منفرد و ممتاز ہے اور ان لغزشوں کو بھی جن کی موجودگی کے باوجود ناول کی ساخت پر کوئی ضرب نہیں آئی ۔
ناول کی ساخت تشکیل دینے اور اس کا تانا با ناتیار کرنے میں مصنف کے تخیلاتی ارتفاع کی کارفر مائی اس قدر ہے کہ وہ قاری کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگیا کہ اس کہانی کا ماخذ و منبع ایک تباہ شدہ علاقے میں موجود حویلی کے ملبے میں پڑا ہو ا وہ مسودہ ہے جس کے صفحات غائب ،ورق بوسیدہ اورتحریر شکستہ ہو چکی ہے ۔ واحد متکلم راوی اس واقعہ کو از سر نو اس طرح مربوط کر کے لکھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ جملوں کی ساخت اور لفظوں کی ترتیب تک تبدیل نہ ہونے پائے لیکن اپنی تمام تر احتیاط کے باوجود بار باربھٹک کر و ہ مرکزی کردارکے بجائے اپنے ذاتی واقعات بیان کرنے لگتا ہے ۔اس کا ذاتی تعارف یا اس کی تفصیل یہ ہے کہ وہ خان جی کے گھوڑوں کی دیکھ بھال کرنے والے ملازم کا بیٹا ہے ،جو اپنے باپ کی اس ملازمت سے کراہیت محسوس کرتا ہے ،اسی لیے اہمیت و رتبہ کے اعتبار سے وہ اپنے باپ کوایک چتکبرے بیل سے پست قراردیتا ہے جس کے درد اور چوٹ پر کبھی کبھار مر ہم لگا دیا جاتا ہے مگر اس کے باپ جسے آدمی کہتے ہوئے سینہ جھنجھنانے لگتا ہے ،کے زخم پر مرہم لگانے والا سوائے اس کی ماں کے اورکوئی نہیں ہے ۔اسے اذیت میں مبتلا دیکھ کر اس کے دل میں ٹیس اٹھتی ہے ۔چونکہ باپ اس سے بہت محبت کرتا تھا اس لیے اس سے وابستہ یادیں ازبر ہیں جو بار بار ضابطۂ تحریر میں حا ئل ہو رہی ہیں اور پورے ناول میں یہ یادیں مخل ہیں۔اس واقعہ سے مادیت پرستانہ ماحول کی ا س خود غرضی اور سفاکی کا اندازہ ہوتاہے جہاں حیوانوں اور پیڑ پودوں کے برابر بھی انسان کواہمیت نہیں دی جاتی ہے ۔یہ المیہ صرف کسی مخصو ص خطے کا نہیں بلکہ پوری دنیا اسی میں ملوث ہے ۔
اس ناول کے مطالعہ سے اس احتیاط کا اندازہ ہوتا ہے جو ایک تخلیق کار دوران تخلیق برتتا ہے یا مصنف اپنی تحریر کے سلسلے میں جن اندیشوں اور وسوسوں سے دوچار رہتا ہے کہ آیا اس فن پارہ کی حیثیت کیا ہوگی ، کوئی بیان قار ی کی الجھن اور اکتاہٹ کاسبب تو نہیں بنے گا ؟عام مصنف کے علاو ہ خصو صاً فکشن نگارجن آزمائشوں سے گزرتا ہے اس تجربہ کا عمدہ بیان اس ناول میں موجود ہے ۔مثلاً واحد متکلم کہتا ہے ۔
’’یہ اعصاب تو ڑ دینے والا کام ہے مگر میں اس میں جت گیا ہوں سارے دن کی ذہنی اور اعصابی مشقت کے بعد مجھے تفریح کا کوئی لمحہ چاہیے ہوتا ہے اس کہانی کو مرتب کرتے ہوئے مجھے یوں لگنے لگا ہے کہ جیسے میرا بدن چرخی جیسا ہے جس پر بہت سی رسی لپٹی ہوئی ہے ۔یہ رسی کھینچ کھینچ کر اتنی شدت سے لپیٹی گئی ہے کہ میری پسلیاں دہری ہوگئی ہیں ۔لکھتے ہوئے ،تنے ہوئے اعصاب کی پسلیاں توڑنے والی یہ رسی یوں کھلنے لگتی ہے جیسے چرخی گھوم رہی ہے اور رسی کے سرے سے بندھا ڈول کنویں کی گہرائی میں پانی کی سطح پر جست مارنا چاہتا ہے ۔جونہی کوئی عبارت مربوط ہو کر مفہوم دینے لگتی ہے میرا اندر سانسوں اور دھڑکنوں سے بھر جاتا ہے ،اس چرمی ڈول کی طرح جو پانی پر جست لگاتے ہی اس کی پاتال تک اتر جاتا ہے اور لوٹتے ہوئے یہی ڈول شفاف میٹھے پانی سے اپنے کنارے چھلکا رہا ہوتا ہے ۔ ‘‘۱؎
مندرجہ بالا بیانات جو علی الاعلان واحد متکلم راوی کی طرف سے کیے گئے ہیں اس عرق ریزی اور دیدہ وری کا پتہ دیتے ہیںجن سے گزر کر ایک مؤلف اور مرتب اپنی ذمہ داری کو پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے ۔ا س کے علاوہ راوی نے ذاتی حوالے سے بعض ایسے نامانوس اشارے کیے ہیں جن کی تفصیل خود بخود آخر میں سامنے آجاتی ہے ۔مثلاً ایک جگہ وہ اپنے متعلق کہتا ہے کہ وہ محض یاد داشتوں کا محر ر نہیں ہے ۔قاری اس کے اس بیان کو سمجھنے سے قاصر رہتا ہے ۔لیکن آخر میں کھلتا ہے کہ اس نے ایسا کیوں کہا تھا ۔اپنے حوالے سے ہر جگہ اس نے یہ ثبوت مہیا کیے ہیں کہ اس کی حیثیت مرکزی کردار سے تعلق رکھنے والے کرداروں کے ملازم کے بیٹے اورقصہ پڑھ کر سنانے والے کی ہے ۔لیکن اچانک اس پر ایسے حقائق منکشف ہوتے ہیں جو اب تک پردہ خفا میں تھے ۔واحد متکلم اپنی ماں اور باپ کے مرنے کے بعد خان جی کی حویلی میںاپنے باپ کی جگہ سنبھالنا شروع کر دیتا ہے ۔اچانک خان جی کی شفقت کا محور و مرکز بن جاتا ہے ۔ خان جی کے بدلے ہوئے رویے سے وہ حیران ہوتا ہے اس کی اس حیرانی میں مزید اضافہ اس وقت ہوتا ہے جب خان جی حویلی میں موجود افراد کے سامنے اس کی ماں کے ساتھ اپنے نکاح کامستند ثبوت پیش کرتے ہوئے اسے اپنا حقیقی بیٹاقبول کر لیتے ہیںخان جی کے اس اقرار کے بعدوہ زمین و جائیداد کا وارث بننے کے خواب دیکھنے لگتا ہے ۔اور اس کے والدین کی یادیں دھندلی پڑنے لگتی ہیں ۔وہ بذات خود کہتا ہے:۔
’’جب خان جی کی عنایات کا سلسلہ دراز ہوا تو میںنے اپنے باپ اور اس کی موت کی بابت سوچنا ہی چھوڑ دیا اور جس روز خان جی نے مجھے حویلی کے اندر بلا کربیگم جان اور زر جان سے میری نئی حیثیت میں ملوایا میں نے اپنے باپ کو اپنی یاد داشتوں سے مکمل طور پرمنہا کر دیا ۔میرا باپ اب وہ نہیں رہا تھا جو لید اکٹھی کرتا کرتا مر گیا تھا بلکہ میں چھوٹے خان جی کی اولاد تھا ۔یہ انکشاف ایسا تھا کہ اگر میرا باپ زندہ ہوتا تو میں اس کی گردن اپنے ہاتھوں سے دبا کراسے مار سکتا تھا ۔خان جی نے اٹھ کر مجھے چھاتی سے لگایا ہوا تھا ۔وہ نکاح نامے کا پرچہ اپنی بیوی اور بیٹی کے سامنے لہرا کر انہیں یقین دلا چکے تھے کہ میں ان کی جائز اولاد تھا ۔‘‘۲؎
واحد متکلم کے اس بیان سے بآ لا خر اس کی شخصیت کا تعین ہو جاتا ہے جو ابتدا سے خود کو یادداشتیں اکٹھی کرنے والا بتا کر کہانی تحریر کر رہا تھا ۔لیکن ناول کے آخر میں اس کے تئیںخان جی کا رویہ دیکھ کر اس اس کی اس شناخت کے متعلق قاری طنز و تمسخر کی صورت پیدا ہوتے ہوئے محسوس کرتا ہے اور اسے یہ فیصلہ کرنے میں بالکل وقت نہیں لگتا کہ موجودہ دور کی مسخ ہوتی ہوئی انسانی شناخت کامسئلہ بھی اس ناول کو ایک اہم عنصر ہے ۔
عموما ً واحد متکلم راوی کے ذریعہ بیان ہونے والے واقعات سوانحی نوعیت اختیار کر لیتے ہیں یا شخصی تاثر دینے لگتے ہیں لیکن اس میں واحد متکلم راوی کے بیانات میں معروضیت ملتی ہے اور ایک ہی پلاٹ پر بیک وقت دو متکلم راوی وضع کیے گئے ہیں اور دونوں یکساں خصوصیت کے ساتھ یعنی مصنف کے کسی ذاتی حوالے سے بے خبر ایک اجنبی کی حیثیت سے آخر تک ناول کے کینوس پر موجود رہتے ہیں ۔واضح رہے کہ اردو ناول کی روایت میں پریم چند ،مرزا رسوا سے لے کر ترقی پسندی ،جدیدیت اور عہد رواں تک اکا دکا ناول ہی ایسے ہوں گے جن میں مصنف کی شخصیت کا شائبہ نہ ہو خواہ وہ واحد متکلم کے بجائے ہمہ داں راوی کے ذریعہ ہی کیوں نہ بیان ہوئے ہوں ۔اس ناول کے پہلے باب کے پہلے عنوان ’’کچھ ناواجب آدمی کے بارے میں ‘‘کے تحت بیان ہونے والے واقعہ میں واحد متکلم راوی زیر ترتیب کہانی کے مرکزی کردار کا تعارف ان لفظوں میں کراتا ہے ۔
’’حویلی کے بغلی حصے میں سب سے الگ ہو کر ایک لمبی چپ میں رہنے والا یہ آدمی شروع سے ایسا نہیں تھا ۔جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا تب یہ شخص فوجی وردی میں آیا تھا اور اس پر پڑی نظر ٹکتی نہ تھی۔۔۔اس آدمی کے جثے پر کلف لگی خاکی وردی تھی جو سورج کی کرنوں کو لوٹا کر سنہری ہو جانے والے گھوڑے کی جلد جیسی لگ رہی تھی ۔وہ سیاہ پالش سے چمکتا بھاری بوٹ رکاب میں اڑس کر یوں پلک جھپکنے میں سنہریے پر سوار ہو گیا تھا کہ میں کاٹھی کے پیچھے سے گھوم کر دوسری طرف جاتی اس کی ٹانگ کو پوری طرح نہ دیکھ پایا تھا پھر جب اس نے سنہریے کے باگ کے دونوں لڑ ایک ہاتھ میں تھام کر قدرے فضا میں بلند کیے اور اپنے گھٹنے اس کی چھاتی پر مارے تھے تو میں نے دیکھا تھا دوسرے ہاتھ کو اپنے عقب میں موڑ کر وہ اس کی پشت بھی سہلا رہا تھا اور شاید اسی تھپکی کو پاکر وہ اڑیل ہوا ہو گیا تھا ۔‘‘۳؎
یہ ہے اس کردار کا تعارف جو حویلی کے ملبوں سے برآمد ہونے والی شکستہ ورق پر لکھی ہوئی کہانی کا مرکزی کردار ہے جو عہد طفلی سے ہی تشدد اور جبر کی زد میں رہا ہے ۔بچپن میںموت نے ماں کی ممتا سے محروم کر دیا، بالغ ہو کر باپ کا سایہ سر سے چھین لیا گیا ،جبرا ً ایک ایسی لڑکی سے نکاح کر دیا گیا جو پہلے ہی کسی اور کے عشق میں گرفتار ہے ۔قسمت کاکھیل یہیں تمام نہیں ہوتا بلکہ محبوبہ جو اس کے لیے عاشق کی حیثیت رکھتی ہے جان پر کھیل کر اس کے ساتھ رخت سفر باندھتی ہے لیکن حزب مخالف کے ہاتھوں جاں بحق ہو جاتی ہے ۔انھیں متواتر حادثوں کی وجہ سے فوجی وردی میں نظر آنے والا چست و توانا اور ذہین شخص ذہنی اختلاج میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اس کی قابل رحم حالت پر ترس کھانے والا کوئی باقی نہیں بچتا ۔ناول میں استعمال ہونے والے تکنیکی تجربے کی وجہ سے ماضی کے واقعات حال میں جست لگا کرزمانی فاصلے کو عبور کر لیتے ہیں اسی لیے ناول میں آنے والے سارے موڑ ایک ہی کردارسے وابستہ ہیں اور وہ کردار ہے ’’چھوٹے خا ن جی ‘‘جو بڑے بھائی ’’خان جی ‘‘کی وفات کے بعد صرف ’’خان جی ‘‘کے نام سے پہچانا جا تا ہے۔ حمید شاہد کے ذریعہ وضع کردہ کرداروں میں ناول کا مرکزی کردار یہی شخص ہے جس کے منفی رویوں کی وجہ سے ملبے میں پڑی ہوئی کہانی کا ہر شخص اپنی زندگی میں تباہ حال و پریشان رہا ۔پورے واقعہ میں اس شخص کے اعمال و افعال سے سوائے مفاد پرستی کے اور کوئی تاثر نہیں ابھرتا ہے ۔وہ ہوس زر میں اپنے بھائی تک کو نہیں چھوڑتا ۔ایکسیڈنٹ کے ذریعہ اسے موت کے منھ میں دھکیل دیتا ہے اور اس کے بیٹے (کیپٹن سلیم جو اس کہانی کے مرکزی کردارکی حیثیت سے ہے )پر جھوٹی شفقت نچھاور کر کے شہر سے لے کر گائوں منتقل ہو جاتا ہے تاکہ اپنی اکلوتی بیٹی سے اس کا نکاح کرا سکے اور اس کی دولت پر کوئی دوسرا قابض نہ ہو سکے ۔جب کہ یہ بات اس کے علم میں ہے کہ بیٹی کسی اور شخص سے محبت کر تی ہے ،موقع پرستی کی دوسری حیرت انگیز مثال اس وقت سامنے آتی ہے جب حویلی میں کام کرنے والے نوکر کے بیٹے (جو کہانی کو از سر نو ترتیب دے رہا ہے )کو اپنا خون بتا کر قبول کر لیتا ہے ، اسی لیے ناول کا مسودہ جس مدیر کے پاس اشاعت کے لیے بھیجا گیا ہے وہ اس کی تھیم کے متعلق اپنی ناقدانہ رائے دیتے ہوئے آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے کی تباہ حالی کا واقعہ ماننے سے انکار کرتا ہے اس کا خیال ہے کہ زلزلے سے اس کا تعلق صرف اتنا ہے کہ یہ اس بھونچال میں تباہ ہونے والی حویلی کے ملبے سے برآمد ہوئی ہے ورنہ اس کا تعلق اس زمین سے ہے جس کی طمع نے آدمی سے آدمی کی محبت کو قصہ پارینہ بنا دیا ہے ۔
اس ناول کے پلاٹ پر واقعات کسی زمانی ترتیب یا وقت کی روایتی تقسیم کے مطابق وقوع پذیر نہیں ہوئے ہیں اس لیے پلاٹ میں منطقی ربط نہ ہونے کے برابر ہے اورمتن کی تفہیم میں قاری کو دشواری بھی اسی لیے محسوس ہوتی ہے لیکن عنوانات کو پیش نظر رکھ کر دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ لکھنے والے نے اپنے منفرد شعور وقت کو بروئے کار لا کر اپنے بیانات کو یک رخا ہونے سے محفوظ کر لیا ہے ۔مثلاً کیپٹن سلیم کا تعارف ’’کچھ ناواجب آدمی کے بارے میں ‘‘میں کرانے کے بعد راوی درمیان میں کہیں اس کا ذکر نہیں کرتا ہے ۔اس تعارف سے ایک بھر پور جوان توانا شخص کی تصویر ابھرتی ہے لیکن جب ’’نفرت کے تھوک سے پرے زندگی کا دائرہ ‘‘میں وہی شخص واحد متکلم کی حیثیت سے اپنے باپ شہروز خان کے حویلی سے نکالے جانے اور بڑے خان جی یعنی اپنے دادا کی موت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے یہ آگاہ کرتا ہے کہ تب اس کی عمر صرف اتنی تھی کہ باتوں سے درست معنی اخذ کر نے کی صلاحیت اس میں نہ تھی ۔ لیکن خان جی نے جس طرح اس کے روتے گڑگڑاتے ہوئے با پ کے منھ پر تھوک کر کسی صورت میںبڑے خان جی کی لاش کو دیکھنے نہیں دیاتھا حتی کہ میت کو کاندھا بھی لگانے نہیں دیاتھااس منظر کو اب بھی اپنے ذہن سے کھرچنے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ نا کام رہتا ہے ۔
قصہ گوکے(سلیم ) بیان کردہ واقعہ سے تحریر کنندہ (یادداشتیں محفوظ کرنے والا )کو اپنے بچپن کا واقعہ یاد آجاتا ہے اور وہ ’’چلتی کہانی میں لکھنے والے کے درد کا ٹانکا ‘‘کے عنوان سے اپنی ماں کے ساتھ پیش آنے والے ذلت آمیز لمحات کو بیان کرنا شروع کر دیتا ہے ۔اس صورت حال کے پیش نظر شاید اس وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں کہ تحریر کنندہ نے یہاں شعورکی رو ،فلیش بیک اور آزاد تلازمہ جیسی فنی تدابیر کے ذریعہ مختلف واقعات کو ایک دھاگے میں پرو کر ایک دوسرے سے پیوست کیا ہے ۔اسی لیے تمام بیانات پر قابو پاکر نتائج اخذ کرنا ایک مشکل امر ہے ۔
اس ناول میں ایک ہی پلاٹ پر تین چار کہانیاں موجود ہیں مگر مشرقی پاکستان کی کہانی کومرکز ی حیثیت حاصل ہے جو نہایت اختصارکے ساتھ ناول کے دوسرے باب میں تین ذیلی عنوانات ’’سمندر ،ساحل اور گھماؤ ،فرار سے پہلے ،آنکھیں سب کچھ کہہ جاتی ہیں‘‘ میں مکمل ہو جاتی ہے اور اسی میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے لوگوں میںنظریاتی فرق بھی اُجاگر ہو جاتاہے۔کہانی ترتیب دینے والے نے ان واقعات کو ایسی جگہ پر Adjust کیا ہے کہ نہ پلاٹ متاثر ہوتا ہے اور نہ ہی وہ ناول کے باقی حصوں سے غیر منسلک معلوم ہوتا ہے ۔مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش میں تبدیل ہوجانے اور برما کے راستے وہاں سے فرار کے بعد کہانی اپنے پہلے محورپرلوٹ آتی ہے اور اسی مرحلے پر وہ حیرت انگیزانکشاف ہوتاہے کہ بیان کرنے والا کہانی کاہی نہیں‘ خان جی کے خاندان کابھی حصہ ہے۔جسے خان جی کی جاگیردارانہ ذہنیت نے پوری زندگی اسے اس کی اصل شناخت سے محروم رکھا اور اس کی اصلیت سے تب آگاہ کیا جب انھیں ایک وارث کی ضرورت محسوس ہوئی ۔کرداروں کی بدلتی ہوئی شناخت ،ہر باب میں راوی کے بدلتے منصب اور بیان کی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہی مضمون کی ابتدا میں یہ کہا گیا تھا کہ اس ناول میں علامتی ،استعاراتی یا تجریدی فضا بنانے کی کوشش نہیں کی گئی ہے بلکہ واقعات کی ترتیب میں ہی ساری علامتیں موجود ہیں مثلاً ایک فرضی مدیر کے وضاحتی اعلان کے ذریعہ قاری کو اس بات کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا کہ یہ ناول طبع زاد نہیں بلکہ پہلے سے موجود کہانی کی سنواری ہوئی صورت ہے،ہر ٹکڑے کے الگ الگ عنوانات ،اور مختلف سمتوں میں الجھی ہوئی رشتوں کی پیچیدہ ڈوروغیرہ ،اسی طرح بیان کی سطح پر مشکل اور ناقابل فہم تشبیہات یا کوئی اساطیری عنصر ابھار کر معنی پیدا کرنے کی کوشش کے بجائے ساری فنی اور تکنیکی ہنر مندی مواد میں پوشیدہ رکھی گئی ہے جس سے متفرق سوالات اور مفاہیم کی نئی نئی جہتیںوا ہو تی ہیں ۔
پلاٹ کی طرح کرداروں کی پیشکش میں بھی عمومیت سے احتراز کرتے ہوئے مصنف نے ایک مخصوص انداز اختیار کیا ہے جس میں یادداشتیں محفوظ کرنے والے اور تحریر کرنے والے راوی کے ذریعہ قاری کو بھی کہانی ترتیب دینے کے طلسم میں گم رکھنے کی کوشش کی گئی ہے جس میں ابہام کی کئی پرتیں موجودہیں ۔یہ ابہام بوجھ نہیں بنتا بلکہ تجسس کو مزید مہمیز کرتا ہے ۔کرداروں میں ایک دوسرے کے تعلق کے حوالے سے راوی نے صرف اشارے فراہم کیے ہیںمثلاً’’ لاش پر روتی ہوئی اجنبی لڑکی ‘‘کون ہے ؟ نصیب اللہ کی لاش پر دھاڑیں ما ر کر روتا ہوا دیکھ کر یہ اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے کہ وہ اس کی بیٹی ہے لیکن قاری اس سوال سے الجھتا ہی رہتا ہے کہ مختصر سے اس ناول میں ایک غیر ضروری فرد کا ذکر یوں ہی تو نہیں کیا گیا ہو گا۔ غور کرنے اور واقعات کی کڑیاں ملا نے پر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ عورت کوئی اور نہیں بلکہ اس کہانی کے مرکزی کردار کیپٹن سلیم کی ماں ہے جس سے شادی کرنے کے جرم میںاس کے باپ شہروزخان کو خان جی نے نسب مجہول ہونے کا الزام لگا کر حویلی سے نکال دیا تھا ۔اس کردار کا تعارف مرتب کی زبان سے ہوتا ہے لیکن دوسری بار اس کا ذکر ’’نفرت کی تھوک سے پرے زندگی میں ‘‘اس واحد متکلم کی زبان سے ہوتا ہے جو واقعہ سنا رہا ہے اور غالباً اس کا بیٹا ہے ۔کراداروں کے حوالے سے اس پراسراریت نے قاری کو فکر کی گہرائیوں میں غوطہ زن ہونے پر مجبور کر دیا ہے ۔
مضمون کی ابتدا ء میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ ناول نہ سما جی ہے نہ سیاسی اور نہ ہی مذہبی کیوں کہ مصنف نے اپنے اس ناول کے بیانیہ کو کسی نظریہ یا فلسفہ سے بوجھل کر کے فکری تناظردینے کی کوشش نہیں کی ہے بلکہ سارا کمال اس نئے لب و لہجہ کا ہے جس میں الفاظ نئی جدلیات سے وابستہ ہو کر نئی سمت اختیار کر لیتے ہیں ۔جیسا کہ مندرجہ ذیل اقتباس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے ـ:۔
’’ وہ اپنے ایک ملازم لال مست خان کے ہمراہ اس کی سرکاری رہائش گاہ کے سامنے سے گزر کر کہیں آگے جا رہا تھا کہ اس کی نظر تانگے سے اترتی سواری پر پڑی ۔ سیاہ فینسی برقعے میں ملبوس اترنے والی کی بابت اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ وہ بہ مشکل اٹھارہ بیس سال کی ہوگی ۔ اگرچہ اس کا وجود پوری طرح برقعے میں بھر گیا تھا تاہم اس کی بلند قامتی سے بہم ہوکر اتنا متناسب ہو گیا تھا کہ دیکھنے والے کی نظریں باندھ لیتا تھا۔ وہ تانگے سے اتری ‘ اپنے بدن کو قدموں پر پوری طرح سہارا ‘ایک نظر دروازے کی تختی کودیکھا جیسے اسے پڑھ رہی ہواور اندر داخل ہو گئی۔ ایسے ہی کسی لمحے میں اسے شائبہ سا ہوا تھا کہ ہوا کاجھونکا آیااور سیاہ نقاب لرزا کراس کے چہرے کی جھلک دکھا گیا تھا۔جب وہ وہاں سے کچھ آگے گزر گیا تو اسے گمان باندھنے میں دقت ہو رہی تھی کہ اس نے لرزتے نقاب سے چہرہ دیکھا تھا یا سیاہ فینسی برقعے میں سرو کی قامت اچھالتے وجود پر ایک خوب صورت چہرے کا تصور خود بہ خود قائم ہو گیا تھا ۔ تاہم اسی مخمصے کے بیچ اس نے عہد کر لیا تھا کہ وہ کچھ دیر بعد نصیب اللہ کو ملنے ضرور آئے گا۔ تب اس نے نصیب اللہ کو بڑبڑاتے ہوئے حرام زادہ کہا تھا اور ساتھ ہی اس کی قسمت پر رشک کیا تھا کہ اتنے بے ہودہ وجود کے ساتھ بھی وہ سچے موتیوں جیسا مال برتنے پر قادر تھا۔ ‘‘۴؎
مندرجہ بالا اقتباس میں تشبیہات کو برتنے کے انوکھے پن کے علاوہ آنے والی لڑکی کے متعلق کچھ کہے بغیرراوی نے جاسوسی کے لیے قاری کو لگادیاجبکہ اس کی قیاس آرائی غلط تھی ایک لمبے عرصے تک نصیب اللہ سے رابطہ میں نہ رہنے کی وجہ سے اسے معلوم نہ ہو سکا کہ اس کی حالت موت کے قریب لے جانے والی ہو چکی ہے ۔اور آنے والی لڑکی اس کی معشوقہ نہیں بلکہ اس کی بیٹی ہے ۔ کرداروں کے نقو ش سے مرتب کی گئی اس کہانی میںحقیقت کا التباس پیدا کرنے کے لیے اصل زندگی کی طرح بعض کردار ایسے لائے گئے ہیں جن میں تحرک اور زندگی کی رمق ہے اور بعض بالکل جا مد و ساکت ہیں مثلاً زر جان ،سلیم کی ماں ،چتکبرے بیل سے پست آدمی دراز خان وغیرہ ۔یو ں تو ضرورت کے مطابق مصنف ہر کردار میں رنگ بھرتا ہے ،واقعات کا تعلق کردار سے اس طرح ہموار کرتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لازم ملزوم ہو جائیںلیکن اس ناول میں حمید شاہد نے ساری ذمہ داری یادداشتیں لکھنے والے راو ی کو سونپ کر ایک منتظم کی طرح سارے معاملے پر دور سے ہی گہری نظر رکھی ہے ۔
اِسی طرح اس ناول میں ظا ہری سطح پر کوئی تکنیک نہیں برتی گئی ہے چونکہ راویوں کی یادداشتوں کے وسیلے سے بیانیہ تشکیل دیا گیا ہے اس وجہ سے بیان کا بیشتر حصہ فلیش بیک اور آزاد تلازمہ خیا ل کے سہارے آگے بڑھتا ہے ۔اس کے علاوہ بعض مقامات پر مستقبل کے متعلق راوی کی پیشن گوئیاں فلیش فارورڈ کی تکنیک کے قریب لے جاتی ہیں ۔مثلاً واحد متکلم راوی کا یہ کہنا کہ اس کی حیثیت بدلنے والی ہے یاچھوٹے خان جی کے متعلق یہ کہنا کہ اب آئندہ انھیں صرف خان جی کہا کروں گاوغیرہ بیانات ان کی آئندہ زندگیوں کے حیثیت کا تعین کرنے اور تجسس کو مہمیز کرنے میں معاون ہوتے ہیں ۔اس سے محض ناموں کی تبدیلی سامنے نہیں آتی بلکہ اس پورے منظر کے بدلنے کا سراغ ملتا ہے جو اقتدار اور رعب خان جی کو حاصل تھا انتقال کے بعد سارے کا سارا چھوٹے خان جی کو منتقل ہو گیا۔ دوسری اہم بات یہ کہ اس حربہ کے استعمال سے وقت اور عمروں کے تعین کے لیے راوی کو الگ سے کوئی روئیداد بیان نہیں کر نی پڑی بلکہ قصہ گوئی کے فنی تقاضوں کو ملحو ظ رکھتے ہوئے ایک خاص نہج پر ہر کردار سے وابستہ واقعات پایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں ۔یہاں پر یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ سردست اس میں زمان یاوقت کا تجربہ تو نہیں کیا گیا ہے لیکن بیان کے زیریں لہر وں میں اس تجربے کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔
اونچ نیچ ،صاحب اقتدار اور نچلے طبقے کے مابین امتیازو افتراق کی صورتوںکی عکاسی کرنے کے لیے ترقی پسندی کے زمانے میں جس طرح بلند آہنگ اور مصنوعی انداز اختیار کیا گیا تھا اس سے یکسر گریز کرتے ہوئے مصنف نے طنزاور علامتی تلازموں کے ذریعہ اس فرق کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے ۔مثلاً’’خوابوں سے بچھڑی ہوئی موت ‘‘میں واحد متکلم جو حویلی کے نوکر کا بیٹا ہے وہ اپنے والدین اور کیپٹن سلیم کے والدین کی موت کا موازنہ کرتے ہوئے کہتا ہے :۔
’’اپنی ماں کے بارے میں سوچتا ہوں اور اس کا موازنہ میں اس کی ماں کی موت سے کرتا ہوں جس کی کہانی لکھی جارہی تو اس ماں پر رشک آتا ہے جس نے خواب دیکھا ،تعبیر کی دھیمی سی دھمک سنی اور آسودگی سے موت کو گلے لگا لیا ۔مگر زندگی وہاں نہیں رک گئی تھی وہ آگے بڑھ رہی تھی اور جب ہم اس سارے منظر نامے کو وسیع تناظر میں دیکھتے تھے تو اس کا لایعنی پن ہمیں اندر سے کھدیڑ ڈالتا ہے ۔
آسودگی سے مرنا یوں جیسے اس کی ماں مری تھی اور تڑپ تڑپ کر مرنا،اس طرح جیسے میری ماں مر گئی تھی ۔تو کیا موت نے دونوں کو ایک جیسا نہ کر دیا تھا ۔میرا باپ جو گھوڑوں کے اصطبل میں یخ زمین پر دہرا ہو کر مر گیا تھا ،کیا وہ اس کہانی والے شخص کے باپ کا سا نہیں ہو گیا تھا جسے کچھ ہی عرصے کے بعد کسی نامعلوم گاڑی نے ایک ویران سڑک پر کچل دیا تھا ۔موت اس میں تمیز نہیں کر رہی کہ کون خوا ب دیکھتا تھا اور کون خوابوں سے پرے مر رہا تھا ۔‘‘۵؎
مندرجہ بالا اقتباس میں محسوس کیا جا سکتا ہے کہ حاکم محکوم کے تنازعے کی روایتی کیفیت اب باقی نہیں رہی بلکہ محکوم اپنے حالت زار کا موازنہ حاکم کی آسودگی سے کرتے ہوئے مجمو عی نتیجہ سازی کے عمل میں خود کو اس کے ہم پلہ یا قدرے بہتر قرار دیتا ہے ۔
حاکم اور محکوم سے متعلق محولہ بالابحث اس ناول کے موضوعاتی تناظر میں ایک اضافی چیز معلوم ہوتی ہے اسی طرح مصنف کے نقطہ نظر کا تعین بھی ایک میکانکی بات ہے کیوں کہ مصنف نے کہیں بھی اپنا نقطہ نظر بیان کرنا تو دور اشارہ بھی نہیں کیا ہے لیکن اگر ناول کے عنوان اور اس کے انتساب کو دیکھا جائے تو مصنف کے نقطہ نظر سے رجوع کرنا ضروری ہو جاتا ہے ۔ ا س ضمن میں ’’اپنی بات ‘‘کے عنوان سے مقتبس چند سطروں میں نقطہ نظر کی جستجو کی جاسکتی ہے :۔
’’اس کہانی کا موضوع انسان ہے اور اس کی محبتیں بھی۔ کہانی لکھتے ہوئے میری نظرمیں وہ انسان رہا ہے جو ’’صلصال من حماء مسنون‘‘ سے خلق ہوا اور جس کی نسل’’ماء مھین‘‘ کی تلچھٹ سے چلی مگر مقدر کا ایسا دھنی نکلا کہ مسجود ٹھہرا تھا۔ اب یہ الگ قصہ ہے کہ اسی حضرت انسان کو ابھی تک ڈھنگ سے چلنا نہیں آیا ۔ جب بھی قدم اُٹھاتا ہے ،مٹی پر گرتا ہے ،بار بار گرتا ہے اور منھ کے بل گرتا ہے۔
میرا حوصلہ دیکھیے ،میں نے عین ایسے زمانے میں انسان کو اپنی کہانی کی کائنات میں مرکزی جگہ دی ہے کہ جس زمانے میں مادہ اسی گرے پڑے انسان کو مرکز سے بے دخل کرکے سارے میں دندنا تا پھرتا ہے۔ انسان کے ساتھ چوں کہ اس کی محبتوں کا محور بھی بدل گیا ہے لہذا کہانی کا معمول کی ڈگر پر چلنا ممکن نہیں رہا۔ لکھتے ہوئے یہ تجربہ بھی میرے لیے پُرلطف رہا ہے۔‘‘۶؎
اس بیان سے موضوع کے متعلق بڑی حد تک مصنف کی ذاتی رائے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور جہاں تک ناول میں مستعمل تکنیک اور اسلوب کا تعلق ہے تو ناول کے مطالعہ کے دوران محسوس ہوتا ہے کہ گیلی مٹی مصنف کے ہاتھ لگ گئی تھی اس لئے بآسانی اس نے اپنے مزاج کے مطابق نقوش ابھارے اور مٹا ئے ہیں۔یعنی اس نے موضوع سے ہم آہنگ کر کے مواد اور با لکل نئی ہیئت تشکیل دی اورا نداز بیان کو موثر بنانے کے لیے روایت سے انحراف کرنے میں بھی کوئی تکلف نہ کیالیکن فیشن پرستوں کی طرح جدید طرز اظہار کی طرف مائل ہو کر فن کے بنیادی اور اساسی تقاضوں کو رد بھی نہیں کیا ہے ۔اس لیے بلا تامل یہ کہا جا سکتا ہے کہ حمید شاہد ان چند باشعور اور ذی ہوش فکشن نگاروں میں سے ہیں جو انفرادی رنگ و آہنگ کی تلاش کے لیے ابہام و تجرید کی بھول بھلیوں میںنہیں بھٹکتے بلکہ ان کے قلم میں ایسی تخلیقی توانائی ہے جو فکر و فن کے ادغام سے جواہر پاروں کی تشکیل کرتی ہے اور اپنی شناخت کرانے میں کامیاب ہو تی ہے ۔اس خیال کو مزید تقویت شمس الرحمن فاروقی کی تحریر کردہ تقریظ میںموجود ان سطروں سے ملتی ہے ۔
’’محمد حمید شاہد نہایت ذی ہوش اور حساس قصہ گو معلوم ہوتے ہیں ۔ بظاہر پیچیدگی کے باوجودان کے بیانیہ میں یہ وصف ہے کہ ہم قصہ گو سے دور نہیں ہوتے ۔۔۔ محمد حمید شاہد کی دوسری بڑی صفت ان کے موضوعات کا تنوع ہے۔۔۔’’مٹی آدم کھاتی ہے‘‘ اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس میں مشرقی پاکستان/بنگلہ دیش کی حقیقت سے آنکھ ملانے کی کوشش رومان اور تشدد کو یکجا کر دیتی ہے۔ اسے محمد حمید شاہد کی بہت بڑی کامیابی سمجھنا چاہیے کہ وہ ایسے موضوع کو بھی اپنے بیانیہ میں بے تکلف لے آتے ہیں جس کے بارے میں زیادہ تر افسانہ نگار گو مگو میں مبتلا ہوں گے کہ فکشن کی سطح پر اس سے کیا معاملہ کیا جائے۔ دُکھ شاید سب کچھ سکھا دیتا ہے۔‘‘۷؎
اس میں کوئی تأ مل نہیں کہ حمید شاہدایسے موضوعات و مسائل کو افسانوی قالب میں ڈھال دیتے ہیں جو دوسرے ادیبوں کے قلم سے ممکن نہیں، زیر بحث ناول اس کی بہترین مثال ہے کیوں کہ اس میں بیانیہ کی تشکیل کے لیے جو جتن کیے گئے ہیں وہ ایک مشکل عمل تھا ۔ مصنف نے کچھ ایسا مخصوص انداز اختیار کیا ہے جس سے اس کی شخصیت کہیں بھی دخل اندا زنہیں ہوتی یہی نہیں بلکہ اس ناول میں مدیر کی فراہم کردہ معلومات سے اندازہ ہوتا ہے اس ناول کا مسودہ آپ بیتی، روز مرہ یا روداد کی شکل میں تھا لیکن مصنف نے عام ڈگر سے ہٹ کر متعدد راویوں کی تشکیل، کردار نگاری میں شدید پیچیدگی اور براہ راست بیان میں بالواسطہ ہونے کا گمان پیدا کر کے اسے ناول کی شکل میں تبدیل کر دیا ہے ۔لیکن قاری اس سراب سے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب اس وقت ہوتا ہے جب ناول کی آخری سطر’’مٹی تو مٹی ہے ‘‘ پڑھ کر پھر عرض مصنف پر غور کرتا ہے اور پھر سارا منظر ترتیب دیتا ہے اس طرح گویا قاری بھی تخلیقی عمل میں شامل ہو جاتا ہے ۔
حواشی ۔
۱۔ مٹی آدم کھاتی ہے ،محمدحمیدشاہد ،اکادمی بازیافت ،۲۰۰۷،ص :۲۴
۲۔ ایضاً ،ص:۹۶
۳۔ ایضاً ،ص:۳۴
۴۔ ایضاً ،ص:۳۸
۵۔ ایضاً ،ص:۵۸
۶۔ ایضاً ،ص:۱۶
۷۔ ایضاً ،ص:۱۵
نوٹ: مضمون نگار ساہتہ اکادمی یوا ایورڈ یافتہ ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

