Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تحقیق و تنقید

علی سردار جعفری – پروفیسر ناصر عباس نیّر

by adbimiras اگست 1, 2021
by adbimiras اگست 1, 2021 4 comments

آج علی سردار جعفری کی اکیسویں برسی ہے۔ 2013 میں غالب انسٹی ٹیوٹ ،دہلی نے "ترقی پسند شعریات اور علی سردارجعفری ” کے عنوان سے ایک عالمی سیمینار منعقد کروایا تھا۔ میں نے بھی ایک مقالہ پیش کیا تھا،جو بعد میں میری کتاب "عالمگیریت اور اردو”(سنگ میل ، 2015) میں شامل ہوا۔اس مقالے سے زیر نظر اقتباس ، انھیں یاد کرنے کا بہانہ ہے۔

"علی سردار جعفری (1913۔2000)نے افسانہ، ڈراما،ترجمہ ،صحافت،تنقید اور شاعری میں اپنے طبیعی جوہر کا اظہار کیا،  تاہم ان کی بنیادی شناخت شاعری اور تنقید کے ذریعے قائم ہوئی ۔علی سردار جعفری ترقی پسند تحریک کے سرگرم رکن اور سجاد ظہیر کے قریبی ساتھیوں میں شامل تھے۔

ان کی تنقید،ترقی پسند تحریک کے اساسی مقصد سے جڑی ہے۔انھوں نے تقریباً پچاس برس تک تنقید لکھی ۔ان کی تمام تنقیدی تحریریں ترقی پسندانہ ہیں،تاہم ان کے یہاں ترقی پسندی کا تصور اوّل تا آخر یکساں اور جامد نہیں رہا۔ان کی تنقید کو ہم تین حصوں میں بانٹ سکتے ہیں۔ ایک حصہ تحریکی مقاصد کی وضاحت اور دفاع میں ہے۔دوسرا حصہ اس اشتراکی نظریے سے اردو ادب کے مطالعے پر مشتمل ہے ،جس کی اصل لیننی مارکسیت ہے۔تیسرا حصہ کلاسیکی شاعری کے ان مطالعات پر مشتمل ہے ،جن میں کلاسیکی اشتراکی نظریے کے سلسلے میں اجتہادی رویہ اختیار کیا گیا ہے۔پہلے حصے کی حیثیت تاریخی ہے؛دوسرا حصہ کئی متنازع تعبیروں اورانتہا پسندانہ محاکموں پر مبنی ہے ،جب کہ تیسرے حصے میں بعض ایسے مطالعات کیے گئے ہیں جنھیں ہم اردو تنقید میں اہم قرار دے سکتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں ” کہانی ، تصور حقیقت، علامتی افسانہ ” – پروفیسر ناصر عباس نیّر )

سردار جعفری کی تنقید کا پہلا دور بڑی حد تک جارج لوکاچ(۱۸۸۵۔۱۹۷۱) کی مثالیت(Typicality )کے تصور کی تفسیر ہے۔ہنگری کے لوکاچ پہلے ایک جدید نقاد ،اور بعد ازاں سوویت یونین کی سرکاری مارکسی جمالیات کے نقش گر تھے۔ان کی کتابTheory of Novel (جو۱۹۲۰ میں شایع ہوئی تھی)میں ناول کو ایک بوژوارزمیہ قرار دیا گیا تھا۔ ’’کلاسیکی رزمیے میں انسان کائنات سے ہم آہنگ تھا،جب کہ ناول کا آغاز اس وقت ہوا،جب آدمی اوراس کی دنیاکی ہم آہنگی ٹوٹ گئی،اس لیے ناول کا ہیرو کلیت کی تلاش میں تھا،اور اس دنیا سے اجنبی تھا جو یاتو بہت بڑی ہے یا بے حد تنگ ہے ،اور اس کی آرزوئوں کی صورت گری سے قاصر ہے۔ناول اس دنیا کا رزمیہ ہے جسے خدا نے ترک کردیا ہے‘‘۔بعد میں جب لوکاچ نے مارکسیت کو اختیار کیا تو ناول کے لیےTypicality کا نظریہ وضع کیا،جس کے مطابق کرداران تاریخی قوتوں کے نمائندہ ہوتے ہیں جو ترقی پسند ہوتی ہیں۔یہی بات علی سردار جعفری کہتے ہیں:

حقیقت نگاری کے لیے ضروری ہے کہ اپنے عہد کی نمائندہ حقیقت کو نمائندہ کرداروں کی شکل میں پیش کرے۔

سردار جعفری عہد کی نمائندہ حقیقت (جو در اصل عوام کو انقلاب کے لیے مائل کرتی ہے)اور اس کے نما ئندہ کردار میں آئنے اور عکس کا تعلق سمجھتے ہیں۔ لہٰذا ادب ان کے لیے ایک ایسا ذریعہ ہے جو سماج کے ترقی پسند عناصر کو راست انداز میں پیش کرتا ہے۔وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ جسے وہ نمائندہ حقیقت قرار دے رہے ہیں ،وہ خود ایک تصور ہے؛نمائندہ حقیقت سماج میں ’شے‘ کے طور پر موجود نہیں ہوتی ،اسے دیگر حقیقتوں سے چھانٹنا پڑتا ،اور ان سے الگ تصور کرنا پڑتا ہے۔سردار جعفری ہی نہیں ابتدائی پچیس تیس سالوں کی ساری ترقی پسند تنقید تصور،خیال ،لاشعور، باطن ،داخل جیسے الفاظ کا ذکر آتے ہی سخت بر افروختہ ہوتی ہے۔حالاں کہ کلاسیکی مارکسی نقادوں میں کرسٹو فر کاڈویل (۱۹۰۷۔۱۹۳۷) تخلیق ادب کی اس رمز کو منکشف کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے کہ تجربی حقیقت اور ادبی متن کے بیچ خیال کا ایک دورانیہ ہوتا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ علی سردار جعفری نے ترقی پسند ادب میں اس جواں مرگ برطانوی مارکسی نقاد کی مشہور کتاب Illusion and Realityسے ایک اقتباس نقل کیا ہے،جس میں حقیقت اور تخلیق کے درمیان خیال کی دنیا کا ذکر ہے۔ سردار جعفری نے کاڈویل کی اس رائے کو پیش کیا ہے کہ گیت ،شاعری کی اصل ہے ،جو اپنے ترنم کی وجہ سے ایک ایسی چیز ہے کہ جو مل کر گائی جائے تو اجتماعی جذبے کے اظہار کا ذریعہ بن سکے۔’’سوال یہ ہے کہ قبیلے کو اس اجتماعی جذبے کی کیا ضرورت ہے؟اگر شیر یا دشمن حملہ کرتاہے ،زلزلہ آتا ہے یا کوئی اور مصیبت نازل ہوتی ہے تو پورا قبیلہ اس وقت کے حالات کے مطابق اس خطرے کے تدارک کے لیے فوراًاجتماعی اقدام کرتا ہے ۔اس وقت سب ڈرے ہوئے ہیں ،اس لیے کسی ایسے آلۂ کار کی ضرورت نہیں جو اس موقع پر اجتماعی جذبہ پیدا کرے ۔۔۔۔لیکن ایسے آلہء کار کی ضرورت اس وقت محسوس ہوتی ہے جب اس قسم کا کوئی خطرہ نہ ہو،لیکن اس کا امکان ضرور ہے۔اس بنیاد پر شاعری قبیلے کی معاشی زندگی سے پیدا ہوتی ہے‘‘۔گویا شاعری حقیقی خطرے کے وقت نہیں،خطرے کے خیال اور امکان سے پیدا ہوتی ہے۔ کاڈویل کی اہمیت کو قبول کیا جانا چاہیے کہ انھوںنے نمائندہ حقیقت اور ادب کے بیچ ’خیال و تصورکی دنیا‘ کی موجودگی باور کرائی۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اس دنیا کے امکانات کو واضح نہ کر سکے ،اور اس کے چوگرد خطرے کی فصیل کھڑی کر دی۔قدیم قبائل ہوں ،یا کلاسیکی و جدید عہد کے سماج ان کے ’خیال کی دنیا‘ فقط ایک خارجی محرک(معاشی)کی اسیر نہیں رہی؛اساطیر ،رزمیے ،داستانیںاور ناول انسان کی تہ دار،پیچیدہ داخلی دنیا کی کہانی سناتے ہیں ۔ اس اعتبار سے کاڈویل بھی اس سادہ مارکسی تصور کو شعری جمالیات کی بنیاد بناتے ہیں کہ ’انسان کی معاشی زندگی ہی اس کے شعور کی تشکیل کرتی ہے ‘۔بایں ہمہ یہ بات بھی سردار جعفری کو ناگوار لگتی ہے ۔ان کا عقیدہ یہ ہے کہ ’’ شاعری براہ راست انسان کی معاشی ضرورت اور عمل سے پیدا ہوتی ہے‘‘۔اسی لیے وہ متنبہ کرنا ضرروی خیال کرتے ہیں کہ کا ڈویل عینی نظریات کے زیر اثر ہیں ،اور ان کے سلسلے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔قصہ یہ ہے کہ سردار جعفری اس عمومی ترقی پسند نظریۂ فن کی ترجمانی کرتے ہیں ،جسے ’اشتراکی نظریہ نقل ‘کا نام دیا جاسکتا ہے۔اس نظریے کے مطابق سماجی معاشی حقیقت اور ادب کے بیچ کوئی ثالثی دنیا نہیں۔تخلیق کار کا تخیل ؍لاشعوراور زبان ثالثی دنیاہے،جس کی گنجائش اس نظریے میں نہیں۔ (یہ بھی پڑھیں "ابوالکلام قاسمی ” – ناصر عباس نیّر)

سردار جعفری نے اقبال ،منٹو ،میرا جی اورحسن عسکری پر جتنے اعتراضات کیے ہیں،وہ ان کے اسی طرزِ فکر کے شاخسانے ہیں۔ اقبال کی خودی اس لیے قابل قبول نہیں کہ اس کی بنیاد’’ عینیت کے فلسفے اور ہیگل کی جدلیت پر ہے،جس کو اقبال نے اسلامی فلسفے اور روایات سے تقویت پہنچائی‘‘۔منٹو اس لیے غلاظت نگار ہیں کہ وہ ’’سامراج کے دیے ہوئے انتہائی خبیث نظریے [تحلیل نفسی]‘‘کے اسیر ہیں جو’’ انسان سے اس کا شعور چھین کر لاشعور اور جنس کی بھول بھلیاں میں پھنسا کر جانور بنا دیتا ہے‘‘۔میرا جی کی ’رومانیت‘ اس لیے ’’مجہول اور گندی تھی کہ وہ خوابوں کو خارجی حقیقت سے الگ کر کے واہمے میں تبدیل کر دیتے تھے‘‘۔ فرائیڈ اور ٹی ایس ایلیٹ بھی سردار جعفری اور دیگر ترقی پسندنقادوں کے اس لیے معتوب ہیں کہ وہ انسان کی الجھی ،شکستہ ،ویران داخلی دنیا کی خبر دیتے ہیں۔ سردار جعفری (اور دوسرے ترقی پسندوں)کا خیال ہے کہ انسان کی اصل دنیا خارجی ہے جو انسانی شعور کی تشکیل کرتی ہے اور انسان اپنے شعور میں ترقی پسندانہ جہت پیدا کر کے خارجی دنیا کی نئے سرے سے تشکیل کر سکتا ہے۔ان کے معاصرین جس داخلی دنیا کی تصویر پیش کر رہے تھے،وہ غیر حقیقی اور واہمے سے زیادہ کچھ نہیں۔واہمے کہاں سے پیدا ہوتے ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال تھا ،جو نیم واضح شکل میں ابتدائی ترقی پسند تنقید میں موجود تھا۔حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا جواب ہی ترقی پسند تنقید کا خاص رخ متعین کرتا تھا؛اور دوسری طرف کئی اہم باتوں کو اوجھل کرتا تھا۔وہ جس کبیری بیانیے کے ماتحت تھے،وہ انھیں یہ رائے قائم کرنے پر مجبور کرتا تھا کہ تحلیل نفسی اور انسان کی جنسی نفسیاتی الجھنیں سامراج کے ’خبیث ذہن‘ کی پیداوار ہیں۔ گویا ’واہموں ‘کا سرچشمہ باہر ہے ،انسان کے اندر نہیں۔یہ عین وہی دلیل تھی کہ نمائندہ حقیقت کا سرچشمہ بھی باہر ہے ؛عوام کی زندگی میں ،پرولتاری اور بورژوا کی حقیقی معاشی کش مکش میں۔اصل یہ ہے کہ ترقی پسند تنقید طاقت کی جس حرکیات کی اسیر تھی ،وہ صرف اسی کو اپنا ہدف بنا سکتی ،زیر کر سکتی ،اس کے خلاف مزاحمت کر سکتی تھی جو واضح، سامنے اور مادی صورت میں ہو۔ اگر ہم ابتدائی ترقی پسند تنقید کے اسلوب کا جائزہ لیں تو اس میں بھی’ طاقت کی خطابت‘کا غلبہ نظر آئے گا:غلاظت نگار، خبیث نظریے،گندی رومانیت جیسے القابات حریفوں کو زبان کی طاقت سے زیر کرنے کے سوا کیا کردار ادا کرتے ہیں؟

۱۹۶۰ کی دہائی میںسردار جعفری ،کٹراشتراکی نظریہ ء نقل سے گریز اختیار کرتے ہیں۔ ۱۹۶۶ میں شایع ہونے والے اپنے شعری مجموعے پیرہن شررکے دیباچے میں سردار جعفری نے یہ واضح کرنا ضروری سمجھا کہ یہ نظمیں سیاسی دستاویز نہیں ،بلکہ دل کی پکار اور روح کی آواز ہیں۔یہ پہلی مرتبہ تھا کہ انھوں نے ’تصور، خیال اور اندر کی اس دنیا‘کی اہمیت کو قبول کیا ،جسے وہ اب تک واہمہ اور غیر حقیقی سمجھتے آئے تھے۔یہ کٹر مارکسیت سے’ جرأ ت مندانہ ،بلکہ بدعتی (heretical)‘انحراف تھا۔اس کا مفصل اظہار ان کے کبیر،میر،غالب اور اقبال پر مقالات میں ہوا۔ترقی پسند نقادوں نے بھی یہ رائے ظاہر کی ہے کہ ان کی تنقید کی اہمیت انھی مقالات کے دم سے ہے،تاہم وہ انھیں بھی ترقی پسند معیار کے تحت لکھے گئے مقالات سمجھتے ہیں(مثلاً شارب ردولوی لکھتے ہیں:سردار جعفری کی تنقید کی اہمیت ان کے ان مضامین یا ترقی پسند تحریک کی تاریخ سے نہیں ،بلکہ کبیر بانی،میر اور دیوانِ غالب کے دیباچے کی شکل میں شامل ان کے مضامین اور ان کے دوسرے مضامین سے ہے جو یقینا اردو تنقید میں کلاسیکی ادب کے تجزیے کے ترقی پسند معیار کو پیش کرتے ہیں۔)۔خود سردار جعفری نے بھی پیغمبران سخن کے دیباچے میں لکھا ہے کہ ’’ میں جس نظریہ ء جمال اور نظریۂ تاریخ پر یقین رکھتا ہوں اور جو میرے اندر گزشتہ تیس برس سے رچ بس چکا ہے ،میں نے اسی نظریے سے ان بزرگ شعرا کے کلام پر نظر ڈالی ہے‘‘،مگر حقیقت کچھ اور ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے اس نظریۂ جمال سے گریز کیا ہے ،جس کے تحت انھوں نے ترقی پسند ادب لکھی ۔اس تبدیلی کاا نھیں احساس تھا۔ تاہم وہ اس کا کھل کر اظہار نہیں کرتے۔نظام خطبات،ترقی پسند تحریک کی نصف صدی میں اشارۃًکہتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں "بے گھری ، جلاوطنی اور جدید نظم ” – پروفیسر ناصر عباس نیّر )

ترقی پسند تحریک اور انجمن نے اپنی انتہا پسندی کے دور میں جو غلطی کی وہ یہی تھی۔وہاں (مثلاً۱۹۴۹ کی بھیمڑی کانفرنس میں)جو تجویزیں منظور ہوئیں اور جو بیان شایع کیا گیا،اس میں مخصوص الفاظ کے بغیر یہ مفہوم تھاکہ ترقی پسند ادیب کے لیے مارکسسٹ ہونا ضروری ہے۔اس نے اس قوس قزح کے رنگوں کو بکھیر دیا،جس کے ایک سرے پر کمیونسٹ سجاد ظہیر تھے اور دوسرے سرے پر گاندھی وادی منشی پریم چند اور درمیان میں بہت سے اور رنگ۔

گویا سردار جعفری نے اس حقیقت کو قبول کر لیا کہ حقیقت محض سفید اور سیاہ رنگوں میں تقسیم نہیں،بلکہ قوس قزح کی طرح ہے۔کٹر اشتراکی نظریہ ء جمال کی روشنی میں دیکھیں تو یہ واقعی ایک بدعت تھی۔یہ نظریہ ادب کو دو قطعی واضح حصوں میں تقسیم کرتا تھا:اشتراکی اور غیر اشتراکی۔اگر آپ اشتراکی نہیں تو اشتراکیت کے دشمن ہیں،اور اگر آپ کا ادب ترقی پسندروح کو پیش نہیں کرتا تو رجعت پرست اور انحطاط پسندہے۔لہٰذا مختلف ہونا، مخالف ہونے کے مساوی تھا۔مگر اب یہ سمجھا جانے لگا کہ ادب جس حقیقت کو پیش کرتا ہے ،اس کا مرکز نہ تو محض سیاہ ہے ،نہ فقط سفید۔سفید اور سیاہ دو انتہائیں ہیں،جن سے اٹوٹ وابستگی مخاصمت کو جنم دیتی ہے ۔ادبی سچائی دو رنگوں سے نہیں ،کئی ،مختلف ،متنوع ،قوس قزح جیسے رنگوں سے عبارت ہے۔

سردار جعفری کی تنقید میں جو تبدیلی آئی،اس کا باعث ترقی پسند شعریات کی نظری بنیادوں کو نئے سرے سے استوار کرنے کی کوشش نہیں،بلکہ ہندوستان کی تکثیریت پسند ثقافتی فضا کا شعور ہے(تاہم اس کا اثر شعریات پر پڑا)۔(بعض ہندوستانی ترقی پسند(مثلاً محمد حسن)اس تبدیلی کو ۱۹۷۵ کی ایمر جنسی اور جعفری صاحب کی مصلحت پسندی پر محمول کرتے ہیں،کیوں کہ کلاسیکی ادب پر لکھنے سے حکومت وقت کو کوئی خطرہ نہیں تھا)۔اس تبدیلی کو ہم ترقی پسند تنقید کے سیاسی کردار کوترک کرنے اور ثقافتی کردار اختیار کرنے سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ —وہ جب کبیر ،میر اور غالب کو ایک ہی سلسلے کی کڑیا ں قرار دیتے ہیں ،اور تینوں کے یہاں سیکولر رویے کو دریافت کرتے ہیں،یا قرون وسطیٰ کے تصوف کو مذہبی سے زیادہ انسان دوستی کی تحریک سمجھتے ہیں ،یا اقبال کی شاعری کو بہ یک وقت مسلم بیداری، ایشیائی بیداری اور عالمی بیداری کا شاعر ٹھہراتے ہیں تو در اصل ان کی ہمہ گیر ثقافتی معنویت ہی باور کراتے ہیں۔علی سردار جعفری اس رمز کو پاگئے تھے کہ ثقافتی تکثیریت ہی اس انتہا پسندی سے محفوظ رکھ سکتی ہے جو مذہبی و لسانی شناختوں پر اصرار کی صورت ظاہر ہوتی ہے۔ثقافتی تکثیریت ،ان شناختوں کی نفی کرتی ہے ،نہ انھیں مٹانے کا تصور دیتی ہے،بلکہ انھیں ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو کارفرما رہنے،اپنی حدوں کی حفاظت اور دوسرے کے حدود کے احترام کا تصور دیتی ہے۔اقبال شناسی میں خاص طور پر سردار جعفری ٹیگور اور سوامی وویکانند کی ہندو احیا پرستی اور اقبال کی مسلم احیا پرستی کو ایک دوسرے کا نقیض خیال نہیں کرتے۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک مذہبی احیاپرستی سیاسی تحریک کی شکل اختیار نہیں کرتی ،اس میں نہ تشدد پیدا ہوتا ہے ،نہ دوسروں کو مٹانے کا جذبہ”۔

(ناصر عباس نیر)

یکم اگست 2021ء

نوٹ: یہ مضمون پروفیسر ناصر عباس نیّر صاحب کے فیس بک پیج سے لیا گیا ہے۔ ہم ان کے بے حد شکر گزار ہیں۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

علی سردار جعفریناصر عباس نیر
4 comments
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
پریم چند کی تحریروں کی معنویت آج اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔  ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی
اگلی پوسٹ
منٹو کا تخلیقی جہان – امتیاز سرمد

یہ بھی پڑھیں

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –...

جولائی 10, 2025

جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

جون 20, 2025

شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

دسمبر 5, 2024

کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –...

نومبر 19, 2024

کوثرمظہری کے نصف درجن مونوگراف پر ایک نظر...

نومبر 17, 2024

کوثرمظہری کا زاویۂ تنقید – محمد اکرام

نومبر 3, 2024

علامت کی پہچان – شمس الرحمن فاروقی

مئی 27, 2024

رولاں بارتھ،غالب  اور شمس الرحمان فاروقی – ڈاکٹر...

فروری 25, 2024

مابعد جدیدیت، اردو کے تناظر میں – پروفیسر...

نومبر 19, 2023

4 comments

قاضی عبدالودود اور غالب تحقیق - ڈاکٹر محضر رضا - Adbi Miras اگست 21, 2021 - 5:59 شام

[…] تحقیق و تنقید […]

Reply
پروفیسر ابنِ کنول بحیثیت خاکہ نگار (کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی کی روشنی میں) - ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی - Adbi Miras اگست 26, 2021 - 7:09 شام

[…] تحقیق و تنقید […]

Reply
"لسانی سادیت پسندی اور لسانی پولیسنگ " - پروفیسر ناصر عباس نیر - Adbi Miras ستمبر 1, 2021 - 9:28 شام

[…] تحقیق و تنقید […]

Reply
ماہنامہ معارف اور تحقیقات سلیمانی (شذرات کے خصوصی حوالے سے) - اطہر حسین - Adbi Miras ستمبر 10, 2021 - 9:08 شام

[…] تحقیق و تنقید […]

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,042)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (535)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (204)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (402)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (214)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (475)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,133)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (897)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں