اردو ادب کی نثری اصناف میں خاکہ نگاری ایک اہم صنف ہے۔ اس میں قلم کار و فنکار کسی شخص کا حلیہ و شبیہ، رنگ و روپ، گفتار و کردار، چال و ڈھال، نشست و برخاست، نقل وحرکت اورحیات و خدمات کا نقشہ نہایت خوبصورتی، شگفتگی اور ادبی پیرایہ اسلوب میں کھینچتا ہے جس سے قارئین کو متعلقہ شخص کی زندگی یا شخصیت کھلی کتاب معلوم پڑتی ہے، بالفاظ دیگر وہ شخص قارئین کے روبرو چلتا پھرتا اور حاضر و ناظر محسوس ہوتا ہے۔ اردو زبان و ادب میں پہلے پہل بیسویں صدی میں اس صنف کا ورود مسعود ہوا۔ یوں تو اس کے ابتدائی نقوش ہمیں مولانا محمد حسین آزاد کی معرکۃ الآرا تصنیف ” آب حیات ” (1880) میں ملتے ہیں، مگر ارباب اردو زبان و ادب نے مرزا فرحت اللہ بیگ کو اس کا موجد قرار دیا ہے۔ میں بھی اسی کا قائل ہوں کہ مرزا فرحت اللہ بیگ نے اپنے استاد ڈپٹی نذیر احمد کا خاکہ ” نذیر احمد کی کہانی کچھ ان کی کچھ میری زبانی ” (1927) لکھ کر اس صنف کو نہ صرف جلا بخشی، بلکہ باضابطہ اس کو فن کی حیثیت بھی دلائی۔ بعد میں پروفیسر رشید احمد صدیقی، مولوی عبدالحق، خواجہ حسن نظامی، آغا حیدر، شاہد احمد دہلوی، سردار دیوان سنگھ مفتون، جوش ملیح آبادی، خواجہ محمد شفیع، مالک رام، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، شوکت تھانوی، سید اعجاز حسین، کنہیا لال کپور، شورش کاشمیری، فکر تونسوی، قرۃ العین حید، انتظار حسین، مجتبیٰ حسین، علی جواد زیدی، راجندر سنگھ بیدی، کر شن چند، ظ انصاری اور بلونت سنگھ وغیرہم نے اردو میں خاکہ نگاری کی روایت کو عروج وارتقاء کے مدارج طے کرانے اور فر وغ دینے میں کلیدی کردار نبھائے۔ اس سلسلۃ الذھب کی تازہ کڑی میں پروفیسر ابنِ کنول، شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی، دہلی کا نام جڑ گیا ہے۔ انہوں نے بیش قیمتی پچیس خاکے قلمبند کرکے انہیں ” کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی ” کے نام سے 2020 میں لاک ڈاؤن کے دوران شائع کرایا اور اردو خاکوں کے ذخیرہئ کتب میں اضافہ کیا۔ اس کتاب کی ادبی حلقوں میں کافی پذیرائی ہورہی ہے، قارئین ہاتھوں ہاتھ لے رہے ہیں اور اسے اردو خاکوں کا قطب مینار قرار دے رہے ہیں۔ بنظر غائر و بالاستیعاب مطالعہ کے بعد میں بھی اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ بلاشبہ یہ کتاب اردو خاکوں کا قطب مینار ہے۔ نیز پروفیسر ابنِ کنول جس طرح بحیثیت محقق، ناقد، افسانہ نگار اورانشائیہ نگار اردو دنیا میں بلند مقام ومرتبہ رکھتے ہیں، اسی طرح بحیثیت خاکہ نگار اب انہوں نے اپنی ظفر یابی کا علم نصب کرکے اپنا قد کافی اونچا کرلیا ہے۔
معاصر اردو ادب میں ابنِ کنول کی کئی حیثیت ہے۔ وہ ممتاز ناقد، محقق، افسانہ نگار، انشاپرداز کی حیثیت سے ادبی دنیا میں معروف ومقبول اور میری چند پسندیدہ ادبی شخصیات میں سے ایک ہیں۔ بلاشبہ وہ عبقری، عسکری، شش جہت، نابغہ روزگار، نایاب، کمیاب، لعل وگہر اور لؤلؤ ومرجان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی علمیت، قَابلیت، صلاحیت، استعداد، شعور وادراک اور تبحر علمی کا ہر چہار جانب شہرہ وغلغلہ ہے۔ ان کے اندر بذلہ سنجی، خوش طبعی، سنجیدگی اور شگفتگی کا دریا متموج ہے۔ وہ پیکر خلوص ومحبت، مجسمہ اخلاق وکردار، مصدر فضل وکمال اور مرجع خلائق ہیں۔ یوں کہا جائے کہ وہ اسم بامسمٰی یعنی ناصر محمود کمال ہیں۔ جس کسی سے ایک بار مل لیتے ہیں یا جو کوئی ان سے ایک بار مل لیتا ہے وہ ہمیشہ کے لیے ان کا گرویدہ ہوجاتا ہے۔ تقریباً پانچ دہائیوں سے وہ اردو زبان وادب کے فروغ میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ چونکہ پاک پروردگار نے انہیں علمی، لسانی وقلمی بے پناہ صلاحیتوں سے مالا مال کر رکھا ہے، چنانچہ اب تک مختلف اصناف میں متعدد تحقیقی، تنقیدی، علمی وادبی مضامین قلمبند کرچکے ہیں۔ ان کے افسانے قارئین کو حظ بہم پہنچارہے ہیں۔ اب تک اپنی بیش قیمتی 28 کتابیں اردو دنیا کو عطا کر چکے ہیں جن میں ” تیسری دنیا کے لوگ ” (افسانے)1984، ” بند راستے ” (افسانے) 2000، ” ہندستانی تہذیب بوستان خیال کے تناظر میں ” 1988، ” ریاض دلربا” (تحقیق) 1990، ” آؤ اردو سیکھیں ” (قاعدہ) 1993، ” داستان سے ناول تک ” (تنقید) 2001، ” انتخاب سخن” (اردو شاعری کا انتخاب) 2005، ” منتخب غزلیات ” 2005، ” اصناف پارینہ ” (قصیدہ، مثنوی اور مرثیہ)2005، ” منتخب نظمیں ” 2005، ” تنقید و تحسین ” (تنقیدی مضامین کا مجموعہ) 2006، ” تحقیق وتدوین” (ترتیب) 2007، ” میر امن ” (مونوگراف) 2007، ” باغ و بہار ” (مقدمہ ومتن) 2008، ” پہلے آپ ” (ڈرامہ) 2008، ” نظیر اکبر آبادی کی شاعری ” 2008، ” مضراب ” (کنول ڈبائیوی کا کلیات مع مقدمہ) 2010، ” اردو افسانہ ” (افسانوی تنقید) 2011، ” پچاس افسانے” (افسانوی مجموعہ) 2014 ” تنقیدی اظہار ” (تنقید) 2015،” فسانہ عجائب ” (مرتبہ) 2016، ” اردو لوک ناٹک روایت اور اسالیب” (ڈبائیوی) مرتبہ, 2014،” اھل الکھف ” (افسانے) عربی مترجم: احمد قاضی، مصر، 2018، ” اردو شاعری ” (تنقید) 2019، ” داستان کی جمالیات” 2020، بساط نشاط دل (انشائیے)اورتبریک (تقاریظ)شامل ہیں۔ ان تالیفات و تصنیفات کی فہرست میں اب ایک نئی تصنیف خاکوں کا مجموعہ "کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی ” کا اضافہ ہوا ہے، جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔ ذیل میں اس کتاب کا مختصر مطالعہ پیش کیا جاتا ہے جس کی روشنی میں پروفیسر ابنِ کنول کی خاکہ نگاری کی انفرادیت اور بلند قد و قامت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ’’کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی‘‘خاکوں کا گنجینۂ گوہر- ڈاکٹر ابراہیم افسر )
زیر مطالعہ کتاب ” کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی ” میں پچیس خاکے شامل ہیں جو ان کے بعض مربین، معلمین، مشفقین، محبین، منسلکین اور چند ادبی و علمی شخصیات سے متعلق ہیں، مثلاً ماسٹر منشی چھٹن، پروفیسر قاضی عبد الستار، پروفیسر قمر رئیس، پروفیسر تنویر احمد علوی، پروفیسر گوپی چند نارنگ، عنوان چشتی، حیات اللہ انصاری، عصمت چغتائی، قرت العین حیدر، محمدعتیق صدیقی،محمدزماں آزرد ہ، اے رحمن،علی احمد فاطمی، پیغام آفاقی،اسلم حنیف،جلال انجم، فاروق بخشی،ارتضی کریم،شمس تبریزی، خواجہ محمد اکرام الدین اور پروفیسر محمد کاظم،نعیم انیس وغیرہ۔
فاضل خاکہ نگار نے کتاب کے آغاز میں اپنے حلفیہ جملوں سے بڑی بے باکی اور نہایت خوبصورتی کے ساتھ قارئین کی توجہ اپنی اور کتاب کی جانب مرتکز کرنے کی سعی کی ہے جو ان کا خاصہ بھی ہے، ملاخطہ فرمائیں اور اندازہ لگا ئیں:
” جو کچھ کہوں گا سچ کہوں گا، سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا۔ یقین کریں یا نہ کریں، آپ کو اختیار ہے”۔ (ص:4)
خاکہ نگار پروفیسر ابنِ کنول کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے عالمی وباء کورونا وائرس اور ملک گیر لاک ڈاؤن کے دوران اس کتاب کو 2020 میں زیور طباعت سے آراستہ کیا تھا اور قارئین کے درمیان پیش کیا تھا۔ قارئین نے بھی اس کی اہمیت، معنویت اور ادبیت کے سبب اس کی خوب خوب پذیرائی کی تھی۔ پذیرائی کا یہ سلسلہ جاری ہے اور امید ہے مستقبل بعید تک جاری رہے گا۔ انہوں نے لاک ڈاؤن کا منظر، پس منظر، پیش منظر، لاک ڈاؤن کے سبب ملک کے بدلتے حالات اور لوگوں کی مشکلات کا تذکرہ "معذرت نامہ” عنوان کے ضمن میں جس طرح داستانوی اور افسانوی، مگر حقیقت پر مبنی پیرا یہئ اسلوب میں کیا ہے، اس سے ان کا منفرد لب ولہجہ مترشح ہوتا ہے جو قارئین کے دلوں کو چھو جاتا ہے اور اس کی قرأت پر انہیں مجبور کر دیتا ہے، دعویٰ بلا دلیل کا میں قائل نہیں، اس لیے تمہید بعنوان ” معذرت نامہ ” کی ابتدائی چند سطور ملاحظہ فرمائیں اور اندازہ لگا ئیں کہ اس کا آغاز کس دلکش پیرایہئ اسلوب میں کیا ہے:
” اور پھر حاکم وقت نے اعلان کیا:
اے لوگو! ہم سب ایک آسمانی آفت میں گرفتار ہیں اور اس سے نجات کا ایک ہی راستہ ہے کہ ہم ایک دوسرے سے فاصلہ بناکر رکھیں۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ سر دست جو شخص بھی جس مقام پر ہے ٹھہر جائے، خود کو گھروں میں قید کرلے، تاکہ ہم اس آفت ناگہانی سے محفوظ رہ سکیں۔ ”
اور اس اعلان کے ساتھ پورے ملک میں سناٹا چھا گیا، تمام بازار اور گھر کے دروازے بند ہوگئے، سڑکوں پر ویرانی چھاگئی، محلوں میں وحشت برسنے لگی، ہر شخص حیران و پریشان تھا کہ اب کیا ہوگا؟ کیوں پوری دنیا عذاب میں مبتلا ہوگئی ہے؟ کیوں ہم اپنے عزیز و اقرباء سے بھی دور ہوگئے ہیں؟ کیوں موت ہم سب کے سروں پر منڈلا رہی ہے؟ کیا قیامت کی آمد ہے؟ کیا خدا کی طرف سے ہم سب کو محتاط کرنے کا کوئی طریقہ ہے؟ کوئی سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے۔ گھروں میں قید افراد بھی اپنوں کو ہی شک کی نظر سے دیکھ رہے تھے۔ ایک دوسرے سے بات کرنے اور قریب آنے سے کترا رہے تھے۔ میں اپنے کمرے میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ ان قیدیوں پر کیا گزرتی ہوگی جو قید خانوں میں بند ہیں۔ ان کے پاس تو نہ کوئی اپنا ہوتا ہے، نہ روشنی ہوتی ہے اور نہ ہوا۔ میں سوچ رہا تھا ان پرندوں کے بارے میں جو پنجروں میں قید ہیں، سب کچھ ہے، آزادی نہیں ہے۔ مجھے اقبال کی” پرندے کی فریاد ” یاد آئی جس پر پرندہ کہتا ہے:
آزاد مجھ کو کردے او قید کرنے والے
میں بے زبان ہوں قیدی تو چھوڑ کر دعا لے
لیکن یہ نظر بندی یا قید ہماری اپنی اور اپنے عزیزوں کی حفاظت کے لیے تھی” (ص:8 -7)
کتاب کا پہلا خاکہ منشی چھٹن کا ہے جو ابنِ کنول کی ابتدائی تعلیم کے استاد ہیں۔انہوں نے اس کے ضمن میں اسکول کے کئی اساتذہ مثلا منشی حاجی صفدر علی، منشی ہادی علی اور ماسٹر منشی چھٹن کی خوبیوں اور خامیوں کو اس طرح اچھوتے انداز میں بیان کیا ہے کہ قارئین کو پڑھتے وقت بڑا لطف آتا ہے اور ان سبھی کے خاکے ان کے اذہان وقلوب پر منقش ہوجاتے ہیں۔ اس خاکہ میں انہوں نے اترپردیش کے قصبہ "گنور” کا جغرافیہ، اس کی تاریخی حیثیت اور وہاں اردو میڈیم اسکول میں اپنے داخلے کی دلچسپ داستان بھی بیان کی ہے۔ ساتھ ہی ایک سطر میں اس اسکول سے نکل کر دہلی یونیورسٹی میں پروفیسر بننے تک کی پلاننگ کا انکشاف بھی بڑی چابکدستی سے کیا ہے:
” 1962 میں یہ سوچ کر ہمیں اس اردو میڈیم اسلامیہ اسکول میں داخلہ کرایا کہ بڑے ہو کر انہیں دہلی یونیورسٹی کے شعبہئ اردو میں پروفیسر ہونا ہے۔”(ص:13)
انہوں نے اس میں اپنی شادی کا تذکرہ بھی بڑی خوبصورتی سے کیا ہے:
” پہلی کلاس میں ہمارے کلاس ٹیچر منشی حاجی صفدر علی تھے بعد میں جن کی پوتی ہماری شریک حیات بن گئی”۔ (ص15)
انہوں نے اس عنوان کے تحت اپنے کئی اسکولی ساتھیوں مثلاً عبد المقیت، وکیع الدین، انور خورشید، انیس احمد وغیرہم سے وابستہ یادوں کو بھی الفاظ کا جامہ پہنایا ہے، ان کے خاکے کھینچے ہیں اور اخیر میں اپنے استاد منشی چھٹن کو بہت ہی جذباتی انداز میں یاد کیا ہے۔ رقم طراز ہیں:
” دہلی آئے ہوئے چار دہائیوں سے زیادہ وقت گزر گیا لیکن چھٹن منشی جی کا چہرہ اور ان کی باتیں اب بھی یاد ہیں۔ سنا ہے بہت بوڑھے ہوگئے ہیں۔ میرے ذہن میں وہ اب بھی بوڑھے نہیں ہوئے ہیں۔ ان کی وہی صورت اور وہی مشفقانہ باتیں مجھے یاد دلاتی رہتی ہیں۔ انسان بچھڑ جاتا ہے لیکن اس کا کردار اسے زندہ رکھتا ہے۔ چھٹن منشی ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گے۔” (ص:16) (یہ بھی پڑھیں ابن کنول کا افسانہ’’ہمارا تمھارا خدا بادشاہ‘‘ – شاہد اقبال )
کتاب میں دوسرا خاکہ بعنوان "منٹو سرکل ” ہے۔ اس میں انہوں نے سرسید احمد خان کے ذریعہ 1875 میں اس اسکول کے قیام، وہاں سے جنرل ایوب خان، لیاقت علی، طلعت محمود، حامد انصاری، عرفان حبیب، سعید جعفری، جاوید اختر، مشیر الحسن، منصور علی خان پٹودی، احمد علی، ظفر اقبال اور عبد الرحیم قدوائی جیسی نامور و مقتدر شخصیات کی اسکولنگ اور حصول علم کا تذکرہ کیا ہے۔ان مقتدر شخصیات کی فہرست میں اپنا نام نامی اسم گرامی بھی شمار کیا ہے۔ اپنے حوالے سے کئی انکشافات بھی کئے ہیں، مثلاً:
” ہم پہلے دن بہت بن سنور کر خاکی پینٹ اور سفید قمیص پہن کر اسکول پہنچے۔ ہم نے اپنی کتابیں پلاسٹک کے ایک خوبصورت سے تھیلے میں رکھی تھی جسے دیکھ کر کچھ سنیئر طالب علموں نے طنز کیا: کیوں پاٹنر! کیا سبزی لینے بازار جارہے ہو؟ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگلے دن ہم نے اسے بدل دیا۔ "(ص:19)
اس میں انہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی میں سینئروں اور جونیئروں کے درمیان حد فاصل کا بھی تذکرہ کیا ہے اور ایک دوسرے کی عزت و احترام ملحوظِ رکھتے ہوئے سنیئرٹی کو مجروح نہیں ہونے دینے پر بھی مہر ثبت کی ہے۔ اس سلسلے میں وہ لکھتے ہیں:
” علی گڑھ میں سینئر جونئیر کی تفریق بہت ہے۔ ہر سینئر جونئیر پر برتری حاصل کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے اور جونئیر سینئر کا ادب کرتا ہے۔ وہ دنیا کے کسی ملک میں ہوں اپنی سنئیرٹی کے احساس کو مجروح نہیں ہونے دیتے۔ "(ص19)
اس خاکے میں ابنِ کنول نے اپنے کئی احباب اور اساتذہ کا ذکر جمیل کیا ہے، مثلاً صغیر احمد صدیقی، افضال احمد صدیقی، مولانا عبد القیوم، ظہیر احمد، خالدہ میڈم، قدسیہ میڈم وغیرہم، ان سب کے بھی خد و خال پیش کئے ہیں۔ انہوں نے اے ایم یو کی خوشگوار فضا، علمی ماحول، طلباء و اساتذہ کے درمیان پائیدار تعلقات کا بہترین نقشہ کھینچا ہے۔ ساتھ ہی ” منٹو سرکل ” میں گزارے اپنے پانچ سالوں کو اپنے لیے بے حد عزیز قرار دیا ہے۔ اس خاکے کا تتمہ مندرجہ ذیل یادگار و تاریخی پیراگراف پر کیا ہے:
” اب میری شناخت ناصر محمود کے بجائے پروفیسر ابنِ کنول کے طور پر ہونے لگی ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ میں اب بھی اپنے آپ کو ناصر محمود کی شکل میں منٹو سرکل کی گھاس کے میدانوں میں دوڑتا ہوا محسوس کرتا ہوں۔ اسی کا نام اسکول ہے جہاں بچپن بچپن ہوتا ہے۔ جس طرح بچپن میں یاد کی ہوئی نماز ہمیشہ یاد رہتی ہے اسی طرح اسکول میں گزرا وقت کبھی دل سے محو نہیں ہوتا اور پھر منٹو سرکل جیسا اسکول جو ایک تعلیمی ادارہ ہی نہیں ایک تہذیبی مرکز ہے جو سرسید کا خواب ہے اور ہم اس کی تعبیر ہیں۔ ” (ص20)
کتاب میں ایک خاکہ ” داستان گو قاضی عبد الستار ” کے عنوان سے ہے۔ اس میں ابنِ کنول نے اپنے استاد قاضی عبدالستار صاحب کی علمی جلالت، رعب و دبدبہ، اردو زبان وادب، بالخصوص افسانہ نگاری کے میدان میں ان کی عظمت ورفعت، بلند قد وقَامت، ملک میں منعقد سمیناروں و کانفرنسوں میں ان کی شرکت اور ان سے اپنے گہرے مراسم پر نہایت شرح و بسط کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ ان کی شخصیت اور کارناموں کے مختلف گوشوں کو اس طرح وا کیا ہے کہ وہ قارئین کو کھلی کتاب معلوم پڑتے ہیں۔ اس میں ایک خاکہ پروفیسر قمر رئیس کے حوالے سے بھی شامل ہے جس میں ان سے پہلی ملاقات کا واقعہ بہت دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے۔ پہلی ملاقات میں ہی وہ کس طرح ان کا گرویدہ ہوگئے اور پھر دونوں کے درمیان استادی و شاگردی کا رشتہ کیسے ہمیشہ کے لیے قائم و استوار ہوگیا اس کو بھی طشت ازبام کیا ہے۔ اس ضمن میں دہلی یونیورسٹی کے اپنے بعض ساتھیوں اور اساتذہ کا بھی ذکر خیر کیا ہے، جن میں پروفیسر ظہیر احمد صدیقی، پروفیسر خواجہ احمد فاروقی، فضل الحق، شمیم نکہت، تنویر احمد علوی، پروفیسرعبد الحق اور پروفیسر عتیق اللہ وغیرہم شامل ہیں۔ اس کے تحت دہلی کی آب وہوا، تہذیب وثقافت، وہاں کے ٹریفک نظام، بسوں میں سفر کی مشکلات، بٹلہ ہاؤس میں قیام، کالندی کنج پارک میں پروفیسر قمر رئیس کے ساتھ مارننگ اینڈ ایویننگ واکنگ، قمر رئیس کے حسن وجمال، اخلاق و کردار، ان کی ادبی حیثیت، بلند قد و قامت،ان کی تالیفی، تصنیفی اور ادبی خدمات وغیرہ سے متعلق بھی خوب خامہ فرسائی کی ہے۔ ساتھ ہی اپنی ترقی کا سہرا ان ہی کے سر باندھ کر ایک فرماں بردار شاگرد ہونے کا ثبوت پیش کیا ہے۔ انہوں نے اس حقیقت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے:
” میرے دل میں ان کے لیے آج تک عزت و احترام ہے۔ میرے اس مقام تک پہنچنے کا وہی ذریعہ بنے تھے۔ دہلی اور دہلی سے باہر اردو ادب اور ادیبوں میں قمر صاحب کی وجہ سے بھی بہت عزت ملی۔ بڑے آدمی کے ساتھ رہنے والے کو بھی لوگ بڑا سمجھ لیتے ہیں۔ "(ص53)
ابنِ کنول نے اپنے استاد پروفیسر قمر رئیس کی شباہت و وجاہت اور ان کے حسن وجمال کو ” حسن یوسف ” سے تشبیہ دیا ہے، البتہ اس یوسف سے نہیں جس کی خوبصورتی کے حوالے سے مشہور ہے کہ اللہ نے چاند کی نصف خوبصورتی انہیں عطا کی تھی اور باقی نصف کو پوری دنیا کے انسانوں میں تقسیم کردیابلکہ ابنِ کنول نے قمر رئیس کو اس یوسف سے تشبیہ دی ہے جو بھارتی فلموں میں لیجنڈ اداکار و شہنشاہ جذبات کے آداب و القاب اور دلیپ کمار کے نام سے مشہور تھا، جس نے بالی ووڈ پر کئی دہائیوں تک حکمرانی و بادشاہت کی، جو کروڑوں نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن تھا، بہر حال! پروفیسر ابنِ کنول پروفیسر قمر رئیس کو دلیپ کمار جیسی خوبصورت و پرکشش شخصیت کا مالک بتاتے ہوئے رقمطراز ہیں:
” قمر صاحب کی شخصیت بہت پرکشش تھی۔ دلیپ کمار کی طرح خوبصورت پٹھان تھے۔ دراز قد، نکھرتا رنگ، چمکدار مسکراتی آنکھیں، پیشانی پر لہراتے سیاہ بال جنہیں تھوڑی تھوڑی دیر میں انگلیوں سے اوپر کرتے، خاموش رہتے تو صوفیانہ استغراق، بولتے تو بلبل کی سی چہچہاہٹ۔ ” (ص:41) (یہ بھی پڑھیں افسانہ تنقید کے ابتدائی نقوش – ڈاکٹر نوشاد منظر)
اردو زبان وادب کی قدیم تاریخ ہے کہ معاصرین کے درمیان کسی نہ کسی بات کو لے کر چشمک کی دیواریں اٹھی رہتی ہیں، بلکہ تلوار کھچی رہتی ہے اور ہر کوئی ایک دوسرے کی گردن زدنی کے لیے شمشیر بکف ہوتا ہے۔ انشا و مصحفی اور انیس ودبیر کی چشمک جگ ظاہر ہے۔ اسی طرح پروفیسر قمر رئیس اور پروفیسر گوپی چند نارنگ کے درمیان معرکہ آرائی سے دنیا واقف ہے۔ ابن کنول نے ان دونوں کے درمیان ہمہ وقت جنگ چھڑی رہنے کے باوجود ان کے تعلقات کو ہند و پاک جیسے تعلقات سے تشبیہ دی ہے اور خود کو قمری کیمپ کا سپاہی قرار دیا ہے، رقمطراز ہیں:۔
” اس زمانے میں اردو کی دو معروف شخصیات پر دہلی کی ادبی سرگرمیوں کا انحصار تھا۔ ایک پروفیسر قمر رئیس اور دوسرے پروفیسر گوپی چند نارنگ۔ دونوں اپنے زمانے کے انشا و مصحفی یا انیس ودبیر تھے۔ اس زمانے کے بزرگ اور نوجوان ادیب و شاعر انیسیوں اور دبیر یوں کی طرح تقسیم تھے۔ ہم قمری گروہ کے سپاہیوں میں شمار ہوتے تھے۔ علی گڑھ میں قاضی عبد الستار کے آدمی کہلاتے تھے، یہاں ان کے دوست قمر رئیس کے کہلائے گئے۔ قمر صاحب اور نارنگ صاحب کے پاس عہدے بھی تھے، قلم بھی اور قلمکار بھی تھے۔ نظر یاتی اختلافات تھے۔ خوب مورچہ بندی ہوتی تھی۔، کبھی کبھی مصلحتاً Ceasefire کی بھی نوبت آجاتی تھی لیکن وہ ہند وپاک جیسے ہی تعلقات تھے۔ Ceasefire کی خلاف ورزی اپنی جگہ تھی۔ "(ص: 48-47)
پروفیسر ابنِ کنول افسانہ نگار اور خاکہ نگار کے ساتھ ساتھ نقاد بھی ہیں اور نقاد بھی کوئی ” لکیر کا فقیر ” نہیں اور نا ہی وہ ” من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو” کا قائل ہیں، وہ تو "جو کچھ کہوں گا سچ کہوں گا، سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا ” پر ہمہ وقت کاربند رہتے ہیں، اس سے ایک انچ آگے بڑھتے ہیں اور نا ہی پیچھے ہٹتے ہیں۔ استاد قمر رئیس سے حددرجہ عقیدت و محبت کے باوجود ان کی لامذہبیت و دین بیزاری سے نقاب کشائی بڑی بے باکی سے کی ہے، ملاحظہ فرمائیں:
صوم وصلوۃ سے وہ دور تھے۔۔۔۔۔ سناہے قمر صاحب نوجوانی میں ایسے نہیں تھے یعنی جب شاہجہاں پور میں تھے تو نماز بھی پڑھتے تھے اور کبھی کبھی اذان بھی دیتے تھے لیکن جب جوان ہوکر لکھنؤ آئے تو پڑھے لکھوں کی صحبت میں بگڑ گئے۔ "(ص:42-41)
اس کتاب میں ایک خاکہ ” گوپی چند نارنگ ” کے عنوان سے ہے۔ اس میں فاضل مصنف نے پروفیسر گوپی چند نارنگ سے اپنے تعلقات، ان کی نیرنگی شخصیت وعظمت، علمیت و قابلیت، فضائل وکمالات اور گراں قدر ادبی خدمات پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں بھی دہلی اور علی گڑھ میں اردو ادباء، بالخصوص پروفیسر قمر رئیس، پروفیسر نارنگ اور پروفیسر عنوان چشتی کے درمیان مخاصمت اور ان کی گروہ بندیوں کا جم کر بھانڈا پھوڑا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
” جب اسکول سے نکل کر علی گڑھ کے شعبہئ اردو میں آئے تو اردو اور اردو والوں کی سیاست کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگی اور 1978 میں دہلی آکر تو اردو کا پارلیمنٹ ہی دیکھ لیا۔ یہاں تو آزادانہ حکومتیں قائم تھیں۔ کہیں پانی پت کا میدان تھا، کہیں پلاسی کی جنگ تھی، کہیں بکسر کی لڑائی۔ "(ص:69)
ابنِ کنول چونکہ ہمیشہ سے حلیم و بردبار اور دوراندیش ونکتہ رس رہے ہیں، اختلاف و انتشار سے اپنے دامن کو شروع سے محفوظ رکھا ہے۔ وہ چونکہ طلباء کے بہت بہی خواہ ہیں اور اپنے شاگردوں کو اپنی اولاد کی طرح مانتے ہیں اور اساتذہ کے اختلافات کو طلباء کے لیے باعث خسارہ سمجھتے ہیں۔ اساتذہ کی گروہ بندی سے وہ کیسے نبردآزما ہوئے اور کیسے حکمت و مصلحت کے حصار میں خود کو محصور کیا اس کا بخوبی اندازہ ان کے اس قول لین سے لگایا جاسکتا ہے:
” ہمارے لیے بڑی مشکل تھی۔ ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر۔ ابا نے کہا تھا تینوں کا احترام کرنا، حالات کہہ رہے تھے کسی ایک کا ہو جاؤ۔ ہم ٹھہرے صلح کل پر چلنے والے آدمی۔ یعنی کل سے صلح رکھو۔ نظریہ اپنا رکھو۔ نہ کا ہو سے بیر رکھو، نہ کا ہو سے دشمنی۔ اساتذہ کے اختلافات میں اکثر طلباء کا نقصان ہوتا ہے "۔ (ص:69)
فاضل خاکہ نگار نے معروف صوفی شاعر عنوان چشتی کا بھی خاکہ بڑی خوش اسلوبی سے تحریر کیا ہے۔ ان سے اپنے والد بزرگوارکنول ڈبائیوی کے خوشگوار تعلقات، ان کے نام کے ساتھ "چشتی” لفظ کے لاحقہ کی وضاحت، ان سے اپنی پہلی ملاقات، بالمشافہہ ان سے علمی مذاکرہ اور ان کی حیات و خدمات وغیرہ پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ معروف افسانہ نگار و ناول نگار حیات اللہ انصاری کا بھی خاکہ عالمانہ انداز میں لکھا ہے۔ ان کی حیات و خدمات کے مختلف گوشوں کو اجاگر کیا ہے۔ ان کے افسانہ ” آخری کوشش” اور ناول ” لہو کے پھول ” کی بڑی تعریف کی ہے۔ ان سے اپنی ملاقات کا یادگار واقعہ قلمبند کیا ہے۔ ان کی شباہت و وجاہت اور جسامت و قدامت کو لال بہادر شاستری سے تشبیہ دی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے دہلی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد اسی یونیورسٹی کے شعبہئ اردو میں 1985 میں ” ریسرچ سائٹیسٹ ” کی حیثیت سے اپنی تدریسی خدمات کے آغاز کا تذکرہ بڑی خوش اسلوبی سے کیا ہے۔ لفظ ” سائنٹیسٹ ” کی وضاحت بہت ہی مزاحیہ انداز میں کی ہے۔ قارئین اسے پڑھ کر محظوظ تو ہوتے ہی ہیں، فرطِ مسرت سے جھوم بھی اٹھتے ہیں کہ اردو زبان و ادب کو پروفیسر ابنِ کنول کی شکل میں کنہیالال کپور اور پطرس بخاری کا بدل مل گیا۔ اس پر میں بھی مہر صداقت ثبت کرتا ہوں۔
پروفیسر ابنِ کنول نے معروف ادیبہ، ناول و افسانہ نگار عصمت چغتائی کا خاکہ بعنوان ” عصمت آپا ” لکھا ہے جو اس کتاب میں شامل ہے۔ اس کے آغاز میں انہوں نے کسی جواں سال قلمکار کی طرح نہایت پر جوش و پرمزاح انداز میں عصمت کی خاکہ کشی کی ہے۔ اس خاکے کا لفظ لفظ عصمت کی شخصیت، طبیعت، افتاد، مزاج اور خدمات کی صداقت کی شہادت دیتا ہے۔ ابنِ کنول نے اپنے افسانوی انداز کو اس خاکہ میں بھی مکمل طور پر ملحوظ رکھا ہے۔ لگے ہاتھوں ملاحظہ فرمائیں اور اندازہ لگا ئیں کہ اس کا آغاز کس طرح دلکش پیرائے میں کیا ہے:
” خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں "، صبر آجاتا اگر خاک میں پنہاں ہو جاتیں۔ ایسی خوبصورت خاتون کہ بڑھاپے میں بھی کوئی دیکھے تو دیکھتا رہے۔ درمیانہ قد، گورا رنگ، چنگیز خانی بدن، جو ہر طرح کے مقابلے کے لیے تیار، سفید روئی کے گالوں جیسے بال، انگریز لیڈی کی طرح۔ تبھی تو انہیں فلم "جنون ” میں انگریز عورت کی ماں کا کردار ملا۔ شیام بینیگل کی نظر تھی، جینیفر سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھیں۔ بالکل بوڑھی ڈول (گڑیا) کی طرح۔ کاش خاک میں مل جاتیں۔ "(ص: 90)
عصمت کتنی بیباک تھیں، وہ عورتوں پر مردانہ طبقہ کے ظالمانہ رویے کی کتنی کٹر مخالف تھیں۔ عورتوں کے مسائل کو کتنی مضبوطی سے اٹھا تی تھیں، اردو زبان وادب میں ڈرامہ نگاری و افسانہ نگاری کو انہوں نے کیسے فروغ دیا، ان سب پر خاکہ نگار نے مسحور کن گفتگو کی ہے۔ ساتھ ہی انہیں کرشن چندر، منٹو اور راجندر سنگھ بیدی کا ہم پلہ فکشن نگار بھی قرار دیا ہے۔ علی گڑھ میں ان سے باربار اپنی ملاقات اور ان سے استفادہ کا اعتراف کیا ہے۔ ان سے اپنے تعلقات کو علی گڑھ برادری کا حصہ بتایا ہے۔ ان کے انتقال کو ” اردو افسانوی ادب کا آخری ستون” گر جانے سے تعبیر کیا ہے۔ اس خاکہ کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابنِ کنول نے خود کو عصمت آپا کی عقیدت و محبت کی زنجیر میں جکڑ رکھا ہے۔انھیں عصمت چغتائی کے نذر آتش کرنے کابہت دکھ ہے،لکھتے ہیں:
” قبر کے اندر یہ فکشن نگار موجود ہے۔ جب دل چاہیگا دیکھ لیں گے۔ ایسی پیاری صورت کو مٹی نے بھی میلا نہ کیا ہوگا۔مستقل منکر نکیر سے حجت ہورہی ہوگی اور منکر نکیر تنگ آکر اور یہ کہہ کر چلے گئے ہوں گے کہ ان سے الجھنا اپنی مصیبت بلانا ہے کہ یہ چنگیز خان کے خاندان سے ہیں لیکن ایسا ہوا نہیں۔ ان کا خوبصورت بدن تو نذر آتش ہوکر راکھ بن گیا اور ہوا میں اڑ گیا۔ آگ نے بھی پہلے چھونے سے انکار کیا ہوگا۔ عصمت آپا تو خود آگ تھیں۔ ان کے قلم سے تو آگ ٹپکتی تھی۔ "(ص:92-91)
پروفیسر ابنِ کنول عصمت آپا کا خاکہ لکھیں اور عینی آپا کو نسیا منسیا کردیں یہ نا انصافی وہ نہیں کر سکتے ہیں، آخر منصف مزاج جو ٹھہرے! شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کرتے ہوئے 2008 سے 2015 کے دوران میں نے جو مشاہدہ کیا تھا اس کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ استاد محترم فرمان ربانی ” اعدلوا ھو اقرب للتقوی ” کے پاسدار و علمبردار ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں بھی انصاف کو ملحوظ رکھنے کی سعی مسعود کی ہے۔ عصمت آپا کے ساتھ ساتھ عینی آپا کا بھی خاکہ لکھا ہے اور بہت عمدہ لکھا ہے۔ اس کا آغاز بایں سطور کیا ہے:
” جب سے ادبی ہوش سنبھالا، یہی سنا کہ ” آگ کا دریا ” کی مصنفہ کی تپش بہت تیز ہے۔ ان سے ملتے ہوئے لوگ ڈرتے ہیں اور بات کرتے ہوئے ہکلاتے ہیں۔ کسی کو خاطر میں نہیں لاتیں۔ اردو کی ادیبہ ہیں لیکن انگریزی بولتی ہیں۔ انگریزی میں سوچتی ہیں اور انگریزی میں لکھتی بھی ہیں۔ ان کا رویہ بھی انگریزی حکام کا سا ہوتا ہے۔ جس طرح انگریز ہندوستانیوں سے ملتے تھے یا بات کرتے تھے قرۃ العین بھی اسی طرح پیش آتی ہیں۔ ان کی شخصیت بھی ان کے اسلوب کی طرح پرشکوہ ہے۔ کچھ وہ اپنے رویے سے مرعوب کر دیتی ہیں اور کچھ لوگ ان کی تحریروں سے مرعوب ہوکر ان کے سامنے زبان نہیں کھول پاتے ہیں۔” (ص:108)
خاکہ نگار نے اس خاکہ میں عینی آپا کی اردو زبان وادب کے علاوہ انگریزی میں مہارت، انگریزی سے جنون کی حد تک شغف، دوسروں پر ان کا رعب و دبدبہ اور ان کے جاہ و جلال، انٹرویوروں پر ان کا خوف، ان کی عظیم المرتبت شخصیت، افسانہ نگاری اور ناول نگاری میں ان کی انفرادیت کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ اس کے علاوہ بہت ہی شگفتہ و شائستہ لب و لہجے میں انہیں کبر و غرور سے دور ایک ” سچی فنکار ” قرار دیا ہے، وہ لکھتے ہیں:
” عینی آپا وہ نہیں تھیں جو لوگ سوچتے تھے۔ وہ ایک سچی فنکار تھیں۔ ” شیشے کے گھر "میں بیٹھ کر ” دلربا ” انداز میں "چائے کے باغ ” سے لا ہوئی چائے پیش کرتے اور ” پت جھڑ کی آواز ” کو نظر انداز کرتے ہوئے” ستاروں سے آگے”، ” روشنی کی رفتار” دیکھ کر یہ کہتی ہوئی رخصت ہو گئیں ” اگلے جنم موہے بیٹیا نہ کیجیو "، عینی آپا مغرور نہیں تھیں۔ جبکہ ان کے پاس وہ سب کچھ تھا جو کسی کے اندر غرور پیدا کر سکتا ہے۔” (ص:109) (یہ بھی پڑھیں حکیم آغا جان عیش کی غزل گوئی۔ ڈاکٹر نوشاد منظر )
عینی آپا کا یہ خاکہ بہت دلچسپ انداز میں تحریر کیا گیا ہے۔ قارئین کو اس کی قرأت کے وقت بڑا لطف آتا ہے۔
اس کتاب میں معاصر اردو ڈراما کی تنقید کے نئے امام، معروف ناقد و محقق، ڈراما نگار، نکڑ ناٹکوں اور تھیٹروں کے بڑے اداکار و ہدایت کار پروفیسر محمد کاظم، شعبہئ اردو، دہلی یونیورسٹی، دہلی کے استاد کا خاکہ بھی شامل ہے۔ پروفیسر ابنِ کنول اور پروفیسر محمد کاظم میں بہت گہری دوستی ہے جس کا بنفس نفیس میں شاہد ہوں۔ دراں حالاں کہ دونوں کی عمر میں تفاوت کی دیوار کھڑی ہے۔ دراصل جب آدمی ایک درسگاہ یا عمل گاہ میں ہوتا ہے تو سینئرٹی و جونیئرٹی یا عمر کی دیواریں از خود منہدم ہوجاتی ہیں، خاص کر ہم مزاجوں اور ہم خیالوں کے درمیان کی دیواریں۔ وہاں اکثر کلیگ ہم پیالہ و ہم نوالہ ہو جاتے ہیں اور وہ علامہ اقبال کے اس شعر کی عملی تصویر بن جاتے ہیں:
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
مذکورہ بالا شعر عام طور پر مساجد کے نمازیوں کے حوالے سے کہا جاتا ہے، مگر میں نے پروفیسر ابنِ کنول اور پروفیسر محمد کاظم کے درمیان جس طرح بے تکلفی کا مشاہدہ کیا ہے اس سے مجھے لگتا ہے کہ یہ شعر ان دونوں مشاہیر زبان و ادب پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ بہر حال! اس کتاب میں پروفیسر ابنِ کنول نے بہت خوبصورتی سے پروفیسر محمد کاظم کا خاکہ کھینچا ہے اور ان سے اپنے گہرے مراسم کا بڑی اپنائیت کے ساتھ اظہار کیا ہے۔ اس کی سطر سطر ہی نہیں لفظ لفظ بھی پروفیسر ابن کنول کی پروفیسر محمد کاظم سے بے پناہ محبت کی چیخ چیخ کر شہادت دیتا ہے۔ خاکہ نگار نے اس کا آغاز بھی دیگر خاکوں کی طرح اپنے مخصوص اساطیری و داستانوی پیرایہ اسلوب میں کیا ہے، ملاخطہ فرمائیں:
ہیلو – ہیلو، جی السلام علیکم”، ” کہاں ہو بھئی؟ "، "جی کلکتہ میں "، ” کب گئے؟ "، ” آج صبح آیا، کل ان شاء اللہ واپس آجاؤں گا۔ "، ”ہیلو – ہیلو”، ”جی السلام علیکم۔“، ”کہاں ہو بھئی؟“، ”احمدآباد میں، رات آیا تھا۔” کبھی کلکتہ، کبھی احمدآباد، کبھی جبل پور، کبھی پونا، کبھی ممبئی، کبھی بنگلہ دیش، کبھی مصر، کبھی ترکی، کبھی تاشقند، کبھی ماریشس… یہ آدمی ہے یا جن؟ ارے یہ جن نہیں، اداکار ہے۔ باادب، با ملاحظہ، ہوشیار۔ اسٹیج پر سناٹا تھا، اچانک اندھیرے کو چیرتا ہوا روشنی کی زد میں ایک شخص چلاتا ہوا اسٹیج پر آیا۔ ”یہ دنیا منچ ہے۔ ہم سب اداکار ہیں۔ اچھے اور برے، سب مرنے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔ اپنی اچھائیوں کے ساتھ، اپنی برائیوں کے ساتھ۔ ہاہاہاہا۔ وہ شخص بار بار یہ بات دہراتا ہوا اسٹیج سے غائب ہو جاتا ہے۔ اسٹیج پر روشنی ہو جاتی ہے۔ میں اس شخص کو تلاش کرتا ہوں۔ نظر نہیں آتا۔ پھر دیکھتا ہوں کہ ایک بھیڑ اسے گھیرے ہوئے چلا رہی ہے، اس سے مدد مانگ رہی ہے۔ میں نے غور سے دیکھا، یہ کون ہے۔ یہ تو کاظم ہے- ڈاکٹر محمد کاظم۔ دہلی یونیورسٹی کے شعبہئ اردو میں استاد۔ واقعی یہ استاد ہے۔ ہر جگہ استادی دکھاتا ہے۔ ہر فن میں استاد ہے۔ ” (ص: 202-201)
ابنِ کنول نے اس ڈرامہ میں بھی اپنے فنی کمالات کا خوب خوب مظاہرہ کیا ہے۔ پروفیسر محمد کاظم کی اداکاری، ہدایت کاری، استادی، خوش مزاجی، سلیقگی، شائستگی، سنجیدگی، بے پناہ صلاحیت، قابلیت، فعالیت، ادبیت، محنت، مشقت اور ان کے فکرو فن وغیرہ پر بڑی شگفتہ مزاجی کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ ان کے کلکتہ سے دہلی تک کا سفر اور دہلی میں جے این یو سے ایم اے، ایم فل و پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کرنے، مشہور ادبی رسالہ "آجکل ” اور دہلی یونیورسٹی میں ملازمت کرنے، ان کے اخلاق کی وجہ سے یونیورسٹی کے سیکورٹی گارڈ اور کلرک سے لے کر، طلباء، ریسرچ اسکالرز، پروفیسران و دیگر اعلیٰ عہدیداران تک کے انہیں سلامی ٹھوکنے اور اور بے پناہ اہمیت و عزت بخشنے کی صراحت نہایت پر لطف انداز میں کی ہے۔ ان کے کھانے پینے اور سیر و تفریح کے شوق وذوق کے حوالے سے بھی کئی انکشافات کئے ہیں۔ ان کی اہلیہ محترمہ کی حسن تربیت، بہترین و لذیذ نوع بنوع پکوان میں مہارت، گھر کی صفائی و ستھرائی کا مکمل خیال رکھنے اور ان کے حسن ذوق کی خوب خوب مدح سرائی کی ہے۔ اس خاکہ کے ضمن میں شعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی کے اساتذہ کے درمیان کی معرکہ آرائی اور ایک دوسرے کی غیبت کرنے کا بہت ہی بیباکانہ انداز میں بھانڈا پھوڑ بھی کیا ہے۔ نیز شعبۂ اردو کے ایک اور نہایت فعال و سرگرم اور طلباء میں بیحد مقبول استاد ڈاکٹر امتیاز احمد کی سرگرمیوں، کھانے پینے میں ان کے اعلی ذوق اور عمدہ کھانے کا نظم ونسق اور بندوبست کرنے میں ان کی مہارت کا تذکرہ بھی بہت دلچپ اندازمیں کیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں علی سردار جعفری – پروفیسر ناصر عباس نیّر )
موضوع گفتگو اس کتاب (کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی) میں محمد عتیق صدیقی، محمد زماں آزردہ، ایڈووکیٹ اے رحمان، پروفیسر علی احمد فاطمی، پیغام آفاقی، اسلم حنیف، جلال انجم، فاروق بخشی،ارتضی کریم،شمس تبریزی، خواجہ محمد اکرم الدین، عظیم صدیقی، نعیم انیس اور محمد شریف کے بھی خاکے شامل ہیں۔ سب پر علیحدہ گفتگو طوالت اور قارئین کی اکتاہٹ کا باعث ہوگی، چنانچہ گفتگو کو مزید طول دئیے بغیر
حاصل مطالعہ کے طور پر عرض کروں کہ کتاب میں شامل سبھی خاکوں کی قرأت کے دوران خاکہ نگار ابنِ کنول کی تخلیقی بصیرت، معاشرتی بصارت اور عصری حسیت کے فنکارانہ مظاہرہ کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہوتی ہے کہ خاکہ نگار نفسیات انسانی کا نباض ہے اور فلسفہ زیست سے بخوبی آگاہ بھی۔ ہر خاکہ اپنے آغاز سے اختتام تک سحر انگیز ہے۔ مسجع، مقفٰی اور پرشکوہ عبارت سے مزین ہے۔ زبان میں لطافت، سلاست، شائستگی، شگفتگی اور سنجیدگی کا دریا متموج ہے۔ تاریخ، تنقید، تحقیق اور لطف و مزاح کا خوبصورت امتزاج ہے۔ بامحاورہ زبان، نپے تلے جملے، ضرب الامثال کا جابجا استعمال ہے۔ ہر جملہ قارئین کو آ گے کے جملوں اور ہر سطر آگے کی سطور کی قرأت پر مجبور کرتی ہے۔ سطر سطر ہی نہیں، بلکہ لفظ لفظ میں خاکہ نگار کی دلی کیفیات، محسوسات اور ذہنی محرکات کا بخوبی علم ہوتا ہے۔ ابنِ کنول چونکہ بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں۔ عہد طالب علمی سے ہی ان کا رشتہ داستانوں سے بڑا گہرا، مضبوط اور مستحکم رہا ہے، اس لیے افسانوں کے علاوہ ان کی دیگر تحریروں میں بھی داستانوی اسلوب کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ مسجع و مقفیٰ الفاظ سے لیس عبارتوں سے وہ ایک خاص قسم کی فضا قائم کرکے اپنی تحریروں کو استعاراتی و طلسماتی بنانے کا بخوبی فن وہنر جانتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی تحریروں کا جادو قارئین کے سر چڑھ کر بولتا ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد میں یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوں کہ ابنِ کنول نے اس کتاب کی تصنیف کرکے اردو خاکوں کو نہ صرف اس کی متاعِ گم شدہ لوٹا دیا ہے بلکہ اس فن کو عروج وارتقاء بھی عطا کیا ہے۔ لاریب یہ کتاب اردو خاکہ نگاری کی تاریخ میں ایک اہم اضافہ کہلانے کی صد فیصد مستحق ہے۔ انصاف کی بات تو یہ بھی ہے کہ جس طرح تحقیقی، تنقیدی،انشائیہ نگاری اور افسانہ نگاری کے میدان میں ان کی نمایاں حیثیت مسلم ہے، بعینہ خاکہ نگاری کے مجال میں بھی ان کی امتیازی حیثیت تسلیم کی جانی چاہیے اور انہیں بحیثیت خاکہ نگار معاصر ادب کا نمائندہ، ممتاز و مستند خاکہ نگار قرار دیا جانا چاہیے۔ کتاب کی اہمیت، جامعیت، افادیت اور استنادی حیثیت کا تقاضا بھی یہی ہے!!!
ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی
ایم آئی ٹی ٹی بی ایڈ کالج،
پھلواری شریف، پٹنہ
موبائل:9199726661،
ای میل:serajullahtaimi@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

