کل شام ،تاریکی مزید بڑھی۔علی گڑھ میں غروب آفتاب سے کچھ پہلے، ابوالکلام قاسمی کو بھی بلاوا آگیا۔ کوہ ندا سے صدائیں تو سدا سے آتی رہی ہیں مگر گزشتہ ڈیڑھ سال سے ،موت کے اس پہاڑ سےاتنے نام پکارے گئےہیں کہ الاماں۔ ابھی مسعود اشعر کی قبر کی مٹی میں اس پانی کی نمی موجو دہے جو ان کی تدفین کے بعدڈالا گیا تھا ،اور اس سے اٹھنے والی مٹی کی خاص مہک ، گلاب کی پتیوں کی خوشبو سے آمیز ہو کر قبروں کی ویرانی کو کم کرنے کی سعی میں ہے کہ ایک اور قبر—-دلیپ کمار کی موت نے تو ایک عالم کو سوگوار کیا ہے۔ ہمارے اعصاب کتنی اموات کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں؟ ہم کتنی تعزیتی تحریریں لکھ سکتے ہیں؟ہر موت ایک نیا واقعہ ہے،جس طرح ہرشخص اپنی طرز کا ایک وجود ہے۔ا س کی موت کا دکھ کسی دوسرے کی مرگ کے دکھ کی مانند نہیں ہوتا۔ہم اپنے تعزیتی الفاظ کو رسمی ہونے سے کیسے بچا سکتے ہیں اور ہر نئی موت کے غم کے اظہار کے لیے نئے الفاظ کہاں سے لائیں؟ موت دکھ تو نیا دیتی ہے مگر ہماری زبانوں کو گنگ کر جاتی ہے۔عجب دھاندلی ہے۔ ( میں اور میرے رفیق حیات( ابو الکام قاسمی) – پروفیسر دردانہ قاسمی )
وہ ایک عرصے سے لبلبے کے کینسر میں مبتلا تھے۔لہٰذایہ بری خبر متوقع تھی۔متوقع بری خبر کا قہر کچھ کم نہیں ہوتا۔ابواکلام قاسمی سے کئی ملاقاتیں تھیں۔ مختصر ، طویل اور طویل تر۔ 2008 میں جب انھوں نے مجھے اور قاضی عابد کو آٹھ دس دنوں کے لیے علی گڑھ مدعو کیا تو انھیں نہایت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ سب سے اہم چیز ،وقت کی پابندی اور نظم وضبط کا خیال تھا۔انھیں وقت کی کمی کا نہیں،وقت کے قیمتی ہونے کا احساس تھا۔ ان کے دفتر میں آنے ، کام کرنے ، گھر جانےاور سیر کرنے کے اوقات مقرر تھے جو کسی حالت میں تبدیل نہیں ہوتے تھے۔کوئی غیر متوقع مہمان بھی آجاتاتو وہ مقرر وقت پر اٹھ کر چلے جاتے۔اس ناگہانی صورت حال سے نمٹنا مہمان کی اپنی ذمہ داری تھی۔ اس طرح وہ اپنے لکھنے پڑھنے کے لیے،یا اپنی مرضی کی زندگی بسر کرنے کے لیے کافی وقت نکال لیا کرتے تھے اور اسے اپنی مرضی سے ترتیب دے لیا کرتے۔(یہ الگ بات ہے کہ جب ہم اپنے اوقات کو مرتب کر لیتے ہیں تو ان کی قید میں بھی آجاتے ہیں )۔ان کی اہلیہ دردانہ قاسمی نے ان کے خاکے میں لکھا ہے کہ گھر میں بھی وہ اسی نظم وضبط کا خیال رکھتے ۔وہ خلیق ، مہذب اور غمگسار تھے ۔
وہ ادبی مسائل ، شخصیات پر تو مسلسل گفتگو کرتے تھے ، مگر جسے عام گپ شپ کہتے ہیں ،وہ نہیں۔وہ کھلی ڈلی، بے تکلف مجلسی زندگی سے زیادہ منظم و مربوط ذہنی دنیا کے آدمی تھے۔ ایسے سب آدمی مشکل ہوتے ہیں۔ وہ اپنی تنقید ی رائےکا برملا اظہار کرتے۔کسی مجلس میں یاسمینارمیں کوئی بے محل یا ناروا بات کہی جاتی تو اس کا جواب ضرور دیتے۔ان کے نزدیک ایسے معلامات میں خاموشی یا تو بزدلی کی علامت ہے یا مصلحت کی یا بے حسی ولاتعلقی کی ۔ان کا جواب جچا تلا اور مدلل ہوتا۔ ( یہ بھی پڑھیں ابو الکلام قاسمی: بیسویں صدی سے آگے کا آدمی – پروفیسر غضنفر )
وہ مشرقی شعریات کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے،جس کاایک سبب ان کا مدرسے کا پس منظر تھا۔ مشرقی شعریات میں انھوں نے عربی وفارسی اورا س سے متاثر ہونےو الی اردو تنقیدہی کو شامل کیا۔ ان کا اہم کام ،جو ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ بھی ہے، وہ مشرقی تنقید ی تصورات پر ہے۔پاکستان میں بھی وہ ایک سے زائد بار چھپ چکا ہے۔حسن عسکری سےان کی دل چسپی کا سبب بھی مشرقی شعریات سے ان کا لگاؤ اور اس راستے سے مسلمانوں کی ادبی روایت تک رسائی کی آرزو تھی۔ چوں کی مشرقی تنقید لفظ اساس اور شاعری سے متعلق زیادہ ہے، ا س لیے قاسمی صاحب کو شاعری کی شرح وتعبیر اور اس کے اصولوں سے گہری دل چسپی تھی۔ فکشن پر بھی انھوں نے خاصالکھا ، ای ایم فاسٹر کی ناول پر مختصر کتاب کا اردو ترجمہ بھی کیا ،لیکن جو استغراق —اور اس کے بغیر تنقید، تنقید نہیں تاثر بن جاتی ہے— شاعری کے سلسلے میں نظر آتا ہے ،وہ کسی اور کےسلسلے میں نہیں۔ نئے مغربی تنقیدی تصورات پر بھی مسلسل لکھتے رہے۔معاصر تنقیدی رویے ،ایک اہم کتاب ہے۔ اس میں انھوں نے مابعد جدید تنقید کے اصولوں پر اہم مقالہ لکھا۔ اسی طرح انھوں نےمولانا محمد حسین آزاد کے مغربی تنقیدی کینن پر انحصار کو پہلی بار تفصیل سے موضوع بنایا۔ارد و میں مابعد نوآبادیاتی تنقید کو قائم کرنے میں اس مقالے کا حصہ ہے۔وہ رفتہ رفتہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ تنقیدی نظریہ خواہ کسی جگہ کا ہو اور کسی زمانے کا ہو، اس کی آزمائش یہ ہے کہ وہ متن کی درونی کائنات میں اترنے اور اس کے سربستہ پہلوؤں کی آگاہی ، تفہیم اور تعبیر میں کتنی مدد کرتاہے۔اس کو انھوں نے اپنے تنقیدی مئوقف کے طور پر پیش کیا۔ کثرت تعبیر بھی ان کی قابل قدر کتاب ہے۔ ہر ذہین نقاد کی مانند، متن میں معنی کی موجودگی کی نوعیت اور اس کی تعبیر ان کا مسئلہ تھا۔
ادبی صحافت سے انھیں ابتدا ہی سےلگاؤ رہا۔ وہ علی گڑھ سے الفاظ شایع کرتے رہے۔علی گڑھ یونیورسٹی کے رسالے اور سرسید کی نشانی تہذیب الاخلاق کے مدیر رہے۔ملازمت سے سبکدوشی کے بعد امروز جاری کیا ۔ اسے آخر دم تک شایع کرتے رہے۔ اس کے آخری چند شماروں میں انھوں نے اپنی یادداشتیں بھی لکھی ہیں جو ان کی ذہنی نشوونما اور ان کی بچپن وجوانی کے عہد کی کہانی سناتی ہیں۔
انھیں بہ طور نقاد دونوں ملکوں میں شہرت اور اعتبار ملے۔ یہ معمولی بات نہیں تھی۔
ناصر عباس نیّر
یہ مضمون پروفیسر ناصر عباس نیر صاحب کے فیس بک پیج سے لیا گیا اہے۔ ہم ان کے بے حد شکر گزار ہیں۔

