کہانی کی ایک ساخت ہم سب کے لاشعور کا حصہ ہے ؛یعنی اسے سیکھا نہیں جاتا۔یہ غالباً ثقافتی جینز(یا آرکی ٹائپ ) کے ذریعے ہم تک پہنچتی ہے۔جب ہم اپنے آس پاس کے لوگوں سے بات چیت کرنا شروع کرتے ہیں اور خصوصاً اپنے تجربات کا ابلاغ کرتے ہیں تو یہ ساخت کام کررہی ہوتی ہے ۔روزمرہ زندگی کے واقعات میں سے کچھ کو منتخب کرکے ،انھیں علت ومعلول کے اصول کے تحت منظم کرنا(یعنی پلاٹ تشکیل دینا)اور پھر اس کی مدد سے دنیا کو سمجھنا یا دنیا کے سلسلے میں اپنے ردّ عمل کو پیش کرنا کہانی کی بنیادی ساخت ہے۔ بچپن میں سنائی گئی اخلاقی کہانیاں یہی ساخت رکھتی ہیں۔افسانہ ،کہانی کی اسی اوّلین ساخت کے امکانات دریافت کرتا ہے۔تقریباً اسی طرح جس طرح ایک خلاق مصنف ، اظہار کے نئے پیرائے زبان کی بنیادی ساخت یا گرامر کے تحت رہتے ہوئے، خلق کرتا ہے۔ چھٹی دہائی تک اردو افسانہ ،مثالی رومانوی اورسماجی، اشتراکی حقیقت نگاری کے اسالیب آزما چکا تھا۔ان اسالیب کو برطانوی استعمار سے آزادی کی جدوجہد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ جدوجہدتصورات اور عمل کا ایک پیچیدہ ،گٹھاہوا مجموعہ (complex set) تھا۔ جدیدیت، قوم پرستی ، اشتراکیت، مقامیت، اس کے اہم اجزا تھے۔ اس میں بہت کچھ مغرب سے اخذ شدہ شامل تھا (جیسے فرائیڈی نفسیات، مارکسی نظریہ تاریخ و معیشت، جدیدمغربی و روسی فکشن ) ۔خاص بات یہ ہے کہ مغربی استعمار اور مقامی مقتدرہ کے خلاف مزاحمت میں مغربی ہتھیار استعمال کیے جارہے تھے۔ جدیدیت (اور اشتراکیت )کے زیر اثر حقیقت کا تصور تبدیل ہوا۔
افسانے کے رجحانات پر اگر کوئی چیز فیصلہ کن انداز میں اثرا نداز ہوتی ہے تو وہ ہے حقیقت کا تصور۔عہد وسطیٰ میں حقیقت اجتماعی ثقافتی، طے شدہ قوانین کی پابند، انسانی ارادوں سے ماورا، اتفاقات سے لبریز ، اچانک کسی عقلی توجیہ کے بغیر خود کو منکشف کرنے والی ، اشیا، افراد کو پل بھر میں یکسر اور سدا کے لیے بدل دینے والی تھی۔چناں چہ اس تصورِ حقیقت میں تخیل کی آزادانہ پرواز کی کہیں زیادہ گنجائش تھی،کیوں کہ یہ تصور کیا جاتا تھا کہ بعید مقامات اور بعید وقت میں موجود چیزیں بھی آپس میں ایک پراسرار مگر توجیہ سے بالاتر تعلق کی حامل ہیں۔ اس عہد کا فکشن واقعے ،کردار اور ان کے روابط کو اسی تصورِ حقیقت کے تحت پیش کرتا تھا۔ نو آبادیاتی عہدمیں حقیقت مادی ، قابل فہم قوانین کی اسیر، انسانی عمل کی مداخلت سے عبارت ، واقعات کی عقلی و مادی توجیہ میں یقین رکھنے والی سمجھی جانے لگی۔اہم اور انقلاب آفریں بات یہ ہوئی کہ عقلی توجیہ آفاقی نہیں ،انفرادی وشخصی تھی۔یہیں سے دنیا وسماج کے بارے میں نظریات کے دھماکے کا آغاز ہوا۔اس انقلاب کو سب سے زیادہ فکشن نے خوش آمدید کہا ۔اب ہر واقعہ ،ہر کر دار منفرد تھا ۔واقعات کا باہمی تعلق اور کردار و واقعے کا رشتہ پراسرار نہیں رہا تھا ؛چیزوں اور کرداروں کے بعید ،پراسرار تعلقات خالی فتناسی تصور کیے جانے لگے تھے۔ہرکردار کی وہ زندگی تھی جو اسی سے مخصوص تھی،یعنی اس کی حقیقی مادی زندگی سے ۔مارکس کے زیر اثر حقیقت سماجی ہے ،باہر موجود ہے،خصوصاً تاریخ کے معاشی عمل میں ،جب کہ جدیدیت (خصوصاً فرائیڈ ) کے زیر اثر جتنی نمایاں ہے ،اس سے زیادہ مخفی ہے؛ نیز حقیقت کی جڑیں باہر کم اور اندر زیادہ ہیں۔یہی نہیں حقیقت کا جو حصہ باہر ہے، اس پراندرونی مخفی حصے کو حاکمانہ اقتدار حاصل ہے۔بہ ظاہر حقیقت کے یہ دونوں تصورات قطبین کے فاصلے پر نظر آتے ہیں جو فریب ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس فریب نے اردو میں ترقی پسندی اور جدیدیت کے درمیان حقیقی جھگڑے کی بنیاد رکھی۔ اشتراکی اور نفسیاتی نظریات دونوں حقیقت کو مادی سمجھتے ہیں؛تاریخ اور لاشعور دونوں مادی ہیں۔لہٰذا دونوں میں فرق علمیات کا نہیں طریق کار کاہے۔اس بنا پر اس میں اچنبھا نہیں ہونا چاہیے کہ اردو افسانے میں اوّل جن لکھنے والوں نے کرداروں کی لاشعوری زندگی پر لکھا وہ معروف معنوں میں ترقی پسند تھے،یعنی انگارے کے مصنفین۔وہ انسانی لاشعور کو تاریخی وسماجی قوتوں کی تشکیل تصور کرتے تھے۔ پریم چند، کرشن چندر،سجاد ظہیر، احمدعلی، منٹو ،عصمت کے افسانوں میں کم یازیادہ حقیقت کے یہی دو تصورات ظاہر ہورہے تھے۔ خاطر نشان رہے کہ افسانے کا رنگ ڈھنگ اور اصطلاحی زبان میںواقعاتی ترتیب ، پلاٹ ، کردار نگاری ،کرداروں کی باہمی کش مکش، مکالمے، فضابندی اور بیانیہ اسلوب تصور ِ حقیقت سے گہر ااثر قبول کرتے ہیں مگر ایک اور عنصر بھی افسانوی تکنینک، بیانیہ عمل ، اسلوب ، کردار نگاری وغیرہ پر اثر ڈالتا ہے۔یہ کہ فنکارانہ تخیل جب حقیقت کے خاص تصور کی رو سے باہر کی سماجی ،سیاسی دنیا پر نظر کرتا ہے تو ایک جدلیات (Dialectic) قائم کرتا ہے،یعنی اس سے جھگڑتا ، اس کے خلاف مزاحمت ۔۔اور بعض اوقات مطابقت قائم کرتاہے،اور کہیں اس سے گریز اختیارکرتا ہے تاکہ کسی متبادل کا تصور ابھارا جاسکے ۔فنکارانہ تخیل کی حدیں خواہ کس قدر وسیع ہوجائیں، باہر کی سنگلاخ دنیا سے ٹکرا کر رہتی ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں اکبر الٰہ آبادی ، نفسیاتی استعماریت ، توپ اور پروفیسر کی طاقت” – پروفیسر ناصر عباس نیّر )
آزادی کے بعد، چھٹی دہائی میں اردو میں علامت نگاری کا رجحان آیا تو اکثر نے اسے سماجی واشتراکی حقیقت نگاری کا ردّعمل کہا۔ اس سے یہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے علامتی افسانہ ،یکسر نیا اور پہلے افسانے کی راکھ سے طلوع ہوا تھا۔یہ گمان شاید اس لیے ہوا کہ علامتی افسانے میں کچھ پرانی و نئی تمثیلات ،مقامی و عالمی اساطیر ، شخصی واجتماعی لاشعوری علامتیں تھیں۔اصل یہ ہے کہ علامتی افسانہ تصور ِ حقیقت کی سطح پر نیا نہیں تھا۔علامتی افسانہ بھی حقیقت کو مادی تصورکرتا تھااور اسے انسانی فہم کی دسترس میں خیال کرتا تھا ۔ یہ حقیقت جس قدر دکھائی دیتی ہے، اس سے زیادہ یہ پوشیدہ ہے اور جتنی دکھائی دیتی ہے ،وہ بھی سائے میں لپٹی ہے۔نئی بات یہ تھی کہ سائے سے مراد محض شخصی لاشعور نہیں تھا۔اردو کے علامتی افسانے نے جس نئی چیز کا اضافہ کیا ،وہ تھی ثقافتی حافظے کی چھان بین۔سماجی واشتراکی افسانے میںشخصی لاشعور کا اظہار ہورہا تھا(خصوصاً سجاد ظہیر ، منٹو، عصمت کے یہاں) ،مگر ثقافتی لاشعور اور قدیم زمانوں کے حافظے کی بازیافت علامتی افسانے نے کی۔وجہ ظاہر ہے۔ علامتی افسانہ پس نوآبادیاتی عہد میں سامنے آیا ۔ یہ عہد ایک استعمار سے آزادی، دوسرے استعمار(امریکی )کی محکومی ، فوجی حکومت کے ذریعے سیاسی عمل کے تعطل سے عبارت تھا؛ اسی عہد میں سرد جنگ جاری تھی ،جس میں پاکستان کمیونزم کے خلاف مذہب کی آئیڈیالوجی کو استعمال کررہا تھا۔مذہب کے نام پر بننے والے ملک نے جلد ہی ’نئے کافر ‘یعنی کمیونزم اور ترقی پسند نظریات تلاش کر لیے ۔ اس کے علاوہ نوزائیدہ ملک ہونے کے سبب اسے اپنی ثقافتی شناخت کا سوال بھی درپیش تھا(ہجرت کا تجربہ الگ تھا)۔یہی وہ پیچیدہ تناظر تھا جس میںادیبوں اور دانشوروں نے خود کو گھرا ہوا پایا۔ایک طرف وہ نئی سحر کے خواب کو نئی مقامی وعالمی قوتوں کے ہاتھوں رائیگاں ہوتے دیکھ رہے تھے اورخود کو مزاحمت پر مجبور پارہے تھے،اور دوسری طرف نو آبادیات کے ملبے کو ٹھکانے لگاکر (Decolonisation) اپنی ثقافتی شناخت کی فکر میں تھے۔چناں چہ علامتوں کی باقاعدہ تلاش شروع ہوئی اور ثقافتی حافظے کی چھان بین کا آغاز ہوا۔ ساٹھ کی دہائی کے بعد اردو تنقید ، فکشن اور شاعری میں ثقافتی علامتیں بیش از بیش نظر آتی ہیں ۔یہ الگ بات ہے کہ تینوں نے الگ الگ طریقے سے ان علامتوں سے اعتنا کیا ہے۔اس ضمن میں علامتی افسانے کی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے جہاں قدیم ، کلاسیکی ، مشرقی ،مقامی ثقافتی علامتوں سے کام لیا ،وہیں انھی ’جدید کاری ‘ کے عمل سے گزارا۔ یعنی ان علامتوں کے قدیمی واساسی معنی کا احیا نہیں کیا؛سادہ لفظوں میں پرانی حکایات ،اساطیر ،قصص یا ان کے منتخب حصوں کو محض دہرایا نہیں بلکہ انھیں از سر نو تحریر کیا۔کہیں ان کی بنیادی ساخت کو قائم رکھا گیا ،کہیں بدل دیا گیا۔ان کے قدیمی آہنگ کو عام طور پر قائم رکھا گیا مگر ان کی زبان ،اسلوب ،کرداروں ،علامتوں کو نئے سرے سے لکھا اور برتا گیا۔ مجموعی طور پر انھیں ایک پس نو آبادیاتی ملک کی نئی مادی صورت حال اور سیاسی جبر،اخلاقی زوال اور خوابوں کی شکست کے خلاف جدوجہد کی ’علامت ‘ بنا کر پیش کیاگیا(سب سے بڑھ کر انتظار حسین )۔حقیقت میں یہ عمل ’مقدس ‘ کو ’ دنیوی ‘ اور’مابعد الطبیعیاتی ‘ کو ’سیاسی ‘ بنانے کا عمل تھا۔کیوں کہ اسی صورت میں اس ’شگاف ‘ (Fissure)کو بھرا جاسکتا تھا جو بعید زمانے کی مابعد الطبیعیات اور نئے عہد کی مادی وسیاسی صورتِ حال میںابھر آیا تھا۔ (فی الوقت ادب کے ان رجحانات سے بحث نہیں جو اس شگاف کو بھرنے کے بجائے ،یا تو اس کا انکار کرتے تھے یا اس فریب میں تھے کہ بعید زمانے کی مقدس ثقافت کا کاملاً احیا ممکن ہے۔ یہ رجحان تنقید میں زیادہ نمایاں تھا۔شاید اس لیے کہ اس تصور کو نظر ی طور پر پیش کرنا آسان ہے، جب کہ فکشن میں مشکل ہے کہ اس میںذہن سے زیادہ وجود گویا ہوتا ہے)۔ ظاہر ہے کہ یہ آسان نہیں تھا۔یہ اولوالعزمی پر مبنی منصوبہ تھا۔یہ نہ صرف علامتوں کی نئی مادی وسیاسی تعبیر سے عبارت تھا بلکہ قدیم وجدید میں مکالمے کا مقصد بھی لیے ہوئے تھا ۔نیز یہ نئی علامتیں بھی وضع کرتا تھا( انور سجاد، بلراج مین را، سریندرپرکاش؛نیز خالدہ حسین)۔ اہم بات یہ ہے کہ مقصد کی سطح پر پرانی اور نئی علامتوں میں فرق نہیں تھا۔ (یہ بھی پڑھیں "بے گھری ، جلاوطنی اور جدید نظم ” – پروفیسر ناصر عباس نیّر )
ہم جانتے ہیں کہ علامت ایک ایسا لفظ ،لفظوں کا مجموعہ یاایسی تمثال ہے جو کسی ’اور شے ‘ کی نمائندگی کرتی ہے ۔ یہ ’اور شے ‘ گریز پا ہوتی ہے،مکاں اور زماں دونوں حوالوں سے؛ اس کی واحد ،حتمی تعبیر نہیں کی جاسکتی ،صرف ممکنہ تعبیرہوسکتی ہے اور اس پر بھی اصرار نہیں کیا جاسکتا۔ اس بنا پر علامت ایک طرف انسانی عجز سے متعلق ہے تو دوسری طرف جسارت سے ۔کچھ حقائق کا فہم انسانی بساط سے باہر ہے ،ان کا تصور کرنے سے بھی انسان خود کو عاجز پاتا ہے مگر انھیں پھر بھی علامتی پیرایے میںبیان کرنے کی جسارت کرتا ہے ۔ علامت ناقابل بیان کو اس زبان میں بیان کرنے کی کوشش کا نتیجہ ہے جو خود محدود ہے۔لامحدود کا محدود پر دباؤ ،علامت میں تہوں، سایوں ، خالی جگہوں اور شگافوں کو جنم دیتا ہے۔جدید علامتی افسانے نے جب پرانی علامتیں نئے تناظر میں برتیں تو ان کی تہوں ، سایوں ،خالی جگہوں اور شگافوں میں نئے عہد کے جہنم کو بھرا۔
("جدیدیت اور نو آبادیات "سے اقتباس)
نوٹ: یہ مضمون پروفیسر ناصر عباس نیر صاحب کے فیس بک پیج سے لیا گیا ہے۔ ہم ان کے بے حد شکر گزار ہیں ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

