Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تحقیق و تنقید

استعارہ ، حقیقت سازی اورمعنی کی گردش- ڈاکٹر ناصر عباس نیّر

by adbimiras دسمبر 22, 2020
by adbimiras دسمبر 22, 2020 1 comment

استعارہ دو طرح کی گردش سے عبارت ہے ۔ مماثلت اور فرق کے درمیان گردش اور معنی کی گردش۔پہلی گردش کے بارے میں وثوق سے کہنا ممکن ہے۔معنی کی گردش کے سلسلے میں نہیں۔ معنی ایک سیل ہے،اس کے بارے میں آخری اور قطعی بات نہیں کہی جاسکتی۔

استعارے کی بنیاد مماثلت پر ہے، مگر یہ مماثلت مختلف اشیا کے درمیان تلاش کی جاتی ہے۔وہ سب چیزیں جنھیں زبان مشخص کرتی ہے ، استعارہ سازی میں کام آسکتی ہیں۔ اشیا دیکھنے میں خواہ کتنی ہی مختلف دکھائی دیتی ہوں ، ان کے درمیان مماثلت تلاش کی جاسکتی ہے ۔مماثلت جتنی انوکھی اور حیرت میں ڈالنے والی ہوگی، استعارہ اتنا ہی عمدہ ہوگا۔ انوکھے پن اور حیرت کے بغیر فن کا وجود نہیں۔اس لیے استعارہ ،فن کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتا ہے۔

چیزوں میں فرق موجود ہے ، صورت کا بھی ، ماہیت کا بھی اور مقصد کا بھی۔اس فرق کے سبب ہی ہر شے کا ایک مخصوص ہالہ ہے۔ یہ فرق اگر مستقل رہے،یعنی ہر شے اپنا ہالہ فولادی بنا لے تو چیزیں خود اپنی جانب مسلسل سفر کرتی ہیں۔ اپنی جانب سفر جلد ہی دائرے میں بدل جاتا ہے۔اس لیے جلد ہی چیزوں میں اپنی مدح خود کرنے کا رویہ پروان چڑھتا ہے ؛ان میں” نرگسیت” اور بیگانگی پیدا ہوجاتی ہے ۔ ایسے میں استعارہ ظاہر ہوتا ہے اور یہ باور کراتا ہے کہ کوئی فرق حتمی نہیں اور کوئی ہالہ آہنی نہیں؛ سب چیزیں،اپنا اپنا ہالہ رکھنے کے باوجودایک رشتے میں بندھی ہیں۔ہر شے کی ایک حد یا Boundary ضرورہے مگر یہ آہنی نہیں۔جو سرحدیں قوموں ، نسلوں ، گروہوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہیں اور جنھیں قائم رکھنے کے لیے آہنی تاریں نصب کی جاتی ہیں اور مسلسل گشت کرنی والی پولیس کا اہتما م کیا جاتا ہے،وہ سرحدیں چیزوں میں نہیں ہیں؛الفاظ میں بھی نہیں ہیں۔اگر ایسا ہوتا تو چند مخصوص استعارے ہی موجود ہوتے اور ایک زبان کا لفظ ،دوسری زبان میں استعمال نہ ہوسکتا۔  ( یہ بھی پڑھیں شمس الرحمن فاروقی کا مضمون ’کیا نظریاتی تنقیدممکن ہے؟‘- پروفیسر کوثر مظہری)

یہ محض خیال آرائی نہیں، تاریخی صداقت ہے کہ جہاں کسی بھی نوع کی حدوں کو آہنی بنانے کی کوشش ہو ، وہاں مماثلت سے زیادہ (حتمی ) فر ق بلکہ ضد پر زور دیاجاتا ہے ، تعاون سے زیادہ مخاصمت کو اجاگر کیا جاتا ہے اور استعارے کے بجائے آئیڈیالوجی پر اصرار کیا جاتا ہے۔اکثرآئیڈیالوجی میں مردہ استعاروں کا ڈھیر ہوتا ہے۔اس لیے استعارہ محض شاعری کا نہیں، پورے سماج کی تخلیقی حسیت کا مسئلہ ہے۔ وہ مسلسل متفرق چیزوں میں مماثلتیں دریافت کرتا ہے۔ چیزوں میں فرق و فاصلہ کم کرتا ہے اور اس طور ان کی حدوں کی مسلسل توسیع کرتا ہے۔وہ ہم پر عیاں کرتا ہے کہ بہ ظاہر ایک دوسرے سے بعید چیزوں میں عجب، حیرت انگیز رشتے ہیں۔ مثلاً کسی طاق میں بجھتے چراغ ، ہوا کی لرزش سے گر جانے والے خشک،زرد پتے، کسی گلی کےموڑ پر طوفان کے زور سے گرجانےو الےپرانے شجر—-ان سب کاہر اس شے یا وجود سے رشتہ ہے جو آخری سانسیں لے رہاہے؛ کوئی انسانی تعلق، کوئی نظام ، کوئی قدر یا کوئی شخص۔جس بات کے بیان سے ہم خود کو عاجز محسوس کریں ،وہاں استعارہ ہماری مدد کوآتا ہے۔ استعارہ صرف ہمارے عجزبیان کی تلافی نہیں کرتا، وہ سچائیوں تک رسائی میں بھی مدد دیتا ہے۔ صاف لفظوں میںاستعارہ صرف ایک لسانی عمل نہیں، تخلیقی اور نیم فلسفیانہ عمل بھی ہے۔

استعارہ ہمیں باور کراتا ہے کہ عام سی معمولی چیزوں کی مدد سے ، بڑی اور گہری سچائیوںکوسمجھا جاسکتا ہے۔ گلی کے موڑ پر نالی کے پانی کے زد جاروب کھانے سے آدمی پر سماج اور تقدیر کے جبر کے سچ کو سمجھا جاسکتا ہے۔فیض صاحب نے نظم” شام ” کا آغاز ایک انوکھے استعارے سے کیا تھا : "اس طرح ہے کہ ہر اک پیڑ کوئی مندر ہے /کوئی اجڑا ہوا بے نور پرانا مندر”۔ پیڑ کے لیے مندر کا استعارہ ، استعارہ سازی کے امکان کی حدوں کو چھونے کے مترادف ہے۔ یہ کہ یکسر مختلف چیزوں میں بھی کوئی نہ کوئی رشتہ ء مماثلت ہوسکتا ہے۔ پیڑ اور مندر—بہ ظاہر ایک دوسرے سے بعید—- بھی کسی نقطہ ء اتصال پر موجود ہوسکتے ہیں ۔ شام کو جس پیڑ پر پرندے ،جگنو نہ آئیں، وہ اس مند ر کی مانند ہے ، جس سے یاتریوں نے منھ موڑ لیا ہو اور جہاں کوئی چراغ نہ جلتا ہو۔تاہم یہ معنی کی گردش کا بس آغاز ہے؛ یہ گردش آگے دور—بہت دور تک جاسکتی ہے۔ سماج کی حالتیں ہوں یاانسان کی نفسی حالتیں،انھیں سمجھنے میں اور ان کی تھاہ پانے میںاستعارے سب سے زیادہ مدد دیتے ہیں۔استعارے لفظی بازی گر ی نہیں ہیں،وہ ہماری تخلیقی زندگی کا اہم ترین عنصر ہیںاور تخلیقی زندگی کو حقیقی بنانے میں معاون ہیں۔افضال احمد سید نےلفظوں کے بارے میں جو کہا ہے کہ :”لفظ اپنی جگہ سے آگے نکل جاتے ہیں /اور زندگی کا نظام توڑدیتے ہیں” ، یہ دراصل استعارے کے بارے میں ہے!

استعارہ، ایک لفظ کامعنی ، دوسرے لفظ تک منتقل کرتا ہے اور معنی کی گردش کو ممکن بنائے رکھتا ہے۔ ہم مستعار لہ ‘اور مستعار منہ پر توجہ کرتے ہیں ،مگر ان دونوں کے بیچ کی اس خالی جگہ کو نظر انداز کرتے ہیں ،جہاں ایک لفظ کا معنی ،دوسرے لفظ کی طرف حرکت کرتا ہے۔ (خالی جگہ ہی میں حرکت ممکن ہوتی ہے)۔ اس خالی جگہ کی کوئی متعین حد نہیں ہوتی ۔صفحے پر مستعار لہ ‘اور مستعار منہ مذکور ہوتے ہیں ،یا صرف مستعار منہ مذکورہ ہوتا ہے ، مگر دونوں کے بیچ کی خالی جگہ صفحے پر نہیں، ہماری قرأت کے عمل میں موجود ہوتی ہے ۔جب ہم کسی استعارے کی تفہیم کرتے ہیں تو وہ خالی جگہ رونما ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہ خالی جگہ ،خاموشی کا منطقہ ہے ۔یہ خاموشی ، کلام میں ایک وقفے کی مانند بھی ہے اور خود ہمارے اندر بھی۔

جب ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ استعارے میں ایک لفظ کا معنی ، دوسرے لفظ کی طرف منتقل ہوتا ہے تو ہم یہ بھی تسلیم کررہے ہوتے ہیں کہ معنی ایک سیال شے ہے۔ اگرایک لفظ کے ساتھ اس کا مخصوص معنی اس طرح وابستہ ہوتا ، جس طرح آگ کے ساتھ حرارت ونور تو استعارہ ممکن ہی نہ ہوتا۔ استعارہ باور کراتا ہے کہ معنی کو لفظ سے(عبوری طور پر ہی سہی )جد اکیا جاسکتا ہے ،اور اسے (عبوری طور پر ہی سہی )کسی دوسرے لفظ کی طرف منتقل کیاجاسکتا ہے؛یہ تعاون کی صورت ہے اور فاصلوں کو آہنی ہونے سے بچانے کا ذریعہ ہے۔ معنی ایک ایسا پرندہ ہے جو کسی لفظ کی شاخ پر ہی بیٹھتا ہے ،مگر ہم پرندوں کی شاخوں کو بد ل سکتے ہیں۔ معنی کا پرندہ ،کسی دوسرے لفظ کی شاخ کی طرف جاتے ہوئے ،جس منطقے میں اڑان بھرتا ہے ،وہ خاموشی کا منطقہ ہے۔اسے محسو س کرنا ، جمالیاتی نشاط کا موجب ہے۔

استعارے میں اس کے علاوہ بھی خاموشی کے منطقے ہیں۔جب ایک لفظ کا معنی ہم مستعار لیتے ہیں ،تو کیا وہ لفظ خالی ہوجاتاہے؟نیز جس لفظ کے لیے معنی مستعار لیا جاتا ہے ،اس کے معنی کے ساتھ کیا ہوتاہے؟ اسی طرح خاموشی کا اپنا معنی کہاں چلا گیا ہے؟یہاں ہمیں معنی کی دو خصوصیات کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ ایک یہ کہ تمام معانی ثقافتی اور رواجی ہیں؛دوم یہ کہ معانی سیال ہوتے ہیں۔ دونوں باتیں ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ سیال ہونے کی بنا پر وہ ایک لفظ سے دوسرے لفظ کی طرف سفر کرسکتے ہیں، خود کو توسیع دے سکتے ہیں، نئے تناظرات سے وابستہ ہوسکتے ہیںاور نئی محسوساتی و معنوی دنیائوں کو روشن کرسکتے ہیں۔چوں کہ معانی ثقافتی ہیں، اس لیے سب لوگوں کی یکساں ملکیت ہیں۔ایک شخص کوئی نیا لفظ گھڑ سکتا ہے مگر وہ زبان میں اسی وقت شامل ہوگا ،جب اس کے معنی کو ایک غیر تحریری ثقافتی معاہدے کے تحت سماجی سطح پر قبول کرلیا جائے گا۔ گویا زبان شخصی ملکیت کے سرمایہ دارانہ تصور کی نفی کرتی ہے اور اشتراکی روح کی حامل ہے ۔اگرچہ معیار بندی یاکسی اور نام سے زبان پر اجارے کی کوشش کی جاتی ہے مگر بولے جانے کے عمل میں زبان اس اجارے کو جابجا چیلنج کرتی ہے ۔ زبان میں نئے نئے استعارے اور سلینگ ، زبان پرکسی ایک شخص یا گروہ کی ملکیت کی مساعی کوناکام بناتے ہیں۔

زبان کے "اشتراکی نظام ” میں انفرادیت کی اگر کہیں گنجائش ہے— اور یہ گنجائش معمولی نہیں— تو وہ استعارہ سازی میں ہے۔ استعارے میں مماثلت کی تلاش اور پھر معنی کا ایک "مقام ” سے دوسرے "مقام ” کی طرف انتقال غیر معمولی انفرادی تخلیقی فعل ہے۔

استعارے میں معنی کی حرکت عبوری ہوتی ہے۔ استعارہ ،زبان کے نظام میں ایک عبوری بندوبست سمجھا جاسکتا ہے۔ اسی بات کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب ایک لفظ کا معنی عبوری طور پر کسی دوسرے لفظ کی طرف منتقل کیا جاتا ہے تو پہلے لفظ کے معنی کا سایہ برقرار رہتا ہے۔اسی طرح معنی ،جس لفظ کی طرف منتقل ہوتا ہے ، اس لفظ کے لغوی ، حقیقی معنی کو عبوری طور پر پس منظر میں دھکیل دیتا ہے ،اور ایک نیا روشن ہالہ سا وجود میں آجاتاہے۔ لفظ کا پہلا معنی کسی مخصوص متن میںوقتی طور پر ’خاموش‘ ہوجاتاہے (مردہ نہیں)۔لفظوں ، چیزوں ، لوگوں میں تعاون کی مثالی صورت یہی ہے۔ اپنے اپنے وجود کے ہالوں کو ، تعاون کے لمحے میں پس منظر میں دھکیل دیا جائےاورا نھیں وقتی طور پر غیر فعال کردیا جائے۔تاہم قرآت کے دوران میں انھیں فعال بھی کیا جاسکتا ہے اور یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ سایہ ، نور کے ہالے کو پرے دھکیل سکتا ہے۔

استعارے میں زبان کی "حقیقت سازی” کی صلاحیت عروج پر ہوتی ہے۔ استعارہ ایک نئی تمثال(امیج) وجود میں لاتا ہے۔ یہ پوری تمثال کسی  ٹھوس خارجی حقیقت کے سہارے نہیں،مماثلت کے آسرے پر کھڑی ہوتی ہے۔”استعاراتی تمثال ” کو حقیقت سمجھا جاسکتا ہے اور اس کی مدد سے معنی خیزی کا ایک سلسلہ شرو ع کیا جاسکتا ہے۔ کلاسیکی اردو شاعری میں بت ،محبوب کے لیے استعارہ تھا ۔ بت کی تمثال کو ایک "حقیقت” سمجھ کر اس سے وہ سب صفات وابستہ کی گئیں ، جو بت میں "واقعی” ہیں یا عام طور پر تصور کی جاتی ہیں۔ وہ کسی کی سنتا نہیں، خاموش،بے نیاز رہتا ہے۔اس کی پوجا کی جاتی ہے مگر وہ پتھر بنارہتا ہے۔اس ایک استعارے کو "حقیقی ” تصور کرنے سے کتنے ہی معانی گردش میں آئے۔ کلاسیکی شاعری میں استعارے "مشترک ” تھے ،جدید شاعری میں انفرادی ہوگئے ۔ اس اعتبار سے جدید شاعر وں کو کڑی آزمائش سے گزرنا پڑاہے۔ انھیں نہ صرف نئے استعارے وضع کرنے پڑے بلکہ خود اپنے پرانے استعاروں سے بھی دستبردار ہوکر نئے استعاروں کی مسلسل تلاش کرنا پڑی ہے۔ لیکن اس آزمائش کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ مشترک استعارے ،کسی ” مشترک حقیقت ” کے ابعاد کی تلاش پر مائل کرتے تھے ، نئے اور کثیر استعارے ،حقیقت کو نئے سرے سے مسلسل خلق کیے جانے پر زور دیتے ہیں۔ آج بھی کئی لوگ،جدیدومابعد جدیدتصورات سے غیر مطمئن ہوکر ، کلاسیکی تصورکائنات میں سیر وقیام کی آرزو رکھتے ہیں تو اس کی ایک توجیہ ، دونوں کے استعارے کی طرف مختلف رویوں کی مدد سے کی جاسکتی ہے۔

آخری بات!

استعارہ فکر سے زیادہ جذبے کی پیداوار ہے۔ یعنی استعارے،احساس کی شدت کے لمحے میں ، اس احساس کے لسانی مساوی کی تلاش کے غیر شعوری ارادے کے تحت، از خود پیدا ہوتے ہیں۔یوں بھی جذباتی حالت ہی میں چیزیں ایک دوسرے کے قریب آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ استعارہ صرف شاعری میں نہیں، عام روزمرہ زندگی میں بھی وجود رکھتا ہے۔ عام لوگ اپنی روزمرہ گفتگو میں کئی نادر استعارے لاتے ہیں ۔استعارہ سازی پر کسی کا اجارہ نہیں۔

 

بشکریہ: ڈاکٹر ناصر عباس نیّر

نوٹ: یہ مضمون جناب ناصر عباس نیّر صاحب کے فیس بک سے لیا گیا ہے۔

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

adabi meerasadabi miraasadabi mirasnasir abbas nayyarادبی میراثناصر عباس نیر
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
حیدرآباد تہذیب و معاشرت کے آئینے میں – ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

یہ بھی پڑھیں

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –...

جولائی 10, 2025

جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

جون 20, 2025

شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

دسمبر 5, 2024

کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –...

نومبر 19, 2024

کوثرمظہری کے نصف درجن مونوگراف پر ایک نظر...

نومبر 17, 2024

کوثرمظہری کا زاویۂ تنقید – محمد اکرام

نومبر 3, 2024

علامت کی پہچان – شمس الرحمن فاروقی

مئی 27, 2024

رولاں بارتھ،غالب  اور شمس الرحمان فاروقی – ڈاکٹر...

فروری 25, 2024

مابعد جدیدیت، اردو کے تناظر میں – پروفیسر...

نومبر 19, 2023

1 comment

قرأت اور مکالمہ -پروفیسر کوثر مظہری - Adbi Miras جنوری 1, 2021 - 7:05 شام

[…] تحقیق و تنقید […]

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں