by adbimiras
0 comment

گردش پا/ زبیر رضوی – پروفیسر کوثر مظہری

 

کبھی کبھی خودنوشت سوانح کے نمونے انسانی زندگی اور فکری انتشار کے لیے کامیاب اور مفید ثابت ہوتے ہیں۔ حیات جاوید (سرسید کی سوانح، جو خود نوشت نہیں ہے)، تذکرہ (مولانا آزاد)، اس آباد خرابے میں (اخترالایمان)، اپنی تلاش میں (کلیم الدین احمد)، جہانِ دانش (احسان دانش) آشفتہ بیانی میری (رشید احمد صدیقی) وغیرہ کا مطالعہ کرکے بہت کچھ حاصل ہوتا ہے اور زندگی کے تجربات کو ہم بطور مشعل راہ کے اپنی حیات کی تیرہ شبی کے لیے محفوظ کرلیتے ہیں مگر اردو خودنوشت سوانح عمریوں میں جوشؔ کی ’’یادوں کی برات‘‘ کو بہت شہرت ملی، کیوں کہ اس میں انہوں نے اپنے اٹھارہ کامیاب عشق کا ذکر کیا تھا اور اپنی جنسی خواہشات کی پھلجھڑیاں چھوڑی تھیں۔

زیر مطالعہ کتاب زبیر رضوی کی خودنوشت سوانح عمری ہے۔ اس میں بھی تقریباً اسی طرح کے نقوش اور واقعات پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس طرح جوش کی کتاب میں ملتے ہیں۔ سوانح نگاری میں زندگی کی ترتیب بھی کہانی اور ناول کے پلاٹ کی طرح ہوتی ہے تو دلچسپی قائم رہتی ہے۔ مگر یہاں ترتیب نام کی کوئی چیز نہیں۔ حضرت زبیر رضوی کی اس کتاب پر میرا تبصرہ لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر ’’استعارہ‘‘ کے مدیر اور حضرت زبیر رضوی کے دوست محمد صلاح الدین پرویز نے دوران گفتگو اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے بے حد اصرار کیا۔ ہوسکتا ہے انہیں یہ کتاب بہت پسند ہو۔ پہلے تو میں انکاری رہا مگر وہ اتنے مصر ہوئے کہ مجھے اپنے آپ کو بحر غلاظت میں غوطہ زن ہونے کے لیے تیار کرنا پڑا۔ سوانح عمری کے باضابطہ آغاز سے پہلے زبیر رضوی نے اپنی نظم ’’دھوپ کا سائبان‘‘ پیش کی ہے۔ اس نظم کا لب لباب یہ ہے کہ انسان کو خلوت اور جلوت میں ایک سا ہونا چاہیے۔ ( یہ بھی پڑھیں   علامہ شبلی کی تعزیتی تحریریں/ ڈاکٹر الیاس الاعظمی-  ڈاکٹر شاہ نواز فیاض )

پردا کھینچ کر کپڑے اتارنا اور بات ہے اور سب کے سامنے بے لباس ہونا اور بات ہے۔

گویا بے لباس ہونے کے لیے پردے کی ضرورت نہیں۔ جرأت مندی تو یہ ہے کہ سب کے سامنے بے لباس ہوا جائے تو کیا اسلام نے جو پردے پر زور دیا ہے، ستر عورت کی بات کی ہے، وہ بے معنی ہے؟ ایک تو غلط کاریوں سے شغف رکھا جائے اور پھر یہ کہ دیدہ و دانستہ بہ بانگ دہل خم ٹھونک کر بصد ناز اپنی اُن غلط کاریوں کو مشتہر کیا جائے۔ دراصل ایسے لوگوں کے پاس ایسے امور ہوتے بھی نہیں جن کا انطباق جہاد فی القوم یا جہاد فی سبیل اللہ پر ہوسکے۔ ’’گردش پا‘‘ ص:۸ پر تحریر ہے:

’’آندھی اور بارش رُکی تو ماں مصلیٰ بچھا کر بیٹھ گئی اور بہت دیر تک سجدے کی حالت میں ڈوبی رہی۔ ایک چوکی پر بچھا ہوا مصلیٰ اور الماری کے سب سے اوپر کے خانے میں رکھا ہوا قرآن میری ماں اور میرے باپ دونوں کے لیے ہر دکھ اور مصیبت کا علاج تھا… ان کی نمازیں، قرآن خوانی اور اُن کا وعظ ساری بستی میں مشہور تھا۔‘‘

یہ ہے وہ تقدس آمیز ماحول جہاں زبیر رضوی کی پرورش و پرداخت ہوئی۔

اردو شاعروں اور شاعری میں امردپرستی رائج رہی ہے۔ جوش اور فراق، اس کے لیے بہت مشہور ہوئے۔ فراق کو اولیت حاصل رہی۔ زبیر صاحب نے اس وقت کا ذکر کیا ہے جب وہ شاعر نہیں تھے بلکہ دوسرے کا کلام ترنم سے پڑھا کرتے تھے۔ رامپور کے مشاعرے کا واقعہ ہے۔ لکھتے ہیں:

’’ایک صاحب بہلا کے مجھے ایک کمرے میں لے گئے۔ دیکھا تو جوش طلوع ہورہے تھے۔ مجھے اُن کے مقابل بٹھا دیا تھا اور جو لفظ میرے کانوں میں پڑے وہ اس طرح تھے۔‘‘ صاحب زادے خدا نے تمہیں آواز دی ہے۔ جوش صاحب تمہیں کلام دیں گے۔ جب تم اس کمرے سے نکلو گے تو یہ تمہیں ہندوستان کا بڑا شاعر بنا چکے ہوں گے۔ اب وہ صاحب باہر تھے اور دروازہ بند تھا۔ میں جوش کی باہوں کے حصار میں تھا۔‘‘

اسی طرح کا ایک بیان فراق صاحب کے تعلق سے ہے کہ راہی معصوم رضاؔ اور زبیر صاحب، فراق کے کمرے میں گئے۔ رقم طراز ہیں:

’’ہم دونوں کو دیکھ کر انکی آنکھیں چمک اٹھیں… خالی جام بھرا اور ہم دونوں کے ’’سراپے‘‘ پر للچائی نظر ڈالی۔ بولے ’’تم دونوں خوبصورت ہو ہم تمہیں شاعری کرنا سکھائیں گے۔‘‘

ان دو اقتباسات سے جوش اور فراق کی امردپرستی اور بے حیائی کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہاں زبیر رضویؔ کا کوئی گناہ نہیں۔ البتہ ان کا ذکر ان کے اخلاقی منصب کے منافی ہے۔ مگر آئیے، ذرا ان معاملاتِ جمالیات اورجمالیاتی احساسات کا ذکر کیا جائے جو اس خودنوشت سوانح عمری میں بطور نگینے کے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’میں نے اپنے پڑوسن کے آنگن سے ملی دیوار میں چھید کردیے تھے۔ میری آنکھ اکثر و بیشتر ان چھوٹے چھوٹے چھیدوں سے چارپائی کی اوٹ میں نہاتی ہوئی پڑوسنوں کو دیکھتی۔ میں آپا جان کا ننگا بدن دیکھتا تو میری ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ جاتیں۔‘‘             (ص:۲۰)

اس حرکت کی اجازت نہ معاشرہ دیتا ہے نہ اسلام۔ پھر یہ کہ جس آدمی کی تربیت پوری طرح مذہبی اور مقدس ماحول میں (جیسا کہ والدین کے حوالے سے پہلے ذکر ہوچکا) ہوئی ہو، اس سے ایسے عمل کی اُمید نہیں کی جاسکتی۔ قرآن کریم کی سورۂ نور میں مذکور ہے:

’’مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں (جنسی اعضا) کی حفاظت کیا کریں، یہ اُن کے لیے بہت زیادہ تزکیہ کی بات ہے جو کچھ یہ کاری گریاں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اُن سے خبردار ہے۔‘‘

نظریں نیچی کرنے کی بات تو الگ، یہاں دیوار میں چھید کرکے عمداً پابندی سے عورتوں کے ننگے بدن کو دیکھنے کی بات کی گئی ہے۔ اسلام نے جنسی تقدس اور جمالیاتی احترام کا بھرپور درس دیا ہے، مگر ہماری آنکھیں اُدھر کہاں اٹھتیں، کہیں اور بھٹکتی رہتی ہیں۔ حضرت بریدہؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا:

’’اے علیؓ (عورت پر) نظر پڑنے پر دوبارہ نظر نہ ڈال، پہلی نظر (اتفاقی) تو تیرے لیے جائز ہے لیکن نظر مکرر جائز نہیںہے۔‘‘    (احمد ترمذی، ابوداؤد، باب النکاح، بیان النظر، بیان العورت)

یہاں تک کہ مرد کو بھی بلاضرورت اپنی ران عریاں کرنے کی اجازت نہیں بلکہ مردہ کی ران دیکھنے کو بھی منع کیا گیا ہے۔ چہ جائیکہ عورت کے ننگے بدن کا بہ نظر غائر معائنہ کیا جائے اور پھر عمر کے اخیر پڑاؤ پر اس کا ذکر چٹخارے کے لیے کیا جائے۔ یہ بھی مذکور ہے کہ نہاتے آبنوسی بدن والے لڑکوں کو دیکھ کر ’’شوقینوں‘‘ کی رال ٹپکنے لگتی۔‘‘ (ص:۲۱)

گردش پا کے صفحہ ۳۴ پر زبیر صاحب نے اپنے گھر کے پاس لگے نل سے پانی لیتی ہوئی نوخیز لڑکی کا ذکر بھی دلچسپی کے ساتھ کیا ہے۔ میرا خیال ہے اس حصے سے کچھ ٹکڑے ملاحظہ کرلیجئے کہ اس طرح کی خود نوشت، اس نئی نسل کی ذہنی تربیت کا سامان کس طرح فراہم کرسکتی۔ لکھتے ہیں:

’’وہ خالی گھڑا لیے کھڑکی کے آگے سے گزرتی ہوئی جارہی تھی۔ اس کا باریک کرتا دونوں کولہوں کے آس پاس سے بھیگ گیا تھا… وہ پانی سے بھرا گھڑا لے کر جب لوٹی تو میری سوچ نے آبائی بستی کی بڑی عمر کی عورتوں کو چھت پر نہاتے ہوئے بے پردہ چھوڑ دیااور اس کے مٹکتے کولہے کے ساتھ چلنے لگی۔‘‘

اسی لڑکی کے ساتھ آگے چل کر جو کچھ ہوا، اس کے لیے موقع یوں ہاتھ آیا کہ ایک روز گھر کے سارے لوگ ایک شادی میں گئے۔ زبیر صاحب کی بھابی کو کچھ کپڑے یاد آگئے۔ جناب واپس آئے۔ اسی وقت وہ لڑکی دروازے پر آئی کہ گھر کے اندر لگے نل سے پانی لینا، اب اس کا معمول بن گیا تھا۔ آگے ملاحظہ فرمائیے:

’’اور بھیگ کر اس کا بدن بے پردہ ہوگیا تھا۔ میں نے سہارا دے کر اپنے مضبوط ہاتھوں سے اس طرح اٹھایا کہ وہ پل بھر کو مجھ میں پوری طرح سمٹ گئی… وہ کھل کھلا کے ہنس پڑی۔ ہم دونوں دوسرے ہی پل اندر کے کمرے میں اس تیسری پیاس کو بجھانے کی بے حد معصوم کوشش کررہے تھے…                                                                              (ص:۳۵)

زبیر صاحب ایک ضروری کام سے گھر آئے تھے مگر موقع غنیمت جان کر ’’تیسری پیاس‘‘ بجھانے کی بے حد معصوم کوشش میں مصروف ہوگئے۔ تو کیا اپنی غلط کاریوں کا ڈھنڈورا پیٹنا انسانی اور معاشرتی تہذیب کا شیوہ ہے؟ میں اس پر بہت زیادہ روشنی ڈالنے سے قاصر ہوں۔ قارئین، کتاب پڑھ کر خود ہی فیصلہ کرلیں گے۔ بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اللہ کے لیے ارشاد نبویؐ کو سامنے رکھنا چاہیے کہ ’’اللہ جمیل یحب الجمال‘‘ مگر اس کا سیاق بھی نظر میں ہو تو بہتر ہے ورنہ راستے سے بھٹکنے میں دیر نہیں لگتی کیونکہ شیطان کے طریق واردات (Modus Operandi) سے ہم کم کم ہی واقف ہوتے ہیں۔ ورنہ ہر گھڑی ’’تیسری پیاس‘‘ کے چکر میں خود کو خراب کیوں کرتے؟ جذب و شوق کی جولانی ہو مگر ناقہ بے زمام کی طرح نہ ہو، ورنہ خود نوشت محض اپنے برے کاموں اور غلط کاروں کا دفتر بن جائے گی۔ ایسی باتوں کے لیے کچھ لوگ اخلاقی جرأت کا استعمال کرتے ہیں مگر وہیں اخلاق حسنہ اور اخلاقی جمالیات اور تقدس کو بھلا دیتے ہیں۔

آئیے اس خود نوشت سے ایک اقتباس اور نقل کرتے ہیں جس سے اندازہ ہوگا کہ مصنف کو آرٹ اور کلچر سے کتنا لگاؤ ہے اور آرٹ کلچر سے لگاؤ رکھنے والوں سے کتنا لگاؤ ہے۔ یہ زبیر صاحب کے دورۂ دمشق کا واقعہ ہے جہاں دمشق کی مشہور رقاصہ پر انہوں نے اپنے خیر مقدم میں ملنے والے پھولوںکی ساری پتیاں نچھاور کردی تھیں پھر اس رقاصہ نے فرش پر بکھری پتیوں کو سمیٹ کر اُن پر نچھاور کردی تھی۔ (اتنی زحمت تو وہ کر ہی سکتی تھی) وہ آگے لکھتے ہیں:

’’تالیوں کے شور میں وہ اچھلتی کودتی ہوئی اس چھوٹے سے ہال سے باہر چلی گئی تھی لیکن    اس کے پیٹ اور کولہوں کی جنبش میرے اعصاب پر ایسا کچھ کرگئی تھی جو مٹائے نہیں مٹ رہا تھا۔‘‘                                                                                                   (ص:۳۸)

جب وہ رقاصہ فرش سے پیتاں سمیٹ کر نچھاور کرسکتی ہے تو پھر فوراً بغیر اپنے مہمان سے     گھل مل کر باتیں کئے ہوئے اچھلتی کودتی ہوئی ہال سے باہر کیسے چلی جائے گی؟ میزبانی کا یہ انداز کچھ            اچھا نہیں رہا۔

زبیر رضوی آل انڈیا ریڈیو کی نمائندگی کرنے جب نیوزی لینڈ گئے تھے تو وہاں بھی ان کی جمال پرست طبیعت میں ابال آگیا اور بڑی دیدہ دلیری سے وہاں کی Asia Pacific Broadcasting Union کی ڈائرکٹر جنرل کے حلقے میں پہنچ کر اسکی انگلیوں میں ایک کاغذ کا پرزہ دیا جس پر لکھا ہوا تھا۔

Confiscate my Passport if you can (تم میرا پاسپورٹ ضبط کرسکتی ہو اگر چاہو)۔ یہ ان کا رومانی انداز تھا۔ انجام سے بے خبر۔ پہلے تو انہوں نے بقول ان کے، اپنی بساط بھر جتنی انگریزی آتی تھی، اس نامعلوم عورت کی شان میں شاعرانہ لفاظیت کی۔ یہ انہوں نے خود لکھا ہے۔ وہ بھول گئے کہ وہ ایک اہم منصب اور مقصد سے وابستہ ہوکر AIR کی نمائندگی کررہے ہیں۔

کتاب کے اخیر کے صفحات میں بھی انہوں نے چٹخارہ آمیزی سے کام لیتے ہوئے اپنی ایک پرانی دوست رنجناؔ کا ذکر کیا ہے جو انہیں بینک میں ملتی ہے۔ دونوںایک دوسرے کو پہچان لیتے ہیں۔ دوسرے روز رنجنا دو گھنٹے کا وقت لے کر آتی ہے۔ رنجنا اب NGO چلاتی ہے۔ حرام کے بچوں کو یورپ کے بے اولاد جوڑوں سے فروخت کرتی ہے۔ گفتگو کے دوران زبیر صاحب پوچھتے ہیں کہ ’’کیا تم اس کے لیے حمل بھی ٹھہرواتی ہو؟‘‘  وہ (رنجنا) حامی بھرتی ہے کہ ہاں جس طرح لوگ خون بیچتے ہیں، عورتیں اپنی کوکھ بھی بیچتی ہیں۔ رنجنا کہتی ہے کہ بلکہ ایک بار تو میں خود بھی ایسا کرچکی ہوں۔ آگے لکھتے ہیں: اس نے بے حد کامیاب سیل مین کی طرح اپنے پورے جسم کو شہوانی Curveدیتے ہوئے آنکھ ماری اور پوچھا۔ ’’حمل ٹھہراؤ گے۔‘‘

اس بے تکلفی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ۲۵ برس پہلے اور کس درجہ بے تکلفی رہی ہوگی۔ ’’گردش پا‘‘ میں کچھ جگہوں پر اچھی نثر ملتی ہے۔ مگر مواد کی غلاظت اسے بھی آلودہ کردیتی ہے۔ یوں بھی اس کتاب میں ان کے اسفار کے احوال زیادہ ہیں، تو کیا اس میں سفر نامے کے عناصر زیادہ نہیں ہوئے؟ سرورق کی دوسری طرف جہاں تصویر ہے، لکھتے ہیں:’’انہی آنکھوں کے ڈر سے سچ سچ لکھا ہے کہ جن آنکھوں نے آپ کا ماضی دیکھا ہو، ان کے سامنے زندگی کی بخششوں پہ اترانا بے تہوںکو زیب دیتا ہے۔‘‘

سوال یہ ہے کہ دنیا میں ان آنکھوں کے دیکھنے کی اور چیزیں تھیں کہ نہیں؟ اسی لیے تو میں نے شروع میں قرآنی آیات کے ترجمے دیے۔ اگر نظر کی حفاظت کرلی جاتی تو اس خود نوشت کی نوعیت الگ ہی ہوتی۔  ’’گردش پا‘‘ میں صرف بکھرے ہوئے خیال اور جمال پرستی کا تلذذ آمیز جوہر ہے۔ یہ جوہر، آنکھ اور سوچ دونوں کے لیے مہلک ہے۔ یہ ادب کا حصہ نہیں بن سکتا…

 

 

(تبصرے میں پیش کردہ آرا مبصر کے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

You may also like

Leave a Comment