Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
صحافت

مخمور سعیدی کی ادبی صحافت – حقانی القاسمی

by adbimiras دسمبر 21, 2020
by adbimiras دسمبر 21, 2020 0 comment

مخمور سعیدی (31؍دسمبر2-1934مارچ 2010) کی شاعرانہ شناخت ان کی ادبی صحافت پر گو کہ حاوی رہی مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ادبی جریدہ نگاری کے باب میں ان کا مقام و مرتبہ مسلم ہے۔ اردو کی ادبی صحافت کی تاریخ ان کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ مخمور سعیدی اس ادبی صحافت کا تسلسل تھے جس میں خیر خواہ ہند، دلگداز ، مخزن، اردوئے معلی، ہمایوں، ادبی دنیا، نگار،شاہکار، ساقی، ادب لطیف، نیرنگ خیال، سویرا، نیا دور، سوغات، فنون، اوراق، سیپ، شب خون، شعور، آجکل جیسے عہد ساز رسالوں کے مدیروں کے نام آتے ہیں۔ ان تمام مجلات نے جس طرح نئے مباحث ، نئے رجحانات، نئے عنوانات، نئے موضوعات سے تخلیق کاروں اور قارئین کو آشنا کیا اور ذوق ونظر کی آبیاری کی اسی طرح مخمور سعیدی نے مختلف ادبی رسائل سے وابستگی کے دوران نہ صرف نئے تجربات اور نئے موضوعات کے ذریعے ادبی صحافت کے کینوس کو وسیع کیا، قاری کو متحرک کیا، تخلیقی فکر کو مہمیز دی بلکہ ادبی صحافت کو بھی عصری تقاضوں اور مطالبات سے ہم آہنگ کیا۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ جن رسالوں سے ان کی وابستگی رہی ان میں ایک باخبر، بیدار، باشعور مدیر کی موجودگی کا ثبوت دیا۔ جب کہ آج کے بہت سے رسائل میں ادارتی وجود کا احساس تک نہیں ہوتا۔ ( یہ بھی پڑھیں مولانا عرشی کی غزلیں – پروفیسر کوثر مظہری )

مخمور سعیدی ایک خوش فکر شاعر، کشادہ نظر ناقد اور بیدار مغز ادیب تھے اس لئے انہوں نے رسائل کو صوری اور معنوی طور پر مستحکم کیا اور اپنی شخصیت کی چھاپ چھوڑی۔ان کی شخصیت اور نام کی وجہ سے بھی بہت سے رسالوں کو شہرت اور مقبولیت ملی۔ کیوں کہ مدیر کے نام اور شخصیت سے بھی مجلہ کا معیار متعین ہوتا ہے۔ رسالے کی ترتیب اور انتخاب مضامین میں مدیر کا ہی کلیدی کردار ہوتا ہے اور اسی سے رسالہ کی شناخت قائم ہوتی ہے۔ پروفیسر ابوالکلام قاسمی نے ادبی صحافت اور ہمارے ادبی رویے، کے حوالے سے بڑی اہم بات لکھی ہے کہ’’ ادبی جریدے کی اشاعت محض حاصل شدہ اچھے برے مواد اور تخلیقات کی ترتیب نہیں ہوتی۔ اس ترتیب کے پیچھے انتخاب کا ایسا عمل کارفرما ہوتا ہے۔ جن میں مدیر کی سوجھ بوجھ اس کا ادبی مذاق، زبان کی نزاکتوں سے واقفیت اور مناسب ترین ایڈیٹنگ جیسی تمام ذمہ داریاں شامل ہوتی ہیں۔ ایک ادبی رسالہ کا مدیر نہ صرف قابل  اشاعت تحریروں کا انتخاب کرتا ہے بلکہ زبان و بیان کے دروبست پر بھی نگاہ رکھتا ہے۔ وقت ضرورت ادارتی مداخلت سے کام لیتا ہے۔ تحریروں کو اصلاح اور تبدیلی سے گزارتا ہے۔ ‘‘

قاسمی صاحب کے اس خیال کی روشنی میں دیکھا جائے تو مدیر کے لئے نہ صرف مختلف علوم و فنون سے آگہی ضروری ہوتی ہے بلکہ زبان پر عبور کے ساتھ ساتھ ترسیلی مہارت بھی اس کے لئے لازمی ہے۔ ادارت بہت ہی مغزماری کا کام ہے اور اس کے لئے جملہ اصناف ادب سے واقفیت بھی ضروری ہے۔ خاص طور پر بدائع بیان اور بحور و اوزان کا علم بھی ضروری ہے۔ جب تک کسی مدیر کاعلم اور وژن وسیع نہ ہو تب تک رسالے کی واضح شناخت نہیں بن پاتی اور نہ ہی اس کا کوئی معیار قائم ہو پاتا ہے۔ کسی بھی مجلہ میں مدیر کا وژن سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہی وژن ہے جس کی وجہ سے کوئی رسالہ ایک روایت بن جاتا ہے اور لوگ اس کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔

مخمور سعیدی ان تمام اوصاف سے معمور تھے جو ایک اچھے مدیر کے لئے لازم ہیں۔ ایڈیٹر کے پاس ایک تنقیدی نقطۂ نظر ہونا چاہئے۔ اس کی نگاہ تیز ہونی چاہئے۔ زبان پر مکمل عبور ہونا چاہئے۔ اس کا ذہن منظم اور متوازن ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ قاری سے اس کا ایک ہمدردانہ رشتہ بھی ہونا چاہئے۔ مواد ، موضوع اور عالمی منظرنامہ سے بھی آگہی ضروری ہے۔ کیوں کہ ایک ایڈیٹر ہی رسالہ کی سمت کا تعین کرتا ہے اور اسے ایک نئی جہت عطا کرتا ہے۔ یہ ایڈیٹر ہی ہے جو ذروں کو آفتاب و ماہتاب بناتا ہے۔ وہی خاک سے خورشید تراشتا ہے۔ اس لئے Sally Lee کا کہنا ہے کہ Ideal Editor bring out the Best in a writer کیوںکہ وہ صرف مدیر نہیں بلکہ تخلیق کاروں اور قارئین کے لئے Mentor بھی ہوتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں انتظار حسین کے افسانوں میں ہجرت کے مسائل – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن )

مخمور سعیدی صحیح معنوں میں ایک مثالی مدیر تھے جن کے ادراک و آگہی کا دائرہ وسیع تھا اور کئی زبانوں سے واقفیت بھی تھی۔ ادبی، مسائل و مباحث سے بھی گہری واقفیت تھی۔ وہ تمام موضوعات بھی ان کی نگاہوں میں تھے جن کے ذریعے وہ ادبی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے تھے اور یقینا انہوں نے اپنے تجربے اور  ادارتی اظہار سے رسائل کی تصویر اور تقدیر بدل دی۔

شاعری مخمور سعیدی کا ذوق وشوق تھا اور ادارت ان کا پیشہ اور مجبوری۔ راشد انور راشد کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے اپنے صحافتی سفراور ادارتی تجربہ کے حوالے سے بہت اہم باتیں کہی ہیں:

’’انسان گزر بسر کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی پیشہ ضرور اختیار کرتا ہے۔ صحافت کو میں نے پیشے کے طور پر اختیار کیا تھا اور اب بھی اسی پیشہ سے وابستہ ہوں۔ لیکن میں نے ادبی ذوق کو صحافت کے اثرات سے بچائے رکھا۔ ملازمت کی جو بندشیں ہوتی ہیں وہ آزادانہ طور پر تخلیقی کام میں کبھی کبھی مزاحم ہوتی ہیں۔ آپ کا موڈ ہے کہ غزل کہنی ہے، نظم کہنی ہے یا کچھ اور تخلیق کرنا ہے معلوم ہوا کہ دفتر کا وقت ہوگیا۔ مجھے روزانہ اخباروں میں کام کرنے کا کوئی خاص تجربہ نہیں ہے۔ لیکن رسالوں کا کام بھی ایک طرح سے ٹائم باؤنڈ ہوتا ہے۔ سب سے پہلے میری وابستگی تحریک سے رہی۔ اس کے بعد انجمن ترقی اردو ہند کے ہفت روزہ اخبار ’’ہماری زبان‘‘ سے بھی جڑا رہا۔ نگار نام کا ایک رسالہ نکلا تھا اس کو بھی میں نے سال بھر تک ایڈٹ کیا۔ گلفشاں کے نام سے میں نے رحمن نیر کے ساتھ مل کر ایک رسالہ نکالا تھا وہ بھی ایک سال تک نکلتا رہا۔ بیسویں صدی اور فلمی ستارے کا شعری حصہ بھی ایک عرصے تک دیکھتا رہا۔ اس طرح بہت سارے اخبار اور رسائل سے میری وابستگی رہی۔ میرے ذمہ جو بھی کام ہوتا ہے اسے بہت سنجیدگی سے پوری ذمہ داری کے ساتھ انجام دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ ‘‘

مخمور سعیدی شاید واحد ایسے شاعر اور ادیب ہیں جن کی ادبی صحافت سے طویل عرصہ تک وابستگی رہی ہے۔ انہو ں نے شاعر ہوتے ہوئے بھی ادبی صحافت کی ذمہ داریاں بحسن و خوبی نبھائیں۔ جب کہ شاعرکو ہمارے معاشرے کا اوبلوموف سمجھا جاتا ہے، نکمّا، ناکارہ، لاابالی، آوارہ۔ مگر مخمور سعیدی نے شاعر ہوتے ہوئے بھی جو ادارتی ذمہ داریاں ادا کی ہیں وہ قابل رشک ہیں۔ انہوں نے بقول عتیق اللہ:

’’ کم سے کم  پر زیادہ سے زیادہ کام کیا۔ دن کو دن رات کو رات نہیں سمجھا۔‘‘

اور یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ان کا استحصال بھی ہوتا رہا۔ جب کہ انہوں نے معمولی اجرت پر غیرمعمولی کام کیا مگر محنت کا معاوضہ یاکوئی صلہ نہیں ملا۔ اس کے باوجود ان کی شخصیت کا ایک روشن پہلو یہ ہے کہ مرتبت اور منفعت کا حصول ان کی ترجیحات میں کبھی شامل نہیں رہا۔ وہ نہایت ہی بردبار، حلیم الطبع اور قانع شخص تھے۔ انہوں نے اپنی منصبی ذمہ داریوں میں کبھی کوئی کوتاہی نہیں برتی۔ جس مجلہ یا رسالے سے ان کی وابستگی رہی اسے بامِ عروج تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ جہاں بہت سے مدیران اپنی تشہیر، تعلقات عامہ اور ترقی درجات کے لئے رسالے کا استعمال یا استحصال کرتے ہیں وہیں مخمور سعیدی نے کسی بھی مجلہ کو ذاتی منفعت، مفاد یا دیگر آسائشوں کے حصول کے لئے استعمال نہیں کیا۔ اس کا ثبوت وہ رسائل ہیں جن سے ان کی وابستگی رہی ان رسالوں میں انہوں نے دوسرے مدیروں کی طرح بکثرت اپنی تخلیقات شائع نہیں کی۔ رسائل کی فائلیں گواہ ہیں کہ انہوں نے اپنے ادارتی منصب کا بھی بیجا استعمال نہیں کیا اور نہ ہی بڑا بننے کے لئے چھوٹے پن کا مظاہرہ کیا کہ یہ ان کی سرشت اور جبلت کے منافی تھا۔ وہ قدروں کے پابند تھے۔ ان کے اندر شرافت اور وضع داری تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جس ادارے میں بھی انہوں نے کام کیا وہاں ان کی بڑی قدرو منزلت تھی۔سب سے پہلے وہ گوپال متل کے رسالہ ’’تحریک‘‘ سے وابستہ ہوئے جو اس وقت ادبی حلقہ میں بہت اہم رسالہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ رسالہ ترقی پسندوں کے خلاف تھا جس کی وجہ سے اس کا اور بھی شہرہ تھا۔ اسی زمانے میں ترقی پسندوں کا رسالہ شاہراہ شائع ہوتا تھا جس کے مدیر محمد یوسف جامعی تھے۔ جنہوں نے بعد میں رسالہ بند کرکے مچھلیوں کا منفعت بخش تھوک کاروبار شروع کر دیا تھا۔ تحریک اور شاہراہ میں بڑی معرکہ آرائیاں ہوتی تھیں۔ مخمور سعیدی شاہراہ کے شدید مخالف مجلہ تحریک سے وابستہ تھے۔ انہوں نے اپنے ا یک مضمون میں تحریک سے وابستگی کی تفصیل یوں لکھی ہے: (یہ بھی پڑھیں آل احمد سرور کی اقبال فہمی – پروفیسر کوثر مظہری )

’’پہلی ملاقات کے دو ڈھائی مہینے بعد ایک شام ظفر ادیب کی زبانی جنہو ں نے اپنے مکتبہ قصر اردو میں مجھے رہنے کو جگہ دے رکھی تھی۔ متل صاحب کا پیغام ملا کہ میں کسی وقت ان کے دفتر میں ان سے مل لوں۔ میں اگلی دوپہر ہی جا پہنچا۔ دفتر دریاگنج میں انصاری مارکیٹ کی بالائی منزل پر تھا اور زینے کے ساتھ تحریک کے نام کا بورڈ آویزاں تھا۔ زینہ چڑھ کر میں اوپر گیا۔ متل صاحب ایک بڑی سی میز کے آگے ایک معمولی سی کرسی پر تنہا بیٹھے تھے۔ تپاک سے پیش آئے۔ اور باتوں باتوں میں مجھے اپنے ساتھ کام کرنے کی دعوت دی۔ میں ان دنوں آزاد ہند ہوٹل کی ایک شاخ میں منیجر کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔ اس کے ہوٹل کے مالک افضل پشاوری خود بھی شاعر تھے اور شاعروں کی قدر کرتے تھے۔ ان سے میرا تعارف بسمل سعیدی نے کرایا تھا اور انہی کے کہنے پر افضل صاحب نے یہ ملازمت دی تھی۔ ڈیڑھ سو روپے ماہانہ مشاہرہ، چائے ناشتہ اور کھانا ہوٹل کی طرف سے۔ اس وقت یہ اچھا خاصا ذریعۂ معاش تھا۔ متل صاحب نے صرف چالیس روپے ماہانہ کی پیشکش کی اور میں نے ان کی اس پیش کش کو قبول کر لیا۔اس کی وجہ غالبا یہ تھی کہ ہوٹل میں کام کرنا مجھے پسند نہیں تھا اور یہاں مجھے جو کام سونپا جا رہا تھا وہ میرے ذہن وذوق سے مطابقت رکھتا تھا۔ اس طرح تحریک سے میری وابستگی کا آغاز ہوا جو چوتھائی صدی تک قائم رہی۔ ‘‘

رسالہ تحریک سے وابستگی ان کے لئے بہت سود مند ثابت ہوئی بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ صحیح ہوگا کہ تحریک سے ہی انہیں نثر لکھنے کی تحریک ملی۔ جس کے نتیجے میں ان کی نثری کتابیں’’بازدید‘‘ (موڈرن پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی۔1989)’’میرے عہد کی صدائیں‘‘ (راجستھان اردو اکادمی، جے پور،2000-)’’1857ء کی کہانی مرزا غالب کی زبانی‘‘ (نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا۔2007)’’ دستنبو‘‘ (غالب کی فارسی کتاب کا اردو ترجمہ) شیخ محمد ابراہیم ذوق(اردو اکادمی دہلی، 2008)وغیرہ سامنے آئیں۔ تحریک میں ان کو ایک بااختیار مدیر کی حیثیت حاصل تھی۔ انہوں نے اسی تحریک میں سب سے پہلے دستنبو کا ترجمہ کیاتھا جو تحریک کے غالب نمبر میں شائع ہوا۔وہ خود لکھتے ہیں کہ ’’نثر نگاری کی جانب متل صاحب نے ہی مجھے مائل کیا۔ وہ مجھ سے برابر کہا کرتے تھے کہ بھئی نثر لکھا کرو اور آخر میں انہوں نے یہ کیا کہ تحریک کے اداریے میرے حوالے کر دیئے۔‘‘

’تحریک ‘نے بہت سے ایسے تخلیق کاروں کو جنم دیا جو آگے چل کر جدید افسانہ اور شاعری کی پہچان بنے۔ تحریک سے جن تخلیق کاروں کو شناخت ملی ان میں محمد علوی، شہریار، ندا فاضلی، سریندر پرکاش، بانی، کمار پاشی، کنورسین وغیرہ شامل ہیں۔ اور سچ پوچھئے تو رسالہ تحریک ہی جدیدیت کا سنگ بنیاد تھا اور اسی رسالہ کے ذریعہ جدیدیت کے میلان کو تقویت بھی ملی۔ اسی تحریک میں فیض احمد فیض اور علی گڑھ تاریخ ادب اردو کے خلاف رشید حسن خان کا مضمون چھپاجس کے بعد یونیورسٹی کو کتاب واپس لینی پڑی۔تحریک کے خصوصی شمارے غالب نمبر، جگر نمبر، بسمل سعیدی نمبر، بیس سالہ نمبر، سلور جبلی نمبر، وغیرہ شائع ہوئے۔ اس رسالے میں بزم احباب کے عنوان سے خطوط کا ایک کالم بھی تھا جس میں گرما گرم بحثیں ہوتی تھیں۔مجلہ تحریک مخمور سعیدی کی شناخت بن گیا تھا ۔مشہور طنز و مزاح نگار مجتبیٰ حسین نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے:

’’ 1972ء میں جب میں دہلی آیا تومیں نے دہلی کے جن چند شاعروں اور ادیبوں سے ملنے کا پروگرام بنایا تھا اس میں ایک شخص کمار پاشی بھی تھے۔ انہیں دنوں کمار پاشی کے افسانوں کا ایک مجموعہ شائع ہوا تھا اور مجھے اس کے بعض افسانے بہت پسند آئے تھے۔ اب جناب ایک آدمی جب دوسرے آدمی سے ملنا چاہتا ہے تو یہ نہیں دیکھتا کہ دوسرا آدمی کس سے ملتا ہے اور کیا کیا کرتا ہے۔ کمارپاشی سے ملا تو مجھے دوسرے ہی دن اپنے گھر آنے کی دعوت دے دی۔ دوسرے دن میں کمار کے یہاں گیا تو میرے وہاں پہنچنے کے بعد بھی کسی کا انتظار ہو رہا تھا۔

میں نے پوچھا کس کا انتظار ہو رہا ہے۔

کمار نے کہا:مخمور سعیدی آنے والے ہیں۔

میں نے کہا: مخمور سعیدی وہی جو ٹونک کے رہنے والے ہیں۔ اور جو تحریک سے وابستہ ہیں۔ ‘‘

گوپال متل اس رسالہ کے مالک اور مدیر تھے۔ مگر مخمور سعیدی سے بہت محبت کرتے تھے۔ اور ان پر پورا اعتبار تھا۔ اور ان کو سارے اختیارات بھی دے رکھے تھے۔ وہاں کام کرنے کی آزادی تھی۔ اس لئے رسالہ تحریک سے وابستگی کے دوران مخمور سعیدی نے ایک اچھا کام یہ بھی کیا کہ نئے لکھنے والوں کو خاص طور پر اہمیت دی اور ایسی تجرباتی تخلیقات بھی شائع کیں جنہیں دوسرے رسالوں نے شائع کرنے سے معذرت کرلی تھی۔ مخمور سعیدی نے رسالہ تحریک کے ذریعے بہت سے نئے تخلیق کاروں کو متعارف کرایا۔ ان میں ایک اہم نام ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ یافتہ شین۔کاف نظام کا بھی ہے۔ جن کے بارے میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’’میں ان دنوں گوپال متل کے ماہنامہ رسالے تحریک کے ادارتی شعبے میں تھا۔ اس رسالہ کا ایک مقصد نئے لکھنے والوں کی کھوج لگانا اور انہیں ادبی دنیا سے متعارف کرانا تھا۔ روزانہ ڈاک میں جو خط آتے تھے پہلے میری نظر سے گزرتے تھے۔ ایک دن ایک لفافے سے دو غزلیں برآمد ہوئیں۔ جنہو ںنے پہلی ہی نظر میں نہ صرف مجھے متوجہ کر لیا بلکہ ان میں فکر کا جو نیاپن اور اظہار کی جو تازگی تھی میرا جی چاہا کہ شاعر کو فوراً ہی اس کی داد دی جائے۔ یہ غزلیں شین کاف نظام کی تھیں۔ جو حسن اتفاق سے میرے ہی صوبے کے تاریخی شہر جودھ پور کے رہنے والے تھے۔ میں نے اسی وقت انہیں خط لکھا۔ یہ میرا ان سے پہلا تعارف تھا اور اولین غائبانہ رابطہ بھی تھا۔ ‘‘

تحریک کی تربیت کی وجہ سے مخمور سعیدی نے آخر وقت تک یہی روش قائم رکھی کہ نئے تخلیق کاروں اور لکھنے والوں کی نہ صرف جستجو کرتے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتے۔ انہوں نے بہت سے ادیبوں اور شاعروں کوادبی دنیا سے متعارف کرایا۔ اس رسالہ سے تقریباً وہ پچیس برس تک وابستہ رہے۔  1978ء میں رسالہ تحریک بند ہوگیا۔ اس کے بعد ماہنامہ گلفشاں ، ماہنامہ نگار، دہلی سے بحیثیت مدیر ان کی وابستگی رہی۔ نگار کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں:

’’نیاز فتح پوری کا یہ رسالہ رام پور سے اکبر علی خاں عرشی زادہ نے نکالا تھا اور پھر دہلی میں کلب علی خاں کے حوالے کر دیا۔ میں ان دنوں بیکار تھا۔ عرشی زادہ جو میرے اچھے دوستوں میں تھے مجھ سے خود تو نہیں کہا لیکن مودود صدیقی صاحب سے کہلوایا کہ اس کی ادارت میں سنبھال لوں۔ چنانچہ ایک برس تک میری ادارت میں نکلا۔ میں نے اس کا گیٹ اپ بھی بدل دیا اور مشمولات کی نوعیت بھی۔ دوچار مہینے میں اس کی تعداد اشاعت تین ہزار تک پہنچ گئی۔ لیکن کوئی نجی رسالہ محض تعداد اشاعت کے بل بوتے زندہ نہیں رہ سکتا جب تک کہ اسے اچھے اشتہارات نہ ملیں۔ اور اردو رسالے کو اشتہارات مشکل سے ہی ملتے ہیں۔ چنانچہ اس کی اشاعت موقوف ہوگئی۔ ‘‘

اس دوران مخمور سعیدی نے اور بھی کئی رسالوں میں کام کیا جن کا ذکر ان کے کوائف میں کم ملتا ہے۔ مخمور صاحب نے جواہرات کے کاروبار کرنے والے دگمبر پرشاد جین اور بمل پرشاد جین کے رسالہ ’’شعلہ و شبنم‘‘ میں بھی کام کیا۔ اس رسالہ میں تقریباً دو ماہ کام کیا جس میں بمشکل انہیں بیس روپے ملے۔ اس رسالہ کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی کتابت مستند عروض داں علامہ سحر عشق آبادی فرماتے تھے۔ اس کے علاوہ مخمور سعیدی نے نجم صدیقی کے رسالہ جمالستان میں بھی جز وقتی کام کیا۔ جس میں ان کی پہلی نظم 1950ء کے سالنامہ میں شائع ہوئی تھی نیز مشتاق احمد دہلی کے ہفت روزہ ایشیاء سے بھی مخمور سعیدی کی وابستگی رہی۔ اس کے ادبی حصے کی ترتیب مخمور صاحب ہی کے ذمہ تھی۔ ان تمام رسالوں کے ادارتی تجربات کے بعد وہ اردو اکیڈمی، دہلی کے ماہنامہ ایوان اردو سے 1981ء تا 1999ء وابستہ ہوئے۔ اس رسالے کا آغاز سید شریف الحسن نقوی کی سکریٹری شپ میں ہوا تھا اور کنور مہندر سنگھ بیدی اس کے وائس چیئر مین تھے۔ مخمور سعیدی اس رسالہ سے ایک عرصے تک وابستہ رہے۔ اردو اکیڈمی کے مختلف سکریٹریوںمثلاً اشتیاق عابدی، زبیر رضوی اور ڈاکٹر صادق وغیرہ کے دور میں انہوں نے ایوان اردو کی ادارت کے فرائض انجام دیئے اور بہت سے اہم اور دستاویزی شمارے شائع کئے۔ اور جب اردو اکیڈمی کے سکریٹری (1997تا 1999)بنے تو معاصرین غالب نمبر کے عنوان سے ایوان اردو کا خاص شمارہ شائع کیا۔ ایوان اردو کو انہو ںنے ایک نئی پہچان عطا کی اس کے بعد بچوں کا ایک رسالہ امنگ کے نام سے نکالا جس کے بانی مدیر مخمور سعیدی ہی تھے۔ ادب اطفال کے ذیل میں اس رسالے کی خدمات بڑی اہم ہیں۔ اورظاہر ہے کہ اس کا سہرا مخمورسعیدی کے سرجاتا ہے۔ ایوان اردو کے بعد ان کی وابستگی قومی اردو کونسل کے رسائل ماہنامہ اردو دنیا اور سہ ماہی فکر و تحقیق سے ہوئی۔ ان دونوں رسالوں کو بھی انہوں نے معیاری اور فکر انگیز بنایا۔ نئے نئے موضوعات اور عنوانات قائم کئے۔صنعت و حرفت، دفتری انتظامیہ، کیریئر، زبان و تعلیم، تاریخ، سماجیات، تربیت اطفال، ماحولیات، تاریخ و ثقافت، انٹرنیٹ اور دیگر عصری موضوعات اردو دنیا میں شامل کئے۔ اور اس طرح رسالہ کو مفید عام اور معیاری بنایا اور اسے ایک واضح صورت عطا کی۔

اس تعلق سے ممتاز بین علومی ناقد پروفیسر عتیق اللہ نے بڑی اہم بات لکھی ہے:

’’اردو دنیا اور فکر و تحقیق کے معیار کو انہوں نے جس طور پر ایک نئی سطح سے متصف کیا اور جس تن دہی اور ایمانداری کے ساتھ انہیں بہتر سے بہتر بنانے کے لئے کوشاں رہے اس کا پوری اردو دنیا کو بخوبی علم ہے۔‘‘

مخمور سعیدی جنوری 2000 سے قومی اردو کونسل سے بحیثیت مشیرو ابستہ رہے۔جنوری 2007 سے بحیثیت اعزازی مدیر کام کرنے لگے۔ اس وقت ماہنامہ اردو دنیا پر بحیثیت مدیر رشمی چودھری کا نام شائع ہوتا تھا۔ جنوری 2007ء کے اداریے میں یہ لکھا گیا ہے کہ :

’’ہمیں محترم مخمور سعیدی (جو کونسل میں بطور مشیر خدمات انجام دے رہے ہیں) کا گراں قدر تعاون بھی حاصل رہا ہے۔ ہم ان کی رہنمائی میں قارئین اردو دنیا کو ہر لہجہ نیا طور، نئی برق و تجلی سے آشنا کرتے رہیں گے۔ اس شمارے سے مخمور سعیدی رسالے کے اعزازی مدیر کی ذمہ داری بھی سنبھال رہے ہیں۔ ‘‘

ماہنامہ اردو دنیا کے مختلف مدیران اور معاون مدیران کے ساتھ مخمور سعیدی کام کرتے رہے۔ جن میں حمید اللہ بھٹ، رشمی چودھری، آرکے بھٹ، علی جاوید شامل ہیں۔ اردو دنیا کا اداریہ ہماری بات کے عنوان سے چھپتا تھا۔ علی جاوید اور رشمی چودھری کے دورادارت میں ہماری بات پر کسی کا بھی نام نہیں ہوتا تھا۔ یہ ادارہ کی طرف سے لکھا جاتا تھا۔اس دوران مخمور سعیدی نے بہت اہم اور فکر انگیز اداریے لکھے اور ان کے اداریے کی خاص بات یہ تھی کہ وہ اردو زبان کے مسائل اور متعلقات پر مرکوز ہوتے تھے۔ اور یہی نہیں کہ زبان و ادب کے حوالے سے گفتگو ہوتی تھی بلکہ سیاست، ثقافت اور معاشرت کے حوالے سے بھی اشارات اور شذرات شامل ہوتے تھے۔ ان کے تمام اداریے اپنے اختصار کے باوجود بہت ہی فکر انگیز اور معنی خیز ہوتے تھے۔ ایک اداریے میں وہ لکھتے ہیں کہ:

’’ کرشن چندر نے ایک سوال کے جواب میں اردو ادیبوں کی مفلوک الحالی پر دلچسپ انداز میں اظہار خیال کیا اور یہ کہا کہ یہ مفلوک الحالی صرف اردو کے ادیبوں یا دوسرے ہندوستانی ادیبوں کا ہی مقدر نہیں ہے بلکہ دوسرے ممالک میں بھی جنہیں ترقی یافتہ سمجھا جاتا ہے صورت حال کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ انہوں نے انگلستان کی ایک ادب نواز دولت مند خاتون کا ذکر کیا ہے جو ایک شاندار ہوٹل کی مالک تھی۔ جہاں مفلس ادیبوں اور شاعروں کو مفت کھانا ملتا تھا۔‘‘

اسی طرح وہ ایک اداریے میں لکھتے ہیں کہ:

’’ اردو کے روایتی مراکز مثلاً دہلی اور لکھنؤ کے تعلیمی منظرنامے پر نظر ڈالی جائے تو مایوسی ہوتی ہے۔ جہاں سرکاری مدارس ہوں یا نجی تعلیم گاہیں بیشتر میں یا اردو پڑھانے کا انتظام ہی نہیں اور جہاں انتظام ہے وہاں پڑھنے والے بچے بہت کم ہیں۔ پورے شمالی ہندوستان میں یہی صورت حال دیکھنے کو ملتی ہے۔ ‘‘

اسی طرح انہو ں نے ایک اوراداریے میں بڑی اہم بات لکھی ہے کہ:

’’ حکومت ہند کو چاہئے کہ جس طرح وطن کی حفاظت کے لئے شہید ہونے والے فوجیوں کی یادگاریں قائم کی جاتی ہیں۔ اسی طرح ان فدایان وطن قلم کاروں کی یادگاریں بھی قائم کرے جنہو ںنے آزادی وطن کے لئے جان و مال کی قربانیاں دیں۔ ‘‘

ایک اور اہم اداریہ ہے جس میں انہوں نے اردو کے جمہوری اور سیکولر کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ

’’ اردو میں دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنا لینے اور اپنے سانچے میں ڈھال لینے اور مختلف المزاج لوگوں کو اپنے مزاج سے ہم آہنگ کر لینے کی جو صلاحیت ہے اس سے بڑا کام لیا جا سکتا ہے۔ اردو نے اپنے بولنے والوں کو ہر مذہب و مسلک کا احترام کرنا سکھایا ہے۔ اردو شاعری کے ذخیرے پر ایک سرسری نظر ڈالئے۔ آپ دیکھیں گے کہ ایک طرف ہندو شعراء نعت اور منقبت لکھ رہے ہیں تو دوسری طرف مسلمان شعراء رام اور کرشن کو نذرانۂ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ یگانہ نے اپنے لئے ایک جگہ کہا ہے:

کرشن کا ہوں پجاری علی کا بندہ ہوں

اردو اور اردو والوں کا عمومی انداز نظر یہی ہے۔ ‘‘

مخمور سعیدی نے کبھی ان ادبی مباحث، مسائل یا تنقیدی ڈسکورس کو اپنے اداریے کا موضوع نہیں بنایا جن کی کوئی معاشرتی افادیت نہیں ہے۔ انہو ں نے ہمیشہ اہم لسانی اور ادبی مسائل پر گفتگوکی اور اردو والوں کے ذہن اور ضمیر کو جھنجھوڑتے رہے۔

پروفیسر عتیق اللہ نے ان کے اداریوں کی افادیت اور ارتکازیت کے حوالے سے بہت اہم اشارہ کیا ہے:

’’مخمور سعیدی کا کوئی بھی اداریہ دیکھیں نثر کی قطعیت کے ساتھ مشروط نہیں ہے بلکہ موضوع کے ارتکاز کے ساتھ بھی خصوصیت رکھتا ہے۔ ‘‘

اور حقیقت یہی ہے کہ مخمور سعیدی نے تمام تنقیدی یا لسانی کلیشوں سے گریز کیا ہے اور ایک اچھے مدیر کی یہی خوبی ہوتی ہے جس کے بارے میں ایک بہت بڑے ناقد کا کہنا ہے کہ:

"Best Editors are the Enemies of Cliches and Tropes”

اس طرح دیکھا جائے تو مخمور سعیدی نے ادارت جیسی پِتّاماری کا کام بہت ہی محنت اور خلوص کے ساتھ کیا ہے جب کہ دوسروں کی تحریریں پڑھتے اور زبان کی اصلاح کرتے کرتے خود اپنی زبان اور ذہن کے بگڑنے کا خدشہ لاحق رہتا ہے۔ مخمور صاحب ان مدیروں میں سے نہیں تھے جو زبان و ادب کے بجائے اپنی زندگی کا معیار بلند کرنے یا پی آر بنانے میں لگے رہتے ہیں۔ وہ جہاں بھی رہے وہاں نہایت متانت، سنجیدگی کے ساتھ کام کیا۔ اور کبھی بھی ضابطہ شکنی کے مرتکب نہیں ہوئے۔ انہوں نے ادارے کی پالیسیوں کا بھی احترام کیا اور ادارے کے حرمت و وقار پر کبھی حرف آنے نہیں دیا۔ انتظامیہ کے بہت سے اعلیٰ عہدیداروں سے ان کا قد بہت بلند تھا اس کے باوجود ان کے اندر خاکساری اور انکساری تھی۔ (یہ بھی پڑھیں غضنفر کا افسانہ’سرسوتی اسنان‘ کا تجزیاتی مطالعہ – پروفیسر (ڈاکٹر) عبدُ البرکات )

مخمور سعیدی ان متبحر مدیروں میں سے تھے جن کے نام سے ہی رسالہ کی پہچان ہوتی ہے۔ ان کا سلسلہ ان دانشوران ادب و ثقافت سے جڑا ہوا ہے جن کی مدیرانہ اہلیت کے علاوہ تنقیدی اور تخلیقی حیثیت ہوا کرتی ہے۔ مخمور سعیدی نے ادبی صحافت میں وہی نشان امتیاز قائم کیا ہے جو ٹی ایس ایلیٹ جیسے ممتاز ناقد شاعر یا ایف۔ آر۔ لیوس جیسے نظریہ ساز ناقدنے قائم کیا تھا۔ ٹی ایس ایلیٹ The critrion کے ایڈیٹر تھے۔ تو ایف۔ آر۔ لیوس Scrutiny کے ایڈیٹر۔  ان لوگوں کی شناخت ادب کے بڑے دانشوروں اور ناقدوں کی حیثیت سے ہوتی تھی۔

مخمور سعیدی کا امتیاز یہ ہے کہ انہو ں نے اپنی مدیرانہ صلاحیت کا بھرپور استعمال کیا۔ اداریہ نگاری کو ایک نیا نہج عطا کیا اور رسالوں کو ایک واضح شکل و صورت عطا کی۔ مخمور سعیدی زندگی کی آخری سانس تک ادبی صحافت سے وابستہ رہے۔ مارچ 2010 تک ماہنامہ اردو دنیا پر مخمور سعیدی کا نام اعزازی مدیر کی حیثیت سے چھپتا رہا۔ جس میں ان کا آخری اداریہ بنگلہ دیش کی محترمہ حسینہ واجد کی ہندوستان آمد پر تھا۔ اس کے بعد جب اردو دنیا اپریل 2010 کا شمارہ منظر عام پر آیا تو ٹائٹل پر مخمور سعیدی کی تصویر تھی جس پر 31 دسمبر 1934 ۔2مارچ 2010 کی تاریخ کے ساتھ یہ شعر درج تھا۔

پھول تو اب بھی کھلتے ہیں                خوشبو تیرے ساتھ گئی

اور سچ مچ مارچ 2010کے اداریہ کے ساتھ ہی اردو دنیا اس خوشبو سے محروم ہوگئی۔اداریے کے اسی صفحہ پر جو مخمور سعیدی برسوں سے لکھ رہے تھے ڈائرکٹر حمیداللہ بھٹ کی طرف سے یہ تعزیتی نوٹ تھا :

’’ گزشتہ 2مارچ 2010 کو عہد ساز نقاد اور اردو دنیا کے اعزازی مدیر اور فکر و تحقیق کے ادارتی مشیر مخمور سعیدی کی وفات ہوگئی۔اردو دنیا اور فکر و تحقیق کی ادارتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ادارے کی تمام علمی و ادبی سرگرمیوں میں پیش پیش رہے۔ شعر و ادب پر گہری نظر اور ادبی صحافت کے طویل تجربے کے پیش نظر کونسل کی جانب سے انہیں ادبی مشیر مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے نہایت محبت اور سچی لگن کے ساتھ اپنے فرائضی منصبی انجام دیئے۔ سہ ماہی فکر و تحقیق آج علمی دنیا میں اپنے تحقیقی اور بے لاگ مضامین کی وجہ سے اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔ اس کے قلم کاروں میں ہر مکتبۂ فکر اور ہر عمر کے لوگ شامل ہیں۔ کسی بھی قسم کی عصبیت یا ذہنی تحفظ سے رسالہ کو پاک رکھنے میں انہوں نے کامیابی حاصل کی اور فکر و تحقیق کو ایک رجحان ساز رسالہ بنایا۔‘‘ اسی شمارے میں ایک گوشہ مختص کیا گیا جس میں چندر بھان خیال، شمس الرحمن فاروقی، رشید حسن خان، شین کاف نظام، فضل الرزاق خاں ارشد، فاروق ارگلی، آبگینہ عارف، نصرت ظہیر کی تعزیتی تحریریں شامل تھیں۔

ادارے کی طرف سے یہ صرف خراج عقیدت نہیں تھا بلکہ ان کی محنت کا اعتراف بھی تھا اور حقیقت یہی ہے کہ مخمور سعیدی کی وجہ سے ہی ان دونوں رسالوں کو ادبی اور عوامی حلقوں میں شہرت اور مقبولیت نصیب ہوئی۔ اس میں ان کی رات دن کی ریاضت شامل تھی اور ایک خاص بات یہ تھی کہ انہو ںنے اردو دنیا اور فکر و تحقیق کو عصبیت اور ذہنی تحفظ سے پاک رکھنے کی جو کوشش کی تھی اس میں ان کی وسیع القلبی اور فراخ دلی شامل تھی۔ ورنہ آج کے عہد میں بہت سے رسالے عصبیت اور ذہنی تحفظ کا شکار ہوگئے ہیں۔

مخمورسعیدی نے ادارت یا اس طرح کی ملازمت معاشی تنگی کی وجہ سے اختیار کی تھی جب کہ سلطان محمد خاں المعروف بہ مخمور سعیدی ٹونک کے صاحب دولت و ثروت اور علمی اور ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان کے دادا شیر عالم خان زخمی اور ان کے والد احمد خان نازش بھی شاعر تھے۔ مگر حالات نے انہیں اس موڑ پر لاکھڑا کیا کہ انہیں ملازمت کرنی پڑی اور یہ حال ہوا کہ

اپنی بستی کی زمیں بھی نہ رہی زیر قدم

شہر غربت میں ستاروں کا جہاں بھی نہ ملا

اور اسی غربت نے شاید انہیں ملازمت کی اس زنجیر سے باندھ دیا جہاں انا سے بھی سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے اور مسندوں کی مدح خوانی بھی کرنی پڑتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ’راستہ اور میں‘ پر 2007کا ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ پانے والے مخمور سعیدی جیسے شاعر اور خود دار شخص کو بھی ایسی مجبوریوں سے گزرنا پڑا ہوگا۔تبھی تو انہوں نے یہ شعر کہا:

مسندوں کی مدح خوانی کر رہا ہوں ان دنوں

پیٹ انگاروں سے اپنا بھر رہا ہوں ان دنوں

Cell:9891726444

haqqanialqasmi@gmail.com

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراثصحافت
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
امیر خسرو کی نثری تصنیفات : ایک جائزہ – محمد شاداب
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

اردو رسائل و جرائد میں خطوط کی اہمیت...

اگست 1, 2024

اُردو رسائل و جرائد:اہمیت وروایت – وجیہ بتول

جولائی 28, 2024

1857کی جنگ آزادی اور دہلی اردو اخبار –...

جولائی 28, 2024

اردو صحافت کے پٹھان : احمد سعید ملیح...

جون 30, 2023

ظریفانہ صحافت اور پنچ اخبارات – ڈاکٹر محمد ذاکر...

فروری 23, 2023

ادبی صحافت کے دو سو سال – حقانی...

جنوری 7, 2023

ادب اور صحافت کا معاملہ (مولانا ابوالکلام آزاد...

اکتوبر 11, 2022

احمد سعید ملیح آبادی: اردو صحافت کا نیر...

اکتوبر 3, 2022

تحریک آزادی اور اردو صحافت – علیزے نجف

اگست 16, 2022

اخبار ’سحرسامری‘ لکھنؤ – ڈاکٹر مخمور صدری

جولائی 14, 2022

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں