افسانہ وہ آئینہ ہوتا ہے جو زندگی کی بعض گہرائیوں کے انکشاف کے لئے کچھ خاص قسم کے استدلال ،ٹھوس واقعات اور کرداروں سے مدد لیتا ہے ۔انسان کی زندگی میں ہمیشہ تغیر اور تبدل ہوتا رہتا ہے۔ زندگی ہر دور ہر عہد میں سانحات اور انقلابات سے دو چار ہوتی رہتی ہے،تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس کے اثرات ہمارے افسانے پر نہ پڑیں۔اور یہی وجہ ہے کہ ہر دور کے افسانوں میں اپنے عہد میں ہونے والے انقلابات اور سانحات کے زیر اثر ہونے والی پریشانیوں کی تصویر نظر آتی ہے۔
بر صغیر کا ایک بڑا سانحہ تقسیم ہند تھا جس کے زیر اثر اٹھنے والے فسادات کی غمناکیاں اور بعد ازایں ہجرت کا عمل اور اس کے درپیش پریشانیوں نے اس عہد کے لکھنے والوں کو متاثر کیاجسے اس عہد کے افسانہ نگاروں نے اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔ جن افسانہ نگاروں نے ہجرت کے مسائل کو اپنے افسانے کا موضو ع بنایا اس میں ایک اہم نام انتظار حسین کا بھی ہے۔انتظار حسین کا تخلیقی سفر تقسیم ہند کے فوراً بعد شروع ہوتا ہے۔ان کا پہلا افسانہ ’قیوما کی دکان‘ ہے جسے انہونے ہجرت کے ٹھیک ایک سال کے بعد لکھا جو رسالہ ادب لطیف میں ۱۹۴۸ میں شائع ہو کر مقبول عام ہوا۔ انتظارحسین کا شمار ان تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنہوں اردو افسانے میں کہانی کی کلاسکی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے فن افسانہ نگاری کو نئی سمت و رفتار عطا کی۔ان کے افسانے زندگی کے متعدد شاخشانے سامنے لاتے ہیں جو زندگی کے نشیب و فراز سے اس قدر مربوط نظر آتے ہیں کہ قاری ان کی جامعیت،کلیت حقیقت اور سحر میں کھو کر ان کی تخلیقی صلاحیت کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے افسانے کے لئے ایک طرف ہندی کتھاؤں سے استفادہ کیا ہے تو دوسری طرٖ ف اسلامی تہذیب و روایت کو اپنے افسانوں کی بنیاد بنایا ۔ انہوں نے اردو فکشن کو صرف ایک نیا اسلوب ہی نہیں دیا بلکہ ماضی کے انہی قصے کہانیوں سے حال کے چیزوں کی عکاسی کر لوگوں تک پہنچایا ہے۔ انتظار حسین اپنے فکری نظام کے اس جہت کے حوالے سے، کہانی کہانی میں لکھتے ہیں کیا ضروری ہے کہ آنکھ سے دیکھنے کے بعد ہی بات اپنا تجربہ بنے۔ یہ قدیم ماضی تو ہمارے خون میں شامل ہے۔ ہمارے نسلی شعور کا حصہ ہے‘‘ وہ اپنے افسانوں کے مجموعے ’’کچھوے ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ میں اپنے مصیبت زدہ زمینوں اور زمانوں میں آوارہ پھرتا ہوں، کتنے دن اجودھیا اور کربلا میں مارا مارا پھرتا رہا یہ جاننے کے لئے کہ آدمی بستی چھوڑتے ہیں تو ان کے اپر کیا بیتتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کے انتظار حسین کے افسانوں میں ماضی کی بازیافت تسلسل کے ساتھ نظر آتا ہے۔‘‘ ایک جگہ اپنے مضمون اجتماعی تہذیب اور افسانہ میں اس طرح رقم طراز ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں ‘‘آخری سردار’’ :ایک علامتی اور استعاراتی افسانہ : ڈاکٹر زاہد ندیم احسن)
’’ جب تہذیبی سا لمیت رخصت ہو چکی ہو تو اجتماعی احساس کا ترجمان بننے کے لئے افسانہ نگار کو بہت جتن کرنے پڑتے ہیں۔ اسے باطنی زندگی کی گہرائیوں میں یہ دریافت کرنا پڑتا ہے کہ وہ کون سے احساسات، آدرش، تمنائیں اور موروثی شکلیں ہیں جو تہذیبی زندگی اور جذباتی چلن میں تفرقہ پڑجانے کے باوجود مشترک ہیں او ر سماج کے ایک فرد کا دوسرے فرد سے رشتہ جوڑتی ہیں۔ ان مشترکات میں ایک تو ماضی کا ورثہ ہوتا ہے۔ ماضی میں بے شک بے ربطی کا صورت پیداہو جائے مگر یہ ورثہ تو یادوں کی صورت میں اجتماعی حافظے میں محفوظ ہے‘‘(علامتوں کا زوال،ص:۱۷،۱۸)
اس مضمون کا مطمح نظر انتظار حسین کے وہ افسانے ہیں جن میں انہوں نے ہجرت اور اس کے در پیش مسائل کی عکاسی کی ہے۔ انتظار حسین چونکہ خود تقسیم ہند اور ہجرت کے غم سے دو چار ہو چکے تھے ہجرت کی اس تکلیف اور کرب کو محسوس کیا تھا ،یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں فسادات اور ہجرت کے موضوعات فطری طور پر نظر آتے ہیں۔اس حقیقت کا احساس انتظار حسین کو بخوبی تھا اور ان کا اظہار بھی انہوں نے اس طرح کیا ہے :’’ہجرت کا تجربہ ایک نئی آگاہی لے کرآیا تھا یہ کہ آدمی اتنا کچھ نہیں ہوتا جتنا کچھ وہ نظر آتا ہے۔اس کے رشتے اس کے خارج سے زیادہ اس کے باطن میں پھیلے ہوئے ہیں اور معاشرتی حقیقت خود مختار حقیقت نہیں ہے ،وہ بہت سی غائب اور حاضر حقیقتوں، گم شدہ اور نو آمدہ عوامل کے گھال میل سے جنم لیتی ہیں۔ زمانے دو نہیں تین ہیں اور یہ تین زمانے جدا جدا حقیقتیں نہیں ہیں بلکہ آپس میں اس طرح گتھی ہوئی ہیں کہ ان کی حد بندی نہیں کی جا سکتی۔ آدمی حاضر میں سانس لیتا ہے مگر اس کی جڑیں ماضی میں پھیلی ہوتی ہیں۔‘‘جن افسانوں میں ان کے ذاتی تجربات و احساسات ملتے ہیں ان میں ’قیوما کی دکان‘،’ شہر افسوس‘، ’وہ جو کھوئے گئے‘ ’سیڑھیاں‘ ،’اجودھیا‘ ،’سانجھ بھئی چو دیس‘،او’رمحل والے‘ قابل ذکر ہیں۔مذکورہ بالا افسانوں میں ہجرت کی غمناکیاں اور اپنوں سے بچھڑنے کا کرب اور اس کے متعلقات کاذکر ملتا ہے۔ انتظار حسین تقسیم ہندکے موقع پر رونما ہوئے انسانی بربریت اور مہاجر کی پریشانیوں کو علامتی انداز میں پیش کیا ہے ۔اور اس کو پیش کرنے کے لئے انہوں نے دیومالا جاتک کتھائوں اور قصص سے کام لیا ایک جگہ وہ لکھتے ہیں:۔
’’اصل میں ہماری ذات کئی دیومالاؤں کا سنگم ہے۔قصص و روایات کے مختلف سلسلے یہاں آکر ملتے ہیں کچھ سلسلے علاقوں اور نسل کے حوالے سے ،کچھ سلسلے مذہبی عقائد کے راستے سے اور کچھ سلسلے مذہبی عقائد کے دیس دیس سفر کے واسطے سے‘‘
(علامتوں کا زوال،ص:۲۹،۳۰)
انتظار حسین کا افسانہ ’’شہر افسوس‘‘ ہجرت کے انہی مسائل کا عکاس ہے۔یہ پورا افسانہ علامتی نوعیت کا ہے ہجرت کے بعد اپنے گھر باراور اپنے لوگوں کو چھوڑ کر اور اپنا سب کچھ لٹ لٹا کر اچھے مستقبل کی تلاش میں لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتے ہیں تو انہیں صرف محرومی ہی محرومی ہاتھ آتی ہے اس کا بیان شہر افسوس میں کچھ اس طرح سے ملتا ہے۔ اس کہانی میں تین آدمی ہیں جو اپنے گھر بارعورتوں اور لڑکیوں کی عزت کو پامال ہوتے ہوئے بھی دیکھتے ہیں اور خود بھی وہی کام کرتے ہے جو ان کے ساتھ گذرتی ہے ۔اور وہ اس کام کو کرنے کے بعد اپنے آپ کو مرا ہوا تسلیم کرتے ہیں اور اپنے آپ کو ان گناہوں سے جو ان سے سر زد ہوگئی تھی اسے چھپانے کے لئے جگہ جگہ بھاگتے پھرتے ہے مگر اسے کہیں سکون نہیں ملتا۔ایک اقتباس دیکھیں۔
’’میں حیران و پریشان ایک کوچے سے دوسرے کوچے میں،اور ایک گلی سے نکل کردوسری گلی میں گیا ۔ بازار بند رستے سنسان گلیاں ویران۔کسی کسی مکان کے پٹ اتنے کھلتے کہ دو سہمی سہمی آنکھیں نظر آتیں پھر جلدی سے پٹ بند ہو جاتے۔ عقل حیران تھی کہ کیسا نگر ہے۔ لوگ ہیں مگر گھروں میں مقید بیٹھے ہیں۔ آخر ایک میدان آیا جہاں دیکھا ایک خلقت ڈیرا ڈالے پڑی ہے۔بچے بھوک سے بلک رہے ہیں بڑوں کے ہونٹوں پر پیڑیاں جمی ہیں۔ماؤں کی چھاتیاں سوکھ چکی ہیں۔شاداب چہرے مرجھا گئے ہیں ۔گوری عورتیں سنولا گئی ہیں۔میں وہاں پہنچا کہ اے لوگوں کچھ تو بتاؤ یہ کیسی بستی اور اس پہ کیا آفت ٹوٹی ہے کہ گھر قید خانے پڑے ہیں اور گلی کوچوں میں خاک اڑرہی ہے۔ جواب ملا کہ اے کم نصیب تو شہر افسوس میں ہے۔‘‘ (ص:۲۵۶)
مذکورہ اقتباس کو پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے ہجرت کے بعد پیش آنے والی پریشانیوں کو افسانہ نگار نے علامتی انداز میں بڑی ہی خوبصورتی سے پیش کیا ہے اور یہ علامتی انداز زیادہ پیچیدہ بھی نہیں کیوں کے جب ہم ہجرت کے بعد در پیش مسائل اور سانحات پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ اقتباس ان تمام چیزوں کی عکاسی کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔ ایسے حالات میں کس طرح سے لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر آئے اور انہیں کس کس طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ماؤں نے اپنے بچے گنوائے عورتوں نے اپنی عزت گنوائی اور پھر امن کی تلاش میں جس جگہ آئے بھی تو کیا حاصل ہوا صرف افسوس یا افسانہ نگار کی زبان میں شہرے افسوس کہہ سکتے ہیں۔اس کہانی میں افسانہ نگار نے ہجرت کے اس المیہ کو جس میں لوگ یہ سوچ کر اپنا گھر چھوڑ کر دوسرے جگہ پناہ لینے کو تیار ہوتے ہیں کہ ہمیں اس جگہ کی پریشانی سے اور صعوبتوں سے نجات ملے گی اور وہ جگہ ہمارے لئے دارالامان ثابت ہوگی۔ لیکن ہجرت کے بعد تمام چیزیں اس کے برعکس نظر آتی ہیں۔ وہ جس جگہ کو چھوڑ کر آئے وہ بھی ان کا نہیں رہتا اور جس جگہ ہجرت کر گئے وہ بھی انہیں قبول نہیں کرتی اس کا بیان افسانے میں کچھ اس طرح ملتا ہے:۔
’’میں نے افسوس کیا اور کہاکہ ائے بزرگ کیا تونے دیکھا کہ جو لوگ اپنی زمین سے بچھڑ جاتے ہیں پھر کوئی زمین انہیں قبول نہیں کرتی ہے۔‘‘
’’میں نے دیکھا اور جانا کہ ہر زمیں ظالم ہے۔‘‘
’’ جو زمین جنم دیتی ہے وہ بھی ؟‘‘
’’ہاں جو زمین جنم دیتی ہے وہ بھی اور جو زمین دار الامان بنتی ہے وہ بھی۔میں نے گیا نام کے نگر میں جنم لیا اور گیا کے اس بھکشو نے یہ جانا کہ دنیا میں دکھ ہی دکھ ہے نروان کسی صورت نہیں ہے اور ہر زمین ظالم ہے۔‘‘
’’ اور آسما
آسمان کے تلے ہر چیز باطل ہے
میں نے تامل کیا اور کہا کہ ـ’’یہ سوچنے کی بات ہے‘‘
’’سوچ بھی باطل ہے‘‘
’’ بزرگ سوچ ہی تو انسانیت کی اصل متاع ہے‘‘
وہ دو ٹوک بولا‘‘ انسانیت بھی باطل ہے‘‘
پھر حق کیا ہے میں زچ ہوکر ہوچھا۔
حق وہ کیا چیز ہوتی ہے؟
حق میں نے پورے زور اور اعتماد کے ساتھ کہا
اور اس نے سادگی سے کہا کے تم جسے حق سمجھتے ہو وہ بھی باطل ہے‘‘ (ص: ۲۵۸،شہر افسوس)
محولہ بالا اقتباسات کی روشنی میں ہم دیکھتے ہیں تو پاتے ہیں کہ تقسیم ملک کے بعد ہونے والے فسادات، اور ان فسادات میں اپنوں کے کھونے کا غم اور ہجرت کی صعوبتوں اور تکلیفوں سے انسان کا داخلی وجود اور روحانی علیحدگی ،اور تنہائی کا احساس اس افسانے میں چھایا نظر آتا ہے ۔
انتظار حسین کا ایک افسانہ ’’وہ جو کھوئے گئے‘‘ ہے جس میں انہوں نے ہجرت کے مسائل اور اس نفسیات کو پیش کیا ہے جس سے تارک وطن دو چار تھے۔ اس افسانے میں واقعات کو استعارہ اور علامت کے ذریعہ سے پیش کیا گیا اور مسلمانوں کی ان کہانیوں پر اس کی بنیاد رکھی ہے جس سے مسلمان پہلے بھی دو چار ہو چکے تھے ۔ اس کہانی میں چار کردار ہیں ایک تھیلے والا باریش آدمی زخمی سر والا اور ایک نوجوان ۔کہانی کچھ اس طرح شروع ہوتی ہے کے زخمی سر والا آدمی درخت سے ٹیک لگا ئے آنکھ کھولتا اور پوچھتا ہے کہ ہم نکل آئے؟ باریش آدمی کہتا ہے ہم نکل آئے خدا کا شکر ہے ہم سلامت نکل آئے ہیں پھر تھیلے والا آدمی بھی تائید کرتا ہے کہ ہم کم سے کم اپنی جان بچا کر تو نکل آئے پھر زخمی سر والا آدمی ایک ایک آدمی کو گنتا ہے جو لوگ ساتھ تھے ان میں سے ایک آدمی کم ہوتا ہے وہ پریشان ہو جاتا ہے کہ ایک آدمی ان میں سے کم کیوں ہے سب باری باری سے گنتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ان میں سے واقعی ایک آدمی کم ہے لیکن پھر یکایک ایک کو خیال آتا ہے کے شائد وہ خود کو گننا بھول گیا۔اس پورے افسانے میں انسان کے وجود کی پہچان کی طرف اشارہ ہے اور اس میںیہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ انسان جب اپنے گھر بار کو تج کر دوسرے جگہ پناہ گزین ہوا تو اس نے اپنی جان تو بچالی لیکن اپنی شناخت کھو بیٹھا جو ان کے لئے ایک بڑا مسئلہ بن گیا۔ اس میں انسان کی گمشدگی جسمانی نہیں ہے بلکہ یہ گمشدگی اس کہ وجود کی ہے۔ اس میں ان چاروں کا ماضی محو ہو چکا ہے اور وہ یہ بھی بھول چکے ہیں کہ وہ لو گ کتنے تھے اور کس کس جگہ سے نکل کر آئے تھے۔ ایک اقتباس دیکھئے:۔(یہ بھی پڑھیں پروفیسر شبیرحسن کے افسانے – شاہ عمران حسن)
’’کیا ہمیں یاد نہیں‘‘ نوجوان نے سوال کیا کہ ہم چلے تھے تب کتنے
تھے‘‘’’ اور کہاں سے چلے تھے‘‘ نوجوان نے ٹکرا لگایا۔ باریش آدمی نے اپنے ذہن پر زور ڈالا۔ پھر بولا مجھے بس اتنا یاد ہے کہ جب میں غرناطہ سے نکلا ہوں۔۔۔۔۔۔ غرناطہ سے ‘‘ ایک دم سے سب چونک پڑے اور باریش آدمی کو تعجب سے دیکھنے لگے۔پھر تھیلے والے نے زور زور سے ہنسنا شروع کر دیا باریش آدمی سب کے چونک پڑنے پر سٹپٹا گیا تھا اب اس ہنسی سے بالکل ہی سٹپٹا گیا۔ وہ ہنسے جا رہا تھا پھر بولا یہ ایسی باتا ہے کہ میں ہانکنے لگوں کہ جب میں جہاں آباد سے نکلا ہوں تو۔۔۔ جہاں آباد سے سب چونک پڑے تھیلے والا خود بھی کہ ابھی تک باریش آدمی پر ہنسے جا رہا تھا سٹپٹا کر چپ ہو گیا۔ تب زخمی سر والا تلخ اور افسردہ ہنسی ہنسا‘‘ میں اکھڑ چکا ہوں اب میرے یہ یا د رکھنے سے کیا فرق پڑتا ہے کہ میں غرناطہ سے نکلا ہوں یا جہاں آباد سے نکلا ہو ںیابیت المقدس اوریا کشمیر سے…کہتے کہتے رکا۔
محولہ بالا اقتباس میں مسلمانوں کی اس تاریخی جلا وطنی بیت المقدس ، کشمیر اور جہاںآباد غرناطہ، کی طرف اشارہ ہے جہاں سے یہ ہجرت کر کے آئے تھے چونکہ انتظار حسین حال کی بازیافت ماضی کے واقعات سے کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ماضی جامد نہیں ایک نامیاتی طاقت ہے‘‘ اس کہانی میں بھی انہوں نے اسی کا سہارا لیا ہے وہ اس سلسلے ایک جگہ لکھتے ہیں:۔
’’ہجرت مسلمان قوم کی تاریخ میں ایک ایسے تجربے کا مرتبہ رکھتی ہے جو بار بار اپنے آپ کو دہراتا ہے اور خارجی اور باطنی دکھ درد کے لمبے عمل کے ساتھ ایک تخلیقی تجربہ بن جاتا ہے۔‘‘
’’ جب اجتماعی زندگی میں کوئی ایسا تجربہ اپنے آپ کو دہراتا ہے جس نے بار بار ظہور کیا ہو اور جو اجتماعی شعور کا حصہ بن چکا ہو تو اس سے پیدا ہونے والے استعارے عہد کے تجربے کے ساتھ ساتھ پرانے زمانوں کے ساتھ بھی رشتہ قائم کر دیا کرتے ہیں‘‘(علامتوں کا زوال،ص:۹۶،۹۴)
اس طرح ہم اس کہانی میں دیکھتے ہیں کہ چاروں کردار جو کہ ہجرت کر کہ سکون اوردارالامان کی تلاش میں اپنی اپنی عذاب والی جگہ سے باہر تو نکل آتے ہیں لیکن یہ اپنی ہی بازیافت نہیں کر پاتے۔انتظار حسین ان چاروں کی بازیابی کو ان علاقوں سے جوڑ دیتے ہیں جو تاریخی اہمیت کاحامل ہیں اور اس کی وضاحت مذکورہ بالا اقتباس میں بھی ملتی ہے کہ کوئی بھی واقعہ جب کسی تاریخی واقعہ کی روشنی میں پیش کرتے ہیں یا اسے کسی تاریخی واقعہ سے جوڑتے ہیں تو اس کی حیثیت کسی ایک جگہ سے نہ ہو کر آفاقی ہو جاتی ہے اس کہانی کے کردار کی حالت سے افسانہ نگار نے بھی وہی کام لیا ہے کہ جن لوگوں نے ہجرت کی اور اچھے مستقبل کی تلاش میں نکلے ان کی حالت بھی مذکورہ افسانہ کے کرداروں کی سی ہوگئی ۔
’’سیڑھیاں ‘‘ انتظار حسین کا ایک ایسا افسانہ ہے جس میں ہجرت کے مسائل کو مذکورہ افسانوں سے کچھ الگ انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ اس میں چار کردار بشیر بھائی، اختر، رضی اور اور سید ہیں۔ یہ چارو ںایک دوسرے کو اپنا اپنا خواب سناتے ہیں اس میں سید ایسا کردار ہے جس کو خواب نہیں آتے ۔ لیکن ہجرت سے پہلے اسے بھی خواب آتے تھے۔اور اسی خواب اور ان خوابوں کے درمیان گفتگو سے انتظار حسین نے مہاجرین کے ان تمام مسائل کو پیش کیا ہے جو ہجرت کرنے والوں کو در پیش تھے۔ ہجرت ایک ایسا عمل ہے جس سے لوگوں کی صرف خارجی حالات ہی نہیں بدلتے بلکہ ان کی داخلی کیفیت بھی مجروح ہوتی ہے اور ایسی ہجرت جو ان کا اپنا فیصلہ بھی نہیں ہوتا وہ تو انہیں ایک nostalgic کیفیت سے دو چار کر دیتا ہے اس پورے افسانے میں میں خواب بھی یاداشت بنکر اور یاداشت خواب بن کر ہمارے سامنے آتا ہے اور اس پورے الم ناک مناظر کو سامنے لاتا ہے جس کا شکار یہ چاروں مہاجرین ہوتے ہیں۔اس کی وضاحت کے لئے: محمد عمر میمن کا مضمون’ حافظے کی بازیافت، زوال اور شخصیت کی موت کا یہ اقتباس دیکھیں:
’’ یہاں دراصل سارا معاملہ ایک خاص الخاص نسبت کا ہے جو’ خواب‘ کو ’یاداشت‘ اور’یاداشت‘ کو ’ خواب ‘سے ہے۔ خواب ہی فی الواقع یا داشت کی بازیافت کا واحد ذریعہ ہے۔ خواب دیکھنے کا خلقی صلاحیت کا فقدان اور اشارہ یا مقدار اًیاد داشت کا گم ہو جانا شخصیت کی موت ہے خواہ یہ عمل انفرادی سطح پر ہو یا اجتماعی سطح پر‘‘
مذکورہ بالا افسانوں کے جائزے کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ انتظار حسین کے افسانے تقسیم ملک،ہجرت، تہذیبی بحران،ثقافتی انتشاراوراخلاقی اقدار کے زوال کا نوحہ ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

