اصناف ِ ادب میں افسانہ کا ایک خاص مقام ہے جو کم وقت میں قاری کو محظوظ کرنے کی بھی صلاحیت رکھتاہے اور اپنا پیغام قاری تک پہنچانے کی بھی ۔ جس افسانے میں قاری کو اپنے اندر محصور کرنے کی قوت ہوتی ہے ،وہ افسانہ اپنا پیغام پہنچانے میں اتنا ہی زیادہ کامیاب ماناجاتا ہے۔مگر پیغام کی ترسیل اس انداز کی ہونی چاہئے کہ وہ افسانہ ہی رہے وہ مضمون کی شکل اختیارنہ کرے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی افسانے کاسب سے بڑا مقصدکم وقت میں قاری کو محظوظ کرکے اپنی بات اور اپنا پیغام پہنچانا ہی تو ہے ۔
جب اِس نوعیت سے میں پروفیسر شبیر حسن کے افسانوں کا مطالعہ کرتا ہوںتو یہ ساری خوبیاں ان کے اندر نظر آتی ہیں۔ ان کے افسانوں میں ہرطرح کی جذبات واحساسات کی ترجمانی ملتی ہے مثلاً نفسیاتی اورجنسی مسائل، درد و کرب ،ماضی کی تلخیاں،غربت، استحصال، حسرت و یاس ، فطرت،فرقہ وارانہ فساد،ماحول ، عشق کی وادی،مرد کی چاہت ،عورت کی مجبوری، کھیت کھیلان،گاؤں کی سادگی، شہر کی تنہائی ،رشتوں سے دوری اور محبت کا احساس وغیرہ سبھی کچھ نظر آتا ہے۔افسانہ نگار پروفیسر شبیر حسن اِن تمام موضوعات پر منفردانداز میں اپنی بات کہنے کا ہنر جانتے ہیں۔
بہار کے ادبی منظرنامے پر پروفیسر شبیر حسن اپنا ایک معتبر وجود رکھتے ہیں۔وہ بیک وقت شاعر بھی ہیں مضمون نگار بھی اور افسانہ نویس بھی ۔ وہ ہندی میں بھی لکھتے ہیں اور اردو میں بھی ان کی تحریریں منظرعام پر آتی رہتی ہیں۔ ان کا مطالعہ وسیع ہے ،اس لیے وہ کسی بھی موضوع پر افسانہ لکھتے وقت اس کا حق ادا کرنا جانتے ہیں۔وہ افسانے اور اس کے کردار سے پورا پوراانصاف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
پروفیسر شبیر حسن کا پیشہ درس و تدریس ہے ۔ وہ سائنس کے شعبہ علم حیاتیات کے استاد ہیں ، اور پوری دل چسپی اور دل جمعی کے ساتھ بچوں کو پڑھاتے ہیں ۔ کالج میں پورا وقت دیتے ہیں ۔ اسی کے ساتھ وہ مختلف سماجی و سیاسی تنظیموں سے بھی جڑے ہوئے بھی ہیں ۔ابتداً وہ کمیونزم سے متاثر ہوئے اور اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اس میں لگایا ۔کمیونزم سے وابستگی نے ان کے اندرتنقید کا مادہ پیدا کیا ۔اور وہ استحصال کے خلاف احتجاج بلند کرنے لگے ،یہ چیزیں ان کی تحریروں میں بھی نمایاں نظر آتی ہے ۔یہی بات کہی جاسکتی ہے کہ وہ ترقی پسند تحریک کی پیداوار ہیں۔
اس تمہیدی گفتگو کے بعد اب پروفیسر شبیرحسن کے افسانوی ادب کے حوالے سے گفتگو کی جاتی ہے ۔”دھوپ کے مسافر “ان کا اوّلین افسانوی مجموعہ ہے جس میں ۷۲ افسانے شامل اشاعت ہیں۔
پہلا افسانہ ”آئینہ“ایک نفسیاتی بھی ہے اور بیانیہ بھی ۔اس میں افسانہ نگارنے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ انسان سماجی رکھ رکھاؤاور اپنا اسٹیٹس بلند کے کرنے کے ذیل میں اپنے رشتہ داروں سے دوری بنائے رکھتاہے اور دوسروں کواپنا۔یہ تحریر درد و کرب میں ڈوبی نظر آتی ہے ۔اسی درد وکرب کو افسانہ نگار یوں بیان کرتا ہے ۔”وہ میرے اپنے بہنوئی تھے ۔ وہ میرا سگابھانجہ تھا۔ میں نے ایک ہی شہر میں رہ کر برسوں سے اس کی صورت بھی نہیں دیکھی تھی۔“(آئینہ ،صفحہ:۲۱)
”آشوب چشم“ ایک نفسیاتی اور معاشرتی کہانی ہے جس میں ایک انسان کی مجبور ی اور کسم پرسی کودکھایاگیا ہے جو کہانی کے راوی سے ملتاہے مگر اس سے اپنی ضرورتوں اور اپنے مسائل کا کبھی تذکرہ نہیں کرتاکیوں کہ وہ ایک خوددار انسان ہے ۔
آدمی کو یہ کوشش توضرور کرنی چاہئے کہ وہ اگر کسی سے مدد نہیں لے سکتاہے نہ لے ،مگر ایسا سوچنا اورکرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے ،آدمی سوچتاکچھ ہے اور معاملہ کچھ اور ہوجاتاہے ۔ حالات اور وقت ہمیشہ یکساں نہیں رہتے ہیں۔ اس کو اس کہانی میں بڑے ہی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں پرویز شہریار کا افسانہ لِو اِ ن ریلیشن سے پرے – ڈاکٹر ارشاد سیانوی )
ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات ایک اہم مسئلہ رہا ہے ۔ یہ بڑا عجیب ہے کہ آزادی کے بعد یہاں ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات مسلسل ہوتے رہے ہیں جس کاسلسلہ آج ایکیسویں صدی میں جاری ہے ۔جب عالمِ انسانیت کی دیگر اقوام دنیا کو نئی نئی سہولیات اور نئے نئے انکاشافات دینے میں مصروف ہیں وہیں ہندوستان میں لوگ ایک انسان دوسرے انسان سے لڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔کسی نہ کسی علاقے میں فرقہ وارانہ فساد ہوجاتے ہیں جو ماحول کومکدر کردیتے ہیں۔اس موضوع پر بے شمار افسانے تحریر کیے گیے ہےں ۔پروفیسر شبیرحسن نے اپنے افسانے ”بدلتے موسم کا رنگ“میں اس کی منظر کشی ہے ۔افسانہ نگار دوسری قوم کے بچے سے ملتا جلتا رہتا ہے ۔ وہ بچہ برابر آتا ہے وہ اس سے پیار کرتا ہے ،اس کو ٹافیاں دیتا ہے ۔بچے کی ماں کی بھی آتی ہے اور افسانہ نگارکی بیوی سے ملتی ہے ۔مگر اچانک فساد برپا ہوجاتے ہیں اور یہ سارے رابطے اور تعلقات ختم ہوجاتے ہیں۔وہ اپنے درد بھرے احساس کو یوں گویا ہوتاہے ”لوگوں کا ایک دوسرے پر اعتماد ختم ہوگیا۔ آپس کی دوریاں بڑھ گئیں۔ ایک دوسرے سے ملنا جلنا کم ہوگیا ۔ چہرے کی مسکراہٹیں شک و شبہ کی آگ میں جل کر خاکستر ہوگئیں۔ (بدلتے موسم کا رنگ، صفحہ: ۱۲ ) “
”بہتی رہے گنگا“ایک عمدہ افسانہ ہے ۔مگر اس افسانہ کی کمزوری یہ ہے کہ اس میں افسانہ پن کم ہے اور پیغام زیادہ ۔ بظاہر کہانی کے ذریعہ افسانہ نگار نے فطرت اور ماحولیات کو بچانے کی بات کی تحریر کی ہے ،مگر ایسالگتا ہے کہ وہ اپنی بات افسانہ کے بجائے مضمون کی شکل میںپیش کررہے ہیں۔کہانی کار کی بیوی گنگامیں ڈوب کر مرگئی تھی۔ ایک بارجب کہانی کار اپنے بچے کو لے کر گنگاکے کنارے بیٹھاہوتا ہے بچے کو بھی اس بات کا غم ہے کہ اس کی ماں یہاں ڈوب کرمرگئی تھی ۔وہ اپنے باپ سے یہ کہتا ہے کہ گنگااگر سوکھ جائے تو لوگوں کو ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک آنے جانے میں سہولت ہوگی ۔سفر آسان ہوجائے گا۔
اس پر کہانی کار کہتاہے ”گنگااس ملک کی زندگی ہے ۔ اس نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے ۔ یہاں کی تہذیبی شناخت بھی ہے اور لاتعداد لوگوں کی خوشیوں کی امین بھی ۔ اس لیے بیٹے اسے بہتے رہنے دو۔“(بہتی رہے گنگا،صفحہ:۶۲)
انسان مختلف مرکبات کامجموعہ ہے ،اس کے اندر بیک وقت بہت ساری کیفیات رونما ہوتی ہیں کبھی وہ خوشی سے شرشار ہوتاہے تو کبھی وہ غم سے نڈھال ہوتا ہے ۔ کبھی وہ دنیا سے اچاٹ ہوجاتاہے تو کبھی دنیا سے بے حدپیار کرنے لگتا ہے ۔کبھی زندگی انسان کے لیے ایک بوجھ نظر آنے لگتی ہے تو کبھی زندگی ہی اس کے لیے سب کچھ ہوتی ہے ۔کبھی انسان خود سے لڑتا ہوادکھائی دیتاہے تو کبھی خود سے محبت کرتا ہوا۔یہ سب انسان کی جبلت میں شامل ہے ،اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان یکسانیت نہیں چاہتا ہے وہ ہمیشہ اپنے اور باہر کی دنیا میں تبدیلی چاہتا ہے ،شاید یہی سبب ہے کہ یہ ہنگامہ حیات جاری ہے ۔
انسانی نفسیات کے اس پہلو پر کچھ لکھنا اور بولنا بہت مشکل کام ہے ۔ تاہم پروفسیر شبیر حسن نے”بازیافت “میںمذکورباتوں کی کامیاب ترجمانی کی ہے ۔ اس افسانہ میں انھوں نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ سماج سے کٹ کر رہنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے ،انسانیت کا سب سے بڑا تقاضایہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنی ذات کے خول میں بندرہے بلکہ وہ سماج کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کرے۔ (یہ بھی پڑھیں شہنازرحمن کا افسانہ”شب تاب“ ایک مطالعہ – ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی )
”دردیوار“بہت دردناک کہانی ہے ۔ٹوٹتے بکھرتے رشتوں کی کامیاب ترجمانی اس میں کی گئی ہے ۔اس کہانی میں اصلاً باپ اور بیٹے کے رشتے کو دکھایاگیا ہے ۔ باپ اور بیٹے کا رشتہ بہت نازک ہوتاہے ۔اس میں ذراسی بات پر” انا“ غالب آجاتی ہے ۔ اسی انا کو اس کہانی میں درشایا ہے ۔ جو کسی بھی قاری کی آنکھ میں آنسو لا دیتاہے ۔کہانی کا یہ جملہ دیکھئے :”میری آزاد طبع کو ابّانے بغاوت پر محمول کیااور کہاکہ تم کو وہی سزاملنی چاہئے جو ایک باغی کو ملتی ہے ۔ انھوںنے مجھے بطور سزار ”نظرانداز“کردینے کا طریقۂ کاراپنایا۔ میرے سکھ دکھ سے خود کو اور اپنے مسائل سے مجھ کو الگ کردیا ۔ باغی ایک بار صلیب پر چڑھایاجاتاہے ۔ایک بار زہر کا پیالہ پیتا ہے ۔ایک بار فصیلوں سے گرایا جاتاہے ۔ لیکن اباّ نے مجھے نظر اندازکرکے ایسی سزادی ہے کہ میںانگنت بار صلیبوں پر چڑھاہوں ۔ اب تک ڈھیر سارے زہر کے پیالے پی چکا ہوں ۔ اگر میں نظرانداز نہ کردیا جاتا تو شاید میر ارنگ و روپ اتنا نہ بگڑتا۔(در ودیوار،صفحہ:۴۳)
”دھوپ کی لکیریں“افسانہ حال اور ماضی کے گرداب میں اُلجھا ہوا ہے ۔ ماضی بدلا نہیں جاسکتا ہے اور حال کو انسان کسی صورت چھوڑ نہیں سکتا ہے ۔اسی کی کامیاب منظرکشی اس افسانہ میں نظرآتی ہے ۔
”دھوپ کے مسافر“افسانوی مجموعہ کا نام بھی ہے اور افسانے کا نام بھی ۔یہ ایک اچھا افسانہ ہے ۔ اس افسانے کا موضوع غربت ہے ۔غریب ہونا ایک سزاسے کم نہیں ہے ۔ کیوں کہ غریب انسان حسرت اور مجبوری کی آگ میں جھلستا ہوا اپنی زندگی کو موت کے کنارے لے جاتاہے ۔اس افسانہ میں ایک غریب بچے ”راجو“کی حسرت بھری تمناؤں کو چکنا چوڑ ہوتے ہوئے دکھایاگیا ہے ۔
”دھند میں جزیرہ“دراصل یک طرفہ عشق پر مبنی ہے مگر اس کااظہار نہ ہونے کے سبب یک طرفہ ہی رہ جاتی ہے ۔ عشق کی خاصیت اور خوبی یہی ہے کہ دوطرفہ ہے مگر یک طرفہ عشق نہ صرف سزا دیتا ہے ۔
”دل کے مقتل میں“ایک اچھا افسانہ ہے جس میں افسانہ نگار نلیما نامی دیہاتی لڑکی پر فریفتہ ہوجاتاہے ،وہ لڑکی بھی اُسے پسند کرنے کے باوجودپردیسی سے اپنی محبت کا اظہار نہ کرپاتی ہے یہاں تک کہ وہ پردیسی واپس شہر لوٹ جاتا ہے ۔ہم جسے چاہتے ہیں وہ مل ہی جائے یہ ضروری تو نہیں ،ایسی بہت ساری چیزیںہیں جو ہم چاہنے کے باجود پانہیں سکتے ۔ محبت تو ایک پاکیزہ رشتہ ہے ،اس میں شرط نہیں ہوتی ہے ۔محبت میں منزل مل ہی جائے یہ بھی ضروری نہیں ہے ۔ اسی ناکام محبت کی کامیاب ترجمانی اس افسانے میں کی گئی ہے ۔
”کانٹا“میں پروفیسرشبیر حسن نے بہت ہی ہنر مندی کے ساتھ گاؤں کی زندگی کواپنا موضوع بنایا ہے ،افسانہ اچھا ہے ۔ مگر افسانہ نگار چاہنے کے باوجود گاؤں اور گاؤں والوں کے کچھ نہیں کرپاتاہے کیوں کہ اس کی زندگی کے اپنے مسائل اس قدر پریشان کرتے ہیں وہ سوچتا رہ جاتاہے، دیکھتا رہ جاتاہے ۔(یہ بھی پڑھیں ماورائے ازدواج رفاقتوں کا بیانیہ (پرویز شہریار کے دو افسانوں کے حوالے سے) – حقانی القاسمی )
طوائف بھی ہمارے معاشرے کا ایک حصہ ہیں ،ان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ طوائف کی دردناک زندگی کو متعدد افسانہ نگاروں نے اپنے اپنے انداز میں پیش کیا ہے ۔ ”خواب“میں پروفیسر شبیرحسن نے بھی سماج کی اسی زندگی کی طرف روشنی ڈالی ہے ۔اور بڑے ہی خوبصورتی کے ساتھ ”رام کلی“کے استعارے میں ایک طوائف کی زندگی کی کہانی بیان کی ہے ۔
”موت کی چھلانگ“ایک سیدھی سادی بچوں کے لیے تحریر کی گئی کہانی ہے جس میں بچے کو یہ پتہ نہیں ہوتا ہے کہ اس کا باپ کیا کام کرتا ہے اورپھر اتفاقی طورپر اس کو یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کا باپ جو کام کرتا ہے وہ دراصل موت کی چھلانگ کا کام ہے جب وہ اپنے جسم کے اوپر آگ لگاکر پانی کے کواں میں کودتاہے ۔وہ اپنے باپ کو پہچان لیتاہے مگرشور میں اس کی آواز دب جاتی ہے ۔
پروفیسر شبیر حسن کو ماضی سے بہت پیار ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ماضی کے گرداب میں اُلجھے ہوئے ہیں۔ان کی کئی کہانیاں اس کی عکاسی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں جن میں ایک اہم کہانی ”ماضی کے گھر کادروازہ کس طرح کھولوں ؟“ہے ۔ جس میں خود کلامی کے انداز میں افسانہ نگار اپنے ماضی کی بھولی بسری یادوں کو بیان کرتاہے۔وہ اپنے ماضی کی طرف لوٹنا چاہتاہے ،اپنی گزری ہوئی یادوں میںلوٹنا چاہتاہے مگر ایسا اس کے لیے ممکن نہیں ہوپاتا ہے ۔
”میرے اندر کا صحرا“افسانہ نگار کی فطرت سے محبت کو درشاتاہے ۔ افسانہ نگارسرسبز مناظر کو پسند کرتا ہے ۔حتیٰ کہ مناظر فطرت سے لطف اندوز ہونے کے لیے شہرکی گلیوں کے بجائے کھیت کا راستہ اختیار راستہ اختیار کرتا ہے ۔مگر بڑھتی آبادی اور گھٹتے کھیت کھلیان افسانہ نگارکی دُنیاسے مناظر فطرت چھین لیتے ہیں اور کھیت کھیلیان اورپیڑ پودھے پر فلک بوس عمارتیں بن جاتی ہیں اور افسانہ نگار کچھ نہیں کرپاتاہے ۔وہ دردبھرے اندازمیں کلام کرتاہے :میرے قدم غیر شعور ی طورپر اس پرانے راستے کی طرف اُٹھ جاتے ہیں جہا ں آج ہریالی کے مقبروں پر جابر عمارتیں کھڑی ہیں۔(میرے اندر کا صحرا،صفحہ:۵۸)
یہ کہانی مناظر فطرت سے جہاں محبت کی کہانی بیان کرتی ہے وہیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جدید ترقیات اور خوبصورت عمارتوں کی تعمیر کس کی بنیاد پر بنی ۔ہم نے فطرت سے انحراف کرکے نہ صرف عمارتیں بناڈالی بلکہ اپنے لیے کثافت سے پاک آکسیجن کی درآمد بھی بند کردی۔ (یہ بھی پڑھیں فن افسانہ نگاری … چند اہم باتیں – ڈاکٹر اقبال حسن آزاد)
افسانہ ”مجادلہ“ایک خوبصورت کہانی ہے ۔ جس میں حالات سے سمجھوتہ کرنے پر افسانہ نگار کو پچھتاوا کرتے ہوئے دکھایاگیا ہے ۔افسانہ نگار ماضی میں کئے گئے اپنے ایک فیصلے پر پچھتاتاہے لیکن جس کے خلاف اس نے کام کیا تھا وہی اس کو اس کےے پر کچھ نہیں کہتاہے ۔ وہ اس سے ناراض بھی نہیں ہے ۔اس سے افسانہ نگار کو مزید تکلیف ہوتی ہے ۔
”نزع کے عالم میں“افسانہ بھی فساد سے متاثرہ افسانہ ہوتاہے جہاں کہانی کا کردار فساد کی وجہ سے اپنے بچی شگفتہ کی یوم پیدائش کی تقریب بھی نہیں مناپاتا ۔ شہر میں فساد برپا ہوجاتاہے ۔ وہ گھرلوٹ جاتاہے ۔اس کی بچی بھی سمجھ جاتی ہے اور کہتی ہے پاپا! ہم لوگ آپ کے لیے پریشان ہوگئے تھے۔(نزاع کے عالم میں،صفحہ:۵۹)
ان کی آنکھوں میں اب یوم پیدائش کی تقریب کاعکس دور دور تک نظر نہیں آرہاہے بلکہ خوف و ہراس کی پرچھائیاں صاف دکھائی پڑرہی ہیں۔(نزاع کے عالم میں،صفحہ:۵۹)
پروفیسر شبیر حسن کی کہانی ”پذیرائی“کھیلاڑیوں سے حکومت اور سماج کی عدم دلچسپی دکھاتی ہے ۔ایک شخص ملک وقوم کانام روشن کرنے کے لیے اپنا سب کچھ لگادیتا ہے مگر اس کو مالی اعتبارسے کیا ملتاہے ۔چند مخصوص کھلاڑیوں اپنی حیثیت بنا لیتے ہیں اور بیقہ کسم پرسی میں اپنی زندگی کی گاڑی ختم کردیتے ہیں ۔ بہت خوبصورتی کے ساتھ افسانہ نگارحکومت کی عدم توجہی کو اپنی کہانی میں بیان کیا ہے ۔یہ صورت ِ حال نہ صرف پہلے تھی بلکہ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑرہا ہے کہ آج بھی یہی صورت ِ حال ہے ۔
”روح کا زخم“ماضی کے گرداب میں اُلجھے ہوئے انسان کی کہانی ہے جس کا بچہ شہر کے دہشت گردوں کے ہاتھوں بچپن میں ہی فوت ہوجاتاہے ۔اس وجہ سے وہ انسان اس شہر کو ہی ہمیشہ کے لیے چھوڑدیتاہے ۔ جب بھی وہ اس شہر کی طرف کا رخ کرتاہے اس کا معصوم بچہ نظرآتاہے اور وہ بے تاب و بے قرار ہوجاتاہے ۔
پروفیسر شبیر حسن کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ بہت اچھوتے موضوع پر قلم اُٹھاتے ہیں اور اس کا پورا حق ادا کرتے ہیں۔پیڑپودھے کو عام طورپر افسانہ نگار بہت کم اپنے بیانیہ کا موضوع بناتے ہیں لیکن افسانہ نگارپروفیسر شبیر حسن اس موضوع پر بہت شاندار طریقے سے اپنی بات کہنا جانتے ہیں۔ افسانہ ”سرسبز“اسی احساس کی عکاسی ہے ۔ ایک ”مالی “اپنی اولاد کی طرح اپنے باغیچے کو پیار کرتا ہے ۔ یہ اس افسانہ کا معراج ہے ۔ اگرچہ یہ ایک استعاراتی کہانی ہے مگروہ پیڑپودھے سے پیار محبت کی دعوت دیتے ہیں کیوں کہ انسانی زندگی کی بقاءکے لیے پیڑپودھے بھی اسی طرح ضروری ہیں جس طرح خود انسانی زندگی ۔
افسانہ ”سوزدروں“ایک غریب بچے کی کہانی ہے ۔غربت انسان سے نہ صرف امید چھین لیتی ہے بلکہ زندہ رہنے کا حوصلہ اورجینے کی امنگ بھی ختم کردیتی ہے ۔افسانہ نگارکی زبان میں:”مذہب ہویاسیاست ،فلسفہ ہو یاادب وثقافت سب بھوک کے سامنے بے بس ہیں۔ بھوگ کی آگ ٹھنڈی ہوتی ہے فقط ایک شے سے اور وہ ”روٹی“ہے ۔(سوزدروں،صفحہ:۱۲۱)
پروفیسر شبیر حسن کا تحریر کردہ افسانہ ”سلگتاکرب“پریم چند کے افسانہ”سواسیرگیہوں“کی یاد دلاتاہے ۔ اس افسانہ کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قاری پریم چند کاکوئی افسانہ پڑھ رہا ہے ۔ اس عظیم افسانہ نگارکا عکس اس تحریرمیں نمایاں طورپر نظرآتاہے ۔
”تسلسل“ایک مجاہد ِ آزادی ہند ”احسن بابو“ کی کہانی ہے ،جو اپنی جوانی کاایام ملک کی آزادی کے لیے جیل میں گزار دیتا ہے ۔جیل کی تنگ و تاریک دنیا میں اسی کی بیوی عابدہ خط کے ذریعہ اس کا حوصلہ بڑھاتی ہے ۔ عابدہ جو اس کی بیوی ہے ، اس کو اس بات سے سکون ملتا ہے کہ اس کا شوہر انگریزوں سے لڑتاہواجیل گیا ہے اور یہ فخر کی بات ہے ۔
ملک آزادہوتا ہے احسن بابو کو بھی رہائی مل جاتی ہے مگر اس کی اپنی خود کی دنیا ختم ہوچکی ہوتی ہے ۔اسے خود کچھ نہیں مل پاتا ہے ۔اب اس کو کام کرنے کو کچھ نہیں رہتا ہے ۔اب وہ بچوں کو پڑھانا شروع کردیتاہے تاکہ ان بچوں کا مستقبل تابناک ہوجائے ۔مگر اس افسانے کی کمی یہ ہے کہ اس میں اصلاح کا پہلو نمایاں ہے ۔
”ٹوٹی ہوئی شاخ“ایک اچھی کہانی ہے ۔یہ ایک نفسیاتی کہانی ہے ۔جس میں کہانی کا راوی حال وماضی میں اُلجھتاہوانظر آتاہے ۔ وہ نہ صرف اپنے لوگوں سے دور ہے بلکہ اپنے مذہب سے بھی دور نظرآتاہے ۔ جب برسوں بعد وہ اپنے گاؤں ایک شادی کی تقریب میں جاتاہے تو مسجد جاتاہے۔کہانی کاروای کہتاہے:”اس نے پندرہ بیس برس سے گاؤں کی مسجد کو نہ دیکھا تھا حالاں کہ خواب میں وہ مسجد کئی بار اس کی آنکھوں میں آئی تھی ۔وہاں بچپن کے دنوں میں وہ اکثر نمازپڑھاکرتاتھا۔ اور مدتوں گھرنہ آنے کے سبب وہ اب مسجد کے لیے بالکل اجبنی بن گیاتھا۔آج اس نے مسجد کے تمام گوشوں کو گھوم گھوم کردیکھا۔ اس میں ذرابھی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ وہی پرانی عمارت، وہی پرانے نقوش ۔ فرش پر ایک کونے میںوہی بڑاسادھبہ ،امام صاحب کی محراب کے طاق پر وہی چراغ کے دھوئیںکے نشانات اور چراغ سے ٹپکے ہوئے تیل کے داغ ۔ (ٹوٹی ہوئی شاخ،صفحہ:۲۴۱)“
مسجد کے استعارے میں گاؤں میں ٹھہری ہوئی ترقی کو دکھایا گیاہے ۔آزادی کے بعد گاؤں میں ترقی نہیں ہوئی ہے ،آج بھی ہماراگاؤں اسی سطح پر جی رہاہے جس طرح پر ۰۵ سال قبل تھا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ ترقیاں ہوئی ہیں مگر جس طرح پر ترقی ہونی چاہئے اس طرح ترقیاتی سرگرمیاں گاؤں میں جاری نہیں ہوسکی ہے ۔
رشتے سے بے خبری بھی نبھاؤکی ایک شکل ہے مگر یہ بے خبری دور ی میں تبدیل نہیں ہونی چاہئے ۔کہانی کا راوی اس کو خوبصورتی سے بیان کرتاہے ۔اسے اپنے رشتے داروں سے اور جاننے والوں سے بچھڑنے کااحساس ہے ۔ہم اپنی جھوٹی انا کی دیوار کے سہارے اپنا محل تعمیر کرنا چاہتے ہیں مگر رشے ناتے سے دور رہ کر جب ہم یہ کام کرتے ہیں یہ ہمیں جینے نہیں دیتی ہیںکیوں کہ اپنے پھر بھی اپنے ہوتے ہیں۔
کہانی کا روای اپنے اس احساس کو یوں بیان کرتاہے :”برسوں کی کھوئی ہوئی ملاقاتوں کے بعد جدائی کا کچھ مبہم مرحلہ تھا۔ گھر سے روانہ ہوتے وقت بھائی ،بہنوں ،ان کے بچوں ،دیگر رشے داروں اور پڑوسیوں نے اسے محبت بھری الوداع کہی ۔ وہ اپنے آنسوؤں کو نہ روک سکا۔ سب لوگ اُسے چاہتے ہیں۔ پھر بھی اس کا دل کسی احساس زیاں سے آلودہ ہے کہ وہ خاندان کی شاخ سے ٹوٹا ہوا ایک پتہ ہے ۔ مدتیں ہوئیں اس نے شاخ سے جدازمین پر پڑے ہوئے ایک پتے کو اُٹھاکر اپنی زندگی کی شاخ سے جوڑ لیاتھا۔(ٹوٹی ہوئی شاخ، صفحہ:۴۴۱)
”وہ گلی“غریب انسانوں کے محلے بالفاظ دیگر جھگی جھوپڑی میں رہنے والوں کی زندگی کی منظر کشی کی گئی ہے ۔جہاں لوگ لڑتے جھگڑتے بھی ہیں اور مل جل کر بھی رہتے ہیں ۔ جہاں کی لڑائیاں وقتی ہوتی ہیں ۔وہ لوگ بڑے گھروں میں رہنے والوں کی طرح لڑائی جھگڑے کو اپنی انا کامسئلہ نہیں بناتے ہیں۔ وہ بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں جس سے ہم صرف ِ نظر نہیں کرسکتے ۔ (یہ بھی پڑھیں اردو کی ادیبائیں : منظر پس منظر -ترنم ریاض )
”زہر“نامی افسانہ اس انسان کی کہانی پر مبنی ہے جو جنسی بے راہ روی کا شکارہے ۔شادی کے بعد بھی اپنی فطری جبلتوں کو پورا کرنے کا ناجائز رشتے کا سہارا لیتا تھا اور شادی کے بعد بھی وہ اپنی بیوی کے ساتھ وفا نہ کرسکا اور مسلسل ناجائزرشتے بناتارہا ۔یہاںتک کہ اس کو ایچ آئی وی پازیٹو ہوگیا جب وہ اپنی بیوی سلمیٰ سے کہتاہے تو وہ اس کی رپورٹ دیکھتی ہوئی کہتی ہے :آپ کی جو روش تھی ۔اس کا انجام تو کچھ ہونا ہی تھا۔(زہر ،صفحہ:۵۵۱)
انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو ارادے کے ساتھ اپنی نفسانی خواہش کوپورا کرنا جانتاہے ۔ وہ جانور کی سی زندگی نہیں گزارتاہے کہ جس کے ساتھ چاہا جنسی رشتہ قائم کرلیا بلکہ وہ اس کے لیے ہمیشہ جائز طریقہ ارادہ کے ساتھ اپناتاہے ۔ہاں کبھی کبھی انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتاہے ناجائز رشتے بھی بناتاہے یابنانے کی کوشش کرتاہے مگر فطرت اس سے فوراً بدلہ لے لیتی ہے ۔اس قسم کے تعلقات کے نتیجہ میں وہ مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتاہے اس کی زندگی اجیرین بن جاتی ہے ۔ ایک انسان کے نقصان سے نہ صرف ایک انسان کا نقصان ہوتاہے بلکہ اس سے جڑے ہوئے بہت سارے انسانو ںکی زندگیاں بھی تباہی کی زد میں آجاتی ہیں۔
”زرد ماہتاب“افسانوی مجموعہ کی آخری کہانی ہے ۔ یہ دراصل دو بھائیوں کی کہانی ہے ۔ بڑابھائی اپنے چھوٹے بھائی کی خوشیوں اورپڑھائی کے تئیں اس کے لگن و جذبات کو دیکھ کر خوش ہوتاہے ۔تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی اسے روزگارنہیں ملتاہے توکہانی کے راوی کا بھائی اداس ہوجاتاہے ۔وہ خود کلامی کے اندازمیں کہتاہے :”ایک تو مواقع کم ہیں۔ بعد میں معلوم ہوتاہے کہ سفارش اور رشوتوں کی قتل گاہوں میں مستحقین کے حقوق کو قربان کردیاگیاہے۔ بھائی مایوس ہوجاتاہے۔“
یہ آج کے ہراس شخص کی کہانی ہے جس کے پاس کوئی سفارش نہیں ہے ۔جو لائق اور مستحق ہونے کے باوجود اس لیے پیچھے رہ جاتاہے کہ اس نے کوئی لمبی چوڑی پیروی نہیں کروائی تھی ۔
پروفیسر شبیر حسن کے افسانوں کا جائزہ لینے پر قاری کو مختلف احساسات سے گزرنا پڑتاہے۔ کبھی وہ آنسوبہاتا ہے تو کبھی اس کے دل میں کچھ کرگزرنے کا جذبہ پیدا ہوتاہے ۔کبھی اس کو معاشرے اور حکومت پرغصہ آتاہے توکبھی وہ احتجاج بلند کرنا بھی اپنا فرض عین سمجھ لیتاہے ۔ غرض کہ قارئین کے لیے پروفسیر شبیر حسن کے افسانے میں بہت سامواد ہے ۔ وہ قارئین کو مختلف زاویے اور پیرائے میں کچھ نہ کچھ پیغام دے جاتے ہیں ۔یہ ان کے افسانے کا خاص موضوع ہے ۔
پروفیسر شبیر حسن کی زبان بھی عمدہ ہے ۔وہ اعلیٰ ادبی اندازمیں اپنی بات کہتے ہیں بلکہ نئے جملے کے ذریعہ قارئین کو محظوظ کرتے جاتے ہیں۔آخرمیں یہ بات کہی جاسکتی ہے پروفیسر شبیرحسن کا افسانوی مجموعہ ”دھوپ کے مسافر“ایک عمدہ مجموعہ ہے ،جس میں اردو ادب کے طالب ِ علم کے اچھا خاصاسوچنے سمجھنے کا مواد موجودہے ۔
کتاب کا تعارف:نامِ کتاب :دھوپ کے مسافر، مصنف: پروفیسر شبیر حسن ، صفحات:160، قیمت:250، سالِ اشاعت:2012، ناشر:سنچوری پبلیکشنز،معرفت شہزاد، چھوٹی مسجد کے سامنے ،نزدمدرسہ حسینہ ،پرساد لین ،گھسیاری گلی ،پٹنہ سیٹی ،پٹنہ :8000008(بہار)
شاہ عمران حسن
نئی دہلی
مضمون نگار، پتہ:C-120،کشوری اپارٹمنٹ،
سکنڈ فلور، فرنٹ سائڈ، شاہین باغ ،نزد طیب مسجد ،
جامعہ نگر، اوکھلا،نئی دہلی 110025-،
موبائل نمبر: +91-9810862382 ،
E-mail:sihasan83@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

