اردوافسانہ نگاری کے میدان میں اردو افسانہ کا ایک اہم نام پرویزم شہریار ہے۔حالانکہ انھوں نے افسانے کے ساتھ ساتھ شاعری میں بھی اپنی پہچان بنائی ہے۔ان کی کسی بھی تخلیق میں ذہنی طاقت اور فنی صلاحیت صاف نظرآتی ہے۔ان کی تخلیقات میں دیانت داری، اصلاح معاشرہ اور تخلیقی عمل کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔ان کی پیدائش اور ابتدائی تعلیم صنعتی شہر جمشید پور میں ہوئی۔جمشید پورمیں انھوں نے جو سیکھا، دیکھا اورمحسوس کیا ، وہ ان کے بہت کام آیا۔ اسی لیے کبھی ان کے افسانوں میں پریم چند کے دیہی پس منظر کا احساس ہوتا ہے تو کبھی راجندر سنگھ بیدی کی افسانوی فضا دکھائی دیتی ہے۔ (افسانہ لِو اِن ریلیشن سے پرے – ڈاکٹر پرویز شہریار )
پرویز شہر یار کانام 1980کی دہائی میں ابھر کر آیا۔انھوں نے اپنے افسانوی سفر کا آغاز جمشید پورسے کیا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے دہلی آگئے۔ اور ایسے ا ٓئے کہ یہیں پرسکونت اختیار کرلی ۔اردو افسانوں کو نئی سمت عطاکرنے میں خورشید حیات ، اشتیاق سعید، شائستہ فاخری، ڈاکٹر اسلم جمشید پوری، قاسم خورشید، شاہد اختر، سلمیٰ صنم، سیمیں کرن، وغیرہ کے ساتھ پرویز شہر یار کا بہت اہم تعاون رہا ہے۔پرویز شہر یار نے اردو افسانے کو دو خوبصورت افسانوی مجموعے عطاکیے ہیں۔ان کے بہت سے افسانے ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ بیرونی ممالک کے ادبی رسائل وجرائد میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں جن کی بدولت وہ اپنی منفرد پہچان بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کے افسانے اپنے موضوع اور جدید تکنیک ونئے وِژن کے اعتبار سے انفرادیت رکھتے ہیں۔ان کی کہانیوں میں انسانی زندگی کے پیچیدہ مسائل، کھردری سچائی اور کہانی پن کے خوبصورت عناصر نظر آتے ہیں۔ وہ اچھے افسانہ نگار ہیں۔انھوں نے افسانہ نگاری کا آغاز 1980سے کیا،ان کا پہلا افسانہ’ ’ چمبل کی دسویں رانی‘‘ کے نام سے پٹنہ کے مشہور ہفتہ وار ’’پندار‘‘ کے ادبی ایڈیشن میں شائع ہوا تھا۔وہ جدیدیت کا دور تھا اور اس کا اثر پرویز شہر یار کے افسانوں میں دکھائی دیتا ہے۔ابتدائی افسانوں میں سایہ سایہ جنگل،کام ہی روشنی ہے، نئی روشنی کا آخری ڈرامہ، شیطان وغیرہ ان کے اہم افسانے شمار کئے جاتے ہیں۔پریم چند کی کہانی ’ عیدگاہ‘ نے ان کے دل کو جیت لیا اور ان کو ایک اچھا افسانہ نگار بننے کے لیے تیار کیا اور اس طرح تیار کیا کہ درجہ دہم تک آتے آتے وہ ایک کامیاب افسانہ نگار بن گئے۔پرویز شہریار کا شمار نئی نسل کے ان افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جن میں فکر و فن کا بہترین تناسب دکھائی دیتا ہے۔ان کے اولین افسانوں میں علامتی اور تجریدی طرز کے افسانے ملتے ہیں لیکن بعد میں تخیلات اور بھول بھلیوں کی دنیا سے نکل کر انھوں نے حقیقت نگاری کی جانب قدم بڑھایا۔ان کی کہانیوں میں زندگی کی تلخ حقیقت دکھائی دیتی ہے۔پرویز شہر یار کے فکر وفن کے تعلق سے ڈاکٹر افسر کاظمی کہتے ہیں:
’’ شہر یار کا شمار ان تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنی زندگی کی شروعات جمشید پور سے کی۔وجہ یہ ہے کہ وہ جمشید پوری میں پیدا ہوئے۔یہیں تعلیم حاصل کی۔ان کا پہلا افسانہ ’ چمبل کی دسویں رانی‘ پندار ہفتہ وار پٹنہ میں 1980میں شائع ہوا۔ اعلیٰ تعلیم کی غرض سے دہلی میں سکونت اختیار کی اور پورے طور سے اب وہ دہلی کے ہوکر رہ گئے۔اس کے باوجود ان کو اس بات پر فخر ہے کہ ان کا تعلق جمشید پورسے ہے۔جدیدیت کے رجحان سے جب ایک بڑا طبقہ متاثر تھا،پرویز شہر یار کی ذہن سازی کا عہد بھی وہی ہے۔ منظرکاظمی کے بعد جمشید پورمیں جدیدیت کی نمائندگی کرنے والے وہ اہم افسانہ نگار ہیں۔ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ جب ابہام، علامتوں سے ہٹ کر بیانیہ طرز تخاطب اختیار ہوا تو پرویز شہریار نے بھی اس خوشگوار تبدیلی کو اپنا یا۔
(سہ ماہی ادبی جریدہ ُ’ابجد‘‘، ڈاکٹر افسر کاظمی، ص 17، اسلام نگر ، ارریہ ، بہار،انڈیا۔2016-17)
پرویز شہر یار کا پہلا افسانوی مجموعہ’ بڑے شہر کا خواب‘ 2006 میں شائع ہوا ،جس میں 23افسانے شامل ہیں۔اس مجموعے کو دہلی اردو اکادمی نے مالی تعاون سے بھی نوازا۔جب یہ مجموعہ منظر عام پر آیا تو کافی پسند کیا گیا۔ ان کے تقریباً سبھی افسانوں کا اسلوب خوبصورت اور دلکش ہے۔ افسانوں کے کردار بھی عام انسان ہی ہیں جو عام لوگوں کے معاشرتی مسائل میں ڈوبے رہتے ہیں۔نئی نسل کے افسانہ نگاروں نے جو افسانوی اسلوب اور جدید لہجہ اختیار کیا۔اسی جدیدذہن اور نئی تکنیک کو پرویز شہر یارنے آگے بڑھایا اور اپنے افسانوں میں استعمال کیا۔ (یہ بھی پڑھیں یہ تنگ زمین- ترنم ریاض )
ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ’’شجر ممنوعہ کی چاہ میں‘‘ 2014میں منظرعام پر آیا ۔ اس مجموعے کے ا ولین تین افسانے جنسی کیفیت سے متاثرہیں۔کبھی کبھی جنسی تاثرات والے افسانوں میں فحاشی کا الزام کا ڈر بنا رہتاہے،لیکن پرویز شہریار کا شعور فن دیکھئے کہ وہ کس ہنرمندی سے اپنے ا فسانوں میں جنسی پہلو کو شامل کرتے ہیں اور فحاشی کے الزام سے بھی بچ جاتے ہے۔ افسانہ نگار عصری سماج کی حقیقتوں کو اپنے افسانوں میں فن کاری کے ساتھ پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ’شجر ممنوعہ کی چاہ میں‘ کل بارہ افسانے ہیں، جن کے عنوانات اس طرح ہیں:شجر ممنوعہ کی چاہ میں ،لِو اِن ریلیشن سے پرے، سہاگ کا خون، ہم وحشی ہیں، رشتوں کی بے اعتنائی ، دس سروںوالا بجوکا، سلوا جڈوم کہاںجائیں، کتنا دلکش ہے یہ فریب محبت، شادی کے سات سال بعد، بتولن کیسے ڈائن بن گئی ، سونیا بوٹیک اورشہر نوشیرواں کا ایک یادگار محرّم۔
افسانہ نگار کی کہانی میں بدلتے اقدار ، فرقہ پرستی کے عناصر، انسانی تہذیب وتمدن کی پستی، جنسی مسائل، مفاد پرستی ، ازدواجی زندگی کے مسائل وغیرہ موضوعات پھیلے ہوئے ہیں۔افسانوں کے قارئین بھی شہر یار کے افسانوں کی بنیادی قدروں سے بخوبی واقف ہیں۔ان بارہ افسانوں میں بھی دس سروںوالا بجوکا ، لِو اِن ریلیشن سے پرے، شجر ممنوعہ کی چاہ میں، شادی کے سات سال بعد قابل ذکر افسانے ہیں ۔ان افسانوں میں ’لِو اِن ریلیشن سے پرے‘ جنسی جذبوں سے لبریز ایک عمدہ افسانہ ہے ،جو صرف عورت مردکے جذبۂ محبت کی ترجمانی ہی نہیں کرتا بلکہ انسانی مجبوریاں اور جذبات کی ساخت میں معاون ثابت ہوتا ہے۔اس کہانی کی مرکزی کردار پدمجا ایک عیسائی لڑکی ہے، جو اپنی جوانی کی دہلیز کو پار چکی ہے۔اسے ایک ایسے جوان مرد کی مضبوط بانہوں کی ضرورت ہے جو اس کی ہر طرح سے حفاظت اور خواہشات کو پورا کرسکے۔کسی بھی انسان کی مجبوری انسان کو نہ جانے کیا کیا کرنے پرمجبور کردیتی ہے۔ پرویز شہر یارکے اس افسانے میں اپنا ایک مخصوص اسلوب ہے جس سے ان کی زبان میں منفرد لہجہ اور کیفیت کا احساس ہوتا ہے۔افسانہ کی کردار پدمجاؔ ایک ایسی خود کفیل عورت ہے جس کے اندر اپنے فیصلے خود لینے کی صلاحیت موجودہے مگر دولت اورمحبت کے درمیان وہ فیصلہ کرنے میں قاصر ہے کہ کس کو زیادہ ترجیح دی جائے۔افسانہ نگار کا نیا ذہن ، نئی کیفیت ، نئی تکنیک اور نیا اسلوب ہے۔ نئی کاوشوں کے ساتھ ساتھ نئے موضوعات ہیں۔افسانہ نگارکی نئی سوچ اور نئے ذہن کی ہی دین ہے کہ آخر میں پدمجا اپنے ساتھی شمبھو سنگھ کے ساتھ زندگی بسر کرنے کو ترجیح دیتی ہے اور امریکہ جانے کا ارادہ بد ل دیتی ہے۔ڈاکٹر ہمایوں اشرف کا یہ اقتباس دیکھئے:
’’لِو اِن ریلیشن سے پرے‘، ایک دلچسپ کہانی ہے جو محض عورت اور مرد کے فطری جذبۂ محبت کی ترجمانی نہیں کرتی بلکہ اس بات کا اشارہ بھی کرتی ہے کہ حالات اور مجبوریاں بھی انسان کے جذبات واحساسات کو تشکیل دینے میں معاون ہوتے ہیں۔۔۔۔یہ صورت حال دھیرے دھیرے دونوں میں ایک دوسرے سے تمام تر عدم مماثلت کے باوجود محبت کے جذبات پیدا کردیتی ہے۔ یہاں تک کہ پدمجا جو اپنے کیرئیر کو بہتر شکل دینے کے لیے ایک دن امریکہ کا ویزا حاصل کرلیتی ہے۔شمبھو ناتھ کے دل میں اپنے لیے بے پناہ پیار کو محسوس کرکے امریکہ جانے کاارادہ ترک کردیتی ہے۔‘‘ (سہ ماہی ادبی جریدہ ’’ابجد‘‘، ڈاکٹر ہمایوں اشرف، ص 40، 2016-17)
پرویز شہر یار کا افسانہ ’لوان ریلیشن سے پرے، ‘ایک عمدہ کہانی ہے جو ریلیشن شپ کے اردگرد گھومتی ہے۔اس کہانی میں دو کردار شمبھوناتھ سنگھ اور پدمجا جو سیف ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔شکل وصورت میں بھی مختلف ہیں۔دونوں کے مذہبی خیالات میں بھی فرق ہے مگر دونوں ایک ہی اسپتال میں نوکری کرتے ہیں اور ایک مکان کی چھت کے نیچے رہتے ہیں۔بھوکے رہتے ہیں ، روپے پیسے بچاتے ہیں۔ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی سے پیش آتے ہیں۔بھوک چاہے تن کی ہو یا من کی ، پیٹ کی ہو یا خواہشات کی۔ بھوک میں انسان وہ سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے جو اسے نہیں کرنا چاہئے ۔شمبھوناتھ اور پدمجا کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔ دونوں کی ایک دوسرے سے ہمدردی دونوں کو ایک دوسرے کے اتنے قریب کردیتی ہے کہ دونوں ایک کمرے میں ایک بسترمیں ایک دوسرے کی خود ساختہ سرحدوں میں مداخلت کرنے لگتے ہیں۔کہانی ’لِو ان ریلیشن سے پرے‘ کا یہ اقتباس دیکھئے:
’’بھوک کی جبلت نے ان دونوں کو ایک کروڑ بیس لاکھ کی گنجان آبادی والے بڑے شہر میں ایک چھت کے نیچے ایک ہی کمرے کے اندر بلکہ ایک ہی بستر پر سونے کے لیے مجبور کردیا تھا۔کہتے ہیں کہ بھوک چاہے ناف کے اوپر کی ہویا ناف کے نیچے کی ۔۔۔۔۔بھوک تو بھوک ہوتی ہے، جب لگتی ہے تو آدمی باغی ہوجاتا ہے۔تہذیب وثقافت کا سوال تو بہت بعد میں آتاہے۔آگ چاہے پیٹ کی ہو یا جسم کی سب سے پہلے اسے بجھانا ضروری ہوجاتا ہے۔‘‘
(افسانوی مجموعہ ’شجر ممنوع کی چاہ میں، ص 14، پرویز شہریار،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی2014)
’لِواِن ریلیشن سے پرے‘ کی مرکزی کردار پدمجا جو نوکری کرکے اپنی ضروریات اور روپے پیسے کی تنگی کو دور کرنا چاہتی تھی، اسے امریکہ سے نوکری کا آفر ملتا ہے اور ویزا بھی آجاتاہے۔ وہ خوش بھی ہوجاتی ہے ۔لیکن شمبھو سنگھ کی ہمدردی اور محبت کے سامنے ہتھیار ڈال دیتی ہے اور شمبھو سنگھ کے د ل میں اپنے لیے بے پناہ محبت کو محسوس کرنے لگتی ہے۔یہاں تک کہ امریکہ سے ملنے والا ویزا پھینک دیتی ہے اور دونوں ایک دوسرے کی ازدواجی زندگی کی مانند رشتے میں اس قدر قید ہوجاتے ہیں کہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رشتۂ پیار اور رسمِ وفا نباہنے لگتے ہیں۔ اس افسانے میں دہلی جیسے بڑے شہر میں رہنے والوں کے مسائل وسیع پیمانے پر ملتے ہیں۔لوگ روزی روٹی کی تلاش میں شہروں کی جانب ہجرت کررہے ہیں۔بے روزگار لوگوں کی بھیڑ میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔پرویز شہر یار نے غریبی ا وربے روزگار لوگوں کے مسائل کی خوبصورت تصویر کشی کی ہے۔لوگ ترکِ وطن کرکے معاش کی تلاش میں رات دن دوڑ رہے ہیں۔ اس افسانے کا یہ اقتباس دیکھئے:
’’لیکن جہاں انسانی آبادی کی ہر سو بھیڑہو، جہاں روزانہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ باگ ترکِ وطن کرکے تلاشِ معاش میں بڑے شہروں میں ہجرت کرکے آتے ہوں اور آکر یہیں بس جاتے ہوں، جہاں کامگاروں کا ہر دم ریلا چل رہا ہوتاہو، جہاں بے روزگاروں کا ایک اژدہام سا لگا رہتا ہو اور جہاں بازار واد کسی دیو ہیکل اژدہے کی طرح اپنا جبڑا پھاڑے کھڑا ہو، وہاں موجود لوگوں کے جم غفیر میں بھلا ٹھہر کر سوچنے کے لیے کس کے پاس اتنا دماغ ہوتا ہے۔کہتے ہیں کہ ۔۔۔۔بھیڑ کے صرف پاؤں ہوتے ہیں، آنکھیں اور دماغ نہیں ہوتے اور نہ ہی اس کے پاس سننے والے کان ہوتے ہیں۔‘‘
(افسانوی مجموعہ ’شجر ممنوع کی چاہ میں، ص-15 14، پرویز شہریار،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی2014)
پرویز شہر یار نے اس کہانی میں مرد اور عورت کے ایک ایسے جوڑے کا ذکر کیا ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ دن رات گزارتے ہیں مگر شادی شدہ نہیں ہیں۔دونوں ایک ہی کمرے میں ایک ہی چھت کے نیچے دن رات گزارتے ہیں۔ پدمجاایک ایسی باشعور عورت ہے جو عزت کی زندگی جینا چاہتی ہے اور مردوں کی بد نظروں سے بھی بچ کر رہنا چاہتی ہے۔ایسے وقت میں پدمجا کو ایک سچے او ر ہمدرد ساتھی کی ضرورت ہے جو اس کی حفاظت بھی کرے اور ہمدرد و نیک بھی ہو جس کی مضبوط بانہیں اس کا تحفظ کرسکیں۔دونوں الگ الگ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔دوسری جانب دیہاتی نوجوان شمبھو سنگھ کو بھی ایک ایسے ساتھی کی ضرورت تھی جسے دیکھ کر اس کے دوست اس کی تعریف کرسکیں۔اس کی قسمت پر ناز کرسکیں۔حالانکہ دونوں کی عمر میں بھی کافی تفاوت ہے۔ مگر بقول پرویزشہر یار ’’کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے۔‘‘ دونوں ایک دوسرے کے کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔دونوں میں سے جو صبح سویرے اٹھتا ہے ، وہ دوسرے ساتھی کے لیے چائے ناشتہ تیار کرتا ہے۔ دونوں الگ الگ شہروں سے آکر ایک دوسرے کی قربت حاصل کرتے ہیں۔شمبھوناتھ کو حاصل کرکے پدمجا بھی اپنی قسمت پر ناز کرتی ہے۔ کیونکہ آہستہ آہستہ دونوں کے دل ایک دوسرے کے لیے تڑپنے لگتے ہیں۔کہانی ’لِواِن ریلیشن سے پرے‘ کا یہ اقتباس دیکھئے:
’’پدمجا کو بھی دنیا بھر کے مردوں کی اوچھی نظروں سے خود کو بچانے کے لیے فوری طورپر ایک بوائے فرینڈ کی ضرورت تھی، جس کی مضبوط بانہوں اور چوڑے چکلے سینے کو وہ بوقتِ ضرورت اپنے تحفظ کے لیے ڈھال کے طورپر استعمال کرسکے۔دوسری طرف گاؤں سے آئے ہوئے اکھڑ نوجوان شمبھو کو بھی ایک ایسی گرل فرینڈ درکار تھی جسے دیکھ کے دوست یار اس کی قسمت پر رشک کرنے لگیں،البتہ یہ بات اپنی جگہ مسلم تھی کہ پدمجا عمر میں اس سے پانچ چھ سال بڑی تھی لیکن جیسے کہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ لڑکیوں کی عمر پچیس سال کے بعد اوپر کو تجاوزکرنا بند کردیتی ہے۔ پدمجا بھی ، دیکھنے میں شمبھو کے لیے حصہ بقدر جسّہ ہی معلوم ہوتی تھی ۔لہٰذا، وہ اپنی قسمت پر نازاں تھی کہ شمبھوجیسا چھ فٹہ گبرو جوان اسے اپنے نصیب سے مل گیا تھا۔‘‘
(افسانوی مجموعہ ’شجر ممنوع کی چاہ میں، ص15-16 پرویز شہریار،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی2014)
پرویز شہر یار نے اس کہانی میں انسانوں کے حقیقی جذبات اور بڑے شہروں کے عمرانی مسائل کو خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور محبت کا کھیل کھیلتی ہے۔ دونوں ایک دوجے کے لیے پریشان ہوتے ہیں۔عورت (پدمجا) محبت میں ا پنا قیمتی خزانہ لٹانے کو تیار ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ایک عورت اپنے ہمدرد (شوہر) سے سچی محبت کی طلب گار ہوتی ہے اور اپنے پیار وحفاظت کی ذمہ داری کا فرض شوہر سے ہی ادا کراتی ہے۔ پدمجانے کبھی نہیں سوچتا تھاکہ اس کے وجود کا احساس اور سچی محبت کرنے والا شمبھو ناتھ اپنے محبوب پدمجا کو زندگی کی سب سے بڑی خوشی دے سکتا ہے۔شمبھوناتھ اس سے سچی محبت کرنے لگتا ہے اور اس کی حفاظت کے لیے بارش میں بھیگ کر خود بھی اپنی طبیعت بگاڑ لیتا ہے۔ایسے نازک وقت میں پدمجا اپنے جسم کی گرمی سے شمبھوناتھ کے جسم کو گرمی پہنچانے کی بھرپور کوشش کرتی ہے۔دونوں ایک دوسرے کے جسم کی گرمی کو محسوس کرتے ہیں۔موجودہ لمحات کے درمیان کی دیوار کو توڑ ڈالتے ہیں۔ دونوں کی زندگی خوشیوں سے بھر جاتی ہے۔پھر دونوں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ لے کر ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں زندگی اور موت میں فرق محسوس نہیں ہوتا۔ پدمجا اپنے شمبھوناتھ کی انگلیاں پکڑ کر ایک ایسے مقام پر چلی جاتی ہے جہاں صرف شادی شدہ لوگوں کو ہی جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ آج دونوں کو اتنا سکون ملتا ہے کہ آج کی صبح ان کے لیے حسین اور خوبصورت صبح ہوجاتی ہے۔یہ اقتباس دیکھئے:
’’اس رات پدمجا شمبھو کی انگلی تھام کے اسے ایک ایسے حسیں اور جواں اقلیم کی سیر پر لے گئی جہاں سچی محبت کرنے والے مرد اور عورت کے جوڑے ہی جاسکتے ہیں اور وہاں جانے کے بعد پھر زندگی اور موت کا فرق کوئی معنی نہیں رکھتا ہے۔
صبح ہوئی۔
شمبھو کے دل کا تمام غبار نکل چکا تھا۔
آج، نہ جانے کیوں صبح بے حد خوبصورت معلوم ہورہی تھی۔۔۔۔’’تبھی پدمجا نے فرط جذبات میں آکر شمبھو کو اپنے گلے سے لگا لیا اورپوری قطعیت کے ساتھ یہ اعلان کردیا۔۔۔۔
’’اب مجھے پری وینٹوپلس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
اتنا کہتے ہی اس نے اپنے سر ہانے سے نیویارک کا ویزا نکالا اور اسے فوراً ڈسٹ بن میں ڈال دیا او راپنے ایک ایک لفظ پر زوردیتے ہوئے بولی۔
’’اب میں نیویارک نہیں جائوں گی۔‘‘
اتنا سنتے ہی شمبھو کی بانچھیں خوشی سے کھل اٹھیں۔اس کے مغموم چہرے پر جیسے خوشی کی ایک لہر سی دوڑ گئی اور وہ شادمانی کے عالم میں تقریباً چیخ اٹھا۔
پدمجا نے شمبھو کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا:
’’اسٹوپِڈ! مجھے پیسہ نہیں۔۔۔۔۔‘‘ اتنا کہہ کے اس نے شمبھو کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ ثبت کردیے اور ایک طویل وقفے کے بعد اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا:’’پیارچاہئے، ۔۔۔پیار! ‘‘
(افسانوی مجموعہ’شجر ممنوع کی چاہ میں‘ ، ص 27-28، پرویز شہریار ، ایجوکیشنل 2014)
اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ پرویز شہر یار کی اس کہانی میں جنسی لذت کا احساس ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی ذہن کی پاکیزگی اور سماجی اقدار کی سچی تصاویر نظرآتی ہیں۔افسانہ نگار کے بیانیہ کی سب سے اہم سطح یہ ہے کہ انھوں نے ہواؤں میں تیرنہیں چلائے بلکہ اپنے قرب وجوار کی جیتی جاگتی انسانی زندگی کی سچی تصاویر اور تلخی آمیز خارجی خقائق کو فنی بصیرت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ پرویز شہریار کی کہانی میں سماجی ظلم وستم کے خلاف اعتراضات کی لہریں دوڑتی نظر آتی ہیں۔ مجموعی اعتبارسے کہاجاسکتا ہے کہ ان کا یہ افسانہ کہانی پن سے پوری طرح لبریز ہے۔زبان اور بیان کے اعتبارسے بھی کہانی ’لِواِن ریلیشن سے پرے‘ سادہ، سلیس اور شائستگی لیے ہوئے ہے۔اس کہانی کے عمیق مطالعے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ افسانہ نگار کو افسانوی زبان پر قدرت حاصل ہے۔ جن افسانہ نگاروں نے اکیسویں صدی سے قبل اردو افسانے کو تاب وتوانائی عطاکی ، پرویز شہریار اسی افسانہ کے فن کے معیار کو بلندیوں تک پہنچانے کا کام انجام دے رہے ہیں۔ ٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

